قَالَ هَلۡ ءَامَنُكُمۡ عَلَيۡهِ إِلَّا كَمَآ أَمِنتُكُمۡ عَلَىٰٓ أَخِيهِ مِن قَبۡلُ فَٱللَّهُ خَيۡرٌ حَٰفِظٗاۖ وَهُوَ أَرۡحَمُ ٱلرَّـٰحِمِينَ
He said, ‘Should I not trust you with him just as I trusted you with his brother before? Yet Allah is the best of protectors, and He is the most merciful of merciful ones.’
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 12:58-68
The brothers failed to recognize Joseph while he was acquainted and their further trial is a part of human trial. Joseph’s obligations to his brothers and the tact with which he gets his younger brother, Benjamin, with which they are further tried is worth noting, and forms a part of Divine wisdom, displayed in human affairs, at the hands of the immaculates.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:63-66
آخرکار باپ راضی ہو گئے
حضرت یوسف (ع) کے بھائی مالا ہو کر خوشی خوشی کنعان واپس آئے لیکن آئندہ کی فکر تھی کہ اگر باپ چھوٹے بھائی (بنیامین )بھیجنے پر راضی نہ ہوئے تو عزیز ان کی پذیرائی نہیں کرے گا اور انہیںغلے کا حصہ بھی نہیں دے گا ۔ اسی لئے قرآن کہتا ہے : جب وہ باپ کے پاس لوٹ کر آئے تو انہوں نے کہا ابا جان ! حکم دیا گیا ہے کہ آئندہ ہمیں غلے کا حصہ نہ دیا جائے اور پیمانہ ہم سے روک دیا جائے ( فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَی اٴَبِیھِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ ) ۔ اب جب یہ صورت در پیش ہے ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم پیمانہ حاصل کر سکیں ( فَاٴَرْسِلْ مَعَنَا اٴَخَانَا نَکْتَلْ ) ۔۱ اور آپ مطمن رہیں ہم اس کی حفاظت کریں گے (وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ) ۔ باپ کہ جسے یوسف (ع) ہر گز نہ بھولتا تھا یہ بات سن کر پریشان ہوگیا ، ان کی طر فرخ کرکے اس نے کہا: کیا میں تم پر اس بھائی کے بارے میں بھروسہ کرلوں کہ اس کے بھائی یوسف (ع)کے بارے میں گزشتہ زمانے میں تم پر بھروسہ کیا تھا ( قَالَ ھَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْہِ إِلاَّ کَمَا اٴَمِنتُکُمْ عَلَی اٴَخِیہِ مِنْ قَبْلُ) ۔ یعنی جب تمہارا ایسا بر اماضی ہے کہ جو بھولنے کے قابل نہیں تو تم کس طرح توقع رکھتے ہو کہ دوبارہ تمہاری فرمائش مان لوں اور اپنے فرزند دلبند کو تمہارے سپرد کروں اور وہ بھی ایک دور دراز سفر اور پرائے دیس کے لئے ۔ اس کے بعد اس نے مزید کہا: ہر حالت میں خدا بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے ۔ ( فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظًا وَھُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ) ۔ ہوسکتا ہے یہ جملہ اس طرف اشارہ ہوکہ تم جیسے برے ماضی والے افراد کے ساتھ میرے لئے مشکل ہے کہ بنیامین کو بھیجوں اوربھیجوں گا ، بھی تو خدا کی حفاظت میں اور اس کے ارحم الراحمین ہونے کے بھروسے پر نہ کہ تمہارے بھروسے پر ۔ لہٰذا مندرجہ بالا جمہ ان کی فرمائش قبول کرنے کی طرف قطعی اشارہ نہیں ہے بلکہ ایک احتمالی بات ہے کیونکہ بعد والی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت یعقوب (ع) نے ابھی تک ان کی فرمائش قبول نہ کی تھی اور آپ نے پختہ عہد لینے اور پیش آمدہ دیگر واقعات کے بعد اسے قبول کیا۔ دوسرا یہ کہ ممکن ہے حضرت یوسف (ع) کی طرف اشارہ ہو کیونکہ اس موقع پر انہیں یوسف (ع) یاد آگئے اور وہ پہلے سے بھی جانتے تھے کہ وہ زندہ ہیں (اور بعد والی آیات میں بھی ہم پڑھ گئے ہیں کہ انہیں حضرت یوسف (ع) کے زندہ ہونے کا اطمینان تھا ) لہٰذا آپ نے ان کے محفوظ و سلامت رہنے کی دعا کی کہ خدا یا ! وہ جہاں کہیں بھی ہیں انہیں سلامت رکھ۔ پھر ان بھائیوں نے جن اپنا سامان کھولاتو انہوں نے بڑے تعجب سے دیکھا کہ وہ تمام چیزیں جو انہوں نے غلے کی قیمت کے طور پر عزیز مصر کو دی تھیں سب انہیں لوٹا دی گئی ہیں اور وہ ان کے سامان میں موجود ہیں ( وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَھُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ إِلَیْھِمْ) ۔ جب انھوں نے دیکھا کہ یہ تو ان کی گفتگو پر سند قاطع ہے تو باپ کے پا س آئے اور ” کہنے لگے : ابا جان ! ہمیں اس سے بڑھ کر او رکیا چاہئیے ، دیکھئے انہوں نے ہمارا تمام مال و متاع ہمیں واپس کردیا ہے “۔ ( قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا نَبْغِی ھَذِہِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَیْنَا)2 کیا اس سے بڑ ھ کر کوئی عزت و احترام او رمہر بانی ہو سکتی ہے کہ ایک غیر ملک کا سر براہ ایسے قحط اور خشک سالی میں ہمیں اناج بھی دے اور اس کی قیمت بھی واپس کردے ، وہ بھی ایسے کہ ہم سمجھ ہی نہ پائیں اور شرمندہ نہ ہوں ؟ اس سے بڑھ کر ہم کیا تصور کرسکتے ہیں ؟ ؟ ابا جان ! اب کسی پریشانی کی ضرورت نہیں ۔ ہمارے ساتھ بھیج دیں ” ہم اپنے گھر والوں کے لئے اناج لے آئیں گے “۔ ( وَنَمِیرُ اٴَھْلَنَا ) ۔۲ ۲۔” نمیر “ میرہ “ مادہ سے کھانا اور غذائی مواد حاصل کرنے کے معنی میں ہے ۔ اور اپنے بھائی کی حفاظت کی کوشش کریں گے “۔وَنَحْفَظُ اٴَخَانَا) ۔” نیز اس کی وجہ سے ایک اونٹ کا بار بھی زیادہ لائیں گے ۔ ( وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیر) ۔اورعزیر مصر جیسے محترم ، مہربان اور سخی شخص کے لئے کہ جسے ہم نے دیکھا ہے ایک آسان اور معمولی کام ہے ( ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ ) ۔ ۳۔”ذٰلک کیل یسیر“ میں یہ احتمال بھی ہے کہ حضرت یوسف (ع) کے بھائیوں کامقصد یہ تھا کہ جو کچھ لے آئے ہیں یہ تو تھو ڑا سا پیمانہ ہے اگر ہمارا چھوٹا بھائی ہمارے ساتھ چلے تو ہم زیاد ہ غلہ حاصل کرسکتے ہیں ۔ ان تمام امور کے باوجود حضرت یعقوب (ع) اپنے بیٹے بنیامین کو ان کے ساتھ بھیجنے کے لئے راضی نہ تھے لیکن دوسری طرف ان کا اصرار تھا جو واضح منطق کی بنیاد پر تھا ۔ یہ صورت ِ حال انہیں آمادہ کرتی تھی کہ وہ ان کی تجویز قبول کرلیں ۔ آخر کار انہوں نے دیکھا کہ اس کے بغیر چارہ نہیں کہ مشروط طور پر بیٹے کوبھیج دیا جائے ۔ لہٰذا آپ نے انہیں اس طرح سے ” کہا : میں اسے ہر گز تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا ، جب تک کہ تم ایک خدائی پیمان نہ دو اور کوئی ایسا کام نہ کرو جس سے مجھے اعتماد پیدا ہو جائے کہ تم اسے واپس لے کر آوٴ گے مگر یہ کہ موت یا موت یا اور عوامل کی وجہ سے یہ امر تمہارے بس میں نہ رہے ( قَالَ لَنْ اٴُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِی مَوْثِقًا مِنْ اللهِ لَتَاٴْتُونَنِی بِہِ إِلاَّ اٴَنْ یُحَاطَ بِکُم) ۔ ” موثقاً من اللہ“سے مراد وہی قسم ہے جو خدا کے نام کے ساتھ ہے ۔ ” الا ان یحاط بکم “کامعنی اصل میں یہ ہے : ” مگر یہ کہ جو حوادث سے مغلوب ہو جاوٴ“۔ یہ جملہ ہوسکتا ہے موت یا ایسے دوسرے حوادث کے لئے کنایہ ہو جو انسان کو بے بس کردیں ۔ 3 واحیط بثمرہ ( کہف ۔ ۴۲) لیکن واضح زیربحث آیات میں مراد بالخصوص ہلاکت نہیں ہے بلکہ ایسا عذر ہے جس کے باعث انسان کا اختیار ختم ہو جائے ۔ یہ استثناء حضرت یعقوب (ع) کی عظیم دانائی کی علامت ہے ۔ اس کے باوجود کہ وہ اپنے بیٹھے بنیامین سے اس قدر محبت رکھتے تھے انہوں نے اپنے دوسرے بیٹوں کو ایسی مشکل میں نہیں ڈالا جو ان کے بس میں نہ ہو لہٰذا کہا کہ میں تم سے اپنا بیٹا چاہتاہوں مگر یہ کہ ایسے حوادث پیش آجائیں جو تمہاری قدرت سے ماوراء ہوں اس صورت میں تمہاراکوئی گناہ نہ ہو گا۔ واضح ہے کہ اگر ان میں سے بعض کسی حادثے میں گرفتار ہو جاتے اور ان سے قدرت چھن جاتی تو باقی رہ جانے والوں کی ذمہ داری تھی کہ وہ باپ کی امانت اس تک پہنچا دیں ، اسی لئے حضرت یعقوب (ع) کہتے ہیں : مگر یہ کہ تم سب حوادث سے مغلوب ہو جاوٴ ۔ بہر حال یوسف (ع) کے بھائیوں نے باپ کی شرط قبول کرلی اور جب انہوں نے اپنے والد سے عہدو پیمان باندھا تو یعقوب (ع) نے کہا : شاہد ، ناظر اور محافظ ہے ، اس بات پر کہ جو ہم کہتے ہیں ( فَلَمَّا آتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ قَالَ اللهُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ) ۔ ۱۔” نکتل “ اصل میں ” کیل “ کے مادہ سے ” نکتال “ تھا یہ پیمانے سے کوئی چیز حاصل کرنے کے معنی میں ہے لیکن ” کال “ پیمانے سے کوئی دینے کے معنی میں ہے ۔ 2۔ہوسکتا ہے ” مانبغی“ استفہامیہ جملہ ہو اور اس کی تقدیر ” مانبغی وراء ذٰلک “ ( ہمیں اس سے زیادہ اور کیاچاہئیے ) ہو اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نافیہ ہو اور اس کی تقدیر اس طرح ہو :” مانبغی بذٰلک الکذب۔ او۔ مانبغی منک دراھم “ (ہم جھوٹ نہیں بولنا چاہتے یا یہ کہ ہم اور پیسے آپ سے نہیں چاہتے یہی مال کافی ہے ۔ 3۔ یہ تفسیر قرآن مجید میں کئی مقامات پر صرف ہلاکت او رنابودی کے معنی میں استعمال ہوئی ہے ۔مثلاً وظنوا انھم احیط بھم ( یونس ۔۲۲)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:63-66
چند اہم نکات
۱۔ حضرت یعقوب (ع) کیسے راضی ہو گئے : مندرجہ بالا آیا ت کے سلسلے میں جو پہلا سوال ذہن میں آتا ہے یہ ہے کہ حضرت عقوب (ع) بنیامین کو ان کے سپرد کرنے پر کیسے آمادہ ہو گئے جب کہ ان کے بھائی یو سف (ع) کے بارے میں اپنے سلوک کی وجہ سے پہلے برے کردار کے شمار ہوتے تھے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ وہ صرف یوسف (ع) کے بارے میں اپنے دل میں کینہ و حسد نہیں رکھتے تھے بلکہ وہ یہی احساسات اگر چہ نسبتاً خفیف ہی سہی بنیامین کے لئے بھی رکھتے تھے ۔ چنانچہ اس سورہ کی ابتدائی آیا ت میں ہے : اذقالوا لیوسف و اخوہ احب الیٰ ابینا منا و نحن عصبة انہوں نے کہا کہ یوسف اور اس کا بھائی باپ کے نزدیک ہم سے زیادہ محبوب ہے جب کہ ہم زیادہ طاقتور ہیں ۔ اس نکتے کی طرف توجہ کرنے سے اس سوال کا جواب واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) والے حادثے کو تیس سے چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا اور حضرت یوسف (ع) کے جو ان بھائی بڑحاپے کو پہنچ گئے تھے اور فطرتا ً ان کے ذہن پہلے زمانے کی نسبت پختہ ہو چکا تھا۔ علاوہ ازیں گھر کے ماحول پر اور اپنے مضطرب وجدان پر اپنے برے ارادے کے اثرات وہ اچھی طرح سے محسوس کرتے تھے اور تجربے نے ان پر ثابت کریا کہ یوسف (ع) کے فقدان سے نہ صرف یہ کہ ان کے لئے باپ کی محبت میں اضافہ ہوا بلکہ مزید مہری اور بے التفاتی پیدا ہو گئی ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر یہ تو ایک زندگی کا مسئلہ ہے ۔ قحط سالی میں ایک گھرانے کے لئے اناج مہیا کرنا ایک بہت بڑی چیز تھی اور یہ سیر و تفریح کا معاملہ نہ تھا جیسا کہ انہوں نے ماضی میں حضرت یوسف (ع) کے متعلق فرمائش کی تھی ۔ ان تمام پہلووٴں کے پیش نظر حضرت یعقوب (ع) نے ان کی بات مان لی لیکن شرط کے ساتھ کہ آپ سے عہد و پیمان باندھیں کہ وہ اپنے بھائی بنیامین کو صحیح و سالم آپ کے پاس واپس لے آئیں گے ۔ ۲۔ کیا صرف ایک قسم کافی تھی ؟دوسرا سوال یہا ں یہ پید اہوتا ہے کہ کیا صرف قسم کھا لینا اور خدائی پیمان باندھ لینا کافی تھا کہ جس کی بنیاد پر بنیامین کو ان کے سپرد کردیا جاتا ۔ ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ مسلم ہے کہ عہدو پیمان اور قسم کھا لینا ہی کافی نہیں تھا لیکن قرائن و شواہد نشاندہی کرے تھے کہ اس دفعہ ایک حقیقت پیش نظر ہے نہ کہ سازش ، مکروفریب اور جھوٹ ۔ اس لئے وعدہ اور قسم زیادہ تاکید کے لئے تھی ۔ بالکل اسی طرح جیسے ہم دیکھتے ہیں کہ سیاسی اشخاص سے مثلاً صدر مملکت اور اسمبلی کے ارکان سے ذمہ داریوں کی ادائیگی کے لئے حلف ِ وفا داری لیا جاتا ہے جب کہ ان کے انتخاب میں بھی کافی دیکھ بھال سے کام لیا جاتا ہے ۔ ۶۷۔ وَقَالَ یَابَنِیَّ لاَتَدْخُلُوا مِنْ بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ اٴَبْوَابٍ مُتَفَرِّقَةٍ وَمَا اٴُغْنِی عَنکُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ إِنْ الْحُکْمُ إِلاَّ لِلَّہِ عَلَیْہِ تَوَکَّلْتُ وَعَلَیْہِ فَلْیَتَوَکَّلْ الْمُتَوَکِّلُونَ ۔ ۶۸۔ وَلَمَّا دَخَلُوا مِنْ حَیْثُ اٴَمَرھُمْ اٴَبُوھُمْ مَا کَانَ یُغْنِی عَنْھُمْ مِنْ اللهِ مِنْ شَیْءٍ إِلاَّ حَاجَةً فِی نَفْسِ یَعْقُوبَ قَضَاھَا وَإِنَّہُ لَذُو عِلْمٍ لِمَا عَلَّمْنَاہُ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لاَیَعْلَمُونَ ترجمہ ۶۷۔ ( جب وہ جانے لگے تو یعقوب (ع) نے ) کہا : میرے بیٹو! ایک دروازے سے داخل نہ ہونا ، بلکہ مختلف دروازوں سے داخل ہونا اور ( میں یہ حکم دے کر ) خدا کی طرف سے حتمی حادثے کو نہیں ٹال سکتا۔ حکم اور فرمان صرف خدا کی طرف سے جاری ہوتا ہے ۔ اس پر میں نے توکل کیا ہے اور تمام توکل کرنے والوں کو اسی پر توکل کرنا چاہئیے ۔ ۶۸۔ اور جب اسی طریقے سے جیسا کہ انہیں باپ نے حکم دیا تھا وہ داخل ہوئے تو یہ کام ان سے کسی حتی خدائی حادثے کو دور نہیں کرسکتا تھا سوائے اس حاجت کے جو یعقوب(ع) کے دل میں تھی ، ( جو اس طرح سے ) انجام پائی ( اور اس کے دل کو تسکین ہو ئی ) اور وہ اس تعلیم کی بر کت سے جو ہم نے اسے دی بہت سا علم رکھتا تھا جب کہ اکثر لوگ نہیں جانتے ۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 12:64
[Pooya/Ali Commentary 12:64] (see commentary for verse 3) Aqa Mahdi Puya says: Yaqub wanted his sons to know that their undertaking to guard Benjamin had no credibility in his opinion, as was in the case of Yusuf aforetime. On both occasions Yaqub did not trust his sons; he put his faith in Allah alone. When they unpacked their goods they found the money which the servants of Yusuf had put there on his orders, so that greed might bring them back again with Benjamin. Yaqub, a man of wisdom and experience, aware of the possible suspicions the people of Egypt might have about eleven strangers parading in the city, advised them to enter from different gates. Although they did as advised by Yaqub but it did not profit them against the plan of Allah - reunion of the whole family and shaming the ten brothers into repentance. The men of Allah are full of knowledge, not as men, but as taught by the grace of Allah. Yusuf was delighted to see Benjamin, his own brother. He told him not to worry as he was going to keep Benjamin with himself. After taking the provisions, when they were departing Yusuf asked a steward to put his own drinking silver cup in Benjamin's saddle-bag; and then it was announced that Yusuf s silver cup had been stolen. As they were about to leave a steward stopped them and searched their bags, and found the silver cup in Benjamin's bag. So he was detained. It was Allah's plan to allow Yusuf to keep his brother with himself because under the law of the land he could not detain his brother.