وَمَا أَرْسَلْنَا مِن قَبْلِكَ إِلَّا رِجَالًا نُّوحِي إِلَيْهِمْ فَاسْأَلُوا أَهْلَ الذِّكْرِ إِن كُنتُمْ لَا تَعْلَمُونَ
We did not send [any apostles] before you except as men to whom We revealed. Ask the People of the Reminder if you do not know.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:43
[Pooya/Ali Commentary 16:43] Dhikr refers to the Quran, and it is also one of the names of the Holy Prophet. See the commentary of Al Hijr: 9 and Talaq: 10 and 11. Ahl ul dhikr (the people of dhikr) are the Ahl ul Bayt. See the commentary of al Baqarah: ' and hadith al thaqalayn on page 6. Aqa Mahdi Puya says: Dhikr literally means to call back to memory, or in other words to have something in conscious mind. It has been used figuratively for a stimulus which brings an object into the focus of consciousness. To be conscious of Allah, the Quran, the other scriptures and the Holy Prophet has been described as dhikr. Some commentators hold that here dhikr refers to the previous scriptures and ahlul dhikr refers to the Jews and the Christians, but it is certainly a bad example of misinterpretation because even an ordinary teacher of Islamic ideology would not command a Muslim to refer to the Jewish and Christian scholars to remove his doubts, leave alone the all-wise Lord of the worlds. Dhikr means to be conscious of Allah and ahl refers to those who are always conscious of Allah as asserted in An Nur: 37. Also dhikr means the Quran or the Holy Prophet and ahl refers to the people identified with the Holy Prophet and the Quran, thoroughly purified by Allah (Ahzab: 33) and are always with the Quran as per hadith al thaqalayn.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:43-44
اہل ذکر کون ہیں ؟
ایک اہم نکتہ اہل ذکر کون ہیں ؟ اہلبیت علیہم السلام کے ذرائع سے مروی متعدد روایات میں ہے کہ اہل ذکر آئمہ اہلِ بیت ہیں ۔ ان میںسے ایک روایت امام علی بن موسی رضا علیہ السلام سے مروی ہے ۔ اس آیت کے بارے میں آپ سے پوچھا گیا تو فرمایا: نحم اھل الذکر و نحن المسئولون ہم ہے اہل ذکر اور ہم ہی سوال کیا جانا چاہئیے ۱ ایک اور روایت میں ہے کہ امام محمد باقر علیہ السلام نے اس آیت کی تفسیر کے بارے میں فرمایا: الذکر القرآن ، وآل الرسول اھل الذکر و ھم المسئولون ذکر قرآن ہے اور آلِ رسول اہل ِ ذکر ہیں اور انھیں سے سوال کیا جانا چاہئیے ۔ ۲ بعض روایات میں ہے کہ ذکر خود رسول اللہ ہیں اور ان کے اہل بیت اہل الذکر ہیں ۔ ۳ اس مضمون کی اور بھی کئی روایات ہیں ۔ اہل سنت کی تفاسیر اور کتب میں بھی اسی مضمون کی بہت سی روایات ہیں ان میں سے ایک روایت ابن ِ عباس سے مروی ہے جسے اہل سنت کی مشہوربارہ تفاسیر میں زیر بحث آیت کی تفسیر کے ضمن میں نقل کیا گیا ہے ۔ ابن عباس کہتے ہیں : ھو محمد و علی و فاطمہ و الحسن و الحسین ھم اھل الذکر و العقل و البیان محمد ، علی ، فاطمہ، حسن ، اور حسین ہی اہل ذکر ، اہل عقل اور اہل بیان ہیں ۔ 4 بارہ تفاسیر سے مندرجہ ذیل تفاسیر مراد ہیں : ۱۔ تفسیر ابو یوسف ۲۔ تفسیر ابن حجر ۳۔ تفسیر مقاتل بن سلیمان ۴۔ تفسیر وکیع بن جراح ۵۔ تفسیر یوسف بن موسیٰ ۶۔ تفسیر قتادہ ۷۔ تفسیر حرب الطائی ۸۔ تفسیر سدی ۹۔ تفسیر مجاہد ۱۰۔ تفسیر مقاتل بن حیان ۱۱۔ تفسیر ابو صالح ۱۲۔تفسیر محمد بن موسیٰ الشیرازی اسی آیت کی تفسیر میں جابر جعفی کی ایک حدیث ثعلبی کی کتاب میں مرقوم ہے ۔ وہ کہتا ہے :۔ لما نزلت ھٰذہ الاٰیة قال علی (علیه السلام) نحن اھل الذکر جس وقت یہ آیت نازل ہوئی ، حضرت علی (علیه السلام) نے فرمایا: ”اہم اہل ِ ذکر ہیں “۔(مذکورہ بالا مدر ک کی طرف رجوع کریں ) آیات قرآن کی تفسیر میں معین مصادیق پر مبنی روایات سے یہ ہمارا پہلا سابقہ نہیں ہے ایسا مصداق آیت کے وسیع مفہوم کو کبھی محدود نہیں کرتا۔ اسی طرح یہاں بھی جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں ذکر ہر قسم کی آگاہی ، یا د آوری اور اطلاع کے معنی میں ہے اور اہل ذکر کے مفہوم میں ہر سطح کے آگاہ اور باخبر افراد شامل ہیں لیکن قرآن مجید چونکہ یا د آوری ، علم اور آگہی کا زیادہ واضح نمونہ ہے لہٰذا اس پر ”ذکر“ کا اطلاق ہوا ہے ۔ اسی طرح رسول اللہ کی ذات بھی اس کا واضح مصداق ہے اسی طرح آئمہ معصومین کہ جوآنحضرت کے اہل ِ بیت اور آپ کے علم کے وارث ہیں وہ ” اہل الذکر “ کا واضح ترین مصداق ہیں ۔ اس کے سارے مسئلے کو قبول کرلیا جائے تو یہ آیت کے عمومی مفہوم کے منافی نہیں اور نہ ہی اس بات کے منافی ہے کہ اہل کتاب کے علماء کے بارے میں نازل ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ ہمارے علماء ِ اصول اور فقہاء نے اس سے اجتہاد او ر تقلید کرنا چاہئیے ۔ اس موقع پر ایک روایت کے حوالے سے ایک سوال ابھر تا ہے ۔ روایت عیون الاخبار میں امام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام سے مروی ہے روایت کے مطابق جو لوگ اس آیت کی تفسیر میں کہتے تھے کہ اس سے مراد یہ ہے کہ یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کرو اور ان پر آپ نے اعتراض کیا اور فرمایا: سبحان اللہ ! کیسے ممکن ہے کہ ہم علماء یہود و نصاریٰ کی طرف رجوع کریں کیونکہ اس طرح تو یقینا وہ ہمیں اپنے مذہب کی طرف دعوت دیں گے ۔ پھر فرمایا: اہل ذکر ہم ہیں ۔5 اس سوال کا جواب واضح ہے اور وہ یہ کہ امام نے یہ بات ان لوگوں سے کہی ہے جو آیت سے یہ مراد سمجھتے ہیں کہ ہر دور میں صرف علماء ِ اہل کتاب کی طرف رجوع کیا جائے حالانہ یہ بات ہر زمانے کے لئے نہیں ہے ۔ مثلاًامام علی بن موسیٰ رضا علیہ السلام کے زمانے میں لوگوں کی ہر گز یہ ذمہ داری نہ تھی کہ وہ حقائق جاننے کے لئے یہودی اور عیسائی علماء کے پاس جائیں ایسے زمانے میں علماء اسلام مرجع ہیں اور علماء اسلام کے سید و سردار آئمہ اہل بیت علیہم السلام ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں پیغمبر اکرم کے زمانے کے مشرکین کی یہ ذمہ داری تھی کہ وہ اس مسئلے سے آگاہی کے لئے کہ اللہ نبی نوعِ بشر میں سے تھے ، علماء اہل کتاب کی طرف رجوع کریں بلکہ چاہئیے کہ ہر مسئلہ اس مسئلے سے آگاہ افراد سے پو چھا جائے اور یہ ایک بدیہی بات ہے ۔ بہر حال زیر بحث آیت میں ایک بیادی اسلامی اصول بیان کیا گیا ہے یہ آیت مادی و روحانی تمام پہلووٴں پ رمحیط ہے اور تمام مسلمانوں کو تاکید کرتی ہے کہ جو چیز وہ نہیں جانتے اس کے بارے میں آگاہ افراد سے پوچھیں اور جن مسائل سے جو لوگ آگاہ نہیں ہیں وہ ان میں دخل اندازی نہ کریں ۔ اس طرح سے قرآن نے نہ صرف اسلامی دینی مسائل میں ” تخصص“ (۔specilaliza Tion)کی ضرورت ک وباقاعدہ قانونی طورپر تسلیم کیا ہے بلکہ تمام شعبوں، تمام مواقعاور تمام علاقوں میں اس کے لئے تاکید کی ہے اس بناء پر تمام مسلمانوں پر لازم ہے کہ ہر زمانے میں ہر شعبے اور ہر موضوع پر ان کے پاس آگاہ اور ماہر افراد موجود ہوں ۔ تاکہ نہ جاننے والے ان کی طرف رجوع کریں ۔ اس نکتے کا ذکر نا بھی ضروری ہے کہ ہمیں ایسے متخصصین اور ماہرین کی طرف رجوع کرنا چاہیئے جن کی صداقت ، بے غرضی اور دوستی ثابت ہو ۔ کیا ہم کبھی کسی ایسے ماہر ڈاکٹرکی طرف رجوع کریں گے خود جس کے کام سے ہم مطمئن نہ ہوں ۔ یہی وجہ ہے کہ تقلید اور مر جعیت کی بحث میں اجتہادیااعلمیت کے ساتھ عدالت کو بھی قرار دیا جاتا ہے یعنی مرجع تقلید اسلامی مسائل کا عالم و آگاہ ہو ، صاحبِ تقویٰ بھی ہو ۔ ۱۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔ ۲۔ ۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔ ۳۔۔تفسیر نور الثقلین جلد۳ ص ۵۵تا ۵۶۔ 4۔ احقاق الحق جلد ۳ ص۴۸۲۔ 5۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۳ ص ۵۷۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:43-44
نہیں جانتے تو پوچھ لو
نہیں جانتے تو پوچھ لو گذشتہ دو آیتیں حقیقی مہاجرین کے بارے میں تھیں البتہ زیر بحث آیات کے بارے میں دوبارہ اصول ِ دین سے متعلق گزشتہ مسائل کا ذکر ہے ان میں مشرکین کے ایک مشہور اعتراض کا جواب دیا گیا ہے ۔ وہ کہتے تھے کہ خدا نے تبلغ رسالت کے لئے کوئی فرشتہ کیوں نہیں بھیج دیا ( یا وہ کہتے تھے کہ پیغمبر کے پاس کوئی ایسی غیر معمولی قوت کیوں نہیں ہے جس کے ذریعے وہ ہمیں یہ کام ترک کرنے پر مجبور کردے کہ جو ہم انجام دیتے ہیں )ان کے جواب میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ہم نے تجھ سے پہلے بھی رسول بھیجے ہیں اور وہ بھی بس ایسے ہی مرد تھے کہ جن پر وحی نازل ہوتی تھی ( وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُوحِی إِلَیْھِمْ) ۔ جی ہاں یہ مرد نوع بشر میں سے تھے ان میں تمام تر انسانی جذبات و احساسات موجود تھے یہ لوگوں کی مشکلات اور مصائب کو سب سے زیادہ سمجھتے تھے ۔ ان کی ضروریا ت کو جانتے تھے جبکہ کوئی فرشتہ ان امور سے اچھی طرح آگاہ نہیں ہوسکتا۔ انسان کے اندر جو گذرتی ہے فرشتہ اسے نہیں سمجھ پاتا۔ مسلم ہے صاحبان وحی کی اس کے سواکوئی اور ذمہ داری نہ تھی کہ وہ ابلاغ ِ رسالت کریں ۔ ان کا کام تھا کہ وہ پیام وحی حاصل کریں۔ اسے انسانوں تک پہنچائیں اور معمول کے ذرائع کے ساتھ مقاصد وحی کے حصول کی جد و جہد کریں ۔ ان کا یہ کام نہ تھا کہ کسی غیر معمولی خدائی طاقت کے ذریعے تمام طبیعی قونین کو توڑتے ہوئے لوگوں کو قبولیت کی دعوت دیں اور انہیں انحرافات ترک کرنے پر مجبور کریں کیونکہ اگر وہ ایسا کرتے تو پھر کسی کا ایمان لانا کوئی افتخار کی بات نہ ہوتی اور نہ ہی ایسا ایمان ترقی اور کمال کا ذریعہ ہوتا ۔ اس حقیقت پر تاکید اور اس کی تائید کے لئے مزید فرمایا گیا ہے : اگر اس بات کا تمہیں علم نہیں تو جاوٴ با خبر لوگوں سے پوچھو (فَاسْاٴَلُوا اٴَھْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ) ۔ ”ذکر“ آگاہی اور اطلاع کے معنی میں ہے اور ” اھل الذکر“ ایک وسیع مفہوم ہے ۔ مختلف سطح پر ا سکے مفہوم میں تمام آگاہ او رباخبر لوگ شامل ہیں ۔ بہت سے مفسرین نے ”اھل الذکر “ سے اہل کتاب کے علماء مراد لیتے ہیں ۔ البتہ اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ ” اھل الذکر“ کا مفہوم اسی میں محدود سمجھ لی اجائے بلکہ در حقیقت اس کے کلی مفہوم کا ایک مصداق ہے کیونہ اس کے بارے میں سوال قاعدتاً اہل کتاب کے اور یہود و نصاریٰ کے علماء سے کیا جانا چاہئیے کہ گذشتہ انبیاء و مر سلین نوع بشر میں سے تھے اور مرد تھے کہ جو خدائی احکام کی تبلیغ اور اجراء کے لئے مامور ہوئے تھے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اہل کتاب ہر لحاظ سے مشر کین کے ہم آہنگ نہ تھے بلکہ اسلام کی مخالفت میں وہ ان سے ہم آہنگ تھے لہٰذا گذشتہ انبیاء کے حالات بیان کرنے کے لئے اہل کتاب کے علماء بہتر ذریعہ تھے ۔ مفردات میں راغب نے کہا ہے کہ ”ذکر“ کے دو معنی ہیں یہ لفظ کبھی ”حفظ“ کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کبھی ”یاد آوری“ کے معنی میں ۔ البتہ ممکن ہے یاد آوری دل ہی سے ہو( دل سے یاد کرنا در اصل باطنی ذکر شمار ہوتا ہے ) یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ قرآن کو ذکر کہا جاتا ہے یہ اس بناء پر ہے کہ قرآن حقائق کو واضح کرتا ہے ۔ اگلی آیت میں ہے : اگر تم انبیاء اور ان کی کتب کے واضح دلائل سے آگاہ نہیں ہوتو آگاہ اور باخبر لوگوں کی طرف رجوع کرو ( بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ ) ۔ ۱۔” بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُر“ترکیب کے لحاظ سے کس فعل سے متعلق ہے اس سلسلے میں مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں بعض نے اسے ”لاتعلمون “ سے متعلق سمجھا ہے (جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اور ظاہری مفہوم سے یہی بات مطابقت رکھتی ہے ) ۔ توجہ رہے کہ علم باء کے بغیر اور باء کے ساتھ متعدی ہوتا ہے ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے پہلے ”ارسلنا“ مقدر ہے اور اصل میں یوں تھا ”ارسلناھم بالبینات و الزبر“ بعض نے کہا ہے کہ اس کا متعلق ” و ما ارسلنا “ قبل کی آیت میں ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ یہ ” نوحی الیھم “ سے متعلق ہے ۔ واضح ہے کہ ان میں سے ہر ایک کے مطابق آیت کا ایک خاص مفہوم ہوگا لیکن مجموعی طور پر کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔ ”بینات“ ” بینة“ کی جمع ہے اس کا معنی ہے ”واضح دلائل “ ، ہو سکتا ہے یہاں یہ انبیاء کے معجزات اور ان کی حقانیت کے دیگر دلائل کی طرف اشارہ ہو ۔ ”زبر“ ” زبور“ کی جمع ہے ا س کا معنی ہے ” کتاب “۔ در حقیقت ”بینات“ کا مفہوم ہے اثبات کے دلائل اور ” زبر“ ان کتب کی طرف اشارہ ہے جن میں انبیاء کی تعلیمات جمع تھیں ۔ اس کے بعد قرآن روی سخن پیغمبر اکرم کی طرف کرتے ہوئے کہتا ہے :ہم نے یہ ذکر ( قرآن) تجھ پر نازل کیا تاکہ لوگوں کے لئے جو کچھ نازل ہوا ہے تو ان سے بیان کرے (وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ) ۔ تاکہ وہ ان آیات پر غور و فکر کریں اور ان کے حوالے سے جو ذمہ داریاں ان پر عائد ہوتی ہیں ان کی طرف متوجہ ہوں ( وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُونَ ) ۔ در حقیقت تیری دعوت اور رسالت کا پروگرام اصول طور پر کوئی نئی چیز نہیں ۔ گزشتہ رسولوں پر بھی ہم نے آسمانی کتابیں نازل کی ہیں تاکہ وہ لوگوں کو ان ذمہ داریوں سے آگاہ کریں کہ جو خد ا، مخلوق اور خود اپنی ذات کی طرف سے ان پر عائد ہوتی ہیں ہم نے تجھ پر قرآن نازل کیا ہے تاکہ تو اس کے مفاہیم اور تعلیمات کو بیان کرے اور انسانون کی فکر کو بیدار کرے تاکہ وہ مسئولیت اور ذمہ داری کے احساس کے ساتھ قدم اٹھائیں اور رشد و کمال کی طرف آگے بڑھیں ( نہ کہ جبری طریقے سے اور خدا کی خلافِ معمول جبری طاقت سے ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:43-44
سوره نحل/ آیه 43 - 44
۴۳۔ وَمَا اٴَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِکَ إِلاَّ رِجَالاً نُوحِی إِلَیْھِمْ فَاسْاٴَلُوا اٴَھْلَ الذِّکْرِ إِنْ کُنْتُمْ لاَتَعْلَمُونَ ۔ ۴۴۔ بِالْبَیِّنَاتِ وَالزُّبُرِ وَاٴَنزَلْنَا إِلَیْکَ الذِّکْرَ لِتُبَیِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ إِلَیْہِمْ وَلَعَلَّھُمْ یَتَفَکَّرُونَ ۔ ترجمہ ۴۳۔ ہم نے تجھ سے پہلے بھی ایسے مرد کہ جن پر وحی نازل کی، کے سواکسی کو نہیں بھیجا ، اگر تم نہیں جانتے تو باخبر لوگوں سے پوچھ لو ۔ ۴۴۔ ( اور وہ لوگ جو ) واضح دلائل اور ( گزشتہ انبیاء کی ) کتب سے (آگاہ ہیں )اور ہم نے اس ذکر ( قرآن) کو تجھ پر نازل کیا تاکہ لوگوں کی طرف جو کچھ ہم نے بھیجا ہے وہ ان سے بیان کرو شاید وہ غرو رفکر کریں۔