وَلَقَدْ أَرْسَلْنَا نُوحًا إِلَى قَوْمِهِ إِنِّي لَكُمْ نَذِيرٌ مُّبِينٌ
Certainly We sent Noah to his people [to declare]: ‘Indeed I am a manifest warner to you.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:25
[Pooya/Ali Commentary 11:25]
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 11:25-35
The first tribe which misjudged Noah from his being an ordinary man was a heathen wealthy group “to whom the following of the poor wretched people and their believing in him as a Divine messenger, did not appeal. They entirely overlooked he was inspired and spoke under revelation which was impossible for an ordinary man.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:25-28
حضرت نوح کے جوابات
بعد والی آیات میں ان بہانہ جُو اور فسانہ ساز افراد کو حضرت نوح(علیه السلام) کی طرف سے دیئے گئے جوابات ذکر کئے گئے ہیں، پہلے ارشاد ہوتا ہے: اے قوم! مَیں اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل اور معجزہ کا حامل ہوں اور اس نے اس رسالت وپیغام کی انجام دہی کی وجہ سے اپنی رحمت میرے شامل حال کی ہے اور یہ امر عدم توجہ کی وجہ سے تم سے مخفی رہ گیا توکیا پھر بھی تم میری رسالت کا انکار کرسکتے ہو اور میری پیروی سے دست بردار ہوسکتے ہو (قَالَ یَاقَوْمِ اٴَرَاٴَیْتُمْ إِنْ کُنتُ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّی وَآتَانِی رَحْمَةً مِنْ عِنْدِہِ فَعُمِّیَتْ عَلَیْکُمْ) ۔ اس بارے میں کہ یہ جواب قوم نوح(علیه السلام) کے مستکبرین کے تین سوالوں میں سے کس کے ساتھ مربوط ہے مفسرین کا بہت اختلاف ہے لیک غور وخوض سے واضح ہوجاتا ہے کہ یہ جامع جواب تینوں اعتراضات کا جواب بن سکتا ہے کیونکہ ان کا پہلا اعتراض یہ تھا کہ تم انسان ہو، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: یہ بجا ہے کہ میں تمھاری طرح کا ہی انسان ہوں لیکن الله تعالیٰ کی رحمت میرے شامل حال ہوئی ہے اور اس نے مجھے کھلی اور واضح نشانیاں دی ہیں اس بناء پر میری انسانیت اس عظیم رسالت سے مانع نہیں ہوسکتی اور یہ ضروری نہیں کہ میں فرشتہ ہوتا ۔ ان کا دوسرا اعتراض یہ تھا کہ تمھارے پیروکار بے فکر اور ظاہر بین افراد ہیں، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: تم بے فکر اور سمجھ ہو جو اس واضح حقیقت کا انکار کرتے ہو حالانکہ میرے پاس ایسے دلائل موجود ہیں جو ہر حقیقت کے متلاشی انسان کے لئے کافی ہیں اور اسے قائل کرسکتے ہیںمگر تم جیسے افراد جو غرور، خود خواہی، تکبر اور جاہ طلبی کا پردہ اوڑھے ہوئے ہیں ان کی حقیقت بین آنکھ بیکار ہوچکی ہے ۔ ان کا تیسرا اعتراض یہ تھا کہ وہ کہتے تھے: ہم کوئی برتری اور فضیلت تمھارے لئے اور اپنی نسبت نہیں پاتے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا اس سے بالاتر کونسی برتری ہے کہ خدا نے اپنی رحمت میرے شاملِ حال کی ہے اور واضح مدارک ودلائل میرے اختیار میں دیئے ہیں، اس بناء پر ایسی کوئی وجہ نہیں کہ تم مجھے جھوٹا خیال کرو کیونکہ میری گفتگو کی نشانیاں ظاہر ہیں ۔ آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: کیا مَیں تمھیں اس ظاہر بظاہر بینہ کے قبول کرنے پر مجبور کرسکتا ہوں جبکہ تم خود اس پر آمادہ نہیں ہو اور اسے قبول کرنا بلکہ اس کے بارے میں غوروفکر کرنا بھی پسند نہیں کرتے ہو (اٴَنُلْزِمُکُمُوھَا وَاٴَنْتُمْ لَھَا کَارِھُونَ) ۲۹ وَیَاقَوْمِ لَااٴَسْاٴَلُکُمْ عَلَیْہِ مَالًا إِنْ اٴَجْرِی إِلاَّ عَلَی اللهِ وَمَا اٴَنَا بِطَارِدِ الَّذِینَ آمَنُوا إِنَّھُمْ مُلَاقُو رَبِّھِمْ وَلَکِنِّی اٴَرَاکُمْ قَوْمًا تَجْھَلُونَ ۳۰ وَیَاقَوْمِ مَنْ یَنصُرُنِی مِنْ اللهِ إِنْ طَرَدْتُھُمْ اٴَفَلَاتَذَکَّرُونَ ۳۱ وَلَااٴَقُولُ لَکُمْ عِندِی خَزَائِنُ اللهِ وَلَااٴَعْلَمُ الْغَیْبَ وَلَااٴَقُولُ إِنِّی مَلَکٌ وَلَااٴَقُولُ لِلَّذِینَ تَزْدَرِی اٴَعْیُنُکُمْ لَنْ یُؤْتِیَھُمْ اللهُ خَیْرًا اللهُ اٴَعْلَمُ بِمَا فِی اٴَنفُسِھِمْ إِنِّی إِذًا لَمِنَ الظَّالِمِینَ ترجمہ ۲۹۔اے قوم نوح! مَیں اس دعوت کے بدلے تم سے کچھ نہیں چاہتا میرا اجر صرف الله پر ہے اور مَیں ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں (تمھاری وجہ سے) دھتکارتا نہیں ہوں کیونکہ وہ اپنے پروردگار کی ملاقات کریں گے (اور قیامت کی عدالت میں میرے مقابل تمھیں پائیں گے) لیکن تمھیں میں دیکھ رہا ہوںکہ تم جاہل ہو۔ ۳۰۔اے قوم! اگر میں انھیں دھتکار دوں تو خدا (کے عذاب) کے مقابلے میں کون میری مدد کرے گا، کیا تم سوچتے نہیں ہو۔ ۳۱۔ میں تمھیں کبھی نہیں کہوں گا کہ خدائی خزانے میرے پاس ہیں، نہ مَیں کہتا ہوں کہ مَیں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ کہ میں فرشتہ ہوں اور مَیں یہ بھی نہیں کہتا کہ وہ لوگ جو تمھاری نگاہ میں ذلیل وخوار نظر آتے ہیں خدا انھیں خیر نہیں دے گا، خدا ان کے دلوں سے زیادہ آگاہ ہے (مَیں اگر اس کے باوجود دُور کردوں) تو اس صورت میں مَیں ظالموں میں سے ہوںگا ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:25-28
انبیاء کے لفظ ”نذیر“
انبیاء ڈرانے والے بھی تھے اور خوش خبری دینے والے بھی پھر ”انذار“ (ڈرانے) کے مسئلہ پر انحصار صرف اس بناء پر کیا گیا ہے چونکہ انقلاب کی پہلی ضرب جو خطرے کے اعلان اور ڈرانے سے شروع کیا جائے کیونکہ اس کی تاثیر سوئے ہوئے اور غافل لوگوں کو بیدار کرنے میں بشارت کی نسبت زیادہ ہے، اصولی طور پر جب تک انسان کوئی بڑا خطرہ محسوس نہ کرے اپنی جگہ سے حرکت نہیں کرتا اور اسی بناء پر انبیاء کے انذار اور خطرے کے اعالان کو تازیانہ کی شکل میںگمراہیوں کی بے درد روحوں پر پڑتے تھے کہ جو شخص بھی حرکت کی طاقت رکھتا وہ حرکت میں آجاتا تھا نیز اسی بناء پر قرآن کی بہت سی آیات میں (مثلاً سورہٴ حج۴۹، شعراء۱۱۵، عنکبوت۵۰، فاطر۴۲، ص۷۰، احقاف۹، ذاریات۵۰، اور دیگر آیات میں) ہر جگہ دعوتِ انبیاء کو بیان کرتے وقت لفظ ”نذیر“ (ڈرانے والے) استعمال کیا گیا ہے ۔ بعدوالی آیات پہلی ضرب کے بعد اپنی رسالت کے مضمون کو صرف ایک جملہ میں بطور خلاصہ بیان کرتے ہوئے کہتا ہے: میرا پیغام یہ ہے کہ ”الله“ کے علاوہ کسی دوسرے کی پرستش نہ کرو (اٴَنْ لَاتَعْبُدُوا إِلاَّ اللهَ) ۔ پھر بلافاصلہ اس کے پیچھے اسی مسئلہ انذار اور اعلامِ خطر کا تکرار کرتے ہوئے کہتا ہے: مَیں تم پر دردناک دن سے ڈرتا ہوں (إِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ اٴَلِیمٍ) ۔ (۱) اصل میںالله (خدائے یکتا ویگانہ) کی توحید اور عبادت ہی تمام انبیاء کی دعوت کی بنیاد ہے اور اسی بناء پر تمام انبیاء کے حالات میں جیسا کہ اس سورہ کی دوسری آیت اور سورہٴ یوسف کی آیت۴۰ اور سورہٴ بنی اسرائیل کی آیت۲۳ میں بھی آیا ہے یہی تعبیر نظر آتی ہے کہ وہ اپنی دعوت کا خلاصہ توحید کو قرار دیتے تھے ۔ سچ مچ اگر تمام افراد اور معاشرہ الله کے علاوہ کسی کی پرستش نہ کریں اور طرح طرح کے بنائے ہوئے بتوں کے سامنے چاہے بیرونی بت ہوں یا اندرونی، خود خواہی، ہَوا وہوس، شہوت وثروت، مقام ومنزلت، جاہ وجلال، عورت واولاد ہوں سرِتسلیم خم نہ کریں تو کسی قسم کی خرابی اور فساد معاشروں میں پیدا نہ ہو۔ اگر انسان خود کاسہٴ توانانی کو ایک بت کی صورت میں نہ لائے اور اس کے سامنے سجدہ نہ کرے اور اس کی فرمانبرداری نہ کرے تو استبداد اور استعمار وجود میں نہ آئے اور نہ ہی اس کے بُرے آثار، ذلّت اور اسارت پیش آئیں اور نہ ہی وابستگی اور طفیلی ہونے کی بنیاد پڑے، تمام بدبختیاں جو افراد اور معاشروں کودامنگیر ہوں اسی الله کی پرستش سے انحراف اور بتوں اور طاغوتوں کی پرستش کی طرف رخ کرنے کی وجہ سے ہیں ۔ اب ہم دیکھیں گے کہ پہلا درِّعمل اس زمانے کے طاغوتوں، خود سروں اور صاحبان زروزور کا اس عظیم دعوت اور واضع اعلام کے مقابلے میں کیا تھا، مسلماً سوائے کچھ بیہودہ اور جھوٹے عذر بہانوں اور بے بنیاد استدلالوں کے جو کہ ہر زمانے کے جابروں کا طریقہ کار ہے ان کے پاس کچھ بھی نہیں تھا ۔ انھوں نے حضرتنوح(علیه السلام) کی دعوت کے تین جواب دیئے: ۱۔ قومِ نوح(علیه السلام) کے سردار اور سرمایہ دار کافر تھے، انھوں نے کہا ہم تو تجھے صرف اپنے جیسا انسان دیکھتے ہیں (فَقَالَ الْمَلَاٴُ الَّذِینَ کَفَرُوا مِنْ قَوْمِہِ مَا نَرَاکَ إِلاَّ بَشَرًا مِثْلَنَا) ۔ حالانکہ الله کی رسالت اور پیغام توفرشتوں کو اپنے کاندھوں پر لینا چاہیے، نہ کہ ہم جیسے انسانوں کو، اس گمان کے ساتھ کہ انسان کا مقام فرشتوں سے نیچے ہے یا انسان کی ضرورت کو فرشتہ انسان سے بہتر جانتا ہے، پھر ہم یہاں لفظ ”ملاء“ کاسامنا کررہے ہیں یعنی صاحبانِ اقتدار، سرمایہ دار اور ایسے افراد جن پر لوگوں کی نظریں جمتی ہیں لیکن وہ اندر سے خالی ہوتے ہیں، یہ لوگ ہر معاشرے میں فساد اور تباہی کا اصلی سرچشمہ ہوتے ہیں اور انبیاء کے مقابلے میں مخالفت کا پرچم بلند کرتے ہیں ۔ ۲۔ انھوں نے کہا: اے نوح! ہم تیرے گرد وپیش اور ان کے درمیان کہ جنھوں نے تیری پیروی کی ہے سوائے چند پست، ناآگاہ اور بے خبر تھوڑے سن وسال کے نوجوانوں کے کہ جنھوں نے مسائل کی دیکھ بھال نہیں کی کسی کو نہیں دیکھتے (وَمَا نَرَاکَ اتَّبَعَکَ إِلاَّ الَّذِینَ ھُمْ اٴَرَاذِلُنَا بَادِی الرَّاٴْیِ) ۔ ”باراذل“ ”ارذل“ (بروزن اھرم“) کی جمع ہے اور وہ خود ”رذل“ کی جمع ہے جو پست وحقیر موجود کے معنی میں ہے چاہے وہ انسان ہے یا کوئی اور چیز۔ البتہ اس میں شک نہیں کہ حضرت نوح(علیه السلام) کی طرف مائل ہونے والے اور ان پر ایمان لانے والے لوگ نہ اراذل تھے اور نہ ہی حقیر وپست، تاہم اس بناء پر چونکہ انبیاء ہر چیز سے پہلے مستضعفین کے حمایت اور مستکبرین سے مبارزہ اور جہاد کرتے تھے لہٰذا پہلا گروہ جو انبیاء کی دعوت پر لبیک کہتا وہی محروم، فقیر اور کم آمدنی والے لوگ ہوتے تھے، جو مستکبرین کی نگاہ میں جو کہ شخصیت کامعیار دولت اور اقتدار کو سمجھتے تھے پست اور حقیر افراد شمار ہوتے تھے اور یہ جو انھیں ”بادی الراٴی“ (ظاہر بین بے مطالعہ اوروہ شخص جو پہلی نظر میں کسی چیز کا عاشق اور خواہاں ہوتا ہے) کا نام دیا ہے حقیقت میں اس بناء پر ہے کہ وہ ہٹ دھرمی اور غیرمناسب تعصبات جو دوسروں میں تھے وہ نہیں رکھتے تھے، بلکہ زیادہ تر پاک دل نوجوان تھے جو حقیقت کی پہلی کرن کو جو اُن کے دل پر پڑتی جلدی محسوس کرلیتے تھے، وہ اس بیداری کے ساتھ جو کہ حق کی تلاش سے تلاش سے حاصل ہوتی ہے صداقت کی نشانیاں انبیاء کے اقوال وافعال کا ادراک کرلیتے تھے ۔ ۳۔ اُن کا آخری اعتراض یہ تھا کہ قطع نظر اس سے کہ تُو انسان ہے نہ کہ فرشتہ، علاوہ ازیں تجھ پر ایمان لانے والے نشاندہی کرتے ہیں کہ تیری دعوت کے مشتملات صحیح نہیں ہیں، اصولی طور پر تم ہم پر کسی قسم کی برتری نہیں رکھتے کہ ہم اس بناء پر تیری پیروی کریں (وَمَا نَریٰ لَکُمْ عَلَیْنَا مِنْ فَضْلٍ) ۔ لہٰذا ہم گمان کرتے ہیں کہ تم جھوٹے ہو (بَلْ نَظُنُّکُمْ کَاذِبِینَ) ۔ ۱۔ باوجودیکہ دردناک عذاب ک صفت ہے لیکن زیرِ نظر آیت میںیوم کی صفت قرار دی گئی ہے یہ ایک قسم کی لطیف اسنادحجازی ہے جو مختلف زبانوں کی ادبیات میں آتی ہے فارسی میں بھی ہم کہتے ہیں ”فلاں دن بڑا دردناک تھا“ حالانکہ خود دن دردناک نہیں تھا بلکہ اس کے حوادث دردناک تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:25-28
حضرت نوح(علیه السلام) کی قوم کی ہلا دینے والی سرگزشت
جیسا کہ ہم نے سورہ کی ابتداء میں بیان کیا ہے اس سورہ میںافکار کو بیدار کرنے اور زندگی کے حقائق کی طرف متوجہ کرنے اور تبہکاریوں کی بُری سرنوشت کیطرف توجہ دلانے اور کامیابی اور موفقیت کی راہ بیان کرنے کے لئے گزشتہ انبیاء کے تاریخ کے اہم حصّے بیان ہوئے ۔ سب سے پہلے اولوالعزم پیغمبر حضرت نوح(علیه السلام) کا واقعہ بیان کیا گیا ہے اور ۲۶ آیات میں ان کی تاریخ کے اساسی اور بنیادی نکات کی ہلادینے والی شکل میں تشریح کی گئی ہے، اس میں شک نہیں کہ حضرت نوح(علیه السلام) کا قیام اور ان کے اپنے زمانے کے متکبروں کے ساتھ شدید اور مسلسل جہاد اور ان کے بُرے انجام کی داتسان تاریخِ بشر کے فراز میں ایک نہایت اور بہت عبرت انگیز درس کی حامل ہے ۔ مندرجہ بالا آیات پہلے مرحلے میں اس عظیم دعوت کو بیان کرتے ہوئے کہتی ہیں: ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجا، اس نے انھیںبتایا کہ میں واضح ڈرانے والا ہوں (وَلَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلیٰ قَوْمِہِ إِنِّی لَکُمْ نَذِیرٌ مُبِینٌ) ۔