قُلۡ أَتُحَآجُّونَنَا فِي ٱللَّهِ وَهُوَ رَبُّنَا وَرَبُّكُمۡ وَلَنَآ أَعۡمَٰلُنَا وَلَكُمۡ أَعۡمَٰلُكُمۡ وَنَحۡنُ لَهُۥ مُخۡلِصُونَ
Say, ‘Will you argue with us concerning Allah, while He is our Lord and your Lord, and to us belong our deeds, and to you belong your deeds, and we worship Him dedicatedly?’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:130-141
To God regard “Islam” is the only religion and is the same as Propagated by Abraham (2000 B.C.) and followed by his sons and posterity under their wills, Moses 1250 (B.C.), and Jacob 1000 (B.C.) and Prophet Mohammad and to argue “God has a Son in Jesus” or in “Ezra, as claimed by Jews” is simply a got up affair and absolutely unfounded and unauthorized. They are gone and will answer their deeds and you, who are being advised, refuting their claims shall be responsible for your acts. This doctrine of Unity of God in original form does not allow any physical features or relationship or making God needy of a son or a partner; rather the entire creation is at His beck and call and it matters not. If He likes to call away all at once or at His will, none can bar Him, so, let us all be believe in Him as 1) Solitary, 2) Glorious, 3) Omnipotent, 4) Omniscient 5) All-forgiving, and 6) Self sufficient Monarch of this and Futurity – where He shall call upon each and every of His creatures, humans and jinn to account for their deeds and reward them on basis of “justice” which is His standard of decision. Judaism and Christianity flourished long after Abraham’s death, about whose faith as a Muslim as claimed by God, therefore cannot be controverted by any.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:138-141
غیر خدائی رنگ دھو ڈالو
گذشتہ آیات میں مختلف پیروکاروں کو تمام انبیا کے پروگراموں کے سلسلے میں جو دعوت دی گئی تھی اس ضمن میں فرماتاہے: صرف خدائی رنگ قبول کرو (جو ایمان اور توحید کا خالص رنگ ہے) (صبغة اللہ)۱۔ ۱س کے بعد مزید کہتا ہے: کو نسا رنگ خدائی رنگ سے بہتر ہے اور ہم تو فقط اس کی پرستش و عبادت کرتے ہیں (اور اسی کے سامنے سر تسلیم خم کرتے ہیں) (و من احسن من اللہ صبغة و نحن لہ عبدون)۔ اس طرح قرآن حکم دیتاہے کہ نسلی ، قبائلی اور ایسے دیگر رنگ جو تفرقہ بازی کا سبب ہیں ختم کردیں اور سب کے سب صرف خدائی رنگ میں رنگ جائیں۔ مفسرین نے لکھاہے کہ عیسائیوں کا معمول تھا کہ وہ اپنی اولاد کو غسل تعمید دیتے تھے اور کہتے تھے اس خاص رنگ سے غسل دینے سے نو مولود کے وہ ذاتی گناہ دھل جاتے ہیں جو اسے حضرت آدم سے ورثے میں ملے ہیں۔ قرآن اس بے بنیاد منطق پر خط بطلان کھینچتاہے اور کہتاہے کہ خرافات ، بیہودگی اور تفرقہ اندازی کے ظاہری رنگوںکے بجائے رنگ حقیقت اور رنگ الہی قبول کرو تا کہ تمہاری روح اور نفس ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہو۔ واقعا یہ کیسی خوبصورت اور لطیف تعبیر ہے۔ اگر لوگ خدائی رنگ قبول کرلیں یعنی وحدت، عظمت، پاکیزگی اور پرہیزگاری کا رنگ ، عدالت مساوات برادری اور برابری کا رنگ اور توحید و اخلاص کا رنگ اختیار کرلیں اور اس سے تمام جھگڑے، کشمکش (جو کئی رنگوں میں اسیر ہونے کا سبب ہیں) ختم کرسکتے ہیں اور شرک ، نفاق اور تفرقہ بازیوں کو دور کرسکتے ہیں۔ امام صادق(ع) سے مروی د متعدد احادیث میں انہی طرح طرح کے رنگوں کو دور کرنے کے بارے میں فرمایا گیاہے۔ یہ روایات اس آیات کی تفسیر میں منقول ہیں۔ آپ نے فرمایا: صبغة اللہ سے مراد اسلام کا پاکیزہ آئین ہے۔۲ یہودی و غیرہ بعض اوقات مسلمانوں سے حجت بازی کرتے اور کہتے کہ پیغمبر ہماری قوم میں مبعوث ہوتے تھے۔ ہمارا دین قدیم ترین ہے اور ہماری کتاب آسمانی کتابوں میں سے زیادہ پرانی ہے اگر محمد بھی پیغمبر ہوتے تو ہم میں سے مبعوث ہوتے اور کبھی کہتے کہ عربوں کی نسبت ہماری نسل ایمان و وحی قبول کرنے کے لئے زیادہ آمادہ ہے کیونکہ عرب تو بت پرست تھے ۔ جب کہ ہم نہ تھے کبھی وہ خود کو خدا کی اولاد کہتے کہ بہشت تو فقط ہمارے لئے ہے۔ قرآن نے مندرجہ بالا آیات میں ان سب خیالات پر خط بطلان کھینچ دیاہے۔ قرآن پہلے پیغمبر سے یوں خطاب کرتاہے: ان سے کہیے کہ خدا کے بارے میں تم ہم سے گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہ تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے (قل اتحاجوننا فی اللہ دھو ربنا و ربکم)۔ پروردگار کسی نسلی یا قبیلے کے لئے ہی نہیں وہ تو تما م جہانوں اور تمام عالم ہستی کا پروردگار ہے۔ یہ بھی جان لوکہ ہم اپنے اعمال کے جواب دہ ہیں اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور اعمال کے علاوہ کسی شخص کے لئے کوئی وجہ امتیاز نہیں ( و لنا اعمالنا و لکم اعمالکم)۔فرق یہ ہے کہ ہم خلوص سے اس کی پرستش کرتے ہیں اور خالص موحدہیں لیکن تم میں سے بہت سوں نے توحید کو شرک آلود کر رکھاہے ( و نحن لہ مخلصون)۔ اس کے بعد کی آیت میں ان بے بنیاد دعووں میں سے کچھ کا جواب دیتے ہوئے فرماتاہے: کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسماعیل، اسحاق، یعقوب اور اسباط سب یہودی یا عیسائی تھے (اٴَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطَ کَانُوا ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی)۔کہیے تم بہتر جانتے ہو یا (قل اعلم ام اللہ)خدا بہتر جانتاہے کہ وہ یہودی تھے نہ نصرانی۔ تم بھی کم و بیش جانتے ہو کہ حضرت موسی اور حضرت عیسی سے بہت سے پیغمبر دنیا میں آئے اور اگر نہیں جانتے تو پھر بغیر اطلاع کے ان کی طرف ایسی نسبت دنیا تہمت، گناہ اور حقیقت سے پردہ پوشی ہے اس شخص سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت چھپائے (و من اظلم ممن کتم شھادة عندہ من اللہ)۔مگر یہ جان لو کہ خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے (وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ )۔ تعجب ہے کہ جب انسان ہٹ دھرمی اور تعصب کا شکار ہوجاتاہے تو پھر مسلمات تاریخ تک کا انکار کردیتاہے۔ مثلا یہودی اور عیسائی حضرت ابراہیم، حضرت اسحق اور حضرت یعقوب جیسے پیغمبروں تک کو حضرت موسی اور حضرت عیسی کا پیروکار شمار کرتے ہیں جب کہ وہ ان سے پہلے دنیا میں آئے اور یہاں سے چل بسے۔ وہ بھی واضح حقیقت و واقعیت کو چھپاتے ہیں جس کا تعلق لوگوں کی قسمت اور دین و آئین سے ہے۔ اس لئے قرآن انہیں ظالم ترین افراد قرار دیتاہے کیونکہ اس سے بڑھ کر کوئی ظلم نہیں کہ کچھ لوگ جان بوجھ کر حقائق کو چھپاتے ہیں اور لوگوں کو گمراہ کرتے ہیں۔ زیر بحث آیت میں ایسے لوگوں کے نظریات کا ایک اور جواب دیا گیاہے۔ فرمایا: فرض کرو یہ سب دعوے سچے ہیں تو بھی وہ ایسے لوگ تھے جو گزرگئے ہیں ان کا دفتر اعمال بند ہوچکاہے، ا ن کا زمانہ بیت چکاہے اور ان کے اعمال انہی سے تعلق رکھتے ہیں (قلت اللہ قد خلت نھٓما کسبت) اور تم اپنے اعمال کے جواب دہ ہو اور ان کے اعمال کی باز پرس تم سے نہ ہوگی ( و لکم ما کسبتم و لا تسئلون عما کانوا یعملون)۔ مختصر یہ کہ ایک زندہ قوم کو چاہئیے کہ اپنے اعمال کا سہارا لے اور ان پر بھر و سہ کرے نہ کہ اپنے گزرے ہوئے بزرگوں کی تاریخ کا سہارا لے۔ ایک انسان کو صرف اپنی فضیلت و منقبت پر بھر و سہ کرنا چاہیے کیونکہ باپ کی فضیلت سے اسے کیا حاصل چاہے وہ کتنا ہی صاحب فضل کیوں نہ ہو۔ ۱۴۲۔سَیَقُولُ السُّفَہَاءُ مِنْ النَّاسِ مَا وَلاَّہُمْ عَنْ قِبْلَتِہِمْ الَّتِی کَانُوا عَلَیْہَا قُلْ لِلَّہِ الْمَشْرِقُ وَالْمَغْرِبُ یَہْدِی مَنْ یَشَاءُ إِلَی صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ ترجمہ ۱۴۲۔ عنقریب کم عقل لوگ کہیں گے (مسلمانوں کو) ان ۔ کہ پہلے قبلہ سے کس چیز نے روگردان کیا۔ کہہ دو: مشرق و مغرب اللہ کے لئے ہے۔ وہ جسے چاہتاہے سیدھی راہ کی ہدایت کرناہے۔ ۱ عرب جس مقام پر(صبغہ اللہ) کہتے ہیں اس سلسلے میں مفسرین نے کئی احتمالات بیان کئے ہیں جن میں سے تین واضح ہیں۔ پہلا یہ کہ وہ فعل محذوف کا مفعول مطلق ہے (طبغو صبغة اللہ) دوسرا یہ کہ ملت ابراہیم کی جگہ آیا ہو جو گذشتہ آیات میں گزرچکاہے۔ تیسرا یہ کہ فعل محذوف کا مفعول یہ ہو (اتبعوا صبغة اللہ)۔ ۲ نور الثقلین، ج۱، ص۱۳۲۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:139
[Pooya/Ali Commentary 2:139] Allah is the Lord of all created beings. He is the Lord of the worlds - the universe. He is not biased against anyone, nor shows favouritism towards any. Those who sincerely devote themselves to Him receive, in return of their goodness, His special grace. This is a warning to the Jews and the Christians and all those who believe that they alone are the "beloved children of God." "Whosoever goes on the right path, verily he does so for himself; and he who goes astray does so to his own loss; and no one who carries a burden shall bear another's burden; and We never punish until We have sent a messenger (among them)." (Bani Israil: 15) Verse 18 of al Fatir and verse 7 of al Zumar also refer to this truth.