الٓر كِتَابٌ أَنزَلْنَاهُ إِلَيْكَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنَ الظُّلُمَاتِ إِلَى النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّهِمْ إِلَى صِرَاطِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِ
Alif, Lam, Ra. [This is] a Book We have sent down to you that you may bring mankind out from darkness into light, by the command of their Lord, to the path of the All-mighty, the All-laudable
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 14:1
[Pooya/Ali Commentary 14:1] For Alif, Lam, Ra (huruf muqatta-at) see commentary of al Baqarah: 1. "(This is) a book We have sent down to you" implies that the whole Quran was revealed to the Holy Prophet in a complete book form; it was neither edited nor arranged nor compiled by any one after its revelation. See Aqa Puya's essay "The genuineness of the Holy Quran", and commentary of al Baqarah: 2. The purpose of the revelation of the book is to lead mankind out of the depths of darkness (ignorance and false beliefs) into the light of truth, knowledge and virtue. The divine guidance is for all mankind, not for a particular community or nation. Also see Araf: 158 and Saba: 28. Allah's exalted position is above all creation; His goodness is all for the good of Man and His creatures; His control over His creation is complete; so He carries out His will and plan. All praise belongs to Him. The disbelievers love this ephemeral life and its vanities and reject the true life of the hereafter. By doing so they not only harm themselves but also mislead others; and draw down on themselves the wrath to come. They search for something crooked in Allah's path and go farther and farther from the truth. Surely those who hinder or lay obstruction in the path of Allah include those who had harassed, persecuted and killed the children of the Holy Prophet by corrupting the true faith and introducing the false doctrines of the days of ignorance, so they are rightly condemned and cursed as the infidels.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 14:1-6
Self-explanatory.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:1-3
سوره ابراهیم / آیه 1- 3
بِسْمِ اللهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِیْمِ ۱۔الر کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّورِ بِإِذْنِ رَبِّھِمْ إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ ۔ ۲۔ اللهِ الَّذِی لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ وَوَیْلٌ لِلْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ۔ ۳۔ الَّذِینَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا عَلَی الْآخِرَةِ وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلَالٍ بَعِیدٍ۔ ترجمہ رحمن و رحیم کے نام سے ۱۔ الر۔ یہ وہ کتاب ہے جو ہم نے تجھ پر نازل کی تاکہ تو پروردگار نے فرمان سے لوگوں کو (شرک ، ظلم اور طغیان کی )تاریکیوں سے نکال کر( ایمان ، عدل اور صلح کی ) کی روشنی کی طرف جائے ، عزیز وحمید خدا کی راہ کی طرف۔ ۲۔ وہی خدا کہ جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، اسی کاہے ۔ کافروں کے لئے افسوس ناک ہے عذاب ِ شدید ۔ ۳۔ وہی کہ جو دنیا ی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں اور ( لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ راہ ِ حق کو ٹیڑھا کردیں اور دور کی گمراہی میں ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:1-3
ظلمتوں سے نور کی طرف
یہ سورہ بھی قرآن کی بعض دیگر سورتوں کی طرح حروف مقطعہ ( آلرٰ) سے شروع ہوئی ہے ۔ ان حروف کی تفسیر ہم سورہ بقرہ، آل عمران اور اعراف کی ابتداء میں بیان کرچکے ہیں ۔ یہاں نکتے کا ذکر ہم ضروری سمجھتے ہیں یہ کہ ۲۹ مقامات پر قرآن کی سورتوں کا آغاز حروف مقطعہ سے ہوا ہے ۔ ان میں سے ۲۴ مقامات ایسے ہیں جن میں بلا فاصلہ قرآن مجید کے بارے میں گفتگو آئی ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ قرآن اور حروف مقطعہ کے درمیان کوئی تعلق موجود ہے اور ہوسکتا ہے یہ وہی تعلق ہو جس کا ذکر ہم سورہ ٴ بقرہ کی ابتداء میں کر چکے ۔ وہ یہ کہ خدا چاہتا ہے کہ اس سے واضح کرے کہ یہ عظیم آسمانی کتاب اپنے با عظمت معافی و مفاہیم کہ جن کی بناء پر وہ تمام انسانوں کی ہدایت اپنے ذمہ لئے ہوئے ہے کہ باوجود اسی سادہ سے خام مال ( الف ، باء) سے تشکیل پائی ہے اور یہ اس اعجاز کی اہمیت کی نشانی ہے کہ وہ سادہ ترین چیز سے افضل ترین چیز کو وجود بخشا ہے ۔ بہرحال الف ، لام، را ۔ کے ذکر کے بعد فرمایاگیا ہے :یہ وہ کتاب ہے کہ جو ہم نے تجھ پر اس لئے نازل کی کہ تو لوگوں کو گمراہیوں سے نکال کر نور کی طرف لے جائے ۔ (کِتَابٌ اٴَنزَلْنَاہُ إِلَیْکَ لِتُخْرِجَ النَّاسَ مِنْ الظُّلُمَاتِ إِلَی النُّور) ۔ درحقیقت نزول قرآن کے تمام تر بیتی ، انسانی ، روحانی اور مادی مقاصد اسی ایک جملے میں جمع ہیں ، ” ظلمتوں سے نکال کر نور کی طرف لے جانا“۔ ظلم و جہالت سے نورِ علم کی طرف ، ظلمت ِ کفر سے نور ایمان کی طرف ، ظلمت ِ ظلم سے نور ِ عدالت کی ، فساد سے نورِ صلاح کی طرف ظلمتِ گناہ سے نورِ تقویٰ کی طرف اور ظلمت ِ افتراق سے نور ِوحدت کی طرف۔ یہ امر جاذب نظر ہے کہ یہاں ” ظلمات “ بعض دیگر قرآنی سورتوں کی طرح جمع کی شکل میں آیا ہے اور ” نور “ واحد کی صورت میں ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ تمام نیکیاں ، پاکیزگیاں ، ایمان و تقویٰ او ر فضیلت نورِ توحید کے سائے میں اپنے آپ میں وحدت و یگانگی کی حالت میں ہیں اور سب ایک دوسرے سے مربوط ہیں اور متحد ہیں اور ان سے ایک متحد و واحد معاشرہ ، جو ہر لحاظ سے پاک و پاکیزہ کپڑ ے کی مانند ہو تیار کیا جاسکتا ہے ۔ لیکن ظلمت ہر مقام پر پراگندگی اور صفوں میں تفرقہ کا سبب ہے ۔ ستم گر ، بدکار، آلودہٴ گناہ اور منحرف لوگ عموماً اپنی انحرافی راہوں میں بھی وحدت نہیں رکھتے اور آپس میں حالت ِ جنگ میں ہوتے ہیں ۔ تمام نیکیوں کا سر چشمہ چونکہ خدا کی ذاتِ پاک اور ادراکِ توحید کی بنیادی شرط اسی حقیقت کی طرف توجہ ہے لہٰذا بلا فاصلہ مزید فرمایا گیا ہے : یہ سب کچھ ان ( لوگوں ) کے پر وردگار کے اذن وحکم سے ہے ( ِ بِإِذْنِ رَبِّھِمْ ) ۔ اس نور کے بارے میں مزید توضیح کے لئے فرمایا گیا ہے :عزیز و حمید خدا کی راہ کی طرف ( إِلَی صِرَاطِ الْعَزِیزِ الْحَمِیدِ ) ۔ ۱ وہ کہ جس کی عزت اس کی قدرت کی دلیل ہے کیونکہ کسی کے بس میں نہیں کہ اس پر غلبہ حاصل کرسکے اور اس کا حمید ہونا اس کی بے پایاں نعمات کی نشانی ہے کیونکہ حمد و ستائش ہمیشہ نعمتوں ، عنا ئتوں اور زیبائی پر ہوتی ہے ۔ اگلی آیت میں معرفت ِخدا کے لئے ایک درس ِ توحید دیتے ہوئے ارشاد ہوتا ہے : وہی خدا کہ جو کچھ آسمان و زمین میں ہے اسی ہے ( اللهِ الَّذِی لَہُ مَا فِی السَّمَاوَاتِ وَمَا فِی الْاٴَرْضِ) ۔ 2 تمام چیزیں اس کی ہیں کیونکہ وہی موجودات کاخالق ہے ، اسی بناء پر وہ قادر و عزیز بھی ہے ، تمام نعمتیں بخشنے والا اور حمید بھی ۔ ذکر مبداء کے بعد آیت کے آخر میں مسئلہ معاد کی جانب توجہ توجہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : وائے ہو کفار پر قیامت کے شدید عذاب سے ( وَوَیْلٌ لِلْکَافِرِینَ مِنْ عَذَابٍ شَدِیدٍ ) ۔ اگلی آیت میں بلا فاصلہ کفار کا تعارف کروایا گیا ہے ۔ ان کی صفات کے تین حصوں کاذکر کرکے ان کی کیفیت کو پوری طرح مشخص کردیا گیا ہے اس طرح سے کہ ہر شخص ان کا سامنا کرتے ہیں انہیں پہچان لے فرمایا گیا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو اس جہان کی پست زندگی کو آخرت کی زندگی پر مقدم شمار کرتے ہیں ( الَّذِینَ یَسْتَحِبُّونَ الْحَیَاةَ الدُّنْیَا عَلَی الْآخِرَةِ ) ۔3 اسی وجہ سے وہ ایمان ، حق ، عدالت ، ، شرفِ آزادگی اور سر بلندی کہ جو آخرت سے لگاوٴ رکھنے والوں کی خصوسیات میں سے ہیں اپنے گھٹیا مفادات، شہوات اور ہوا و ہوس پر قربان کردیتے ہیں اس کے بعد فرمایا گیا ہے : ایسے لوگ اسی ہر بس نہیں بلکہ خود ہی میں پڑنے کے بعد دوسروں کو بھی بھٹکا نے کی کوشش کرے ہیں اور ”وہ لوگوں کو راہ خدا سے روکتے ہیں “۔ ( وَیَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ ) ۔ در حقیقت وہ اللہ کی راہ کہ جو راہِ فطرت ہے اور انسان خود سے چل کر اسے عبود کر سکتا ہے اس میں طرح طرح کی دیوار اٹھاتے ہیں اور رکا وٹیں کھری کرتے ہیں ۔ اپنی ہوا و ہوس اور خواہشا کی بنا سنوار کر پیش کرتے ہیں ، لوگوں کو گناہ کا شوق دلاتے ہیں اور راستی و پاکیزگی کے راستے سے خوف زدہ کرتے ہیں ۔ ان کا کام فقط اللہ کے راستے میں رکاوٹیں اور دیواریں کھڑی کرنا نہیں بلکہ ” کو شش کرتے ہیںکہ لوگوں کے سامنے اسے بگاڑ کر پیش کریں “(وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا) ۔ در اصل وہ پوری توانائیوں سے کو شش کرتے ہیں کہ دوسروں کو اپنے رنگ میں رنگ لیں اور اپنا ہم مسلک بنالیں لہٰذا ان کی کو شش ہوتی ہے کہ اللہ کے سیدھے کو ٹیڑھا کر کے دکھائیں ۔ اس لئے وہ اس میں طرح طرح کی خرافات اور بے ہودہ گیاں پیدا کرتے ہیں ، مختلف تحریفات سے کام لیتے ہیں ۔ قبیح بدعتوں کو رواج دیتے ہیں اور کثیف طور طریقے اختیار کرتے ہیں ۔ واضح ہے کہ ” ان صفات و اعمال کے حامل ہونے کی وجہ سے ایسے افراد بہت دور کی گمراہی میں ہیں “ ( اٴُوْلَئِکَ فِی ضَلَالٍ بَعِیدٍ) ۔یہ وہی لوگ ہیں کہ راہِ حق سے زیادہ دور ہونے کی بناء پر جن کا راہ ِ حق کی طرف لوٹ آنا آسانی سے ممکن نہیں لیکن یہ سب کچھ خود انہی کے اعمال کا نتیجہ ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 14:1-3
۱۔ ایمان اور راہ ِخدا کو نور سے تشبیہ دینا
۱۔ ایمان اور راہ ِخدا کو نور سے تشبیہ دینا: اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”نور“ عالم مادہ کا لطیف ترین موجود ہے ، اس کی رفتار نہایت تیز ہے اور جہان ِ مادہ میں اس کے آثار و بر کات ہر چیز سے زیادہ ہیں ، یہ کہا جاسکتا ہے کہ تمام مادی نعمات و بر کات کا سر چشمہ نور ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ ایمان اور راہِ خدا میں قدم رکھنے کو نور سے تشبیہ دینا کس قدر پر معنی ہے ۔ نور اتحاد کا سبب ہے اور ظلمت انتشار کا عامل ہے ۔ نور زندگی کی علامت ہے اور ظلمت موت کی نشانی ہے ۔ اسی بناء پر قرآن ِ مجید میں بہت سے قیمتی امور کو نور سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ان میں سے ایک عمل صالح ہے ۔ یوم تری المومنین و الموٴمنات یسعیٰ نور ھم بین ایدیھم و بایمانھم وہ دن کہ جب تو صاحب ِ ایمان مردو اور عورتوں کو دیکھے گا کہ ان کا نور ان کے سامنے اور دائیں جانب رواں دواں ہو گا ۔ ( حدید ۔۱۲) ۔ ایمان اور توحید کے لئے بھی یہ لفظ آیا ہے ۔ مثلاً اللہ ولی الذین اٰمنوا یخرجھم من الظلمات الیٰ النور اللہ ان لوگوں کا ولی و سر پرست ہے جو ایمان لائے ہیں کہ جنہیں وہ ظلمتوں سے نور کی ہدایت کرتا ہے ۔( بقرہ ۔ ۲۵۷) قرآن کو بھی نور سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : فالذین اٰمنوا بہ و عزروہ و نصروہ و اتبعوا النور الذی انزل معہ اولٰئک ھم المفلحون اور جوپیغمبر پر ایمان لائے ہیں ، اس کی عزت و توقیر کرتے ہیں ، اس کی مدد کرتے ہیں اور ا س نور کی پیروی کرتے ہیں کہ جو اس کے ساتھ نازل ہواہے ، وہ فلاح پانے والے ہیں ۔ (اعراف ۔۱۵۷) نیز خدا کے آئین و دین کو اس پر بر کت وجود سے تشبیہ دی گئی ہے : یریدون ان یطفوٴا نور اللہ بافواھھم وہ چاہتے ہیں کہ پھونکوں سے نور خدا کا خاموش کردیں ۔ ( توبہ ۔۳۲) اور سب سے بڑھ کر خدا کی ذات پاک کہ جو افضل ترین وجود ہے بلکہ سب کی ہستی جس کے وجود ِ مقدس کا پر تو ہے کو نو ر سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ ارشاد ہوتا ہے : اللہ نور السمٰوٰت و الارض اللہ آسمانوں اور زمین کا نور ہے ۔ ( نور۔۳۵) یہ تمام امور ایک ہی حقیقت کی طرف پلٹ تے ہیں کیونکہ یہ سب اللہ ، اس پر ایمان ، اس کی گفتگو اور اس کی راہ کے پر تو ہیں ۔ لہٰذا یہ لفظ ان مواقع پر مفرد کی شکل میں آیا ہے ۔ جب کہ اس کے بر عک” ظلمات“ چونکہ ہر جگہ انتشار و تفرقہ کا عامل ہے لہٰذا جمع کی صورت میں تعدد و تکثر کی علامت کے طور پر ذکر ہوا ہے اور خدا پر ایمان لانا ، اس کی راہ میں قدم رکھنا چونکہ حرکت بیداری کا سبب ہے ، اجتماعیت و وحدت کا عامل ہے اور ارتقاء و پیش رفت کا ذریعہ ہے لہٰذا یہ تشبیہ ہر لحاظ سے رسا ، با معنی اور باعث تربیت ہے ۔ ۲۔ ”لتخرج“ کامفہوم : پہلی آیت میں ” لتخرج“ کی تعبیر در حقیقت دو نکات کی طرف اشارہ کرتی ہے : پہلا یہ کہ قرآن مجید اگر انسان کے لئے ہدایت و نجات کی کتاب ہے تا ہم اسے اجراء و نفاذ کرنے والے اور علمی صورت بخشنے والے کی احتیاج ہے لہٰذا پیغمبر جسے راہبر کی ضرورت ہے جو ا س کے ذریعے راہ حقیقت سے بھٹکے ہوؤں کی بد بختی کی ظلمات سے نورِ سعادت کی طرف ہدایت کرے ۔ لہٰذا قرآن بھی اپنی اس قدر عظمت کے باوجود رہبر ، رانما، مجری اور نافذ کرنے والے کے بغیر تمام مشکلات حل نہیں کرسکتا ۔ دوسرا یہ کہ خارج کرنے کی تعبیر در حقیقت تغیر و تبدل کے ساتھ حرکت دینے اور چلانے کی دلیل ہے ۔ گویا بے ایمان لو گ ایک تنگ و تاریک فضا میں ہوتے ہیں اور پیغمبر و رہبر ان کا ہاتھ پکڑ کر انہیں وسیع او ر روشن فضا میں لے جاتے ہیں ۔ ۳۔ سورة کے آغاز و اختتام پر ایک نظر : یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اس سورة کا آغاز لوگوں کو ظلمات سے نور کی طرف ہدایت سے ہوا ہے او راکا اختتام بھی لوگوں کو ابلاغ و انذار پر ہوا ہے ۔ یہ امر نشاندہی کرتا ہے کہ بہر حال اصلی ہدف خود لوگ ، ان کی سر نوشت اور ان کی ہدایت ہے اور در حقیقت انبیاء و مر سلین کا بھیجنا اور آسمانی کتب کا نزول سب اسی کو پانے کے لئے ہے ۔