وَجَاءَ إِخْوَةُ يُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَيْهِ فَعَرَفَهُمْ وَهُمْ لَهُ مُنكِرُونَ
[After some years] the brothers of Joseph came and entered his presence. He recognized them, but they did not recognize him.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 12:58
[Pooya/Ali Commentary 12:58] (see commentary for verse 3)
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 12:58-68
The brothers failed to recognize Joseph while he was acquainted and their further trial is a part of human trial. Joseph’s obligations to his brothers and the tact with which he gets his younger brother, Benjamin, with which they are further tried is worth noting, and forms a part of Divine wisdom, displayed in human affairs, at the hands of the immaculates.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:58-62
یوسف (ع) کی بھائیوں کو نئی تجویز
آخر کار جیسا کہ پیش گوئی ہوئی تھی سات سات پے در پے بارش ہونے کے سبب اور دریائے نیل کے پانی میں اضافے کے باعث مصر کی زرعی پیدا وار خوب تسلی بخش ہو گئی ۔ مصر کا خزانہ اور اقتصادی امور حضرت یوسف (ع) کے زیر نظر تھے ۔ آپ نے حکم دیا کہ غذائی اجناس کو خراب ہونے سے بچا نے کے لئے چھوٹے بڑے گودام بنائے جائیں ۔ آپ نے عوام کو حکم دیا کہ پیدا وار سے اپنی ضرورت کے مطابق رکھ لیں اور باقی حکومت کے پاس بیچ دیں ۔ اس طرح گودام غلّے سے بھر جائیں گئے ۔ نعمت و بر کت کی فراوانی کے یہ سات سال گزر گئے اور قحط سالی اور خشک سالی کا منحوس دور شروع ہوا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے آسمان زمین کے لئے بخیل ہو گیا ہے ۔ کھیتیاں اور نخلستان خشک ہو گئے ۔ عوام کو غلے کی کمی کا سامنا کرنا پڑا لیکن وہ جانتے تھے کہ حکومت نے غلے کے ذخائر جمع کر کھے ہیں لہٰذا وہ اپنی مشکلات حکومت ہی کے ذریعے دور کرتے تھے ۔ حضرت یوسف (ع) بھی پوری منصوبہ بندی اور پرو گرام کے تحت غلہ فروخت کرتے تھے اور عادلانہ طورپر ان کی ضرورت پوری کرتے تھے ۔ یہ خشک سالی صرف مصر ہی میں نہ تھی اطراف کے ملکوں کا بھی یہی حال تھا فلسطین اور کنعان مصر کے شمال مشرق میں تھے ۔ وہاں کے لو گ بھی انہی مشکلات سے دور چار تھے ۔ حضرت یعقوب کا خاندان بھی اسی علاقہ میں سکونت پذیر تھا ۔ وہ بھی غلے کی کمی سے دو چار ہو گیا ۔ حضرت یعقوب (ع) نے ان حالات میں مصمم ارادہ کیا کہ بنیامین کے علاوہ باقی بیٹیوں کو مصر کی طرف بھیجیں ۔ یوسف کی جگہ اب بنیامین ہی ان کے پاس تھا ۔ بہت حال وہ لوگ مصر کی طرف جانے والے قافلے کے ہمراہ ہولئے اوربعض مفسرین کے بقول اٹھارہ دن کی مسافت کے بعد مصر پہنچے ۔ جیسا کہ تواریخ میں ہے ، ضروری تھا کہ ملک سے باہر سے آنے والے افراد مصر میں داخل ہوتے وقت اپنی شناخت کروائیں تاکہ مامورین حضرت یوسف (ع) کو مطلع کریں ۔ جب مامورین نے فسلطین کے قافلہ کی خبر دی تو حضرت یوسف (ع) نے دیکھا کہ غلے کی درخواست کرنے والوں میں ان کے بھائیوں کے نام بھی ہیں ۔ آپ انہیں پہچان گئے اور یہ ظاہر کئے بغیر کے وہ آپ کے بھائی ہیں ، آپ نے حکم دیا کہ انہیں حاضر کیا جائے اور جیسا کہ قرآن کہتا ہے : یوسف (ع) کے بھائی آئے اور ا س کے پاس پہنچے تو اس نے انہیں پہچان لیا لیکن انہوں نے اسے نہیں پہچانا ( وَجَاءَ إِخْوَةُ یُوسُفَ فَدَخَلُوا عَلَیْہِ فَعَرَفَھُمْ وَھُمْ لَہُ مُنکِرُونَ) ۔ وہ یوسف (ع) نہ پہچاننے میں حق بجانب تھے کیونکہ ایک طرف تو تیس یا چالیس سال تک کا عرصہ بیت چکا تھا ( اس دن سے لیکر جب انہوں نے حضرت یوسف (ع) کو کنویں میں پھینکا تھا ان کے مصر میں آنے تک ) اور دوسری طرف وہ سوچ بھی نہ سکتے تھے کہ ان کابھائی عزیز مصر ہو گیا ہے ۔ یہاں تک کہ اگر وہ اسے اپنے بھائی کے مشابہ بھی پاتے تو ایک اتفاق ہی سمجھتے ۔ ان تمام امور سے قطع نظر حضرت یو سف (ع) کے لباس کا اندازہ بھی بالکل بدل چکا تھا ، انہیں مصریوں کے نئے لباس میں پہچاننا کوئی آسان کام نہیں تھا بلکہ یوسف (ع) کے ساتھ جو کچھ ہو گزرا تھا اس کے بعد ان کی زندگی کا احتمال بھی ان کے لئے بہت بعید تھا ۔ بہر حال انہوں نے اپنی ضرورت کا غلہ خرید ا اور اس کی قیمت نقدی کی صورت میں اور یا موزے ، جوتے یا کچھ اجناس کی صورت میں ادا کی کہ جو وہ کنعان سے مصر لائے تھے ۔ حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں نے بہت محبت کا برتاوٴ کیا اور ان سے بات چیت کرنے لگے ۔ بھائیوں نے کہا: ہم دس بھائی ہیں اور حضرت یعقوب (ع) کے بیٹے ہیں ہمارے والد خدا کے عظیم پیغمبر ابراہیم(ع) خلیل کے پوتے ہیں ۔ اگر آپ ہمارے باپ کو پہچانتے ہوتے تو ہمارا بہت احترام کرتے ۔ ہمارا بوڑھا باپ انبیاء الٰہی میں سے ہے لیکن ایک نہایت گہرے غم نے ان کے پورے وجود کو گھیر رکھا ہے ۔ حضرت یوسف (ع) نے پوچھا : یہ غم کس بنا پر ہے ۔ انہوں نے کہا : اس کا ایک بیٹا تھا جس سے وہ بہت محبت کرتا تھا ۔ عمر میں وہ ہم سے بہت چھوٹا تھا ۔ ایک دن ہمارے ساتھ شکار اورتفریح کے لئے صحرا میں گیا ۔ ہم ا س سے غافل ہو گئے تو ایک بھیڑیا اسے چیر پھار گیا ۔ اس دن سے لے کر آج تک اس کے لئے گریاں اور غمگین ہے ۔ بعض مفسرین نے اس طرح سے نقل کیا ہے : حضرت یوسف (ع) کی عادت تھی کہ ایک شخص کو ایک اونٹ کے بارے سے زیادہ غلہ نہیں بیچتے تھے ۔ حضرت یوسف (ع) کے بھائی چونکہ دس تھے لہٰذا انہیں غلے کے دس بار دئیے گئے ۔ انہوں نے کہا : ہمارا بوڑھا باپ ہے اور ایک چھوٹا بھائی ہے جو وطن میں رہ گیا ہے ۔ باپ غم و اندوہ کی شدت کی وجہ سے سفر نہیں کرسکتا اور چھوٹا بھائی خد مت کے لئے اور مانوسیت کی وجہ سے اس کے پاس رہ گیا ۔ لہٰذا ان دونوں کا حصہ بھی ہمیں دیدیجئے ۔ حضرت یوسف (ع) نے حکم دیا کہ دو اونٹوں کے بار کا اضافہ کیا جائے ۔ پھر حضرت یوسف (ع) ان کی طرف متوجہ ہوئے او رکہا: میں دیکھ رہا ہوں کہ تم ہوشمند اور موٴدب افراد ہواور یہ جو تم کہتے ہو کہ تمہارے بھائی کو تمہارے سب سے چھوٹے بھائی سے لگاوٴ ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ غیر معمولی اور عام بچوں سے ہٹ کر ہے ۔میری خواہش ہے کہ تمہارے آئندہ سفر میں میں اسے ضرور دیکھوں۔ علاوہ ازیں یہاں کے لوگوں کو تمہارے بارے میں کئی بد گمانیاں ہیں کیونکہ تم ایک دوسرے ملک سے تعلق رکھتے ہو لہٰذا بد ظنی کی اس فضا کو دور کرنے کے لئے آئندہ سفر میں چھوٹے بھائی کو نشانی کے طور پر ساتھ لے آنا ۔ یہاں قرآن کہتا ہے :جب یوسف (ع) نے ان کے بار تیار کئے تو ان سے کہا : تمہارا بھائی جو باپ کی طرف سے ہے اسے میرے پاس لے آوٴ ( وَلَمَّا جھَّزَھُمْ بِجَھَازِھِمْ قَالَ ائْتُونِی بِاٴَخٍ لَکُمْ مِنْ اٴَبِیکُم) ۔ اس کے بعد مزید کہا : کیا تم دیکھتے ہیں ہو کہ میں پیمانہ کا حق ادا کر تا ہوں اور میں بہترین میز بان ہوں (وَلاَتَرَوْنَ اٴَنِّی اٴُوفِی الْکَیْلَ وَاٴَنَا خَیْرُ الْمُنزِلِینَ ) ۔ اس تشویق اور اظہار محبت کے بعد انہیں یوں تہدید بھی کی : اگر اس بھائی کو میرے پاس نہ لائے تو نہ تمہیں میرے پاس سے غلہ ملے گا اور نہ تم خود میرے پاس پھٹکنا ( فَإِنْ لَمْ تَاٴْتُونِی بِہِ فَلاَکَیْلَ لَکُمْ عِندِی وَلاَتَقْرَبُونِی ) ۔ حضرت یوسف (ع) چاہتے تھے کہ جیسے بھی ہو بنیامین کو اپنے پاس بلائیں ۔ ا س کے لئے کبھی وہ لطف و محبت کا طریقہ اختیار کرتے اور کبھی تہدید کا ۔ ان تعبیرات سے ضمنی طور پر واضح ہو جاتا ہے کہ مصر میں غلات کی خرید و فروخت تول کر نہیں ہوتی تھی بلکہ پیمانے سے ہوتی تھی ۔ نیز یہ واضح ہو جاتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) اپنے بھائیوں اور دوسرے مہمانون کی بہت اچھے طریقے سے پذیرائی کرتے تھے اور ہر حوالے سے مہمان نواز تھے ۔ بھائیوں نےان کے جواب میں کہا : ہم اس کے باپ سے بات کریں گے اور کوشش کریں گے کہ وہ رضامند ہوجائیں اور ہم یہ کام ضرورکریں گے ( قَالُوا سَنُرَاوِدُ عَنْہُ اٴَبَاہُ وَإِنَّا لَفَاعِلُونَ ) ۔ ” انا لفاعلون “ کی تعبیر نشاندہی کرتی ہے کہ انہیں یقین تھا کہ اس سلسلے میں وہ اپنے باپ کو راضی کرلیں گے اور ا ن کی موافقت حاصل کرلیں گے ۔ اسی لئے وہ عزیز مصر ایسا کا واعدہ کررہے تھے او رایسا ہی ہونا چاہئیے تھے کیونکہ جب وہ اپنے اصرار اور آہ و زاری سے یوسف (ع) کو اپنے باپ سے لے جاسکتے تھے تو بنیامین کو کیونکر ان سے جد انہیں کرسکتے تھے ۔ اس موقع پر ان کی ہمدردی اور توجہ کو زیادہ سے زیادہ اپنی طرف مبذول کرنے کے لئے حضرت یوسف (ع) نے ” اپنے کارندوں سے کہا کہ ان کی نظر بچا کر وہ اموال ان کے غلے میں رکھ دیں جو انہوں نے اس کے بدلے میں دئیے تھے تاکہ جب وہ واپس اپنے خاندان میں جا کر اپنا سامان کھولیں تو انہیں پہچان لیں اور دوبارہ مصر کی طرف لوٹ آئیں ( وَقَالَ لِفِتْیَانِہِ اجْعَلُوا بِضَاعَتَھُمْ فِی رِحَالِہِمْ لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُونَھا إِذَا انقَلَبُوا إِلَی اٴَھْلِھمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُونَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 12:58-62
چند اہم نکات
۱۔ حضرت یوسف (ع) نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہیں کروا یا : مندرجہ بالا آیات کے مطالعہ سے جو پہلا سوال سامنے آتا ہے وہ یہ ہے کہ حضر ت یوسف (ع) نے بھائیوں نے اپنا تعارف کیوں نہ کروایا کہ وہ جلد از آپ کو پہچان لیتے اور باپ کے پاس واپس جاکر انہیں آپ کی جدائی کے جانکاہ غم سے نکالتے َ ؟ یہ سوال زیادہ وسیع حوالے سے بھی سامنے آسکتا ہے اور وہ یہ کہ جس وقت حضرت یوسف (ع) کے بھائی آپ کے پا س آئے اس وقت آپ کی زندان سے رہائی کو کوئی آٹھ سال گزر چکے تھے کیونکہ گزشتہ سات سال فراوان نعمتوں پرمشتمل گزر چکے تھے جن کے دوران آپ قحط سالی کے عرصے کے لئے اناج ذخیرہ کرنے میں مشغول تھے ۔ آٹھویں سال قحط کا دور شروع ہوا ۔ اس سال یا اس کے بعد آپ کے بھائی غلہ لینے کے لئے مصر آئے ۔ کیا چاہئیے نہ تھا کہ ان آٹھ سالوں میں آپ کوئی قاصد کنعان کی طرف بھیجتے اور اپنے والد کو اپنے حالات سے آگاہ کرتے اور انہیں شدید غم سے نجات دلاتے ؟ بہت سے مفسرین نے مثلاً طبرسی نے مجمع البیان میں ، علامہ طباطبائی نے المیزان میں اور قر طبی نے الجامع الاحکام القرآن میں اس سوال کا جواب دیا ہے اور اس سلسلے میں کئی جوابات پیش کئے ہیں ۔ ان میں سے زیادہ بہتر یہ نظر آتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) کو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی اجازت نہ تھی کیونکہ فراق ِ یوسف (ع) دیگر پہلووٴں کے علاوہ حضرت یعقوب کے لئے ایک امتحان بھی تھا اور ضروری تھا کہ آزمائش کا یہ دور فرمان الہٰی سے ختم ہوا اور اس کے پہلے حضرت یوسف (ع) خبر دینے کے مجاز نہ تھے ۔ علاوہ ازیں اگر حضرت یوسف (ع) فوراً ہی اپنے بھائیوں کو اپنا تعارر کروادیتے تو ممکن تھا کہ اس کا نتیجہ اچھا نہ ہوتا اور ہوسکتا تھا جہ وہ اس سے ایسے وحشت زدہ ہوتے کہ پھر لوٹ کر آپ کے پاس نہ آتے کیونکہ انہیں یہ خیال پیدا ہوتا کہ ممکن ہے یوسف (ع) ان کے گزشتہ رویہ کا انتقال لیں ۔ ۲۔غلہ کی قیمت کیوں واپس کردی : حضرت یوسف (ع) نے یہ حکم کیوں دیا تھا کہ جو مال ان کے بھائیوں نے غلے کی قیمت کے طور پر دیا ہے وہ ان کے سامان میں رکھ دیا جائے ؟ اس سوال کے بھی کئی جواب دئیے گئے ہیں ۔ ان میں سے فخرالدین رازی نے اپنے تفسیر میں دس جوابات ذکر کئے ہیں ۔ بعض تو ان میں سے غیر مناسب ہیں البتہ خود مذکورہ آیت نے اس سوال کا جواب دیا ہے :” لَعَلَّھُمْ یَعْرِفُونَھا إِذَا انقَلَبُوا إِلَی اٴَھْلِھمْ لَعَلَّھُمْ یَرْجِعُون“۔ یعنی حضرت یوسف (ع) کا مقصد یہ تھا کہ جب وہ وطن واپسی پر اپنا سامان دیکھیں گے تو انہیں عزیز مصر ( حضرت یوسف (ع) ) کی کرم نوازی کا پہلے سے زیادہ احساس ہو اور اسی بنیاد پر وہ دوبار ہ آپ کے پاس آجائیں یہاں تک کہ اپنے چھوٹے بھائی کو بھی پورے اطمینان ِقلب سے اپنے ساتھ لے آئیں اور خود حضرت یعقوب (ع) بھی یہ بات دیکھ کر بنیامین کو بڑے اعتماد سے مصر روانہ کردیں ۔ ۳۔حضرت یوسف (ع) نے بیت المال کا مال کیوں بلا معاوضہ دے دیا؟ :ایک اور سوال جو یہاں سامنے آتاہے یہ ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے اپنے بھائیوں کو بیت المال کا کچھ حصہ کیوں بلا معاضہ دے دیا۔ اس سوال کا جوانب دو طرح سے دیا جاسکتا ہے : پہلا یہ کہ مصر کے بیت المال میں مستضعفین کا حق تھا( اور ہمیشہ ہوتا ہے ) اور مختلف ممالک میں موجود سر حدوں سے یہ حق ختم نہیں ہوتا ۔ اسی لئے حضرت یوسف (ع) اپنے بھائیوں کے لئے جو اس وقت مستضعف تھے اس حق سے استفادہ کیا جیسا کہ وہ دیگر مستضعفین کے لئے بھی کرتے تھے ۔ دوسرا یہ کہ حضرت یوسف (ع) اس وقت ایک حساس منصب پر تھے جس کی بناء پر ذاتی طور پر بھی ان کے کچھ حقوق تھے ، ان کا کم از کم یہ حق تھا کہ وہ اپنے معاشی ضروریات کا ، اپنے ضرورت مند اہل و عیال کا اور اپنے باپ اور بھا ئیوں جیسے رشتہ داروں کی کم از معاشی زندگی کا خیال رکھیں اسی بناء پر آپ نے اس بخشش و عطا میں اپنے حق سے استفادہ کیا۔ ۶۳۔ فَلَمَّا رَجَعُوا إِلَی اٴَبِیھِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مُنِعَ مِنَّا الْکَیْلُ فَاٴَرْسِلْ مَعَنَا اٴَخَانَا نَکْتَلْ وَإِنَّا لَہُ لَحَافِظُونَ ۔ ۶۴۔ قَالَ ھَلْ آمَنُکُمْ عَلَیْہِ إِلاَّ کَمَا اٴَمِنتُکُمْ عَلَی اٴَخِیہِ مِنْ قَبْلُ فَاللهُ خَیْرٌ حَافِظًا وَھُوَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ۔ ۶۵۔ وَلَمَّا فَتَحُوا مَتَاعَھُمْ وَجَدُوا بِضَاعَتَھُمْ رُدَّتْ إِلَیْھِمْ قَالُوا یَااٴَبَانَا مَا نَبْغِی ھَذِہِ بِضَاعَتُنَا رُدَّتْ إِلَیْنَا وَنَمِیرُ اٴَھْلَنَا وَنَحْفَظُ اٴَخَانَا وَنَزْدَادُ کَیْلَ بَعِیرٍ ذَلِکَ کَیْلٌ یَسِیرٌ ۶۶۔ قَالَ لَنْ اٴُرْسِلَہُ مَعَکُمْ حَتَّی تُؤْتُونِی مَوْثِقًا مِنْ اللهِ لَتَاٴْتُونَنِی بِہِ إِلاَّ اٴَنْ یُحَاطَ بِکُمْ فَلَمَّا آتَوْہُ مَوْثِقَھُمْ قَالَ اللهُ عَلَی مَا نَقُولُ وَکِیلٌ۔ ترجمہ ۶۳۔ جب وہ اپنے والد کے پاس پہنچے تو انہوں نے کہا : ابا جان ! ہم سے ( غلے کا) پیمانہ روک دیا گیا ہے لہٰذا ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے گا تاکہ ہم ( غلے کا ) حصہ لے سکیں اور ہم اس کی حفاظت کریں گے ۔ ۶۴۔ اس نے کہا کہ کیا میں اس کے بارے میں تم پر بھروسہ کرلوں جیسا کہ اس کے بھائی ( یوسف ) کے بارے میں میں تم پر بھروسہ کیا تھا اور( میں نے دیکھا کہ کیا ہوا اور بہر حال ) خدا بہترین محافظ اور ارحم الراحمین ہے ۔ ۶۵۔ اور جس وقت انہوں نے اپنا مال و متاع کھولا تو انہوں نے دیکھا کہ ان کا سرمایہ انہیں واپس کردیا گیا ہے ۔ انہوں نے کہا : ابا جان ! ہمیں اور کیاچاہئیے یہ( دیکھئے)ہمارا سرمایہ جو ہمیں واپس کردیا گیا ہے ( لہٰذا کیا ہی اچھا ہے کہ بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے) اور ہم اپنے گھر والوں کے لئے اناج لائیں گے اور اپنے بھائی کی حفاظت کریں گے اور زیادہ بڑا پیمانہ حاصل کریں گے ، یہ تو چھوٹا پیمانہ ہے ۔ ۶۶۔ اس نے کہا میں ہر گز اسے تمہارے ساتھ نہیں بھیجوں گا جب تک کہ مجھ سے پکا خدائی وعدہ نہ کرو کہ اسے حتماً میرے پاس لے آوٴگے مگر یہ کہ ( موت یا کسی اور سبب سے ) تم سے قدرت سلب ہو جائے اور جس وقت انہوں نے اس سے قابل ِ وثوق وعدہ کرلیا تو اس نے کہا : جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں خدا اس پر ناظر و حافظ ہے ۔