وَقَالَ الَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ لَوْلَا يُكَلِّمُنَا اللَّهُ أَوْ تَأْتِينَا آيَةٌ كَذَلِكَ قَالَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِم مِّثْلَ قَوْلِهِمْ تَشَابَهَتْ قُلُوبُهُمْ قَدْ بَيَّنَّا الْآيَاتِ لِقَوْمٍ يُوقِنُونَ
Those who have no knowledge say, ‘Why does not Allah speak to us, or come to us a sign?’ So said those who were before them, [words] similar to what they say. Alike are their hearts. We have certainly made the signs clear for a people who have certainty.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 2:118
[Pooya/Ali Commentary 2:118] It is wrong to use this verse to prove that the Holy Prophet did not have the power to perform miracles. The Quran bears witness that he had rent asunder the moon, yet the infidels said: "This is the same magic continuing". (Qamar: 1 and 2). Besides those mentioned in the Quran, a large number of miracles, performed by him, have been recorded in the books of history reported on the authentic and unbreakable evidence of the traditions. Not only the Holy Prophet, but also the divinely chosen holy Imams had performed miracles whenever they deemed it necessary and thought that it could serve a definite purpose but refused to put them to use as an answer to the challenge of any antagonistic individual or group, who even after witnessing a miracle would not accept the truth. It is also true that the belief, generated by a miracle, deprives the individual of the possibility of enjoying the real value of the faith acquired through reason and conviction. The demand for miracles (as stated in verses 90 to 93 of Bani Israil) was made to satisfy the lust for witnessing wonders. It was not the true mission of the last prophet of Allah to satisfy the vain desires of the people who merely wanted to watch and enjoy miracles, The signs of Allah are enough for those who are sure. Likewise when prophet Isa was brought before Herod to perform a miracle, he, who had already performed a large number of miracles and whose very birth was the greatest miracle ever witnessed, refused to comply with the request. At another place he said to the Pharisees: "It is a wicked, godless generation that asks for a sign;" (Matthew 12: 39) Every messenger of Allah was put under pressure by the people either to persuade Allah to speak to them directly or make clear through some heavenly signs that whatever revealed was from Him.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:118-119
خوش خبری دینا اور ڈرانا۔ دواہم تربیتی اصول
خوش خبری دینا اور ڈرانا دوسرے لفظوں میں تشویق و تہدید تمام تربیتی اور معاشرتی پروگراموں کی بنیاد ہیں۔ اچھے کام کی انجام دہی پر جزا کی رغبت اور برے کام کی انجام دہی پرسزا کا خوف ضروری ہے تا کہ راہ خیر پر چلنے کا زیادہ و لولہ و جذبہ پیدا ہو اور قدم برے راستے پر اٹھنے سے بازرہ سکیں۔ صرف شوق دلانا فرد یا معاشرے کے تکامل کے لئے کافی نہیں کیونکہ انسان اگر صرف بشارتوں کا امید وار ہو اور ان پر مطمئن ہوجائے تو ممکن ہے کہ جرائم کی طرف ہاتھ بڑھائے چونکہ اسے اطمینان ہے اور کوئی خطرہ نہیں ہے۔ مثلا ہم دیکھتے ہیں کہ آج کل عیسائی فدیہ کا عقیدہ رکھتے ہیں یعنی ان کا عقیدہ ہے کہ عیسی ان کے گناہوں کا فدیہ ہو گئے ہیں۔ ان کے رہبر کبھی انہیں جنت کی سند بیچتے ہیں اور کبھی خدا کی طرف سے ان کے گناہ بخش دیتے ہیں۔ مسلم ہے کہ ایسے لوگ آسانی سے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں۔ قاموس کتاب مقدس میں ہے: خدا نیز اشارہ ہے مسیح کے گراں بہا خون کے کفارہ کی طرف جب کہ ہم سب کے گناہ ان پر رکھ دیئے گئے اور ہمارے گناہوں کے ضمن میں انہوں نے اپنے آپ کو صلیب کے لئے پیش کردیا۔ یہ منطق اس تحریف شدہ مذہب کے پیرو کاروں کے لئے گناہوں میں جسارت و جرات کا سبب بنتی ہے۔ خلاصہ یہ کہ جو سمجھتے ہیں کہ تشویق ہی انسان کے لئے (چاہے وہ چھوٹا ہو یا بڑا) کافی ہے اور تنبیہ و تہدید اور سزا و عذاب کا ذکر بالکل ایک طرف رکھ دینا چاہئیے وہ بڑے اشتباہ کا شکار ہیں جیسا کہ وہ لوگ جو تربیت کی بنیاد صرف خوف و تہدید پر رکھتے ہیں اور تشویق کے پہلوؤں سے غافل ہیں وہ بھی گمراہ اور بے خبر ہیں۔ یہ دونوں گروہ انسان کو پہچاننے میں اشتباہ اور غلطی کرگئے ہیں وہ متوجہ نہیں کہ انسان خوف اور امید، ذات کی محبت، زندگی سے عشق اور فنا و نابودی سے نفرت کا مجموعہ ہے۔ وہ کشش منفعت اور دفع ضرر کا مرتکب ہے۔ وہ انسان جوان دونوں پہلووں کا حامل ہے کیسے ممکن ہے کہ اس کی تربیت کی بنیاد صرف ایک پہلو پر رکھی جائے۔ ان دونوں میں ایک توازن ضروری ہے۔ اگر تشویق و امید حدسے بڑھ جائے۔ تو جرا ت و غفلت کا باعث ہے اور اگر خوف و اندیشہ حدسے گذرجائے تو اس کا نتیجہ یاس و ناامیدی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آیات قرآن میں نذیر و بشیر یا انذار و بشارت کا ایک ساتھ ذکر ہے بلکہ یہ بھی ملحوظ رکھا گیاہے کہ کبھی بشارت کو انذار پر مقدم رکھا گیاہے اور کبھی انذار کو بشارت پر زیر بحث آیت میں، بشیرا و نذیرا ہے اور سورہ اعراف آیہ ۱۸۸ ہے: إِنْ اٴَنَا إِلاَّ نَذِیرٌ وَبَشِیرٌ لِقَوْمٍ یُؤْمِنُونَ میں ایمان لانے والے کے لئے نذیرا ور بشیرہوں۔ البتہ اکثر آیات قرآن میں بشیر، بشارت یا مبشر کو مقدم رکھا گیاہے اور کم آیات میں نذیر مقدم ہے۔ ممکن ہے یہ اس لئے ہوکہ مجموعی طور پر رحمت خدا اس کے عذاب پر سبقت رکھتی ہے: یا من سبقت رحمتہ غضبہ اے وہ کہ جس کی رحمت اس کے غضب پر سبقت رکھتی ہے۔ ۱۲۰۔وَلَنْ تَرْضَی عَنْکَ الْیَہُودُ وَلاَالنَّصَارَی حَتَّی تَتَّبِعَ مِلَّتَہُمْ قُلْ إِنَّ ہُدَی اللهِ ہُوَ الْہُدَی وَلَئِنْ اتَّبَعْتَ اٴَہْوَائَہُمْ بَعْدَ الَّذِی جَائَکَ مِنْ الْعِلْمِ مَا لَکَ مِنْ اللهِ مِنْ وَلِیٍّ وَلاَنَصِیر ۱۲۱۔ الَّذِینَ آتَیْنَاہُمْ الْکِتَابَ یَتْلُونَہُ حَقَّ تِلاَوَتِہِ اٴُوْلَئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ فَاٴُوْلَئِکَ ہُمْ الْخَاسِرُونَ ترجمہ ۱۲۰۔ یہود و نصاری آپ سے کبھی راضی نہیں ہوں گے جب تک آپ (ان کی غلط خواہشات کے سامنے طرح سرتسلیم خم نہ کریں اور) ان کے (تحریف شدہ) مذہب کی پیروی نہ کریں۔ کہیے ہدایت کامل صرف خدا کی ہدایت ہے۔ اگر آگاہی کے بعد بھی ان کی ہوا و ہوس کی پیروی کی تو خدا کی طرف سے تمہارے لئے کوئی سرپرست و مددگار نہ ہوگا۔ ۱۲۱۔ و ہ لوگ (یہود و نصاری) جنہیں ہم نے آسمانی کتاب دی ہے اور وہ اسے غور سے پڑھتے ہیں۔ پیغمبر اسلام پر ایمان لے آئیں گے اور جوان سے کفر اختیار کریں گے وہ خسارے میں ہیں۔ شان نزول پہلی آیت کی شان نزول کے بارے میں ابن عباس سے اس طرح منقول ہے: مدینہ کے یہودیوں اور نجران کے عیسائیوں کا خیال تھا کہ قبلہ کے بارے میں پیغمبر اسلام ہمیشہ ان سے موافقت رکھیں گے جب خدا نے بیت المقدس کے بجائے کعبہ کو مسلمانوں کا قبلہ قرار دیا۔ تو وہ پیغمبر اکرم سے مایوس ہوگئے (اس دوران شاید مسلمانوں میں سے بعض لوگ بھی معترض تھے کہ ایسا کوئی کام نہ کیا جائے جو یہود و نصاری کی رنجش کا باعث ہو ( ۱)۔ اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی۔ جس میں مسلمانوں کو بتایاگیا کہ قبلہ کی ہم آہنگی کا معاملہ ہو یا کوئی اور مسئلہ یہودیوں اور عیسائیوں کا یہ گروہ تم سے کبھی راضی نہیں ہوگا یہاں تک کے تم ان کے مذہب کو پورے طور پر تسلیم نہ کرلو۔ بعض دوسرے لوگوں نے نقل کیاہے کہ پیغمبر اکرم چاہتے تھے کہ ان دونوں گروہوں کو راضی کیاجائے شاید یہ اسلام قبول کرلیں اس پر مندرجہ بالا آیت نازل ہوئی جس میں کہا گیا کہ آپ یہ بات ذہن سے نکال دیں کیونکہ وہ کسی قیمت پر آپ سے راضی نہ ہوں گے جب تک آپ ان کے مذہب کی پیروی نہ کرنے لگیں۔2 دوسری آےت کی شان نزول میں مختلف روایات ہیں۔ مفسرین کا نظریہ ہے کہ یہ آیات ان افراد کے بارے میں ہے جو جناب جعفر ابن ابوطالب کے ساتھ حبشہ سے آئے تھے اور وہ لوگ وہاں جاکر جناب جعفر سے مل گئے تھے۔ ان کی تعداد چالیس تھی۔ بتیس افراد حبشہ سے تھے اور آٹھ افراد شام کے راہب تھے جن میں مشہور راہب بحیرا بھی شامل تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ یہودیوں میں سے چند افراد کے لئے یہ آیت نازل ہوئی ہے۔ مثلا عبد اللہ بن سلام، سعید بن عمر و اور تمام بن یہودا و غیرہ جنہوں نے اسلام قبول کیاتھا۔3 ۱ تفسیر ابو الفتوح رازی اور تفسیر فخر رازی (کچھ فرق کے ساتھ) 2! تفسیر ابو الفتوح اور مجمع البیان زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ 3 مجمع البیان ۔ زیر بحث آیت کے ذیل میں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 2:118-119
ان کے دل ایک جیسے ہیں
مندرجہ بالا آیات میں قرآن کہتاہے کہ بہانہ سازیاں اور حیلہ گریاں کوئی نئی بات نہیں ہے بلکہ پہلی کجرو ، قومیںبھی یہی کچھ کرتی رہی ہیں گویا ان کے دل بھی ان کے دلوں جیسے ہیں۔ یہ تعبیر اس نکتے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ زمانہ گذرنے کا اور انبیاء کی تعلیمات کا یہ اثر تو ہونا چاہئیے کہ آنے والی نسلیں آگاہی اور علم کی زیادہ حصہ دار ہوں اور بہانہ سازیاں اور بے بنیاد باتیں جو انتہائی جہالت و نادانی کی نشانی ہیں انہیں کنارے لگادیں لیکن افسوس کی بات ہے کہ ان لوگوں نے اس تکاملی پروگرام سے کچھ بھی حاصل نہیں کیا اور اسی طرح کی ڈبھلی بجارہے ہیں۔ گویا ان سے ان کا ہزاروں سالہ تعلق ہے اور زمانہ بیت جانے سے ان کے افکار و نظریات میں ذراسی تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔