فَلَمَّا اسْتَيْأَسُوا مِنْهُ خَلَصُوا نَجِيًّا قَالَ كَبِيرُهُمْ أَلَمْ تَعْلَمُوا أَنَّ أَبَاكُمْ قَدْ أَخَذَ عَلَيْكُم مَّوْثِقًا مِّنَ اللَّهِ وَمِن قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِي يُوسُفَ فَلَنْ أَبْرَحَ الْأَرْضَ حَتَّى يَأْذَنَ لِي أَبِي أَوْ يَحْكُمَ اللَّهُ لِي وَهُوَ خَيْرُ الْحَاكِمِينَ
When they had despaired of [moving] him, they withdrew to confer privately. The eldest of them said, ‘Don’t you know that your father has taken a [solemn] pledge from you by Allah, and earlier you have neglected your duty in regard to Joseph? So I will never leave this land until my father permits me, or Allah passes a judgement for me, and He is the best of judges.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 12:80
[Pooya/Ali Commentary 12:80] (see commentary for verse 3)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 12:80-93
Judas’ behaviour won Divine Will and ultimately Prophetship was transferred in his lineage. Jacob, as a Prophet, was informed about the living condition of Joseph. His parting with Joseph made him sad, and wept until he lost his eye sight. Compare patience of the Ahl al-Bayt in whose presences young and old were mercilessly slain. Man should never be disappointed in Divine mercy as the door of penance is open to sincere sinners. Joseph was overcome with deplorable conditions of his father’s family with a result, he forgot ill done to him and behaved as a gentleman. From the Apron of Joseph had curative effect on Jacob’s eyes, we have, similarly, earth in Hussain’s blood has healing effect.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:80-82
بھائی سر جھکائے باپ کے پاس پہنچے
بھائیوں نے بنیامین کے رہائی کے لئے اپنی آخری کوشش کر دیکھی لیکن انہوں نے اپنے سامنے تمام راستے بند پائے ۔ ایک طرف تو اس کام کو کچھ اس طرح سے انجام دیا گیا تھا کہ طاہراً بھائی کی براٴت ممکن نہ تھی اور دوسری طرف عزیز مصر نے اس کی جگہ کسی اور فرد کو رکھنے کی تجویز قبول نہ کی لہٰذا وہ مایوس ہو گئے ۔ یوں انہوں نے کنعان کی طرف لوٹ جانے اور باپ سے سارا ماجرا بیان کرنے کا رادہ کرلیا ۔ قرآن کہتا ہے : جس وقت وہ عزیز مصر سے یا بھائی کی نجات سے مایوس ہو گئے تو ایک طرف کو آئے اور دوسروں سے الگ ہو گئے اور سر گوشی کرنے لگے ( فَلَمَّا اسْتَیْئَسُوا مِنْہُ خَلَصُوا نَجِیًّا) ۔ ” خلصوا“”یعنی “ خالص ہو گئے “۔ یہ دونوں سے الگ ہونے اور خصوصی مٹینگ کرنے کی طرف اشارہ ہے ۔ اور ”نجی “ ” مناجات“ کے مادہ سے در اصل ” نجوہ “ سے مر تفع زمین کے معنی میں لیا گیا ہے چونکہ اونچی اور مفع زمینیں اپنے اطراف سے جدا اور الگ ہوتی ہیں اور مخفی میٹنگیں اور سر گوشیاں ارد گرد والوں سے ہٹ کر ہوتی ہیں اس لئے انہیں ” نجوی “ کہتے ہیں ( اس بناء پر ” نجوی “ ہر قسم کی محرمانہ بات کو کہا جاتا ہے چاہے وہ کان میں کہی جائے یا کسی خفیہ میٹنگ میں ) ۔ جملہ” خلصوا نجیا“ جیسا کہ بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ فصیح ترین اور خوبصورت ترین قرآنی تعبیر ہے جس میں دو لفظوں کے ذریعے بہت سے مطالب بیان کردئے گئے ہیں جب کہ یہ مطالب بیان کرنے کے لئے بہت سے جملے در کار تھے ۔ بہر حال سب سے بڑے بھائی نے اس خصوصی میٹنگ میں میں ان سے کہا : کیا تم جانتے ہو کہ تمہارے باپ نے تم سے الہٰی پیمان لیا ہے کہ بنیامین کو ہر ممکنہ صورت میں ہم واپس لائیں گے ( قَالَ کَبِیرُھُمْ اٴَلَمْ تَعْلَمُوا اٴَنَّ اٴَبَاکُمْ قَدْ اٴَخَذَ عَلَیْکُمْ مَوْثِقًا مِنْ اللهِ) ۔اور تمہی نے اس سے پہلے بھی یوسف کے بارے میں کوتاہی کی “ اور باپ کے نزدیک تمہارا گزشتہ کردار برا ہے ( وَمِنْ قَبْلُ مَا فَرَّطتُمْ فِی یُوسُفَ) ۔۱ ” اب جبکہ معاملہ یوں ہے تو میں اپنی جگہ سے ( یا سر زمین ِ مصرسے ) نہیں جاوٴں گا اور یہیں پڑاوٴ ڈالوں گا ، مگر یہ کہ میرا باپ مجھے دے دے یا خدا میرے متعلق کوئی فرمان صادر کرے جو کہ بہترین حاکم و فرماں رواہے ( فَلَنْ اٴَبْرَحَ الْاٴَرْضَ حَتَّی یَاٴْذَنَ لِی اٴَبِی اٴَوْ یَحْکُمَ اللهُ لِی وَھُوَ خَیْرُ الْحَاکِمِینَ) ۔ اس حکم یا تو موت کا حکم مراد ہے یعنی مرتے دم تک یہاں سے نہیں جاوٴں گا یا خدا کی طرف پیداہونے والا کوئی چارہ ٴ کار مراد ہے یا پھر کوئی قابل قبول اور ناقابل ِ توجیہ عذر مراد ہے جوکہ باپ کے نزدیک قطعی طور پر قابل قبول ہو۔ پھر بڑے بھائی نے دوسرے بھائیوں کو حکم دیا “ تم باپ کے پاس لوٹ آوٴ او رکہوابا جان آپ کے بیٹے نے چوری کی ہے ( ارْجِعُوا إِلَی اٴَبِیکُمْ فَقُولُوا یَااٴَبَانَا إِنَّ ابْنَکَ سَرَقَ) ۔ ” اور یہ جو ہم گواہی دے رہے ہیں اتنی ہی ہے جتنا ہمیں علم ہوا“ بس ہم نے اتنا دیکھا کہ بادشاہ کا پیمانہ ہمارے بھائی کے بارے سے بر آمد ہو اجس سے ظاہر ہوتا تھا کہ اس نے چوری کی ہے ، باقی رہا امر ِ باطن تو وہ خدا جانتا ہے (وَمَا شَھِدْنَا إِلاَّ بِمَا عَلِمْنَا) ۔” اورہمیں غیب کی خبر نہیں “ ( وَمَا کُنَّا لِلْغَیْبِ حافِظِینَ) ۔اس آیت کی تفسیر میں یہ احتمال بھی ہے کہ بھائیوں کا مقصد یہ ہو کہ وہ باپ سے کہیں کہ اگر ہم نے تیرے پاس گواہی دی اور عہد کیا کہ ہم بھائی کو لے جائیں گے اور واپس لے آئیں گے تو اس بناء پر تھا کہ ہم اس کے باطن سے باخبر نہ تھے اور ہم غیب سے آگاہ نہ تھے کہ اس کا انجام یہ ہوگا ۔ ۱۔ ” فرطتم “ تفریط“ کے مادہ سے در اصل ”فروط“ (بروزن” شروط“)مقدم ہونے کے معنی میں ہے اور جب یہ بات تفعیل میں آجائے تو آگے بڑھنے میں کوتاہی کرنے کے معنی میںہے اور جب باب افعال سے ” افراط “ ہوتو تقدم اور اگے بڑھنے میں تجاوز کرنے کے معنی میں ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:80-82
چند اہم نکات
۱۔ سب سے بڑا بھائی کون تھا ؟ بعض نے سب سے بڑے بھائی کا نام ” روبین “ ( روبیل ) لکھا ہے ۔ بعض نے ” شمعون “ کو سب سے بڑا بھائی سمجھا ہے ۔ بعض نے اس کانام ” یہودا“ بیان کیا ہے ۔ نیز اس لحاظ سے بھی مفسرین میں اختلاف ہے کہ یہاں بڑا ہونے سے مراد عمر میں بڑا ہے یا عقل و فہم کے لحاظ سے بڑا ہے ۔ البتہ آیت کا ظاہری مفہوم یہی ہے کہ یہاں سن و سال میں بڑا ہونا مراد ہے ۔ ۲۔ موجود قرائن کی بنیاد پر فیصلہ : اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اقرار اور گواہ نہ ہوں تو قاضی قطعی قرائن پر عمل کرسکتا ہے کیونکہ برادران ِ یوسف (علیه السلام) کے اس واقعے میں نہ گواہ تھے اور نہ اقرار۔ صرف بنیامین کے بارے میں بادشاہ کے پیمانے کا کامل جانا اس کے مجرم ہونے کی دلیل شمار کیا گیا ۔ نیز ان میں سے ہر ایک ذاتی طور پر اپنے بار کو پرکرتا تھا یا کم از کم پرکرتے وقت وہاں حاضر ہوتا تھا اور اگر تالالگانا ہوتا یا بند کرنا ہوتا تو چابی وغیرہ بھی خود اسی کے قبضے میں ہوتی۔ دوسری طرف کوئی شخص یہ سوچ بھی نہیں سکتاتھا کہ اس کے پیچھے کوئی منصوبہ کار فرماہے ۔ مزید یہ کہ کنعان کے مسافروں ( برادران یوسف )کا اس شہر میں کوئی دشمن بھی نہ تھا کہ جو ان کے خلاف کوئی سازش کرتا ۔ ان تمام پہلووٴں کو پیش، نظر رکھتے ہوئے یہ نتیجہ نکلتا تھا کہ بنیامین کے بارے میں جو بادشاہ کا پیمانہ برآمد ہوا ہے یہ خوداس کا ذاتی کام ہے ۔ دور حاضر میں ایسی ہی بنیادوں پر فیصلے کئے جاتے ہیں ۔ اس سلسلے میں فقہ ِ اسلامی میں مزید جستجو اور تحقیق کی ضرورت ہے کیونکہ یہ امر موجودہ زمانے میں عدالتی بحثوں میں بہت موٴثر ہے ۔ کتاب القضاء میں اس سلسلے میں بحث کی جانا چاہئیے ۔ ۳۔ برادران یوسف (علیه السلام) میں فرق : مندرجہ بالاآیات سے معلوم ہوتا ہے کہ برادران یوسف (علیه السلام) میں عزم و ہمت کے لحاظ سے بہت فرق تھا ۔ سب سے بڑا بھائی اپنے وعدہ کا بہت سختی سے پابندتھا جب کہ دوسرے بھائیوں نے جب دیکھا کہ عزیز مصر سے ان کی گفتگو نتیجہ خیز ثابت نہیں ہوئی تو انہوں نے بس اسی پر اپنے آپ کو معذور سمجھا اور مزید کوشش نہ کی البتہ حق بڑے بھائی کے ساتھ تھا کیونکہ وہ مصر ہی میں ٹھہر گیا تھا خصوصاً عزیز مصر کے دربار کے نزدیک اس نے پڑاوٴ ڈال لیا ۔ اس سے یہ توقع ہو سکتی تھی کہ وہ لطف و مہر بانی کرے اور ایک پیمانے کی وجہ سے جو آخر کار مل گیا تھا اور ایک مسافر اس سے داغ دار بھی ہو گیا تھا ، اب اس کے بدلے بھائیوں اور اس کے بوڑھے باپ کو سزا نہ دے ۔ اسی احتمال کی بناء پر وہ مصر میں ٹھہر گیا اور بھائیوں کو باپ کاحکم معلوم کرنے کے لئے باپ کی خدمت میں روانہ کردیا تاکہ وہ جاکرسارا واقعہ بیان کریں ۔ ۸۳۔ قَالَ بَلْ سَوَّلَتْ لَکُمْ اٴَنفُسُکُمْ اٴَمْرًا فَصَبْرٌ جَمِیلٌ عَسَی اللهُ اٴَنْ یَاٴْتِیَنِی بِھِمْ جَمِیعًا إِنَّہ ھُوَ الْعَلِیمُ الْحَکِیمُ۔ ۸۴۔ وَتَوَلَّی عَنْھُمْ وَقَالَ یَااٴَسَفَی عَلَی یُوسُفَ وَابْیَضَّتْ عَیْنَاہُ مِنَ الْحُزْنِ فَھُوَ کَظِیمٌ۔ ۸۵۔ قَالُوا تَاللهِ تَفْتَاٴُ تَذْکُرُ یُوسُفَ حَتَّی تَکُونَ حَرَضًا اٴَوْ تَکُونَ مِنْ الْھَالِکِینَ۔ ۸۶۔ قَالَ إِنَّمَا اٴَشْکُو بَثِّی وَحُزْنِی إِلَی اللهِ وَاٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لاَتَعْلَمُونَ ۔ ترجمہ ۸۳۔(یعقوب (علیه السلام) ) نے کہا: نفس ( اور ہوا و ہوس ) نے معاملہ تمہاری نگاہ میں اس طرح سے مزین کردیا ہے ۔ میں صر کروں گا ، صبر جمیل ( کہ جس میں کفران نہ ہو )، مجھے امید ہے کہ خدا ان سب کو میری طرف پلٹادے گا کیونکہ وہ علیم و حکیم ہے ۔ ۸۴۔ اور ان سے منہ پھیر لیا اور کہا : ہائے یوسف (علیه السلام) ۔ اور اس کی آنکھیں غم اندوہ سے سفید ہوگئیں لیکن وہ اپنا غصہ پی جاتا ( اورہر گز ناشکری نہ کرتا ) ۔ ۸۵۔ انہوں نے کہا : بخدا ! تو یوسف (علیه السلام) کو اس قدر یاد کرتا ہے کہ تو موت کے قریب جاپہنچے گا یا ہلاک ہو جائے گا ۔ ۸۶۔ اس نے کہا: میں اپنا درد و غم صرف خدا سے کہتا ہوں ( اور ا س کے ہاں شکایت کرتا ہوں ) اور میں خدا کی طرف سے ایسی چیزین جانتا ہوں جنہیں تم نہیں جانتے ۔