أَفَمَن كَانَ عَلَى بَيِّنَةٍ مِّن رَّبِّهِ وَيَتْلُوهُ شَاهِدٌ مِّنْهُ وَمِن قَبْلِهِ كِتَابُ مُوسَى إِمَامًا وَرَحْمَةً أُولَئِكَ يُؤْمِنُونَ بِهِ وَمَن يَكْفُرْ بِهِ مِنَ الْأَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُهُ فَلَا تَكُ فِي مِرْيَةٍ مِّنْهُ إِنَّهُ الْحَقُّ مِن رَّبِّكَ وَلَكِنَّ أَكْثَرَ النَّاسِ لَا يُؤْمِنُونَ
Is he who stands on a manifest proof from his Lord, and whom a witness of his own [family] follows? And before him there was the Book of Moses, a guide and mercy. It is they who have faith in it, and whoever defies him from among the factions, the Fire is their tryst. So do not be in doubt about it; it is the truth from your Lord, but most people do not have faith.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:17
[Pooya/Ali Commentary 11:17] There are several traditions reported on the authority of Ahl ul Bayt, and also narrated by well-known Muslim scholars like Jalal al Din al Suyuti in Durr al Manthur, Muhammad bin Ahmad Qartabi in Tafsir Qartabi, Sayyid Hashim Bahrayni in Tafsir Burhan, Abd Ali bin Jumah Hawyazi in Tafsir Nur al Thaqalayn, Abu Ali al Tabrasi in Tafsir Majma al Bayan, Abu Ishaq al Thalabi in Tasir al Kabir, and Abu Nu-aym in Hilyatul Awliya that shahid in this verse refers to Ali ibn abi Talib, just as shahid in verse 43 of ar Rad also refers to Imam Ali. In reply to a question Imam Ali said that in "Is he then (like unto him) who has a clear proof from his Lord, and a witness, from Him, follows him," the Holy Prophet is the divine "bayyanah" and I am the witness, guide and mercy. Allah has declared Ali to be the Imam who alone testifies the truth about Allah and His Prophet, and like the Holy Prophet who is "mercy unto the world", he is also "mercy'? because both of them are from one and the same divine light, therefore, Ali is the only true successor of the Holy Prophet whom all the Muslims should follow if they have truly and sincerely surrendered themselves to the will of Allah. Aqa Mahdi Puya says: In this verse yatlu means to follow, and to translate it "to recite" is incorrect as there is no mention of anything to be recited. On the contrary a "person" has been mentioned, who is with clear evidence from his Lord. Therefore "to recite" is meaningless. It is clearly said that there is a person who has come with clear evidence from Allah and there is another who immediately follows and bears witness to the truthfulness of the first; and before him the book of Musa had borne witness. All commentators agree that the person with the clear evidence from Allah is the Holy Prophet. The person who follows him is next to him, none come between these two. The Holy Prophet is the first person. His witness is the second person. The same testimony was borne by the book of Musa before. Both are "Imam" and "Rahmah" (also refer to Ahqaf: 12). The witness is Ali ibn abi Talib as has been mentioned by a large number of Muslim scholars mentioned above.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:17
۱۔ آیت میں ”شاھد“ سے مراد
بعض مفسّرین نے کہا ہے کہ زیرِ بحث آیت میں ”شاھد“ سے مراد وحیِ خدا کے قاصد جبرئیل(علیه السلام) ہیں، بعض نے اس سے مراد پیغمبر اسلام لئے ہیں، بعض دوسرے مفسّرین نے اس کی تفسیر زبانِ پیغمبر کی ہے (جبکہ ”یتلوہ“ کو ”تلاوت“ کے مادہ سے ’قرائت“کے معنی میں لیا ہے، نہ کہ پیچھے آنے والے کے معنی میں) لیکن بہت سے بزرگ مفسرین نے اسے حضرت علی علیہ السلام سے تعبیر کیا ہے، اس ضمن میں آئمہ معصومین(علیه السلام) سے بھی کئی روایات سے اس تفسیر کی تاکید ہوئی ہے کہ ”شاھد“ سے مراد حضرت امیرالمومنین علی علیہ السلام ہیں، جو پیغمبر اسلام اور قرآن پر ایمان لانے والے پہلے شخص ہیں، جو تمام مراحل میں رسول الله کے ساتھ رہے اور ایک لمحہ کے لئے فداکاری سے دریغ نہیں کیا اور آخری دم تک ان کی حمایت میں کوشاں رہے ۔ (2) ایک حدیث میں ہے حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا: قریش کے مشہور افراد کے میں ایک یا ایک سے زیادہ آیت نازل ہوئیں ۔ کسی نے عرض کیا: اے امیرالمومنین(علیه السلام)! آپ(علیه السلام) کے بارے میں کونسی آیت نازل ہوئی؟ امام(علیه السلام) نے فرمایا: کیا تُونے سورہٴ ہود کی یہ آیت نہیںپڑھی ”اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ“ ، رسول الله خدائی ”بیّنہ“ اور ”شاہد“ مَیں تھا ۔ (3) سورہٴ رعد کی آخری آیت میں بھی ایک تعبیر دکھائی دیتی ہے کہ جو اس معنی کی تاکید کرتی ہے ۔وہا ں فرمایا گیا ہے: <وَیَقُولُ الَّذِینَ کَفَرُوا لَسْتَ مُرْسَلًا قُلْ کَفیٰ بِاللهِ شَھِیدًا بَیْنِی وَبَیْنَکُمْ وَمَنْ عِنْدَہُ عِلْمُ الْکِتَابِ کفار کہتے ہیں کہ تُو پیغمبر نہیں ہے، کہہ دو یہی کافی ہے کہ خدا میرے اور تمھارے درمیان گواہ ہے اور وہ کہ جس کے پاس علمِ کتاب (قرآن) ہے ۔ سُنّی اور شیعہ طرق کی بہت سی روایات میں ہے کہ ”ومن عندہ علم الکتاب“ سے مراد حضرت علی علیہ السلام ہیں ۔ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے پھر اس نکتے کی طرف یاد دہانی ضروری ہے کہ کسی مکتب کی حقانیت کی پہچان کا ایک بہترین طریقہ اس کے پیروکار، مددکاروں اور حامیوں کی کیفیت کا مطالعہہے، مشہور ضرب المثل ہے کہ امامزادے کو اس کے زائرین سے پہچاننا چاہیے، جب دیکھیں کہ پاکباز، باشعور، صاحب ایمان، مخلص اور باتقویٰ افراد کسی رہبر اور مکتب کے گرد جمع ہیں تو اچھی طرح پہچانا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر صداقت کی حدّبلند پر ہے، لیکن اگر دیکھیں کہ موقع پرست، دھوکے باز، بے ایمان اور بے تقویٰ افراد کسی مکتب یا رہبر کے گرد جمع ہیں تو بہت کم یقین کیا جاسکتا ہے کہ یہ مکتب اور یہ رہبر حق پر ہے ۔ اس مطلب کی طرف اشارہ بھی ہم سمجھتے ہیں کہ لفظ ”شاہد“ سے حضرت علی علیہ السلام مراد لینا اس حقیقت کے منافی نہیں کہ ابوذر، سلمان، عماریاسر جیسے تمام افراد اس کے مفہوم میں شامل ہیں کیونکہ ایسی تفاسیر اکمل وبرتر کی طرف اشارہ ہوتی ہیں یعنی اس سے مراد وہ لوگ ہیں جن کے ارائس ورئیس یہ فرد اکمل ہے، اس امر کی شاہد وہ روایت ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے منقول ہے، آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ”شاہد سے مراد امیرالمومینن(علیه السلام) ہیں اور پھر یکے بعد دیگرے ان کے جانشین“۔ (4) اس حدیث میں اگرچہ معصوم ہستیوں کا ذکر ہے لیکن یہ امر خود اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ وہ روایات جن میں ”شاہد“ کو منحصراً حضرت علی(علیه السلام) سے تفسیر کیا گیا ہے ان سے مراد فقط آپ(علیه السلام) نہیں بلکہ مراد افضل وبرتر کاا مصداق ہے ۔ ۱۔ اس تفسیر کے مطابق ”مَن“ سے مراد پیغمبر اکرم ہیں، ”بیّنة“ سے مراد قرآن ہے اور ”شاھد“ سے کہ جو جنس کے معنی میں ہے سے مراد سچّے مومنین ہیں جن کے راٴس ورئیس حضرت علی علیہ السلام ہیں، نیز ”منہ“ کی ضمیر خداتعالیٰ کی طرف اور ”قبلہ“ کی ضمیر قرآن یا پیغمبر اسلام کی طرف لوٹتی ہے ۔ 2۔ برہان، نور الثقلین، مجمع البیان اور دیگر تفاسیر کی طرف رجوع فرمائیں ۔ 3۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳. 4۔ تفسیر برہان، ج۲، ص۲۱۳.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:17
۳۔ ”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب:
”فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ“میں مخاطب کون ہے، اس بارے میں دو احتمال ذکر کئے گئے ہیں: پہلا احتمال یہ کہ پیغمبر ارکم ہیں یعنی قرآن یا آئین اسلام کی حقانیت میں ذرہ بھر شک کوراہ نہ دیجئے ۔ البتہ اس حکم کی رُو سے کہ وہ وی کو بطورِ شہود دیکھتے تھے اور خدا کی طرف سے نزولِ قرآن ان کے لئے محسوس طور پر بلکہ حِس سے بھی بالا تھا، آپ کو اس دعوت کی حقانیت میں کسی قسم کا کوئی شک نہ تھا لیکن یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قرآن میں خطاب تو پیغمبر اکرم سے ہے جبکہ مراد تمام لوگ ہیںاور عربوں کی مشہور تعبیر کے مطابق ایسے خطاب ” ”ایّاک اعنی واسمعی یا جارة“ (میری مراد تو تم ہو اور پڑوسن تم بھی سُن لو)کی طرح کے ہیں ۔ فارسی میں کہتے ہیں: در بہ توگویم دیوار تو گوش کن یا تو بشنو اے دروازہ! مَیں تجھے کہہ رہا ہوں، دیوار! تُو سن لے ۔ یہ فنونِ لاغت میں سے ہے کہ کئی مواقع پر تاکید اور اہمیّت کے لئے یا دیگر مقاصد کے لئے حقیقی مخاطب کے بجائے دوسرے شخص سے خطاب کیا جاتا ہے ۔ دوسرا احتمال یہ ہے کہ ہر مکلف عاقل مخاطب ہے یعنی ”فلا تک ایھا المکلف العاقل فی مریة“ یعنی اے عاقل ومکلف انسان! ان واضح دلائل کے ہوتے ہوئے اس قرآن کی حقانیت میں شک نہ کر“ اور یہ احتمال اس بناء پر ہے کہ ”من کان علی بیّنة من ربّہ“ سے مراد پیغمبر نہ ہوں بلکہ تمام سچّے مومنین ہوں (غور کیجئے گا) لیکن بہرحال پہلی تفسیر آیت سے زیادہ مطابقت رکھتی ہے ۔ ۱۸ وَمَنْ اٴَظْلَمُ مِمَّنْ افْتَریٰ عَلَی اللهِ کَذِبًا اٴُوْلٰئِکَ یُعْرَضُونَ عَلیٰ رَبِّھِمْ وَیَقُولُ الْاٴَشْھَادُ ھٰؤُلَاءِ الَّذِینَ کَذَبُوا عَلیٰ رَبِّھِمْ اٴَلَالَعْنَةُ اللهِ عَلَی الظَّالِمِینَ ۱۹ الَّذِینَ یَصُدُّونَ عَنْ سَبِیلِ اللهِ وَیَبْغُونَھَا عِوَجًا وَھُمْ بِالْآخِرَةِ ھُمْ کَافِرُونَ ۲۰ اٴُوْلٰئِکَ لَمْ یَکُونُوا مُعْجِزِینَ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا کَانَ لَھُمْ مِنْ دُونِ اللهِ مِنْ اٴَوْلِیَاءَ یُضَاعَفُ لَھُمَ الْعَذَابُ مَا کَانُوا یَسْتَطِیعُونَ السَّمْعَ وَمَا کَانُوا یُبْصِرُونَ ۲۱ اٴُوْلٰئِکَ الَّذِینَ خَسِرُوا اٴَنفُسَھُمْ وَضَلَّ عَنْھُمْ مَا کَانُوا یَفْتَرُونَ ۲۲ لَاجَرَمَ اٴَنَّھُمْ فِی الْآخِرَةِ ھُمَ الْاٴَخْسَرُونَ ترجمہ ۱۸۔ ان لوگوں سے بڑھ کر کون ظالم ہے جو خدا پر افتراء باندھتے ہیں وہ (روز قیامت) اپنے پروردگار کے سامنے پیش ہوں گے اور شاہد (انبیاء اور فرشتے) کہیں گے کہ یہ وہی لوگ ہیں جنھوں نے اپنے پروردگار پر جھوٹ باندھا تھا، خدا کی لعنت ہو ظالموں پر۔ ۱۹۔ وہی لوگوں کو راہِ خدا سے روکتے تھے اور راہِ حق میں کجی دکھانا چاہتے تھے اور آخرت کا کفر کرتے تھے ۔ ۲۰۔وہ زمین میںکبھی بھی فرار کی طاقت نہیں رکھتے اور خدا کے سوا کوئی دوست اور سرپرست نہیں پائیں گے ان کے لئے کئی گُنا عذاب الٰہی ہوگا (کیونکہ وہ خود بھی گمراہ تھے اور دوسروں کو بھی گمراہی کی طرف کھینچتے تھے) اور کبھی کبھی (حق بات) سننے کی طاقت نہیں رکھتے تھے اور (حقائق کو) نہیں دیکھتے تھے ۔ ۲۱۔ وہ ایسے لوگ جو اپنا سرمایہٴ ہستی گنوا بیٹھے ہیں اور جھوٹے معبود ان کی نظر سے کھوگئے ہیں ۔ ۲۲۔ (اسی بناء پر)یقیناً وہ آخرت میں سب سے زیادہ زیاںکار ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:17
۲۔ صرف تورات کی طرف اشارہ کیوں؟
جیسا کہ ہم نے کہا ہے کہ پیغمبر کی حقانیت کی ایک دلیل زیرِ بحث آیت میں گزشتہ کتب بیان کی گئی ہیں، لیکن تذکرہ صرف حضرت موسیٰ کی کتاب کا ہُوا ہے حالانکہ ہم جانتے ہیں کہ پیغمبر اسلام کے ظہور کی بشارتیں انجیل میں بھی ہیں ۔ شاید یہ اس بناء پر ہو کہ نزولِ قرآن اور ظہور اسلام کے علاقے یعنی مکّہ اور مدینہ میں زیادہ تر اہلِ کتاب میں سے یہودیوں کے افکار ونظریات پھیلے ہوئے تھے اور عیسائی نسبتاً دُور کے علاقوں میں رہتے تھے مثلاً یمن، شامات اور نجران (جو شمالی یمن کے پہاڑی علاقوں میں صنعاء سے دس منزل کے فاصلے پر واقع تھا) ۔ یا ہوسکتا ہے یہ اس بناء پر ہو کہ اوصاف پیغمبر کا تذکرہ تورات میں زیادہ جامع اور زیادہ وسیع طور پر آیا تھا ۔ بہرحال تورات کے بارے میں ”امام“ کی تعبیر ہوسکتا ہے اس بناء پر ہو کہ شریعتِ موسیٰ(علیه السلام) کے احکام پورے طور پر اس میں موجود تھے یہاں تک کہ عیسائی بھی اپنی بہت سی تعلیمات تورات سے لیتے ہیں ۔