وَاللَّهُ أَنزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَحْيَا بِهِ الْأَرْضَ بَعْدَ مَوْتِهَا إِنَّ فِي ذَلِكَ لَآيَةً لِّقَوْمٍ يَسْمَعُونَ
Allah sends down water from the sky with which He revives the earth after its death. There is indeed a sign in that for a people who listen.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:65
[Pooya/Ali Commentary 16:65] Some commentators interpret this verse as under: When ignorance kills the soul, the life-giving fertilising shower of Allah's revelation (the Quran) puts new life into it through its guidance, wisdom and mercy.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:65-67
۲۔ دودھ ایک اہم غذا
۲۔ دودھ ایک اہم غذا۔دودھ اہم حیاتی ن سے بھر پور ہے یہ اجزاء باہم مل کر ایک غذا بناتے ہیں ۔ دودھ کے اجزاء:۔ سوڈیم (Sidiam)پوٹا شیمPot))کیلشیم(Calcium)میگگنیشیم، کانسی ، تانبا، آئرن ، فاسفورس آیوڈ(lode)اور گندھک۔ اس کے علاوہ دودھ میں آکسیجن ، ازاٹ(Azote)اور کارناک ایسڈ کے اجزاے بھی موجود ہوتے ہیں ۔ دودھ میں شکر کافی مقدار میں لکٹوز (Lactose)کی شکل میں ہوتی ہے ۔ دودھ میں تحلیل شدہ وٹامن اے ، بی ، سی اور ڈی ہوتے ہیں ۔ دور حاضر میں ثابت ہو چکا ہے کہ اگ رجانور نے خوب چارہ چرلیا تو اس کے دودھ میں ہر طرح کے وٹامن موجود ہوتے ہیں سب کی تفصیل اس کتاب میں نہیں آسکتی نیز اس مسئلے پر بھی تقریباً اتفاق ہے کہ دودھ ایک مکمل غذا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ ایک حدیث میں رسول اللہ سے منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: لیس یجزی مکان الطعام والشراب الااللبن دودھ کے سواکوئی چیز کھانے پینے کا مکمل نعم البدل نہیں ہے ۔ نیز روایات میں ہے : دودھ عقل انسان کو بڑھاتا ہے ، ذہن انسانی کو شفا بخشتا ہے ، آنکھوں کی بینائی میں اضافے کا باعث بنتا ہے ، نسیان کو ختم کرتا ہے ، دل کو تقویت دیتا ہے اور کمر کو مضبوط کرتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ یہ آثار دودھ میں موجودحیاتین سے قریبی ربط رکھتے ہیں۔1 ۱۔ کتاب” اولین دانشگاہ و آخرین پیامبر“ جلد ۶ میں موجود دودھ کی بحث سے استفادہ کیا گیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:65-67
۳۔ دودھ ایک خاص اور عمدہ غذا
۳۔ دودھ ایک خاص اور عمدہ غذا:۔ زیر بحث آیات میں دودھ کو ”خالص “ اور ”گوارا“ غذا قرار دیا گیا ہے اور یہ بات پہلی نظر ہی میں ہر شخص کے لئے واضح ہے کہ دودھ کم حجم، پر قوت اور اضافی مواد سے پاک ایک خالص غذا ہے اور ساتھ ہی یہ ہر سن و سال کے شخص کے لئے ، بچپن سے لیکر بڑھاپے تک کے لئے نہایت گوارا ، مفید اور مناسب ہے ۔ انہی وجودہ کی بناء پر بہت سے بیمار اس غذا سے استفادہ کرتے ہیں خصوصاً ہڈیوں کی نشو و نما کے لئے اس کی بہت زیادہ تاثیر مانی گئی ہے ، یہی وہ ہے کہ ہڈی ٹوٹ جانے کی صورت میں اس کی سفارش کی گئی ہے ۔ ”خلوص“ کا معنی ”پیوند“ بھی ہے شاید یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اس قرآنی تعبیر کو ہڈی جوڑنے میں دودھ کے بہت موٴثر ہونے کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ دودھ پلانے کے بارے میں جو اسلامی احکام وارد ہوئے ہیں ان میں یہ معنی وضاحت سے نظر آتا ہے ۔ ہم جانتے ہیں کہ فقہا کہتے ہیں : اگر بچہ کسی عورت کااس قدر دودھ پئے کہ اس کی ہڈی مضبوط ہو جائے اور گوشت اگ آئے تو یہ اس عورت کامحرم اور رضاعی بیٹا ہو جائے گا۔ اسی طرح کا حکم اس عورت کے شوہر اور دیگر رشتہ داروں کے بارے میں بیان کیا جاتا ہے ۔ 1 دوسری طری طرف ہم دیکھتے ہیں کہ فقہاء کے نزدیک پندرہ مرتبہ پے در پے دودھ پینے سے یہاں تک کہ ایک شب و روز دودھ پینے والا اس عورت کا محرم ہو جاتا ہے جس کا اس نے دودھ پیا ہے۔ ان دونوں باتوں کو مجموعی طور پر دیکھا جائے تو کیا اس کا یہ مفہوم نہیں ہو گا کہ چوبیس گھنٹے دودھ پینا بھی ہڈیوں کی تقویت اور گوشت اگنے کے لئے موثر ہے ۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ اسلامی احکام میں پہلے دن کے دودھ کو بہت زیادہ اہمیت دی گئی ہے یہاں تک کہ اسلام کی فقہی کتب میں بچے کی زندگی کو ا س سے وابستہ سمجھا گیا ہے ۔ اسی بناء پر بچے کو پہلا دودھ پلانا واجبات میں شمار کیا گیا ہے ۔ شاید یہی وجہ ہے کہ حضرت موسیٰ کے بارے میں سورہ ٴ قصص کی آیہ ۷ میں ہے ۔ و اوحینا الیٰ ام موسیٰ ان ار ضعیہ فاذا خفت علیہ فاقیہ فی الیم موسیٰ کی ماں کو ہم نے وحی کی کہ اسے دودھ پلاوٴ اور جب تمہیں اس کے بارے میں خوف لاحق ہوتو اسے دریا کی موجوں کے سپرد کردو۔ ۱۔ شرح لمعہ، کتاب نکاح الاولاد و منہا الرضاع ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:65-67
۱۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟
۱۔ دودھ کس طرح پیدا ہوتا ہے ؟ جیسا کہ ہم نے مندر جہ بالا آیات میں پڑھا ہے ، قرآن مجید کہتا ہے : کہ دودھ ”فرث“ ( معدے کے اندر ہضم شدہ غذا) اور ”دم“ (کون ) کے درمیان سے نکلتا ہے ۔ آج کی فزیالوجی (Physiology)( علم الاعضاء)نے یہ بات ثابت کردی ہے کہ جس وقت غذا معدے میں ہضم اور جذب کے لئے تیار ہو جاتی ہے تو معدے اور اتڑیوں کی سطح میں کئی ملین بالوں کی رگوں کے ساتھ ساتھ بہت پھیل جاتی ہے ۔ مفید اور ضروری عناصر اسے جذب کرکے اسے ایک جڑ دار درخت تک پہنچاتے ہیں وہی جڑدار درخت کہ جس کی جڑیں پستان کی نوک میں جاکر جمع اور تمام ہو تی ہیں ۔ ماں غذاکھاتی ہے تو اس کا نچوڑ خون میں داخل ہو جاتا ہے خون کی ان رگوں کی آخری شاخیں اور ” جنین“ کے گر دش ِ خون کا آخری مقام اور اس کی رگوں کی آخری شاخیں ایک دوسرے کے ساتھ ساتھ ہوتی ہیں جب تک بچہ شکم ِ مادر میں ہوتا ہے اس طرح غذاملتی رہتی ہے لیکن وہ ماں سے الگ ہو جاتا ہے تو غذادینے والے قطب نما عقربہ کی نوک کی ماں کے پستان کی نوک کی طرف رخ کرتی ہے اس حالت میں اب ماں کا خون نوزاد بچے کے خون تک نہیں پہنچ سکتا یہاں ایک تغیر اور تبدیلی کی ضرورت ہوتی ہے اب ایک صاف شدہ محصول کی ضرورت ہوتی ہے جو بچے کے لئے گوارا اور مناسب ہو ایسے میں ” فرث“ اور ”دم“ کے درمیان میں سے دودھ پیدا ہو تا ہے ماں جو کچھ کھاتی ہے اس سے ” فرث“ بنتا ہے اور پھر اس سے خون پیدا ہوتا ہے اور پھر ان دونوں کے درمیان میں سے دودھ پیدا ہوتا ہے ۔ عجیب اتفاق ہے کہ دودھ کی ترکیب بھی ”خون“ اور”دم“کی درمیانی سی ترکیب ہے یہ نہ صاف شدہ خون ہے نہ ہضم شدہ غذا۔ یہ ” فرث“ سے بالا اورخون سے نیچے کی ایک چیز ہے ۔ دودھ کے بعض عناصر خون میں نہیں ہوتے اور پستان کی غدودد میں بنتے ہیں ۔ مثلاًکازوئین خون کے کچھ عناصر جو دودھ میں موجود ہیں وہ بغیر کسی تغیر کے خون کے پالازما(Plasma)سے ترشح ہو کر دودھ میں داخل ہوتے ہیں مثلا ً مختلف وٹامن، خوردنی نمک اور مختلف فاسفیٹ ۔ کچھ اور مواد بھی خون سے حاصل ہوتا ہے مثلاً دودھ میں موجود شکر (Lactose)خون میں موجود شکر سے حاصل ہوتی ہے جو پستان کے عمل میں مدد ہوتی ہے اور اس تغیر میں ایک اہم کردار کرتی ہے ۔ جیسا کہ آپ دیکھ رہے ہیں دودھ کی تو لید نتیجہ ہے خون کے ذریعہ ضذب ِ غذا کا اور خون کے پستانوں کی غدود سے براہ راست تعلق کا ، لیکن یہ بات جاذب نظر ہے کہ ”فرث“ کی مخصوص بو اور خون کا مخصوص رنگ دودھ میں منتقل نہیں ہوتے بلکہ یہ دودھ نئے رنگ اور نئی مہک کے ساتھ پستان کی نوک سے نکلتا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ فزیالوجی کے ماہرین کہتے ہیں کہ پستان میں ایک لڑ دود ھ پیدا ہونے کے لئے کم از پانچ سے لٹر خون کو اس حصے سے گزرنا چاہئیے تاکہ ایک لڑ دودھ کے لئے درکار ضروری مواد خون سے حاصل کیا جا سکے جبکہ رگوں میں ایک لٹر خون پید ا ہونے کے لئے ضروری مقدار میں غذائی مداد کو انتڑیوں سے گزر نا پڑتا ہے یہ وہ مقام ہے کہ جہاں ” من بین فرث ودم “ ( ہضم شدہ غذا اور خون میں سے ) ک امفہوم پوری طرح واضح ہوتا ہے ۔۱ ۱۔ کتاب ”شیمی حیاتی و پزشکی“ اور کتاب ” اولین دانشگاہ اور آخرین پیامبر “ جلد ۶ ص ۷۱، تا ص
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:65-67
پانی ، پھل اور حیوانات
پانی ، پھل اور حیوانات قرآن ایک مرتبہ پھر پر وردگار کی گونا گوں نعمتوں کا تذکرہ کرتا ہے یہ در اصل توحید اور خدا شناسی کے لئے ایک تاکید بھی ہے اور ساتھ ہی معاد کی طرف اشارہ ہے ۔ نیز نعمتوں کا تذکرہ بندوں کے احساس ِ تشکر کو بیدار کرنے کے لئے بھی ہے اس طرح انھیں زیادہ قرب ِ الہٰی کے حصول کی طرف مائل کیاگیا ہے ان تینوں پہلووٴں پر نظر رکھی جائے تو ان آیات کا گذشتہ آیا ت سے تعلق واضح ہو جاتا ہے ۔ دوسری طرف گذشتہ آیات میں سے آخری آیت قرآن کے نزول کے بارے میں تھی ۔ وہ آیات کہ روح ِ انسانی کے لئے حیات بخش ہیں اور زیر نظر پہلی آیت آسمان سے بارش کے نزول کے بارے میں ہے ۔ اور بارش جسمِ انسانی کے لئے حیات بخش ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے :خدا نے آسمان سے پانی نازل کیا اور اس طرح زمین کو جو مردہ ہو چکی تھی اسے حیاتِ تازہ بخشی( وَاللهُ اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا ) ۔ اس امر میں ان کے لئے عظمت ِ الہٰی کی واضح نشانی ہے کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ) ۔ آسمان سے بارش برسنے سے زمین کو جو حیات ِ نو ملتی ہے اس کا ذکر قرآن کی بہت سی آیات میں آیا ہے ۔ بعض اوقات خشک سالی زمین کو اس طرح سے خشک، سالی زمین کو اس طرح سے خشک ، خاموش اور بے روح کردیتی ہے کہ وہ بالکل بے کار اور بنجر ہو جاتی ہے یہاں تک کہ کسی کو یقین نہیں آتا کہ کبھی اس زمین پر بھی سر سبز کھیتیاں لہراتی رہی ہیں یا آئندہ کبھی اس دکھ سے کوئی زندگی جنم لے گی لیکن چند پے در پے باریشیں ہوتی ہیں اور پھر سورج کی حیات بخش شعاعیں اس میں حرکت پید اکردیتی ہیں گویا کوئی سورہاتھا اور اب بیدار ہو گیا ہے یا زیادہ صحیح الفاظ میں کوئی مردہ تھا کہ جس میں بارش کے دم ِ مسیحائی سے زندگی لوٹ آتی ہے اس میں طرح طرح کے پھل پھول اگنے لگتے ہیں ۔ سبز ے لہلہانہ شروع کر دیتے ہیں ۔ حشرات الارض اس پر رینگنے لگتے ہیں ۔ پرندے اس میں چہچہانے لگتے ہیں اور جانور پھر سے اس کا رخ کرنے لگتے ہیں اور اس طرح زمرمہٴ حیات پھر سے گونج اٹھتا ہے ۔ مختصر یہ کہ وہ زمین جو پہلے مردہ خاموش تھی اس میں ایسا غلغلہ جاگ اٹھتا ہے کہ انسان مبہوت ہو کر رہ جاتا ہے اور حقیقت یہ ہے کہ یہ عالم ِ آفرینش کا ایک شاہکار ہے یہ خالق کی قدرت و عظمت کی نشانی بھی ہے او رمعاد و قیامت کے امکان کی دلیل بھی ہے اس سے کھلتا ہے کہ مردے کس طرح دوبارہ لباس ِ حیات زیب تن کرتے ہیں یہ خدا کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت بھی ہے خصوصاً بارش ایک ایسی نعمت ہے کہ جس کے حصول کے لئے بندے کچھ زحمت نہیں کرتے۔ پانی کہ جو پہلا رکن حیات ہے اس کے ذکر کے بعد چوپایوں کے وجود کی نعمت کی طرف اشارہ ہے اس سلسلے میں خصوصیت سے دودھ کا تذکرہ ہے کہ جو انتہائی مفید غذائی عنصر ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے ایک بہت بڑا درسِ عبرت ہے ( وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاٴَنْعَامِ لَعِبْرَةً) ۔ اس سے بڑھ کر عبرت کی بات کیا ہو گی کہ ہم تمہیں ان جانوروں کے شکم میں ہضم شدہ غذا اور خون کے درمیان میں سے تمہارے پینے کے لئے خالص اور عمدہ دودھ فراہم کرتے ہیں ( نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ ) ۔ ” فرث“ لغت میں اس ہضم شدہ غذا کے معنی میں ہے کہ جو معدے کے اندر ہو اور جب وہ انتڑیوں تک پہنچتا ہے تو اس کا حیاتی مادہ بد ن میں جذب ہو جاتا ہے اور اس کا پھوک اور فضلہ باہر نکل جاتا ہے اس فضلے کو ” روث“ ( گوبر)کہتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ شکر کا کچھ مواد اور اسی طرح پانی وغیرہ کی کچھ مقدار معدے کی دیواروں کے ذریعے بدن میں جذب ہو جاتی ہے اور اس کا ایک اہم حصہ ہضم شدہ غذا کی صورت میں انتڑیوں کی طرف منتقل ہو کر خون میں داخل ہو جاتا ہے ۔ نیز ہم یہ بھی جاتے ہیں کہ دودھ پستان کے اندر موجود خا ص غدودوں سے نکلتا ہے اور اس کا اصلی مواد خون او رچربی ساز غدودوں سے لیا جاتا ہے ، اس طرح یہ سفید رنگ ، صاف ستھرا اور خالص مادہ ، یہ قوت بخش اور عمدہ غذا ہضم شدہ غذاوٴں کے دمریان سے کہ جو فضلہ سے مخلوط ہیں اور خون کے بیچوں بیچ سے حاصل ہوتا ہے واقعاً یہ ایک عجیب و غریب چیز ہے ۔ سر چشمہ اس طرح سے آلودہ اور تنفر آمیز لیکن ماحصل خالص ، خوبصورت ، دل انگیز اور عمدہ دودھ ۔ جانوروں اور ان کے دودھ کے ذکر کے بعد کچھ نباتات کی نعمت کا تذکرہ ہے ارشاد ہوتا ہے : اللہ نے تمہیں کھجور اور انگور کی صورت میں پر برکت غذا عطا کی ہے کبھی تم اسے نقصان دہ شکل میں ڈھال لیتے ہو اور ا س سے شراب بناتے ہو اور کبھی اس سے پاک و پاکیزہ رزق حاصل کرتے ہو۔( وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالْاٴَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا ) ۔ اس امر میں اس کے لئے قدرت پر ور دگار کی ایک نشانی ہے جو عقل و خرد رکھتے ہیں (إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ) ۔ ”سکر“ کے اگر چہ لغت میں مختلف معانی ہیں ۔ یہاں سکرات ، مشروبات الکحل اور شراب کے معنی میں ہے اور یہی اسی کا مشہور معنی ہے ۔ واضح ہے اس آیت میں قرآن نے کھجور اور انگور سے شراب بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دی بلکہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ” سکراً“ کو ” رزقاً“ کے بالمقابل بیان کیا گیا ہے یہ دراصل شراب کی حرمت اور اس کے غیر مطلقب ہونے کی طرف ایک بلیغ اشارہ ہے لہٰذا اس بات کی ضرورت نہیں کہ ہم کہیں کہ یہ آیت حرمت شراب نازل ہونے سے پہلے کی ہے اور اس کے حلال ہونے کی طرف اشارہ ہے بلکہ اس کے بر عکس آیت اس کے حرام ہونے کی طرف اشارہ کرتی ہے اور شاید یہ تحریم شراب کے لئے پہلا الارم ہے ۔ در حقیقت ایک جملہ معترضہ کی صورت میں خدا چاہتا ہے کہ نعمات الہٰی سے سوء ِ استفادہ کی طرف بھی اشارہ کرے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:65-67
سوره نحل/ آیه 65 - 67
۶۵۔ وَاللهُ اٴَنزَلَ مِنْ السَّمَاءِ مَاءً فَاٴَحْیَا بِہِ الْاٴَرْضَ بَعْدَ مَوْتِھَا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ ۔ ۶۶۔ وَإِنَّ لَکُمْ فِی الْاٴَنْعَامِ لَعِبْرَةً نُسْقِیکُمْ مِمَّا فِی بُطُونِہِ مِنْ بَیْنِ فَرْثٍ وَدَمٍ لَبَنًا خَالِصًا سَائِغًا لِلشَّارِبِینَ ۔ ۶۷۔ وَمِنْ ثَمَرَاتِ النَّخِیلِ وَالْاٴَعْنَابِ تَتَّخِذُونَ مِنْہُ سَکَرًا وَرِزْقًا حَسَنًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لآَیَةً لِقَوْمٍ یَعْقِلُونَ۔ ترجمہ ۶۵۔ اللہ نے آسمان سے پانی نازل کیا اوراور جب زمین مردہ ہو چکی تھی اسے پھر سے حیات بخشی اس میں اس قوم کے لئے واضح نشانی ہے جو سننے والے کان رکھتی ہے ۔ ۶۶۔اور چوپایوں کے وجود میں تمہارے لئے عبرت( کے درس)ہیں ۔ ان کے شکم کے اندر سے ہم تمہارے پینے کے لئے ہضم شدہ غذا اور خون میں سے خالص اور پسند یدہ دودھ فراہم کرتے ہیں ۔ ۶۷۔ کھجور اور انگور کے درختوں کے میووں سے شراب(ناپاک) اور اچھا رزق حاصل کرتے ہو۔ اس میں عقل و دانائی سے کام لینے والی قوم کے لئے روشن نشانی ہے ۔