إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ
Indeed the Godwary will be amid gardens and springs.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 15:45
[Pooya/Ali Commentary 15:45]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 15:45-60
1. The pious shall attain salvation, with removal of fraternal jealousy. 2. Do not ever dismay in Divine Mercy but for Divine Enmity.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
۵۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں
۵۔آئیے اس دنیا میں تعمیر جنت کریں : مندر جہ بالاآیات میں جنت کی جن مادی اور معنوی صفات کی تصویر کشی کی گئی ہے اس جہان کی نعمتوں کے اہم اصول بھی یہی ہیں گویا قرآن ہمیں یہ نکتہ سمجھا نا چاہتا ہے کہ دنیاوی زندگی میں یہ نعمتیں فراہم کرکے تم بھی اس عظیم جنت کی ایک چھوٹی سی نظیر قائم کرسکتے ہو ۔ ۔اگر سینوں کو کینوں اور عداوتوں سے پاک کرلو ۔ ۔اگر اخوت برادری کے اصول کو تقویت دو ۔ ۔ اگر غیر ضروری تکلفات و تشرفات کو اپنی زندگی سے خصوصاً اجتماعی زندگی سے دور کرلو ۔ ۔اگر امن و سلامتی اپنے معاشرے کو لوٹا دو ۔ ۔اگر تمام لوگوں کو یہ اطمینا ن دلایا جائے کہ کوئی شخص ان کی عزت و آبرو ، مقام و حیثیت اور جائز مفادات سے مزاحم نہیں ہو گا اور انھیں اپنی نعمات کے بقاء کا اطمینان ہوتو یہ دن ایسا دن ہوگا جب جنت کی نظیر تمہاری آنکھوں کے سامنے ہوگی ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
۴۔جزائے کامل
۴۔جزائے کامل:بعض مفسرین کے بقول جزاتب مکمل ہوتی ہے جب اس میں یہ چار شر طیں موجود ہوں : ۱۔ فائدہ دیکھائی دینے والا ہو ۔ ۲۔ احترام کے ساتھ ہو ۔ ۳۔ ہر قسم کی پریشانی سے خالی ہو ۔ ۴۔ دائمی ہو ۔ مندرجہ بالا آیات میں نعمات بہشت کے لئے ان چار پہلووٴں کی طرف اشارہ ہواہے۔ ”ان المتقین فی جنات و عیون “ پہلی قسم کے لئے ہے ۔ ”ادخلوھا بسلام اٰمنین “ احترام و تعظیم کی دلیل ہے ۔ ”و نزعنا ما فی صدور ھم من غل اخواناًعلی سرر متقابلین“ ہرقسم کی پریشانی ،ناراضی اور روحانی تکلیف کی نفی کی طرف اشارہ ہے ۔ ”لایمسھم فیھا نصب“ جسمانی نقصان اور ضرر کی نفی کے متعلق ہے ۔ ”وماھم منھا بمخرجین “ آخرین شرط پوری کرتا ہے یعنی ان نعمتوں کے لئے مدام ہے لہٰذا یہ جزا ہر لحاظ سے مکمل ہو گی ۔ 1 ۱۔ تفسیر کبیر ، فخرالدین رازی جلد ۱۹ صفحہ ۱۹۳۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
۱۔ بہشت کے باغ اور چشمے
۱۔ بہشت کے باغ اور چشمے:ہمارے لئے کہ جو اس محدود دنیا میں ہیں نعمات ِ بہشت کو سمجھنا بہت مشکل ہے بلکہ ناممکن ہے ۔ کیونکہ اس جہاں کی نعمتیں ان نعمتوں کے مقابلے میں ایسے ہی ہیں جیسے تقریباً صفر کے مقابلے میں ایک بہت بڑا عدد۔ لیکن یہ امر اس مین رکاوٹ نہیں کہ اپنی فکر اور روح کے ذریعے انھیں محسوس کریں یہ بات مسلم ہے کہ بہشت کی نعمتیںبہت ہی متنوع ہیں ، لفظ ”جنات“ (باغات)جو مندر بالا اور دیگر بہت سے آیات میں آیا ہے ۔ اسی طرح لفطظ ” عیون “( چشمے) اس حقیقت کے گواہ ہیں ۔ البتہ قرآن میں ( سورہ دہر، الرحمن ، دخان اور محمد وغیرہ میں ) ان چشموں کی مختلف انواع کی طرف اشارہ ہوا ہے اور مختلف اشارات کے ذریعے ان کی تنوع کی تصویر کشی کی گئی ہے کہ جو شاید اس جہاں کے طرح طرح کی نیک کاموں کے مجسم ہونے کی طرف اشارہ ہو ۔ انشاء اللہ ان سورتوں کی تفسیر میں ہم ان کا تفصیلی ذکر کریں گے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
بہشت کی آٹھ نعمتیں
بہشت کی آٹھ نعمتیں گذشتہ آیات میں ہم نے دیکھا ہے کہ خدا نے کس طرح تفصیل سے شیطان اور اس کے ساتھیوں ، ہمجولیوں اور پیرو کاروں کا نتیجہ کار بیان کیا ہے اور ان کے سامنے جہنم کے سات دروازے کھولے ہیں ۔ قرآن کی روش ہے کہ وہ موازنہ پیش کرکے تعلیم و تربیت کے لئے استفادہ کرتا ہے اسی روش کے مطابق ان آیات میں بہشت، اہل بہشت ،مادی او ر معنوی نعمات او ر جسمانی و روحانی عنایات کے بارے میں گفتگو ہے ۔ درحقیقت ان آیات میں آٹھ عظیم مادی اور معنوی نعمات کا تذکرہ بہشت کے در وازوں کی تعدا د کے مطابق آیا ہے ۔ ۱۔ پہلے ایک عظیم مادی نعمت کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : پر ہیزگار بہشت کے سرسبز باغوں میں ٹھنڈے میٹھے پانی کے چشموں کے کنارے ہوں گے ( إِنَّ الْمُتَّقِینَ فِی جَنَّاتٍ وَعُیُون) ۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں تمام صفات میں سے صرف ”تقویٰ“ کا ذکر کیا گیا ہے ، وہی تقویٰ ، پر ہیز گاری تعہد اور مسئولیت کہ جس میں تمام عمدہ انسانی صفات جمع ہیں ۔ ”جنت وعیون “ کا صیغہ جمع کے ساتھ ذکر ہوا ہے یہ طرح طرح کے باغات ، فراوان چشموں اور گوناگوں بہشتوں کی طرف اشارہ ہے کہ جن میں سے ہر ایک کا ایک نیا لطف اور خا ص خصوصیت ہے ۔ ۲۔۳۔ اس کے بعد دو اہم معنوی نعمات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور وہ ہیں ”سلامتی “ اور ”امن “۔ ہر قسم کے رنج و ناراحتی اور تکلیف سے سلامتی اور ہر قسم کے خطرے سے امن و امان ۔ ار شاد ہوتا ہے کہ اللہ کے فرشتے انھیں خوش آمدید کہتے ہوئے کہتے ہیں کہ ان باغوں میں کامل سلامتی اور امن کے ساتھ داخل ہوجاوٴ( ادْخُلُوھَا بِسَلَامٍ آمِنِینَ) ۔ بعد والی آیت میں تین اور معنوی نعمات کو صراحت سے بیان کیا گیا ہے ۔ ۴۔ ہم ان کے سینوں سے ہر قسم کا حسد کینہ ، عداوت او ر خیانت دھودیں گے اور ایسی آلائشیں ان سے دور کردیں گے (وَنَزَعْنَا مَا فِی صُدُورِھِمْ مِنْ غِلّ)۱ ۵۔ اور وہ یوںہوں گے جیسے سب آپس میں بھائی بھائی ہیں ،اور ان کے درمیان محبت کا قریبی تعلق کار فرما ہے ( إِخْوَانًا) ۔ ۶۔اس حالت میں کہ وہ ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر بیٹھے ہوں گے ( عَلَی سُرُرٍ مُتَقَابِلِینَ) ۔۲ ان کی اجتماعی نشستیں اس کے دنیا کے تکلیف و تکلفات کی طرح نہیں ہیں ۔ ان مجلس میں کوئی اوپر اور کوئی نیچے ہے ۔اس دنیا کے المناک طبقاتی زندگی کا کوئی اصول وہاں نہیں ہے وہاں سب آپس میں بھائی ہیں سب ایک دوسرے کے آمنے سامنے اور ایک ہی صف میں ہیں ایسا نہیں کہ کوئی تو مجلس میں بالا نشیں ہے اور ددسرا جوتے اتارنے کی جگہ پر بیٹھا ہے ۔ البتہ یہ امر معنوی درجات مختلف ہونے کے منافی نہیں ہے یہ تو ان کی اجتماعی نشستوں سے مر بوط ہے ورنہ ہر ایک کا اپنے تقویٰ و ایمان کے لحاظ سے اپنا مقام ہے ۔ اس کے بعد ساتویں مادی اور معنوی نعمت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرما یا گیا ہے انھیں ہر گز کوئی خستگی او ر تکان لاحق نہ ہو گی ( لاَیَمَسُّھُمْ فِیھَا نَصَبٌ ) ۔ جب کہ اس دنیا میں آرام کے ایک دن سے پہلے اور بعد کتنی مشکلات سے گز رنا پڑتا ہے کہ جن کا تصور انسان کے راحت و آرام کو درہم بر ہم کر دیتا ہے ایساوہاں نہیں ہے ۔ ۸۔اسی طرح انھیں فنا اور نعمتوں کے ختم ہونے کا خیال بھی نہیں ستا تا کیونکہ ”وہ ہر گز ان پر مسرت نعمتوں بھرے ہوئے باغوں سے باہر نہیں نکلیں گے “(وَمَا ھُمْ مِنْھَا بِمُخْرَجِینَ) ۔ اب جبکہ بہشت کی فراوان اور دل انگیز نعمتوں کا موٴثر طریقے سے بیان ہوچکا اور یہ بتا یا جاچکا کہ وہ کاملاً متقین کے سپرد ہوں گیں تو اس بات کے پیش نظر کہ کہیں گنہ گار افراد ان غم و انداہ میں ڈوب کر نہ رہ جائیں کہ اے کاش ! ہم بھی ان نعمتوں کا تک پہنچ سکتے اس مقام پر رحمن و رحیم خدا بھی ان کے لئے بھی جنت کے در وازے کھولتا ہے مگر مشروط طور پر ۔ بہت محبت بھرے لہجے میں اور نوازشات کے نہایت اعلیٰ انداز میں اپنے پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے کہتا ہے : اے نبی ! میرے بندوں کو آگاہ کردے کہ میں غفور و رحیم ہو ں ۔ گناہ بخشنے والا اور محبت سے معمو ر ہوں ( بَنیٴ عِبَادِی اٴَنِّی اٴَنَا الْغَفُورُ الرَّحِیمُ) ۔ ”عبادی “ (میرے بندے )یہ ایک لطیف تعبیر ہے کہ جو ہر انسان کو اشتیاق دلاتی ہے اور اس کے بعد خدا کی یہ توصیف کہ وہ بخشنے والا مہر بان ہے ۔ اس اشتیاق کو اوجِ کمال تک پہنچا دیتی ہے۔ لیکن قرآن چونکہ ہمیشہ رحمت الٰہی کے مظاہرے سے سوء استفادہ کو روکتا ہے لہٰذا اس کے ہلادینے والے جملوں کے ذریعے اس کے خشم و غضب کا ذکر ہے یہ اس لئے ہے کہ تاکہ خوف و رجا کے درمیان اعتدال بر قرار رہے کیونکہ یہ تکامل و ارتقاء اور تربیت کا راز ہے ۔ لہٰذا بغیر کسی فاصلے کے فرما یا گیا ہے : میرے بندوں سے یہ بھی کہہ دو کہ میرا عذاب دردناک ہے ( وَاٴَنَّ عَذَابِی ھُوَ الْعَذَابُ الْاٴَلِیمُ) ۔ ۱۔”غل“ دراصل کسی چیز کے مخفیانہ نفوذ کے معنی میں ہے اسی لئے حسد ، کینہ اور دشمنی کو جو چپکے سے انسانی روح میں نفوذکرجاتے ہیں انہیں ”غل “ کہا جاتا ہے ۔ لہٰذا” غل“ایک وسیع مفہوم رکھتا ہے کہ جس میں بہت سی بری اور خلاف ِ اخلاق صفات شامل ہیں ( مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ جلد سوم صفحہ ۱۱۸ ،اردو ترجمہ کے حاشیے کی طرف رجوع کریں ) ۔ ۲۔”سرر“ ”سریر“ کی جمع ہے جو دراصل تخت، کرسی یا اس قسم کی کسی چیز کے معنی میں ہے کہ جس پر بیٹھتے ہیں اور خوشی کی محفلیں بر پا کرتے ہیں ( توجہ رہے کہ ”سرر“ او ”سرور“ ایک ہی مادہ سے ہیں ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
۲۔ مادی اور روحانی نعمتیں
۲۔ مادی اور روحانی نعمتیں : برخلاف اس کے کے بعض لوگ خیال کر تے ہیں قرآن نے ہر جگہ لوگوں کو مادی نعمتوں کی طرف بشارت نہیں دی بلکہ بار گفتگو میں روحانی نعمتوں کا ذکر بھی آیاہے مندرجہ بالا آیات اس کا واضح نمونہ ہیں اس طرح سے فرشتے اہل بہشت کو اس عظیم مرکز نعمت میں خوش آمدیدکہتے ہوئے جو پہلی بشارت دیں گے وہ سلامتی اور امن کی بشارت ہے ۔ کینوں کا سینوں سے دھل جانا اور بری صفات مثلاً حسد، خیانت وغیرہ کہ جو روح اخوت کو ختم کر دیتی ہیں کا خاتمہ اور اسی طرح غلط قسم کی تکلفاتی امتیازات کہ جو فکر و روح کا سکون بر باد کردیتے ہیں کا خذف ہو جانا یہ سب ان کی معنوی و روحانی نعمتوں میں سے ہے کہ جن کی طرف مندر جہ بالا آیات میں اشارہ ہوا ہے ۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ امن و سلامتی کہ جس کا ذکر نعمات بہشت کے آغاز میں ہوا ہے ہر دوسری نعمت کی بنیاد ہے کیونکہ ان دوکے بغیر کوئی نعمت قابل استفادہ نہیں ہے یہاں تک کہ اس دنیا میں بھی تمام نعمتوں کا نقطہٴ آغاز امن و سلامتی کی نعمت ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:45-50
۳۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں
۳۔ کینہ اور حسد اخوت کے دشمن ہیں :یہ امر لائق توجہ ہے کہ امن و سلامتی کے ذکر کے بعد زیر نظر آیات میں نعمت اخوت کے ذکر سے پہلے تمام مزاحم صفات مثلاًکینہ ، حسد، ،غرور او ر خیانت کی ریشہ کسی کا ذکر ہوا ہے لفظ” غل “ جو وسیع مفہوم رکھتاہے اس کے ذریعے ان سب کی طرف اشارہ ہوا ہے ۔ درحقیقت اگر انسان کا دل اس ”غل“ سے پاک نہ ہو امن و سلامتی کی نعمت بھی حاصل نہ ہوگی اور نہ ہی اخوت برادرری کی نعمت بلکہ ہمیشہ جنگ و جدال اور کشمکش جاری رہے گی اور رشتہ اخوت منقطع ہو گا اور امن و سلامتی چھن جائے گی ۔