وَكَذَلِكَ بَعَثْنَاهُمْ لِيَتَسَاءَلُوا بَيْنَهُمْ قَالَ قَائِلٌ مِّنْهُمْ كَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا يَوْمًا أَوْ بَعْضَ يَوْمٍ قَالُوا رَبُّكُمْ أَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا أَحَدَكُم بِوَرِقِكُمْ هَذِهِ إِلَى الْمَدِينَةِ فَلْيَنظُرْ أَيُّهَا أَزْكَى طَعَامًا فَلْيَأْتِكُم بِرِزْقٍ مِّنْهُ وَلْيَتَلَطَّفْ وَلَا يُشْعِرَنَّ بِكُمْ أَحَدًا
So it was that We aroused them [from sleep] so that they might question one another. One of them said, ‘How long have you stayed [here]?’ They said, ‘We have stayed a day, or part of a day.’ They said, ‘Your Lord knows best how long you have stayed. Send one of you to the city with this money. Let him observe which of them has the purest food, and bring you provisions from there. Let him be attentive, and let him not make anyone aware of you.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 18:19
[Pooya/Ali Commentary 18:19]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:19-20
سوره کهف / آیه 19 - 20
۱۹ وَکَذٰلِکَ بَعَثْنَاھُمْ لِیَتَسَائَلُوا بَیْنَھُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ کَمْ لَبِثْتُمْ قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ قَالُوا رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ فَابْعَثُوا اٴَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہِ إِلَی الْمَدِینَةِ فَلْیَنظُرْ اٴَیُّھَا اٴَزْکَی طَعَامًا فَلْیَاٴْتِکُمْ بِرِزْقٍ مِنْہُ وَلْیَتَلَطَّفْ وَلَایُشْعِرَنَّ بِکُمْ اٴَحَدًا ۲۰ إِنَّھُمْ إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اٴَوْ یُعِیدُوکُمْ فِی مِلَّتِھِمْ وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا اٴَبَدًا ترجمہ ۱۹۔ اسی طرح ہم نے انھیں (نیند سے) اٹھایا تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں ۔ اُن میں سے ایک نے کہا، کتنی مدت سوئے ہو، انھوں نے کہا: ایک دن یا ایک دن کا کچھ حصّہ (اور چونکہ انھیں اپنے سونے کی مدت ٹھیک طرح سے معلوم نہ تھی لہٰذا) کہنے لگے: تمھارا پروردگار بہتر جانتا ہے کہ تم کتنی مدت سوئے ہو ۔ تمھارے پاس جو سکّہ ہے اب وہ دے کر کسی کو شہر کی طرف بھیجو تاکہ وہ دیکھے کہ سب سے پاکیزہ کھانا جہاں سے ملتا ہو وہاں سے وہ کھانے کے لئے کچھ لے آئے لیکن اُسے چاہیے کہ بڑی احتیاط سے کام لے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کو تمھارے بارے میں کچھ بتا بیٹھے ۔ ۲۰۔ کیونکہ اگر انھیں تمھارے بارے میں پتہ چل گیا تو وہ تمھیں سنگسار کردیں گے یا اپنے دین کی طرف پھیر لیں گے اور اگر ایسا ہوگیا تو پھر تم کبھی فلاح کا منھ نہیں دیکھ پاوٴگے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:19-20
۳۔ قر آن کا مرکز ”لطف“ ہے
۳۔ قر آن کا مرکز ”لطف“ ہے مشہور یہ ہے کہ الفاظ کی گنتی کے لحاظ سے لفظ ”وَلْیَتَلَطَّفْ“ عین قرآن کا درمیان ہے، یہ ایک لطف خاص ہے اور بہت لطیف معنی کا حامل ہے کیونکہ یہ ”لطف“ اور ”لطافت“ کے مادہ سے لیا گیا ہے، یہاں یہ لفظ احتیاط اور باریک بینی سے کام لینے کے معنی میں لیا گیا ہے، یعنی غذا لانے کے لئے جانے والا شخص اس طرح سے جائے کہ کسی شخص کو ان کے بارے میں کوئی خبر نہ ہو ۔ بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ یہاں مراد غذا خریدنے میں لطافت سے کام لینا ہے یعنی معاملہ کرنے میں سخت گیری نہ کرے اور جھگڑا کھڑا نہ کردے نیز بہترین چیز انتخاب کرے اور یہ بھی ایک لطف ہے کہ وسطِ قرآن کے لفظ میں لطف وتلطف کا مفہوم پوشیدہ ہے ۔(1) یہ ٹھیک ہے کہ دس سال تھوڑی مدت نہیں ہوتے لیکن اب تک جو کام ہم نے اس تفسیر کے سلسلے میں انجام دیا ہے وہ بھی الحمد لله کوئی چھوٹا سا نہیں ۔ ۱۔ اس وقت ہم پروردگار کی عظیم توفیق سے پورے دس سال کے بعد قرآن مجید کی تفسیر کے نصف حصّہ تک پہنچ گئے ہیں، اس پر ہم الله تعالیٰ کا شکر بجالاتے ہیں کہ اس دوران اگرچہ ہم اور ہمارے ملک پر نہایت سخت حالات اور طوفان گزرے لیکن اس علاقے میں نورِ اسلام بجھا نہیں بلکہ اس کا دامن وسیع ہوا ہے نیز الله کا شکر ہے کہ اس تفسیر کے لکھنے میں کوئی وقفہ پیش نہیں آیا ہے ۔ لہٰذا ہمیں امید ہے کہ باقی ماندہ تفسیر (انشاء الله) زیادہ سُرعت کے ساتھ تکمیل کے مراحل طے کرے گی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:19-20
۲۔ اصلاح کنندہ تقیہ
۲۔ اصلاح کنندہ تقیہ مندرجہ بالا آیات کے الفاظ سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ اصحابِ کہف اس بات پر زور دیتے تھے کہ اس ماحول میں کسی کو ان کی پناہ گاہ کا پتہ نہ چلے کہ مبادا وہ لوگ انھیں بُت پرستی کا مذہب اختیار کرنے پر مجبور کریں پا پھر انھیں بُری طرح قتل کریں اور سنگسار کردیں ۔ وہ چاہتے تھے کہ ان کی کسی کو خبر نہ ہو تاکہ آئندہ کی جد وجہد کے لئے کم از کم اپنے ایمان کی حفاظت کے لئے اپنی طاقت بچا کر رکھیں، یہ ایک قسم کا اصلاحی تقیہ ہے کیونکہ تقیہ کا مطلب ہے اپنی قوتوں کو فضول صرف کرنے سے بچانا اور اس کے لئے اپنے آپ کو چھپانا یا اپنے عقیدے کو چھپا کر اپنے آپ کو بچانا تاکہ ضرورت کے وقت موٴثر طریقے سے جد وجہد جاسکے ۔ واضح ہے کہ جس مقام پر عقیدہ چھپانے سے ہدف اور پروگرام کو نقصان پہنچتا ہو وہاں تقیہ ممنوع ہے وہاں سب کچھ ظاہر کرنا چاہیے ۔ لو بلغ ما بلغ پھر جو کچھ ہوتا ہے ہونے دو ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:19-20
۱۔ پاکیزہ ترین غذا
۱۔ پاکیزہ ترین غذا یہ بات بہت جاذبِ نظر ہے کہ اس داستان میں ہم نے پڑھا ہے کہ اصحابِ کہف جب بیدار ہوئے تو ظاہر ہے کہ انھیں بہت بھوک لگ رہی تھی اور اس طویل مدت کے دوران میں ان کے جسم میں جو غذا تھی صرف ہوچکی تھی لیکن اس کے باوجود انھوں نے جسے کھانا لانے کے لئے بھیجا اسے نصیحت کی کہ ہر غذا نہ خرید لے بلکہ دیکھ بھال کر کھانا بیچنے والوں سے جو سب سے زیادہ پاکیزہ ہو اس سے لے کر آئے ۔ بعض مفسّرین کا کہنا ہے کہ اس سے ذبح شدہ جانور کی طرف اشارہ تھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس شہر میں ایسے لوگ رہتے ہیں کہ جو نجس وناپاک اور کبھی مردہ کا گوشت بیچتے ہیں یا بعض لوگوں کا کام ہی حرام کا تھا لہٰذا انھوں نے نصیحت کی کہ ایسے لوگوں سے کھانا نہ خریدانا ۔ لیکن ظاہراً اس جملے کا وسیع مفہوم ہے کہ جس میں ہر قسم کی ظاہری اور باطنی پاکیزگی شامل ہے اور یہ در اصل راحِ حق کے تمام راہیوں کے لئے نصیحت ہے کہ وہ نہ صرف روحانی غذا کے بارے میں فکر کریںبلکہ اپنی جسمانی غذا کی پاکیزگی کا بھی خیال رکھیں کہ وہ ہر قسم کی آلودگی سے پاک ہوں یہاں تک کہ زندگی کے مشکل ترین لمحات میں بھی اس بات کا فراموش نہ کریں ۔ دورِ حاضر میں دنیا کے بہت سے لوگ اس حکم کی اہمیت سے کسی حد تک آگاہ ہوگئے ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ اُن کی غذا ہر قسم کی ظاہری آلودگی سے پاک ہو، وہ کھانے کی چیزوں کی ڈھک کر گندے ہاتھوں کی پہنچ سے دُور اور گرد وغبار سے بچا کر رکھتے ہیں، یہ کام بہت اچھا ہے لیکن اس پر قناعت نہیں کرنا چاہیے بکہ یہ بھی خیال رکھنا چاہیے کہ غذا حرام نہ ہو، ملاوٹ، دھوکا بازی اور ہر قسم کی باطنی آلودگی سے بھی پاک ہو ۔ اسلامی روایات میں قبولیتِ دعا اور پاکیزگی دل کے لئے حلال غذا کی بہت تاکید کی گئی ہے، یہ ایک روایت میں ہے کہ ایک شخص رسول الله کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کرنے لگا: اٴحبّ اٴن یستجاب دُعائی مَیں چاہتا ہوں کہ میری دعا قبول ہوجائے ۔ فرمایا: ”طھّر ماٴکلک ولاتدخل بطنک الحرام؛ اپنی غذا کو پاک رکھو اور دھیان رکھو کہ تمھارے بطن میں حرام داخل نہ ہونے پائے“۔(۱)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 18:19-20
ایک طویل نیند کے بعد بیداری
ایک طویل نیند کے بعد بیداری خدا نے چاہا تو آئندہ آیات کے ذیل میں ہم پڑھیں گے کہ اصحابِ کہف کی نیند اتنی لمبی ہوگئی کہ وہ تین سو نو(۳۰۹)سال تک سوئے رہے اور اُن کی نیند موت سے بالکل ملتی جلتی تھی اور ان کی بیداری بھی قیامت کی مانند تھی۔ لہٰذا زیرِ بحث ایات میں قرآن کہتا ہے: اور ہم نے انھیں اسی طرح اٹھا کھڑا کیا (وَکَذٰلِکَ بَعَثْنَاھُمْ)۔ یعنی اسی طرح کہ جیسے ہم اس پر قادر تھے کہ انھیں لمبی مدت تک سُلائے رکھتے انھیں پھر سے بیدار کرنے پر بھی قادر تھے ۔ ہم نے انھیں نیند سے بیدار کردیا ”تاکہ وہ ایک دوسرے سے پوچھیں، ان میں سے ایک نے پوچھا، تمھارا خیال ہے کتنی مدت سوئے ہو؟ (لِیَتَسَائَلُوا بَیْنَھُمْ قَالَ قَائِلٌ مِنْھُمْ کَمْ لَبِثْتُمْ)۔(۱) انھوں نے کہا: ایک دن یا ایک کا کچھ حصّہ (قَالُوا لَبِثْنَا یَوْمًا اٴَوْ بَعْضَ یَوْمٍ)۔ اس میں تردد شاید انھیں اس لئے ہوا کہ جیسے مفسّرین نے کہا کہ وہ جب غار میں آئے تھے تو دن کا ابتدائی حصّہ تھا اور آکر وہ سوگئے تھے اور جب اٹھے تو دن کا آخری حصّہ تھا ۔ یہی وجہ ہے کہ پہلے انھوں نے سوچا کہ شاید دن سوگئے ہیں اور جب انھوں نے سورج کی طرف دیکھا تو انھیں خیال آیا کہ شاید دن کا کچھ حصّہ سوئے ہیں ۔ لیکن آخرکار چونکہ انھیں صحیح طرح سے معلوم نہ ہوسکا کہ کتنی دیر سوئے ہیں لہٰذا ”کہنے لگے : تمھارا رب بہتر جانتا ہے کہ کتنی دیر سوئے ہو“ (قَالُوا رَبُّکُمْ اٴَعْلَمُ بِمَا لَبِثْتُمْ)۔ بعض کا کہنا ہے کہ یہ بات ان میں سے بڑے نے کہی جس کا ناتملیخا تھا اور یہاں پر ”قالوا“ کہ جو جمع کا صیغہ ہے اس کا استعمال ایک معمول کی بات ہے ۔ یہ بات انھوں نے شاید اس لئے کہی کہ ان کے چہرے مہرے سے، ناخنوں سے، بالوں سے اور لباس سے بالکل شک نہیں پڑتا تھا کہ وہ غیرمعمولی طور پر نیند میں رہے ہیں ۔ بہرحال انھیں بھوک اور پیاس کا احساس ہوا کیونکہ ان کے بدن میں جو غذا تھی وہ تمام ہوچکی تھی۔ لہٰذا پہلے پہلے انھوں نے یہی تجویز کیا کہ ”تمھار ے پاس چاندی کا جو سکّہ ہے اپنے میں سے ایک کو دو تاکہ وہ وہ جائے اور دیکھے کہ کس کے پاس اچھی پاکیزہ غذا ہے اور جتنی تمھیں چاہیے تمھارے لئے لے آئے (فَابْعَثُوا اٴَحَدَکُمْ بِوَرِقِکُمْ ھٰذِہِ إِلَی الْمَدِینَةِ فَلْیَنظُرْ اٴَیُّھَا اٴَزْکَی طَعَامًا فَلْیَاٴْتِکُمْ بِرِزْقٍ مِنْہُ)۔ ”لیکن بہت احتیاط سے جائے، کہیں ایسا نہ ہو کہ کسی کو تمھارے بارے میں کچھ بتا بیٹھے“ (وَلْیَتَلَطَّفْ وَلَایُشْعِرَنَّ بِکُمْ اٴَحَدًا)۔ ”کیونکہ اگر انھیں تمھارے بارے میں پتہ چل گیا اور انھوں نے تمھیں الیا تو سنگسار کردیں گے یا پھر تمھیں اپنے دین (بُت پرستی) کی طرف موڑ لے جائیں گے“ (إِنَّھُمْ إِنْ یَظْھَرُوا عَلَیْکُمْ یَرْجُمُوکُمْ اٴَوْ یُعِیدُوکُمْ فِی مِلَّتِھِمْ) ”اور اگر ایسا ہوگیا تو تم نجات اور فلاح کا منہ نہ دیکھ پاوٴگے“ (وَلَنْ تُفْلِحُوا إِذًا اٴَبَدًا) ۱۔ ”لِیَتَسَائَلُوا“ میں جو لام ہے وہ اصطلاح میں لامِ عاقبت ہے نہ کہ لامِ علت، یعنی ان کے جاگنے کا نتیجہ یہ ہوا کہ وہ اپنی نیند کے مدت کے بارے میں ایک دوسرے پوچھنے لگے ۔