قُلْ يَاأَيُّهَا الْكَافِرُونَ
Say, ‘O faithless ones!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 109:1
[Pooya/Ali Commentary 109:1] Some of the leading disbelievers of Makka had proposed to the Holy Prophet a compromise between Islam and their ancient faith such as they conceived it, so that their idols might also have an honourable mention in the adoration of the worshippers. The Holy Prophet resisted all appeals to worldly motives, and stood firm to his message of eternal unity of Allah. This surah breathes a spirit of uncompromising abhorrence to idolatry. There can be no common ground between the worship of "the one" and the many- monotheism and polytheism. Refer to Baqarah: 256;Yunus: 41.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
۲۔ کیا بت پرست خدا کے منکر تھے؟
ہم جانتے ہیں کہ بت پرستوں کو ہر گز خدا کا انکار نہیں تھا۔ اور قرآن کی صریح آیات کے مطا بق جب ان سے آسمان و زمین کے خالق کے بارے میں پو چھا جاتا تھا تو وہ یہ جواب دیتے تھے کہ وہ خدا ہے:ولئن ساء لتھم من خلق السّما وات والارض لیقولن اللہ( لقمان۔۲۵) تو پھروہ اس سورہ میں یہ کیسے کہتا ہے:” نہ تو میں تیرے معبود کی پرستش کرو ںگا اور نہ ہی تم میرے معبود کی پرستش کرو گے“؟ اس سوال کا جواب بھی اس چیز کی طرف تو جہ کرتے ہوئے واضح ہو جا تاہے کہ بحث مسئلہ خلقت کے بارے میں نہیںہے بلکہ مسئلہ عبا دت کے بارے میں ہے۔ بت پرست، خالق جہاں خدا ہی کو سمجھتے تھے۔ لیکن ان کا عقیدہ یہ تھا کہ عبادت بتوں ہی کی کرنی چا ہئیے۔ تاکہ وہ بارگاہِ خدا میں واسطہ بنیں، یا یہ کہ ہم اصلا اس لا ئق نہیں ہیں کہ خدا کی پرستش کریں، لہٰذا ہمیں جسمانی بتو ں کی عبادت کرنی چاہئیے۔ اس مو قع پر قرآن ان کے اوہام اور خیا لات پر سرخ لکیر کھینچتے ہوئے ردّ کرتا ہے اور یہ کہتا ہے کہ عبادت تو صرف خدا ہی کی ہونا چا ہئیے، نہ کہ بتوں کی ہونا چاہئیے اور نہ ہی دونوں کی
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
۵۔آپ نے ایک لمحہ کے لیے بھی شرک سے مصالحت نہیں کی۔
کبھی یہ خیال کیا گیاہے کہ اس سورہ کی آخری آیت جو یہ کہتی ہے کہ:” تمہارا دین تمہا رے لیے اور میرا دین میرے لیے“ تو اس کا مفہوم وہی ”صلح کل “ یہ ہے اور یہ انہیںاس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے دین پر بر قرار رہیں کیو نکہ یہ دینِ اسلام کو قبول کرنے پر اصرار نہیں کرتیلیکن یہ خیال انتہائی کمزور اور بے بنیاد ہے کیو نکہ آیات کا لب ولہجہ اچھی طرح سے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ تعبیر ایک قسم کی تحقیر و تہدید ہے ،یعنی تمہارا دین خود تمہیں ہی مبارک ہو اور تم جلدی ہی اس کے بُرے انجام کو دیکھ لو گے،جیسا کہ سورہ قصص کی آیہ ۵۵ میں آیا ہے:واذا سمعوا اللغو ا عرضواعنہ وقالوا لنا اعما لنا ولکم اعما لکم سلام علیکم لانبتغی الجاھلین:” مو منین جب کوئی لغو او ربیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے رو گر دا نی کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال تمہارے لیے تم پر سلام(وداع اور جدائی کا سلام) ہم جا ہلو ں کے طلب گار نہیں ہیں“ قرآن مجید کی سیکڑوں آیتیں اس مفہوم کی گواہ ہیں جو شرک کی ہر صورت میں سر کوبی کرتی ہیں، اسے ہر کام سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھتی ہیں اور اسے نہ بخشا جانے والا گناہ خیال کرتی ہیں علماء نے اس سوال کے دوسرے جواب بھی دیے ہیںمثلاََ یہ کہ آیت میں کچھ محذوف ہےاور تقدیر میں اسطرح ہے: ” لکم جزا ء دینکم ولی جزاء دینی“” یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لیے اور میرے دین کی جزا میرے لیے “ دوسرے یہ کہ یہاں”دین “ جزا ء کے معنی میں ہے اور آیت میں کوئی بھی چیز محذوف نہیں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی جزا لو گے اور میں اپنی جزا لو ںگا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
۴۔کیا”لکم دینکم۔۔۔۔۔“ کی آیت کا مفہوم بت پرستی کا جواز ہے؟
کبھی یہ خیال کیا گیاہے کہ اس سورہ کی آخری آیت جو یہ کہتی ہے کہ:” تمہارا دین تمہا رے لیے اور میرا دین میرے لیے“ تو اس کا مفہوم وہی ”صلح کل “ یہ ہے اور یہ انہیںاس بات کی اجازت دیتی ہے کہ وہ اپنے دین پر بر قرار رہیں کیو نکہ یہ دینِ اسلام کو قبول کرنے پر اصرار نہیں کرتیلیکن یہ خیال انتہائی کمزور اور بے بنیاد ہے کیو نکہ آیات کا لب ولہجہ اچھی طرح سے اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ یہ تعبیر ایک قسم کی تحقیر و تہدید ہے ،یعنی تمہارا دین خود تمہیں ہی مبارک ہو اور تم جلدی ہی اس کے بُرے انجام کو دیکھ لو گے،جیسا کہ سورہ قصص کی آیہ ۵۵ میں آیا ہے:واذا سمعوا اللغو ا عرضواعنہ وقالوا لنا اعما لنا ولکم اعما لکم سلام علیکم لانبتغی الجاھلین:” مو منین جب کوئی لغو او ربیہودہ بات سنتے ہیں تو اس سے رو گر دا نی کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں ہمارے اعمال تمہارے لیے تم پر سلام(وداع اور جدائی کا سلام) ہم جا ہلو ں کے طلب گار نہیں ہیں“ قرآن مجید کی سیکڑوں آیتیں اس مفہوم کی گواہ ہیں جو شرک کی ہر صورت میں سر کوبی کرتی ہیں، اسے ہر کام سے زیادہ قابلِ نفرت سمجھتی ہیں اور اسے نہ بخشا جانے والا گناہ خیال کرتی ہیں علماء نے اس سوال کے دوسرے جواب بھی دیے ہیںمثلاََ یہ کہ آیت میں کچھ محذوف ہےاور تقدیر میں اسطرح ہے: ” لکم جزا ء دینکم ولی جزاء دینی“” یعنی تمہارے دین کی جزا تمہارے لیے اور میرے دین کی جزا میرے لیے “ دوسرے یہ کہ یہاں”دین “ جزا ء کے معنی میں ہے اور آیت میں کوئی بھی چیز محذوف نہیں ہے اور اس کا مفہوم یہ ہے کہ تم اپنی جزا لو گے اور میں اپنی جزا لو ںگا
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
بت پرست کے ساتھ ہر گز مصالحت نہیں ہو سکتی
اس سورہ کی آیات پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے کہتی ہیں: ” کہہ دو اے کافرو! (قل یا ایھا الکافرون ) ”تم جن کی پرستش کرتے ہو میں ان کی پرستش نہیں کرتا “۔ ( لااعبد لا تعبدون) ” اور نہ ہی تم اس کی پرستش کروگے جس کی میں پرستش کرتا ہوں “۔( ولا انتم عابدون مااعبد) اس طرح اپنی مکمل علیٰحدگی کو مشخص کرتا ہے اور صراحت کے ساتھ کہتا ہے ، ” میں ہر گز کبھی بت پرستی نہیں کروں گا “ اور تم بھی اپنی اس ہٹ دھرمی اور اپنے بڑوں کی اندھی تقلید کے باعث، جس پر تمھیں اصرار ہے ، اور بت پرستوں کی طرف سے جو بکثرت نا جائز منافع تمہیں حاصل ہوتے ہیں اس وجہ سے ہر گز شرک سے خالص خدا پر ستی کی طرف نہیں آسکتے بت پرستوں کو توحید وبت پرستی میں کس قسم کی مصالحت سے مکمل طور پر مایوس کر نے کے لئے دوبارہ مزید فرماتا ہے: اور نہ ہی میں ہرگز انکی پرستش کروگا جن کی تم پرستش کرتے ہو“( ولا انا عابد ما عبدتم)” نہ ہی تم اس کی پرستش کرو گے جس کی میں عبادت کر تا ہوں “( ولا انتم عا بدون مااعبد) اس بناء ہربت پرستی کے مسئلہ پر بے جا مصالحت کے لئے اصرار نہ کرو، کیو نکہ کہ یہ بات غیر ممکن ہے” اب جب کہ معاملہ اس طرح ہے تو تمہارا دین تمہارے لیے اور میرا دین میرے لیے“ ( لکم دینکم ولی دین) ” بہت سے مفسرین نے یہ تصریح کی ہے کہ یہا ں” کا فرون“ سے مراد مکّہ کے بت پرستوں کے سر غنوں کا ایک خاص گروہ ہے، اس بنا پر ” الکافرون“ پر” الف و لام“ اصطلاح کے مطابق”عہد کا ہے”جمع“ کا نہیں ہے ممکن ہے کہ اس مطلب پر ان کی دلیل۔ اس چیز کے علاوہ جو شان نزول میں کی جا چکی ہے۔یہ ہو کہ مکہ کے بت پر ستوں میں سے بہت سے آخرکار ایمان لے آئے تھے۔ اس بنا ء پر اگر وہ یہ کہتاہے کہ،” نہ تم میرے معبود کی عبادت کرو گے نہ ہی میں تمہارے معبودوں کی ، تو یقینی طور پر یہ شرک و کفر کے سر غنوں کے اس گروہ کے بارے میں ہے جو آخری عمر تک ہر گز ایمان نہیں لایا، ورنہ فتح مکہ کے مو قع پر بہت سے مشرکین فوج در فوج اسلام میں داخل ہو گئے تھےیہاں چند سوالات سامنے آتے ہیں جن کا جواب دینا ضروری ہے ۱۔ یہ سورہ ”قل“ ( کہہ دے) کے ساتھ شروع کیوں ہوا؟ کیا یہ بہتر نہیں تھاکہ”قل“ اس کے آغاز میں لائے بغیر” یا ایھاالکافرون“ کہا جا تا؟ دوسرے لفظوں میں پیغمبر کو خدا کے حکم کا اجراء کرنا چا ہیے تھا اور انہیں” یا ایھا الکا فرون“ کہنا چا ہیئے تھا، نہ کہ جملہ” قل “کا بھی تکرار کریں اس سوال کا جواب سورہ کے مضمون کی طرف تو جہ کرنے سے واضح ہوتا ہے کیو نکہ مشرکین عرب نے پیغمبر کو بتو ں کے سلسلے میں مصالحت کرنے کی دعوت دی تھی،لہٰذا آپ کے لئے اپنی طرف سے اس مطلب کی نفی کر نا ضروری تھا اور یہ کہنا چاہییے تھا کہ میں ہر گز تمھاری بات نہیں ما نو ںگا اور اپنی عبا دت کو شرک سے آلو دہ نہیں کرو ںگا۔ اگر اس سورہ کے آغاز میں لفظ”قل “ نہ ہوتا تو یہ با ت خدا کی بات ہو جاتی اور اس صورت میں” لا اعبد ماتعبدون“( تم جن کی عبا دت کرتے ہو میںان کی عبادت نہیں کرو ں گا) کا جملہ اور اسی قسم کے دوسرے جملوں کا کوئی مفہوم نہ ہوتا اس کے علاوہ چونکہ جبرئیل کے پیام میں لفظ”قل“خدا کی ظرف سے تھا ،لہٰذا پیغمبر کی ذمہ داری یہ کہ قرآن کی اصا لت کی حفا ظت کے لیے اسے بعینہ بیان کریں اور خود یہی چیز اس بات کی نشانی وہی کرتی ہے کہ” جبرئیل“ اور اس رسو ل اکرم نے وحی الٰہی کے نقل کرنے میں معمو لی سی بھی تبدیلی نہیںکی اور انہوں نے عملی طور پر یہ ثابت کر دیا کہ وہ ایسے مامور ہیں جو فقط فرما ن الٰہی پر ہی کان دھرتے ہیں جیسا کہ سورہ یو نس کی آیت ۱۵ میں آیا ہے:قل ما یکون لی ان ابّد لہ من تلقائی نفسی ان اتبع االّا ما یو حٰی الّی: کہ دیجئے مجھے اس بات کا کوئی حق نہیں ہے کہ قرآن کو اپنی طرف سے بد ل دوں، میں تو صرف اس بات کی پیروی کرتا ہوں جس کی مجھ پر وحی ہوتی ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 109:1-6
۳۔یہ تکرار کس لیے ہے؟
اس بارے میں کہ پیغمبر کی طرف سے بتوں کی عبادت کی نفی کی تکرار اور مشرکین کی طرف سے خدا کی عبادت کی نفی کی تکرار کس بنا ء پر ہے، بہت زیادہ اختلاف ہے۔ ایک جماعت کا عقیدہ تو یہ ہے کہ تکرار تا کید اور مشرکین کو مکمل طور پر ما یوس کرنے ، ان کے راستے کو اسلام کے راستے سے جدا کرنے اور یہ ثابت کرنے کے لیے ہے کہ توحید و شرک کے در میان مصالحت کا امکان نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، چو نکہ وہ پیغمبر اکرم کو شرک کی طرف دعوت دینے میںاصرار کے ساتھ تکرار کرتے تھے،لہٰذا قرآن بھی ان کے ردّ کرنے میں تکرار کرتا ہےایک حدیث میں آیا ہے کہ(امام جعفرصادق علیہ السّلام کے زما نے کے ایک زندیق)” ابو شاکردیصانی“ نے امام جعفر صادق علیہ السلام کے ایک صحابی” ابو جعفر احول“( محمّد بن علی نعما نی کوفی معروف بہ مومن طاق) سے ان آیات کے تکرار کی دلیل کے بارے میں سوال کیااور یہ کہا کہ کیا کسی عقل مند آدمی سے یہ بات ممکن ہے کہ اس کے کلام میں اس قسم کی تکرار ہو؟ ابو جعفر احول کے پاس چونکہ اس کا کوئی جواب نہیں تھا لہٰذا وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی خدمت میں مدینہ پہنچے اور اس سلسلہ میں سوال کیا، تو امام نے فرمایا:” ان آیات کے نزول اور ان میںتکرارکا سبب یہ تھا کہ قریش نے پیغمبر اکرم کے سامنے یہ تجویز پیش کی تھی کہ ایک سال آپ ہمارے خدا وٴ ں کی پر ستش کریں اور دوسرے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، اورا سی طرح بعد والے سال میں آپ ہمارے خداؤں کی عبادت کریں اور اس کے اگلے سال ہم آپ کے خدا کی عبادت کریں گے، تو اُوپر والی آیات نا زل ہوئیں اور تمام تجا ویز کی نفی کی“ جب ابو جعفر”احول نے“” ابو شاکر“ کو یہ جواب دیا تو اس نے کہا:”ھٰذا ما حملہ الا بل من الحجاز یہ وہ بار ہے جسے اُونٹ حجاز سے اٹھا کر لا ئے ہیں“ (یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ تیرا جواب نہیں ہے بلکہ امام جعفر صادق علیہ السلام کا قو ل ہے): بعض دوسروں نے یہ کہا ہے کہ تکرار اس بنا ء پر ہے کہ ایک جملہ توحال کے بیان کے لیے ہے اور دوسرا مستقبل کے بیان کے لیے، یعنی میں ہر گز بھی نہ تو حال میں تمہارے معبو دوں کی پر ستش کرو ں گا اور نہ ہی کبھی آئندہ تمہارے معبودوں کی عبا دت کرو ں گا لیکن ظاہراََ اس تفسیر پر کوئی شا ہد موجود نہیں ہے ایک تیسری تفسیر بھی اس تکرار کے لیے بیان کی گئی ہے کہ پہلا جملہ تو معبودوں کے اختلاف کو اور دوسرا عبادت کے اختلاف کو بیان کرتا ہےیعنی نہ تو میں ہر گز تمہارے معبودوں کی عبادت کرو ںگا اور نہ ہی میری عبادت تمہاری عبادت کی طرح ہے، کیو نکہ میری عبادت مخلصا نہ ا ور ہر قسم کے شرک سے خا لی ہے علاوہ ازیں تمہارا بتوں کی عبادت کرنا بڑوں کی اندھی تقلید کی بناء پر ہے ۔لیکن میرا اللہ کی عبادت کرنا تحقیق و شکرانے کے طور پر لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ تکرارتاکید کے لیے ہے ،جیسا کہ ہم نے اوپر وضا حت کی ہے وہ امام جعفر صادق علیہ السلام کی حدیث میں بھی اس کی طرف اشارہ ہوا ہےیہا ں ایک چو تھی تفسیر بھی بیان کی گئی ہے اور وہ یہ ہے کہ:” دوسری آیت میں تو یہ فرماتا ہے کہ جن کی تم اب عبادت کر رہے ہو میں ا ن کی عبادت نہیں کروںگااور چو تھی آیت میں فر ماتا ہے کہ” میں نے گز شتہ زما نہ میں بھی کبھی تمہا رے معبوود کی عبا دت نہیں کی ہے چہ جائیکہ اب کرو یہ فرق اس بات کی طرف تو جہ کرتے ہوئے کہ دوسری آیت میں” تعبدون“ فعل مضارع کی صورت میں ہے، اور چو تھی آیت میں”عبد تم“ فعل ماضی کی صورت میں ہے،بعید نظر نہیں آتا اگر چہ یہ تفسیر صرف دوسری اور چو تھی آیت کے تکرار کو تو حل کرتی ہیں، لیکن تیسری اور پانچویں آیت اسی طرح اپنی پوری قوّت کے ساتھ باقی رہتی ہے