قِيلَ يَانُوحُ اهْبِطْ بِسَلَامٍ مِّنَّا وَبَرَكَاتٍ عَلَيْكَ وَعَلَى أُمَمٍ مِّمَّن مَّعَكَ وَأُمَمٌ سَنُمَتِّعُهُمْ ثُمَّ يَمَسُّهُم مِّنَّا عَذَابٌ أَلِيمٌ
It was said, ‘O Noah! Disembark in peace from Us and with [Our] blessings upon you and upon nations [to descend] from those who are with you, and nations whom We shall provide for, then a painful punishment from Us shall befall them.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:48
[Pooya/Ali Commentary 11:48]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:48-49
حضرت نوح (علیه السلام) باسلامت اُتر آئے
حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کی سبق آموز سرگزشت کے بارے میں اس سورت میں آنے والی یہ آخری آیات ہیں ان میں حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمین پر معمول کی زندگی گزانے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : نوح سے کہا گیا کہ سلامتی اور برکت کے ساتھ جو ہماری طرف سے تم پر اور ان پر ہے جو تیرے ساتھ ہیں اتر آؤ (قِیلَ یَانُوحُ اھْبِطْ بِسَلَامٍ مِنَّا وَبَرَکَاتٍ عَلَیْکَ وَعَلیٰ اٴُمَمٍ مِمَّنْ مَعَکَ) ۔ اس میں شک نہیں ”طوفان“ نے زندگی کے تمام آثار کو درہم برہم کردیا تھ، فطری طور پر آباد زمینیں، لہلہاتی چراگاہیں اور سرسبز باغ سب کے سب ویران ہوچکے تھے، اس موقع ہر شدید خطرہ تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام)اور ان کے اصحاب اور ساتھی زندگی گزارنے اور غذا کے سلسلے میں بہت تنگی کا شکار ہوں گے لیکن خدا نے ان مومنین کو اطمینان دلایاکہ برکت الٰہی کے دروازے تم پر کھل جائیں گے اور زندگی اور معاش کے حوالے سے تمھیں کوئی پریشانی لاحق نہیں ہونا چاہیئے ۔ علاوہ ازیں ممکن تھا کہ حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے پیروکاروں کو اپنی سلامتی کے حوالے سے یہ پریشانی ہوتی کہ طوفان کے بعد باقی ماندہ ان گندے پانیوں، جوہڑوںاور دلدلوں کے ہوتے ہوئے زندگی کے خطرے سے دوچار ہوگی لہٰذا خدائے تعالی اس سلسلے میں بھی انھیں اطمینان دلاتا ہے کہ تمھیں کسی قسم کا کوئی خطرہ لاحق نہیں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں کی نابود ی کے لئے طوفان بھیجا ہے وہ اہل ایمان کی سلامتی اور برکت کے لئے بھی ماحول فراہم کرسکتی ہے ۔ یہ مختصر سا جملہ ہمیں سمجھا تا ہے کہ قرآن کیسے چھوٹے چھوٹے مسائل کو بھی اہمیت دیتا ہے اور انھیں جچی تلی اور خوبصورت عبارتوں کے ذریعے پیش کرتا ہے ۔ لفظ ”امم“ ”امت“کی جمع ہے، اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کئی امتیں تھیں، یہ لفظ شاید اس بنا پر کہ جو افراد حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہر ایک ایک قبیلے اور امت کی پیدائش کاسرچشمہ تھا، یا یہ کہ جولوگ حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے ان میں سے ہرگروہ الگ الگ قوم وقبیلہ سے تھا جس سے مجموعة کئے امتیں بنتی تھیں ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ لفظ”امم“ ان مختلف اصناف حیوانات کے بارے میں ہے کہ جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ تھے کیونکہ قرآن مجید میں ان کے بارے میں لفظ امت آیا ہے، جیسا کہ سورہ انعام کی آیہ ۳۸ میں ہے: وَمَا مِنْ دَابَّةٍ فِی الْاٴَرْضِ وَلَاطَائِرٍ یَطِیرُ بِجَنَاحَیْہِ إِلاَّ اٴُمَمٌ اٴَمْثَالُکُمْ۔ کوئی روئے زمین پر چلنے والا اور کوئی پرندہ جو اپنے دو پرو کے ساتھ پرواز کرتا ہے ایسا نہیں جو تمہاری طرح کی امت نہ ہو ۔ اس بنا پر جس طرح حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے ساتھی پروردگار کی لامتناہی لطف وکر م کے سائے میں طوفان کے بعد ان تمام مشکلات کے باوجود سلامتی وببرکت کے ساتھ جیتے رہے اسی طرح مختلف قسم کے جانور جو حضرت نوح (علیه السلام) کے ساتھ کشتی سے اترے تھے خدا کی طرف سے سلامتی اورحفاظت کے ساتھ اور اس کے لطف کے بسائے میں زندگی بسر کرتے رہے ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے : اس تمام تر صورت حال کے باوجود آئندہ پھر انھیں مومنین کی نسل سے کئی امتیں وجود میں آئیں گی جنہیں ہم انواع واقسام کی نعتیں بخشیں گے لیکن وہ غرور وغفلت میں ڈوب جائیں گی، اس کے بعد ہمارا دردناک عذاب انھیں پہنچے گا (وَاٴُمَمٌ سَنُمَتِّعُھُمْ ثُمَّ یَمَسُّھُمْ مِنَّا عَذَابٌ اٴَلِیمٌ) ۔ لہٰذا ایسا نہیں کہ صالح لوگوں کا یہ انتخاب اور طوفان کے زریعے نوع انسانی کی اصلاح کوئی آخری اصلاح ہے بلکہ رشدو تکامل کے آخری مرحلہ کو پہنچنے تک انسان اپنے ارادے کی آزادی سے سوء استفادہ کی بنا پر کبھی کبھی شر وفساد کی راہ پر قدم رکھے گا اور پھر سزا اور عذاب کا وہی پروگرام اس جہان میں اسے دامنگیر ہوگا ۔ یہ بات جاذب نظر ہے کہ مذکورہ جملے میں لفظ”سنمتعھم“(عنقریب انھیں انواع و اقسام کی نعمتوں سے بہرہور کریںگے)آیا ہے اور پھر بلا فاصلہ ان کے لے عذاب وسزا کی بات کی گئی ہے، یہ اس طرح اشارہ ہے کہ کم ظرف اور ضعیف الایمان لوگوں کو نعمت فراواں میسر آجائے تو ان میں شکر گزاریاور اطاعت کا جذبہ بیدار ہونے کی بجائے اکثر طغیان و غرور کے جذبات ابھر آتے ہےں اور اس کے ساتھ ہی وہ بندگی خدا کے رشتوں کو پارہ پارہ کردیتے ہےں ۔ مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں ایک قول نقل کیا ہے جو بہت جازب ہے ، وہ کہتا ہے: ”ھلک المستمتعون فی الدنیا لان الجھل یغلب علیھم والغفلتہ، فلا یتفکرون الا فی الدنیا و عمارتھا وملاذھا“۔ صاحبان نعمت دنیا میں ہلاک اور گمراہ ہوئے ہیں کیونکہ جہالیت اور غفلت نے ان پر غلبہ کیا ہے اور دنیا اور اس کی لذت کے علاوہ انھیں کوئی فکر نہیں ۔ یہ حقیقت دنیا کے سرمایہ دار اور دولت مند ممالک کی زندگی میں اچھی طرح دیکھی جاسکتی ہے کہ وہ زیادہ تر برائی میںہی غوطہ زن ہےں نہ صرف یہ کہ وہ دنیا کے مستضعف اور محروم انسانوں کے نارے میں سوچتے نہیں بلکہ الٹا ہر روز ان کا خون چوسنے کے لے نئی نئی سازشیں کرتے رہتے ہےں لہٰذا اکثر ایسا ہوتا ہے کہ خدا انھیں جنگوں اور دیگر المناک حوادث سے دوچار کرتا ہے جو وقتی طور پر ان سے یہ نعمتیں سلب کرلتا ہےںیہ اس لے ہوتا ہے کہ شاید وہ بیدار ہوں ۔ آخری زیرے بحث آیت جس میں اس سورہ میں جاری حضرت نوح(علیه السلام) کا وقعہ ختم ہوتا ہے تمام مذکورہ واقعات کی طرف عمومی اشارہ ہوتا ہے : یہ سب غیب کی خبرے ہےں کہ جو (اے پیغمبر) ہم تجھ پر وہی کرتے ہےں ( تِلْکَ مِنْ اٴَنْبَاءِ الْغَیْبِ نُوحِیھَا إِلَیْک)، قبل ازیںتم اور تمہاری قوم اس سے ہر گز آگاہ نہ تھے (مَا کُنتَ تَعْلَمُھَا اٴَنْتَ وَلَاقَوْمُکَ مِنْ قَبْلِ ھٰذا) ۔ جو کچھ تم نے سنا اس کی طرف متوجہ ہوتے ہوئے اور اپنی دعوت کے دوران نوح کو پیش آمدہ تمام مشکلات اور اس کی استقامت دکھاؤ کیونکہ آخرکار کامیابی پرہیزگاروں ہی کےلئے ہے (ا فَاصْبِرْ إِنَّ الْعاقِبَةَ لِلْمُتَّقِینَ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:48-49
۱۔ انبیاء کے سچے واقعات
قرآن حکیم نے انبیاء کے سچے واقعات پیش فرمائے ہیں، زیر نظر آخر میں آیت اس بات کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ ان واقعات کو ہر قسم کی تحریف اور انحراف سے پاک بیان کرنا صرف وہی آسمانی کے زریعے ممکن ہے ورنہ گزشتہ لوگوںلوگوں کی کتب تاریخ میں اس قدر افسانے اور خرافات شامل ہیں کہ حق وباطل میں تمیز ممکن نہیں اور جتنی تاریخ قدیم ہوتی جاتی ہے اتنا ہی غلط ملط زیادہ ہوتی جاتی ہے، لہٰذا انبیاء اور گزشتہ اقوام کی انحراف سے پاک سرگزشت بیان کرنا خود حقانیت قرآن اور پیغمبر اسلام(علیه السلام) کی صداقت کی نشانی ہے ۔ (۱) ۲۔انبیاء اور علم غیب بعض لوگوں کے خیال کے برخلاف آخری زیر بحث آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ انبیاء علم غیب رکھتے تھے البتہ یہ آگاہی وحی الٰہی کے ذریعے ہوتی تھی اور اتنی ہی جتنی خدا چاہتا تھا یہ نہیں کہ وہ اپنی طرف سے کچھ جانتے تھے اور اگر ہم دیکھتے ہیں کہ بعض آیات میں علم غیب کی نفی ہوئی ہے تو وہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا علم ذاتی نہیں ہے بلکہ صرف خدا کی طرف سے ہے ۔ ۳۔ درس کی ہمہ گیری زیر بحث آخری آیت ایک اور حقیقت بھی واضح کرتی ہے کہ انبیاء اور گزشتہ اقوام کے واقعات قرآن میں صرف امت اسلامی کو درس دینے کے لئے بیان نہیں گئے بلکہ ایک طرح سے یہ پیغمبر اکرم (ص)کی دلجوئی اور تسلی کے لئے بھی ہیں اور اس آپ کے ارادے اور دل کو تقویت بھی مقصود ہے کیونکہ آپ بھی نوع انسانی میں سے ہیں اور آپ کوبھی خدا کے مدرسے سے اسی طرح درس لینا چاہیئے، اپنے زمانے کے طاغوتوں کے خلاف قیام کے لئے زیادہ تیار ہوناچاہیئے اور راستے میں موجود کثیر مشکلات سے نہیں ڈرنا چاہیئے یعنی جیسے ان تمام ابتلا اور مشکلوں کے باوجود حضرت نوح (علیه السلام) استقامت کا مظاہرہ کرتے تھے اور ان کی مشہور طویل ترین عمر میں بہت ہی کم لوگ ایمان لائے پھر بھی وہ خوشدل تھے اسی طرح آپ بھی کسی حالت میں صبر واستقامت کا دامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں ۔ یہاں حضرت نوح (علیه السلام) کی تعجب خیز اور عبرت انگیز داستان کو چھوڑتے ہوئے ہم ایک اور عظیم پیغمبر حضرت ہود (علیه السلام) کہ جن کے نام سے یہ سورہ موسوم ہے کی طرف آتے ہیں ۔ ۵۰ وَإِلیٰ عَادٍ اٴَخَاھُمْ ھُودًا قَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ إِنْ اٴَنْتُمْ إِلاَّ مُفْتَرُونَ۔ ۵۱ یَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ اٴَجْرًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی الَّذِی فَطَرَنِی اٴَفَلَاتَعْقِلُونَ۔ ۵۲ وَیَاقَوْمِ اسْتَغْفِرُوا رَبَّکُمْ ثُمَّ تُوبُوا إِلَیْہِ یُرْسِلْ السَّمَاءَ عَلَیْکُمْ مِدْرَارًا وَیَزِدْکُمْ قُوَّةً إِلیٰ قُوَّتِکُمْ وَلَاتَتَوَلَّوْا مُجْرِمِینَ۔ ترجمہ ۵۰۔ (ہم نے قوم) عاد کی طرف ان کے بھائی ہود کو بھیجا، (اس نے ان سے)کہا: اے میری قوم! اللہ کی پرستش کرو کیونکہ اس کے علاوہ تمہارا کوئی معبود نہیں تم صرف تہمت لگاتے ہو۔ ۵۱۔اے میری قوم! میں تم سے کوئی اُجرت نہیں چاہتا میری اُجرت اس کے ذمہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا سمجھتے نہیں ہو؟۔ ۵۲۔اور اے میری قوم! اپنے پروردگار سے بخشش طلب کرو پھر اس کی طرف رجو ع کرو، تاکہ وہ آسمان سے (بارش) پیہم تمہاری طرف بھیجے اور تمہاری میں مزید قوت کا اضافہ کرے اور (حق سے) منہ نہ پھیرو اور گناہ نہ کرو ۔ ۱۔ اس سلسلے میں تفصیل کے لئے کتاب” قرآن و آخرین پیغمبر‘ ‘ ملاحظہ فرمائیں ۔