وَإِن كَانَ أَصْحَابُ الْأَيْكَةِ لَظَالِمِينَ
Indeed the inhabitants of Aykah were [also] wrongdoers.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 15:78
[Pooya/Ali Commentary 15:78] Refer to the commentary of Araf: 85 to 93 for the people of Madian and prophet Shu-ayb. Aykah means thicket, forest. The dwellers of the aykah were the people of prophet Shu-ayb.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:78-84
سوره حجر / آیه 78 - 84
۷۸ وَإِنْ کَانَ اٴَصْحَابُ الْاٴَیْکَةِ لَظَالِمِینَ ۔ ۷۹۔ فَانْتَقَمْنَا مِنْھمْ وَإِنَّھمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ ۔ ۸۰۔ وَلَقَدْ کَذَّبَ اٴَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِینَ ۔ ۸۱۔ وَآتَیْنَاہُمْ آیَاتِنَا فَکَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ ۔ ۸۲) ۔وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ ۔ ۸۳۔ فَاٴَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِینَ ۔ ترجمہ ۷۸۔اصحاب ایکہ (سرسبز مین والے شعیب کی قوم)یقینا ستمگر قوم تھی ۔ ۷۹۔ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان دونوں قوم (ثمود اور اصحاب ایکہ) کے تباہ شدہ شہر سر را ہ آشکار ہیں ۔ ۸۰۔اصحاب الحجر(قوم ثمود)نے مرسلین کی تکذیب کی ۔ ۸۱۔ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انھوں نے اس سے روگردانی کی ۔ ۸۲۔ وہ پہاڑوں کے اندر اپنے امن و امان والے گھر تراشتے تھے ۔ ۸۳۔لیکن آخر کا(ہلاکت آفرین )چنگھاڑ نے صبح کے وقت انھیں آگھیرا ۔ ۸۴۔اور جو کچھ وہ حاصل کرچکے تھے عذاب الہٰی سے نجات کے لئے ان کے کام نہ آیا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:78-84
دو ظالم قوموں کا انجام
ان آیات میں قرآن دو گذشتہ اقوام کی سر گذشت کی طرف اشارہ کرتا ہے ایک کو” اصحاب الایکہ “ کہ اگیا ہے اور دوسری” اصحاب الحجر“ ان میں گذشتہ آیات قوم لوط کے بارے میں جو عبرت انگیز مباحث آئی ہیں انکی تکمیل کی گئی ہے پہلےارشاد ہوتا ہے :یقینا اصحاب ایکہ ظالم اور ستمگر لوگ تھے( وَإِنْ کَانَ اٴَصْحَابُ الْاٴَیْکَةِ لَظَالِمِینَ ) ۔۱ اور ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کی ستم گریوں اور سرکشیوں پر انھیں عذاب دیا ( فَانْتَقَمْنَا مِنْھمْ) ۔ ان لوگوں کا علاقہ اور قوم لوط کہ جس کی داستان گزرچکی ہے ، کی سر زمین تمہارے راستے میں واضح طورپر موجود ہے (وَإِنَّھمَا لَبِإِمَامٍ مُبِینٍ ) ۔ پس آنکھیں کھولو ان کا انجام دیکھو اور ان سے عبرت حاصل کرو ۔ ۱۔لفظ ”ان “ اس آیت میں شرطیہ نہیں ہے بلکہ ”مثقلہ “سے ”مخففہ“ ہے اور تقدیر میں اس طرح ہے (انہ کان اصحاب الایکة لظالمین )
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:78-84
اصحاب ایکہ کون ہیں ؟
اصحاب ایکہ کون ہیں ؟ بہت سے مفسرین اور ارباب لغت کہتے ہیں کہ ” ایکہ “ کا معنی ہے باہم جڑے ہوئے درخت یا جنگل اور ”اصحابالایکہ“ وہی قوم شعیب ہے جو حجاز و شام کے درمیان سر سبز و شاداب زمین پر آباد تھی ۔ ان کی زندگی بہت خوشحال تھی ان کے پاس فراوان دولت تھی اسی لئے انھیں غفلت و غرور نے گھیر لیا ، خاص طور پر و ہ کم فروشی اور فتنہ و فساد میں مبتلا ہو گئے ، حضرت شعیب علیہ السلام جیسے عظیم پیغمبر نے انھیں متنبہ کیا اور توحید و راہ حق کی دعوت دی لیکن جیسا کہ ہم نے سورہ ہود کی آیات میں دیکھا ہے انھوں نے حق کے سامنے سر تسلیم خم نہ کیا اور آخر کار دردناک عذاب کے ذریعہ نیست و نابود ہو گئے کئی روز تک وہ نہایت سخت گرمی کا شکار رہے ، آخری روزبادلوں کے جھنڈ کے جھنڈ آسمان پر چھا گئے اور انھوں نے بادل کے سائے میں پناہ لی لیکن ایک زبر دست بجلی زمین پر ٹوٹ پڑی اور ظالموں کو نیست و نابود کرگئی ۔ شاید قرآن نے ”اصحاب الایکہ “ ( درختوں سے بھری ہوئی زمین والے ) اس لئے کہا ہے کہ وہ چاہتا ہے کہ یہ سب نعمتیں ہم نے انھیں بخشی تھیں ۔ اس کے باوجود انھوں نے شکران ِ نعمت کے بجائے کفران ِ نعمت کیا اور ظلم و ستم کی بنیادرکھی اور صاعقہ نے انھیں اور ان کے درختوں کو ختم کردیا ۔ ان کے حالات کی مزید تفصیل سورہ ٴ شعراء کی آیہ ۱۷۶تا ۱۹۰ کے ذیل میں حضرت شعیب (علیہ السلام) کے حوالے سے آئے گی ۔ ضمناً توجہ رہے کہ ہوسکتا ہے ” فانتقمنامنھم “ ( ہم نے انھیں سزا دی ) قوم لوط اور ” اصحاب الایکہ“ دونوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس جملے کے بعد فوراً یہ عبارت آئی ہے ۔ ”و انھما لبامام مبین “ ان دونوں کا علاوہ تمہارے سامنے آشکار ہے ۔ ”و انھما لبامام مبین “کی یہی تفسیر مشہور ہے کہ یہ شہر لوط اور اصحاب الایکہ کے شہر کی طرف اشارہ ہے ”امام“”راستہ“ اور” جادہ“ کے معنی میں ہے ۔( کیونکہ یہ مادہ ”ام “ سے لیا گیا ہے جو قصد کر نے کے معنی میں ہے اور کیونکہ انسان مقصدتک پہنچنے کے لئے راستوں سے گذرتا ہے ) ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ”امام مبین “ سے مراد لوح محفوظ ہے اس کے لئے انھوں نے سور ہٴ یٰس کی آیہ ۱۲ کو قرینہ کے طور پر پیش کیا ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید ہے کیونکہ قرآن چاہتا ہے کہ لوگوں کو درسِ عبرت دے اور یہ دونوںنام لوح ِ محفوظ میں ہوں تو لوگ ان سے اثر لے سکتے ہیں ۔ جبکہ یہ شہر قافلوں اور پاس سے گذرنے والے مسافروں کے راستے میں ہوں تو ان پر گہرا اثر مرتب کرسکتے ہیں وہ ایک لمحہ کے لئے وہاں رک جائیں ،غور و فکر کریں ان کا عبرت میں دل اپنی آنکھوں سے دیکھے اور اس آفت زدہ زمین کو آئینہ عبرت سمجھے کبھی قوم لوط کی سرمین کے پاس اور کبھی اصحاب ایکہ کے علاقے کے نزدیک اور آخر ان کے انجام پر آنکھیں سے سیلاب ِاشک بہائیں ۔ رہے ”اصحاب الحجر“ تو یہ وہی سر کش قوم ہے کہ جو حجر نامی علاقے میں رہتی تھی ، بہت خوش حال تھی ۔ ان کے عظیم پیغمبر حضرت صالح علیہ السلام ان کے ہدیت کے لئے مبعوث ہوئے ۔ ان کے بارے میں قرآن کہتا ہے : اصحاب حجر نے خدا کے بھیجے ہووٴں کی تکذیب کی ( وَلَقَدْ کَذَّبَ اٴَصْحَابُ الْحِجْرِ الْمُرْسَلِینَ) ۔ اس کے بارے میں یہ شہر کہاں واقع ہے ، بعض مفسرین اور مورخین نے لکھا ہے کہ یہ شہر مدینہ اور شام کے درمیان قافلوں کی راہ میں ” وادی القریٰ“ میں ” تیمہ“ کے جنوب میں پڑتا تھا ، اور تقریبا ً اس کا کوئی اثر نشان باقی نہیں ہے ۔ کہتے ہیں کہ یہ شہر گزشتہ زمانے میں عربوں کے تجارتی شہروں میں سے تھا یہ شہر اتنا اہم تھا کہ بطلمیوس نے تجارتی شہروں میں لکھا ہے اور روم کے معروف جغرافیہ دان پلین نے اس کا نام ”حجری“ لکھا ہے ۔ ایک روایت میں ہے کہ ہجرت کے نویں سال جب رسول ﷺ نے لشکر روم کے مقابلے کے لئے تبوک کی طرف لشکر کشی کی تو مجاہد اسلام اس مقام پر ٹھہر نا چاہتے تھے ،پیغمبر اکرم ﷺ نے منع کیا اور فرما یا: یہ وہی قوم ثمود کا علاقہ ہے جس پر عذاب الہٰی نازل ہوا تھا ۔1 یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں ( اور اسی طرح قوم ِ نوح ،قوم ِ شعیب اور قوم ِ لوط کے بارے میں شورہٴ شعراء کی آیات ۱۰۵، ۱۲۳، اور ،۱۶۰میں بالترتیب اور دیگرگزشتہ قوموں کے بارے میں ) کہتا ہے کہ انھوں نے ” پیغمبروں کی تکذیب کی “ حالانکہ ظاہراً ان کے پاس ایک سے زیادہ پیغمبر نہیں آئے او ر انھوں نے صرف اسی کی تکذیب کی تھی ۔ یہ تعبیر شاید اس بناء پر ہو کہ انبیاء کا پرگرام اورہدف اس طرح سے ایک دوسرے سے پیوستہ تھا کہ ان میں سے ایک کی تکذیب ان سب کی تکذیب تھی ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا ہے کہ ان قوموں کے کئی پیغمبر تھے جن میں سے ایک زیادہ معروف تھا لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے ۔ بہر حال قرآن اصحاب الحجر کے بارے میں اپنی گفتگوجاری رکھتے ہوئے کہتا ہے : ہم نے ان کے لئے اپنی آیات بھیجیں لیکن انھوں نے روگردانی کی ( وَآتَیْنَاہُمْ آیَاتِنَا فَکَانُوا عَنْھَا مُعْرِضِینَ ) ۔ لفظ”اعراض“ ( منھ پھیر نا)نشاندہی کرتا ہے کہ وہ ان آیات کو سننے یا ان پر نگاہ ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں تھے۔ جبکہ اس کے برعکس اپنی دنیاوی زندگی کے کاموں میں اس قدر سخت گوش تھے ” اپنے لئے پہاڑوں میں امن کے گھر تراشتے تھے “ (وَکَانُوا یَنْحِتُونَ مِنْ الْجِبَالِ بُیُوتًا آمِنِینَ ) ۔ یہ بات نشاندہی کرتی ہے کہ ان کا علاقہ کوہستانی تھا نیز یہ کہ ان کامادی تمدن ترقی یافتہ تھا جبھی تو وہ پہاڑو میں اپنے لئے امن کے گھر تراشتے تھے کہ جو طوفانوں ،سیلابوں بلکہ زلزلوں تک کا مقابلہ کر سکتے تھے ۔ عجیب بات یہ ہے کہ انسان دنیا کی چند روزہ زندگی کے لئے اتنے محکم کام کرتا ہے لیکن اپنی ابدی زندگی کے بارے میں اس قدر تساہل سے کام لیتا ہے کہ خدا کی بات سننے اور اس کی آیات پر نظر ڈالنے کے لئے بھی تیار نہیں ہوتا ۔ تواب ایسی قوم کے بارے میں کیا توقع کی جا سکتی ہے سوائے اس کے کہ ان کے لئے ”انتخاب “ اصلح الہٰی “کا قانون حرکت میں آئے اور ایسی قوموں کو جو پوری طرح فاسد و مفسد ہو چکی ہیں انھیں جینے کا حق نہ دیا جائے اور تباہ کن عذاب کے ذریعے انھیں نابود کردیا جائے۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے :آخر کار آسمانی چیخ نے دم ِصبح انھیں آلیا ( فَاٴَخَذَتْھُمْ الصَّیْحَةُ مُصْبِحِینَ ) ۔ یہ چیخ بجلی کی ہولناک آواز تھی جو ان کے گھروں میں آگری یہ اس قدر تباہ کن اور وحشت ناک تھی کہ اس نے ان کے بے جان جسموں کو زمین پر پھینک دیا اس بات کی شاہد سورہ حم سجدہ کی آیہ ۱۳ ہے ۔ فاعرضوا فقل انذرتکم صاعقة مثل عاد و ثمود یہ کفارمنھ پھیریں تو کہہ دو کہ میں تمہیں ایسی بجلی گرنے سے ڈرتا ہوں بجلی قوم عاد و ثمود پر گری ۔ ان کے فلک بوس پہاڑ ، امن و امان کے گھر ، اس سر کش قوم کے طاقتور جسم اور ان کی بہت زیادہ دولت و ثروت کوئی چیز بھی عذاب الہٰی کے سامنے ٹھہر نہ سکی ۔ لہٰذا ان کی داستان کے آخر میں فرمایا گیا ہے : جو کچھ ان کے ہاتھ میں تھا وہ انھیں عذاب ِ الہٰی سے بچا نہ سکا ( فَمَا اٴَغْنَی عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَکْسِبُونَ ) ۔ سورہٴ شعراء میں آیہ ۱۴۱ تا ۱۵۸ میں ان کے حالات زیادہ تفصیل کے ساتھ بیان کئے گئے ہیں جو انشاء اللہ ان آیات کی تفسیر میں آئیں گے ۔ ۱۔اعلام القرآن خزائلی ص۲۹۲۔