مَن كَفَرَ بِاللَّهِ مِن بَعْدِ إِيمَانِهِ إِلَّا مَنْ أُكْرِهَ وَقَلْبُهُ مُطْمَئِنٌّ بِالْإِيمَانِ وَلَكِن مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْهِمْ غَضَبٌ مِّنَ اللَّهِ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ
Excepting someone who is compelled [to recant his faith] while his heart is at rest in it, those who disbelieve in Allah after [affirming] their faith and open up their breasts to unfaith, Allah’s wrath shall be upon them and there is a great punishment for them.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 16:106
[Pooya/Ali Commentary 16:106] Aqa Mahdi Puya says: This verse clearly enjoins taqiyah-concealing belief in Allah under compulsion or duress but heart remaining firm in faith. Taqiyah is not hypocrisy. Once the infidels of Makka subjected Ammar Yasir to unspeakable tortures for his belief in Islam and forced him to utter a word construed as recantation, though his heart never waved and he came back to the Holy Prophet at once, who consoled him for his pain and confirmed his faith.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:106-111
چند اہم نکات
چند اہم نکات: ۱۔ تقیہ اور اس کا فلسفہ:- پیغمبر اسلام ﷺ کے تربیت یافتہ حقیقی مسلمان دشمنوں کے مقابلے میں حیران کن، تحمل اور قوتِ پرداشت کا مظاہرہ کرتے تھے مثلاً جیسا کہ ہم نے دیکھا عما رضی اللہ عنہ کے والد ایک جملہ بھی دشمن کی مرضی کا کہنے کو تیار نہ ہوئے ان کا دل ایمان باللہ اور عشقِ رسول ﷺ سے سرشار تھا اور انھوں نے اسی راہ میں اپنی جان نثار کر دی عمار زبان سے کچھ کہنے کے لیے تیار ہوگئے پھر وہ سرتاپا پریشانی اور ندامت میں غرق ہوگئے ------------------------------------------------------ ۱؎ ’’مرتد فطری‘‘ اسے کہتے ہیں کہ جو مسلمان باپ یا ماں سے پیدا ہوا اور اسلام قبول کرنے کے بعد اسلام سے پھر جائے لیکن ’’مرتد ملی‘‘ اس شخص کو کہتے ہیں کہ جس کے ماں باپ اس کے انعقاد نطفہ کے وقت مسلمان نہ ہوں لیکن بعد میں اس نے اسلام قبول کر لیا ہو اور پھر اس سے پھر جائے۔ ۲؎ مفسرین کا اس بارے میں اختلاف ہے کہ ’’یوم‘‘ کس فعل سے تعلق رکھتا ہے بعض اسے فعلِ مقدر سے متعلق سمجتھے ہیں اور کہتےہیں کہ تقدیر میں ’’ذکرھم یوم تأتی‘‘ تھا۔ بعض کہتے ہیں کہ گزشتہ آیت میں جو ’’غفور و رحیم‘‘ آیا ہے یہ ان کے فعل ’’غفران‘‘ اور ’’رحمت‘‘ سے تعلق رکھتا ہے (لیکن ہم نے سطور بالا میں پہلے احتمال کو اس کی عملی جامعیت کی وجہ سے ترجیح دی ہے)۔ ------------------------------------------------------ وہ اپنے آپ کو قصور وار سمجھتے تھے انھیں اس وقت تک قرار نہ آیا جب تک رسول اللہ ﷺ نے اطمینان نہ دلایا کہ ان کا عمل جان بچانے کے لیے ایک تدبیر کے طور پر شرعاً جائز ہے۔ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے کہ جس وقت وہ اسلام لائے اور وہ اسلام اور پیغمبر اسلام ﷺ کے دفاع کے لیے بڑی شجاعت سے اُٹھ کھڑے ہوئے تو مشرکین انھیں شدید اذیتیں دینے لگے یہاں تک کہ انھیں چلچلاتی دھوپ میں گھسیٹ کر لے جاتے اور بہت بڑا پتھر ان کے سینے پر رکھ دیتے اور ان سے مشرکانہ کلمات ادا کرنے کو کہتے مگر وہ ایسا نہ کرتے۔ مشرکین اتنا ستم ڈھاتے کہ ان کی سانس اکھڑ اکھڑ جاتی مگر وہ مسلسل ’’احد‘‘، ’’احد‘‘ (اللہ ایک ہی ہے، اللہ ایک ہی ہے) کہتے چلے جاتے اور اس کے بعد کہتے کہ بخدا ! اگر مجھے معلوم ہو کہ کوئی بات بھی اس سے بڑھ کر تمھیں ناگوار ہے تو میں وہی کہتا۔۱؎ حبیب بن زید انصاری رضی اللہ عنہ کے حالات میں ہے کہ جب مسیلمہ کذاب نے انھیں گرفتار کر لیا تو ان سے پوچھا۔ ’’کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد (ﷺ) اللہ کا رسول ہے؟ انھوں نے کہا: ہاں پھر اس نے پوچھا: کیا تو یہ گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ حبیب نے تمسخر سے کہا: مجھے تمھاری بات نہیں سنائی دے رہی۔ مسیلمہ اور اس کے پیروکاروں نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا مگر ان کے پائے استقامت میں کوئی لرزش نہ آئی اور وہ چٹان کی طرح ڈٹے رہے۔ ۳؎ ایسے ہلا دینے والے واقعات تاریخ ِ اسلام میں خصوصاً صدر اول کے مسلمانوں اور آئمہ اہلِ بیت علیہم السلام کے اصحاب و انصار میں بہت زیادہ ہیں۔ اسی بناء پر محققین نے کہا ہے کہ ایسے مواقع پر تقیہ اختیار نہ کرنا اور دشمن کے سامنے سر تسلیم خم نہ کرنا جائز اگرچہ اس میں انسان کی جان کیوں نہ چلی جائے کیونکہ ہدف پرچم اسلام کی سربلندی اور اعلائے کلمہ اسلام ہے خصوصاً پیغمبر اسلام ﷺ کی دعوت کے آغاز میں یہ امر خاص اہمیت رکھتا تھا۔ اس کے باوجود اس میں شک نہیں ہے کہ ایسے مواقع پر بھی تقیہ جائز ہے اور اس سے کم تر مواقع پر واجب ہے۔ تقیہ (خاص مواقع پر ہر جگہ نہیں) نا آگاہ افراد کے خیال کے برخلاف نہ تو کمزوری کی نشانی ہے نہ جمعیت دشمن سے خوف کی اور نہ ان کے دباؤ کے سامنے جھک جانے کی۔ بلکہ تقیہ ایک سوچی سمجھی تدبیر اور تکنیک ہے انسانی قوتوں کی حفاظت کی اور کم اہم مواقع پر اہلِ ایمان کی جان ضائع ہونے سے بچانے کی۔ ----------------------------------------------------- ۱؎ تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۳۸۴ ۲؎ تفسیر فی ظلال جلد ۵ ص ۳۸۴ ----------------------------------------------------- ساری دنیا میں معمول ہے کہ حریت پسند اور مجاہد اقلیتیں خود سر اور ظالم اکثریتوں کا تختہ الٹنے کے لیے مخفی طریقے اختیار کرتی ہیں یہ لوگ زیر زمین افراد تیار کرتے ہیں جو خفیہ طورپر کام کرتے ہیں اور بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ دوسروں کے بھیس میں کام کرتے ہیں یہاں تک کہ گرفتار ہو جائیں تو ان کی کوشش ہوتی ہے کہ ان کا اصلی کام مخفی رہے تا کہ ان کے گروہ کی قوتیں بیکار ضائع نہ ہوجائیں اور وہ جدوجہد جاری رکھ سکیں۔ کوئی عقل اس بات کی اجازت نہیں دیتی کہ ایسے حالات میں مجاہدین کہ جو تھوڑی سی تعداد میں ہیں اپنے آپ کو دشمن پر ظاہر کر کے تباہ ہو جائیں۔ اسی بناء پر تقیہ ایک اسلامی حکمتِ عملی سے پہلے ان تمام لوگوں کے لیے ایک عقلی اور منطقی طریقہ ہے کہ جو کسی طاقتور دشمن کا مقابلہ کر رہے تھے یا کر رہے ہیں۔ اسلامی روایات میں بھی تقیہ کو ایک دفاعی ہتھیار اور ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے۔ چناچہ امام صادق علیہ السلام فرماتے ہیں:- التقیۃ ترس المؤمن والتقیۃ حرز المؤمن تقیہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مومن کی ڈھال اور اس کا دفاعی ہتھیار ہے۔ ۱؎ (توجہ رہے کہ تقیہ کو یہاں سپر اور ڈھال سے تشبیہ دی گئی ہے جبکہ ڈھال وہ ہتھیار ہے کہ جسے صرف میدانِ جنگ میں دشمن سے مقابلہ کرتے ہوئے انقلابی قوتوں کی حفاظت کے لیے استعمال کیا جاتا ہے)۔ یہ جو ہم دیکھتے ہیں کہ احادیث میں تقیہ کو دین کی نشانی، ایمان کی علامت اور دین کے دس حصوں میں سے تو حصے شمار کیا گیا ہے اس کی وجہ یہی ہے۔ البتہ تقیہ ایک وسیع موضوع ہے یہاں اس کی تفصیلات کی گنجائش نہیں ہے ہمارا مقصد یہ تھا کہ اس بات کی وضاحت ہو جائے کہ جو لوگ تقیہ کی مذمت کرتے ہیں وہ درحقیقت اس کی شرائط اور فلسفے سے آگاہی نہیں رکھتے۔ اس میں شک نہیں کہ بعض مواقع ایسے بھی ہیں جہاں تقیہ اختیار کرنا حرام ہے مثلاً جہاں تقیہ اسلامی قوتوں کی حفاظت کی بجائے مکتب دین کی نابودی یا اس کے لیے خطرے کا باعث ہو یا اس سے کسی بڑے فساد برائی پیدا ہونے کا اندیشہ ہو ایسے مواقع پر تقیہ کا بند توڑ دینا چاہیے اور اس سے جا نتائج برآمد ہوں انھیں قبول کر لینا چاہیے۔۲؎ ۲۔ فطری و ملی مرتد اور فریب خوردہ لوگ: جن لوگوں نے اسلام قبول نہ کیا ہو ان کے بارے میں اسلام سخت گیری نہیں کرتا (ہماری مراد اہلِ کتاب سے ہے)۔ اسلام انھیں پیہم دعوت اور منطقی تبلیغ کے ذریعے اپنی طرف بلاتا ہے اگر وہ اسے قبول نہ کریں اور ذمیوں کی شرائط پر مسلمانوں کے ساتھ مل جل کر رہنا چاہیں تو اسلام نہ صرف انھیں ----------------------------------------------------- ۱؎ وسائل الشیعہ جلد ۱۱ حدیث ۶ باب ۲۶، امر با المعروف کے ابواب میں سے۔ ۲؎ تقیہ کے بارے میں مکمل وضاحت اس کے احکام، فلسفلہ اور مختلف مدارک کے لیے ہماری کتاب ’’القواعد الفقہ‘‘ کی تیسری جلد کی طرف رجوع فرمائیں۔ ----------------------------------------------------- امان دیتا ہے بلکہ ان کے مال وجان اور جائز مفادات کی حفاظت اپنے ذمے لیتا ہے۔ لیکن جو لوگ اسلام قبول کر لیں اور پھر اس سے پھر جائیں اسلام کا رویہ ان کے بارے میں نہایت سخت ہے کیونکہ یہ عمل اسلامی معاشرے کو متزلزل کرنے کا سبب بنتا ہے یہ عمل حکومت اسلامی اور اس کے طریقے کے خلاف ایک قسم کا قیام شمار ہوتا ہے اور اکثر اوقات یہ عمل بد نیتی کی دلیل ہوتا ہے اور سبب بنتا ہے کہ اسلامی معاشرے کے راز دشمنوں کے ہاتھ جا لگیں۔ بہر حال مرتد فطری وہ ہے کہ جس کا حمل ٹھہرتے وقت اس کے ماں باپ میں سے کوئی مسلمان تھا یا آسان لفظوں میں جو مسلمان زادہ ہے اور پھر وہ اسلام سے پھر جائے اور اسلامی عدالت میں یہ امر ثابت ہو جائے تو اسلام اس کے خون کو مباح سمجھتا ہے اس کے اموال اس کے وارثوں میں تقسیم ہونے چاہییں۔ اس کی بیوی کے لیے حکم ہے کہ وہ اس سے الگ ہو جائے اور ظاہراً اس کی توبہ قابلِ قبول نہیں ہے۔ یعنی یہ تینوں احکام ایسے شخص پر ہر حالت میں نافذ ہوں گے لیکن اگر وہ واقعی پشیمان ہوں تو بارگاہ ِ الٰہی میں اس کی توبہ قبول ہوگی (البتہ اگر عورت اس جرم کا ارتکاب کرے تو اس کی توبہ مطلقاً قبول کی جائے گی)۔ اسلام سے پھرنے والا اگر مسلمان زادہ نہ ہو تو اسے توبہ کا موقع دیا جائے گا اب اگر وہ توبہ کرلے وہ قابلِ قبول ہوگی اور اس کے لیے تمام سزائیں ختم ہو جائیں گی۔ جو لوگ اصل مفہوم سے آگاہ نہیں ہیں ہو سکتا ہے وہ مرتد فطری کے بارے میں اس سیاسی حکم کو سختی، عقیدے کا ٹھونسنا اور آزادی فکر سلب کرنا قرار دیں لیکن انھیں چاہیے کہ وہ اس حقیقت کی طرف غور کریں کہ یہ احکام اس شخص کے بارے میں نہیں ہیں جو باطنی طور پر یہ عقیدہ رکھتا ہے اس اس کا اظہار نہیں کرتا۔ یہ احکام تو صرف اس شخص کے بارے میں ہیں جو اظہار کرے اور پراپیگینڈا کرے۔ یعنی دراصل وہ موجود حکومت کے خلاف علمِ بغاوت بلند کرتا ہے اس امر پر غور سے واضح ہو جائےگا کہ یہ سختی بلاوجہ نہیں ہے یہ مسئلہ آزادی فکرونظر کے بھی منافی نہیں ہے اور جیسا کہ ہم نے کہا بہت سے مشرقی اور مغربی ممالک میں اس سے ملتے جلتے قوانین موجود ہیں۔ اس سلسلے میں اسلام کی نظر اس نکتے پر بھی ہے کہ اسلام کو منطق اور دلیل کے ساتھ قبول کیا ہو۔ خاص طور پر جو شخص مسلمان باپ یا ماں سے پیدا ہوا ہو اور اس نے اسلامی ماحول میں پرورش پائی ہو اس کے لیے بہت بعید ہے کہ اس نے مفہوفِ اسلام کو نہ پہچانا ہو۔ لہذا ایسے شخص کا پھر جانا اشتباہ اور ادراک حقیقت نہ کرنے کی نسبت سازش اور خیانت سے زیادہ مشابہت رکھتا ہے اور ایسا شخص ایسی ہی سزا کا مستحق ہے۔ ضمناً یاد رکھیں کہ احکام ایک یا دو افراد کے ہرگز تابع نہیں ہوتے اس کے لیے مجموعی اور کلی صورتِ حال کو نظر رکھنا چاہیے۔۱؎ ----------------------------------------------------- ۱؎ ’’من کفر با للہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔‘‘ اس جملے کی ترکیب کے بارے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے (باقی حاشیہ اگلے صفحہ پر) ----------------------------------------------------- (باقی حاشیہ پچھلے صفحہ کا) بعض اسے اس سے پہلے جملے کی تشریح و توضیح سمجھتے ہیں۔ بزبان اصطلاح یہ ’’الذین لا یؤمنون باٰیات اللہ‘‘ کا بدل ہے۔ بعض اسے محذوف الخبر مبتداء خیال کرتے ہیں ان کا خیال ہے کہ اس کی تقدیر اس طرح تھی:- من کفر با للہ من بعد ایمانہ فعلیھم غضب من اللہ ولھم عذاب عظیم اور حقیقت میں یہ جزائے شرط محذوف ہے کیونکہ بعد والا جملہ اس پر دلالت کرتا ہے۔ اس کے بارے میں چوتھا احتمال بھی ہے کہ جو سب سے بہتر معلوم ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اس مبتداء کی خبر وہی ہے کہ جو خود آیت میں آئی ہے اور محذوف نہیں ہے اور ’’لکن من شرح بلکفر صدراً‘‘ مبتداء کی نئے سرے سے توضیح ہے کیونکہ جملہ استثنائیہ نے مبتداء اور خبر کے درمیان فاصلہ ڈال دیا ہے۔ ایسی تعبیرات دوسری زبانوں کے ادب میں بھی نظر آتی ہیں مثلاً فارسی زبان میں ہم کہیں گے۔ ’’جو شخص ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے البتہ ان افراد کے استثناء کے ساتھ کہ جو دباؤ کی وجہ سے ایسا کریں اور ان کا دل ایمان سے معمور ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں؛ ایسے لوگ کہ جو اسلام کے بعد کافر ہوں ان پر اللہ کا غضب ہوگا‘‘۔ (غور کیجیے گا) ----------------------------- -----------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:106-111
شانِ نزول
شانِ نزول: بعض مفسرین نے پہلی آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں نقل کیا ہے کہ آیت مسلمانوں کے ایک خاص گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہے وہ مشرکین کے چنگل میں گرفتار ہو گئے تھے کفار نے انھیں مجبور کیا کہ اسلام کے خلاف کفر و شرک کا اظہار کریں۔ یہ افراد عمار، ان کے والد یاسر، ان کی والدہ سمیہ، صہیب، بلال اور خباب تھے۔ عمار کے ماں باپ نے اس واقعے میں بڑی استقامت دکھائی اور ڈٹے رہے۔ انھیں قتل کر دیا گیا۔ عمار نوجوان تھے مشرکین جو چاہتے تھے انھوں نے کہہ دیا۔ یہ خبر مسلمانوں تک پہنچی تو بعض نے غائبانہ طور پر عمار کی مذمت کی اور کہا کہ عمار اسلام سے نکل گیا ہے اور کافر ہوگیا ہے۔ پیغمبر اکرم ﷺ نے فرمایا: ان عمارا فلاء ایماناً من قرنہ الی قدمہ و اختلط الایمان بلحمہ و دمہ۔ ایسا نہیں ہے (میں عمار کو خوب جانتا ہوں) عمار سرتاپا ایمان سے معمور ہے ایمان اس کے گوشت اور خون میں ملا ہوا ہے (وہ ہرگز ایمان کو ترک نہیں کرے گا اور مشرکین سے نہیں ملے گا)۔ تھوڑی دیر گزری تھی کہ عمار رسولِ خدا ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے ان کی آنکھوں سے آنسو رواں تھے رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: کیا بات ہے؟ انھوں نے عرض کی بہت بُرا ہوا۔ انھوں نے اس وقت تک میرا پیچھا نہیں چھوڑا جب تک میں نے آپ کے بارے میں جسارت نہیں کی اور ان کے بتوں کے بارے میں کلمہ خیر نہیں کہا: رسول اللہ اپنے مبارک ہاتھوں سے عمار کی آنکھوں سے آنسو پونچھتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے: اگر دوبارہ تم ان کے ہاتھوں میں آجاو تو جو کچھ وہ کہیں کہہ دو (اور اپنی جان کو مشکل سے بچاو) اس وقت یہ آیت نازل ہوئی۔ مَنْ كَفَرَ بِاللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ اس آیت نے مسائل کو واضح کر دیا۔۱؎ ----------------------------------- ۱؎ تفسیر مجمع البیان۔ -----------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:106-111
اسلام سے پھر جانے والے ۔۔۔۔۔۔۔ مرتدین
تفسیر: (اسلام سے پھر جانے والے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مرتدین): گزشتہ آیات مشرکین اور کفار کے طرزِ عمل کے بارے میں گفتگو کر رہی تھیں۔ ان آیات میں بھی وہی سلسلہٓ کلام جاری ہے ان میں کفار کے ایک اور گروہ یعنی مرتدین اور اسلام سے پھر جانے والوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ پہلی آیت میں فرمایا گیا ہے: جو لوگ ایمان لانے کے بعد کافر ہوجائیں سوائے ان کے جو دباو میں آکر اظہار کفر کریں، جبکہ ان کا دل ایمان پر ہو۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ مگر جنھوں نے اپنا سینہ پھر سے کفر کے لیے کھول دیا ہے ان پر خدا کا غضب ہے اور عذابِ عظیم ان کے انتظار میں ہے (مَنْ كَفَرَ بِاللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٝ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّـٰهِۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ) درحقیقت یہاں دوگروہوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔ ایک وہ کہ جو دشمنوں کے چنگل میں گرفتار ہو جاتے ہیں کہ جو منطق کی زبان نہیں جانتے۔ ان ظلم اور دباو کی وجہ سے وہ اسلام سے بیزاری اور کفر سے وفاداری کا اظہار کر دیتے ہیں حالانکہ وہ یہ سب کچھ زبان سے کہتے ہیں اور ان کے دل ایمان سے مالامال ہوتے ہیں یہ لوگ یقیناً عفو و درگذر کے قابل ہیں بلکہ اصلاً ان سے کوئی گناہ ہی سرزد نہیں ہوا یہ ہی وہ تقیہ ہے کہ جس کی اجازت دی گئی ہے جس کا مقصد جان کی حفاظت ہے تا کہ زیادہ طاقت جمع کر کے راہ ِ خدا میں زیادہ خدمت کی جا سکے۔ اسی تقیہ کو اسلام میں جائز قرار دیا گیا ہے۔ دوسرے وہ کہ جو سچ مچ اپنے دل کے دریچے کفر اور بے ایمانی کے لیے کھول دیتے ہیں اور اپنا عقیدہ بلکل بدل لیتے ہیں ایسے لوگ غضب ِ الٰہی اور اس کے عذابِ عظیم میں گرفتار ہوں گے۔ ہو سکتا ہے یہاں ’’غضب‘‘ اس جہان میں رحمتِ الٰہی اور اس کی ہدایت سے محرومی کی طرف اشارہ ہو، اور ’’عذابِ عظیم‘‘ دوسرے جہان کی سزا اور عذاب کی طرف اشارہ ہو۔ بہر حال مرتدین کے بارے میں آیت میں جو تعبیر آئی ہے وہ بہت سخت اور ہلا دینے والی ہے۔ اگلی آیت میں ان کے مرتد ہونے کی وجہ بیان کی گئی ہے یہ اس لیے ہے کہ انھوں نے دنیاوی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے لہذا انھوں نے پھر سے کفر کی راہ اختیار کر لی ہے (ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ)۔ اور خدا (کفر و انکار پر اصرار کرنے والی) کافر قوم کو ہدایت نہیں کرتا (وَاَنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ)۔ مختصر یہ کہ جب وہ ایمان لاتے تھے تو وقتی طور پر ان کے کچھ مادی مفادات خطرے میں پڑگئے تھے اور چونکہ وہ دنیا سے لگاو رکھتے تھے لہذا اپنے ایمان پر پشیمان ہوئے اور پھر کفر کی طرف لوٹ گئے۔ اگلی آیت میں ان کی عدمِ ہدایت کی دلیل بیان کی گئی ہے۔ ’’وہ ایسے لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں ، کانوں، اور آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے‘‘۔ اس طرح سے کہ وہ حق کو دیکھنے، سننے اور سمجھنے سے محروم ہیں۔ (اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ طَبَعَ اللّـٰهُ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ وَسَـمْعِهِـمْ وَاَبْصَارِهِـمْ) ہم پہلے بھی کہہ چکے ہیں غلط اعمال اور طرح طرح کے گناہ انسان کی حسِ ادراک اور نگاہِ معرفت پر بُرے اثرات مرتب کرتے ہیں اور ان کے باعث انسان کی سلیم فکری رفتہ رفتہ ختم ہو جاتی ہے اور انسان اس راہ پر جس قدر آگے بڑھتا ہے اس کے دل، کان اور آنکھ پر غفلت کے پردے دبیز تر ہوتے چلے جاتے ہیں آخر کار اس کی حالت یہ ہو جاتی ہے کہ وہ آنکھ رکھتے ہوئے دیکھ نہیں پاتا، کان رکھتے ہوئے سن نہیں پاتا اور اس کی روح کا دریچہ حقائق کے لیے بند ہو جاتا ہے۔ جس ادراک اور قوت تمیز اس سے لے لی جاتی ہے حالانکہ یہ اللہ کی عظیم ترین نعمتیں ہیں۔ ’’طبع‘‘ یہاں پر ’’مہر لگانے‘‘ کے معنی میں آیا ہے یہ اس طرف اشارہ ہے کہ بعض اوقات کسی صندوق کو مضبوطی سے بند کر کے اس پر خاص انداز سے مہر لگا دیتے ہیں مقصد یہ ہوتا ہے کہ کوئی اس سے سامان کو نہ چھیڑے اور اگر کوئی اسے کھولے تو فوراً معلوم ہو جائے۔ اس لحاظ سے یہ تعبیر مطلقاً نفودنا پذیر کے لیے کنایہ ہے۔ اگلی آیت میں ان کے کام کا نتیجہ بیان کیا گیا ہے کہ نا چار اور یقیناً آخرت میں وہ خسارے میں ہیں (لَا جَرَمَ اَنَّـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ) اس سے بڑھ کر خسارا کیا ہوگا کہ انسان ہدایت و سعادتِ جاوداں کے تمام ضروری وسائل اپنی ہوا و ہوس کی وجہ سے گنوا بیٹھے۔ پہلے دو گروہ بیان کیے گئے ہیں۔ ایک وہ کہ جو دشمن کے ظلم اور دباؤ کی وجہ سے تقیہ کے طور پر کفر آمیز باتیں کہہ دے جبکہ اس کا دل ایمان سے معمور ہو۔ اور دوسرا وہ کہ جو آزادی اور رغبت کے ساتھ کفر کی طرف پلٹ جائے۔ ان کے ساتھ ساتھ ایک تیسرا گروہ بھی ہے اور وہ ہے فریب خوردہ لوگوں کا گروہ۔ لہذا اگلی آیت میں ان کی کیفیت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: تیرا رب ان لوگوں کے بارے میں کہ جو دھوکا کھا کر ایمان سے پلٹ گئے ہیں لیکن بعد ازاں انھوں نے توبہ کر لی اور ہجرت، جہاد اور صبر و استقامت کے ذریعے اپنی توبہ کی سچائی کو ثابت کیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ جی ہاں! ان کے بارے میں تیرا رب غفور و رحیم ہے (ثُـمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُـوْا ثُـمَّ جَاهَدُوْا وَصَبَـرُوْاۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ)۔۱؎ ----------------------------------------------------- ۱؎ ’بعد ھا‘‘ کی ضمیر بہت سے مفسرین کے بقول لفظ ’’فتنہ‘‘ کی طرف لوٹتی ہے۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ ہجرت، جہاد اور صبر کی طرف لوٹتی ہے جن کا ذکر اس سے پہلے کی آیت میں آیا ہے۔ ----------------------------------------------------- یہ آیت مرتد کی توبہ قبول ہونے کے لیے واضح دلیل ہے لیکن جن افراد کے بارے میں یہ آیت بات کر ہی ہے وہ پہلے مشرک تھے اور بعد میں مسلمان ہوئے تھے لہذا وہ ’’مرتد ملی‘‘ شمار ہوںگے نہ کہ ’’مرتد فطری‘‘۔۱؎ زیر بحث آخری آیت میں ایک عمومی تنبیہ کے طور پر اور بیداری کے لیے فرمایا گیاہے: اس دن کا سوچو جب ہر شخص اپنی فکر میں غلطاں ہوگا اور اپنے ہی دفاع کے در پے ہوگا۔ تا کہ اپنے تئیں اس درد ناک عذاب اور سزا سے بچا سکے (َوْمَ تَاْتِىْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا) بعض اوقات گزرگار عذاب سے بچنے کے لیے اپنے غلط اعمال کا سرے سے انکارہی کر دیتے ہیں اور کہتے ہیں:- واللہ ربنا ماکنا مشرکین اس اللہ کی قسم جو ہمارا پروردگار ہے ہم مشرک نہ تھے (انعام۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۲۳) جب وہ دیکھیں گے کہ اس مکروفریب اور دروغ سے کام نہیں بنتا تو کوشش کریں گے کہ اپنے گناہ اپنے گمراہ رہنماؤں کی گردن پر ڈال دیں۔ وہ کہیں گے: ربنا ھؤلاء اضلونا فاٰتھم عذاباً ضعقاً من النار پروردگار! یہ تھے جنھوں نے ہمیں گمراہ کیا ان کا عذاب دگنا کر دے اور ہمارے عذاب کا حصہ انھیں دےدے۔ (اعراف۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۳۸) لیکن اس طرح سے ہاتھ پاؤں مارنا فضول ہے ’’اور وہاں ہر شخص کا تنیجہٓ اعمال بے کم و کاست اسی کو دیا جائے گا (وَتُـوَفّـٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ) اور کسی شخص پر ذرہ بھر ظلم نہیں ہوگا (وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ)۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 16:106-111
سوره نحل/ آیه 106 تا 111
106) مَنْ كَفَرَ بِاللّـٰهِ مِنْ بَعْدِ اِيْمَانِهٓ ٖ اِلَّا مَنْ اُكْرِهَ وَقَلْبُهٝ مُطْمَئِنٌّ بِالْاِيْمَانِ وَلٰكِنْ مَّن شَرَحَ بِالْكُفْرِ صَدْرًا فَعَلَيْـهِـمْ غَضَبٌ مِّنَ اللّـٰهِۖ وَلَـهُـمْ عَذَابٌ عَظِيْـمٌ 107) ذٰلِكَ بِاَنَّـهُـمُ اسْتَحَبُّوا الْحَيَاةَ الـدُّنْيَا عَلَى الْاٰخِرَةِ وَاَنَّ اللّـٰهَ لَا يَـهْدِى الْقَوْمَ الْكَافِـرِيْنَ 108) اُولٰٓئِكَ الَّـذِيْنَ طَبَعَ اللّـٰهُ عَلٰى قُلُوْبِـهِـمْ وَسَـمْعِهِـمْ وَاَبْصَارِهِـمْ ۖ وَاُولٰٓئِكَ هُـمُ الْغَافِلُوْنَ 109) لَا جَرَمَ اَنَّـهُـمْ فِى الْاٰخِرَةِ هُـمُ الْخَاسِرُوْنَ 110) ثُـمَّ اِنَّ رَبَّكَ لِلَّـذِيْنَ هَاجَرُوْا مِنْ بَعْدِ مَا فُتِنُـوْا ثُـمَّ جَاهَدُوْا وَصَبَـرُوْاۙ اِنَّ رَبَّكَ مِنْ بَعْدِهَا لَغَفُوْرٌ رَّحِيْـمٌ 111) يَوْمَ تَاْتِىْ كُلُّ نَفْسٍ تُجَادِلُ عَنْ نَّفْسِهَا وَتُـوَفّـٰى كُلُّ نَفْسٍ مَّا عَمِلَتْ وَهُـمْ لَا يُظْلَمُوْنَ ترجمہ: 106) جو ایمان لانے کے بعد کافر ہو جائے مگر یہ کہ وہ مجبور کیا گیا ہو اور اس کا دل ایمان کے ساتھ مطمئن ہو مگر جس نے آزادی سے کفر قبول کر لیا ہو عاصیوں پر اللہ کا غضب ہے اور عذاب ِ عظیم ان کا انتظار میں ہے۔ 107) یہ اس بناء پر ہے کہ انھوں نے (پست) دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دی ہے اور اللہ بے ایمان (اور ہٹ دھرم) افراد کو ہدایت نہیں کرتا۔ 108) وہ ایسے لوگ ہیں کہ (ان کے گناہوں کی کثرت کے باعث) اللہ نے ان کے دلوں، کانوں اور آنکھوں پر مُہر لگا دی ہے (اس لیے وہ کچھ نہیں سمجھ سکتے) اور وہ واقعی غافل ہیں۔ 109) اور یقیناً آخرت میں وہ خسارے میں ہیں۔ 110) لیکن تیرا رب ان لوگوں کے لیے جنھوں نے دھوکا کھانے کے بعد (ایمان کی طرف پلٹ کر) ہجرت کی پھر راہِ خدا میں جہاد کیا اور استقامت دکھائی۔ یہ کام انجام پانے کے بعد تیرا ربِ غفور و رحیم ہے (اور اپنی رحمت ان کے شاملِ حال کرے گا)۔ ۱۱۱) اس دن کا سوچو جب ہر شخص (اپنی فکر میں پڑا ہوگا اور) اپنے دفاع کے لیے کھڑا ہوگا اور ہر شخص کا نتیجہٓ اعمال بے کم و کاست اسے دیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں ہوگا۔