قَالَ هَذَا صِرَاطٌ عَلَيَّ مُسْتَقِيمٌ
He said, ‘This is the path [leading] straight to Me.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 15:41
[Pooya/Ali Commentary 15:41] The path of those mukhlisin, mentioned in the preceding verse, on whom Allah has bestowed His blessings (Al Fatihah: 7) leads to Allah direct. Aqa Mahdi Puya says: Any other recitation other than alayya (unto Me) is wrong. There is no tahrif in the Quran. See my essay "The genuineness of the Holy Quran.''
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
۶۔قرآن اور خلقت انسان
۶۔قرآن اور خلقت انسان : جیسا کہ ہم نے زیر بحث آیات میں دیکھا ہے کہ قرآن میں انسان کے بارے میں بڑی جچی تلی بحث ہے اور اس موضوع سے قرآن تقریبا ً سر بستہ اور اجمالی طور پر گذ رگیا کیونکہ اصلی مقصد تربیتی مسائل تھے ۔ قرآن کے چند اور مواقع پر اس بحث کی نظیر موجود ہے مثلاً سورہ سجدہ ، مومنون اور جن میں ۔ البتہ ہم جانتے ہیں کہ قرآن کوئی علوم طبیعی کتاب نہیں ہے بلکہ انسان سازی کی کتاب ہے لہٰذا ہمیں یہ توقع نہیں رکھنی چاہئیے کہ اس میں ان علوم کے جزئیات مثلا ً تکامل سے مر بوط مسائک ، تشریح جنین شناسی ، نباتات شناسی وغیرہ بیان ہوں ۔ لیکن یہ بات اس سے مانع نہیں کہ تر بیتی مباحث کی مناسبت سے ان علوم کی بعض جزئیات کی طرف قرآن میں مختصرسا اشارہ ہو جائے ۔ بہر حال اس مختصر سی تمہید کے بعد یہاں دو امور پر بحث کرنا ضروری معلوم ہوتاہے ۔ ۱۔ تکامل انواع سائنسی لحاظ سے ۔ ۲۔ تکامل انواع قرآن کی نظر سے ۔ پہلے اس موضوع پر آیات و روایات سے قطع نظر کرتے ہوئے صرف علوم طبیعی کے خصوصی معیاروں کو سامنے رکھ بحث کرتے ہیں ۔ ہم جانتے ہیں کہ علوم طبیعی کے علماء کے درمیان زندہ موجودات چاہے ،نباتات ہوں یا حیوانات ، ان کے بارے میں دو مفروضے موجود ہیں ۔ الف: تکامل انواع کا مفروضہ یا (Transformism )اس مفروضے کے مطابق زندہ موجودات کی انواع ابتداء میں موجودہ شکل میں نہ تھیں بلکہ موجودات کا آغاز ایک ایک سلول سے ہوا ہے ۔ یہ سلول ( Cellule)سمندروںکے پانی اور دریاوٴں کی تہہ کے چکنے سیاہ کیچڑ کے درمیان حرکت سے پیدا ہوئے یعنی بے جان موجودات تھے کہ جو خاص حالات میں تھے ان سے پہلے پہلی زندہ سلول ( Cellule)پیدا ہوئے ۔ ان انتہائی زندہ موجودات نے تدریجاً تکامل و ارتقاء شروع کیا اور ایک نوع سے دوسری نوع میں بدلتے ہوئے دریاوٴں سے صحراوٴں کی طرف اور وہاں سے ہوا اور فضا کی طرف منتقل ہو ئے ۔ اس طرح انواع و اقسام کے نباتات اور آبی و زمینی جانور اور پرندے وجود میں آئے ان تکامل اور ارتقاء کی کامل ترین صورت یہی آج کا انسان ہے جو بندر سے مشابہ موجود سے اور بھی انسان نما بندرسے ظاہر ہوا ۔ ب:ثبوت انواع کا مفروضہ یا (fixism) اس مفروضے کے مطابق جانداروں کی ہر نوع ابتداء ہی سے اسی موجود شکل میں ظاہر ہوئی اور کوئی نوع دوسری نوع میں تبدیل نہیں ہوئی اور فطرتاً انسان بھی مستقل خلقت کا حامل تھا کہ جو ابتداء سے اسی مشکل و صورت میں پیدا ہوا ۔ دونوں گروہوں کے سائنسدانوں نے اپنا نظر یہ ثابت کرنے کے لئے بہت سے مطالب لکھے ہیں اور عملی محافل میں اس مسئلے پر بہت سے نزاع اور جھگڑے ہوئے ہیں ان جھگڑو ں میں شدت اس وقت پیدا ہوئی جب لامارک ( مشہور جانورشناس فرانسی سائنسداں جو اٹھارویں صدی کے اواخر اور انیسویں صدی کے اوائل میں ہوا ۔ اور اس کے بعد ڈارون ( جانور شناس انگریز سائنسداں جو انیسویں صدی میں ہوا )نے تکامل انواع کے سلسلے میں اپنے نظر یات نئے دلائل کے ساتھ پیش کئے۔ البتہ آج کی علوم طبیعی کی محافل میں شک نہیں کہ اکثریت تکامل ِ انواع کے مفروضے کے حامی سائنس دانوں کی ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
تکامل انواع کے حامیوں کے دلائل
تکامل انواع کے حامیوں کے دلائل : ان دلائل کوآسانی سے تین حصوں میں خلاصہ کرکے بیان کیا جاسکتا ہے ۔ (۱)پہلے وہ دلائل ہیں جو قدیم نباتات وحیوانات کے آثار کے علم (PALEONTOLOGIE)یعنی گذشتہ موجودا ت کے پتھرائے ہوئے ڈھانچوں کے مطالعے کے حوالے سے پیش کئے گئے ہیں ان کاک نظر یہ ہے کہ زمین کے مختلف طبقوں کا مطالعہ نشاندہی کرتا ہے کہ زندہ موجودات نے زیادہ تر شکلوں سے کامل تر اور زیادہ ترپیچیدہ شکلوں میں طرف تغیر کیا ہے ۔ ان قدیم حیوانات ونباتات کے آثار میں پیش آنے والے فرق کی تفسیر فقط مفروضہ ٴ تکامل کے ذریعے کی جاسکتی ہے ۔ (۲)دوسری دلیل وہ قرائن ہیں جو علم تشریح (Comparative Anotomy)سے اخذ کئے گئے ہیں اس سلسلے میں وہ لمبی چوڑی بحثیں کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ جس وقت مختلف جانوروں کی ہڈیوں کو جوڑنے کی تشریح کرکے ان کا ایک دوسرے سے موازنہ کیا گیا تو ان کے درمیان بہت زیادہ مشا بہت دکھائی دی ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ ان سب کا اصل اور بنیاد ایک ہی ہے ۔ (۳)ان کی تیسری دلیل وہ قرائن ہیں کہ جو جنین (Foeuts)سے ہاتھ لگے ہیں ان کا نظر یہ ہے کہ اگر جانوروں کا حالت جنین میں تقابلی جائزہ کیا جائے جبکہ انہوں نے ابھی ضروری تکامل حاصل نہ کیا ہو تو ہم دیکھیں گے کہ تکامل سے قبل جانور شکم مادر میں یا حالت نطفہ میں ایک دوسرے سے کس قدر مشابہت رکھتے ہیں یہ امر بھی نشاندہی کرتا ہے کہ سب کے سب ابتداء میں ایک ہی اصل سے لئے گئے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
خلقت ِ انسان
خلقت ِ انسان گذشتہ آیات میں مخلوق خدا کے ایک حصے اور نظام ِہستی کا بیان تھا ۔ اسی مناسبت سے ان آیات میں تخلیق کے عظیم شاہکار یعنی انسان کی خلقت کو بیان کیا گیا ہے ۔ متعدد پر معنی آیات کے ذریعے اس خلقت کے بہت سے پہلووٴں کو واضح کیا گیا ہے ۔ ہم پہلے تو آیات کی اجمالی تفسیر بیان کرتے ہیں اس کے بعد اہم نکات پر علیحدہ علیحدہ بحث کریں گے ۔ ارشاد ہوتا ہے ہم نے انسان کو صلصال سے ( یعنی اس مٹی سے جو خشک شدہ ہو اور کسی چیز سے ٹکراتے وقت آواز دیتی ہو ) پیدا کیا ہے کہ جو حماٍمّسنون ( سخت تاریک ،متغیر اور بد بو دار کیچڑ ) سے لی گئی ہے ( وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔ اور اس سے پہلے” جنّوں“کو ہم نے گرم اور جلانے والی آگ سے پیداکیاہے ( وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ) ۔ ”سموم“ لغت میں جلانے والی ہوا کے معنی میں ہے گویایہ ہوا انسانی جسم کے تمام سوراخوں سے نفوذ کرتی ہے کیونکہ عرب انسانی جسم کے بہت ہی چھوٹے سوراخوں کو ”مسام“ کہتے ہیں ۔” سموم “ بھی اسی مناسبت سے ایسی ہوا کوکہا جاتا ہے مادہ ”سم “ (زہر)بھی اسی سے ہے کیونکہ وہ بد ن میں نفوذ کرکے وانسان کو قتل کردیتی ہے یا بیمار کردیتی ہے ۔ جنوں نے ذکر کے بعد قرآن پھر خلقتِ انسان کے موضوع کی طرف لوٹتا ہے ۔ فرشتوں سے اللہ تعالیٰ کی خلقت ِ انسان کے بارے میں جو پہلی گفتگو ہو ئی اسے یوں بیان کیا گیا ہے :یاد کرو وہ وقت جب تیرے پر وردگار نے فرشتوں سے کہا ، فرمایا : میں بشر کو تاریک رنگ بد بو دار کیچڑ سے لی گئی خشک مٹی سے پیدا کروں گا ( وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ) ۔ جب میں اس کی خلقت کو انجام و کمال تک پہنچالوں اور اور اپنی ( ایک شریف پاک اور باعظمت ) روح ان میں پھونک دوں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا ( فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ ) ۔ خلقت انسان تکمیل کو پہنچ گئی اور انسان کے لئے جو جسم و جان مناسب تھا اسے دے دیا گیا اور سب کچھ انجام پاگیا “تو اس وقت تمام فرشتوں نے بلا استثناء سجدہ کیا ( فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّھُمْ اٴَجْمَعُونَ ) ۔ وہ تنہا شخص جس نے اس فرمان کی اطاعت نہ کہ وہ ”ابلیس“تھا لہٰذا مزید فرمایا: سوائے ابلیس کے کہ جس نے ساجدین کے ساتھ ہونے سے نکار کیا( إِلاَّ إِبْلِیسَ اٴَبَی اٴَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔ اس موقع پر ابلیس سے باز پرس کی گئی اور خدا نے ”اس سے کہا “ اے ابلیس !تو ساجدین میں کیوں شامل نہیں ہے ( قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اٴَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ) ۔ ابلیس کو جو غرور اور خود خواہی میں ایسا غرق تھا کہ اس کی عقل و ہوش غائب ہو چکے تھے ، پر وردگار کی پرستش کے جواب میں بڑی گستاخی سے بولا ”میں ہر گزایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تو بدبو دار اور کیچڑ سے لی گئی خشک ٹی سے پیدا کیا ہے “( قَالَ لَمْ اٴَکُنْ لِاٴَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ) ۔ نورانی اور چمکنے والی آگ کہاں اور سیاہ او متعفن مٹی کہاں ۔ کیا مجھ جیسا ایک اعلیٰ موجود پست ترموجود کے سامنے خضوع کرسکتا ہے ، یہ کونسان قانون ہے ؟ وہ چونکہ غرور اور خود خواہی کے باعث خلقت و آفرینش کے اسرا بے خبر تھا اور خاک کی بر کات کو فراموش کر چکا تھا کہ جو ہر خیر و بر کت کا منبع ہے اور اس سے بڑھ کر وہ شریف اور عظیم الٰہی روح تھی جو آدم میں موجود تھی اور اس نے اسے لائق اعتناء نہ سمجھا ۔اچانک اپنے بلند مقام سے گر پڑااب وہ اس لائق نہ رہا تھا کہ صفِ ملائکہ میں کھڑا ہوسکے لہٰذا خدا تعالیٰ نے اسے فوراً فرمایا :یہاں سے ( ( بہشت سے یا آسمانوں سے یا ملائکہ کی صفوں سے ) باہر نکل جاکہ تو راندہٴ درگاہ ہے ( قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَإِنَّکَ رَجِیم) ۔ اور جان لے کہ تیرا غرور تیرے کفر کا سبب بن گیا ہے اور اس کفر نے تجھے ہمیشہ کے لئے دھتکارا ہوا کردیا ہے تجھ پر روز قیامت تک خدا کی لعنت اور رحمت ِخدا سے دوری ہے ( وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ) ۔ ابلیس نے جب اپنے آپ کو با رگاہ ِ الہٰی سے دھتکارا ہوا پایا اور احساس کیا کہ انسان اس بد بختی کا سبب بنا ہے تو کینہ کی آگ اس کے دل میں بھڑک اٹھی اور اس نے اولاد آدم سے انتقام لینے کی ٹھان لی حالانکہ اصلی مجرم وہ خود تھا نہ کہ آدم اور نہ فرمانِ خدا لیکن غرور اور خود خواہی نے جس میں اس کی ہٹ دھرمی بھی شامل تھی اس حقیقت کو سمجھنے کی اجازت نہ دی ۔لہٰذا اس نے عرض کیا پر وردگارا!: اب جب معاملہ ایسا ہے تو مجھے روز قیامت تک مہلت دے دے ۔( قَالَ رَبِّ فَاٴَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ) ۔ یہ تقاضااس لئے نہ تھا کہ وہ توبہ کرے ، اپنے کئے پر پشمان ہو یا تلافی کے در پے ہو بلکہ اس لئے تھا کہ اپنی ہٹ دھرمی ، عناد ، دشمنی اور خیرہ سری کو جاری رکھ سکے ۔ خدا نے اس کی خواہش کو قبول کرلیا اور فرمایا”یقینا تو مہلت یافتہ افراد میں سے ہے “ ( قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ ) ۔لیکن روز قیامت مخلوق کے مبعوث ہونے تک کے لئے نہیں بلکہ جیسا کہ تو نے چاہا ہے بلکہ معین وقت اور زمانے کے لئے ( إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ) ۔ اس بارے میں کہ ”یوم الوقت المعلوم “سے کونسادن مراد ہے مفسرین نے کئی ایک احتمالات ذکر کئے ہیں : بعض نے کہا کہ اس سے مراد اس جہاں کا اختتام ہے اور ذمہ داری کے دو ر کا خاتمہ ہے کیونکہ قرآن کی آیات کے ظاہری مفہوم کے مطابق اس کے بعد تمام مخلوق نا بود ہو جائے گی اور صرف خدا کی ذات باقی رہ جا ئے گی ، لہٰذا ابلیس کی در خواست ایک حد تک قبول کی گئی ۔ بعض دوسرے مفسرین نے کہا ”وقت معلوم “ سے ایک معین زمانہ مراد ہے جسے خدا جانتا ہے او ر اس کے علاوہ کوئی اس سے آگاہ نہیں ہے کیونکہ اگر خدا تعالیٰ اسے واضح کردیتا تو ابلیس کو گناہ و سر کشی کی زیادہ تشویق ہوتی ۔ بعض نے یہ احتمال بھی ذکر کیا کہ اس سے مراد یوم قیامت ہے کیونکہ وہ اس دن تک زندہ رہنا چاہتا تھا تاکہ حیات جاوید پائے اور اس کی بات مان لی گئی خصوصاً جبکہ سورہ واقعہ کی آیہ ۵۰ میں ”یوم الوقت المعلوم “ کی تعبیر روز قیامت کے بارے میں بھی آئی ہے لیکن یہ احتمال بہت ہی بعید معلوم ہوتا ہے کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو خدا نے اس کی درخواست کو مکمل طور پر موافقت کی ہوتی جبکہ مندرجہ بالا آیات کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ اس کی درخواست کی پوری موافقت نہیں کی گئی ہے اور صرف” یوم وقت المعلوم “ تک در خواست مانی گئی ہے۔ بہر حال پہلی تفسیر آیت کی روح اور ظاہری مفہوم کے ساتھ زیادہ موافقت رکھتی ہے اور امام صادق علیہ السلام سے منقول بعض روایات میں بھی اس معنی کی تصریح کی گئی ہے ۔۱ اس مقام پر ابلیس نے اپنی باطنی نیت کو آشکار کر دیا ، اگر چہ خدا سے کوئی چیز پوشیدہ نہ تھی تاہم وہ کہنے لگا :” پروردگار ا!اس بناء پر کہ تو نے مجھے گمراہ کیا ہے ( اور اس انسان نے میری بدبختی کا سامان فراہم کیا ہے )میں زمین کی مادی نعمتوں کو ان کی نگاہ مین دلفریب بناوٴں گا اور انسانو ان میں مشغول رکھو گا اور آخرکار سب کو گمراہ کر کے رہوں گا ( قَالَ رَبِّ بِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاٴُغْوِیَنَّھُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔ لیکن وہ اچھی طرح سے جانتا تھا کہ اس کے وسوسے خدا کے مخلص بندو کے دل ہر گز اثر انداز نہیں ہوں گے او ا س کے جال انھیں نہیں پھانس سکیں گے ۔ خلاصہ یہ کہ خالص و مخلص بندے اس قدر طاقت ور ہیں کہ شیطانی زنجیریں توڑ ڈالیں گے ۔ لہٰذا فوراً اپنی بات میں استثناء کرتے ہوئے اس نے کہا :مگر تیرے وہ بندے جو خالص شدہ ہیں ( إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمْ الْمُخْلَصِینَ) ۔ وااضح رہے کہ خدا نے شیطان کو گمراہ نہیں کیا تھا بلکہ ابلیس کی یہ بات شیطنت آمیز تھی ، اصطلاح کے مطابق اپنے آپ کو بری قرار دینے کے لئے اور گمراہ کرنے کے لئے اپنے آپ کو آمادہ کرنے کے لئے اس نے یہ بات کی تھی اور یہ سب ابلیسوں اور شیطانوں کی رسم ہے اولاًوہ اپنے گناہ دوسروں کے سر ڈال دیتے ہیں اور ثانیاًہر جگہ کوشش کرتے ہیں کہ اپنے برے اعمال کی غلط توجیہ پیش کریں نہ صرف بندگان خداکے سامنے بلکہ خود خدا کے سامنے بھی کہ جو ہر چیز سے آگاہ ہے ۔ ضمنا ً توجہ رہے کہ ”مخلصین “ ”مخلَص“(لام کی فتح کے ساتھ )جیسا کہ ہم سورہ کی تفسیرمیں بیان کر چکے ہیں کہ ”مخلص“ اس شخص کو کہتے جو ایمان و عمل کے اعلیٰ درجہ پرتعلیم و تربیت اور جہاد نفس کے بعد پہنچا ۔ جس پر شیطان اور کسی اور کے بھی وسوسوں کا کوئی اثر نہ ہو ۔2 خدا نے شیطان کی تحقیر اور اور راہِ حق کے متلاشیوں اور طریق ِ توحید کے راہیوں کی تقویت کے لئے فرمایا:یہ میری مستقیم راہ ہے ( قَالَ ھَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ ) ۔ تو میرے بندوں پر کوئی تسلط نہیں رکھتا مگر وہ کہ جو ذاتی طور پر تیری پیروی کریں ( إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ) ۔ یعنی در حقیقت تو لوگو ں کو گمراہ نہیں کرسکتا بلکہ یہ تو منحرف انسان ہیں جو اپنے ارادے اور رغبت سے تیری دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور تیری نقش قدم ہر چلتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ آیت انسانوں کے ارادے کی آزادی کی طرف اشارہ کرتی ہے اور یہ واضح کرتی ہے کہ ابلیس اور اس کا لشکر کسی کو زبر دستی برائی کی طرف کھینچ کر نہیں لے جاتا بلکہ یہ خود انسان ہی ہیں جو اس کی دعوت پر لبیک کہتے ہیں اور اپنے دل کا دریچہ اس کے لئے کھولتے ہیں اور اسے مداخلت کی اجازت دیتے ہیں خلاصہ یہ کہ شیطانی وسوسے اگر چہ موثر ہیں لیکن آخری فیصلہ شیطان کے ہاتھ میں نہیں بلکہ خود انسان کے بس میں ہے کیونکہ انسان اس کے مقابلے کھڑاہو کر اسے ٹھکرا سکتا ہے ۔ درحقیقت خدا تعالیٰ شیطان کے دفاع سے یہ خیال باطل اور تصور خام نکال دینا چاہتا ہے کہ وہ بلامقابلہ انسان پر حکومت حاصل کرلے گا ۔ اس کے بعد شیطان کے پیروں کاروں کو نہایت صریح دھمکی دیتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جہنم ان کے سب کی وعدہ گاہ ہے ( وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اٴَجْمَعِینَ ) ۔ یہ گمان نہ کریں کہ وہ سزا اور عذاب کے چنگل سے فرار کر سکیں گے یا معاملہ ان کے حساب و کتاب تک نہیں پہنچے گا ان سب کے حساب کتاب کی ایک ہی جگہ اور ایک ہی مقام پر دیکھ بھال کی جائے گی ۔ وہی دوزخ کے جس کے سات دروازے ہیں اور ہر در وازے کے لئے شیطان کے پیروکاروں کاایک گروہ تقسیم ہوا ہے ( لَھَا سَبْعَةُ اٴَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْھُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ) ۔ یہ دحقیقت گناہوں کے دروازے ہیں جن کے ذریعے مختلف افراد دوزخ میں داخل ہوں گے ۔ ہر گروہ ایک گناہ کے ارتکاب کے ذریعے ایک در سے دوزخ میں جائے گا ۔جیسا کہ جنت کے دروازے اطاعتیں ، اعمال صالح اور مجاہدات ہیں کہ جن کے ذریعے لوگ بہشت میں داخل ہو ں گے ۔ ۱۔نور الثقلین جلد ۳ صفحہ ۱۳، حدیث ۴۵۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
۱۔تکبرعظیم بدبختیوں کا سر چشمہ
۱۔تکبرعظیم بدبختیوں کا سر چشمہ : ابلیس اور خلقت آدم (علیہ السلام) کی داستان قرآن کی مختلف سورتوں میں آئی ہے اس میں اہم ترین نکتہ ابلیس کا تکبر کی وجہ سے انتہائی بلند مقام سے محروم ہو جانا ہے کہ جس پر وہ فائز تھا ۔ ہم جانتے ہیں کہ ابلیس فرشتوں میں سے نہیں تھا ( جیسا کہ سورہ ٴ کہف کی آیہ ۵۰ سے معلوم ہوتا ہے )لیکن اس نے اطاعت الہٰی کے ذریعے ایسا بلند مقام حاصل کر لیا تھا کہ ملائکہ کی صفوں میں شامل ہوگیا تھا بلکہ یہاں تک کہ بعض کہ بقول فرشتوں کا معلم بن گیا تھا اور جیسا کہ نہج البلاغہ کے خطبہٴ قاصعہ سے معلوم ہوتا ہے اس نے ہزار سال خدا کی عبادت کی تھی لیکن وہ یہ تمام مقامات گھڑی بھر کے تکبر کے باعث کھو بیٹھا اور خود پرستی اور تعصب میں ایسا گرفتار ہوا کہ عذر خواہی اور توبہ کی طرف نہ لوٹا بلکہ اس نے اپنا کام ایسی طرح جاری رکھا اور ہٹ دھرمی کے راستے پر ایسا جما رہا کہ اس نے مصمم ارادہ کرلیا کہ اولاد آدم میں سے تمام ظالموں او گنہ گاروں کے جرائم میں وسوسہ ڈال کر شرکت کرے گا اور ان سب کے کیفر کردار یہ ہے خود خواہی ، غرور ، تعصب ، خود پسندی اور استکبار کا نتیجہ ۔ نہ صر ف ابلیس بلکہ ہم نے اپنی آنکھوں سے شیطان صفت انسانوں کو دیکھا ہے یا ان کے حالات تاریخ کے سیاہ صفحات میں دیکھے ہیں کہ جس وقت وہ غرور و تکبر اور خود غرضی کے مرکب پر سوار ہوئے تو انہوں نے ایک دنیا کو خاک و خون میں غلطاں کردیا گویا آنکھوں میں اترے ہوئے خون اور جہالت کے پردے نے ان کے ظاہری اور باطنی آنکھوں کو بیکار کردیااور وہ کسی حقیقت کو نہ دیکھ پائے ۔ انہوں دیوانہ اور ظلم و جور کی راہ میں قدم اٹھا یا اور آخر کار اپنے آپ کو بد ترین گرھے میں گرا دیا یہ غرور و تکبر جلا ڈالنے والی اور وحشت ناک آگ ہے جیسا کہ ہوسکتا ہے کہ ایک انسان سالہا سال محنت و مشقت کرے ، گھر بنائے اس کا سا ز و سامان جمع کرے اور زندگی گذار نے کا سرمایہ فراہم کرے لیکن اس کی تمام محنتوں کا ماحصل آگ کا صرف ایک شعلہ چند لمحوں میں خاکستر بنادے ۔ اسی طرح پوری طرح ممکن ہے کہ ہزار ہا سال کی محنتوں کا ماحصل خدا کے سامنے ایک گھڑی کے غرور کے باعث کھو بیٹھے اس سے بڑھ کر واضح اور ہلادینے والا سبق اور کیا ہوگا ۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ اس کی توجہ اپنے واضح اور روشن نکتے کی کی طرف بھی نہ تھی کہ آگ خا ک پربر تری نہیں رکھتی کیونکہ تمام بر کات کا سر چشمہ خاہے ۔ نباتات ،حیوانات ، معدنیات، سب کا تعلق مٹی سے ہے اور پانی ذخیرہ کرنے کے مقامات اسی کے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ ہر زندہ موجود کی پیدا ئش سر چشمہ خاک ہے لیکن آگ کا کام جلانا ہے بہت مواقع پر ویرانی اور تباہی و بر بادی کاسبب بن جاتی ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام اسی خطبہ قاصعہ میں ابلیس کو” عد و اللہ “ ( دشمن خدا ) امام المتعصبین ( متعصب اور ہٹ دھرم لوگوں کا پیشوا ) اور سلف المتکبرین (متکبرین کا بزرگ ) کہہ کر پکار تے ہیں اور فرماتے ہیں : اسی لئے خدا نے عزت کا لباس اس کے بدن سے اتار دیا اور ذلت کی چادر اس کے سر پر ڈال دی ۔ اس کے بعد مزید فرماتے ہیں : الا ترون کیف صغرہ اللہ بتکبرہ ، ووضعہ بترفعہ ، فجعلہ فی الدنیا مد حوراًو اعدلہ فی الاٰخرہ سعیراً کیا دیکھتے نہیں ہو کہ کس طرح خدا نے اس سے اس کے تکبر کی وجہ سے حقیر اور چھوٹا کردیا اور بر تری کی خواہش کے سبب اسے پست کریا وہ دنیا میں راندہ در گاہ ہوا اور دار آخرت میں اس کے لئے دردناک عذاب فراہم کیا ۔3 ضمنی طورپر جیسا کہ ہم نے اشارہ کیا ہے ابلیس مکتب جبر کا بانی و مبانی ہے وہ مکتب جو ہر انسان کے وجدان کے خلاف ہے اور اس کے پیدا ہونے کی ایک اہم وجہ یہ ہے کہ کہ گنہ گار انسان اپنے اعمال سے اپنے آپ کو بری ثابت کرنا چاہتے ہیں ۔ مندرجہ بلا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ ابلیس نے اپنی براٴت کے لئے او ر یہ ثابت کر نے کے لئے کہ اولاد آدم (علیہ السلام)کو گمراہ کرنے کی کوشش کا حق رکھتا ہے ، اسی عظیم گنا ہ کا رتکاب کیا اور کہا : خدا وند ا! تو نے مجھے گمراہ کیا ہے لہٰذا میں بھی اسی بناء پر مخلصین کے علاوہ تمام اولاد آدم کو گمراہ کروں گا ۔ 2۔تفسیر نمونہ جلد ۹ ،ص( اردو ترجمہ ) کی طرف رجوع کریں ۔ 3۔نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
۴۔سیاہ کیچڑ اور خدا کی روح
۴۔سیاہ کیچڑ اور خدا کی روح : یہ بات جاذب نظر ہے کہ ان آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ انسان دو مختلف چیزوں سے پیدا ہوا ہے ان میں سے ایک عظمت کی انتہائی بلندیوں پر ہے اور دوسری قدر و قیمت کے لحاظ سے ظاہراً بہت پست ہے ۔ انسان کا مادی پہلو بد بو دار سیاہ رنگ کیچڑ سے تشکیل پاتا ہے اور اس کا معنی پہلو وہ چیز ہے کہ جسے ” روح خدا“ سے یاد کیا گیا ہے البتہ اللہ تعالیٰ جس رکھتا ہے نہ روح ۔ روح کی خدا کی طرف نسبت اصطلاح کے مطابق اضافت و نسبت تشریفی ہے یہ اس بات کی دلیل ہے کہ انسانی قالب میں ایک بہت ہی پر عظمت چیز روح کو ڈالا گیا ہے ۔ یہ ایسے ہی ہے جیسے خانہٴ کعبہ کو اس کی عظمت کی بناء پر ”بیت اللہ “ اور ماہ مبارک رمضان کو اس کی بر کت کی وجہ سے ”شہر اللہ “ ( اللہ کا مہینہ کہا جاتا ہے ۔ اسی بناء پر انسان کی قوس صعودی اس قد ر بلند ہے کہ وہ اس مقام پر پہنچتا ہے کہ اسے سوائے خدا کے کچھ نظر نہیں آتا اور اس کی قوسِ نزول اس قدر پست ہے کہ چوپایوں سے بھی پست ہے (بل ھم اضل ) ۔ قوس صعودی اور نزولی میں اتنا زیادہ فاصلہ خود اس کی مخلوق کی انتہائی اہمیت کی دلیل ہے اور یہ مخصوص ترکیب اس امر کی بھی دلیل ہے کہ انسانی مقام کی عظمت اس کے مادی پہلو کی وجہ سے نہیں ہے کیونکہ اس کے مادی پہلو کی طرف نظر کریں تو وہ سیاہ کیچڑ سے زیادہ کچھ نہیں یہ روح الہٰی ہے کہ جس میں بہت زیادہ صلاحیتیں پنہاں ہیں اور وہ نوار الٰہی کا مقام ِ تجلی ہو سکتی ہے اسے یہ سب عظمتیں بخشی گئی ہیں اور ا س کے کمال و ارتقاء کا صرف یہی راستہ ہے کہ اسے تقویت دی جائے اور مادی پہلو کہ جو اسی مقصد کے لیے ذریعہ ہے ، اسے صرف اسی کے پیش رفت کے لئے استعمال کیا جائے (کیونکہ ممکن ہے اس عظیم ہدف تک پہنچنے کے لئے موثر مدد دے ) ۔ سورہ بقرہ کی ابتداء میں حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلقت کے متعلق جوآیات آئی ہیں ان سے بھی معلوم ہوتا ہے کہ فرشتوںن کا آدم کے سامنے سجدہ کرنا ان کے مخصوص الہٰی علم کی وجہ سے تھا ۔ لیکن یہ سوال کہ غیر خدا کو سجدہ کس طرح ممکن ہے اور کیا واقعةً فرشتوں نے اس عجیب و خلقت کی وجہ سے خدا کو سجدہ کیا تھا یا انھوں نے آدم (علیہ السلام) کو سجدہ کیا تھا ۔ اس کا جواب سورہ بقرہ کی انہی آیات میں دیا جا چکا ہے جوخلقت ِ آدم سے متعلق ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
ثبوت انواع کے حامیوں کے جوابات
ثبوت انواع کے حامیوں کے جوابات مفروضہ ثبوت انواع (Fixism)کے حامی ان تمام دلائل کا ایک کلی جواب دیتے ہیں اور وہ یہ کہ ان قرائن میں سے کوئی بھی اطمینان بخش نہیں ہے البتہ اس کا انکار نہیں کیا جاسکتا ان تین طرح کے قرائن میں سے ہر ایک احتمال ِتکامل کو ایک ” ظنی احتمال“ کے طورپر پیش کرتا ہے لیکن یقین ہر گز پیدا نہیں کرتا ۔ واضح لفظوں میں مفروضہ تکامل کو عقلی دلیل کے ذریعے ایک علمی اور قطعی قانون ثابت کرنا چاہئیے یا محسوسات یا تجر بہ کے ذریعے اوور ان دو کے علاوہ کوئی تیسرا راستہ نہیں ہے ۔ لیکن ایک طرف تو ہم جانتے ہیں کہ عقلی اور فلسفیانہ دلائل سے ان مسائل کو ثابت نہیں کیا جا سکتااور دوسری طرف یہ مسائل کہ جن کی جڑیں لاکھوں بر س قبل کے معاملات میں چھپی ہوئی ہیں ان تک تجربے کا ہاتھ نہیں پہنچ سکتا ۔ تجربے اور مشاہدہ سے جو کچھ ہمیں معلوم ہوتا ہے وہ سطحی تغیرات ہیں جو زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ نباتات و حیوانات میں کسی اچانک تبدیلی جہش تاسیون کے ذریعے پیدا ہوتے ہیں مثلاً عام بھڑوں میں سے اچانک کوئی ایسی بھڑ پیدا ہوتی ہے جس کی کھال عام بھڑوں کے کھال سے مختلف ہوتی ہے ، یعنی بہت نرم اور ملایم ہوتی ہے اور پھر اس کی کھال کی ان خصوصیات کی وجہ سے بھڑوں کی ایک نسل گوسفند مرینوس کے نام سے پیدا ہوتی ہے ۔ یا بعض جانوروں میں کسی تغیر کی وجہ سے ، آنکھ ، ناخن ، بدن یا کھال کے رنگ میں یا اس قسم کی کوئی اور تبدیلی پیدا ہوجاتی ہے لیکن آج تک کوئی ایسی اچانک تبدیلی نہیں دیکھی گئی جو کسی حیوان کے بدن کے اصلی اعضاء میں کوئی اہم تغیر پیدا کردے یا ایک نوع کو دوسری نوع میں تبدیل کردے ۔ اس بناء پر صرف ایک قیاس اور گمان ہی کیا جاسکتا ہے کہ پے در پے جست و خیز اور یکے بعد دیگرے تبدیلیوں کے ذریعے ہوسکتا ہے کسی روز کسی حیوان کی نوع تبدیل ہو جائے مثلاً پیٹ کے پل زمین پر ینگنے والا جانور پرندے میں تبدیل ہو جائے لیکن یہ قیاس و تخمین ہر گز یقینی نہیں ہے بلکہ صرف ایک ظنی مسئلہ ہے کیونکہ ہم نے آج تک ایسے ناگہانی تغیرات کا تجربہ نہیں کیا جو اصلی اعضاء کو تبدیل کردیں ۔ جو کچھ کہا گیا اس سے ہم مجموعی طور پر یہ نتیجہ نکالتے ہیں کہ تبدیلی ِ نوع (Tranformism)کے حامیوں کی تین دلیلیں اس نظر یے کو ایک مفروضے سے اوپر نہیں لے جاسکتےں اسی بناء پر اس نظر یہ پر دقت ِ نظر سے بحث کرنے والے لوگ ہمیشہ اس پر تکامل ِ انواع کے مفروضے کے طور پر گفتگو کرتے ہیں نہ کہ ایک قانون کے طورپر۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
۵۔جن کیا ہے ؟
۵۔جن کیا ہے ؟ لفظ ”جن “ در اصل ایسی چیز کے معنی میں ہے جو حسِ انسانی سے پوشیدہ ہو مثلاًہم کہتے ہیں ” جنة اللیل “ یا ” فلما جن علیہ اللیل “ یعنی جس وقت سیاہ رات کے پر دے نے اسے چھپا لیا ۔ اسی بناء پر ” مجنون “ اس شخص کو کہتے ہیں جس کی عقل پوشیدہ ہو ۔ ” جنین “ اس بچے کو کہتے ہیں کو رحم ِ مادر میں مخفی ہو ۔ ” جنت“ اس باغ کو کہتے ہیں جس کے درختوں نے اس زمین کو چھپا رکھا ہو ۔ ”جنان“ اس دل کو کہتے ہیں جو سینہ کے اندر چھپا ہواور ”جنة“ اس ڈھال کو کہتے ہیں جو انسان کو دشمن کی ضر بوں سے چھپائے ۔ البتہ آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ”جن “ ایک موجود عاقل ہے کہ جو حس ِ انسانی سے پو شیدہ ہے اس کی خلقت در اصل آگ سے یا آگ کے صاف شعلوں سے ہوئی ہے ابلیس بھی اسی گروہ میں سے ہے ۔ بعض علماء انھیں ”ارواح عاقلہ “ کی ایک نوع سے تعبیر کرتے ہیں کہ جومادہ سے مجرد ہیں ( البتہ واضح ہے کہ تجرد کامل نہیں رکھتے کیونکہ جو چیز کسی مادہ سے پیدا ہوتی ہے وہ مادی ہے لیکن اس میں کچھ نہ کچھ تجرد ہے کیونکہ ہمارے حواس اس کا اداک نہیں کرسکتے ۔ دوسرے لفظوں میں ایک قسم کا جس لطیف ہے ) ۔ نیز آیات قرآن سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں مومن بھی ہیں اور کافر بھی ۔ مطیع بھی ہیں اور سر کش بھی ۔ اور وہ بھی مکلف اور مسئول ہیں ۔ البتہ ان مسائل کی تشریح اور دو حاضر کے علم سے ان کی ہم آہنگی کے بارے میں مزید بحث کی ضرورت ہے ۔ اس کے بارے میں ہم مناسب حد تک انشاء اللہ سورہ جن کی تفسیر میں بحث کریں گے کہ جوقرآن کے پارہ انتیس میں ہے ۔ جس نکتہ کی طرف یہاں اشارہ کرنا ضروری ہے یہ ہے کہ مندرجہ بالا آیات میں لفظ ”جان “ آیا ہے جو اسی مادہ ”جن “ سے ہے ۔ کیا یہ دونوں الفاظ ( ”جن “ اور ”جان “)ایک معنی رکھتے ہیں یا جیسا کہ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ ” جان “ ”جن “ کی ایک خاص قسم ہے ۔ قرآن کی وہ آیات جو اس سلسلہ میں آئی ہیں اگر انہیں ایک دوسرے کے سامنے رکھا جائے تو واضح ہو جاتا ہے کہ دونوں ایک ہی معنی میں ہیں ۔ کیونکہ قرآن بھی ”جن “ انسان کے ساتھ آیا ہے ۔ اور کبھی ”جان “ مثلاً سورہ ٴ بنی اسرائیل کی آیہ ۸۸ میں ہے : قل لئن اجتمعت الانس و الجن سورہ ذاریات کی آیہ ۵۶ میں آیاہے : وما خلقت الجن و الانس الا لیعبدون حالانکہ سورہ رحمن کی آیہ ۱۴۔۱۵ میں ہے : خلق الانسان من صلصال کالفخار و خلق الجان من مارج من نار اسی سورہ آیہ ۳۹ میں ہے : فیومئذ لایسئل من ذنبہ انس و لا جان مندر جہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات کے مجموعی مطالعے سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ ”جان“ اور”جن “ دونوں کا ایک ہی معنی ہے ۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیات میں کبھی ”جن “ انسان کے ساتھ آیا ہے اور کبھی ” جان “۔ البتہ قرآن حکیم میں ” جان “ ایک اور معنی میں بھی ہے ۔ کہ سانپ کی ایک قسم ہے جیسا کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے واقعہ میں ہے :کانھا جان (قصص۳۱)لیکن یہ ہماری بحث سے خارج ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
۳۔جہنم کے دروازے
۳۔جہنم کے دروازے : مندرجہ بالا آیات میں ہم نے پڑھا ہے کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ( بعیدنہیں کہ سات کا عدد یہاں عدد کثیر ہو یعنی جہنم کے بہت سے در وازے ہیں جیسا کہ سورہ ٴ لقمان کی آیہ ۲۷ میں بھی سات کا عدد اسی معنی میں آیا ہے ) ۔ لیکن واضح ہے کہ دروازوں کی یہ تعداد (جنت کے در وازوں کے طرح (نہ داخل ہونے والوں کی کثرت کی وجہ سے کہ وہ ایک چھوٹے سے در وازے سے نہیں گذرسکتے اور نہ ہی یہ تکلیف کے پہلو سے ہے بلکہ در حقیقت یہ ان مختلف عوامل کی طرف اشارہ ہے جو انسان کو جہنم کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں گناہوں کی ہر قسم جہنم کا ایک دروازہ ہے ۔ نہج البلاغہ کے خطبہ جہاد میں ہے : ان الجھاد باب من الجنة اللہ فتحہ اللہ لخاصة اولیائہ جہاد جنت کے دروازوں میں سے ایک در وازہ ہے جسے خدا نے اپنے خاص بندوں کے لئے کھولا ہے ۔( نہج البلاغہ، خطبہ ۲۷۔) ایک مشہور حدیث ہے ۔ ان السیوف مقالید الجنة ۔ تلواریں جنت کی چابیاں ہیں ۔ ان تعبیرات سے اچھی طرح واضح ہو جاتا ہے کہ جنت اور دوزخ کے متعدد دروازوں سے کیا مراد ہے ۔ یہ قابل توجہ ہے کہ امام باقر علیہ السلام سے مروی ایک حدیث میں ہے کہ جنت کے آٹھ در وازے ہیں ۔ خصال شیخ صدوق ابواب الثمانیة۔ جبکہ مندرجہ بالاآیات کہتی ہیں کہ جہنم کے سات دروازے ہیں ، یہ فر ق اس طرف اشارہ ہے کہ اگر چہ بد بختی اور عذاب میں داخل ہو نے کے بہت سے دروازے ہیں لیکن اس کے باوجود سعادت و خوش بختی تک پہنچنے کے در وازے اس سے زیادہ ہیں ( سورہ رعد کی آیہ ۲۳ کے ذیل میں بھی ہم اس سلسلے میں گفتگو کر چکے ہیں ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
قرآن اور مسئلہ تکامل انواع
قرآن مسئلہ تکامل انواع یہ بات جاذب نظر ہے کہ مسلمانوں میں تکامل انواع کے حامیوں اور مخالفوںدونوں نے اپنے مقصد کے اثبات کے لئے آیات ِ قرآن سے تمسک کیا ہے لیکن شاید دونوں نے بعض اوقات اپنے عقیدے اور نظرے کے زیر اثرہوکر ایسی آیات سے استدلال کیا ہے کہ جو ان کے مقصود سے بہت کم ربط رکھتی ہیں ۔ لہٰذا وہ دونوں طرف سے زیر بحث آنے والی آیات کا انتخاب پیش کرتے ہیں ۔ اہم ترین آیت کے جس کا تکامل کے طرفداروں نے سہارا لیا ہے سورہ ٴ آل عمران کی آیہ ۳۳ہے ۔ ان اللہ اصطفیٰ آدم و نوحاً و آل ابراہیم و اٰل عمران علی العالمین اللہ نے آدم (علیہ السلام) ، نوح (علیہ السلام) ، آل ابراہیم (علیہ السلام) اور آل عمران ایک گروہ کے درمیان زندگی بسر کرتے تھے اور ان میں سے چنے گئے ، آدم کو بھی اسی طرح ہو نا چاہئیے یعنی ان کے زمانے میں بھی وہ انسان کے جس پر ”عالمین “ کا اطلاق ہوتا ہے یقینا موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) انہی میں سے چنے گئے تھے یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) روی زمین کے پہلے انسان نہ تھے بلکہ قبل ازیں بھی دوسرے انسان موجود تھے اور آدم (علیہ السلام) کا امتیاز وہی ان کا فکری اور روحانی ارتقاء و تکامل ہے کہ جس کے سبب وہ اپنے جیسے افراد میں سے چنے گئے ۔ اس نظریہ کے حامیوں نے کچھ اور آیات بھی ذکر کی ہیں کہ جن میں سے بعض مسئلہ تکامل سے بالکل ربط نہیں رکھیتیں اور ان کی تفسیر تکامل کے مفہوم میں کرنا زیادہ تر تفسیر بالرای بن جاتی ہے ۔ ان میں سے بعض آیات ایسی بھی ہیں کہ جو تکامل انواع کے مفہوم سے بھی مطابقت رکھتی ہیں ،ثبوت انواع سے بھی او رآدم (علیہ السلام) کی مستقل خلقت سے بھی ۔اسی بناء پر ہم نے بہتر سمجھا ہے کہ ان کے ذکر سے صرف نظر کیا جائے ۔ باقی رہا وہ اعتراض جو اس استدلال پر کیا جاسکتا ہے یہ ہے کہ ہے ’عالمین “ اگر معاصر لوگوں کے معنی میں ہو اور ”اصطفیٰ “ (چننا)یقینا ایسے ہی اشخاص میں سے ہو تو پھر یہ استدلال قابل قبول ہو سکے گا لیکن اگر کوئی کہے کے ”عالمین “ معاصرین اور غیر معاصرین سب کے لئے ہے تو اس صورت میں مندرجہ بالا آیت اس امر پر دلالت نہیں کرے گی جیسا کہ پیغمبر اسلام کی مشہور حدیث میں خاتون اسلام حضرت فاطمہ زہرا سلام اللہ علیہاکی فضیلت میں منقول ہے کہ آپ نے فرمایا: اماابنتی فاطمہ فھی سیدة نساء العالمین من الاولین و الاٰخرین باقی رہی میری بیٹی فاطمہ تو وہ اولین و آخرین کے سب جہانوں کے عورتوں کی سردار ہے ۔ یہ بالکل اسی طرح ہے کہ کوئی کہے کہ کچھ لوگوں کو خدا نے تمام اور ادوار کے انسانوں میں سے چن لیا ہے اور ان میں سے ایک آدم ہیں اس صورت میں ضروری نہیں کہ حضرت آدم (علیہ السلام) کے زمانے میں دوسرے انسان بھی موجود ہوں کہ جن پر ”عالمین “ کا اطلاق ہو یا آدم ان میں سے چنے جائیں ، خصوصاً جبکہ گفتگو خدا کے چننے کے بارے میں ہے جو آئندہ آنے والی اوربعد کے زمانوں میں آنے والی نسلوں میں سے اچھی طرح آگاہ ہے ۔۱ ۱۔یہ احتمال بھی ہے کہ ایک مختصر مدت میں اولاد آدم پر مشتمل ایک معاشرہ تشکیل پایا گیا ہو او ران میں سے آدم بر گزید ہ اور چنے ہوئے ہوں ۔ لیکن اہم ترین دلیل جو ثبو ت انواع کے حامیوں نے آیاتِ قرآن میں سے منتخب کی ہے وہ زیر بحث اور اس جیسی آیات ہیں کہ جوکہتی ہیں کہ خدا نے انسنا کو خشک مٹی سے پیدا کیا کہ جو سیاہ رنگ بد بو دار اور کیچڑ سے لی گئی تھی ۔ یہ امر لائق توجہ ہے کہ ”انسان“ کی خلقت کے موقع پر بھی یہ تعبیر استعمال ہوئی ہے : لقد خلقنا الانسان من صلصال من حماٴٍ مسنون ( حجر:۲۶) ۔ نیزبشر کے بارے میں بھی یہ تعبیر آئی ہے : و اذقال ربک للملائکة انی خالق بشراً من صلصال من حماٴٍ مسنون (حجر:۲۸) ۔ نیز یہ بھی ہے کہ فرشتوں نے خود ذات ِ آدم کو سجدہ کیا اس سے بھی یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ ( سورہ ٴ حجر کی آیات ۲۹ ،۳۰ اور ۳۱ جو سطور بالا میں ہم بیان کرآئے ہیں ان میں غور و فکر کیجئے ) ۔ پہلی نظر میں ان آیات مفہوم یہی نکلتا ہے کہ آدم (علیہ السلام) پہلے سیاہ رنگ کے کیچڑ سے پیدا ہوئے ، اعضاء و جوارح کی تکمیل کے بعد ان میں خدائی روح پھینکی گئی اور اس کے ساتھ ابلیس کے سوا تمام فرشتے ان کے سامنے سجدہ ریز ہو گئے۔ ان آیات کا طرز بیان نشاندہی کرتا ہے کہ آدم کی مٹی سے خلقت او ر موجودہ شکل و صورت پیدا ہونے کے درمیان دیگر انواع موجود نہ تھیں ۔بعض مندرجہ بالا آیات میں ”ثم“ کی تعبیر آئی ہے یہ لفظ لغت عرب میںفاصلہ ترتیب کے لئے استعمال ہوتا ہے یہ لفظ ہر گز لاکھوں سال گذر نے اور ہزاروںانواع کے موجود ہونے کی دلیل نہیں ہے بلکہ کوئی مانع نہیں کہ یہ ایسے فاصلوں کی طرف اشارہ ہو جو آدم کی مٹی سے خلقت اور پھر خشک مٹی اور پھر روح الٰہی پھونکے جانے کے مراحل میں موجود تھے اسی لئے لفظ ”ثم“ عالم جنین میں انسان کی خلقت اور ان مراحل کے بارے میں آیا ہے کہ جو جنین یکے بعد دیگررے طے کرتا ہے ،مثلاً یا ایھا الناس ان کنتم فی ریب من البعث فانا خلقناکم من تراب ثم من نطفة ثم من علقةثم من مضغة ثم لنخرجکم طفلاًثم لتبلغوا اشد کم ۔ اے لوگو!اگر تمہیں بعث اور قیامت کے بارے میں شک ہے (تو انسان کی خلقت کے بارے میں قدرت خداپر غور و فکر کروکہ)ہم نے تمہیں خاک سے پیدا کیا پھر نطفہ سے پھر جمے ہوئے خون سے پھرمضغہ( گوشت کے جبائے ٹکڑے )سے پھر ہم تمہیں بچہ کی شکل میں باہر نکالتے ہیں پھر تم مرحلہٴ بلوغ تک پہنچتے ہو (حجر :۵) آپ دیکھ رہےں کہ ضروری نہیں ہے کہ”ثم“ ایک طولانی فاصلہ کے لئے آئے بلکہ جیسے یہ ایک طولانی فاصلوں کے لئے استعمال ہوتا ہے ویسے ہی مختصرفاصلوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے ۔ جو کچھ ہم نے سطور بالا میں کہا ہے اس سے مجموعی طورپر یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ آگر چہ آیات قرآن نے براہ راست مسئلہ تکامل یا ثبوت انواع بیان نہیں کیا ۔ (لیکن بالخصوص انسان کے بارے میں )آیات کا ظاہری مفہوم مستقل خلقت سے زیاد ہ مناسبت رکھتا ہے اگر چہ اس کے بارے میں کامل صراحت نہیں ہے لیکن خلقت ِآدم سے متعلقہ آیات کا ظاہر زیادہ مستقل خلقت ِ آدم سے متعلقہ آیات کا ظاہر مستقل خلقت کے مفہوم کے گرد گر دش کرتا ہے البتہ دیگر جانوروں کے بارے میں قرآن خاموش ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:41-44
مفروضہ تکامل اور مسئلہ خدا شناسی
مفروضہ تکامل اور مسئلہ خدا شناسی : بہت سے لوگ اس مفروضے اور مسئلہ خدا شناسی کے درمیان ایک قسم کا تضاد پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں ۔ شاید ایک لحاظ سے وہ حق بجانب بھی ہیں کیونکہ ڈارون کے نظریہ نے ارباب ِ کلیسا اور اس مفروضے کے حامیوں کے درمیان ایک شدید جنگ چھیڑ دی ہے ۔ اس مسئلے کی بنیاد اس زمانے میں سیاسی اور اجتماعی وجوہات کی بنیاد پر جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں ہے بہت پراپیگنڈا کیا گیا کہ ڈارونیسم خدا شناسی سے مطابقت نہیں رکھتا ۔ لیکن آج یہ مسئلہ ہمارے لئے واضح ہے کہ یہ دونوں امور آپس میں کوئی تضا د نہیں رکھتے یعنی چاہے مفروضہ ٴ تکامل کو قبول کریں چاہے فقدان دلیل کے باعث اسے رد کریں دونوں صورتوں میں ہم خدا شناس ہوسکتے ہیں ۔ فرض کریں کہ مفروضہ تکامل ثابت بھی ہو جائے تو وہ ایک ایسے قانون علمی کے شکل اختیار کرلے گا جو طبیعی علت و معلوم سے پر دہ اٹھا دے اور جانداروں اور دیگر موجودات کے درمیان اس علت و معلوم کے رابطے سے کوئی فرق پیدا نہیں ہوتا ۔ کیا بارشوں کے نزول ، سمندرروں کے مدو جزر اور زلزلوں وغیرہ کے طبیعی علل معلوم ہونے سے خدا شناسی کی راہ میںکوئی رکاوٹ پیدا ہوتی ہے ؟ مسلماً نہیں ۔ لہٰذا انواع موجودات کے درمیان ایک تکاملی و ارتقائی رابطے کا انکشاف خدا شناسی کے راستے میں مانع کیسے ہوسکتا ہے ایسی باتیں تو صرف وہ لوگ کرسکتے ہیں جن کا خیال ہے کہ علل طبیعی کا انکشاف وجود خدا قنول کرنے کے منافی ہے لیکن ہم آج اچھی طرح جانتے ہیں کہ ان علل و اسباب کا انکشاف نہ صرف یہ کہ عقیدہٴ توحید کو ضرر نہیں پہنچاتا بلکہ وہ تو وجود خدا کے اثبات کے لئے نظام خلقت سے ہمارے لئے مزید دلائل مہیا کرتا ہے ۔ یہ بات جاذب توجہ ہے کہ خود ڈارون پر جب الحاد اور نے دینی کا الزام لگا یا گیا تو اس نے اس کی تردید کی اور اصل ِ انواع کے بارے میں اپنی کتاب میں تصریح کی کہ میں تکامل ِ انواع کو قبول کرنے کے باوجود خدا پرست ہو ں ،اصولی طور پر خدا کو قبول کئے بغیر تکامل کی توجیہہ نہیں کی جاسکتی ۔ اس عبارت پر غور کریں ۔ وہ جانوروں کی مختلف انواع کے ظہور کے لئے علل ِطبیعی کو قبول کر نے کے باوجود ہمیشہ خدائے بیگانہ پر ایمان رکھتا ہے او ر تدریجاً جب اس کا سن آگے بڑھ تا ہے تو اس میں مافوق بشر قدرت کوسمجھنے کا ایک خاص اور اندرونی احساس شدید تر ہو جاتا ہے اس حد تک کہ وہ انسان کے لئے معمائے آفرینش کو لاینحل سمجھتا ہے ۔ 5 اصولی طور پر اس کا عقیدہ تھا کہ تکامل کے اس عجیب و غریب پیچ و خم میں انواع کی ہدایت اور ایک عام زندہ موجود کا ان مختلف انواع اور متنوع جانوروں میں تبدیلی ہونا کسی عقل کل کی طرف سے حساب شدہ او ر دقیق منصوبہ بندی کے بغیر ممکن نہیں ہے ۔ اور واقعاً ہے بھی ایسا ہی ۔ کیا تنہا مادہ جو عام اور پست ہے ایسی تعجب خیز اور عجیب و غریب مشتقات کو ایک بے پایا ں علم و قدرت کے سہارے کے بغیر کیسے وجود بخش ہو سکتا ہے جبکہ ان میں سے ہر کو اپنی مفصل تشکیلات ہیں ۔ نتیجہ یہ کہ یہ شور و غوغا بالکل بے بنیاد ہے ہے کہ تکامل انواع کا نظریہ خدا شناسی کے نظریہ سے تضاد رکھتا ہے ( چاہے ہم مفروضہ تکامل کو قبول کریں یا نہ کریں ) ۔ یہاں صرف ایک مسئلہ باقی رہ جاتا ہے اور وہ یہ کہ قتآن نے پیدائش آدم کی جو مختصر تاریخ بیان کی ہے کیا تکامل انواع کا مفروضہ اس سے تضاد رکھتا ہے یا نہیں ۔ اس کے بارے میں ذیل میں بحث کریں گے ۔