وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِي السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَيَّنَّاهَا لِلنَّاظِرِينَ
Certainly We have appointed houses in the sky and adorned them for the onlookers,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 15:16
[Pooya/Ali Commentary 15:16] In the countless stars in the universe there is a marvellous order, beauty and harmony, on a scale which man is appreciating more and more as his knowledge is increasing. The first distinct belt is the Zodiac, which marks the position of the sun with reference to the movement of various constellation of stars of the solar system. Its twelve divisions are called the signs of the Zodiac. Through them we can mark off the seasons in our solar year, and express in definite laws the most important facts in meteorology, agriculture, seasonal winds, and tides. All these are vitally important and affect our physical life on the earth. The most important lesson we draw from them is that the author of the wonderful order and beauty is One, and He alone is entitled to our worship. Aqa Mahdi Puya says: The Zodiac belt is the lowest heaven. The heavens above it are more spiritual than physical. Celestial factors effect the terrestrial events. Some of the determinative occurrences of the celestial realm manifest themselves before they produce an effect upon the terrestrial world. Those who delve in occult sciences rely upon these manifestations to foretell the future. Such attempts are not reliable because the radiating celestial bodies (shihabun mubin or shahab thaqib) prevent them from reading the actual consequences. The shooting star or flaming fire, most probably, is the continuous radiation from the celestial bodies which pierces into the terrestrial hemisphere. It may mean that the conjunctions of radiations from different celestial sources neutralise the effect of each other and it becomes immeasurable and incomprehensible to those who try to foretell the future. Spiritually speaking, order, beauty, harmony, light and truth are repugnant to evil. Therefore the bliss of the heavens are denied to the forces of evil. It is reserved only for the virtuous. The crooked nature of evil try to gain access by fraud or stealth but a flaming fire stops them from even hearing the sound of harmony ringing in the land of eternal bliss. Qummi in his commentary says that when the Holy Prophet was born a mass of shooting stars was seen in the sky. A Jew named Joseph came to Makka and asked the Quraysh if a male child was born in their tribe. They did not know, but when he told them that it was written in Pentateuch that when the last prophet of Allah would be born the devilish forces will be driven away from the heaven by the shooting stars and their access to the higher regions would be blocked for ever, they made inquiries and found out that in the night before a son was born to Abdullah bin Abd al Muttalib. In the same night the palace of Kisra in Persia was cracked and the fire burning in the temple for a thousand years was extinguished .
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:16-18
نتیجہٴ بحث
نتیجہٴ بحث ان آیا ت کی تفسیر کے سلسلے میں مباحث بہت طویل ہو گئے ہیں اب مکمل نتیجہ حاصل کرنے کے لئے ہمیں چند نکات کی طرف توجہ کرنا چاہیئے ۔ ۱۔لفظ ”سماء“(آسمان )بہت سی آیات قرآن میں ایسی مادی آسمان کے معنی میں مثلاً سورہ اعراف کی آیہ ۴۰ میں ہے :۔ ان الذین کذبوا باٰیاتنا و استکبروا و اعنھا لا تفتح لھم ابواب السماء وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کی تکذیب کی ہے اوران کے سامنے تکبر اختیار کیا ہے آسمان کے در وازے ان کے رخ پر نہیں کھلیں گے ۔ ہوسکتا ہے یہاں آسمان قرب خدا کے لئے کنایہ ہو جیسا کہ سورہ ٴ فاطر کی آیہ۱۰ میں ہے ۔ الیہ یصعد الکلم الطیب و العمل الصالح یرفعہ پاکیزہ باتیں اس کی طرف اوپر جاتی ہیں اور وہ عمل صالح کو بلند کرتا ہے ۔ واضح ہے کہ اعمال صالح اور پاکیزہ باتیں کوئی ایسی چیز نہیں کہ جو اس آسمان کی طرف اوپر جائیں بلکہ ان کی پیش رفت مقام قرب خدا کی طرف ہوتی ہے او وہ روحانی عظمت و رفعت حاصل کرتے ہیں ۔ اصولی طور پر آیات قرآن کے بارے میں ”انزل“ اور” نزل“کی تعبیر واضح طورپر بتاتی ہے کہ مقام قدس پروردگار سے قلب ِپیغمبر پر نزول مراد ہے ۔ سورہ ابراہیم کی آیہ۲۴ میں ہے :۔ الم ترا کیف ضرب اللہ مثلاًکلمة طیبة کشجرة طیبة اصلھا ثابت فرعھا فی السماء کیا تونے نہیں دیکھا کہ خدا نے اچھی بات کی مثال پیش کی ہے کہ گویا ایک پاکیزہ درخت ہے اس کی جڑ مضبوط ہے اور اس کی ٹہنیاں آسمان میں ہیں ۔ اس کی تفسیر میں ہم نے پڑھا ہے کہ یہ پاکیزہ درخت جسے خدا نے مثال کے طورپر بیا ن کیا ہے اس کی جڑ پیغمبر ﷺ ہیں ۔ اور علی (علیہ السلام) اس کی جڑاور شاخ( وہی شاخ کہ جو آسمان تک پہنچی ہوئی ہے ) اور دیگر آئمہ اس کی کچھ چھوٹی شاخیں ہیں1 ایک حدیث میں ہے : کذٰلک الکافرون لاتصعد اعمالھم الیٰ السماء اسی طرح کفا ر کہ جن کے اعمال آسمان کی طرف اوپر نہیں جاتے۔ واضح ہے کہ اسی احادیث میں آسمان اس حسی آسمان کی طرف اشار ہ نہیں ہے یہاں سے ہم نتیجہ نکال تے ہیں کہ آسمان مادی مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور معنوی مفہوم میں بھی ۔ ۲۔نجوم ( ستارے) بھی ایک مادی مفہوم رکھتے ہیں کہ جو یہی ستارے ہیں جو آسمان میں نظر آتے ہیں اور ایک لفظ کا معنوی مفہوم ہے کہ جو علماء اور بڑی شخصیت کی طرف اشارہ ہے کہ جو انسانی معاشروںکو روشنی بخشتے ہیں اور جیسے لوگ ستاروں کے ذریعے تاریک راتوں میںبیابانوں میں اور سمندوں میں اپنا راستہ ڈھونڈتے ہیں ، انسا نی معاشروں میں عام لوگ بھی زندگی اور سعادت کی راہ علماء آگاہ اور صاحب ایمان رہبروں کی مدد سے پاتے ہیں ۔ مشہو حدیث جو پیغمبراکرم ﷺ سے نقل ہوئی ہے :۔ مثل اصحابی فیکم کمثل النجوم بایھا اخذ اھتدیٰ میرے اصحاب ستاروں کی طرح ہیں جس کی اقتداء ہو جائے باعث ہدایت ہے 2 سورہ انعام آیت اس طرح ہے : وھوالذی جعل لکم النجوم لتھتدوا بھا فی الظمات البر و البحر اور وہ ذات کہ جس نے تمہاے لئے ستارے بنائے تاکہ خشکی اور دریا کی تاریکیوں میں ان کے ذریعے تمہاری ہدایت ہو ۔ تفسیر علی بن ابراہیم میں اس آیت کے ذیل میں منقول ہے کہ امام (علیہ السلام) فرمایا : النجوم آل محمد ستارے سے مراد خاندان ِپیغمبر ہے ۔3 ۳۔ بحث آیات کی تفسیر میں وارد ہونے والی متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمانوں کی طرف شیاطین کے صعود کی ممانعت اور ستارو ں کے ذریعے ان کا ہانکا جانا پیغمبر اکرم کی ولادت کے وقت سے ہوا اور بعض روایات سے معلوم ہوا ہے کہ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدائش کے وقت سے شیاطین ایک حد تک ممنوع ہوئے اور پیغمبر کی ولادت کے بعد مکمل طور پر ممنوع ہوگئے4 ان باتوں سے جو ہم نے بیان کی ہیں یہ نتیجہ نکالا جاسکتا ہے کہ ”سماء“ کا یہاں معنوی مفہوم ہے اور یہ حق ،ایمان اور روحانیت کے آسمان کی طرف اشارہ ہے اور ہر وقت شیطانوں کی کوشش ہے کہ وہ اس چار دیواری میں داخل ہو نے کے لئے راہ پالیں اور سچے مومنین اور حامیان حق کے دلوں میں طرح طرح کے وسوسوں کے ذرریعے نفوذپیدا کرلیں لیکن مرادانِ الٰہی اور راہبران راہ حق انبیاء و آئمہ سے لے کر مجتہد علماء تک اپنے علم و تقویٰ کی طاقتور موجوں کے ساتھ ان پر حملہ کرتے ہیں اور انہیں اس آسمان سے قریب ہونے سے ہانکتے ہیں۔ اسی مقام پر حضرت مسیح کے تولد اور اس سے بالا تر حضرت محمد ﷺکے تولد اور شیطان کے دھتکار نے کے درمیان ربط معلوم کیا جاسکتا ہے ۔ نیز یہیں پر آسمان کی طرف صعود اور اسرارر سے آگاہی کے درمیان ارتباط معلوم کیا جاسکتا ہے ۔کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ اس مادی آسمان میں کوئی خاص خبریں نہیں ہیں سوائے خلقت کی عجیب و غریب چیزوں کے جو روئے زمین سے بھی قابل مطالعہ ہیں ۔ نیز آج کی دنیا میں یہ مسئلہ یقینی ہوچکا ہے کہ اس بیکراں فضامیں پھیلے ہوئے آسمانی کرات میں سے بعض مردہ ہیں اور بعض زندہ ہیں او ر ان کے ساکنان بھی ہیں لیکن شاید ان کی زندگی ہم سے بہت زیادہ مختلف ہو ۔ یہ موضوع بھی بہت قابل ملاحظہ ہے کہ شہاب صرف زمین کی فضا سے پیدا ہوتے ہیں ۔ اطراف زمیں کی ہوا سے پتھر کے ٹکڑے اٹھتے ہیں اور شعلہ ور ہوتے ہیں انہی سے شہاب پیدا ہوتے ہیں ورنہ زمین کی فضا سے باہر کوئی شہاب نہیں ہوتا البتہ زمینی فضا سے باہر کچھ پتھر سر گرداں ہیں لیکن انھیں شہاب نہیں کیا جاتا لیکن جب وہ زمینی فضامیں داخل ہوتے ہیں تو گرم ہوکر شعلہ ور ہوجاتے ہیں اور انسان کی نظروں سے سامنے آگ کی ایک لکیر کی صورت میں نمایاں ہوتے ہیں یو لگتا ہے کہ جیسے یہ حرکت کرتے ہوئے ستارے ہیں ۔ نیزہم یہ بھی جاتنے ہیں کہ آج کے انسان نے کئی مرتبہ زمین کی فضا سے باہر کی طرف عبور کیا ہے اور اس سے بہت بلند یہاں تک کہ چاند تک پہنچا ہے (توجہ رہے کہ زمین کی فضا ایک سوسے لیکر دوسو کلو میٹر سے زیادہ نہیں ہے جبکہ چاند ہم سے تیس لاکھ کلومیٹر سے بھی زیادہ فاصلے پر ہے ) ۔ لہٰذااگر مراد یہی مادی شہاب اور مادی آسمان ہوتو یہ مان لینا چاہئیے کہ یہ علاقہ انسانی سائندانوں پر ظاہر ہوچکا ہے اور اس میں کوئی اسرار کی بات نہیں ہے ۔ خلاصہ یہ کہ بہت سے قرائن و شواہد جو ہم نے ذکر کئے ہیں ،سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان سے مراد حق و حقیقت کا آسمان ہے ، اور شیاطین وہی وسوسہ پیدا کرنے والے ہیں کہ جو کوشش کرتے ہیں کہ اس آسمان تک رسائی حاصل کرسکیں اور مخفی طور پر کان لگا کر باتیں سنیں اور لوگوں کو گمراہ کریں ۔ ستاررے اور شہاب یعنی رہبران الہٰی اور علماء اپنے قلم کی طاقتور لہروں اور موجوں سے انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں اور دھتکار تے دیتے ہیں ۔ لیکن قرآن بحر بیکراں ہے اور ہوسکتا ہے کہ آنے والے علماء ان آیات کے سلسلے میں نئے حقائق تک دسترس حاصل کرلیں کہ آج جن تک ہم رسائی حاصل نہیں کرسکے۔ 1۔تفسیر بر ہان جلد ۲ ص۳۱۰۔ 2۔سفینة البحار جلد۲ ص ۹۔ یہ روایت سنی روایات سے ملتی جلتی ہے ۔ظاہر ہے کہ اس کا اطلاق اور عموم قابل عمل نہیں ہے کیونکہ صحابہ میں ہر قسم کے لوگ حتی کہ منافقین بھی داخل ہیں اگر یہ روایت صحیح ہے تو اس سے یاتو سلماو ابوذر جیسے خاص اصحاب مراد ہیں یا اصحاب کساء اور اہل بیت مراد ہیں ہمارے اس نظریہ کی تائید سورہ ٴ انعام کی آیہ۹۷ کے ذیل میں آنے والی مذکورہ بالا روایت کی بھی کرتی ہے ۔ یہ بھی اسی معنی کی طرف اشارہ ہے ۔ 3 ۔نور الثقلین جلد۱ ص ۷۵۰۔ 4۔نور الثقلین جلد ۳ ،ص ۵ تفسیر قرطبی ج۵ م ص۳۶۲۶۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:16-18
سوره حجر / آیه 16 -18
۱۶۔ وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا وَزَیَّنَّاھَا لِلنَّاظِرِینَ ۔ ۱۷۔ وَحَفِظْنَاھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ ۔ ۱۸۔ إِلاَّ مَنْ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاٴَتْبَعَہُ شِھَابٌ مُبِینٌ ۔ ترجمہ ۱۶۔ ہم نے آسمان میں برج قرار دئیے ہیں اور انھیں ناظرین کے لئے زینت عطا کی ہے ۔ ۱۷۔اور اس کی ہر شیطان مردود سے حفاظت کی ہے ۔ ۱۸۔ مگر اشتراق سمع کرنے والے کہ شہاب ِ مبین جن کا تعاقب کرتے ہیں ( اور انھیں ہانکتے ہیں ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:16-18
شیطان شہاب کے ذریعے ہانکے جاتے ہیں
شیطان شہاب کے ذریعے ہانکے جاتے ہیں : ان آیات میں توحید اور شناخت ِ خدا کی دلیل کے طور پر نظام اافرینش کے ایک گوشے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ان آیات کے ذریعے قرآن و نبوت کے بارے میں گذشتہ آیا ت کی بحث مکمل کی گئی ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : ہم نے آسمان میں برج قرار دئے ہیں ( وَلَقَدْ جَعَلْنَا فِی السَّمَاءِ بُرُوجًا ) ۔ ”بروج“ ”برج“ کی جمع ہے اس کا اصلی معنی ”ظہور“ ہے اسی بنا پر اطراف ِ شہر کی دیوار یا اجتماع ِ لشکر کے اس مخصوص حصے کو برج کہا جاتا ہے جو خاص ظہور کرتا ہو ۔ نیز اسی بناء پرجب عورت اپنی زینت ظاہر و آشاکر کرے تو ” تبرجت المرائة“ کہتے ہیں ۔ بہرحال آسمانی برج سورج اور چاند کی منازل کی طرف اشارہ ہیں زیادہ دقیق تعبیر میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ جب ہم کرہٴ زمین سے چاند اور سورج کی رف نگاہ کریں تو سال کے مختلف مواقع پر انھیں ہم ایک خاص صورت فلکی میں دیکھتے ہیں ( سیاروں کے مختلف مجموعے ہیں ان میں سے ہر ایک نے ایک خاص شکل اختیار کی ہوتی ہے ، اسے صورت فلکی کہتے ہیں ) اور کہا جاتا ہے کہ سورج برج حمل، ثور ، میزان ، عقرت، یاقوس میں ہے ۔ ۱ ان آسمانی برجوں کا وجود ، آفتاب و ماہتاب کی منزلیں اور وہ خاص نظام جو ان کی حرکت کے لئے ان پر بر جوں میں موجود ہے کہ جس سے ہماری دنیائے ہستی کی تقویم بنتی ہے آفریدگار اور خالق کے علم و قدرت پر یہ ایک واضح دلیل ہے یہ عجیب و غریب نظام جو دقیق بھی ہے اور باریک حساب کا حامل ہے ۔ مسلسل اور رواں دواں ہے ، ظاہر کرتا ہے کہ جہان کی خلقت ایک منصوبے اور ہدف کے تحت ہے اور اس میں ہم جتنا زیادہ غور و فکر کریں ہم اس جہان کے خالق اتناہی قریب ہو جاتے ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے آسمان کو اور ان کی فلکی صورتوں کو ناظرین کی زینت عطا کی ہے (وَزَیَّنَّاھَا لِلنَّاظِرِینَ ) ۔2 ایک تاریک ستاروں بھری رات میں آسمان کی طرف نظر اٹھائیں تو ہم دیکھیں گے کہ مختلف گوشوں میں ستاروں کے مختلف گروہ موجود ہیں گویا ہ رگروہ کی اپنی انجمن ہے ۔ اور وہ آپس میں آہستہ آہستہ راز و نیاز کی باتیں کررہے ہیں ۔ بعض خیرہ خیرہ ہماری طرف دیکھتے ہیں مگر آنکھ سے اشارہ بھی نہیں کرتے اور بعض ہیں کہ مسلسل اشارہ کررہے ہیں گویا ہمیں اپنی طرف بلارہے ہیں ۔ بعض چمکتے ہوئے یوں لگتے ہیں کہ جیسے ہمارے قریب ہو تے جارہے ہیں کچھ ایسے بھی ہیں جو اپنے کم رنگ نور کے ساتھ گویاآسمانوں کی ان پہنائیوں سے بغیر آواز کے صدا دے رہے ہیں کہ ہم بھی یہاں ہیں یہ خوبصورت شاعرانہ منظر جو شاید بعض کے لئے مشاہدہ کے باعث معمول کا جلوہ ہو لیکن اس پر جتنا بھی غور و فکر کریں یہ قابل ِ دید، جاذب نظر اور شوق انگیز ہے اور جب چاند اپنی مختلف شکلوں میں ان گروہ د رگروہ ستاروں کے ساتھ ظاہر ہوتا ہے تو یہ منظر اور بھی تازہ اور اعجاب انگیز ہو جاتا ہے ۔ غروبِ آفتاب کے بعد ستارے یکے بعد دیگرے نمودار ہوتے ہیں گویا کسی پر دے کی اوٹ سے باہر کی طرف دوڑ رہے ہوں ۔ یہی تارے دم صبح خیرہ کن آفتاب کی قوت کے سامنے ٹھہر نہیں پاتے ، بھاگ جاتے ہیں اور اپنے آپ کو چھپالیتے ہیں ۔ اس سے قطع نظر علمی زیبائیوں اور فراواں اسرار کی نگاہ سے آسمان کاچہرہ اس قدر خوبصورت ہے کہ ہزاروں سال تمام علماء اور دانش مندوں کی آنکھ اسی کی طرف لگی ہوئی ہے ۔ خصوصاً آج کی دنیا میں نہایت طاقتور ٹیلی سکو پس اور ستارے دیکھنے والی عظیم دوربینوں کے ذریعے اس کی طرف دیکھا جاتا ہے اور ہر وقت اس سے ظاہر اً خاموش مگر غوغا حا کم کے تازہ اسرار اہل ِ دنیا کے لئے منکشف ہو رہے ہیں ، سچ ہے کہ : چرخ بایں اختران نغزو خوش و زیبا ستی آسمان ان عمدہ ، اچھے اور زیبا ستاروں کے ساتھ ہے بعد والی آیت میں مزید فرمایا گیا ہے : ہم نے اس آسمان ک وپر مردود، شوم اور ملعون شیطان سے محفوظ رکھا ہے ۔ ( وَحَفِظْنَاھَا مِنْ کُلِّ شَیْطَانٍ رَجِیمٍ ) ۔ مگر وہ شیطان کہ جو اشتراق سمع“ ( خبریں چرانا ) کی ہوس کرتے ہیں ان کا تعاقب شہابِ مبین کرتے ہیں اور انھیں پیچھے کی طرف ہانکتے ہیں ( إِلاَّ مَنْ اسْتَرَقَ السَّمْعَ فَاٴَتْبَعَہُ شِھَابٌ مُبِینٌ ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 15:16-18
شیطان شہاب کے ذریعے کیسے ہانکے جاتے ہیں ؟
شیطان شہاب کے ذریعے کیسے ہانکے جاتے ہیں ؟ زیر نظر آخری آیت ان آیات میں سے ہے جس کے متعلق مفسرین نے بہت کچھ کہا ہے اور ہر ایک نے ایک خاص راستہ طے کیا ہے اور اسے ایک معین نتیجہ نکالا ہے ۔ چونکہ بعینہ یہی مضمون سورہٴ صافات ( آیہ ۶،۷) اور سورہٴ جن (آیہ ۹) میں آیا ہے اور یہ ایسے مسائل میں سے ہے کہ جس کے بارے میں ممکن ہے بے خبر افراد کچھ ایسے سوالات اٹھائیں جو جواب کے بغیر رہ جائیں لہٰذا ضروری ہے کہ پہلے بزرگ عظیم اسلامی مفسرین کی آراء پر ایک نگاہ ڈال لیں اور پھر جس رائے کو ہم ترجیح دیں اسے بیان کیا جائے ۔ ۱۔ بعض مفسرین مثلاًتفسری فی ظلا ل کا مولف ان آیات اور اس قسم کی دیگر آیات سے برے آرام سے یہ کہہ کر گزرگئے ہیں کہ یہ ایسے حقائق ہیں جن ک اادراک ہمارے لئے ممکن نہیں ہے اور ضروری ہے کہ جو کچھ ہمارے حقیقی اعمال میں سے ہماری زندگی میں موٴثر ہے اسے اہمیت دیں ۔ لہٰذا انھوں نے ان آیات کی اجمالی سی تفسیر پر قناعت کرتے ہوئے اس مسئلے کی توضیح سے صرف ِ نظر کیا ہے ۔ تفسیر فی ظلا ل کا مولف لکھتا ہے : شیطان کیا ہے وہ کس طرح اشترا ق سمع کرنا چاہتا ہے اور وہ کیا چرانا چاہتا ہے ؟ یہ سب چیزیں خدائی غیوب میں سے ہیں کہ نصوص کے ذریعے جن کی دست یابی نہی ہوسکتی اور ان کے بارے میں تحقیق و جستجو کاکوئی فائدہ نہیں کیونکہ اس سے ہمارے عقیدے میں کوئی آضافہ نہیں ہوتا ۔ اس کا اس کے سواکوئی فائدہ نہیں کہ فکر انسانی ایسی چیزمیں مشغول ہ وجاتی ہے جو اس کے ساتھ کوئی خاص ربط نہیں رکھتی اور اسے انسان اپنی زندگی میں حقیقی عمل انجام دینے سے رک جاتا ہے ۔ علاوہ ازیں ان کے بارے میں تحقیق سے کسی جدید حقیقت کے بارے میں ہمیں کوئی نیا ادراک نہیں ملتا 3 لیکن اس میںنہیں کہ قرآن ایک ایسی عظیم انسان ساز ، تربیت کنندہ اورحیات بخش کتب ہے کہ اگر کوئی چیز حیاتِ انسانی کے ساتھ ربط نہ رکھتی ہو تو وہ اس میں ہر گز نہ ہوگی ۔ یہ کتاب ساری کی ساری درس ہے درسِ زندگی ہے علاوہ ازیں کوئی شخص اس بات کو قبول نہیں کر سکتا کہ قرآن میں ایسے حقائق ہوں کہ جنہیں معلوم نہ کیا جاسکتا ہو ، کیا قرآن نور کتاب ِ مبین نہیں ہے اور کیا یہ لوگوں کے فہم و تدبراور ہدایت کے لئے نازل نہیں ہوا ۔ تو کیسے ان آیات کو سمجھنا ہم سے ربط نہیں رکھتا ؟ بہر حال ان آیات اور ان جیسی آیات کے بارے میں یہ طرز اعتراض ہمیں پسند نہیں ہے ۔ ۲۔ مفسرین کی ایک اہم جماعت خصوصاً متقدین مفسرین کا اصرار ہے کہ آیت کے ظاہری معنی کو پوری طرح محفوظ رکھا جائے ۔ ان کے نزدیک ”سماء “ اسی آسمان کی طرف اشارہ ہے اور ”شہاب“ اسی ”شہاب “ کی طرف اشارہ ہے یعنی وہی سرگرداں سنگریزے جو اس فضائے بیکراں میں گر دش کررہے ہیں اور کبھی کبھاروہ زمین کی قوت ثقل کی زد میں آجاتے ہیں تو زمین کی طرف کھنچ آتے ہیں ۔ہوا کی لہروں سے تیزی سے ٹکرانے کی بنا وہ سرخ اور شعلہ ور ہو جاتے ہیں اور خاکستر بن جاتے ہیں ۔ نیز” شیطان “ وہی خبیث، راندہ اور سر کش موجودات ہیں جو آسمانوں کی طرف جانا چاہتے ہیں اور ہمارے اس جہان کی کچھ خبریں کہ جو آسمان میں منعکس ہوتی ہیں انھیں استراق سمع سے ( مخفی طور پر کان لگا کر ) معلوم کرنا چاہتے ہیں ۔ لیکن شہاب تیروں کی طرح ان کی طرف آتے ہیں اور انھیں ایسا کرنے سے باز رکھتے ہیں ۔4 ۳۔ مفسرین کی ایک اور جماعت نے ان آیات کی تعبیرات کو تشبیہ کنایہ اور امثال کے طور پر لیا ہے ۔ یعنی اصطلاحاًانھیں سمبالک(SYM BOLIC)سمجھا ہے ان مفسرین میں المیزان کے عالی قدر مفسر اور صاحب تفسیر الجواہرطنطاوی شامل ہیں ۔ ان مفسرین نے اس تشبیہ و کنایہ کو مختلف صورتوں میں بیان کیا ہے ۔ الف ۔تفسیر المیزان میں ہے : مفسرین نے شیاطین کے استراق سمع اور شہاب کے ذریعے ان کے ہانکے جانے کے بارے میں جو مختلف توجیہات کی ہیں ایسی چیزپرمبنی ہیں جو کبھی کبھی ظاہر آیات وروایات سے ذہن میں آتی ہیں وہ یہ کہ افلاک زمین پر محیط ہیں ان میں فرشتوں کے مختلف گروہ موجود ہیں ہر گروہ کے لئے ان افلاک میں کئی دروازے ہیں کہ جن میں سے ان فرشتوں کے علاوہ کوئی نہیں آجا سکتا ۔ ان فرشتوں میں سے کچھ اپنے ہاتھ میں شہاب لئے ہوئے ہیں اور وہ استراق سمع کرنے والے شیاطین کی تاک ہیں کہ ان کے ذریعے ان کی سر کوبی کریں اور انھیں ہانکیں۔ حالانکہ آج کی دنیا میں واضح ہو چکا ہے کہ ایسے نظر یات بے بنیاد ہیں ایسے کوئی افلاک ہیں نہ دروازے اور نہ ہی ایسی اور چیزیں۔ جو کچھ یہاں بطور احتمال کہا جا سکتا ہے یہ ہے کہ ایسے بیانات کلام ِ الہٰی میں امثال کی طرح ہیں کہ جو غیر حسی حقائق واضح کرنے کے لئے حسی لباس میں ذکر ہوتے ہیں ۔ جیسا کہ خدا فرماتا ہے : و لک الامثال نضربھا للناس وما یعقلھا الا العالمون (یہ امثال ہیں کہ جو ہم لوگون کے لئے بیان کرتے ہیںاور صاحبان ِ علم کے علاوہ انھیں کوئی نہیں سمجھ سکتا ۔ ( عنکبوت۴۳) ۔ ایسی مثالیں قرآن میں بہت زیادہ ہیں مثلاًعرش، کرسی ، لوح اور کتاب ۔ لہٰذا آسمان کہ جو فرشتوں کا مسکن ہے سے مراد ایک عالم ِ ملکوتی ہے جو عالم طبیعت سے ماوراء ہے کہ جو اس جہانِ محسوس سے برتر و بالاتر ہے اور اس آسمان کی باتیں چوری چھپے سننے کے لئے شیطانوں کے قریب ہونے اور ان کی طرف شہاب پھینکے جانے سے مراد ہے کہ وہچاہتے ہیں کہ عالم ِ ملائکہ قریب ہوں تاکہ اسرار خلقت اور حوادث آئندہ کے بارے میں آگاہی حاصل کریں لیکن وہ ملائکہ معنوی و ملکوتی انوا سے شیطانوں کو ہانکتے ہیں ۔کیونکہ ان انوارکو بر داشت کرنے کی وہ تاب نہیں رکھتے5 ب:طنطاوی اپنی مشہو ر تفسیر میں لکھتا ہے :۔ ایسے علماء جو حیلہ گر اور ریا کار ہیں اور عام لوگ جو ان کی پیروری کرتے ہیں یہ اہلیت نہیں رکھتے کہ آسمانوں کی عجائب، عالم بالا کی شگفیاں ، اس کے بے کراں کرات اور ان پر حکم فرماں نظم و حساب سے آگاہ ہوں خدا نے انھیں اس علم دانش سے محروم رکھا ہے اور ستاروں بھرے ،خوبصورت اور مززین ازآسمان کے تمام اسرار ان کے افراد کے اختیار میں دئیے ہیں جو عقل و ہوش اور اخلاص و ایمان رکھتے ہیں ۔ فطری او رطبیعی ہے کہ پہلا گروہ اس آسمان کے اسرار میں نفوذ سے روک دیا جاتا ہے اور درگاہ الٰہی سے دھتکار ا ہوا شیطان چاہے نوع بشر سے ہو یا غیر بشر سے ، ان حقائق تک رسائی کا حق نہیں رکھتا اور جس وقت وہ ان کے نزدیک ہوتا ہے تو دھتکار دیا جا ہے ۔ ایسے افراد ممکن ہے بہت سال جئےں اور مر جائیں مگر ان اسرار تک ہر گز نہیں پہنچ پاتے ۔ ان کی آنکھیں کھلی تو ہوتیں ہیں لیکن حقایق دیکھنے کی تاب نہیں رکھتیں۔ کی ایسا نہیں کہ اس کا علم اس کے عاشقوں کے سوا کسی کو نہیں ملتا اور اس کے جمال کا نظار ہ اس کے عارفوں کے سواکوئی نہیں کرسکتا ۔ 6 اس میں کیا مانع ہے کہ یہ تعبیرات کنایہ ہوں ، منع حسی منع عقلی کی طرف اشارہ ہوجبکہ کنایہ بلاغت کی بہترین انواع میں سے ہے ۔ کیا ہم دیکھتے نہیں کہ بہت سے لوگ جو ہمارے آس پاس زندگی کزار تے ہیں وہ اس زمین کے حدود اربعہ میںمحبوس اور قید ہیں ان کی آنکھ کبھی جہان وبلا کی طرف نہیں اٹھتی اور وہ صدائے بالا پر کان نہیں دھرتے اور ا س جہان کے امور اور عجائبات کی انھیں کوئی خبر نہیں وہ خود خواہی ، شہوت ، کینہ وری، طمع و حرص اور خانماںن ساز شہاب کے ذریعے ان اعلی ٰ معانی کے ادراک سے ہانکے گئے ہیں (اور اگر کسی روز وہ ایسی خواہش ظاہر کریں تو اپنے قلب وروح کی ان آلودگیوں کے باعث وہ ہانکے جائیں گے 7 ج:۔ایک او رمقام پر اس نے جو گفتگو کی ہے اس کا خلاصہ کچھ اس طرح ہے : جس وقت انسانوں کی ارواح اس دنیا سے جہان برزخ کی طرف منتقل ہوتی ہیں ان کا زندوں کی روح کے ساتھ تعلق او ارتباط ہوتا ہے او رجہاں ان کے درمیان مناسبت او میلان ہواور وہ احضار ارواح وغیرہ کے ذریعے ان سے ارتباط اور تفاہم بر قرار رکھ سکیں تو کچھ مسائل ان کے اختیار میں دئے جاتے ہیں جو بعض اوقات حق او ر بعض اوقات باطل ہوتے ہیں کیونکہ وہ عوالم اعلیٰ تک رسائی نہیں کرسکتے بلکہ ان کی رسائی صرف نچلے عوالم تک ہوسکتی ہے ، مثلاًجسے مچھلی اپنے محیط سے باہر نکل کر ہوا میں پرواز نہیں کر سکتی ، وہ بھی طاقت رکھتے کہ اپنے جہان کے حدود اربعہ سے نکل کر بالاتر چلے جائیں ۔ د:بعض دوسرے کہتے ہیں جدید سائنسی انکشافات نشاندہی کرتے ہیں کہ بہت دور کی فضا سے طاقتور ریڈلہروں کا ایک سلسلہ جاری ہے انھی کرہ زمین میں ریڈیائی پیغامات وصول کرنے والے مخصوص مرکزکے لئے اخذ کیا جا سکتا ہے ۔ کسی شخص کو معلوم نہیں کہ ان انتہائی طاقتورلہروں کا سرچشمہ کہاں ہے ۔ بعض سائنسداں کہتے ہیں کہ قوی احتمال ہے کہ دور کے آسمانی کروںمیں بہت سی زندہ موجودات کہ جوتمدن کے لحاظ سے ہم سے بہت زیادہ ترقی یافتہ ہیں لہٰذا وہ چاہتی ہیں کہ اپنی خبریں اس دنیا تک پہنچائیں ان خبروں میں ایسے مسائل بھی موجود ہیں جو ہمارے لئے نئے ہیں اور موجودات کہ جنھیں دیو اورپری کہتے ہیں کوشش کرتے ہیں کہ ان لہروں سے فائدہ اٹھائیں لیکن طاقتور شعائیں انھیں دور پھینک دیتی ہیں 8 3۔ تفسیر فی ظلال ج۵ ص ۳۹۶۔ 4۔فخر رازی نے اپنی تفسیر کبیر اور آلوسی نے روح المعانی میں اس تفسیر کا ذکر کرنے کے بعد ہیئت قدیمہ کے حوالے سے پیدا ہونے والے مختلف اشکالات کے جواب بھی دئیے ہیں اور کہا ہے کہ آج کی ہیئت کی طرف توجہ کرتے ہوئے افلاک کا پیاز کے چھلکوں کی طرح ہونے کا ذکر کرنے کی ضرورت نہیں ہے ۔ 5۔المیزان ج۱۷ص۱۳۰۔ سورہ صافات کی آیات کے ذیل میں ۔ 6۔تفسیر طنتاوی ،ج۸ ص۱۱۔ 7۔تفسیر طنطاوی ،ج۱۸ ص ۱۰ 8تفسیر قرآن بر فرا زاعصار۔مولفہ ع نوفل صفحہ ۲۵۸۔