وَأُوحِيَ إِلَى نُوحٍ أَنَّهُ لَن يُؤْمِنَ مِن قَوْمِكَ إِلَّا مَن قَدْ آمَنَ فَلَا تَبْتَئِسْ بِمَا كَانُوا يَفْعَلُونَ
It was revealed to Noah: ‘None of your people will believe except those who already have faith; so do not sorrow for what they used to do.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:36
[Pooya/Ali Commentary 11:36]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 11:36-49
The sure redeeming feature throughout the text is “Piety” for which pray unto God to grant you, as without prayers and endowments – there is no hope of gaining the same.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:36-39
۱۔ معاشرے کی پاکیزگی نہ کہ انتقام:
مندرجہ بالا آیات سے اچھی طرح واضح ہوتا ہے کہ خدائی عذاب انتقامی پہلو نہیں رکھتا بلکہ نوع بشر کی پاکیزگی اور ایسے لوگوں کے خاتمے کے لئے ہے جو زندگی کے اہل نہیں ، اس طرح نیک لوگ باقی رہ جاتے ہیں، اس کا مفہوم یہ ہے کہ ایک متکبر اور فاسد ومفسد قوم جس کے ایمان لانے کی اب کوئی امید نہیں، نظام خلقت کے لحاظ سے اب جینے کا حق نہیں رکھتی اور اسے ختم ہوجا نا چاہیئے قوم نوح ایسی ہی تھی کیونکہ مندرجہ بالا آیات کہتی ہیں کہ اب جب کہ باقی لوگوں کے ایمان لانے کی امید نہیں ہے کشتی بنانے کے لئے تیار ہوجاؤ اور ظالموں کے لئے کسی قسم کا کی شفاعت اور معافی کاتقاضا نہ کرو۔ یہی صورت حال اس عظیم پیغمبر کی بد دعا اور نفرین سے بھی معلوم ہوتی ہے جو کہ سورہ نوح میں موجود ہے: وَقَالَ نُوحٌ رَبِّ لَاتَذَرْ عَلَی الْاٴَرْضِ مِنَ الْکَافِرِینَ دَیَّارًا إِنَّکَ إِنْ تَذَرْھُمْ یُضِلُّوا عِبَادَکَ وَلَایَلِدُوا إِلاَّ فَاجِرًا کَفَّارًا پروردگارا! ان کفار میں سے کسی ایک کو بھی زمین پر نہ رہنے دے کیونکہ اگر وہ رہ جائیں تو تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے بھی فاسق وفاجر اور بے ایمان کافروں کے سوا کوئی وجود میں نہیں آئے گا، (نوح، ۲۶،۲۷) ۔ اصولی طور پر کارخانہ تخلیق میں ہر موجود کسی مقصد کے تحت پیدا کیا گیا ہے، جب کوئی موجود اپنے مقصد سے بالکل منحرف ہوجائے اور اصلاح کے تمام راستے اپنے لئے بند کرلے تو اس کا باقی رہنا بلا وجہ ہے لہٰذا اسے خواہ مخواہ ختم ہوجانا چاہیئے، بقول شاعر: نہ طراوتی نہ برگی نہ میوہ دارم متحرم کہ دھقان بہ چکارہشت مارا نہ مجھ میں تازگی ہے ، نہ مجھ پر پتے ہیں، نہ پھول اور نہ پھل ہیں، حیران ہوں کہ کسان نے مجھے کیوں چھوڑ رکھا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:36-39
۳۔ حضرت نوح (علیه السلام) کی کشتی:
اس میں شک نہیں کہ کشتی نوح کوئی عام کشتی نہ تھی کیونکہ اس میں سچے مومنین کے علاوہ ہر نسل کے جانور کوبھی جگہ ملی تھی اور ایک مدت کے لئے ان انسانوں اور جانوروں کو جو خوراک درکار تھی وہ بھی اس میں موجود تھی ، ایسی لمبی چوڑی کشتی یقینا اس زمانے میں بے نظیر تھی یہ ایسی کشتی تھی جو ایسے دریا کی کوہ پیکر موجوں میں صحیح وسالم رہ سکے اور نابود نہ ہو جس کی وسعت اس دنیا جتنی ہو، اسی لئے مفسرین کی بعض روایات میں ہے کہ اس کشتی کا طول یک ہزار دوسو ذراع تھا اور عرض چھ سو ذراع تھا (ایک ذراع کی لمبائی تقریبا آدھا میٹر کے برابر ہوتی ہے) ۔ بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ظہور طوفان سے چالیس سال پہلے قوم نوح کی عورتوں میں ایک ایسی بیماری پیدا ہوگئی تھی کہ ان ہاں کوئی بچہ پیدا نہیں ہوتا تھا ، یہ دراصل ان کی سزا کی تمہد تھی ۔ ۴۰ حَتَّی إِذَا جَاءَ اٴَمْرُنَا وَفَارَ التَّنُّورُ قُلْنَا احْمِلْ فِیھَا مِنْ کُلٍّ زَوْجَیْنِ اثْنَیْنِ وَاٴَھْلَکَ إِلاَّ مَنْ سَبَقَ عَلَیْہِ الْقَوْلُ وَمَنْ آمَنَ وَمَا آمَنَ مَعَہُ إِلاَّ قَلِیلٌ ۴۱ وَقَالَ ارْکَبُوا فِیھَا بِاِسْمِ اللهِ مَجْرَاھَا وَمُرْسَاھَا إِنَّ رَبِّی لَغَفُورٌ رَحِیمٌ ۴۲ وَھِیَ تَجْرِی بِھِمْ فِی مَوْجٍ کَالْجِبَالِ وَنَادیٰ نُوحٌ ابْنَہُ وَکَانَ فِی مَعْزِلٍ یَابُنَیَّ ارْکَبْ مَعَنَا وَلَاتَکُنْ مَعَ الْکَافِرِینَ ۴۳ قَالَ سَآوِی إِلیٰ جَبَلٍ یَعْصِمُنِی مِنَ الْمَاءِ قَالَ لَاعَاصِمَ الْیَوْمَ مِنْ اٴَمْرِ اللهِ إِلاَّ مَنْ رَحِمَ وَحَالَ بَیْنَھُمَا الْمَوْجُ فَکَانَ مِنَ الْمُغْرَقِینَ۔ ترجمہ ۴۰۔ (یہ کیفیت اسی طرح جاری تھی) یہاں تک کہ ہمارا فرمان آپہنچااور تنور جوش مارنے لگا، ہم نے (نوح سے )کہا: جانوروں کے ہر جفت (نر اورمادہ)میں سے ایک جوڑا اس (کشتی )میں اٹھالو، اسی طرح اپنے اہل کو مگر وہ کہ جن کے ہلاک ہونے کا پہلے سے وعدہ کیا جاچکا ہے (نوح کی بیوی اور ایک بیٹا)اور اسی طرح مومنین کو لیکن مختصر سے گروہ کے سوا اس پر کوئی ایمان نہیں لایا تھا ۔ ۴۱۔اس نے کہا: اللہ کا نام لے کر اس میں سوار ہوجاؤ اور اس کے چلتے اور ٹھہرتے ہوئے وقت اسے یاد کرو اور میرا پروردگار بخشنے والا اور مہربان ہے ۔ ۴۲۔اور وہ انھیں پہاڑ جیسی موجوں میں گزارتا تھا، (اس وقت) نوح نے اپنے بیٹے کوجو ایک طرف کھڑا تھا پکارا: اے میرے بیٹے ! ہمارے ساتھ سوار ہوجا اور کافروں کے ساتھ نہ رہ ۔ ۴۳۔اس نے کہا : میں پہاڑ کا سہارا لے لوں گا تاکہ پانی سے محفوظ رہوں، (نوح نے) کہا: فرمان خدا کے سامنے آج کوئی بچنے والانھیں مگر وہی (بچ سکتا ہے)جس پر وہ رحم کرے ، اس وقت ایک موج ان دونوں کے درمیان حائل ہوئی اور وہ غرق ہونے والوں میں سے قرار پاپا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:36-39
متکبرین کی نشانیاں:
خود غرض اور خود سر متکبرین ہمیشہ ان مسائل کا مذاق اڑاتے ہیں جن سے ان کی خواہشات اور ہوا وہوس پوری نہ ہوتی ہو، اسی بنا پر ان مخصوص حقائق کا تمسخر اڑانا جن کاتعلق مستضعفین کی زندگی سے ہے، ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے، اکثر دیکھا گیا ہے کہ وہ اپنی گناہ آلود اجتماعات میں رنگ بھرنے اور انھیں رونق بخشنے کے لئے کسی تہی دست صاحب ایمان کی تلاش میں رہتے تھے جسے تمسخر اور مضحکہ کا عنوان بنا سکیں اور اگر کسی اجتماع یا نششت کے لئے انھیں ایسے افراد نہ مل سکیں تو ان میں ایک یا کئی افراد اکوان کی عدم موجودگی میں موضوع سخن قرار دے کر مذاق اڑاتے ہیں اور ہنستے ہیں ۔ وہ اپنے آپ کو عقل کل خیال کرتے ہیں، ان کے گمان میں ان کی بے بہا حرام دولت، ان کی لیاقت، شخصیت اور مقام کی نشانی ہے، اسی لئے وہ دوسروں کو نالائق، بے قدر اور بے وقعت سمجھتے ہیں ۔ لیکن قرآن مجید ایسے مغرور اور متکبر افراد پر نہایت سخت حملے کرتا ہے اور خاص طور پر ان کی تمسخرات کی شدید مذمت کرتا ہے ۔ مثلاً تاریخ اسلامی میں ہے : ابوعقیل انصاری ایک صاحب ایمان شخص تھا، محنت مزدوری کرتا تھا ، غریب آدمی تھا، ایک مرتبہ وہ رات بھر جاگتا رہا اور مدینے کے کنوؤں سے پانی بھر بھر کر لوگوں کے گھروں تک پہنچاتا رہا، اس طرح اس نے مزدوری کرکے کچھ خرمے حاصل کئے، وہ خرمے وہ جنگ تبوک کے لئے تیار ہونے والے لشکر اسلام کے لئے پیغمبر اسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلّم کی خدمت میں لے آیا، کچھ متکبر منافق وہاں موجود تھے، وہ اس پر بہت ہنسے، اس پر یہ قرآنی آیات نازل ہوئیں اور ان پر بجلی بن کر گریں: الَّذِینَ یَلْمِزُونَ الْمُطَّوِّعِینَ مِنَ الْمُؤْمِنِینَ فِی الصَّدَقَاتِ وَالَّذِینَ لَایَجِدُونَ إِلاَّ جُھْدَھُمْ فَیَسْخَرُونَ مِنْھُمْ سَخِرَ اللهُ مِنْھُمْ وَلَھُمْ عَذَابٌ اٴَلِیمٌ جو راہ خدا میں مالی مدد کرنے پر اطاعت گزار مومنین کا مذاق اڑاتے ہیں اور ان کا تمسخر اڑاتے ہیں کہ جو تھوڑی سی مقدار سے زیادہ دینے پر دسترس نہیں رکھتے خدا ایسے لوگوںکا مذاق اڑائے گااور ان کے لئے دردناک عذاب ہے (توبہ: ۷۹)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:36-39
معاشرے کو پاک کرنے کا مرحلہ
ان آیات میں حضرت نوح (علیه السلام) کی سرگزشت بیان ہوئی ہے، اس کے درحقیقت مختلف مراحل ہیں، ان میں سے متکبرین کے خلاف حضرت نوح(علیه السلام) کے قیام کے ایک دور سے مربوط ہے، گذشتہ آیات میں حضرت نوح (علیه السلام)کی مسلسل اور پر عزم دعوت کے مرحلے کا تذکرہ تھا، جس کے لئے انھوں نے تمام تر وسائل سے استفادہ کیا، یہ مرحلہ ایک طویل مدت پر مشتمل تھا، اس میں ایک چھوٹا سا گروہ آپ (علیه السلام) پر ایمان لایا، یہ گروہ ویسے تو مختصر سا تھا لیکن کیفیت اور استقامت کے لحاظ سے بہت عظیم تھا ۔ زیر بحث آیات میںاس قیام کے دوسرے مرحلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے، یہ مرحلہ دور تبلیغ کے اختتام کا تھا جس میں خدا کی طرف سے معاشرے کو برے لوگوں سے پاک کرنے کی تیاری کی جانا تھی ۔ پہلی آیت میں ہے: نوح (علیه السلام) کو وحی ہوئی کہ جو افراد ایمان لاچکے ہیں ان کے علاوہ تیری قوم میں سے کوئی ایمان نہیں لائے گا (وَاٴُوحِیَ إِلیٰ نُوحٍ اٴَنَّہُ لَنْ یُؤْمِنَ مِنْ قَوْمِکَ إِلاَّ مَنْ قَدْ آمَنَ) ۔ یہ اس کی طرف اشارہ ہے کہ صفیں بالکل جدا ہوچکی ہیں، اب ایمان اور اور اصلاح کی دعوت کا کوئی فائدہ نہیں اور اب معاشرے کی پاکیزگی اور آخری انقلاب کے لئے تیار ہوجانا چاہیئے ۔ آیت کے آخر میں حضرت نوح(علیه السلام) اور دلجوئی کے لئے فرمایاگیا ہے:اب جب معاملہ یوں ہے تو جو کام تم انجام دے رہے ہو اس پر کوئی حزن وملال نہ کرو ( فَلَاتَبْتَئِسْ بِمَا کَانُوا یَفْعَلُونَ) ۔ اس آیت سے ضمنی طور پر معلوم ہوتا ہے کہ اللہ اسرار غیبت کا کچھ حصہ جہاں ضروری ہوتا ہے اپنے پیغمبر کے اختیار میں دے دیتا ہے جیسا کہ حضرت نوح (علیه السلام) کو خبر دی گئی کہ آیندہ ان میں سے کوئی اور شخص ایمان نہیں لائے گا ۔ بہرحال ان گنہگار اور ہٹ دھرم لوگوں کو سزا ملنی چاہیئے، ایسی سزا جو عالم ہستی کو ان کے وجود کی گندگی سے پاک کردے اور مومنین کو ہمیشہ کے لئے ان کے چنگل سے نجات دے دے، ان کے غرق ہونے کا حکم صادر ہوچکا ہے لیکن ہر چیز کے لئے کچھ وسائل و اسباب ہوتے ہیں لہٰذا نوح (علیه السلام) کو چاہیئے کہ وہ سچے مومنین بچنے کے لئے ایک مناسب کشتی بنائیں تاکہ ایک تو مومنین کشتی بنے کی اس مدت میں اپنے طریق کار میں پختہ تر ہوجائیں اور دوسروں کے لئے بھی کافی اتمام حجت ہوجائے لہٰذا” ہم نے نوح کو حکم دیا کہ وہ ہمارے حضور میں اورہمارے فرمان کے مطابق کشتی بنائیں“ (وَاصْنَعْ الْفُلْکَ بِاٴَعْیُنِنَا وَوَحْیِنَا ) ۔ لفظ”اعیننا“ (ہماری آنکھوں کے سامنے) سے اس طرف اشارہ کرنا مقصود ہے کہ اس سلسلے میں تمہاری سب جد وجہد، مساعی اور تمام کا وشیں ہمارے حضور میں اور ہمارے سامنے ہے لہٰذا اطمینان اور راحت فکر کے ساتھ اپنا کام جاری رکھو، یہ فطری امر ہے کہ یہ احساس کہ خدا حاضر وناظر ہے اور محافظ و نگران ہے ایک تو انسان کو قوت و توانائی بخشتا ہے اور دوسرے احساس ذمہ داری کو فروغ دیتاہے ۔ لفظ”وحینا“ سے یہ نتیجہ نکلتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کشتی بنانے کی کیفیت اور اس کی شکل وصورت کی تشکیل بھی حکم خدا سے سیکھ رہے تھے اور ایسا ہی ہونا چاہیئے تھا کیونکہ حضرت نوح (علیه السلام) آنے والے طوفان کی کیفیت ووسعت سے آگاہ نہ تھے کہ وہ کشتی اس مناسبت سے بناتے اور یہ وحی الٰہی ہی تھی جو بہترین کیفیتوں کے انتخاب میں ان کی مدد گار تھی ۔ آیت کے آخرمیں حضرت نوح (علیه السلام) کو خبردار کیا گیا ہے کہ آج کے بعد ”ظالم افراد کے لئے شفاعت اور معافی کا تقاضا نہ کرنا کویں کہ انھیں عذاب دینے کا فیصلہ ہوچکا ہے اور وہ حتماًغرق ہوں گے“(وَلَاتُخَاطِبْنِی فِی الَّذِینَ ظَلَمُوا إِنَّھُمْ مُغْرَقُونَ) ۔ اس جملے سے اچھی طرح سے واضح ہوتا ہے کہ سب افراد کے لئے شفاعت ممکن نہیں ہے بلکہ اس کی کچھ شرائط ہیں، یہ شرائط جس میں موجودنہ ہوں اس کے لئے خدا کا پیغمبر بھی بھی شفاعت اور معافی کے تقاضے کا حق نہی رکھتا، اس سلسلے میں تفسیر نمونہ جلد اول (ص ۱۸۷تا ص ۲۰۴، اردوترجمہ)کی طرف رجوع کریں ۔ اب چند جملے قوم نوح کے بارے میں بھی سن لیں، وہ بجائے اس کے کہ ایک لمحہ کے لئے حضرت نوح (علیه السلام) کی دعوت کو غور سے سنتے، اسے سنجیدگی سے لیتے اور کم از کم انھیں یہ احتمال بھی ہوتا کہ ہوسکتا ہے کہ حضرت نوح (علیه السلام) کے بار بار اصرار اور تکرار دعوت کا سرچشمہ وحی الٰہی ہی ہواورسکتا ہے طوفان اور عذاب کا معاملہ حتمی اور یقینی ہی ہو الٹا انھوں نے تمام متکبر اور مغرور افراد کی عادت کا مظاہرہ کیا اور تمسخر واستہزاء کا اسلسلہ جاری رکھا، ان کی قوم کا کوئی گروہ جب کبھی ان کے نزدیک سے گزرتا اور حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے اصحاب کو لکڑیاں اور میخیں وغیرہ مہیا کرتے دیکھتا اور کشتی بنانے میں انھیں سرگرم عمل پاتا تو تمسخر اڑاتااور پھبتیاں کستے ہوئے گزرجاتا (وَیَصْنَعُ الْفُلْکَ وَکُلَّمَا مَرَّ عَلَیْہِ مَلَاٴٌ مِنْ قَوْمِہِ سَخِرُوا مِنْہُ ) ۔ ”ملاء“ ان اشراف اوربڑے لوگوں کو کہتے ہیں جو خود پسند ہوتے ہیں اور ہر مقام پر مستضعفین کا تمسخر اڑاتے ہیں اور انھیں پست و حقیر مخلوق سمجھتے ہیں کیونکہ ان کے پاس سرمایہ اور اقتدار نہیں ہوتا ، بس یہ نہیں کہ ان کا مذاق اڑاتے ہیں بلکہ ان کے افکار کتنے ہی بلندہوں، ان کا مکتب کتنا ہی پائیدار اور بااصول اور ان کے اعمال کتنے ہی چچے تلے ہوں ان کے خیال میں وہ حقارت کے قابل ہیں اسی بنا پر پند ونصیحت، تنبیہ اور خطرے کی گھنٹیاں ان پر اثر انداز نہیں ہوتی، ان کا علاج فقط دردناک عذاب الٰہی ہے ۔ کہتے ہیں کہ قوم نوح کے اشراف کے مختلف گروہوں کے ہر دستے نے تمسخر اور تفریح وطبع کے لئے اپنا ہی ایک انداز اختیار کررکھا تھا ۔ ایک کہتا: اے نوح! دعوائے پیغمبری کا کاروبار نہیں چل سکا تو بڑھئی ہوگئے ہو ۔ دوسرا کہتا : کشتی بنا رہے ہو؟ بڑا اچھا ہے البتہ اس کے لئے دریا بھی بناؤ ، کبھی کوئی عقلمند دیکھا ہے جو خشکی کے بیچ میں کشتی بنائے؟ شاید ان میں سے کچھ کہتے تھے: اتنی بڑی کشتی کس لئے بنا رہے ہو، اگر کشتی بنانا ہی ہے تو ذرا چھوٹی بنالو جسے ضرورت پڑے تو دریا کی طرف لے جانا تو ممکن ہو۔ ایسی باتیں کرتے تھے اور قہقے لگاکر ہنستے ہوئے گزرجاتے تھے ، یہ باتیں گھروں میں ہوتیں ، کام کاج کے مراکز میں یہ گفتگو ہوتی گویا اب یہ بات بحثوں کا عنوان بن گئی، وہ ایک دوسرے سے حضرت نوح (علیه السلام) اور ان کے پیروں کاروں کی کوتاہ فکری کے بارے میں باتیں کرتے اور کہتے: اس بوڑھے کو دیکھو، آخر عمر میں کس حالت کو جا پہنچا ہے، اب ہم سمجھے کہ اگر ہم اس کی باتوں پر ایمان نہیں لائے تو ہم نے ٹھیک ہی کیا اس کی عقل تو بالکل ٹھکانے نہیں ہے ۔ دوسری طرف حضرت نوح(علیه السلام) بڑی استقامت اور پامردی سے اپنا کام بے پناہ عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے تھے اور یہ ان کے ایمان کا نتیجہ تھا، وہ ان کوباطن دل کے اندھوں کی بے بنیاد باتوں سے بے نیاز اپنی پسند کے مطابق تیزی سے پیش رفت کررہے تھے اور دن بدن کشتی کا ڈھانچہ مکمل ہورہا تھا ، کبھی کبھی سر اٹھا کر ان سے یہ پر معنی بات کہتے: اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو تو ہم بھی جلد ہی اسی طرح تمہارا مذاق اڑائیں گے (قَالَ إِنْ تَسْخَرُوا مِنَّا فَإِنَّا نَسْخَرُ مِنْکُمْ کَمَا تَسْخَرُونَ)، وہ دن کے جب تم طوفان کے درمیان سرگرداں ہوگئے ، سرا سیمہ ہو کر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمھیں کوئی پناہ گاہ نہیں ملے گی، موجوں میں گھرے فریاد کرو گے کہ ہمیں بچالو، جی ہاں اس دن مومنین تمھارے افکار غفلت، جہالت اور بے خبری پر ہنسے گے ،”اس دن تمھیں معلوم ہوگا کہ کس کے لئے ذلیل اور رسوا کرنے والا عذاب آتا ہے اور کسی دائمی سزا دامن گیر ہوتی ہے (فَسَوْفَ تَعْلَمُونَ مَنْ یَاٴْتِیہِ عَذَابٌ یُخْزِیہِ وَیَحِلُّ عَلَیْہِ عَذَابٌ مُقِیم) ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ اگر چہ تمہاری مزاحمتیں ہمارے لئے دردناک عذاب ہیں مگر اولا تو ان مشکلات کو گوارا کرتے ہوئے ہم سربلند اور پر افتخار ہیںثانیاً یہ مشکلات جو کچھ بھی ہیں جلد ختم ہوجائیں گی لیکن عذاب الٰہی رسوا کن بھی ہے اور ختم ہونے والا بھی نہیں اور ان دونوں کا آپس میں مقابلہ نہیں ہوسکتا