وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنسَانَ مِن صَلْصَالٍ مِّنْ حَمَإٍ مَّسْنُونٍ
Certainly We created man out of a dry clay [drawn] from an aging mud,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 15:26
[Pooya/Ali Commentary 15:26]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 15:26-44
Gift of special soul is reserved for Divine Lights which makes them superior to the creation of their time in matter of knowledge and tact. *********** Of several grades of Hell, one name Havia is for sinful Muslims. (2)( Saeer for Jews, (3) Hahim for Christians, (4) Sakar for Sabians, (5) Hotama for Magians, (6) Laza for Assoicators, and (7) Jahannam for hypocrites. Pride goes before destruction, and the devil, with all his devotees (like minded) will be hurled into Hell and cursed on Reckoning day. They shall seduce all those who leave the gate of the Ahl al-Bayt for worldly pleasures. They shall serve the devil and ultimately assemble in Hell. A wise man should forsake the pleasures and be content with life under self-denial in this world.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:26-40
سوره حجر / آیه 26 - 44
۲۶۔ وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۲۷۔ وَالْجَانَّ خَلَقْنَاہُ مِنْ قَبْلُ مِنْ نَارِ السَّمُومِ ۔ ۲۸۔ وَإِذْ قَالَ رَبُّکَ لِلْمَلَائِکَةِ إِنِّی خَالِقٌ بَشَرًا مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ۔ ۲۹۔ فَإِذَا سَوَّیْتُہُ وَنَفَخْتُ فِیہِ مِنْ رُوحِی فَقَعُوا لَہُ سَاجِدِینَ ۔ ۳۰۔ فَسَجَدَ الْمَلَائِکَةُ کُلُّھُمْ اٴَجْمَعُونَ ۔ ۳۱۔ إِلاَّ إِبْلِیسَ اٴَبَی اٴَنْ یَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ۔ ۳۲۔ قَالَ یَاإِبْلِیسُ مَا لَکَ اٴَلاَّ تَکُونَ مَعَ السَّاجِدِینَ ۔ ۳۳۔ قَالَ لَمْ اٴَکُنْ لِاٴَسْجُدَ لِبَشَرٍ خَلَقْتَہُ مِنْ صَلْصَالٍ مِنْ حَمَإٍ مَسْنُونٍ ۔ ۳۴۔ قَالَ فَاخْرُجْ مِنْھَا فَإِنَّکَ رَجِیم۔ ۳۵۔ وَإِنَّ عَلَیْکَ اللَّعْنَةَ إِلَی یَوْمِ الدِّینِ۔ ۳۶۔ قَالَ رَبِّ فَاٴَنْظِرْنِی إِلَی یَوْمِ یُبْعَثُونَ ۔ ۳۷۔ قَالَ فَإِنَّکَ مِنْ الْمُنْظَرِینَ ۔ ۳۸۔ إِلَی یَوْمِ الْوَقْتِ الْمَعْلُومِ ۔ ۳۹۔ قَالَ رَبِّ بِمَا اٴَغْوَیْتَنِی لَاٴُزَیِّنَنَّ لَھُمْ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاٴُغْوِیَنَّھُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔ ۴۰۔ إِلاَّ عِبَادَکَ مِنْھُمْ الْمُخْلَصِینَ۔ ۴۱۔ قَالَ ھَذَا صِرَاطٌ عَلَیَّ مُسْتَقِیمٌ ۔ ۴۲۔ إِنَّ عِبَادِی لَیْسَ لَکَ عَلَیْھِمْ سُلْطَانٌ إِلاَّ مَنْ اتَّبَعَکَ مِنْ الْغَاوِینَ۔ ۴۳۔ وَإِنَّ جَہَنَّمَ لَمَوْعِدُھُمْ اٴَجْمَعِینَ ۔ ۴۴۔ لَھَا سَبْعَةُ اٴَبْوَابٍ لِکُلِّ بَابٍ مِنْھُمْ جُزْءٌ مَقْسُومٌ۔ ترجمہ ۲۶۔ ہم نے انسان کو خشک شدہ مٹی سے پیدا کیا کہ جو بد بو دار(سیاہ رنگ) کیچڑ سے لی گئی تھی ۔ ۲۷۔اور اس سے پہلے ہم جن گرم او ر جلادینے والی آگ سے خلق کیا تھا ۔ ۲۸۔اور یاد کرو وہ وقت جب تیرے پر وردگار نے فرشتوں سے کہا : میں بشرکو خشک شدہ مٹی جو بد بودار کیچڑ سے لی گئی ہے ، سے خلق کروں گا ۔ ۲۹۔جب ہم اس کام کو انجام دے چکےں اور میں اپنی ( ایک شائستہ اور عظیم ) روح پھونکیں تو سب کے سب اسے سجدہ کرنا ۔ ۳۰۔ تمام فرشتوں سے بلا استثناء سجدہ کیا ۔ ۳۱۔ سوائے ابلیس کے کہ جس نے سجدہ کرنے والوں میں سے ہونے سے انکار کردیا ۔ ۳۲۔(اللہ نے ) فرمایا اے ابلیس !تو ساجدین کے ساتھ کیوں شامل نہیں ہوا ؟ ۳۳۔اس نے کہا : میں ہر گز ایسے بشر کو سجدہ نہیں کروں گا جسے تونے بد بودار کیچڑ سے لی گئی خشک شدہ مٹی سے بنایا ہے ۔ ۳۴۔فرمایا: ان ( فرشتوں ) کی صف سے نکل جا کہ تو ہماری درگاہ سے راندہ گیا ہے ۔ ۳۵۔اور تجھ پر روز قیامت تک لعنت (اور رحمت حق سے دوری ) ہوگی ۔ ۳۶۔اس نے کہا: پر وردگارا!مجھے روز قیامت تک مہلت دے ( اور زندہ رکھ ) ۔ ۳۷۔فرمایا: تو مہلت حاصل کرنے والوں میں سے ہے ۔ ۳۸۔(لیکن روز قیامت تک نہیں بلکہ ) معین دن اور وقت تک۔ ۳۹۔ اس نے کہا : پروردگارا!چونکہ تونے مجھے گمراہ کیا ہے میں مادی نعمتوں کو زمین میں ان کی نگاہ میں مزین کروں گا اور سب کو گمراہ کروں گا ۔ ۴۰۔مگر تیرے مخلص بندے ۔ ۴۱۔ (اللہ نے) فرمایا:یہ میری مستقیم اور سیدھی راہ ہے ( ہمیشہ کی سنت ہے ) ۔ ۴۲۔(کہ) تو میرے بندوں پر تسلط حاصل نہیں کرسکے گا مگر وہ گمراہ جو تیری پیروی کریں گے ۔ ۴۳۔اور جہنم ان سب کی وعدہ گاہ ہے ۔ ۴۴۔اس کے سات دروازے ہیں اور ہر در وازے کے لئے ان میں سے ایک معین گروہ تقسیم شدہ ہے ۔