كَمَا أَرْسَلْنَا فِيكُمْ رَسُولًا مِّنكُمْ يَتْلُو عَلَيْكُمْ آيَاتِنَا وَيُزَكِّيكُمْ وَيُعَلِّمُكُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُعَلِّمُكُم مَّا لَمْ تَكُونُوا تَعْلَمُونَ
Even as We sent to you an apostle from among yourselves, who recites to you Our signs and purifies you, and teaches you the Book and wisdom, and teaches you what you did not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:151
[Pooya/Ali Commentary 2:151] To fulfil the prayer of Ibrahim (Baqarah: 129), Allah sent the Holy Prophet as a messenger, to make known His commands and signs, to educate and refine the people, to teach them the book and the wisdom and that which they did not know, and establish the sacred house built by Ibrahim and Ismail (Baqarah: 125) as a sanctuary (duly purified by the Holy Prophet and Ali ibna abi Talib), and show the true qiblah towards which all the devotees must turn their faces. The journey in this life is from darkness into light, from ignorance to knowledge. An open heart will receive that knowledge if it is directed to the message and the messenger.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:151-152
(شہداء)
گذشتہ آیات میں تعلیم و تربیت اور ذکر و شکر کے متعلق گفتگو تھی۔ ان کے وسیع تر مفہوم جس میں اکثر دینی احکام شامل ہیں کو سامنے رکھتے ہوئے محل بحث پہلی آیت میں صبر و استقامت کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے جس کے بغیر گذشتہ مفاہیم کبھی عملی شکل اختیار نہیں کرسکتے۔ پہلے فرمایا: اے ایمان والو! صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو (یا یھا الذین امنوا استعینوا بالصبر و الصلوة) اور ان دو قوتوں (استقامت اور خدا کی طرف توجہ ) کے ساتھ مشکلات و سخت حوادث سے جنگ کے لئے آگے بڑھو تو کامیابی تمہارے قدم چومے گی کیونکہ خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے (ان اللہ مع الصبرین)۔ بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ صبر کا معنی ہے بدبختیوں کو گوارا کرنا۔ اپنے آپ کو ناگوار حوادث کے سپر کرنا اور عوامل شکست کے سامنے ہتھیار ڈال دینا لیکن صبر کا مفہوم اس کے برعکس ہے۔ صبر و شکیبائی کا معنی ہے ہر مشکل اور حادثے کے سامنے استقامت ۔ اسی لئے بعض علماء اخلاق نے صبر کے تین پہلو بیان کئے ہیں۔ ۱۔ اطاعت پر صبر (ان مشکلات کے مقابلے میں صبر کرنا جو اطاعت کی راہ میں پیش آئیں)۔ ۲۔ گناہ پر صبر (سرکش و طغیان خیز گناہ اور شہوات پر ابھارنے والے اسباب کے مقابلے میں قیام کرنا)۔ ۳۔ مصیبت پر صبر (ناگوار حوادث کے مقابلے میں ڈٹے رہنا، پریشان نہ ہونا اور حوصلہ نہ ہارنا)۔ ایسے موضوعات بہت کم ہیں جن کی صبر و استقامت کی طرح قرآن مجید مین تکرار و تاکید ہے۔ قرآن مجید میں تقریبا ستر مرتبہ صبر کے متعلق گفتگو ہوئی جن میں دس مقامات خود پیغمبر اکرم کی ذات سے تعلق رکھتے ہیں۔ بڑے بڑے جوانمردوں کے حالات زندگی گواہ ہیں کہ ان کی کامیابی کا اہم ترین یا واحد عامل صبر تھا جو لوگ اس خوبی سے بے بہرہ ہیں وہ بہت سے مصائب و آلام میں شکست کھاجاتے ہیں بلکہ کہاجاسکتا ہے کہ انسان کی پیش رفت اور ترقی میں جس قدر کردار صبر ادا کرتاہے۔ اتنا اسباب، استعداد اور ہوشیاری کا عمل دخل نہیں۔ اسی بناء پرقرآن مجید میں نہایت تاکیدی انداز سے اس کا ذکر آیاہے۔ قرآن ایک مقام پر کہتاہے: انما یوفی الصبرون اجرہم بغیر حساب صابرین بے حساب اجر و جزا حاصل کریں گے۔ (زمر۔۱۰) ایک اور مقام پر حوادث پر صبر کرنے کے بارے میں ہے: ان ذلک من عزم الامور یہ محکم ترین امور میں سے ہے۔ در اصل استقامت اور پامردی انسان کے بلند ترین فضائل میں سے ہے اور اس کے بغیر باقی فضائل کی کوئی قدر و قیمت نہیں۔ اسی لئے نہج البلاغہ میں ہے: علیکم بالصبر فان الصبر من الایمان کا الراس من الجسد و لا خیر فی جسد لا راس معہ و لا فی ایمان لا صبر معہ۔ صبر و استقامت تمہارے لئے لازمی ہے کیونکہ ایما ن کے لئے صبر کی وہی اہمیت ہے جو بدن کے لئے سرکی، جیسے سرکے بغیر بدن کا کوئی فائدہ نہیں ایسے ہی صبر کے بغیر ایمان میں کوئی پائیداری نہیں اور نہ اس کا کوئی نتیجہ ہے۔ ۱ اسلامی روایات میں صبر کو اس لئے اعلی ترین قرار دیا گیاہے تا کہ انسان گناہ کے وسائل مہیا ہونے کے با وجود استقامت دکھائے اور لذت گناہ سے آنکھیں بند کرلے ۔ ابتدائی انقلابی مسلمان چاروں طرف سے طاقت ور، خونخوار اور بے رحم دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے لہذا محل بحث آیت میں انہیں خصوصیت سے حکم دیاگیا کہ مختلف حوادث کے مقابلے میں صبر و استقامت سے کام لیں۔ خدا پر ایمان کی صورت میں نتیجہ شخصی استقلال، اعتماد اور اپنی مدد آپ کی صورت میں برآمد ہوتاہے۔ تاریخ اسلام نے اس حقیقت کی بڑی وضاحت سے نشاندہی کی ہے کہ یہی تمام کامیابیوں کی حقیقی بنیاد تھی۔ دوسری چیز جو مندرجہ بالا آیت میں صبر کے ساتھ خصوصی اہمیت سے متعارف کرائی گئی ہے نماز ہے ۔ اسی لئے اسلامی احادیث میں ہے: کان علی اذا اہالہ امر فزع قام الی الصلوة ثم تلی ہذہ الایة و استعینوا بالصبر و الصلوة۔ حضرت علی کو جب کوئی مشکل در پیش ہوتی تو نماز کے لئے کھڑے ہوجاتے اور نماز کے بعد اس مشکل کو حل کرنے کے لئے نکلتے اور اس آیت کی تلاوت کرتے و استعینوا بالصبر و الصلوة -2 اس بات پر بالکل تعجب نہیں ہونا چاہئیے کیونکہ جب انسان ایسے سخت حوادث اور ناقابل برداشت مشکلات سے دوچار ہوتو وہ ان کے سامنے اپنی طاقت اور استطاعت کو نا چیز سمجھتاہے اور قہرا وہ ایک ایسے سہارے کا محتاج ہوتاہے جوہر جہت سے غیر محدود اور لا متناہی ہو۔ نماز انسان کو ایسے ہی مبداء سے مربوط کردیتی ہے اور اس کا سہارا پاکر انسان مطمئن دل سے آسانی کے ساتھ مشکلات کی خوفناک موجوں کو توڑ کر نکل جاتاہے۔ اسی لئے مندرجہ بالا آیت میں در اصل دو اصول سکھائے گئے ہیں ایک خدا پر بھر و سہ کرنا جس کی طرف نماز اشارہ کرتی ہے اور دوسرا اپنی مدد آپ اور اپنے آپ پر اعتماد جسے صبر کے عنوان سے یاد کیاگیاہے۔ پا مردی ، صبر اور استقامت کے مسئلے کے بعد دوسری آیت میں شہداء کی ابدی اور ہمیشہ کی زندگی کے متعلق گفتگو کی گئی ہے جس کا صبر و استقامت سے قریبی ربط ہے۔ پہلے ان لوگوں (شہداء) کو مردہ کہنے سے منع کیاگیاہے فرمایا: جو را ہ خدا میں قتل ہوں اور شربت شہادت نوش کریں انہیں کبھی مردہ نہ کہو (و لا تقولوا لمن یقتل فی سبیل اللہ اموات) اس کے بعد مزید تاکید سے فرمایا: بلکہ وہ زندہ ہیں لیکن تم شعور و ادراک نہیں رکھتے (بل احیاء و لکن لا تشعرون)۔ عموما ہر تحریک میں ایک گروہ بز دل اور راحت طلب لوگوں کا ہوتاہے جو اپنے آپ کو ایک طرف لے جاتاہے اور کنارہ کش رہتاہے۔ یہ لوگ اتنا ہی نہیں کرتے کہ خود کام نہ کریں بلکہ دوسروں کو بھی بددل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ جب بھی کوئی ناخوشگوار حادثہ رونما ہوتاہے تو یہ لوگ اس پراظہار افسوس کرتے ہیں اور اسے اس تحریک اور قیام کیلئے بے فائدہ اور بے مصر ف ہونے کی دلیل قرار دیتے ہیں حالانکہ وہ اس سے غافل ہیں کہ آج تک کوئی مقدس مقصد اور گراں قدر مشن قربانی یا قربانیوں کے بغیر حاصل نہیں ہوا اور یہ اس دنیا کی ایک سنت رہی ہے۔ قرآن کریم بار ہا ایسے لوگوں کے متعلق بات کرتاہے اور انہیں سخت سرزنش اور ملامت کرتاہے۔ اس قسم کی لوگوں کا ایک گروہ ابتدائے اسلام میں بھی تھا۔ جب کوئی شخص میدان جہاد میں شہادت کی سعادت حاصل کرتا تو یہ لوگ کہتے فلاں مرگیا اور اس کے مرنے پر اظہار افسوس کرکے دوسروں کے اضطراب کا سامان کرتے۔ خداوند عالم ایسی زہریلی گفتگو کے جواب میں ایک عظیم حقیقت سے پردہ اٹھاتاہے اور صراحت سے کہتاہے کہ تمہیں کوئی حق نہیں پہنچتا کہ راہ خدا میں جان دینے والوں کو مردہ کہو۔ وہ زندہ ہیں۔ وہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہیں اور بارگاہ خدا سے معنوی غذا اور روزی حاصل کرتے ہیں، ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور وہ اپنی کامیاب سرنوشت سے مکمل طور پر خوش و خرم ہیں لیکن تم لوگ جو عالم مادہ کی محدود چار دیواری میں محبوس و مقید ہو ان حقائق کا ادراک نہیں کرسکتے۔ ۱- نہج البلاغہ ، کلمات قصار۸۲۔ 2- المیزان ، ج۱، ص۱۵۳، بحوالہ کتاب کافی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:151-152
ذکر خدا کیاہے
یہ مسلم ہے کہ ذکر خدا سے مراد صرف زبان سے یاد کرنا نہیں بلکہ زبان تو دل کی ترجمان ہے یعنی دل و جان سے اس کی ذات پاک کی طرف توجہ رکھا کرو۔ وہ توجہ جو انسان کو گناہ سے باز رکھے اور اس کے حکم کی اطاعت کے لئے آمادہ کرے۔ اسی بناء پر متعدد و احادیث میں پیشوایان اسلام سے منقول ہے کہ ذکر خد ا سے مرا دعملی یادآوری ہے۔ جیسا کہ پیغمبر اکرم سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ آپ نے حضرت علی کو وصیت فرماتے ہوئے ارشاد فرمایا: ثلاث لا تطیقہا ہذہ الامة: الموساة للحق فی مالہ و انصاف الناس من نفسہ و ذکر اللہ علی کل حال و لیس ہو سبحان اللہ و الحمد للہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر و لکن اذا ورد علی ما یحرم اللہ علیہ خاف اللہ تعالی عندہ و ترکہ۔ تین کام ایسے ہیں جو یہ امت (مکمل طور پر) انجام دینے کی توانائی نہیں رکھتی: اپنے مال میں دینی بھائی کے ساتھ مواسات و برابری، اور اپنے اور دوسروں کے حقوق کے بارے میں عادلانہ فیصلہ اور خدا کو ہر حالت میں یاد رکھنا اور اس سے مراد سبحان اللہ و الحمد اللہ و لا الہ الا اللہ و اللہ اکبر کہنا نہیں بلکہ اس سے مراد یہ ہے کہ جب کوئی فعل حرام اس کے سامنے آئے تو خدا سے ڈرے اور اسے ترک کردے۔۱ ۱۵۳۔ یَااٴَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا اسْتَعِینُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاَةِ إِنَّ اللهَ مَعَ الصَّابِرِینَ ۱۵۴۔وَلاَتَقُولُوا لِمَنْ یُقْتَلُ فِی سَبِیلِ اللهِ اٴَمْوَاتٌ بَلْ اٴَحْیَاءٌ وَلَکِنْ لاَتَشْعُرُونَ ترجمہ ۱۵۳۔ اے ایمان والو! زندگی کے سخت ترین کے موقع پر) صبر و استقامت اور نماز سے مدد حاصل کرو۔ (کیونکہ ) خدا صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ ۱۵۴۔ جو راہ خدا میں قتل ہوجاتے ہیں انہیں مردہ نہ کہو، وہ تو زندہ ہیں لیکن تم نہیں سمجھتے۔ شان نزول زیر نظر دوسری آیت کی شان نزول کے بارے میں بعض مفسرین نے ابن عباس سے اس طرح نقل کیاہے: یہ آیت جنگ بدر میں قتل ہونے والوں کے سلسلے میں نازل ہوئی۔ ان کی تعداد چودہ تھی۔ چھ مہاجرین میں سے اور آٹھ انصار میں سے تھے۔ جنگ ختم ہونے کے بعد بعض لوگ اس طرح گفتگو کرتے کہ فلاں مرگیا۔ اس پریہ آیت نازل ہوئی جس نے بتایا کہ شہداء کے لئے مردہ (میت) کہنا صحیح نہیں. 1- تفسیر نور الثقلین، ج۱، ص۱۴۰ بحوالہ کتاب خصال۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:151-152
فاذکرونی اذکرکم“کی تفسیر
(!) ”فاذکرونی اذکرکم“کی تفسیر میں مفسرین کی موشگافیاں: مفسرین نے اس جملے کی تشریح میں بہت سی باتیں کی ہیں۔ بندوں کے یاد کرنے اور خدا کے یاد کرنے سے کیا مراد اس سلسلے میں بہت سے مفاہیم بیان کئے گئے ہیں۔ جنہیں تفسیر کبیر میں فخر الدین رازی نے دس موضوعات کے تحت جمع کیاہے: ۱۔ مجھے اطاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں اپنی رحمت کے ذریعے تمہیں یاد کروں۔ اس مفہوم کی شاہد سورہ اآل عمران کی آیت ۱۳۲ ہے: اطیعوا اللہ و الرسول لعلکم ترحمون۔ اللہ اور رسول کی اطاعت کردتا کہ تم پر رحم کیا جائے۔ ۲۔ مجھے دعا کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجابت کے ساتھ یاد کروں ۔ اس کی شاہد سورہ مومن کی آیت ۶۰ ہے۔ جس میں فرمایا گیاہے: ادعونی استجب لکم مجھ سے دعا کرو تو میں قبول کروں گا۔ ۳۔ مجھے ثناء و طاعت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ثناء و نعمت سے یاد کروں۔ ۴۔ مجھے دنیا میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں آخرت میں یادکروں۔ ۵۔ مجھے خلوتوں میں یاد کرو تا کہ میں تمہیں اجتماعات میں یاد کروں۔ ۶۔ مجھے نعمتوں کی فراوانی کے وقت یاد کرو میں تمہیں سختیوں میں یاد کروں گا۔ ۷۔ مجھے عبادت کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہاری مدد کروں۔ اس کا شاہد سورہ الحمد کا یہ جملہ ہے: ایاک نعبد و ایاک نستعین ۸۔ مجھے مجاہدت و کوشش کے ذریعے یاد کرو تا کہ میں تمہیں ہدایت کے ذریعے یاد کروں۔ اس کی شاہد سورہ عنکبوت کی آیہ ۶۹ ہے جس میں فرمایا گیاہے: و الذین جاہدوا فینا لنہدینہم سبلنا جو ہماری راہ میں میں کوشش کرتے میں تمہیں نجات اور مزید خصوصیت سے یادکروں گا۔ ۱۰۔ میری ربوبیت کا تذکرہ کرو میں رحمت کے ساتھ یاد کروں گا (ساری سورہ حمد اس معنی کی شاہد بن سکتی ہے)۔۱ ان میں سے ہر مفہوم آیت کے وسیع جلووں میں سے ایک جلوہ ہے اور زیر نظر آیت میں یہ تمام مفاہیم بلکہ ان کے علاوہ بھی مطالب شامل ہیں مثلا: مجھے شکر کے ساتھ یاد کرو تا کہ میں تمہیں فراوانی نعمت سے یاد کروں۔ سورہ ابراہیم کی آیہ ۷ میں ہے: لئن شکر تم لا زیدنکم اگر تم شکر کرو تو میں تمہیں زیادہ دوں گا۔ جیسا کہ ہم کہہ چکے، بے شک خدا کی طرف ہر قسم کی توجہ تکوینی و تربیتی اثر رکھتی ہے۔یاد خدا سے یہ اثر انسان تک پہنچتاہے اور ان توجہات کے نتیجہ میں روح و جان ان برکات کے نزول کی استعداد پیدا کرلیتی ہے جن کا تعلق یاد خدا سے ہے۔ ۱- تفسیر کبیر از فخر رازی، ج۴، ص۱۴۴( مختصر تفسیر اور کچھ اضافے کے ساتھ)۔