قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ
Say, ‘I seek the protection of the Lord of humans,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 114:1
[Pooya/Ali Commentary 114:1] The prayer of al Falaq continues in an Nas. Man is asked to seek refuge with Allah who is his Lord, sovereign and God, from the power of evil of Shaytan and his followers among jinn and men who secretly whisper evil and then leave people to rebel against Allah and go astray. As has been said in the "general remarks" before the commentary of al Fatihah (see pages 9 to 12) by accepting Allah as the Lord, king and God, common people were liberated from the curse of superstition, ignorance and exploitation with which the false lords and kings of the world had been subjecting them since the beginning of collective life on the earth. For their emancipation and liberation Allah sent His messengers and prophets in every age. Therefore material and spiritual purification is not at all possible unless man turns to his supreme Lord, king and God-Allah.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 114:1-6
Every faithful has two ears to his soul, one of which is seated Divine angel, protecting against the evil influence and on the other, the devil producing misgivings, of whom are two, one in spirty andthe other in humans.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 114:1-6
لوگوں کی پروردگار کی پناہ ما نگتا ہوں
اس سور ہ میں ،جو قرآن مجید کا آخری سورہ ہے ،لوگوں کے لیے نمونہ اور پیشواہونے کے لحاظ سے خود پیغمبر کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے فر ماتا ہے :”کہہ دیجئے ،میں لوگوں کے پرور دگار کی پناہ مانگتا ہوں ۔“(قل اعوذ برب الناس) ”لوگوں کے مالک و حاکم کی ۔“(ملک الناس )۔ ”لوگوں کے خدا و معبود کی ۔“(الٰہ الناس )۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہاں خدا کے عظیم او صاف میں سے تین اوصاف (ربو بیت ،ملکیت اور الو ہیت ) کا ذکر ہوا ہے جو سب کی سب براہ ِراست انسان کی تر بیت اور وسوسے ڈالنے والوں کے چنگل سے نجات کے ساتھ ار تبا ط رکھتی ہیں ۔ البتہ خدا سے پناہ ما نگنے سے مراد یہ نہیں ہے کہ انسان صرف زبان سے یہ جملہ کہے ،بلکہ فکر و نظر اور عقیدہ و عمل کے ساتھ بھی انسان خود کو پناہ میں قرار دے ۔شیطانی راستوں ،شیطانی پرو گراموں ،شیطانی افکار و تبلیغات ،شیطانی مجالس و محا فل سے خود کو دور رکھے ،اور رحمانی افکار و تبلیغات کے راستے کو اختیار کرے ۔ورنہ وہ انسان جو عملی طور پر ان وسوسوںکے طو فان میں ٹہرا رہے گا وہ صرف اس سورہ کے پڑھنے اور ان الفاظ کے کہنے سے کہیں نہیں پہنچے گا ۔ وہ ”رب الناس “کہنے کے ساتھ پرور دگار کی ربوبیت کا اعتراف کرتا ہے اور خود کو اس کی تر بیت میں قرار دیتا ہے ۔ ”ملک الناس “کہنے سے خود کو اس کی ملکیت سمجھتا ہے اور اس کے فر مان کا بندہ ہو جاتا ہے ۔ اور ”الٰہ الناس “کے کہنے سے اس کی عبو دیت کے راستہ میں قدم رکھ دیتا ہے اور اس کے غیر کی عبادت سے پر ہیز کرتا ہے ۔اس میں شک نہیں ہے کہ جو شخص ان تینوں صفات پر ایمان رکھتا ہو اور خود کو ان تینوں کے ساتھ ہم آہنگ کر لے ،وہ وسوسہ ڈالنے و الوں کے شر سے امان میں رہے گا ۔ در حقیقت یہ تینوں اوصاف تین اہم تربیتی درس،پیش رفت کے تین پرو گرام اور وسوسے ڈالنے والوں کے شر سے نجات کے تین ذریعے ہیںاور یہ سورہ انسان کا ان کے مقابلہ میں بیمہ کر دیتا ہے ۔ اسی لیے بعد والی آیت میں مزید کہتا ہے:”وسوسے ڈالنے والے خناس کے شر سے “(من شر لو سواس الخناس )۔ ”وہی جو انسان کے سینوں میں وسوسے ڈالتے ہیں ۔“(الذی یو سوس وصدور الناس )۔ ”جنوں اور انسانوں میں سے وسوسے ڈالنے والے ۔“(من الجنتہ والناس )۔ ”وسواس“کا لفظ”مفر دات “میں” راغب “کے قول کے مطابق اصل میں ایسی آہستہ آواز ہے جو آلات زینت کے آپس میں ٹکرانے سے پیدا ہوتی ہے ۔ اس کے بعد ہر آہستہ آواز پر بولا جانے لگا اور اس کے بعد ایسے نا مطلوب اور برے افکار و خیالات پر،جو انسان کے دل و جان میں پیدا ہوتے ہیں ،اور ایسی آہستہ آواز کے مشابہ جو کان میں کہی جاتی ہے ،اطلاق ہوا ہے ۔ ”وسواس “مصدری معنی رکھتا ہے ،بعض اوقات ”فاعل“(وسوسہ ڈالنے والا )کے معنی میں بھی آتا ہے ،اور زیر بحث آیت میں یہی معنی ہے ۔ ”خناس “”خنوس “(بر وزن خسوف )کے مادہ سے ،صیغہ مبا لغہ ہے ،جو جمع ہونے اور پیچھے جانے کے معنی میں ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ جب خدا کا نام لیا جاتا ہے تو شیا طین پیچھے ہٹ جاتے ہیں اور چو نکہ یہ کام پنہاںہونے کے ساتھ توام ہے ،لہٰذا یہ لفظ”اختفاء“کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ اس بناء پر آیات کا مفہوم اس طرح ہو گا :”کہہ دیجئے میں شیطان صفت وسوسہ ڈالنے والے کے شر سے ،جو خدا کے نام سے بھاگتا ہے اور پنہاں ہو جاتا ہے ،خدا کی پنہاں ما نگتا ہوں ۔“ اصولاََ” شیا طین “اپنے پرو گراموں کو چھپ کر کرتے ہیںاور بعض اوقات انسان کے دل کے کان میں اس طرح سے پھو نک مارتے ہیں کہ انسان یہ یقین کر لیتا ہے کہ یہ فکر خود اسی کی فکر ہے اور خود اسی کے دل میںخود بخود پیدا ہوئی ہے ،یہی بات اس کے بہکنے اور گمراہی کا سبب بن جاتی ہے ۔شیاطین کا کام زینت دینا ،باطل کو حق کے لعاب میں چھپانا ،جھوٹ کو سچ کے چھلکے میں لپیٹ کر گناہ کو عبادت کے لباس میں اور گمراہی کو ہدایت کے سر پوش میں پیش کر نا ہے ۔ خلاصہ یہ ہے کہ وہ بھی مخفی ہوتے ہیں اور ان کے پرو گرام بھی پنہاہ ہوتے ہیں ،اور یہ راہ حق کے ان تمام رہ روؤں کے لیے ایک تنبیہہ ہے جو یہ تو قع نہیں رکھتے کہ شیاطین کو ان کے اصلی چہرے اور قیا فہ میں دیکھیں ،یا ان کے پروگر ا موںکو انحرافی شکل میں مشا ہدہ کریں ۔سو چنے کی بات ہے ،وسوسے ڈالنے والے خناس ہوتے ہیںاور ان کا کام چھپانا ،جھو ٹ بولنا،دھوکا دینا، ریا کاری کرنا،ظاہر سازی اور حق کو پو شید ہ کرنا ہے ۔ اگر وہ اصلی چہرے میں ظاہر ہو جائیں،اگر وہ باطل کو حق کے ساتھ نہ ملائیں ،اگر وہ صریح اور صاف بات کریں تو علی علیہ السلام کے قول کے مطابق لم یخف علی المرتادین :خدا کی راہ پر چلنے والوں پر مطلب مخفی نہیں رہتا ۔ وہ ہمیشہ کچھ حصہ تو ”اس“سے لیتے ہیں ،اور کچھ حصہ ”اس “سے اور انہیں آپس میں ملا دیتے ہیں ،تاکہ لوگوں پر مسلط ہو سکیں،جیساکہ امیر المومنین علیہ السلام اسی گفتگوکو جاری رکھتے ہوئے فر ماتے ہیں :فھنالک یستولی الشیطان علی او لیائہ “۱ ”الذی یو سوس فی صدور الناس “کی تعبیر ،اور لفظ ”وسوسہ “کا انتخاب ،اور لفظ ”صدور “(سینے )بھی اسی معنی کی تا کید ہیں۔ یہ سب کچھ تو ایک طرف ،دوسری طرف سے ”من الجنةوالناس “کا جملہ خبر دار کرتا ہے کہ ”وسوسے“ڈالنے والے خناس ،صرف ایک ہی گروہ ،ایک ہی جماعت ،ایک ہی طبقہ ،اور ایک ہی لباس میں نہیں ہوتے ،بلکہ یہ جن و انس میں پھیلے ہوئے ہیں اور ہر لباس اور ہر جماعت میں پائے جاتے ہیں ۔لہٰذا ان سب پر نظر رکھنی چا ہیئے اور ان سب کے شر سے خدا کی پناہ ما نگنی چا ہیئے ۔ نا مناسب دوست ،منحرف ہم نشین ،گمراہ اور ظالم اور پیشوا ،جبار اور طاغوتی کا رندے ،فاسد مقر رین اور لکھنے والے ،ظاہر فر یب الحادی والتقاطی مکاتب اور اجتماعی طور پر وسوسے ڈالنے والوں کے وسائل ارتباط سب کے سب ”وسو اس خناس “کے وسیع مفہوم میں داخل ہیں کہ جن کے شر سے انسان کو خدا کی پناہ ما نگنی چا ہیئے ۔ ۱۔ ”نہج البلاغہ “خطبہ ۵۰
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 114:1-6
۱۔ ہم خدا کی پناہ کیوں ما نگتے ہیں ؟
انسان کے لیے ہر لمحہ انحراف کا امکان موجود ہے اور اصولی طور پر جب خدا اپنے پیغمبر کو یہ حکم دے رہا ہے کہ ”وسواس خناس “کے شر سے خدا کی پناہ ما نگیں،تو یہ خناسوں اور وسوسہ ڈالنے والوں کے دام فر یب میں گرفتا رہونے کے امکان کی دلیل ہے ۔ با وجود اس کے کہ پیغمبر اکرم لطف الٰہی،غیبی امدادوں اور اپنے آپ کو خدا کے سپرد کرنے کی بناء پر ہر قسم کے انحراف سے محفو ظ تھے ،لیکن پھر بھی وہ آیات کو پڑ ھتے تھے اور ان کے ذریعے وسواس خناس کے شر سے پناہ ما نگتے تھے ۔ ان حالات میں دوسروں کا معاملہ واضح وروشن ہے ۔ لیکن مایوس ہو نے کی ضرورت نہیں ہے ،کیو نکہ ان مخرب وسوسہ ڈالنے والوں کے مقا بلہ میں مومن بندوں اور راہ حق کے رہروؤں کی مدد کے لیے آسمانی آتے ہیں ۔ ہاں !مو من تنہا نہیں ہے ،فر شتے ان پر نازل ہوتے ہیں اور ان کی مدد کرتے ہیں “:ان الذین قالو ا ربنا اللہ ثم استقاموا تتنذل علیھم الملا ئکة“(حمٰ سجدہ ۔۳۰) لیکن بہر حال مغرور ہر گز نہیں ہونا چاہئے ،اور خود کو موعظ و پند و نصائح اورخدائی امدادوں سے بے نیاز نہیں سمجھنا چا ہیئے۔بلکہ ہمیشہ اس سے پناہ ما نگنی چا ہیئے اور ہمیشہ بیدار اور ہو شیار رہنا چا ہیئے ۔ ۲۔ اس ارے میں کہ تین آیات میں ”ناس “کا تکرار کیوں ہوا ہے ؟بعض نے تو یہ کہا ہے کہ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کا ہر مقام پر الگ الگ معنی ہے ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ خدا کی ان تین صفات کی عمو میت کی تا کید کے لیے ہے اور تینوں مقام پر ایک ہی معنی رکھتا ہے ۔ ۳۔ ایک روایت میں پیغمبر اکرم سے آیا ہے : ”ما من مئومن الا و لقلبہ فی صدرہ اذنان :اذن ینفث فیھا الملک و اذن ینفث فیھا الو سواس الخناس فیئو ید اللہ المومن با لملک فھوقو لہ سبحانہ:و ایدھم بروح منہ : ”ہر مومن کے دل میںدو کان ہوتے ہیں ،ایک کان میں فرشتہ پھو نک مارتا ہے اور دوسرے کان میں وسواس خناس پھونک مارتا ہے ۔پس خدا مومن کی فر شتہ کے ذر یعے تا ئید فر ماتا ہے ۔اور آیہ ”و ایدہ بروح منہ “کا مطلب یہی ہے ۔“۱ ایک لرزہ خیز اور پر معنی حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ : جب آیہ” والذین اذا فعلو ا فا حشةاو ظلمو ا انفسھم ذکروااللہ فا ستغفرو الذنو بھم :”(وہ لوگ جو کبھی کوئی برا کام انجام دیتے ہیں ،یا خود اپنے اوپر ظلم کرتے ہیںتو خدا کو یاد کرتے ہیں ،اور اپنے گناہوں کے لیے استغفار کرتے ہیں )نازل ہوئی ،تو ابلیس مکہ میں ایک پہاڑکے اوپر گیا اور اونچی آواز کے ساتھ فر یاد کی اور اپنے لشکر کے سرداروں کو جمع کیا ۔ انہوں نے کہا :اے آقا!کیا ماجرا ہے ،آپ نے ہمیں کیوں بلایا ہے ۔؟ اس نے کہا :یہ آیت نازل ہوئی ہے (اس آیت نے میری کمر میں لر زہ پیدا کر دیا ہے اور یہ آیت نجات بشر کا باعث )تم میں سے کون ہے جو اس کا مقابلہ کرے ؟ بزرگ شیطا نوں میں سے ایک نے کہا :میں ایسا کر سکتا ہوں ،میرا منصوبہ یہ ہے ۔ ابلیس نے اس کے اس منصوبہ کو نا پسند کر دیا !تو دوسرا کھڑا ہوں اور اس نے اپنا منصوبہ پیش کیا ،لیکن یہ بھی قبو ل نہ کیاگیا ۔ اس موقع پر ”وسواس خناس کھڑا ہوا اور ا س نے کہا :میں اس کام کو انجام دوںگا ۔ ابلیس نے کہا : وہ کیسے ؟ اس نے کہا :میں انہیں وعدوں اور آرزوؤں میں سر گرم کر دوں گا ،یہا ں تک کہ وہ گناہ میں آلودہ ہو جا ئیں گے ،جب وہ گناہ کر لیں گے تو میں انہیں توبہ کرنا بھلا دوں گا ۔ ابلیس نے کہا :تو اس کام سے عہدہ بر آ ہو سکتا ہے ۔(تیرا منصوبہ بہت ما ہرانہ اور عالی ہے )اور یہ کام قیا مت تک اس کو سپرد کر دیا ۔2 خدا وندا !ہمیں ان سب وسوسہ ڈالنے والوں کے شر سے اور خناس کے تمام وسوسوںسے محفوظ فر ما ۔ پروردگار !دام فر یب سخت ہے ،اور دشمن بیدار اور ا س کے منصوبے مخفی اور پنہاں ہیں اور تیرے لطف کے بغیر نجات ممکن نہیں ہے ۔ با ر الٰہا!ہم نہیں جانتے کہ اس عظیم نعمت کا شکر تیری بار گاہ میں کس طرح پیش کریں کہ تو نے ہم پر احسان کیا ہے اور ہمیں یہ عظیم افتخار اور تو فیق عطا فر مائی ہے کہ ہم نے اس وقت تقر یباََپندرہ سال کے بعد اس تفسیر کو مکمل کر دیا ہے ۔ خدایا !تو جانتا ہے کہ اس لمحہ ایک ایسی نا قابل تو صیف خوشی اور شکر کے ساتھ ملی ہوئی شادمانی ہمارے سارے وجود میں مو جزن ہے ،ایسا احساس جس کی کسی بیان کے ساتھ تشریح اور اس کے شکر کی ہم میں تو انائی نہیں ہے ،ہم تیری بار گاہ میں ہاتھ اُٹھا کر دعا کرتے ہیں ۔ آفر ید گار ا!ممکن ہے ہم سے ان آیات کی تفسیر میں کچھ لغزشیںہو گئی ہوں ،تو وہ سب ہمیں بخش دے اور ہم امید رکھتے ہیں کہ تیرے بندے بھی ہمیں بخش دیں گے ،اور آخری جملہ میں ہم یہ عرض کرتے ہیں : اے خدا ئے رحیم و مہر بان !اپنے کرم سے یہ نا چیز خدمت ہم سب سے قبول فر مالے اور اسے ہماری معاد اور روز جزا کا ذخیرہ قرار دے ۔ واٰخر دعواناان الحمدللہ رب العالمین ۔ 1”مجمع البیان “جلد ۱۰ ،ص۷۱ 2۔”(المیزان “جلد ۲۰،ص ۵۵۷ )