تَبَّتْ يَدَا أَبِي لَهَبٍ وَتَبَّ
Perish the hands of Abu Lahab, and perish he!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 111:1
[Pooya/Ali Commentary 111:1] Abu Lahab, literally "the father of flame", was the nickname of Abul Uzza, an uncle of the Holy Prophet, and a bitter and fiery opponent of Islam and the Holy Prophet. Refer to the commentary of Ali Imran: 52 and 53 for dawat dhil ashira in which he flared up and shouted at the Holy Prophet, saying: "Perdition to you". He made it his business to torment the Holy Prophet; and his wife, Umm Jumail, sister of Abu Sufyan, took pleasure in carrying thorny bushes and strewing them in the sand where she knew that the Holy Prophet was sure to walk barefooted, because of which she is referred to as the bearer of the wood. Abu Lahab used to persuade the people to throw stones at the Holy Prophet, whenever he passed the streets of Makka, by telling them that he was a mad man. The two hands he used to throw stones at the Holy Prophet are cursed. The two hands of Abu Lahab may also refer to the evil deeds he had sent forth which condemns him to suffer severest punishment till eternity. Neither his wealth nor his supporters will be able to save him from the blazing fire. A week after the battle of Badr, Abu Lahab perished, consumed with grief and his own fiery passions. The angel of death strangled his wife with the rope she used to wear around her neck. On the day of judgement the fire of punishment like a rope of iron strongly twisted will be put on her neck. Aqa Mahdi Puya says: No relationship whatsoever, even with the Holy Prophet, can be of any advantage to the disbeliever. Abu Lahab, an uncle of the Holy Prophet, will burn in the blazing fire. On the contrary, it is noticeable, that Salman, a Persian outsider, through his faith and submission to Allah, the Holy Prophet and his Ahl ul Bayt achieved the highest distinction of being included in the Ahl ul Bayt.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 111:1-5
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 111:1-5
۳۔بے بصیرت رشتہ دار ہمیشہ دور ہوتے ہیں۔
یہ سورہ ایک مرتبہ پھراس حقیقت کی تاکید کر رہا ہے کہ ایسی رشتہ داری جس میں ایمان اور عقیدہ کا رشتہ نہ ہو اس کی کوئی حیثیت اور قدر و قیمت نہیں ہوتی ،اور مردان ِ خدا منحرف ،جبار اور سر کش لوگوں کے مقابلہ میں کسی قسم کامیلان نہیں رکھتے تھے چاہے وہ ان کے کتنے ہی قریبی رشتہ دار ہوں۔ با وجود اس کے کہ ابو لہب پیغمبر اکرم کا چچا تھا اور آپ کے قریب ترین رشتہ داروں میں شمار ہو تاہے ،جب اس نے اپنا اعتقادی اور عملی راستہ آپ سے جدا کر لیا تو اس کی بھی دوسرے منحرف اور گمراہ لوگوں کی طرح سخت ملامت اور سر زنش کی گئی ۔اس کے بر عکس ایسے دور دراز کے لو گ بھی تھے جو نہ صرف پیغمبر کے رشتہ داروں میں شمار نہ ہو تے تھے ،بلکہ آپ کے خاندان اور اہل زبان سے بھی نہیں تھے ،لیکن وہ فکری ،اعتقادی اور عملی رشتہ کی بنا ء پر اس قدر نزدیک ہو گئے ، کہ مشہور حدیث میں سلمان منا اھل البیت (سلمان ہم اہل بیت میں سے ہیں )کے مطابق گویا خاندانِ رسالت کاجزء ہو گئے ۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس سورہ کی آیات صرف ابو لہب اور اس کی بیوی کے بارے میں گفتگو کر رہی ہیں لیکن یہ بات واضح ہے کہ صرف ان کے صفات کی وجہ سے ان کی ایسی مذمت کی گئی ہے ۔اس بناء پر جو شخص یا جو گروہ اُنہیں اوصاف کا حامل ہوگا اس کی سر نو شت بھی ا ُ نہیں جیسی ہوگی ۔ خدا وندا!ہمارے دل کو ہر قسم کی ہٹ دھرمی اور عناد سے پاک کر دے ۔ پر ور دگار!ہم سب اپنے انجام اور عاقبت کار سے ڈرتے ہیں ،ہمیں امن و سکون اور آرام بخش دے و اجعل عاقبةامر نا خیراََ،(ہماری عاقبت بخیر کر) بارِالہا !ہم جانتے ہیں کہ اس عظیم عدالت میں نہ تو مال و دولت کام آتے ہیں اور نہ ہی کوئی رشتہ داری فائدہ دیتی ہے ،صرف تیرا لطف و کرم ہی کام آتا ہے ،لہٰذا ہم پر اپنا لطف و کرم کر ۔ آمین یا ربّ العالمین
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 111:1-5
۱۔ قرآن کے اعجاز کی ایک اور نشانی
ہم جانتے ہیں کہ یہ آیات مکہّ میں نازل ہوئیں اورقرآ ن کریم نے دو ٹوک طریقہ سے یہ خبر دی تھی کہ ابو لہب اور اس کی بیوی جہنم کی آگ میں ہوں گے ،یعنی وہ ہر گز بھی ایمان نہیں لائیں گے۔انجام کار ایسا ہی ہوا ،بہت سے مشرکین مکہّ توواقعی طور پر ایمان لے آئے اور بعض ظاہری طور پر مسلمان ہو گئے ،لیکن وہ افراد جو نہ تو واقع میں ایمان لائے اور نہ ہی ظاہر بظاہر ،وہ یہ دونوں تھے ۔یہ قرآن مجید کے غیبی اخبار میں سے ایک ہے اور قرآن نے دوسری آیات میں بھی اس قسم کی خبریںدی ہیں جن میں قرآن کی غیبی خبروں کے عنوان کے تحت اعجاز ِ قرآن کی ایک فصل کو مخصوص کیا گیا ہے اور ہم نے ان آیات میں سے ہر ایک کے ذیل میں مناسب بحث کی ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 111:1-5
۲۔ ایک اور سوال کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی ان پیشین گوئیو ں کی مو جودگی میںممکن نہیں تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی ایمان لے آتے ،ورنہ یہ خبر جھو ٹی اور دردغ ہو جاتی ۔ یہ سوال اسی معروف سوال کے مانندہے جو ”علم ِ خدا “کے مسئلہ کے بارے میں جبر کی بحث میں پیش ہوا ہے اور وہ یہ ہے کہ ہم جانتے ہیں کہ وہ خدا جو ازل سے ہر چیز کا عالم تھا ،وہ گنہگاروں کے گناہ اور اطاعت گزاروں کی اطاعت کو جانتا تھا ۔اس بناء پر اگر گنہگار گناہ نہ کرتے تو خداکا علم جہالت میں بدل جائے ۔ علماء اور فلا سفئہ اسلام قدیم سے اس سوال کا جواب دے چکے ہیں اور وہ یہ ہے کہ خدا جانتا ہے کہ ہر شخص اپنے اختیار و آزادی سے فائدہ اُٹھا تے ہوئے کون کون سے کام انجام دے گا ،مثلاََزیرِبحث آیات میں خدا ابتداء سے جانتا تھا کہ ابو لہب اور اس کی بیوی اپنی خواہش و رغبت اور ارادہ و اختیار سے ہرگز ایمان نہیں لائیں گے ،جبری اور لازمی طور نہیں ۔ دوسرے الفاظ میں ارادہ و اختیار کی آزادی کا عنصر بھی خدا کو معلوم تھا۔وہ جانتا تھا کہ بندے صفت اختیا ر کے ساتھ اور اپنے ارادہ سے کون سے عمل انجام دیں گے۔ مسلمہ طور پر ایسا علم اور مستقبل کے بارے میں اس قسم کی خبر دینا ،مسئلہ اختیار کی تاکید ہے ،جبراور مجبوری کے لیے کو ئی دلیل نہیں ہے ۔(غور کیجئے)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 111:1-5
ابو لہب کا ہاتھ کٹ جائے
جیسا کہ ہم نے اس سورہ کے شان نزول میں بیان کیا ہے یہ سورہ حقیقت میںپیغمبر اکرم کے چچا،عبد المطلب کے بیٹے”ابو لہب کی بری باتوں کاجوا ب ہے جو اسلام کے سخت دشمنو ں میں سے تھا اور جس نے پیغمبر اکرم کی آشکار اور عمومی دعوت اور عذاب ِالٰہی کے بارے میںآپ کے انداز کو سن کر یہ کہا تھا کہ:”تو ہلاک ہو جائے ،کیا تو نے ہمیں انہی باتوں کے لیے پکارا تھا“؟ قرآن مجید اس بد زبان شخص کے جواب میں فرماتا ہے : ”ابو لہب کے دونوں ہاتھ کٹ جائیں،یا وہ ہلاک ہو جائے اور خسارہ اُٹھائے “۔ (تب یدا ابی لھب وتب)”تب“و ”تباب “(بر وزن ِخراب )”مفر دات “میں ”راغب “کے قول کے مطابق دائمی خسارے کے معنی میں ہے لیکن ”طبرسی“نے”مجمع البیان “میں یہ کہا ہے کہ یہ اس نقصان کے معنی ہے جو ہلاکت پر منتہی ہو۔ بعض ارباب لغت نے اس کی ”قطع کرنے “کے معنی میں بھی تفسیر کی ہے اور شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ ہلاکت پر منتہی ہو نے والا دائمی نقصان طبعاََ قطع ہونے اور کٹ جانے کا سبب بنتا ہے۔ان معانی کے مجموعہ سے وہی بات معلوم ہوتی ہے جو ہم نے آیہ کے معنی میں بیان کی ہے ۔ البتہ یہ ہلاکت اور نقصان ممکن ہے دنیوی پہلو رکھتا ہو یا معنوی و اُخروی یا دونوں۔ یہاںیہ سوال سامنے آتاہے کہ قرآن مجید نے اپنی روش اور سیرت کے بر خلاف ایک شخص کا نام کیسے لے لیااوراس شدّت کے ساتھ اس پر حملہ کیو ں کیا ہے ؟لیکن ابو لہب کی حثییت معلوم ہو نے سے اس سوال کا جواب واضح ہوجاتا ہے۔اس کا نام ”عبد العزیٰ“(عزی بت کا بندہ )اور اس کی کنیت”ابو لہب “تھی ۔اس کے لیے اس کنیت کا انتخاب شاید اس وجہ سے تھاکہ اس کاچہرہ سرخ اور بھڑکتا ہو اتھا ،چو نکہ لغت میں لہب آگ کے شعلہ کے معنی میں ہے۔ وہ اور اس کی بیوی ”اُمِ جمیل “جو ابو سفیان کی بہن تھی ،پیغمبر اکرم کے نہایت بد زبان اور سخت ترین دشمنو ں میںسے تھے۔ایک روایت میں آیا ہے کہ ”طارق محاربی“نامی ایک شخص کہتا ہے :میں”ذی المجاز“ کے بازار میں تھا۔(ذی المجاز عر فات کے نزدیک مکہّ سے تھوڑے سے فاصلہ پر ہے)اچانک میں نے ایک جوان کو دیکھاجو پکار پکار کر کہہ رہا تھا:اے لوگوں!لا الٰہ الاّاللہ کا اقرار کر لوتو نجات پا جاؤ گے ۔اور اس کے پیچھے پیچھے میں نے ایک شخص کو دیکھا جو اس کے پاؤں کے پچھلے حصہ پر پتھر مار تا جاتا ہے جس کی وجہ سے اس کے پاؤںسے خون جاری تھا اور وہ چلا چلا کر کہہ رہاتھا”اے لوگوں!یہ جھوٹاہے،اس کی بات نہ ماننا“! میں نے پوچھا کہ یہ جوان کون ہے ؟تو لوگوں نے بتایا:”یہ محمّد“ ہے جس کا گمان یہ ہے کہ وہ پیغمبر ہے اور یہ بوڑھا اس کا چچا ابو لہب ہے جو اس کو جھوٹا سمجھتاہے۔.- 1 ایک اور د وسری روایت میںآیا ہے کہ ”ربیع بن عباد“کہتا ہے :میں اپنے باپ کے ساتھ تھا،میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ وہ قبائل عرب کے پاس جاتے اورہر ایک کو پکار کر کہتے:میں تمہاری طرف خدا کا بھیجا ہو ارسول ہوں:تم خدائے یگانہ کے سوا کسی اور کی عبادت نہ کرواور کسی کو اس کا شریک نہ بناؤ۔جب وہ اپنی بات سے فارغ ہو جاتا تو ایک خو برو بھینگا آدمی جو ان کے پیچھے پیچھے تھا،پکار کر کہتا:”اے فلاں قبیلہ :یہ شخص یہ چاہتا ہے کہ تم لات وعزی بت اور اپنے ہم پیمان جنوں کو چھوڑدو اور اس کی بد عت وضلالت کی پیروی کر نے لگ جاؤ۔اس کی بات نہ سننا، اور ا س کی پیروی نہ کرنا!میں نے پوچھا کہ یہ کون ہے ؟تو انہوں نے بتایا کہ یہ ”اس کا چچا ابو لہب ہے“۔ 2 ایک اور روایت میں آیا ہے کہ جب مکہّ سے باہر کے لوگوں کا کوئی گروہ اس شہرمیں داخل ہوتا تھا تو وہ پیغمبر سے اس کی رشتہ داری اور سن و سال کے لحاظ سے بڑا ہو نے کی بنا پر ابو لہب کے پاس جاتا تھااور رسول اللہ کے بارے میں تحقیق کرتا تھا ۔وہ جواب دیتا :محمّد ایک جادو گر ہے۔وہ بھی پیغمبر سے ملاقات کیے بغیر ہی لوٹ جاتے۔اسی اثناء میںایک ایسا گروہ آیا جنہوں نے یہ کہا کہ ہم تو اسے دیکھے بغیر واپس نہیں جائیں گے۔ابو لہب نے کہا:”ہم مسلسل اس کے جنون کا علاج کر رہے ہیں!وہ ہلاک ہو جائے ! 3 ان روایات سے اچھی طرح معلوم ہو جاتا ہے کہ وہ اکثر مواقع پرسایہ کی طرح پیغمبر کے پیچھے لگا رہتا تھا اور کسی خرابی سے فرد گزاشت نہ کرتا تھا۔خصوصاََاس کی زبان بہت ہی گندی اور آلودہ ہوتی تھی اور و ہ رکیک اور چبھنے والی باتیں کیا کرتاتھا۔اور شاید اسی وجہ سے پیغمبر اسلام کے سب دشمنوںکا سر غنہ شما رہوتا تھا ۔اسی بناء پرزیربحث آیات اس پر اس کی بیوی ام جمیل پر ایسی صراحت ا ور سختی کے ساتھ تنقید کر رہی ہیں۔ وہی ایک اکیلاایسا شخص تھا جس نے پیغمبر اکرم سے بنی ہاشم کی حمایت کے عہد و پیمان پر دسخظ نہیں کیے تھے اور ا س نے آپ کے دشمنوں کی صف میں رہتے ہوئے دشمنوں کے عہد وپیمان میں شرکت کی تھی ۔ان حقا ئق کی طرف توجہ کرنے سے اس سورہ کی استثنائی کیفیت کی دلیل واضح ہو جاتی ہے۔ اس کے بعد مزید فرماتا ہے:اس کے مال و ثروت نے اور جوکچھ اس نے کمایا ہے اس نے ،اسے ہرگزکوئی فائدہ نہیں دیااور وہ اسے عذاب الٰہی سے نہیں بچا ئے گا۔“(ما اغنیٰ عنہ ما لہ وما کسب ) 4 اس تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک دولت مند مغرور شخص تھا جو اپنی اسلام دشمن کو ششوں کے لیے اپنے مال ِو دولت پربھروسہ کرتاتھا۔ بعد والی آیت میں مزید کہتاہے:”وہ جلدی ہی اس آگ میںداخل ہوگاجس کے شعلے بھڑکنے والے ہیں۔“(سیصلیٰ نارََا ذات لھب )اگر اس کا نام ”ابو لہب “تھا تو اس کے عذاب کی آگ بھی”ابو لہب “ہے اور وہ بہت ہی عظیم شعلے رکھتی ہے۔(اس بات پر توجہ رہے کہ ”لہب “یہاں نکرہ کی صورت میں آیا ہے اور یہ اس شعلہ کی عظمت کی دلیل ہے)۔نہ صرف ابو لہب کو بلکہ کسی بھی کافر اور بد کارکو اس کا مال و ثروت اور اس کی اجتماعی ومعا شرتی حثییت جہنم کی آگ اور خدا کے عذاب سے رہائی نہیں بخشیں گے،جیسا کہ سورہ شعراء کی آیہ ۸۸و۸۹ میں آیا ہے:یوم لا ینفع مال ولا بنون الّامن اتی اللہ بقلب سلیم :قیامت ایک ایسا دن ہے جس میں انسان کو نہ تو ا س کامال ہی کوئی فائد ہ دے گا اور نہ ہی اس کی کوئی اولاد ،سوائے اس شخص کے جو قلب سلیم (یعنی ایمان و تقویٰ کی روح کے ساتھ )پر وردگار کے دربار میں حاضر ہو۔مسلمہ طور پر آیہ ”سیصلیٰ ناراََ ذات لھب “سے مراد جہنم کی آگ ہے ،لیکن بعض نے احتمال دیا ہے کہ اس میں دنیا کی آگ بھی شامل ہے ۔ روایات میں آیا ہے کہ جنگ ”بدر “اور سخت شکست کے بعد ،جو مشرکین قریش کو اُٹھانی پڑی تھی ،ابو لہب نے جو خود میدان جنگ میں شریک نہیں ہو اتھا۔ابو سفیان کے واپس آنے پر اس سے ماجرے کے بارے میں سوال کیا: ابوسفیان نے قریش کے لشکر کی شکست اور سر کوبی کی کیفیت اس سے بیان کی ۔اس کے بعد اس نے مزید کہا:خدا کی قسم ہم نے اس جنگ میںآسمان و زمین کے درمیان ایسے سوار دیکھے ہیںجو محمّد کی مدد کے لیے آئے تھے ۔اس موقع پر”عباس “ کے ایک غلام ”ابو رافع“نے کہا :میں وہاں بیٹھا ہوا تھا ،میں نے ا پنے ہاتھ بلند کیے اور کہا کہ وہ آسمانی فرشتے تھے۔اس سے ابو لہب بھڑک اُٹھا اور اس نے ایک زور دار تھپڑ میرے منہ پر دے مارا۔مجھے اُٹھا کرزمین پر پٹخ دیااور اپنے دل کی بھڑاس نکالنے کے لیے مجھے پیٹے چلے جا رہا تھا۔وہاں عباس کی بیوی”ام الفضل“ بھی موجودتھی اس نے ایک چھڑی اُٹھائی اورابو لہب کے سر پر دے ماری اور کہا:”کیا تو نے اس کمزور آدمی کو اکیلا سمجھا ہے ؟“ ابو لہب کا سر پھٹ گیا اور اس سے خون بہنے لگا۔سات دن کے بعد اس کے بدن میں بدبو پیدا ہو گئی،اس کی شکل میں طاعون کے دانے نکل آئے اور وہ اسی بیماری سے واصل جہنم ہو گیا۔اس کے بدن سے اتنی بدبو آرہی تھی کہ لوگ اس کے نزدیک جانے کی جرات نہیں کرتے تھے ۔وہ اسے مکہّ سے باہر لے گئے اور دور سے اس پر پانی ڈالااور اس کے بعد اس کے اُوپرپتھر پھینکے۔یہاں تک کہ اس کا بدن پتھروں اور مٹی کے نیچے چھپ گیا ۔ 5 بعد والی آیت میں اس کی بیوی ”اُمِ جمیل “کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے :”اس کی بیوی بھی جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں داخل ہوگی،جو اپنے دوش پر ایندھن اُٹھاتی ہے ۔“(وامراتہ حما لة الحطب ) 6 ”اور اس کی گردن میں خرما کی چھال کی رسیّ یاگردن بند ہے۔“(فی جید ھا حبل من مسد) کوئی شک و شبہ نہیں ہے کہ ابو لہب کی بیوی ۔جو ”ابو سفیان “ کی بہن اور معاویہ کی پھو پھی تھی ۔اسلام کے بر خلاف اپنے شوہر کی عداوتوںاور خرابیوں میں برابر کی شریک تھی لیکن اس بارے میں کہ قرآن نے اس کی حما لة الحطب (دوش پر ایندھن اُٹھانے والی عورت ) کے ساتھ تو صیف کیوں کی ہے،مفسرین نے متعددتفسیر یں بیان کی ہیں:بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ اس بناء پر ہے کہ وہ کاٹیں دار جھاڑیاں کندھے پراُٹھا کرلاتی تھی اور پیغمبر کے راستہ میں ڈال دیا کرتی تھی تا کہ وہ آپ کے پاؤ ں میں چبھ جائیں۔اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ تعبیر اس کی سخن چینی اور چغل خوری کے بارے میں آئی ہے ،جیسا کہ کسی نے کہاہے :میان دوکس جنگ چوںآتش است سخن چین بد بخت ہیزم کش است دو آدمیوں کے در میان جنگ آگ کے مانندہے اور بد بخت چغل خور ایندھن اُٹھانے والا ہے ۔ بعض اسے اس کے شدت سے بُخل سے کنا یہ سمجھتے ہیں ،کیو نکہ وہ اتنی دولت مند ہو نے کے با وجود کسی ضرورت مند کی مددکے لیے تیار ہی نہیں ہوتی تھی ۔اسی لیے اسے ”ہیز م کش“ایندھن اُٹھانے والے فقیر سے تشبیہ دی گئی ہے ۔ بعض یہ بھی کہتے ہیں کہ وہ قیامت میں بہت سے گروہوں کے گناہوں کو اپنے کندھے پر اُٹھائے ہوئے ہوگی ۔ان معانی میں سے پہلا معنی سب سے زیادہ مناسب ہے ،اگر چہ ان کے در میان جمع بھی بعید نہیں ہے ۔ ”جید “(بر وزن دید )”گر دن “کے معنی میں ہے اور اس کی جمع ”ا جیاد“ ہے بعض ارباب لغت کا نظریہ یہ ہے کہ ”جید “و ”عنق “ اور ”رقبہ “تینوں کے ایک ہی معنی ہے ، فرق صرف یہ ہے کہ ”جید “سینہ سے اُوپر والے حصہ کو کہا جاتا ہے ،”عنق “گر دن کی پشت یا ساری گردن کو اور ”رقبہ “مطلقاََگردن کو کہا جاتا ہے ۔اور بعض اوقات ایک انسان کو بھی ”رقبہ“کہتے ہیں ،مثلاََ:”فک رقبہ “یعنی انسان کو آزاد کرنا ۔ 7 ”مسد “(بر وزن حسد ) اس رسی کے معنی میں ہے جو کھجور کے پتوں سے بنائی جاتی ہے ۔بعض نے یہ کہا ہے کہ ”مسد “وہ رسی ہے جو جہنم میں اس کی گردن میں ڈالیں گے جس میں کھجور کے پتوں جیسی سختی ہو گی اور اس میں آگ کی حرارت اور لو ہے کی سنگینی ہو گی۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ چو نکہ بڑے لوگوں کی عورتیںاپنی شخصیت کو آلات و زیو رات خصو صاََگردن کے قیمتی زیورات سے زینت دینے میںخاص بات سمجھتی ہیں،لہٰذا خدا قیا مت میں اس مغرور و خود پسند عورت کی تحقیر کے لیے لیف خرما کاایک گردن بند اس کی گردن میں ڈال دے گا۔یا یہ اصلاََاس کی تحقیر سے کنایہ ہے۔ بعض نے یہ بھی کہا ہے کہ اس تعبیر کے بیان کرنے کاسبب یہ ہے کہ ”اُمِ جمیل “کے پاس جوا ہرات کا ایک بہت ہی قیمتی گردن بند تھا اور اس نے یہ قسم کھائی تھی کہ وہ اسے پیغمبر اکرم کی دشمنی میں خرچ کرے گی،لہٰذا اس کے اس کام کے بدلے میں خدا نے بھی اس کے لیے ایسا عذاب مقرر کر دیا ہے - 1- مجمع البیان “جلد ۱۰ ص۵۵۹ 2-فی ظلا ل القرآن“جلد ۸ص۶۹۷ 3-تفسیر القرآن “جلد ۳۰ص۵۰۳ 4- ماکسب “میں”ما“ ممکن ہے”مو صولہ“یا ”مصدریہ“ہو،بعض ا س کے لیے ایک وسیع معنی کے قائل ہیں جو نہ صرف اس کے اموال بلکہ اس کی اولاد کو بھی شامل ہے ،اور ”ما اغنیٰ عنہ “میں ”ما“مسلمہ طور پر”مانا فیہ “ہے ۔ 5--بحار الانوار “جلد ۱۹ ص۲۲۷ 6- ”امراتہ“ ”سیصلیٰ“میں پوشیدہ ضمیر پر عطف ہے اور حما لة الحطب “ حال ہے اور منصوب ہے،اور بعض نے مثل ”زمخشری “ کے ”کشاف“میں اسے ”ذم “ کے عنوان سے منصوب جاناہے ۔اور تقدیر میں اس طرح ہے اذاحما لة الحطب ۔لیکن مسلمہ طور پرپہلا معنی بہتر ہے ۔ 7- التحقیق فی کلمات القرآن الکر یم “جلد ۲ ،ص۱۵۸