لِلَّذِينَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّهِمُ الْحُسْنَى وَالَّذِينَ لَمْ يَسْتَجِيبُوا لَهُ لَوْ أَنَّ لَهُم مَّا فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا وَمِثْلَهُ مَعَهُ لَافْتَدَوْا بِهِ أُولَئِكَ لَهُمْ سُوءُ الْحِسَابِ وَمَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِهَادُ
For those who answer [the summons of] their Lord there shall be the best [of rewards]. But those who do not answer Him, even if they possessed all that is on the earth and as much of it besides, they would surely offer it to redeem themselves with it. For such there shall be an adverse reckoning, and their refuge shall be hell, and it is an evil resting place.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 13:18
[Pooya/Ali Commentary 13:18] Refer to the commentary of Ali Imran: 91 and Yunus: 54.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:18
جنہوں نے دعوت ِ حق کو قبول کر لیا
گشتہ آیت میں حق و باطل کا چہرہ نمایاں کرنے کے لئے ایک رسا اور فصیح و بلیغ مثال پیش کی گئی تھی ۔ اس کے بعد اب اس مقام پر ان لوگوں کے انجام کی طرف اشار ہ کیا گیا ہے جنہوں نے دعوتِ حق کو قبول کرلیا اور اس کے گر ویدہو گئے نیز ان افراد کا انجام بیان کیا گیا ہے جنہوں نے حق سے ر وگردانی کرتے ہوئے باطل کی طرف رخ کیا۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے : ان لوگوں کے لئے ، جنہوں نے اپنے پر ور دگار کی دعوت کو قبول کرلیا ہے نیک جزا، سود مند نتیجہ اور عاقبت ِ محمود ہے (للَّذِینَ اسْتَجَابُوا لِرَبِّھِمْ الْحُسْنَی ) ۔ ”حسنیٰ “ ( نیکی ) کا ایک وسیع مفہوم ہے جس میں ہر خیر و سعادت شامل ہے ۔ نیک خصائل اور اخلاقی فضائل سے لے کر پا ک و پاکیزہ اجتماعی زندگی، دشمن کا پر کامیابی اور بہشتِ جا وداں تک سب اس کے مفہوم میں شامل ہیں ۔ اس کے بعد مزید فرمایا گیا ہے :او روہ یہ جنہوں نے پر وردگار کی یہ دعوت قبول نہیں کی ان کا انجام اس قدر برا اور رقت بار ہے کہ اگر تمام روئے زمین اور حتی کہ اس کی مثل بھی ان کی ملکیت میں ہو اور وہ یہ سب کچھ اسے برے انجام سے نجات کے لئے دینے ہر آمادہ ہو ں توبھی ”ان سے یہ سب کچھ قبول نہیں کیا جائے گا (وَالَّذِینَ لَمْ یَسْتَجِیبُوا لَہُ لَوْ اٴَنَّ لَھُمْ مَا فِی الْاٴَرْضِ جَمِیعًا وَمِثْلَہُ مَعَہُ لَافْتَدَوْا بِہِ) ۔ ان کے لئے عذاب اور سزا کے عظیم ہونے کی تصویر کشی کے لئے اس سے بڑھ کر رسا اور عمدہ تعبیر نہیں ہوسکتی کہ ایک انسان تمام روئے زمین بلکہ اس کے دوگناکامالک ہو اور وہ سب کچھ اپنے آپ کو بچانے کے لئے دے دے مگر وہ اس کے لئے فائد ہ مند نہ ہو ۔ یہ جملہ در حقیقت اس طرف اشارہ ہے کہ ایک انسان کی آخری آرزو کہ جس سے بر تر تصور نہیں ہوسکتا یہ ہے کہ وہ تمام روئے زمین کا مالک ہو لیکن ستمگروں اور دعوت ِ حق کے مخالفوں کو دئے جانے والے عذاب کی شدت اس حد تک ہے کہ وہ اس بات پر تیار ہوں کہ یہ آخری دنیاوی ہدف بلکہ اس سے بھی بر تر و بالاتر کو فدیہ کے طور پر دے کر آزادہوجائیں اور بالفرض اگر ان سے یہ قبول کر بھی لیا جاتا تو یہ صرف عذاب سے نجات ہوتی ۔ لیکن دعوتِ حق کو قبول کرنے والوں کے لئے جو انتہائی عظیم اجر ہیں ان کا اندازہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس سے واضح ہو جا تا ہے کہ ” مثلہ معہ “ صرف اسی معنی میں نہیں کہ پورے کرہٴ زمین کی مانند ان کے پاس مزید ہو بلکہ مراد یہ ہے کہ وہ اس سے بڑھ کر جنتی زیادہ دولت ِ و سلطنت کے مالک ہو جائیں اور وہ اپنی نجات کے لئے سب کچھ دینے پر تیار ہو ں گے ۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے ۔ انسان چونکہ ہر چیز اپنے لئے چاہتا ہے او رجب وہ خود عذاب میں غرق ہو تو پھر تما م دنیا کی مالکیت کا اسے کیا فائدہ ۔ اس بدبختی (ساری دنیا دے کر بھی نجات حاصل نہ ہونا)کے بعد ایک او ربد بختی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : ان کا حساب کتاب سخت اور برا ہو گا ( اٴُوْلَئِکَ لَھُمْ سُوءُ الْحِسَابِ ) ۔ ”سوء الحساب “ سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں مفسرین کے مختلف نظر یات ہیں ۔ بعض کا نظر یہ ہے اس سے مراد ایسا حساب ہے جو بہت دقیق اور باریک بین ہو اور جس میں کوئی در گزر نہ ہو کیونکہ ” سوء الحساب“ ظلم و ستم کے معنی میں خدا ئے عادل کے بارے میں کوئی مفہوم نہیں رکھتا ۔ حضرت امام صادق علیہ السلام سے منقول ایک حدیث بھی اسی تفسیر کی تائید کرتی ہے ۔ اس حدیث میں ہے کہ امام نے اپنے ایک صحابی سے فرمایا : فلاں شخص کو تجھ سے کیوں شکایت ہے ۔ اسے یہ شکایت ہے کہ میں نے اپنا حق اس سے آخر تک لیا ہے ۔ جب امام نے یہ بات سنی تو غضب ناک ہو کر بیٹھ گئے، پھر فرمایا : کانک اذا استقضیت حقک لم تسبیٴ ارایت ماحکی اللہ عزوجل: و یخا فون السوء الحساب، تراھم یخافون اللہ ان یجور علیھم لاو اللہ ماخافوا الا الاستقصاء فسماہ اللہ عزو جل سوء الحساب فمن استقصی فقد اسائہ۔ گویا تیرا گمان ہے کہ اگر تو آخری مرحلہ تک اپنا حق لے لے تو تُو نے کوئی بر انہیں کیا۔ ایسا نہیں ہے ۔ کیا تونے خدا کا یہ ارشاد نہیں دیکھا کہ جس میں اس نے فرمایا ہے : و یخاف فون سوء الحساب ( او ربد کار برے حساب سے ڈرتے ہیں ) ۔ کیا تیرا خیال ہے کہ وہ اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان پر ظلم کرے گا ؟ بخدا ایسا نہیں وہ تو اس سے ڈرتے ہیں کہ خدا ان کا حساب دقیق طور پر لے اور آخری مرحلے تک پہنچائے۔ خدا نے اس کا نام ” سوء الحساب “ رکھا ہے لہٰذا جس شخص نے حساب کرنے میں سخت گیری کی اس نے برا حساب کیا ہے ۔ ۱ بعض دوسرے مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ” سوء الحساب “ سے مراد یہ ہے کہ ان کا محاسبہ سر زنش کے ساتھ ہو گا ۔ اس سے ایک تو اصل حساب کی وحشت ہو گی اور ا س کے علاوہ بھی وہ سر زنش کی تکلیف سے گزریں گے ۔ بعض دیگر مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ ”سوء الحساب“ سے مراد ” سوء الجزاء“ ( برا بدلہ ) ہے یعنی ان کے لئے بری سزا ہے ۔ یہ بالکل ایسے ہے جیسے ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب پاک ہے یا فلاں شخص کا حساب تاریک ہے یعنی ان کے حساب کا نتیجہ اچھا یا برا ہے یا یہ کہ ہم کہیں کہ فلاں شخص کا حساب اس کے ہاتھ میں دے دو یعنی اس کے کام کے مطابق اسے سزا یا بدلہ دو۔ یہ تینوں تفاسیر ایک دوسرے کے منافی نہیں اور ہوسکتا ہے کہ یہ سب کی سب آیت کی مراد ہوں یعنی ایسے سخت حساب سے گزرنا ہو گا اور محاسبہ کے ساتھ ساتھ انہیں سر زنش بھی ہو گی اور حساب کے بعد انہیں بے کم وکاست سزا بھی دی جائے گی ۔ آیت کے آخر میں ان کے لئے تیسرے عذاب یا سزا کے آخری نتیجے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ فرمایا گیا ہے : ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور یہ کیسا بر اٹھکانا ہے (وَمَاٴْوَاھُمْ جَھَنَّمُ وَبِئْسَ الْمِھَادُ) ۔ ”مھاد“اصل میں” مھد “کے مادہ سے تیار اور مہیا کرنے کے معنی میں ہے نیز یہ لفظ بستر کے معنی میں بھی آیاہے کہ جس سے انسان آرام اور استراحت کے موقع پر استفادہ کرتا ہے کیونکہ وہ اسے استراحت کرنے کے لئے آمادہ کرتا ہے ۔ یہ لفظ اس طرف اشارہ ہے کہ ایسے سر کش افراد بجائے بسترِ استراحت پر آرام کرنے کے آگ کے جلادینے والے شعلوں پر رہیں گے۔ ۱۔ تفسیر بر ہان جلد ۲ ص ۲۸۸( یہ حدیث اگر چہ اس سورہ کی آیہ ۲۱ کی تفسیر کے متن میں آئی ہے لیکن واضح ہے کہ یہ لفظ” سوء الحساب“ کا عمومی مفہوم بیان کررہی ہے ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 13:18
ایک نکتہ
آیات الہٰی سے واضح طور پر معلوم ہوتا ہے کہ قیامت میں لوگ دو گروہوں میں تقسیم ہو جائیں گے ۔ ایک وہ گروہ ہے خدا کی بارگاہ میں جن کا حساب اور سہولت آسانی سے ہو گا اور اللہ تعالی ان کے بارے میں کسی قسم کی سخت گیری نہیں کرے گا ۔ ارشاد الہٰی ہے : اما من اوتی کتابہ بیمینہ فسوف یحاسب حساباً یسیراً اس دن جسے نامہٴ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا اس سے آسان حساب لیاجائے گا ۔ (انشقاق۔ ۸۔۷) اس کے بر عکس کچھ ایسے لوگ ہیں جن سے ” شدت“ کے ساتھ حساب لیا جائے گا ۔ ان سے ذر ہ ذرہ اور مثقال بھر کا حساب نہایت باریک بینی سے لیاجائے گا ۔جیسا کہ بعض شہر جن کے لوگ سر کش اور گنہگار تھے ، ان کے بارے میں فرمایا گیاہے : فحاسبنا حساباً شدیداً و عذابنا ھا عذاباً نکراً پس ہم نے ان کا بڑی سختی سے حساب لیا اور انہیں برے عذاب کی سزا دی ۔ اسی طرح زیر بحث آیت میں ہے جس میں ” سوء الحساب“ کی تعبیر استعمال ہوئی ہے ۔ یہ اس بناء پر کہ کچھ لوگ دنیا وی زندگی میں دوسروں سے حساب لینے میں بہت زیادہ سختی کرتے ہیں یعنی بال کی کھال اتارنے کی کوشش کرتے ہیں تاکہ اپنے حق کا آخری پیسہ تک وصول کرلیں او رجب دوسرے سے کوئی خطا سرزد ہو جاتی ہے تو آخری حد امکان تک اسے سزا دیتے ہیں ۔ یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنی بیوی، اولاد، بھائیوں اور دوستوں تک سے ذرہ بھر در گزر نہیں کرتے اور چونکہ دوسرے جہان کی زندگی اس جہان کا رد عمل ہے لہٰذا خدا بھی ان کے حساب کتاب میں ایسی سخت گیری کرے گا تاکہ انہوں نے جو کام بھی کیا ہے ا س کے جواب دہ ہوں اور ان کے بارے میں کچھ بھی د رگزر اور چشم پوشی نہیں کی جائے گی ۔ اس کے برعکس کچھ ایسے لوگ بھی ہیں جو آسان گیر ہیں بہت زیادہ در گزر کرنے والے ہیں اور نہایت شفیق و مہر بان ہیں ۔ خصوصاًدوستوں اور جان پہچان والے افراد یاجن پر ان کا کوئی حق ہے یا جو افراد ضعیف اور کمزور ہیں ان کے لئے ایسے مہر بان اور بزرگوار ہیں کہ کوشش کرتے ہیں کہ ایسے بہت سے مواقع پر اپنے آپ کو غافل ظاہر کریں اور بعض کی غلطیوں اورگناہوں سے چشم پوشی کرلتیے ہیں البتہ یہاں گناہوں سے مراد ایسے گناہ ہیں جو شخصی اور انفرادی پہلو رکھتے ہیں ۔ خدا ایسے افراد کے لئے آسانی فراہم کرتا ہے ۔ انہیں اپنی عفوِ بے پایاں اور رحمت ِ وسیع سے نواز تا ہے اور انہیں آسانی سے حساب کی منزل سے گزاردیتا ہے ۔ یہ بات تمام انسانوں کے لئے ، خصوصاً ان لوگوں کے لئے جوکسی امر کے سر براہ یانگران ہوتے ہیں اور لوگوں سے ان کا رابطہ اور تعلق ہوتا ہے ان کے لئے ایک عظیم درس ہے ۔ ۱۹ ۔اٴَفَمَنْ یَعْلَمُ اٴَنَّمَا اٴُنزِلَ إِلَیْکَ مِنْ رَبِّکَ الْحَقُّ کَمَنْ ھُوَ اٴَعْمَی إِنَّمَا یَتَذَکَّرُ اٴُوْلُوا الْاٴَلْبَابِ۔ ۲۰۔ الَّذِینَ یُوفُونَ بِعَھْدِ اللهِ وَلاَیَنقُضُونَ الْمِیثَاقَ۔ ۲۱۔ وَالَّذِینَ یَصِلُونَ مَا اٴَمَرَ اللهُ بِہِ اٴَنْ یُوصَلَ وَیَخْشَوْنَ رَبّھُمْ وَیَخَافُونَ سُوءَ الْحِسَابِ ۔ ۲۲۔ وَالَّذِینَ صَبَرُوا ابْتِغَاءَ وَجْہِ رَبِّھِمْ وَاٴَقَامُوا الصَّلَاةَ وَاٴَنفَقُوا مِمَّا رَزَقْنَاھُمْ سِرًّا وَعَلَانِیَةً وَیَدْرَئُونَ بِالْحَسَنَةِ السَّیِّئَةَ اٴُوْلَئِکَ لَھُمْ عُقْبَی الدَّارِ ۔ ۲۳۔ جَنَّاتُ عَدْنٍ یَدْخُلُونَھَا وَمَنْ صَلَحَ مِنْ آبَائِھِمْ وَاٴَزْوَاجِھِمْ وَذُرِّیَّاتِھِمْ وَالْمَلَائِکَةُ یَدْخُلُونَ عَلَیْھِمْ مِنْ کُلِّ بَابٍ ۔ ۲۴۔ سَلَامٌ عَلَیْکُمْ بِمَا صَبَرْتُمْ فَنِعْمَ عُقْبَی الدَّارِ ۔ ترجمہ ۱۹۔ کیا وہ شخص جو جانتا ہے کہ تیرے پر وردگار کی طرف سے جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے حق ہے ، اس شخص کی طرح ہے جو نابینا ہے بس سمجھدار لوگ ہیں نصیحت حاصل کرتے ہیں ۔ ۲۰۔ وہی کہ جو عہد الہٰی کو وفا کرتے ہیں اورپیمان شکنی نہیں کرتے ۔ ۲۱۔ وہی کہ جو وہ پیوند بر قرار رکھتے ہیں کہ جن کے بارے میں خدا نے حکم دیا ہے اور جو اپنے پر ورگار سے ڈرتے ہیں اور ( روز قیامت کے ) حساب کی برائی سے ڈرتے ہیں ۔ ۲۲۔ اور وہ کہ جو اپنے پر وردگا رکی ( پاک) ذات کے لئے صبر کرتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو روزی دی ہے اس میں سے پنہاں اور آشکار خرچ کرتے ہیں اور حسنات کے ذریعے سیئات کو ختم کرتے ہیں ۔ ان کے لئے آخرت میں اچھا گھر ہے ۔ ۲۳۔وہ جنت کے سدا بہار باغوں میںداخل ہوں گے اسی طرح ان کے آباء ، ازواج اور اولاد میں سے صالح افراد بھی (داخل بہشت ہوں گے ) اور ہر دروازے سے ان کے لئے فرشتے داخل ہو ں گے ۔ ۲۴۔ ( اور ان سے کہیں گے ) سلام ہو تم پر ، صبر و استقامت کی بناء پر ۔ تمہیں یہ آخری گھر کیسا اچھا نصیب ہوا ہے ۔