وَقَالُوا كُونُوا هُودًا أَوْ نَصَارَى تَهْتَدُوا قُلْ بَلْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ
They say, ‘Be either Jews or Christians, that you may be [rightly] guided.’ Say, ‘No, rather, [we will follow] the creed of Abraham, a Hanif, and he was not one of the polytheists.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:135
[Pooya/Ali Commentary 2:135] The religion of Ibrahim the hanif (hanafa means to turn, to bend, to incline - to righteousness) is the true path, not the path of the Jews or the Christians. Therefore the path of the faithful representatives and advocates of the Ibrahimic faith is the right path.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:135-137
اسباط کون تھے
سبط، سبط اور انبساط کا معنی ہے کسی چیز کا آسانی سے پھیلاؤ۔ درخت کو کبھی کبھی سبط (برون سبذ) کہتے ہیں کیونکہ اس کی شاخیں آسانی سے پھیل جاتی ہیں۔ اولاد اور خاندان کی شاخوں کو سبط اور اسباط کہتے ہیں اور اس کی وجہ وہ پھیلاؤ اور وسعت ہے جو نسل میں پیدا ہوتی ہے۔ اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے خاندان اور قبائل ہیں یا وہ لوگ مراد ہیں جو حضرت یعقوب کے بارہ بیٹوں سے پیدا ہوئے چونکہ ان میں سے بھی انبیاء ہوئے ہیں لہذا مندرجہ بالا آیت میں اسباط کو بھی ان افراد کا ایک حصہ قرار دیا گیاہے جن پرآیات نازل ہوئیں۔ اس وجہ سے اسباط سے مراد بنی اسرائیل کے قبائل یا اولاد یعقوب یا اولاد یعقوب میں سے وہ قبائل ہیں جن میں انبیاء آئے اس سے مراد خود حضرت یعقوب کے بیٹے نہ تھے کہ جس بناء پر کہا جاسکے کہ وہ سب کے سب نبوت کی اہلیت نہ رکھتے تھے کیونکہ وہ تو اپنے بھائی کے معاملے میں گناہ کے مرتکب ہوئے تھے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:135-137
دعوت انبیاء کی وحدت
آیات قرآنی میں بارہا اس بات کی نشاندہی کی گئی ہے کہ خدا کے تمام پیغمبر ایک ہی ہدف اور غرض رکھتے تھے۔ ان میں کسی قسم کا فرق نہیں ہے کیونکہ سب ایک ہی منبع وحی و الہام سے فیض حاصل کرتے تھے۔ قرآن مسلمانوں کو نصیحت کرتاہے کہ خدا کے تمام پیغمبروں کا ایک جیسا احترام کریں۔ لیکن جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں یہ بات اس کی نفی نہیں کرتی کہ خدا کی طرف سے آنے والی نئی شریعت گذشتہ شریعتوں کی ناسخ ہوتی ہے۔ آئین اسلام آخری آئین ہے کیونکہ خدا کے پیغمبر معلمین کی طرح تھے اور ان میں سے ہر ایک انسانی معاشرے کی علیحدہ جماعتوں میں تربیت کے لئے آئے اور واضح ہے کہ جب ایک جماعت کی تعلیم ختم ہوجاتی ہے تو طلباء دوسرے معلم کے پاس اور اوپر کی جماعت میں چلے جاتے ہیں۔ اسی طرح انسانی معاشرے کی ذمہ داری ہے کہ ہم آخری پیغمبر کے پروگراموں کو جو دین کے تکامل کا آخری مرحلہ ہے عملی شکل دیں
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:135-137
صرف ہم حق پر ہیں
خود پرستی اور خود محوری کا اکثر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ انسان حق کو فقط اپنی ذات میں منحصر سمجھتا ہے اور باقی سب کو باطل پرست قرار دیتاہے اور کوشش کرتاہے کہ دوسروں کو بھی اپنے رنگ میں رنگ لے جیسا کہ محل بحث پہلی آیت میں قرآن کہتاہے: اہل کتاب کہتے ہیں یہودی ہوجاؤ یا عیسائی بن جاؤ تو ہدایت یافتہ ہوجاؤگے ( و قالوا کونوا ہودا او نصاری تھتدوا)۔ کہئیے کہ تحریف شدہ مذاہب اس قابل نہیں کہ وہ ہدایت بشر کا سبب بنیں بلکہ حضرت ابراہیم کے خالص دین کے پیروکار بنوتا کہ ہدایت حاصل کرو۔ وہ ہرگز مشرکین میں سے نہ تھے (قل بل ملة ابراہیم حنیفا و ما کان من المشرکین)۔ صحیح دیندار افراد وہ ہیں جو خالص توحید کے پیروکار ہیں وہ توحید جو کسی قسم کے شرک سے آلودہ نہ ہو اور پاک و صاف دین کو کجرو دین سے ممتاز کرنے والی اہم ترین بنیاد توحید خالص ہی ہے۔ اسلام ہمیں تعلیم دیتاہے کہ خدا کے پیغمبروں میں کوئی تفریق نہ کریں اور سب کی تعلیمات کا احترام کریں کیونکہ دین حق کے اصول سب کے ہاں ایک ہی جیسے ہیں۔ موسی و عیسی بھی ابراہیم کے آئین حق کے پیروکار تھے جو شرک سے پاک تھا، اگرچہ ان کے دین میں نادان پیروکاروں نے تحریف کردی اور اسے شرک آلود کردیا (یہ گفتگو اس بات کے خلاف نہیں کہ آج ہمیں اپنی شرعی ذمہ داریوں کی انجام دہی کے لئے آخری آسمانی دین کی پیروی کرنا چاہئیے یعنی صرف اسلام کی نہ کہ اس کے علاوہ کسی اور کی جیسا کہ اسی سورہ کی آیہ ۶۲ کے ذیل میں بیان کیا جا چکاہے)۔ اسی لئے بعد کی آیت مسلمانوں کو حکم دیتی ہے کہ وہ اپنے مخالفین سے کہیں کہ ہم خدا پر ایمان لائے ہیں جو اس کی طرف سے ہم پر نازل ہواہے اور اس پر جو ابراہیم ، اسمعیل ، اسحاق، یعقوب اور بنی اسرائیل کے اسباط پیغمبروں پر نازل ہواہے اور اسی طرح جو موسی و عیسی اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے خدا کی طرف سے دیاگیاہے (قُولُوا آمَنَّا بِاللهِ وَمَا اٴُنزِلَ إِلَیْنَا وَمَا اٴُنزِلَ إِلَی إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطِ وَمَا اٴُوتِیَ مُوسَی وَعِیسَی وَمَا اٴُوتِیَ النَّبِیُّونَ مِنْ رَبِّہِمْ)۔ خلاصہ یہ کہ ہم ان کے در میان کوئی فرق روا نہیں رکھتے اور فرمان حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنے ہیں (لاَنُفَرِّقُ بَیْنَ اٴَحَدٍ مِنْہُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُسْلِمُونَ )۔ خود محوری ، نسلی تعصبات اور ایسی دیگر چیزیں ہمارے لئے اس بات کا موجب نہیںبنتی کہ ہم کچھ کو مان لیں اور کچھ کا انکار کردیں۔ وہ سب خدائی معلم ہیں جنہوں نے مختلف تربیتی طریقوں سے انسانوں کی رہنمائی کے لئے قیام کیا۔ لیکن سب کا مقصد ایک ہی تھا اور وہ تھا توحید خالص اور حق و عدالت کے سائے میں نوع بشر کی ہدایت، اگر چہ ان میں سے ہر ایک اپنے خاص زمانے میں بعض مخصوص ذمہ داریوں اور خصوصیات کا حامل تھا۔ اس کے بعد قرآن کہتاہے: اگر یہ لوگ ان امور پر ایمان لے آئیں جن پر تم ایمان لائے ہو تو ہدایت پالیں گے (فإِنْ آمَنُوا بِمِثْلِ مَا آمَنتُمْ بِہِ فَقَدْ اہْتَدَوا )۔ اگر روگردانی کریں گے تو حق سے جدا ہیں(وَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّمَا ہُمْ فِی شِقَاق)۔ اگر وہ نسلی و خاندانی تعصبات اور ایسی دیگر چیزوں کو مذہب میں داخل کریں اور خدا کے تمام پیغمبروں پر بلا ااستثناء ایمان لے آئیں تو ہدایت یافتہ ہوجائیں اور اگر یہ صورت نہ ہو تو اس کا مطلب یہ ہوگا انہوں نے حق کو چھوڑ دیاہے اور باطل کے پیچھے رواں ہیں۔ لفظ (شقاق) در اصل شکاف، نزاع اور جنگ کے معنی میں ہے اور اس مقام پر اس سے مراد کفر، گمراہی، حق سے دوری اور باطل کی طرف توجہ لیاگیاہے اور ان سب معانی کا نتیجہ ایک ہی ہے۔ بعض مفسرین نے نقل کیاہے کہ گذشتہ آیت کے نازل ہونے اور حضرت عیسی کا باقی انبیاء کی صف میں ذکر آنے کے بعد عیسائیوں کی ایک جماعت کہنے لگی کہ ہم یہ نہیں مانتے کہ حضرت عیسی دیگر انبیاء کی طرح تھے وہ تو خدا کے بیٹے تھے لہذا زیر نظر آیات میں سے تیسری آیت نازل ہوئی اور انہیں تنبیہ کی گئی کہ وہ گمراہی اور کفر کا شکار ہیں۔ بہرحال آیت کے آخر میں مسلمانوں کو تسلی دیتے ہوئے کہ وہ دشمن کی سازشوں سے ہراساں نہ ہوں فرمایا: خدا ان کے شرک ان سے دور کر ےگا کہ وہ سننے والا جاننے والا ہے۔ ان کی باتیں سنتا ہے اور ان کی سازشوں سے آگاہ ہے ( فَسَیَکْفِیکَہُمْ اللهُ وَہُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیم)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:135-137
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف)
حنیف کا مادہ ہے حنف (برو زن ہدف) جس کا معنی ہے گمراہی سے درستی اور راستی کی طرف میلان و رجحان پیدا کرنا۔ اس کے برعکس ہے جنف یعنی راستی سے کجی کی طرف جھکنا۔ توحید خالص کے پیروکار چونکہ شرک سے منہ موڑکر اس حقیقی اساس کی طرف مائل ہیں اس لئے انہیں حنیف کہا جاتاہے۔ اس وجہ سے حنیف کا ایک معنی ہے مستقیم اور صاف یہاں سے واضح ہوتاہے کہ مفسرین نے (حنیف) کی جو مختلف تفسیریں کی ہیں مثلا بیت اللہ کا حج ، حق کی پیروی ، حضرت ابراہیم کی پیروی ، خلوص عمل و غیرہ سب کی برگشت اسی جامع مفہوم کی طرف ہوتی ہے۔ ۱۳۸۔صِبْغَةَ اللهِ وَمَنْ اٴَحْسَنُ مِنْ اللهِ صِبْغَةً وَنَحْنُ لَہُ عَابِدُونَ ۱۳۹۔قُلْ اٴَتُحَاجُّونَنَا فِی اللهِ وَہُوَ رَبُّنَا وَرَبُّکُمْ وَلَنَا اٴَعْمَالُنَا وَلَکُمْ اٴَعْمَالُکُمْ وَنَحْنُ لَہُ مُخْلِصُونَ ۱۴۰۔ اٴَمْ تَقُولُونَ إِنَّ إِبْرَاہِیمَ وَإِسْمَاعِیلَ وَإِسْحَاقَ وَیَعْقُوبَ وَالْاٴَسْبَاطَ کَانُوا ہُودًا اٴَوْ نَصَارَی قُلْ اٴَاٴَنْتُمْ اٴَعْلَمُ اٴَمْ اللهُ وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ کَتَمَ شَہَادَةً عِنْدَہُ مِنْ اللهِ وَمَا اللهُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ ۱۴۱۔ تِلْکَ اٴُمَّةٌ قَدْ خَلَتْ لَہَا مَا کَسَبَتْ وَلَکُمْ مَا کَسَبْتُمْ وَلاَتُسْاٴَلُونَ عَمَّا کَانُوا یَعْمَلُونَ ترجمہ ۱۳۸۔ خدائی رنگ (ایمان، توحید اور اسلام کا رنگ قبول کریں) اور خدائی رنگ سے کون سا رنگ بہتر ہے اور ہم صرف اس کی عبادت کرتے ہیں۔ ۱۳۹۔ کہیے: کیا تم ہم سے خدا کے بارے میں گفتگو کرتے ہو حالانکہ وہی تمہارا اور ہمارا پروردگار ہے۔ ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ہیں اور ہم تو خلوص سے اس کی عبادت کرتے ہیں (اور ہم مخلص موحد ہیں)۔ ۱۴۰۔ کیا تم کہتے ہو کہ ابراہیم، اسمعیل ، اسحاق ، یعقوب اور اسباط یہودی یا عیسائی تھے۔ کہیئے تم بہتر جانتے ہو یا خدا (اور با وجودیکہ تم جانتے ہو کہ وہ یہودی یا عیسائی نہ تھے کیوں حقیقت چھپاتے ہو) اور اس شخص سے زیادہ کون ظالم و ستمگر ہے جو اپنے پاس موجود خدائی شہادت کو چھپائے اور خدا تمہارے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ۱۴۱۔ (بہرحال) وہ ایک امت تھے جو گزرگئے۔ جو انہوں نے کیاہے وہ ان کے لئے ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ تمہارے لئے ہے۔ تم ان کے اعمال کے جواب دہ نہیں ہو۔