فَلَمَّا جَاءَ أَمْرُنَا نَجَّيْنَا صَالِحًا وَالَّذِينَ آمَنُوا مَعَهُ بِرَحْمَةٍ مِّنَّا وَمِنْ خِزْيِ يَوْمِئِذٍ إِنَّ رَبَّكَ هُوَ الْقَوِيُّ الْعَزِيزُ
So when Our edict came, We delivered Salih and the faithful who were with him by a mercy from Us and from the [punishment and] disgrace of that day. Your Lord is indeed the All-strong, the All-mighty.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:66
[Pooya/Ali Commentary 11:66] (see commentary for verse 61)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:66-68
چند اہم نکات
۱۔ مومنین کے لئے رحمت الٰہی ان آیات میں ہم پھر دیکھتے ہیں کہ رحمت الٰہی مومنین پر اس قدر مہربان ہے کہ نزول عذاب سے پہلے خدا تعالیٰ انھیں امن وامان کی جگہ منتقل کردیتا ہے اور ہر خشک وتر کو عذاب اور سزا میں مبتلا نہیں کرتا ۔ البتہ ممکن ہے کہ حوادث ناگوار مثلا ًسیلاب، وبائی بیماریاں اور زلزلے وغیرہ ایسا رخ اختیار کرلیں کہ ہر چھوٹے بڑے کو اپنی لپیٹ میں لے لیں لیکن یہ حوادث یقینی طور پر عذاب الٰہی کے حوالے سے نہیں ہوتے ورنہ عدالت الٰہی کی منطق میں محال ہے کہ ایک بھی بے گناہ شخص لاکھوں گنہگاروں کے ساتھ جرم میں گرفتار ہو۔ یہ بات البتہ پورے طور پر ممکن ہے کہ کچھ افراد ایک گنہگار جماعت میں رہتے ہوئے خاموش رہیں اور وہ برائی کے خلاف مقابلے کے بارے میں اپنی ذمہ داری پوری نہ کریں اور وہ بھی اسی انجام سے دوچارہوں لیکن اگر وہ اپنی ذمہ داری پر عمل کریں توپھر محال ہے کہ وہ حادثہ جو عذاب کے طورپرنازل ہو انھیں دامنگیر ہو، (خدا شناسی سے مربوط مباحث میں نزول بلا اور حوادث کے مابین رابطے کے حوالے سے ہم نے اس موضوع سے متعلق کتب میں تفصیلی بحث کی ہے) ۔ (1) ۲۔ ”صیحہ“ سے کیا مراد ہے ”صیحة“ لغت میں میں” بہت بلند آواز“ کو کہتے ہیں جو عام طور پر کسی انسان یا جانور کے منہ سے نکلتی ہے لیکن اس کامفہوم اسی سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہر قسم کی ”نہایت بلند آواز“ اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔ آیات قرآنی کے مطابق چند ایک گنہگار قوموں کو صیحہ آسمانی کے ذریعے سزا ہوئی، ان میں سے ایک یہی قوم ثمود تھی، دوسری قوم لوط (حجر:۷۳) اور تیسری قوم شعیب (ہود: ۹۴) ۔ قرآن کی دوسری آیات سے قوم ثمود کے بارے میں معلوم ہوتا ہے کہ اسے صاعقہ کے ذریعے سزا ہوئی، ارشاد الٰہی ہے: فَإِنْ اٴَعْرَضُوا فَقُلْ اٴَنذَرْتُکُمْ صَاعِقَةً مِثْلَ صَاعِقَةِ عَادٍ وَثَمُودَ (فصلت: ۱۳) یہ نشاندہی کرتی ہے کہ ”صیحة“ سے مراد”صاعقة“ کی وحشتناک آواز ہے ۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا صاعقہ کی وحشتناک آواز کسی جمعیت کو نابود کرسکتی ہے؟ اس کا جواب مسلما مثبت ہے کویں کہ ہم جانتے ہیں کہ آواز کی لہریں جب ایک معین حد سے گزرجائیں تو شیشے کو توڑ دیتی ہیں، یہاں تک کہ بعض عمارتوں کو تباہ کردیتی ہیں اورانسانی بدن کے اندر کے آرگانزم کو بے کار کردیتی ہیں ۔ ہم نے سناکہ جب ہوائی جہاز صوتی دیوار توڑ دیتے ہیں (اور آواز کی لہروں سے تیز رفتار سے چلتے ہیں)تو کچھ لوگ بے ہوش ہوکر گرجاتے ہیں یا عورتو ں کے حمل ساقط ہوجاتے ہیں یا ان علاقوں میں موجود عمارتوں کے تمام شیشے ٹوٹ جاتے ہیں ۔ فطری اور طبیعی ہے کہ اگر ااواز کی لہروں کی شدت اس سے بھی زیادہ ہوجائے تو آسانی سے ممکن ہے کہ اعصاب میں، دماغ کی رگوں میں اور دل کی ڈھڑکن میں تباہ کن اختلال پیدا ہوجائے جو انسانوں کی موت کا سبب بن جائے ۔ آیات قرآنی کے مطابق اس دنیا کا اختتام بھی ایک عمومی صیحہ کے ذریعے ہوگا، ارشاد الٰہی ہے : مَا یَنظُرُونَ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً تَاٴْخُذُھُمْ وَھُمْ یَخِصِّمُونَ (یٰسین: ۴۹) جیسا کہ قیامت بھی ایک بیدار کرنے والی صیحہ سے شروع ہوگی، قرآن کہتا ہے: إِنْ کَانَتْ إِلاَّ صَیْحَةً وَاحِدَةً فَإِذَا ھُمْ جَمِیعٌ لَدَیْنَا مُحْضَرُونَ۔ (یٰسین: ۵۳) ۳۔ سزا صرف مادی پہلو سے نہیں زیر بحث آیات سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ سرکشوں اور طغیان گروں کی سزا نہ سرف مادی پہلو نہیں رکھتی بلکہ معنوی پہلو کی بھی حامل ہے کیونکہ ان کا رسوا کن انجام اور مرگبار سرنوشت کا تذکرہ تاریخ کا رسوا کردینے والا باب بن جائے گا جب کہ اہل ایمان کا ذکر تاریخ میں سنہری حروف میں رقم ہوگا ۔ ۴۔” جاثمین“کا مفہوم ”جاثم“ مادہ ”جثم“ (بروزن خشم)سے گھٹنوں کے بل بیٹھنے کے معنی میں ہے، اسی طرح منہ کے بل گرنے کے معنی میں بھی آیا ہے ۔ ”جاثمین“ کی تعبیر سے معلوم ہوتا ہے کہ صیحہ آسمانی ان کی موت کا سبب بنی لیکن ان کے بے جان جسم زمین پر گرے پڑے تھے، البتہ چند ایک روایات سے نتیجہ نکلتا ہے کہ صاعقہ کی آگ نے انھیں جلا کر خاکستر کر دیا لیکن یہ دونوں چیزیں ایک دوسرے کے منافی نہیں ہیں کیونکہ صدائے صاعقہ کا وحشتناک اثر فوراً ظاہر ہوجاتا ہے جب کہ اس کے جلانے کے آثار خصوصا ان لوگوں کے لئے جو عمارتوں کے اندر ہوں، بعد میں ظاہر ہوتے ہیں ۔ ۵۔ ”یغنوا“ کا مطلب ”یغنوا“ ”غنی“ کے مادہ سے، کسی مکان میں اقامت کے معنی میں ہے اور بعید نہیں کہ” غنا“ کا اصلی مفہوم بے نیازی کے معنی سے لیا گیا ہو کیونکہ بے نیاز شخص مستقل گھر رہتا ہے اور وہ مجبور نہیں ہوتا کہ ایک گھر سے دوسرے میں منتقل ہوتا رہے ۔ جملہ” کان لم یغنوا فیھا“ قوم ثمود اور اسی طرح قوم شعیب کے لئے آیا ہے، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ان کی زندگی کا دفتر اس طرح سے لپیٹ دیا گیا کہ گویا وہ اس سرزمین میں رہتے ہی نہ تھے ۔(2) ۶۹ وَلَقَدْ جَائَتْ رُسُلُنَا إِبْرَاھِیمَ بِالْبُشْریٰ قَالُوا سَلَامًا قَالَ سَلَامٌ فَمَا لَبِثَ اٴَنْ جَاءَ بِعِجْلٍ حَنِیذٍ ۷۰ فَلَمَّا رَاٴَی اٴَیْدِیَھُمْ لَاتَصِلُ إِلَیْہِ نَکِرَھُمْ وَاٴَوْجَسَ مِنْھُمْ خِیفَةً قَالُوا لَاتَخَفْ إِنَّا اٴُرْسِلْنَا إِلیٰ قَوْمِ لُوطٍ ۷۱ وَامْرَاٴَتُہُ قَائِمَةٌ فَضَحِکَتْ فَبَشَّرْنَاھَا بِإِسْحَاقَ وَمِنْ وَرَاءِ إِسْحَاقَ یَعْقُوبَ ۷۲ قَالَتْ یَاوَیْلَتَا اٴَاٴَلِدُ وَاٴَنَا عَجُوزٌ وَھٰذَا بَعْلِی شَیْخًا إِنَّ ھٰذَا لَشَیْءٌ عَجِیبٌ ۷۳ قَالُوا اٴَتَعْجَبِینَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ رَحْمَةُ اللهِ وَبَرَکَاتُہُ عَلَیْکُمْ اٴَھْلَ الْبَیْتِ إِنَّہُ حَمِیدٌ مَجِید ترجمہ ۶۹۔ہمارے بھیجے ہوئے بشارت لے کر ابراہیم کے پاس آئے، کہا: سلام، (اس نے بھی )کہا: سلام اور زیادہ دیر نہ لگی کہ (ان کے لئے بھنا ہوا گوسالہ لے آیا) ۔ ۷۰۔ (لیکن ) جب اس نے دیکھا کہ ان کے ہاتھ اس کی طرف نہیں بڑھتے (اور وہ اسے نہیں کھاتے) توانھیں بڑا سمجھا اور دل میں احساس خوف کیا (مگر) انھوں نے اس سے (جلد ہی )کہا: ڈرئےے نہیں ہم قوم لوط کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔ ۷۱۔اور اس کی بیوی کھڑی تھی وہ ہنسی تو ہم نے اسے اسحاق کی اور اس کے بعد یعقوب کی بشارت دی ۔ ۷۲۔اس نے کہا: وائے ہو مجھ پر، کیا میں بچہ جنوں گی جب کہ میں بوڑھی عورت ہوں اور میرا یہ شوہر بھی بوڑھا ہے، یہ تو واقعاً عجیب بات ہے ۔ ۷۳۔انھوں نے کہا کیا حکم خدا پرتعجب کرتی ہو، یہ خدا کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں جو تم اہل بیت پر کیونکہ خدا حمید اور مجید ہے ۔ 1۔ تفسیر نمونہ، ج ۷، ص ۱۱۳(اردوترجمہ) پر بھی کچھ توضیحات آئی ہیں جو ایسی آیات سے فہم مقصود کے لئے موثر ہیں، قارئین کرام! اس سلسلے میں کتاب ”آفریدگارِ جہان“اور ”در جستجوی خدا “ کی طرف رجوع کریں ۔ 2۔ اس سلسلے میں مزید وضاحت کے لئے تفسیر نمونہ، ج۶، ص ۲۱۰، (اردوترجمہ) کی طرف رجوع کریں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:66-68
قوم ثمود کا انجام
ان آیت میں اس سرکش قوم (قوم ثمود) پر تین دن کی مدت ختم ہونے پر نزول عذاب کی کیفیت بیان کی گئی ہے: اس گروہ پر عذاب کے بارے میں جب ہمارا حکم آپہنچاتو صالح اور اس پر ایمان لانے والوں کو ہم نے اپنی رحمت کے زیر سایہ نجات بخشی ( فَلَمَّا جَاءَ اٴَمْرُنَا نَجَّیْنَا صَالِحًا وَالَّذِینَ آمَنُوا مَعَہُ بِرَحْمَةٍ مِنَّا) ۔ انھیں نہ صرف جسمانی ومادی عذاب سے نجات بخشی بلکہ ”رسوائی، خواری اور بے آبروئی سے بھی انھیں نجات عطا کی کہ جو اس روز اس سرکش قوم کو دامنگیر تھی“( وَمِنْ خِزْیِ یَوْمِئِذٍ) ۔ (۱) کیونکہ تیرا پروردگار ہر چیز پر قادر اور ہرکام پر تسلط رکھتا ہے، اس کے لئے کچھ محال نہیں ہے اور اس کے ارادے کے سامنے کوئی طاقت کچھ بھی حیثیت نہیں رکھتی ( إِنَّ رَبَّکَ ھُوَ الْقَوِیُّ الْعَزِیزُ)، لہٰذا کثیر جمعیت کے عذاب الٰہی میں مبتلا ہونے سے صاحب ایمان گروہ کو کسی قسم کی کوئی مشکل اور زحمت پیش نہیں ہوگی، یہ رحمت الٰہی ہے جس کا تقاضا ہے کہ بے گناہ گنہگاروں کی آگ میں نہ جلیں اور بے ایمان افراد کی وجہ سے مومنین گرفتارِ بلا نہ ہوں ۔ لیکن ظالموں کو صیحہ آسمانی نے گھیر لیا، اس طرح سے کہ یہ چیخ نہایت سخت اور وحشتناک تھی، اس کے اثر سے وہ سب کے سب گھروں ہی میں زمین پر گر کر مر گئے، ( وَاٴَخَذَ الَّذِینَ ظَلَمُوا الصَّیْحَةُ فَاٴَصْبَحُوا فِی دِیَارِھِمْ جَاثِمِین) ۔ وہ اس طرح مرے اور نابود ہوئے اور ان کے آثار مٹے کہ گویا وہ اس سرزمین میں کبھی رہتے ہی نہ تھے، ( کَاٴَنْ لَمْ یَغْنَوْا فِیھَا) ۔ جان لو کہ قوم ثمود نے اپنے پروردگار سے کفر کیا تھا اور انھوں نے احکام الٰہی کو پس پشت ڈال دیا تھا ( اٴَلَاإِنَّ ثَمُودَ کَفَرُوا رَبَّھُمْ ) ۔ دُور ہو قوم ثمود، اللہ کے لطف ورحمت سے اور ان پر لعنت ہو (اٴَلَابُعْدًا لِثَمُود) ۔ ۱۔ ”خزی“ لغت میں شکست کے معنی میں ہے کہ جو انسان پر آتی ہے، چاہے خود اس کے اپنے ذریعہ ہو یا کسی دوسرے کی وجہ سے نیز ہر قسم کی رسوائی اور بہت زیادہ ذلت بھی اس کے مفہوم میں شامل ہے ۔