ٱلَّذِينَ ءَاتَيۡنَٰهُمُ ٱلۡكِتَٰبَ يَتۡلُونَهُۥ حَقَّ تِلَاوَتِهِۦٓ أُوْلَـٰٓئِكَ يُؤۡمِنُونَ بِهِۦۗ وَمَن يَكۡفُرۡ بِهِۦ فَأُوْلَـٰٓئِكَ هُمُ ٱلۡخَٰسِرُونَ
Those to whom We have given the Book follow it as it ought to be followed: they have faith in it. As for those who deny it—it is they who are the losers.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 2:113-129
This clause practically specifies “Khilafat” is reserved for Immaculates of Divine selection: pilgrimage, prayers are obligatory near Abraham’s Place, and Mecca is profusely supplied with provisions, besides sage against invasion of infidels.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:120-121
دشمن کی رضا کا حصول
انسان کو چاہئیے کہ وہ پر کشش اخلاق سے دشمنوں کو بھی حق کی دعوت دے لیکن یہ ان لوگوں کے بارے میں ہے جن میں کچھ لچک اور حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہو۔ ایسے لوگ بھی ہیں جو کبھی حرف حق قبول کرنے کے لئے تیارنہیں ہوتے ایسے لوگوں کی رضا حاصل کرنے کی فکر نہیں کرنا چاہئیے ۔ یہ وہ مقام ہے جہاں کہاجائے کہ اگر وہ ایمان نہ لائیں تو جہنم میں جائیں اور ان پر فضول وقت ضائع نہ کیاجائے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:120-121
وہ ہرگز راضی نہ ہوں گے
گذشتہ آیت میں پیغمبر اسلام کی رسالت کا ذکر ہے۔ جس میں بشارت اور تنبیہ شامل ہے اور بتایاگیا ہے کہ ہٹ دھرم گمراہوں کے بارے میں آپ سے کوئی جواب طلبی نہ ہوگی۔ مندرجہ بالا آیات میں یہی بحث جاری ہے۔ پیغمبر اسلام سے فرمایا گیاہے کہ آپ یہودیوں اور عیسائیوں کی رضامندی حاصل کرنے پر زیادہ اصرار نہ کریں کیونکہ وہ ہرگز آپ سے راضی نہ ہوں گے مگر یہ کہ ان کی خواہشات کو مکمل طور پرتسلیم کرلیاجائے اور ان کے مذہب کی پیروی کی جائے ( لن ترضی عنک الیہود و لا النصری حتی تتبع ملتھم)۔ آپ کی ذمہ داری یہ ہے کہ ان سے کہئے کہ ہدایت صرف ہدایت الہی ہے (قل ان ہدی اللہ ہو الھدی)۔ وہ ہدایت جس میں خرافات اور پست و نادان افراد کے افکار کی آمیزش نہ ہو یقینا ایسی ہی خالص ہدایت کی پیروی کرناچاہئیے۔ مزید فرمایا: اگر آپ ان کے تعصبات ، ہوا و ہوس اور تنگ نظریوں کومان لیں جب کہ وحی الہی کے سائے میں آپ پر حقائق روشن ہوچکے ہیں تو خدا کی طرف سے آپ کا کوئی سرپرست اور یاور و مددگار نہ ہوگا (و لئن اتبعت اھوا الھم بعد الذی جاء ک من العلم من العلم مالک من اللہ من ولی و لا نصیر)۔ ادھر جب یہود و نصاری میں سے کچھ لوگوں نے جو حق کے متلاشی تھے پیغمبر اسلام کی دعوت پر لبیک کہی اور اس آئین و دین کو قبول کرلیا تو سابق گروہ کی مذمت کے بعد قرآن انہیں اچھائی اور نیکی کے حوالے سے یاد کرتاہے اور کہتا ہے: وہ لوگ جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے اور انہوں نے اسے غورسے پڑھاہے اور اس کی تلاوت کا حق ادا کیا ہے (یعنی فکر و نظر کے بعد اس پر عمل کیاہے) وہ پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں گے (الذین اتینہم الکتاب یتلونہ حق تلاوتہ اولئک یومنون بہ)۔ اور جوان کے کافر و منکر ہوگئے ہیں انہوں نے اپنے اوپر ظلم کیاہے وہ خسارہ اٹھانے والے ہیں (و من یکفر بہ فاولئک ہم الخاسرون)۔ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنی آسمانی کتاب کی تلاوت کا واقعا حق اداکیاہے اور وہی ان کی ہدایت کا سبب ہے کیونکہ پیغمبر موعود کے ظہور کی جو بشارتیں انہوں نے ان کتب میں پڑھی تھیں وہ پیغمبر اسلام پر منطبق دیکھیں اور انہوں نے سر تسلیم خم کرلیا اور خدا نے بھی ان کی قدردانی ک
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:120-121
لئن اتبعت اھواء ھم
اس جملے سے ممکن ہے بعض لوگوں کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہو کہ مقام عصمت پر فائز ہونے کے باوجود کیا ممکن ہے کہ پیغمبر اسلام کجرو یہودیوں کی خواہشات کی پیروی کریں۔ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآنی آیات میں ایسی تعبیریں بار بار نظر آتی ہیں اور یہ کسی طرح سے بھی انبیاء کے مقام عصمت کی نفی نہیں کرتیں کیونکہ ایک طرف تو ان میں جملہ شرطیہ شرط کے وقوع کی دلیل نہیں دوسری طرف عصمت انبیاء کو گناہ سے جبرا تو نہیں روکتی بلکہ پیغمبر و امام گناہ پر قدرت رکھتے ہیں اور ارادہ و اختیار کے حامل ہوتے ہیں اس کے با وجود ان کے دامن گناہ سے کبھی آلودہ نہیں ہوتے۔ یہ بھی ہے کہ اگر چہ خطاب پیغمبر کو ہے لیکن ہوسکتاہے مراد سب لوگ ہو
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:120-121
حق تلاوت کیاہے؟
یہ بہت ہی پر معنی تعبیر ہے جو مندرجہ بالا آیات میں آئی ہے۔ یہ ہمارے لئے قرآن مجید اور دیگر کتب آسمانی کے سلسلے میں واضح راستہ متعین کرتی ہے۔ ان آیات الہی کے مفہوم کے ضمن میں مختلف گروہ ہیں۔ ایک گروہ کو پورا اصرار ہے کہ اس کا مطلب ہے کہ الفاظ و حروف کو صحیح مخارج سے ادا کیاجائے یہ گروہ مضمون اور معانی کو کوئی اہمیت نہیں دیتا چہ جائیکہ اس پر عمل کی طرف توجہ دے۔ قرآن کے مطابق ایسے لوگوں کی مثال اس جانور کی سی ہے جس پر کتا بیں لادی جائیں۔ کمثل الحمار یحمل اسفارا ( جمعہ ۔۵) دوسرا گروہ وہ ہے جو الفاظ کی سطح سے کچھ اوپر گیاہے۔ وہ معانی پر بھی غور کرتاہے، قرآن کی باریکیوں اور نکات میں فکر کرتاہے اور اس کے علوم سے آگاہی حاصل کرتاہے لیکن عمل کے معاملے میں صفر ہے۔ ایک تیسرا گروہ ہے جو حقیقی مومنین پر مشتمل ہے۔ یہ گروہ قرآن کو کتاب عمل اور زندگی عمل اور زندگی کے مکمل پروگرام کے طور پر قبول کرتاہے۔ وہ اس کے الفاظ پڑھنے، اس کے معانی پر فکر کرنے اور اس کے مفاہیم سمجھنے کو عمل کرنے کا مقدمہ اور تمہید سمجھتاہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب ایسے لوگ قرآن پڑھتے ہیں تو ان کے بدن میں ایک نئی روح پیدا ہوجاتی ہے۔ ان میں نیا عزم، نیا ارادہ، نئی آمادگی اور نئے اعمال پیدا ہوتے ہیں اور یہ ہے حق تلاوت۔ امام صادق سے اس آیت کی تفسیر کے سلسلے میں ایک عمدہ حدیث منقول ہے۔ آپ نے فرمایا: یوتلون ایاتہ و یتفقھون بہ و یعملون باحکامہ و یرجون و عدہ و یخافون عیدہ و یعتبرون بقصصہ و یاتمرون باو امرہ و ینتھون بنو اھیہ ما ہو و اللہ حفظ ایاتہ و درس حروفہ و تلاوت بسورہ و درس اعشارہ و اخماسہ حفظوا حروفہ و اضا عو حدودہ و انما ھوت برایاتہ و العمل بارکانہ قال اللہ تعالی کتاب انزلناہ الیک مبارک لید بروا ایاتہ مقصود یہ ہے کہ وہ اس کی آیات غور سے پڑھیں۔ اس کے حقائق کو سمجھیں ، اس کے احکام پر عمل کریں، اس کے وعدوں کی امید رکھیں اس کی تنبیہوں سے ڈرتے رہیں۔ اس کی داستانوں سے عبرت حاصل کریں، اس کے اوامرکی اطاعت کریں، اس کے نواہی سے بچے رہیں۔ خدا کی قسم مقصد آیات حفظ کرنا، حروف پڑھنا، سورتوں کی تلاوت کرنا اور اس کے دسویں اور پانچویں حصوں کو یاد کرنا نہیں۔ ان لوگوں نے حروف قرآن تو یاد رکھے مگر اس کی حدود کو پامال کردیاہے مقصود صرف یہ ہے کہ قرآن کی آیات میں غور و فکر کریں اور اس کے احکام پر عمل کریں جیسا کہ قرآن فرماتاہے: یہ با برکت کتاب ہے جسے ہم نے آپ پر نازل کیاہے تا کہ لوگ اس کی آیات میں تدبر کریں۔ ۱۲۲۔یَابَنِی إِسْرَائِیلَ اذْکُرُوا نِعْمَتِی الَّتِی اٴَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ وَاٴَنِّی فَضَّلْتُکُمْ عَلَی الْعَالَمِینَ ۱۲۳۔وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا وَلاَیُقْبَلُ مِنْہَا عَدْلٌ وَلاَتَنفَعُہَا شَفَاعَةٌ وَلاَہُمْ یُنصَرُونَ ترجمہ ۱۲۲۔ اے بنی اسرائیل میں نے تمہیں جو نعمت دی ہے اسے یاد کرو اور یہ بھی یاد کرو کہ میں نے تمہیں تمام جہانوں پر فضیلت دی (لیکن تم نے اس مقام سے استفادہ نہیں کیا اور گمراہ ہوگئے)۔ ۱۲۳۔ اس دن سے ڈر وجب کسی شخص کو دوسرے کی جگہ پر بدلہ نہیں دیاجائے گا۔ اس سے کوئی عوض قبول نہ کیاجائے گا۔ کوئی شفاعت و سفارش اس کے لئے فائدہ مند نہ ہوگی اور نہ ہی (کسی طرف سے) ایسے لوگوں کی مدد کی جائے گی۔ تفسیر قرآن کاروئے سخن پھر بنی اسرائیل کی طرف ہے۔ ان پر جو نعمتیں نازل ہوئیں قرآن ان کا ذکر کرتاہے خصوصا وہ فضیلت جو خدا نے ان کے زمانے کے لوگوں پر انہیں عطا کی تھی وہ یاد دلائی گئی ہے۔ فرماتاہے: اے بنی اسرائیل! ان نعمتوں کو یاد کرو جومیں نے تمہیں عطا کیں او ر یہ بھی یاد کرو میں نے تمہیں تمام جہان والوں پر (اس زمانے میں موجود سب لوگوں پر) فضیلت بخشی (یبنی اسرائیل اذکروا نعمتی التی نعمت علیکم و انی فضلتکم علی العلمین)۔ لیکن کوئی نعمت جواب دہی اور ذمہ داری کے بغیر نہیں ہوتی بلکہ ہر نعمت عطا کرنے کے بعد خدا کسی ذمہ داری اور کسی عہد و پیمان کا بوجھ انسان کے کندھے پر رکھتاہے لہذا بعد کی آیت میں تنبیہ کرتاہے اور کہتاہے: اس دن سے ڈر وجب کسی شخص کو دوسرے کی بجائے جزا کا سامنا نہ ہوگا ( وَاتَّقُوا یَوْمًا لاَتَجْزِی نَفْسٌ عَنْ نَفْسٍ شَیْئًا) اور کوئی چیزوہاں فدیہ کے طور پر قبول نہ کی جائے گی ( و لا یقبل منھا عدل) اور( اذن خدا کے بغیر) کوئی سفارش سودمند نہ ہوگی ( و لا تنفعہا شفاعة) اگر سمجھو کہ خدا کے علاوہ وہاں کوئی انسان کی مدد کرسکتاہے تو یہ غلط فہمی ہے کیونکہ وہاں کسی شخص کی مدد نہیں کی جاسکے گی (و لا ھم ینصرون) لہذا جنہیں تم نجات کی راہیں سمجھتے ہو وہ سب مسدود ہیں اور شاید دنیا میں تم انہی کا سہارا لیتے ہو۔ صرف اور صرف ایک راستہ کھلاہے اور وہ ایمان و عمل صالح نیز گناہوں پر تو بہ اور اپنی اصلاح کا راستہ ہے۔ چونکہ اس سورہ کی آیہ ۴۷ اور ۴۸ میں بھی بعینہ یہی مسائل بیان ہوئے ہیں (تعبیرات کے کچھ اختلاف کے ساتھ) اور وہاں ہم تفصیل سے بحث کرچکے ہیں لہذا یہاں اسی پر اکتفاء کرتے ہیں۔ ۱۲۴۔ وَإِذْ ابْتَلَی إِبْرَاہِیمَ رَبُّہُ بِکَلِمَاتٍ فَاٴَتَمَّہُنَّ قَالَ إِنِّی جَاعِلُکَ لِلنَّاسِ إِمَامًا قَالَ وَمِنْ ذُرِّیَّتِی قَالَ لاَیَنَالُ عَہْدِی الظَّالِمِینَ ترجمہ ۱۲۴۔(وہ وقت یاد کرو) جب خدانے ابراہیم کو مختلف طریقوں سے آزمایا اور وہ ان سے عمدگی سے عہدہ برآںہوئے تو خدا نے ان سے کہا: میں نے تمہیں لوگوں کا امام و رہبر قرار دیا۔ ابراہیم نے کہا: میری نسل اور خاندان میں سے (بھی ائمہ قرار دے)۔ خدا نے فرمایا: میرا عہد (مقام امامت) ظالموں کو نہیں پہنچتا (اور تماری اولاد میں سے جو پاک اور معصوم ہیں وہی اس مقام کے لائق ہیں)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:120-121
ہدایت صرف ہدایت الہی ہے
مندرجہ بالا آیت سے ضمنی طور پر یہ حقیقت ظاہر ہوتی ہے کہ وہ قانون جو انسان کی سعادت کا سبب بن سکتاہے فقط قانون و ہدایت الہی ہے (ان ہدی اللہ ہو الہدی) کیونکہ انسان کا علم جتنا بھی ترقی کرے پھر بھی وہ کئی پہلوؤں سے جہالت، شک اور نا پختگی کا حامل ہوگا۔ ایسے ناقص علم کی بنیاد پر جو ہدایت ہوگی وہ کامل نہ ہوسکے گی۔ ہدایت مطلقہ تو اسی کی طرف سے ممکن ہے جو علم مطلق کا حامل ہو اور جہالت و نا پختگی سے ماوراء ہو اور وہ صرف خدا ہے۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:121
[Pooya/Ali Commentary 2:121] The Quran was given to the Holy Prophet and those who were his flesh and blood. Their spirit was one. They were created from one light. They are his Ahl ul Bayt. See "the essentials for the readers of the Quran" on pages 1 to 7. The Holy Prophet had said: "Ali's flesh is my flesh. Ali's blood is my blood". "I and Ali are of one and the same light". According to the verse of Mubahilah (Ali Imran: 61) Ali was the nafs (self) of the Holy Prophet. It was Ali who stood by the Holy Prophet and protected him in the battle of Uhad when all his companions ran away. In all the battles which guided the course of Islamic history, it was Ali who won victories for the Muslims. It is evident from these and other incidents in history that only the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt (the Imams in his progeny) are those who studied and followed the book as it ought to be done, and it is only they who are referred to in this verse.