وَإِلَى عَادٍ أَخَاهُمْ هُودًا قَالَ يَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُم مِّنْ إِلَهٍ غَيْرُهُ إِنْ أَنتُمْ إِلَّا مُفْتَرُونَ
And to ‘Ad [We sent] Hud, their brother. He said, ‘O my people! Worship Allah. You have no other god besides Him: you merely fabricate [the deities that you worship].
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:50
[Pooya/Ali Commentary 11:50] These verses refer to Hud; also refer to the commentary of al Araf: 65 to 72.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 11:50-60
Hud was falsified on pre-text of being affected by some of their gods and was asked to produce a miracle which they ill-treated, on production and deserved destruction. His miracle was that no one of his tribe could harm him until they gathered together under a cloud thinking it would rain water, but it rained fire, and they all were destroyed except Hud and his followers.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:50-52
بہادر بت شکن
جیسا کہ ہم کہہ چکے ہیں اس سورت میں پانچ عظیم انبیاء کی دعوت، اس راستے میں پیش آنے والی مشکلات اور دعوت کے نتائج کا تذکرہ ہے گزشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) کے بارے میں گفتگو تھی اور اب حضرت ہود (علیه السلام) کی باری ہے ۔ یہ تمام انبیاء ایک ہی منطق اور ایک ہی ہدف کے حامل تھے، انھوں نے نوع بشر کو ہر طرح کی قید وبند سے نجات دلانے اور توحید کی طرف، اس کی تمام شرائط کے ساتھ، دعوت دینے کے لئے قیام کیا، ایمان، خلوص، جد وجہد اور راہ خدا میں استقامت ان سب کا شعار تھا، ان سب کے خلاف مختلف اقوام کا رویہ بہت تنگ اور سخت تھا انھوں نے انبیاء کو طرح طرح سے ستایا اور ان کو جبر واستبداد روا رکھا ۔ زیر نظر پہلی آیت میں اس سلسلے میں فرمایا گیا ہے: ہم قوم عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا (وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاھُمْ ھُودًا) ۔ یہاں حضرت ہود (علیه السلام)کو بھائی کہا گیا تھا، یہ تعبیر یا تو اس بنا پر ہے کہ عرب اپنے تمام اہل قبیلہ کو بھائی کہتے تھے کیونکہ نسب کی اصل میں سب شریک ہوتے ہیں، مثلا ًبنی اسد کے شخص کو ”اخواسدی“ کہتے ہیں اور مذحج قبیلہ کے شخص کو ”اخومذحج“ کہتے ہیں ، یا ہوسکتا ہے یہ اس طرف اشارہ ہو کہ حضرت ہود (علیه السلام) کا سلوک اپنی قوم سے دیگر انبیاء کی طرح بالکل برادرانہ تھا نہ کہ حاکم کا سا بلکہ ایسا بھی نہیں جو باپ اپنی اولاد سے کرتا ہے بلکہ آپ کا سلوک ایسا تھا جو ایک بھائی دوسرے بھائیوں سے کرتا ہے کہ جس میں کوئی امتیاز اور برتری کا اظہار نہ ہو۔ حضرت ہود (علیه السلام) نے بھی اپنی دعوت کا آغاز دیگر انبیاء کی طررح کیا، آپ کی پہلی دعوت توحید اور ہر قسم کے شرک کی نفی کی دعوت تھی، ہود چنے ان سے کہا: ”اے میری قوم! خدا کی عبادت کرو“( قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ ) ۔ ”کیونکہ اس کے علاوہ کوئی اللہ اور معبود لائق پرستش نہیں“(مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ)، ”بتوں کے بارے میں تمہارا اعتقاد غلطی اور اشتباہ پر مبنی ہے اور اس میں تم خدا پر افتراء باندھتے ہو“( إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ) ۔ یہ بت خدا کے شریک ہیں نہ خیر وشر کے منشاء ومبدا اور ان سے کوئی کام بھی نہیں ہوسکتا، اس سے بڑھ کر کیا افتراء اور تہمت ہوگی کہ اس قدر بے وقعت موجودات کے لئے تم اتنے بڑے مقام ومنزلت کا اعتقاد رکھو۔ اس کے بعد حضرت ہود (علیه السلام) نے منزید کہا:اے میری قوم ! میں اپنی دعوت کے سلسلے میں تم سے کوئی توقع نہیں رکھتا تم سے کسی قسم کی اجرت نہیں چاہتا کہ تم یہ گمان کرو کہ میری یہ دادوفریاد اور جوش وخروش مال ومقام کے حصول کے لئے ہے یاتم خیال کرو کہ تمھیں مجھے کوئی بھاری معاوضہ دینا پڑے گاکہ جس کی وجہ سے تم تسلیم کرنے کو تیار نہ ہوتے ہو ( یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا )، میری اجرت صرف اس ذات پر ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، جس نے مجھے روح وجسم بخشے ہیں اور تمام چیزیں جس نے مجھے عطا کی ہیں وہی جو میرا خالق ورازق ہے (إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی)، میں اگر تمہاری ہدایت وسعادت کے لئے کوئی قدم اٹھاتا ہوں تو وہ اصولاً اس کے حکم کی اطاعت میں ہوتا ہے لہٰذا اجروجزا بھی میں اسی سے چاہتا ہوں نہ کہ تم سے، علاوہ ازیں کیا تمھارے پاس اپنی طرف سے کچھ ہے جو تم مجھے دو، جو کچھ تمھارے پاس ہے اس کی طرف سے ہے، کیا سمجھتے نہیں ہے (اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ) ۔ آخر میں انھیں شوق دلانے کے لئے اور اس گمراہ قوم میں حق طلبی کاجذبہ بیدار کرنے کے لئے تمام ممکن وسائل سے استفادہ کرتے ہوئے مشروط طور پر مادی جزاؤں کا ذکر کیا گیا ہے کہ جو اس جہان میں خدا مومنین کو عطا فرماتا ہے ، ارشاد ہوتا ہے: اے میری قوم ! اپنے گناہوں پر خدا سے بخشش طلب کرو ( وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ)، پھر توبہ کرو اور اس کی طرف لوٹ آؤ ( ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ)، اگر تم ایسا کرلو تو وہ آسمان کو حکم دے گاکہ وہ بارش کے حیات بخش قطرے پیہم تمیاری طرف بھیجے ( یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا)(۱) ، تاکہ تمھارے کھیت اور باغات کم آبی یا بے آبی کا شکار نہ ہوں اور ہمیشہ سرسبز وشاداب رہیں، علاوہ ازیں تمھارے ایمان، تقویٰ، گناہ سے پرہیز اور خدا کی طرف رجوع اور توبہ کی وجہ سے تمہاری قوت میں مزید قوت کا اضافہ کرے گا (وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ) ۔ یہ کبھی گمان نہ کرو کہ ایمان وتقویٰ سے تمہاری قوت میں کمی واقع ہوگی ایسا ہرگز نہیں بلکہ تمہاری جسمانی و روحانی قوت میں اضافہ ہوگ، اس کمک سے تمہارا معاشرہ آبادتر ہوہوگا، جمعیت کثیر ہوگی، اقتصادی حالات بہتر ہوں گے اور تم طاقتور، آزاد اور خود مختار ملت بن جاؤ گے، لہٰذا راہ حق سے روگردانی نہ کرو اور شاہراہ گناہ پر قدم نہ رکھو (ولَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ) ۱۔ ”مدرار“ جیسے کہ ہم نے پہلے بھی کہا ہے ”در“ کے مادہ سے ”پستان سے دودھ گرنے“ کے معنی میں ہے، بعد ازاںبارش برسنے کے معنی میں بھی بولاجانے لگا، یہ بات جاذب نظر ہے کہ مندرجہ بالا آیت میں یہ نہیں کہا گیا کہ آسمان سے تم پر بارش برسائے گا بلکہ فرمایا گیا ہے کہ آسمان کو تم پر برسائے گا یعنی اس قدر بارش برسے گی کی گویا ساراآسمان برس رہا ہے، نیز اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ”مدرار“ مبالغہ کا صیغہ ہے اس سے انتہائی تاکید ظاہر ہوتی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:50-52
۱۔ تمام انبیاء کی دعوت کا خمیر توحید ہے
تاریخ انبیاء نشاندہی کرتی ہے کہ ان سب نے اپنی دعوت کا آغاز توحید سے اور ہر قسم کے شرک اور بت پرستی کی نفی سے کیا، درحقیقت انسانی معاشرے کی کسی قسم کی اصلاح اس دعوت کے بغیر ممکن نہیں ہے کیونکہ معاشرے کی وحدت، ہمکاری، تعاون، ایثار اور فداکاری سب ایسے امور ہیں جو توحید معبود کے سرچشمے سے سیراب ہوتے ہیں، رہی بات شرک کی تو وہ ہر قسم کی پراگندگی، انتشار، تضاد، اختلاف، خود غرضی، خود پرستی اور انحصار طلبی کا سرچشمہ ہے اور ان مفاہیم کا شرک وبت پرستی کے وسیع مفہوم سے تعلق کوئی پوشیدہ نہیں ہے ۔ جو شخص خود محور اور خود غرض غرض ہو وہ صرف اپنے آپ کو دیکھتا ہے اور اسی بنا پر وہ مشرک ہے، توحید ایک شخص کے قطرہ وجود کو معاشرے کے وسیع سمندر میں شامل کردیتی ہے، موحد ایک عظیم وحدت کے سوا کچھ نہیں دیکھتا یعنی وہ سارے انسانوں اور بندگان خدا کو ایک معاشرے کی صورت میں دیکھتاہے ۔ جو برتری کے خواہشمند ہیں وہ شرک کی ایک اور قسم سے وابستہ ہیں، اسی طرح جو ہمیشہ اپنے ہم نوع افراد سے جنگ کرتے رہتے ہیں اور اپنے مفادات کو دوسرے کے فائدے سے جدا سمجھتے ہیں تو یہ دوگانگی یا چند گانگی سوائے شرک کے مختلف چہروں کے اور کچھ نہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ اپنے وسیع اصلاحی پروگراموںکو سب انبیاء نے یہیں سے شروع کیا، ان کی پہلی دعوت۔دعوت توحید تھی ۔ توحید یعنی توحید معبودپھر توحید کلمہ، توحید عمل اور توحید معاشرہ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:50-52
۲۔سچے رہبر اپنے پیروکاروں سے جزا نہیں چاہتے
ایک حقیقی پیشوا اور رہبر اس صورت میں ہرقسم کے اتہام سے بچ کر انتہائی آزادی سے اپنے مسلک پرکار بند رہ سکتا ہے ، اپنا سفر جاری رکھ سکتا ہے اور اپنے پیروکاروں کی ہر قسم کی کجروی کی اصلاح کرسکتا ہے جب وہ ان سے کوئی مادی وابستگی اور احتیاج نہ رکھتا ہو ورنہ وہی احتیاج ان کے دست وپا کی زنجیر بن جائے گی اور اس کی زبان وفکر کی بندش کا سامان ہوجائے گا ، منحرف اور کج رو لوگ اسی طریقے سے اس پر دباؤ ڈالنے کی کوشش کریں گے، مادی امداد منقطع کرنے کی دھمکی دےں گے یا امداد بڑھانے کی پیش کش کریںگے، کوئی رہبر کتنا ہی صاف دل اور مخلص کیوں نہ ہو پھر بھی انسان ہوتاہے، اور ہوسکتا ہے اس مرحلہ پر اس کے قدم ڈگمگا جائیں ۔ اسی بنا پر مندرجہ بالا آیات اور قرآن کی دیگر آیات میں ہے کہ انبیاء اپنی دعوت کی ابتدا میں صراحت سے اعلان کرتے اور بتاتے تھے کہ وہ مادی احتیاج اور اجر کی توقع اپنے پیروکاروں سے نہیں رکھتے، انبیاء کا یہ کردار تمام رہبروں کے لئے نمونہ اور ماڈل ہے خصوصا روحانی اور مذہبی رہبروں اور رہنماؤں کے لئے ۔ البتہ چونکہ وہ اپنا تمام وقت اسلام اور مسلمانوں کی خدمت میں صرف کرتے ہیں لہٰذا ان کی ضروریات صحیح طریقے پر پوری ہونا چاہییں، امدادی وسائل اور اسلامی بیت المال ایسی افراد کی ضروریات پوری کرنے کے لئے مہیا کیا گیا ہے اور بیت المال کی تشکیل کا ایک فلسفہ اور وجہ یہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:50-52
۳۔ گناہ ۔معاشرے کی تباہی
مندرجہ بالا آیات سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ قرآن کی نظر میں روحانی اورمادی مسائل میں ایک واضح تعلق موجود ہے، یہاں گناہ سے استغفار، خدا کی طرف رجوع اور توبہ کو آبادی، خوشی، شادابی اور قوت میں اضافے کے ذریعے کے طور پر متعارف کروایا گیا ہے ۔ یہ حقیقت قرآن کی اور بہت سی آیات میں بھی نظر آتی ہیں، منجملہ ان کے سورہ نوح میں اس عظیم پیغمبر کی زبانی فرمایا گیا ہے: فَقُلْتُ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ إِنَّہُ کَانَ غَفَّارًا یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیُمْدِدْکُمْ بِاٴَمْوَالٍ وَبَنِینَ وَیَجْعَلْ لَکُمْ جَنَّاتٍ وَیَجْعَلْ لَکُمْ اٴَنْھَارً. ان سے میں نے کہااپنے گناہوں سے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں استغفار کرو کہ وہ بخشنے والا ہے تاکہ وہ پے در پے تم پر آسمان سے بارش برسائے اور مال واولاد کے ذریعے تمہاری مدد کرے اور تمھارے لئے باغات اور نہریں مہیا کرے ۔ (نوح:۱۰۔۱۲) یہ امر جاذب توجہ ہے کہ اسلامی روایات میں ہے کہ : ربیع بن صبیح کہتا ہے کہ میں حسن (علیه السلام)کے پاس تھا، ایک شخص دروازے سے داخل ہوا، اس نے اپنی آبادی کی خشک سالی کی شکایت کی ، حسن (علیه السلام) نے اس سے کہا: استغفار کرودسراآیا اس نے فقر وفاقہ کی شکایت کی، اس سے بھی کہا: استغفار کرو، تیسرا آیا، اس نے کہا: دعا کریں خدا مجھے بیٹا عطا کرے، اس بھی کہا: استغفار کرو، ربیع کہتا ہے کہ میں (تعجب کیا اور )اس سے کہا : جو شخص آپ کے پاس آتا ہے اور وہ کوئی مشکل پیش کرتا ہے اور نعمت کا تقاضا کرتا ہے اسے یہی حکم دیئے جارہے ہو اور سب سے کہتے ہو کہ استغفار کرو اور خدا سے بخشش طلب کرو، اس نے میرے جواب میں کہا: جو کچھ میں نے کہا ہے اپنی طرف سے نہیں کہا، میں یہ مطلب کلام خدا سے لیا ہے اور یہ وہی بات ہے جو وہ اپنے پیغمبر نوح سے کہتا ہے، اس کے بعد انھوں نے سورہ نوح کی ان (مذکورہ )آیات کی تلاوت کی ۔ جن لوگوں کی عادت ہے وہ ایسے مسائل کو معمولی سمجھتے ہوئے گزرجاتے ہیں وہ ان امور میں موجود ایک روحانی تعلق جانے بغیر ان کے قائل ہوجاتے ہیں اور مزید کوئی تجربہ وتحلیل نہیں کرتے لیکن اگر زیادہ غوروفکرسے کام لیا جائے تو ہمیں ان امور کے درمیان تربیتی رشتے نظرآئیں گے جن کی طرف توجہ کرنے سے مادی اور روحانی مسائل کو آپس میں اس طرح مالایا جاسکتا ہے جیسے ایک کپڑے کے ریشے آپس میں ملے ہوتے ہیں یا جیسے کسی درخت کی جڑ تنااور پھل پھول آپس میں مربوط ہوتے ہیں ۔ کونسا ایسا معاشرہ ہے جو گناہ، خیانت، نفاق، چوری ، ظلم اور تن پروری سے آلودہ ہو اور پھر بھی وہ آباد اور پربرکت رہے ۔ کونسا معاشرہ ہے جو تعاون وہمکاری کی روح گنوا بیٹھے جنگ، نزاع اور خونریزی اس کی جگہ لے لے اور پھر بھی اس کی زمینیں سرسبز وشاداب ہوں اور وہ اقتصادی طور پر خوشحال ہو۔ کونسا معاشرہ ہے جس کے لوگ طرح طرح کی ہواووہوس میں آلودہ ہوں پھر بھی وہ طاقتور ہواور دشمن کے مقابلے میں پامردی سے کھڑا ہوسکے ۔ صراحت سے کہنا چاہیئے کہ کوئی ایسا اخلاقی مسئلہ نہیں مگر یہ کہ وہ لوگوں کی مادی زندگی پر مفید اور اصلاحی اثر کرے، اسی طرح کوئی صحیح اعتقاد اور ایامن ایسا نہیں کہ جو معاشرے کو آباد، آزاد، بااستقلال اور طاقتور بنانے میں موثر ہو۔ جو لوگ اخلاقی مسائل، مذہبی عقیدہ اور توحید پر ایمان کو مادی مسائل سے جدا کرکے دیکھتے ہیں انھوں نے نہ معنوی اور روحانی مسائل کو اچھی طرح سے پہچانا ہے اور نہ مادی مسائل کو، اگر دین لوگوں میں تکلفات اور تشریفات، ظاہری آداب اور مفہوم ومعنی سے خالی شکل میں ہو تو واضح ہے کہ معاشرے کے مادی نظام میں اس کی کوئی تاثیر نہیں ہوگی، لیکن اگر روحانی اعتقادات روح انسانی کی عمیق گہروئیوں میں اس طرح سے اتر جائے کہ اس کے اثرات ہاتھ، پاؤں، آنکھ، کان، زبان اور جسم کے تمام ذرات میں ظاہر ہوں تو ان اعتقاد کے معاشرے پر اصلاحی آثار کسی سے مخفی نہیں رہیں گے ۔ ہوسکتا ہے مادی برکات کے نزول سے استغفار کے تعلق کے بعض مراحل میں ہم صحیح طورپر نہ سمجھ سکیں لیکن اس میں شک نہیں کہ اس کے بہت سے حصے ہمارے لئے قابل فہم ہیں ۔ دور حاضر میں ہمارے اسلامی ممالک ایران کے اسلامی انقلاب میں ہم نے اچھی طرح مشاہدہ کیا ہے کہ اسلامی اعتقادات اور اخلاقی اوروحانی قوت کس طرح دور حاضر کی طاقتورترین اسلحہ، طاقتور افواج اور استعمار ی سپر طاقتوں پر کامیاب ہوگی یہ چیز نشاندہی کرتی ہے کہ دینی عقائد اور مثبت روحانی اخلاق کس حد تک اجتماعی اور سیاسی مسائل میں کارگر ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:50-52
۴۔ ”یزدکم قوة الیٰ قوتکم“ سے کیامراد ہے؟
اس جملے کاظاہری مفہوم یہ ہے کہ خدا وند عالم توبہ اور استغفار کے نتیجے میں تمہاری قوت میں قوت کا اضافہ کرے گا ۔ بعض نے اس جملے کو انسانی قوت میں اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے (جیسا کہ سورہ نوح کی آیات میں بھی اس طرف اشارہ ہوا ہے) ۔ بعض نے معنوی طاقت میں مادی طاقت کے اضافے کی طرف اشارہ سمجھا ہے ۔ لیکن آیت کی تعبیر مطلق ہے اور ہر قسم کی مادی اور معنوی طاقت میں اضافے کا مفہوم اس میں شامل ہے اور اس میں ان تمام تفاسیر کا مفہوم ہوجود ہے ۔ ۵۳ قَالُوا یَاھُودُ مَا جِئْتَنَا بِبَیِّنَةٍ وَمَا نَحْنُ بِتَارِکِی آلِھَتِنَا عَنْ قَوْلِکَ وَمَا نَحْنُ لَکَ بِمُؤْمِنِینَ۔ ۵۴ إِنْ نَقُولُ إِلاَّ اعْتَرَاکَ بَعْضُ آلِھَتِنَا بِسُوءٍ قَالَ إِنِّی اٴُشْھِدُ اللهَ وَاشْھَدُوا اٴَنِّی بَرِیءٌ مِمَّا تُشْرِکُونَ۔ ۵۵ مِنْ دُونِہِ فَکِیدُونِی جَمِیعًا ثُمَّ لَاتُنْظِرُونِی ۔ ۵۶ إِنِّی تَوَکَّلْتُ عَلَی اللهِ رَبِّی وَرَبِّکُمْ مَا مِنْ دَابَّةٍ إِلاَّ ھُوَ آخِذٌ بِنَاصِیَتِھَا إِنَّ رَبِّی عَلیٰ صِرَاطٍ مُسْتَقِیمٍ۔ ۵۷ فَإِنْ تَوَلَّوْا فَقَدْ اٴَبْلَغْتُکُمْ مَا اٴُرْسِلْتُ بِہِ إِلَیْکُمْ وَیَسْتَخْلِفُ رَبِّی قَوْمًا غَیْرَکُمْ وَلَاتَضُرُّونَہُ شَیْئًا إِنَّ رَبِّی عَلیٰ کُلِّ شَیْءٍ حَفِیظٌ۔ ترجمہ ۵۳۔انھوں نے کہا: اے ہود! تو ہمارے لئے کوئی دلیل نہیں لایا، ہم اپنے خداؤں کو تیری بات پر نہیں چھوڑتے اورہم (بالکل) تجھ پر ایمان نہیں لائیں گے ۔ ۵۴۔ہم (تیرے بارے میں) صرف یہ کہتے ہیں ہمارے بعض خداؤں نے تجھے نقصان پہنچایا ہے (اور تیری عقل چھین لی ہے)، (ہود نے)کہا: میں خدا کو گواہ بناتا ہوں اور تم بھی گواہ رہو کہ جنہیں تم (خدا کا)شریک قرار دیتے ہو ان سے بیزار ہوں ۔ ۵۵۔وہ جو اس (خدا) کے علاوہ ہیں( کہ جنہیں تم سوچتے ہو) اب جب کہ ایسا ہے تو تم سب مل کر میرے خلاف سازش کرو (لیکن جان لوکہ تم سے کچھ بھی نہیں ہوسکتا) ۵۶۔ (کیونکہ) میں نے اللہ پر توکل کرلیا ہے جو میرا اور تمہارا پروردگار ہے کوئی چلنے پھرنے والا ایسا نہیں جس پر وہ تسلط نہیں رکھتا (لیکن ایسا تسلط جو عدالت پر مبنی ہے کیونکہ )میرا پروردگار صراط مستقیم پر ہے ۔ ۵۷۔اور اگر تم منہ موڈ لو تو جو پیغام میرے ذمہ تھا وہ میں نے تم تک پہنچادیا ہے اور خدا دوسرے گروہ کو تمہارا جانشین کردے گا اور تم اسے ذرہ بھر نقصان بھی نہیں پہنچاسکتے، میرا پروردگار وہر چیز کا محافظ اور نگہبان ہے ۔