مَن كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ
As for those who desire the life of this world and its glitter, We will recompense them fully for their works therein, and they shall not be underpaid in it.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 11:15
[Pooya/Ali Commentary 11:15] All the means of comfort and enjoyment amassed in this world will avail nothing on the day of judgement; and the good deeds done, not to seek Allah's pleasure but to show off, will be rendered null and void. Some commentators say that it is also a prophecy- whatever plot devised against the Holy Prophet and his mission will be frustrated. The Holy Prophet said: Seeking the enjoyments of this temporary life, a passing phase, will cost you the blessings of the eternal life; and the everlasting bliss of the life of the hereafter can only be obtained by sacrificing the enjoyments of this life. Therefore give up the pleasure of this world as a means to get the gains of the hereafter. Aqa Mahdi Puya says: Even the disbelievers, if they do good, will be duly recompensed in this life, because the Quran repeatedly says that Allah never let good deeds remain unrewarded, but they will have no share of eternal bliss on account of their disbelief.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:15-16
۱۔ ایک اشکال کی وضاحت:
ہوسکتا ہے پہلی نظر میں یوں معلوم ہو کہ مندرجہ بالا دوآیتیں آپس میں تعارض رکھتی ہیں اس بناء پر کہ پہلی آیت کہتی ہے : ”وہ اشخاص جن کا ہدف فقط اس دنیا کی زندگی ہے ان کے اعمال کا نتیجہ ہم انھیں بے کم وکاست دیں گے“ لیکن دوسری آیت کہتی ہے: ان کے اعمال حبط اور باطل ہوجائیں گے ۔ البتہ اس طرف توجہ کرتے ہوئے کہ ایک آیت دنیاوی زندگی کے بارے میں اور دوسری اشارہ دارِ آخرت کی طرف ہے ، اس اشکال کی وضاحت ہوجاتی ہے، یعنی وہ اپنے اعمال کے نتائج اسی دنیا میں پورے طور پر حاصل کرلیں گے ، لیکن اس کا کیا فائدہ کہ یہ اعمال جو اگرچہ نہایت زیادہ تھے مگر آخرت کے لئے بے اثر ہیں کیونکہ ان کا ہدف پاک اور نیّت خالص نہیں تھی، ان کا ہدف مادی مفادات کے سوا اور کچھ نہ تھا کہ جس تک وہ پہنچ گئے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:15-16
تفسیر
زیرِ نظر آیت کی تفسیر کے بارے میں مفسّرین کے درمیان بہت اختلاف ہے، آیت کے الفاظ کی جزئیات، ضمائر، موصول اور اسم اشارہ کے بارے میں مختلف نظریے ہیں، اس تفسیر میں ان سب کا ذکر ہماری روش کے خلاف ہے، دوتفاسیر جو زیادہ واضح معلوم ہوتی ہیں اہمیت ترتیبی کے اعتبار سے یہاں ذکر کی جاتی ہیں ۔ ۱۔ آیت کی ابتداء میں فرمایا گیا ہے: کیا وہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اور اس کے پیچھے خدا کی طرف سے شاہد آیا ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب (توریت) پیشوا، رحمت اور ان کی عظمت کو واضح کرنے والی کتاب کی حیثیت سے آئی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ان صفات، نشانیوں اور واضح دلائل کا حامل نہیں ہے (اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً) ۔ یہ شخص پیغمبر اکرم ہیں، ان کی واضح دلیل قرآن مجید ہے، ان کی نبوت کی صداقت کے شاہد علی(علیه السلام) جیسے مومن صادق ہیں اور قبل ازیں ان کی نشانیاں اور صفات تورات میں آچکی ہیں، اسی طرح تین واضح طریقوں سے آپ کی دعوت کی حقانیت ثابت ہوگئی ہے ۔ پہلا راستہ قرآن ہے، جو ان کے ہاتھ میں ایک واضح دلیل ہے ۔ دوسرا راستہ گزشتہ آسمانی کتب ہیں، جن میں آنحضرت کی نشانیاں تفصیل سے بیان کی گئی ہیں اور رسول الله کے زمانے کے ان کتب کے پیروکار انھیں اچھی طرح سے پہچانتے ہیں اور اسی بناء پر ان کے انتظار میں تھے ۔ تیسرا راستہ آپ کے فدا کار پیروکار اور مخلص مومنین ہیں کہ جو آپ کی دعوت اور گفتار کی صداقت کو واضح کرتے تھے کیونکہ کسی مکتب کی حقانیت کی ایک نشانی اس مکتب کے پیروکاروں سے پہچانا جاتا ہے ۔ کیا ان زندہ دلائل وبراہین کے باوجود انھیں دوسرے مدعیانِ نبوت پر قیاس کیا جاسکتا ہے یا ان کی دعوت کی صداقت میں شک وشبہ کیا جاسکتا ہے ۔ (۱) اس گفتگو کے بعد قرآن متلاشیانِ حقیقت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انھیں ضمنی طور پر ایمان کی دعوت دیتا ہے: ایسے پیغمبر پر کہ جو روشن دلیل رکھتا ہے ایمان لائیں گے (اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ) ۔ لفظ”اٴُوْلٰئِکَ“ میں جن افراد کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اگرچہ ان کا ذکر نہیں ہے لیکن اگر گزشتہ آیات کی طرف توجہ کرتے ہوئے اس آیت میں ان کی موجودگی کا احساس ہوتا ہے اور ان کی طرف اشارے کو محسوس کیا جاسکتا ہے ۔ اس کے بعد منکرین کی گہانی یوں بیان کی گئی ہے: مختلف گروہوں میں سے جو کوئی اس سے کفر کرے گا تو اس کی وعدہ گاہ جہنم ہے (بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ) ۔ پورا جملہ مبتداء، اس کی خبر محذوف ہے اور اس کی تقدیر اس طرح ہوگی: ”کمن لیس کذلک“ یا ”کمن یرید الحیاة الدنیا“ آیت کے آخر میں قرآن کے دیگر بہت سے مواقع کی طرف سیرتِ قرآن کے روئے سخن پیغمبر کی طرف کرتے ہوئے تمام لوگوں کے لئے ایک عمومی درس بیان کیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: اب جبکہ ایسا ہے اور تیری دعوت کی صداقت کے لئے یہ تمام شاہد موجود ہیں جو کچھ تجھ پر نازل ہوا ہے اس کے بارے میں ہرگز شک وشبہ کو راہ نہ دے (فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ) ۔ ”کیونکہ یہ تیرے پروردگار کی طرف سے کلامِ حق ہے“ (إِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ) ۔ ”لیکن بہت سے لوگ جہالت، تعصّب اور خود پسندی کی وجہ سے ایمان نہیں لاتے (وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ) ۔ ۲۔ دوسری تفسیر جو آیت کے لئے ذکر ہوئی ہے یہ ہے کہ اصل مقصد سچّے مومنین کی حالت بیان کرنا ہے کہ وہ ان واضح دلائل وشواہد اور گزشتہ کتب میں موحود شہادتوں کی بنیاد پر دعوتِ پیغمبر کی صداقت پر ایمان لائے ہیں، لہٰذا ”من کان علیٰ بیّنة من ربّہ“ کے جملے سے مراد وہ تمام لوگ ہیں کہ جو کھلی آنکھوں سے اور اطمینان بخش دلائل کے ذریعے اور اس کے لانے والے پیروی کررہے ہیں اور اس سے مراد خود پیغمبر اکرم نہیں ہیں ۔ یہ تفسیر گزشتہ تفسیر پر یہ ترجیح رکھتی ہے کہ مبتداء کی خبر آیت میں صراحت سے آئی ہے، اس میں کوئی محذوف نہیں اور ”اولئک“ کا مشارالیہ خود آیت میں مذکور ہے، نیز آیت کا پہلا حصّہ کہ جو ”اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ“ شروع ہوتا ہے ”اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ“تک ایک مکمل جملہ ہے اور اس میں کوئی حذف وتقدیر نہیں ہے ۔ بلاشبہ آیت کی دوسری تعبیریں اس تفسیر سے مناسبت نہیں رکھتیں، اس لئے ہم نے اس تفسیر کو دوسرے مرحلے میں قرار دیا ہے (غور کیجئے گا) ۔ بہرحال آیت اسلام اور سچّے مسلمانوں کے امتیازات اور اس مکتب کے انتخاب میں محکم دلائل پر ان کے اعتماد کرنے کی طرف اشارہ ہے جبکہ دوسری طرف سے آیت متکبر منکرین کا انجامِ بد بیان کررہی ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:15-16
۴۔ ایک حدیث:
مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں کتاب ”درّالمنثور“ میں ایک حدیث نقل ہوئی ہے جس سے ان کا مفہوم واضح ہوتا ہے، حدیث یہ ہے: قال رسول اللّٰہ صل اللّٰہ علیہ و آلہ : اذا کان یوم القیامة صارت امت ثلاث فرق : فرقة یعبدون اللّٰہ خالصاً و فرقة یعبدون اللّٰہ ریاءً و فرق یعبدون اللّٰہ یعیون بہ دنیا. فیقول للذی کان یعبد اللّٰہ للدنیا: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ فیقول الدنیا، فیقول لاجرم لا ینفعک ما جمعت و لا ترجع الیہ انطلقوا بہ الی النار. و یقول للذی یعبد اللّٰہ ریاء: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ قال الریاء، فیقول انما کانت عبادتک التی کنت ترائی بھا لا یصعد الی منھا شییء و لا ینفعک الیوم ، انطلقوا بہ الی النار. و یقول للذی کان یعبد اللّٰہ خالصاً: بعزتی و جلالی ما اردت بعبادتی ؟ فیقول بعزتک و جلالک لانت اعلم منی کنت اعبدک لوجھک و لدارک قال : صدق عبدی انطلقوا بہ الی الجنة : رسول الله نے فرمایا: جب قیامت کا دن ہو، میرے پیروکار تین گروہوں میں تقسیم ہوجائیں : ایک وہ گروہ جو خدا کی خلوص کے ساتھ عبادت کرتا تھا، دوسرا گروہ جو دکھاوے کے لئے عبادت کرتا تھا اور تیسرا وہ گروہ جو دنیا تک رسائی کے لئے عبادت کرتا تھا ۔ اس وقت خدا اس گروہ کو جو دنیا کی خاطر اس کی عبادت کرتا تھا کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاوٴ میری عبادت میں تمھارا کیا مقصد تھا، وہ جواب میں کہے گا: دنیا ، خدافرمائے گا: اس بناء پر جو کچھ تم نے جمع کیا ہے وہ تمھیں کوئی فائدہ نہیں دے گا اور تم اس کی طرف پلٹ کر نہیں جاوٴگے، پھر فرمائے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاوٴ ۔ اور جو شخص ریاء کے طور پر خدا کی عبادت کرتا تھا الله اس سے کہے گا: میری عزت وجلال کی قسم بتاوٴ میری عبادت سے تمھارا کیا مقصد تھا؟ وہ جواب دے گا: دکھاوا ۔ تو الله فرمائے گا: وہ عبادت جو تم نے ریاء کے طور پر انجام دی تھی اس میں کچھ بھی میرے پاس نہیں پہنچا تھا اور آج تمھیں اس کا کوئی فائدہ نہیں دوںگا، پھر حکم دے گا: اسے آتش جہنم کی طرف لے جاوٴ۔ اور وہ شخص جو خدا کی عبادت خلوص سے کرتا تھا، اس سے کہا جائے گا: میری عزت وجلال کی قسم، بتاوٴ تم عبادت کس مقصد سے کرتے تھے، وہ کہے تیری عزت وجلال کی قسم تو اس بات سے زیادہ باخبر ہے کہ مَیں نے تیری عبادت صرف تیرے لئے اور دارِ آخرت کے لئے کی تھی، خدا فرمائے گا: میرا بندہ سچ کہتا ہے اسے جنّت لے جاوٴ۔ (2) ۱۷ اٴَفَمَنْ کَانَ عَلیٰ بَیِّنَةٍ مِنْ رَبِّہِ وَیَتْلُوہُ شَاھِدٌ مِنْہُ وَمِنْ قَبْلِہِ کِتَابُ مُوسیٰ إِمَامًا وَرَحْمَةً اٴُوْلٰئِکَ یُؤْمِنُونَ بِہِ وَمَنْ یَکْفُرْ بِہِ مِنَ الْاٴَحْزَابِ فَالنَّارُ مَوْعِدُہُ فَلَاتَکُنْ فِی مِرْیَةٍ مِنْہُ إِنَّہُ الْحَقُّ مِنْ رَبِّکَ وَلَکِنَّ اٴَکْثَرَ النَّاسِ لَایُؤْمِنُونَ ترجمہ ۱۷۔ کیاوہ شخص جو اپنے پروردگار کی طرف سے واضح دلیل رکھتا ہے اس کے پیچھے اس کی طرف شاہد ہے اور اس سے پہلے موسیٰ کی کتاب کہ جو پیشوا اور ح۔رحمت تھی (اس پر گواہی دیتی ہے، اس شخص کی طرح ہے جو ایسا نہ ہو) وہ (حق طلب اور حقیقت کی متلاشی) اس پر (جو یہ خصوصیات رکھتا ہے) ایمان لاتے ہیں اور مختلف گروہوں میں سے جو شخص اس کا منکر ہو آگ اس کی وعدہ گاہ ہے، لہٰذا اس میں شک نہ کرو کہ وہ تیرے پروردگار کی طرف سے حق ہے لیکن اکثر لوگ ایمان نہیں لاتے ۔ ۱۔ مزید وضاحت کے لئے آل عمران کی آیت ۱۴ کی تفسیر ملاحظہ فرمائیں (تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ۲۶۶ ، اردو ترجمہ) 2۔ تفسیر المیزان: ج۱، ص۱۸۶ (بحوالہ تفسیر.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:15-16
۳۔ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“
لفظ ”حبط“ کے بعد لفظ ”باطل“ ہوسکتا ہے اس طرف اشارہ ہو کہ ان کے اعمال کا ایک ظاہر ہے اور باطن کوئی نہیں ہے، اسی بناء پر ان کا نتیجہ کچھ بھی نہیں ، اس کے بعد مزید کہتا ہے کہ ان کے اعمال اصولی طور پر ابتداء ہی سے باطل اور بے خاصیّت ہیں، زیادہ سے زیادہ یہ کہ بہت سی اشیاء کے حقائق چونکہ اس دنیا میں پہچانے نہیں جاتے اور دوسرے جہان میں جس میں تمام اسرار کھل جائیں گے، ان کی حقیقت ظاہر ہوجائے گی، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایسے اعمال شروع ہی سے کچھ نہ تھے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 11:15-16
۲۔ دنیا کی زینتیں
حیاتِ دنیا کے بعد لفظ ”زینت“ دنسا پرستی اور دنیا پرستی کی زرق وبرق کی مذمت کے لئے ہے نہ کہ اس کا مقصد دنیا کی نعمتوں سے مناسب اور معتدل فائدہ اٹھانے کی نفی کرنا ہے ۔ لفظ ”زینت“ جو یہاں سربستہ طور پر آیا ہے دوسری آیات میں خوبصورت عورتوں، عظیم خزانوں اور قیمتی سورایوں ، رزعی زمینوں اور فراوان دولت کے معنی میں استعمال ہواہے، مثلاً: < زُیِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّھَوَاتِ مِنَ النِّسَاءِ وَالْبَنِینَ وَالْقَنَاطِیرِ الْمُقَنْطَرَةِ مِنَ الذَّھَبِ وَالْفِضَّةِ وَالْخَیْلِ الْمُسَوَّمَةِ وَالْاٴَنْعَامِ وَالْحَرْثِ مادّی چیزوں میں سے عورتیں، اولاد اور مال جو سونے اور چاندی کے ڈھیروں پر مشتمل ہے، منتخب گھوڑے، جانور اور زراعت لوگوںکی نظر میں پسندیدہ بنادیئے گئے ہیں ۔