وَإِن مِّنكُمْ إِلَّا وَارِدُهَا كَانَ عَلَى رَبِّكَ حَتْمًا مَّقْضِيًّا
There is none of you but will come to it: a [matter that is a] decided certainty with your Lord.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 19:71
[Pooya/Ali Commentary 19:71] Aqa Mahdi Puya says: Every soul must pass through or by or over the fire, but verses 101 to 107 of Anbiya exclude those who are the first and foremost in receiving the blessings and grace of Allah, a group clearly mentioned in Waqi-ah: 10 and 11 . Also refer to the commentary of verses 58 to 63 of this surah. The two other groups, people of the right hand and the people of the left hand (Waqi-ah: 8 and 9) shall be gathered round the hell and they will pass through or by or over the hell, but the people of the right hand will come out of it to go into paradise, and the people of the left hand, the unjust, will abide in hell for ever.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:71-72
کیاسب جہنم میں جائیں گے ؟
کیاسب جہنم میں جائیں گے ؟ مذکورہ باآیات بھی قیامت کی خصوصیات اور جزا وسزاکے بارے میں ہیں پہلے تو ایک ایسے مطلب کی طرف کہ جس کاسننا شایداکثر لوگوں کے لیے حیر ت انگیز ہو اشارہ کرتے ہوئے فرمایاگیاہے : تم سب کے سب بلااستثناجہنم میں جاؤ گے ( وان منکم الاواردھا ) ۔ یہ تمہارے پروردگار کی طرف سے ایک حتمی امرہے اورایک قطعی فیصلہ ہے : (کان علی ربک حتمامقضیا ) ۔ پھر ہم ان لوگو ں کہ جنہوں نے تقویٰ اختیارکیانجات دے دیں گے اور ظالموں اور ستمگر وں کو جبکہ وہ کمزور ی اور ذلت کی وجہ سے گھنٹوں کے بل کھڑے ہوں گے ،اسی میں رہنے دیں گے ( ثم ننجی الذین اتقوا وانذالظالمین فیھا جثیا ) ۔ ان دونوں آیات کی تفسیر ین کے درمیان ایک بہت بڑبحث ہے اس بحث کی بنیاد یہ ہے ” ان منکم الاواردھا“ کے جملے میں”ورود “ سے کیا مراد ہے ؟ بعض مفسرین کانظریا یہ ہے کہ ” ورود “ اس مقام پرنزدیک ہونے اور چھانکنے کے معنی میں ہے ، یعنی تمام لوگ ، اچھے اور برے بلااستثناحساب کتاب کے لیے یابدکاروں کے آخر ی انجام کامشاہدہ کرنے کے لیے جہنم کے نزدیک آئیں گے ،اس کے بعد خد ا پر ہیز گار وں کو نجات بخشے گا اور ستمگرورں کو اسی میںچھوڈ دے گا ۔ وہ اس تفسیر کے لیے سورئہ قصص آیہ ۲۳ : ولماورد ماء مدین ” جس وقت موسیٰ مدین کے پانی کے پاس پہچنے سے استدلال کرتے ہیں کہ یہاں بھی ” ورود“ اسی معنی میں ہے ۔ دوسری تفسیر کہ جسے اکثر مفسرین نے انتخا ب کیاہ کہ ” ورود “ اس مقام پردخول کے معنی میں ہے ،اور اس طرح تمام انسان نیک وبد ، بلااستثناجہنم میں وارد ہوں گے ۔زیادہ سے زیارہ یہ ہوگا کہ دوزخ نیک لوگوں پرسرووسالم ہے گی ،جیسا کہ نمرورد کی آگ ابراہیم پر سردوسالم رہی : (یانارکونی بردا و سلاما علی ابرہیم ) ۔ کیونکہ آگ کا ان سے کوئی نہیں، اس لیے ان سے دور ہوجائے گی اور فرار کرے گی ، اور جس جگہ وہ ٹھر یں گے وہاں خاموش ہوجائے گی لیکن دوز خی چونکہ جہنم کی آگ کے ساتھ مناسبت رکتھے ہیں لہذا قابل اشتعال مادہ کی طرح جب وہ آگ کے قریب پہنچیں گے تو وہ فورن بھڑک اٹھیں گے ۔ اس بات سے قطع نظر کہ اس کام کا فلسفہ کیاہے (جس کی ہم انشاء اللہ آگے چل کر تشریح کریں گے ) بلاشک مذکورہ بالاآیات کاظاہر دوسری تفسیرکے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ ،کیونکہ ورود کااصلی معنی دخول ہی ہے او راس معنی کے علاوہ معنی مراد لینے کے لیے قرینہ کی ضرورت ہے ۔ اس کے علاوہ ،ثم ننجیالذین اتقو ا ” پھر ہم پر ہیز گا روں کو نجات دیں گے “ کاجملہ اسی طرح نذر الظالمین فیھا “ ستمگروں کو ہم اس میں رہنے دینگے،کاجملہ یہ سب اسی معنی کے شاہد ہیں ۔ اس کے علاوہ اس آیت کی تفسیرکے ضمن میں بہت سی راویات بھی ہیں جو مکمل طور پر اسی معنی میں کی تائید کرتی ہیں ۔ ا ن میں سے ایک روایت جابر بن عبداللہ انصاری سے اس طرح نقل ہو ئی ہے کہ ایک شخص نے ان سے اس آیہ کے بارے میں پوچھا، تو جابرنے اپنی دونوں انگلیوں کے ساتھ اپنے دونوں کانوں کی طرف اشارہ کیااور کہا کہ میں نے جواس مطلب اپنے ان دونوں کانوں سے جناب پیغمبر سے سناہے اگر جھوٹ بولوں تو یہ دونوں بہرے ہوجائیں ،آپ فرماتے تھے : الورود الدخول ، لایبقی بر ولاید خلھا فیکون علی المومنین برد ا وسلام کما کانت علی ابرہیم حتٰی ان للنا ر ۔ اوقال لجھم ۔ ضجیجا من برد ھا ، ثم ننجی اللہ الذین التقو او نذالظالمین فیھا جثیا: ورود یہاں دخول کے معنی میں ہے ، کوئی نیکوکار یا بد کار نہیں مگر یہ کہ وہ جہنم میں داخل ہوگا ” آگ“ یا ” جہنم “ (یہاں خود اجابر کو لفظ کے بارے میں تردد ہو ا ہے ) سردی کی شدت سے فریاد کرے گی، پھر خد اپر ہیز کاورں کو رہائی بخشنے گا اور ظالموں کو ذلت کے ساتھ اسی میں چھوڑ دیگا (۱) ۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منقول ہے : ” تقول النار للمومن یوم القیامة جز ،یامومن ! فقد اطفا نورک لھبی “ : روز قیامت آگ مومن سے کہے گی ، مجھ سے جلدی گزر جا، کہ تیرنور نے میر شعلے کوبجھادیا ہے ( ۲) ۔ بعض دیگرروایات سے بھی اس معنی کی تصدیق ہوتی ہے ۔ پل صرط کے بارے میں جو پر معنی تعبیر روایات میں بیان کی گئی ہے کہ وہ جہنم کے اوپر واقع ہے ،بال سے زیادہ باریک ہے اور تلوار سے زیادہ تیز ہے ، اس تفسیرکاایک دوسرا شاہد اور گواہ ہے (۳) ۔ رہ گئی یہ بات جو بعض کہتے ہیں کہ سورئہ انبیاء کی آیہ۱۰۱ پہلی تفسیرپردلالت کرتی ہے ۔آیت یہ ہے : اولٓئک عنھا مبعدون وہ (مومنین ) جہنم کی آگ سے دور ہوں گے ۔ یہ بات صحیح معلوم ہوتی ہے کیونکہ یہ آیت تومومنین کی دائمی جگہ اور ابدی مقاکے بارے میں بیان کررہی ہے ، یہاں تک کہ ہم اس سے بعد والی آیت میںیہ پڑ ھتے ہیں کہ : لایسمون حسیسھا مومنین آگ کے شولوں کی آواز تک بھی نہیں سنیں گے ۔ اگر زیربحث آیت میں” ورود “ نزدیک ہونے کے معنی میں ہو تو نہ لفظ مبعدون کے ساتھ مناسبت رکھتا ہے اور نہ ہی ” لایسمعون حسیسھا “ کے جملے کے ساتھ ۔ ۱۔ نوراثقلین ، جلد ۳ ،ص ۳۵۲۔۳۵۳۔ ۲۔ نوثقلین ،جلد ۳ ، ص ۳۵۲۔۳۵۳۔ ۳۔تفسیر نو ثقلین ، جلد ۵ ، ص۵۷۲ ۔آیہ ” ان ربک لبا لمرصاد “ (فجر ۔ ۱۴ ) کے ذیل میں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:71-72
ایک سوال کا جواب
ایک سوال کا جواب صرف ایک سوال جو یہاں باقی رہ جاتاہے یہ ہے کہ پروردگار کی حکمت کے لحاظ سے اس کام کا فلسفہ کیا ہے ؟ اس کے علاوہ کیا مومنین کواس کام سے کوئی تکلیف اور عذاب نہیں پہنچے گا ؟ اس سوال کا جوا ب جو دونوں پہلوؤں سے اسلامی روایات میں آیاہے ،معمولی سے غور کے ساتھ واضح ہوجاتا ہے ۔ حقیقت میں دوزخ اور اس کے عذابوں کامشاہدہ اس بات کے لیے ایک معدمہ ہوگا کہ مومنین جنّت کی خداداد نعمتوں سے زیادہ سے زیادہ لذّت حاصل کریں کیونکہ” عافیت کی قد ر اسی کو ہوتی ہے جوکسی مصیبت میں گرفتار ہوا ہو “ ۔ (بالاضد اد تعرف الاشیاء ) یہاں مومنین مصیبت میں گرفتار نہیں ہوں گے بلکہ صرف مصیبت کامنظر دیکھیں گے اور جیسا کہ ہم نے مذکورہ بالاروایات میں پڑھا ہے آگ ان پرسردو سالم ہوجائے گی اوران کانور آگ کے شعلوں پرغالب آجائے اور ان کو ماندکردے گا ۔ اس کے علاوہ آگ سے اتنی تیزی کے ساتھ گزریں گے ان پرمعمولی سااثربھی نہ ہوگا ،جیسا کہ ایک حدیث میں پیغمبر سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا : یردالناس الناس یصدرون باعماالھم فاولھم کلمع البرق ثم کمرالریح کحضرالفرس ، ثم کالراکب ، ثم کشدّ الرجل ثم کمیشہ : ” سب کے سب لوگ جہنم کی آگ میں جائیں گے ،اس کے بعد اپنے اعمال کے مطابق اس سے باہرنکلیں گے ،بعض بجلی کے مذکوندنے (چمکنے ) کی طرح ،ان کے بعد ان سے درجے والے تیز آندھی ی طرح ، بعض گھوڑے تیز دوڑ نے کی طرح ، بعض معمولی سوارکی طرح ،بعض تیز رو پیدل چلنے والے کی طرح ، اور بعض معمولی رفتار سے چلنے والوں کی طرح (1) ۔ علاوہ ازین دوزخی بھی اس منظر کے مشاہدہ سے کہ بہشتی اتنی تیز ی کے ساتھ گزر رہے ہیں اور وہاسی میں رہیں گے زیادہ سز ااور تکلیف محسوس کریں گے اورا س طرح سے دونوں سوالات کاجوب واضح ہوجاتا ہے ۔ ۱۔ تفسیر نوثقلین ، جلد ۳ ، ص ۳۵۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 19:71-72
سوره مریم / آیه 71 -72
۷۱ ۔ وان منھم الاواردھا کان علیٰ ربک حتما مقضیا ۔ ۷۲ ۔ ثم ننجی الذین اتقو و نذرالظلمین فیھا جثیا ۔ ترجمہ ۷۱ ۔ اور تم سب کے (بلااستثنا )جہنم میں جاؤ گے یہ تیرے پروردگار کاحتمی امراورقطعی فیصلہ ہے ، ۷۲۔ پھر ہم ان لوگوں کو جنہوں نے اختیار کیا ہے رہائی بخشی گے اور ظالموں کو اسی میں رہنے دیں گے جنکہ وہ (کمزوری اورذلت کے باعث ) گھٹنوں کے بل کھڑے ہیں گے ۔