أَرَأَيْتَ الَّذِي يُكَذِّبُ بِالدِّينِ
Did you see him who denies the Retribution?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 107:1
[Pooya/Ali Commentary 107:1] Din means religion. Here it means the day of judgement as in Fatihah: 3. Those who deny the principles of right and wrong and man's accountability, in the moral and spiritual sense, of actions done by him treat the helpless with contempt and lead arrogant selfish lives which, as a consequence, disturbs and upsets peace and harmony in the society. As the noble virtue of loving and taking care of the helpless among the society is beyond the reach of the callous disbelievers, they discourage or forbid or look down upon the virtue of charity or kindness in others. True worship does not consist in the mere form of prayer, without the heart and mind being earnestly applied to seek the pleasure of Allah. In Islam prayer is not a ritual. Verse 142 of Nisa says: "When they stand up for prayer they stand without sincerity, to be seen by men (only for show), but little do they (pay attention) to Allah in remembrance." Hypocrites make a great show of insincere acts of goodness, devotion and charity. See commentary of Baqarah: 3, 43, 45 and Ta Ha : 132 for salat. The Holy Prophet said: "He who gives salt to a needy person earns the reward of setting free 60 slaves; and he who gives water to a needy person earns the reward of saving a man from death and destruction." Little acts of neighbouring kindnesses, courtesies and supply of needs to the needy cost little but mean much.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 107:1-7
Clear.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 107:1-7
معاد کے انکار کے اثراتِ بد
اس سورے میں پہلے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے مخاطب کرتے ہوئے منکرین کے اعمال میں روز جزا کے انکار کے اثراتِ بد کو بیان کرتا ہے :۔ ” کیاتو نے اس شخص کو دیکھا ہے جو ہمیشہ روز جزا کا انکار کرتا ہے “ ( اٴ راء یت الذی یکذب با لدین)۔ اس کے بعد اس کے جواب کا انتظا رکیے بغیر مزید فرماتا ہے ،: ” وہی تو ہے جو یتیم کو سختی کے ساتھ دھکے دیتا ہے “۔ ( فذالک الذی یدع الیتیم)۔ ” دین “ سے مراد یہاں ” جزا“ یا ” روز جزا “ ہے ۔ اور اس کی عظیم داد گاہ کے انکار سے انسان کے عمل میں ایک وسیع ردِّ عمل پیدا ہوتا ہے ۔ جس کے پانچ حصوں کی طرف اس سورہ میں اشارہ ہوا ہے ، منجملہ : یتیموں کو سختی کے ساتھ دھتکا ر نا اور دوسرے لوگوں کو مسکینوں کو کھانا کھلانے کا شوق دلا نا ۔یعنی نہ تو خود ہی انفاق کرنا اور نہ ہی دوسروں کو ا س کام کی دعوت دینا ۔ بعض نے یہ احتمال بھی دیا ہے کہ یہاں “ دین “ سے مراد قرآن یا تمام آئین و دین اسلام ہے ۔ لیکن پہلا معنی زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اور اس کی نظیر سورہ انفطار کی آیہ ۹” کلا بل تکذبون بالدین “اور سورہ ” تین “ آیہ ۷ فما یکذبک بعد بالدین“ میں بھی آئی ہے ، جہاں ان سورتوں کی دوسری آیات کے قرینہ سے دین سے مراد روز جزا ہے ۔ ” یدع “ ” دعّ “ ( بر وزن حد) کے مادہ سے، سختی کے ساتھ دور کرنے اور غصہ کے ساتھ دھتکار نے کے معنی میں ہے اور” یحض“ ” حض“ کے مادہ سے کسی چیز کے لیے دوسروں کو تحریص و ترغیب دینے کے معنی میں ہے ، ” راغب“ ” مفردات“ میں کہتا ہے ، ” حص“ چلنے اور سیر کرنے کے لیے شوق دلانا ہے ، لیکن ” حض“ اس طرح نہیں ۔ ۱ چونکہ ”یحض “ اور ”یدع“فعل مضارع کی صورت میں آئے ہیں ، لہٰذا اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ یتیموں اور مسکینوں کے بارے میں ان کا یہ کام دائمی طور پر تھا ۔ یہ نکتہ بھی یہاں پر قابل توجہ ہے کہ یتموں کے بارے میں انسانی حقیقت او رمہر بانی کرنے کا مسئلہ کھا نا کھلانے اور سیر کرنے کی نسبت زیادہ عمدہ ہے۔ کیونکہ یتیم سب سے زیادہ رنج اور دکھ شفقت و مہر بانی کے مرکز اور غذا ئے روحی کے ہاتھ سے چلے جانے کی وجہ سے ہوتا ہے ، اور جسمانی غذا کا مرحلہ بعد میں آتا ہے ۔ پھر ان آیات میں ہمارے سامنے مسکینوں کو کھانا کھلانے کا مسئلہ آتا ہے ، جو اہم ترین کار ہائے خیر میں سے ہے ۔ یہاں تک کہ فرماتا ہے کہ اگر کوئی شخص خود کسی مسکین کو کھاناکھلانے کی قدرت نہیں رکھتا، تو دوسروں کو اس بات کی ترغیب دے اور شوق دلائے۔ ” فذالک“ کی تعبیر ( اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوئے کہ یہاں ” فا“ سببیت کا معنی دیتا ہے ) اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ معاد پر ایمان کا نہ ہونا ان غلط کاریوں کا سبب بنتا ہے ، اور واقعاً ایسا ہی ہے وہ شخص جو دل کی گہرائیوں کے ساتھ اس عظیم دن اور اس دادگاہ عدل ، اور اس حساب و کتاب اور جزا و سزا پر یقین رکھتا ہو، اس کے تمام اعمال میں اس کے مثبت آثار ظاہر ہو ں گے ، لیکن جو اس پر ایمان نہیں رکھتے تو گناہ کرنے اور انواع و اقسام کے جرائم کرنے پر ان کی جراٴت کرنے میں اس کے اثرات کامل طو ر پر نمایاں ہوتے ہیں ۔ اس گروہ کی تیسری صفت کے بارے میں فرماتاہے : پس ان نماز گزاروں پر وائے ہے “۔ ( فویل للمصلین)۔ ” وہی نمازی جو اپنی نماز کو بھول جاتے ہیں “۔ ( الذین ھم عن صلاتھم ساھون )۔ وہ اس کے لیے نہ تو کسی قدر و قیمت کے قائل ہیں او ر نہ ہی اس کے اوقات کوکوئی اہمیت دیتے ہیں ، او رنہ ہی اس کے ارکان و شرائط اور آداب کی رعایت کرتے ہیں ۔ ” ساھون “ ” سھو“ کے مادہ سے اصل میں اس خطا کے معنی میں ہے جو غفلت کی بناء پر سرزد ہوچاہے اس کے مقدمات کے فراہم کرنے میں مقصر ہو یانہ ہو ۔ البتہ پہلی صورت میں معذور نہیں ہے ، اور دوسری صورت میں معذور ہے لیکن یہاں وہ سہو مراد ہے جو تقصیر کے ساتھ تواٴم ہو۔ اس بات کی توجہ رکھنی چاہئیے کہ یہ نہیں فرماتا کہ:” وہ اپنی نما ز میں سہو کرتے ہیں “۔ چونکہ نماز میں سہو تو بہر حال ہر شخص سے ہوجاتا ہے ، ”وہ اصل نماز سے ہی سہو کرتے ہیں ، اور کل کی کل نماز کو ہی بھول جاتے ہیں “۔ اس بات واضح ہے کہ اگر اس مطلب کاایک یاچند مرتبہ اتفاق ہو تو ممکن ہے کہ کوتاہی کی وجہ سے ہو ۔ لیکن جو شخص نماز کو ہمیشہ کے لیے ہی بھولے ہوئے ہو، اور اسے بالکل ہی بھلا چکا ہو، تو اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس کے لیے کسی اہمیت کا قائل نہیں ہے ، یا اصلاً اس پر ایمان نہیں رکھتا ، اور اگر وہ کبھی کبھار نماز پڑھ لیتا ہے تو لوگو ں کی زبان یا اسی طرح کی باتوں سے ڈر کر پڑھتا ہے اس بارے میں کہ یہاں ” ساھون “ سے مراد کیا ہے ؟ جو کچھ ہم نے اوپر بیان کیا ہے اس کے علاوہ دوسری تفسیریں بھی بیان کی گئی ہیں ۔ منجملہ ان کے یہ ہے کہ اس سے مراد وقت فضیلت سے تاخیر کرنا ہے ۔ یا اس سے مراد منافقین کی طرف اشارہ کرنا ہے جونہ نماز کے ثواب کا اعتقاد رکھتے ہیں ، اور نہ ہی ا س کے ترک کے عذاب کا ۔ یا اس سے مرادوہ لوگ ہیں جو نماز میں ریا کاری کرتے ہیں ۔ ( جب کہ یہ معنی بعد والی آیت میں آرہاہے )۔ البتہ ان معانی کے درمیان جمع بھی ممکن ہے اگر چہ پہلی تفسیر زیادہ مناسب نظر آتی ہے ۔ بہر حال جب نماز کو بھول جانے والے ویل او رہلاکت کے مستحق ہیں ، تو پھر ان لوگوں کا کیا حال ہوگا جو کلی طور پر نماز کو چھوڑے ہوئے ہیں اور تارک الصلاة ہیں ۔ چوتھے مرحلہ میں ان کے ایک اور بد ترین عمل کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” وہ ایسے لوگ ہیں جو ہمیشہ رہا کاری کرتے ہیں “۔ (الذین ھم یراء ون )۔ مسلمہ طور پر اس تظاہر اور ریا کاری کے سر چشمے روز قیامت پرایمان کا نہ ہونا ، اور خدا ئی جزاوٴں کی طرف توجہ کرنا ہے ، ورنہ یہ کیسے ممکن ہے کہ انسان خدائی جزاوٴں کو تو چھوڑ دے، اور مخلوق کو خوش کرنے کی طرف توجہ رکھے۔ ”ماعون“ ” معن“ ( بر وزن شاٴن) کے مادہ سے ، کم اور تھوڑی سی چیز کے معنی میں ہے اور بہت سے مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ یہاں اس سے مراد جزئی اور معمولی قسم کی چیزیں ہیں ، جو لوگ ، خصوصاً ہمسائے ، ایک دوسرے سے رعایتاً لے لیتے ہیں ، مثلاً کچھ نمک، پانی ، آگ ( ماچس) برتن وغیرہ۔ واضح رہے کہ جو شخص اس قسم کی چیزیں بھی دوسروں کو دیتا، وہ انتہائی پست اور بے ایمان آدمی ہوتا ہے ، ایسے افراد اس قدر بخیل ہوتے ہیں کہ اس قسم کی معمولی چیزوں کے دینے سے بھی گریز کرتے ہیں ۔ حالانکہ یہی معمولی معمولی چیزیں بعض اوقات بڑی بڑی احتیاجات کو پورا کرتی ہیں اور ان کے روک لینے سے لوگوں کی زندگی میں بڑی مشکلات پیدا ہوجاتی ہیں ۔ ایک گروہ نے یہ بھی کہا ہے کہ ” ماعون“ سے مراد زکوٰة ہے ۔ کیونکہ اصل مال سے عام طور پر بہت ہی کم ہوتی ہے ۔ کبھی سو میں سے دس، کبھی سو میں سے پانچ اور کبھی سو میں سے اڑھائی۔ یقینا ”زکوٰة کا نہ دینا “بھی بد ترین کا موں میں سے ایک ہے ، کیونکہ زکوٰة معاشرے کی بہت سی اقتصادی مشکلات کو حل کرتی ہے۔ ایک روایت میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے ماعون کی تفسیر میں فرمایا : ” ھو القرض یقرضہ، و المتاع یعیرہ ، و المعروف یصنعہ: ” ماعون وہ قرض ہے جو انسان دوسرے کو دیتا ہے ۔اور وہ وسائل زندگی ہیں جو وہ ادھار کے طور پر دوسرں کو دیتا ہے ۔ اور وہ امدادیں اور کار ہائے خیر ہیں جنہیں انسان انجام دیتا ہے ۔ 2 ایک اور روایت میں انہیں حضرت سے یہی معنی نقل ہو اہے ، اور اس کے ذیل میں آیا ہے کہ راوی نے کہا : ہمارے ہمسائے ایسے ہیں کہ جب ہم کچھ وسائل زندگی ان کو دیتے ہیں تو وہ انہیں توڑدیتے ہیں اور خراب کردیتے ہیں ، تو کیا انہیں نہ دینا بھی گناہ ہے ؟ تو آپ نے فرمایا اس صورت میں کوئی مانع نہیں ہے ۔ ”ماعون“ کے معنی کے بارے میں دوسرے احتمالات بھی دئے گئے ، یہاں تک کہ تفسیر قرطبی میں بارہ سے زیادہ قول اس سلسلے میں نقل ہوئے ہیں جن میں سے بہت سوں کو ایک دوسرے میں ملا یا جاسکتا ہے ، البتہ زیادہ اہم وہی جو ہم نے اوپر نقل کیے ہیں ۔ ان دونوں کا موں کو ایک دوسرے کے بعد ذکر کرنا ( ریا کاری و منع ماعون) گویا اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ جو بات خدا کے لیے ہے اسے وہ مخلوق کی نیت سے بجالاتے ہیں، اور جو مخلوق کے لیے ہے وہ ان کے لیے نہیں کرتے اور اس طرح سے و ہ کوئی بھی حق اس کے حق دار تک نہیں پہچاتے۔ ہم اس گفتگو کو پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ایک حدیث کے ساتھ ختم کرتے ہیں ، آپ نے فرمایا : ” من منع الموعون جارہ منعہ اللہ خیرہ یوم القیامة، ووکلہ الیٰ نفسہ، ومن وکلہ الیٰ نفسہ فما اسوء حالہ ؟ ! : جو شخص ضروری اور معمولی چیزوں کو اپنے ہماسایہ سے روکتا ہے ، خدا اسے قیامت کے دن اپنی خیر سے روک دے گا، اور جسے خدا اس کی اپنی حالت پر چھوڑ دے اس کا بہت ہی برا حال ہوگا۔ 3 ۱۔ ” مفردات“ مادہ ”حض“ 2۔ ” کافی “ مطابق نقل نور الثقلین جلد ۵ ص ۶۷۹۔ 3- نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۷۹ حدیث ۲۰۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 107:1-7
۲۔ تظاہر و ریا ایک بہت بڑی اجتماعی مصیبت ہے ۔
ہرعمل کی قدر و قیمت اس کے سبب کے ساتھ وابستہ ہوتی ہے ، یا دوسرے لفظوں میں اسلام کی نگاہ میں ہر عمل کی بنیاد اس کی ” نیت“ پر ہوتی ہے، وہ بھی ” خالص نیت“ اسلام ہر چیز سے پہلے نیت کے بارے میں تحقیق کرتا ہے ، لہٰذا ایک مشہور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے ” انما الاعمال بالنیات و لکل امرء مانوی“ ” ہر عمل نیت کے ساتھ وابستہ ہے او ر ہر شخص کا عمل میں حصہ ، اس کی اس نیت کے مطابق ہوگا، جو وہ عمل میں رکھتا تھا “۔ اور اسی حدیث کے ذیل میں آیا ہے : ” جو شخص خد اکے لیے جہاد کرے اس کا اجر خدائے بزرگ و بر تر ہے ۔ اور جو شخص مالِ دنیا کے لیے جنگ کرے، یہاں تک کہ ایک عقال وہ چھوٹی سی رسّی جس سے اونٹ کے پاوٴں کو باندھتے ہیں ) لینے کے لیے کرے اس کا حصہ بس وہی ہے ۔ ۱ یہ سب اس بناء پر ہے کہ ” نیت سے ہی عمل وجود میں آتا ہے ۔ وہ شخص جو خدا کے لیے کوئی کام انجام دیتا ہے ، تو وہ اس کی بنیاد کومحکم کرتا ہے ، اور اس کی تمام کوشش یہ ہوتی ہے کہ لوگ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ اٹھائیں ۔ لیکن جو شخص تظاہر اور ریا کاری کے لیے کسی عمل کو انجام دیتا ہے وہ صرف ا س کے ظاہر اور زرق و برق پرنظر رکھتا ہے ، اور وہ اس کی گہرائی و بنیاد اورحاجت مندوں کے استفادے کو کوئی اہمیت نہیں دیتا ۔ وہ معاشرہ جو ریا کاری کا عادی ہو جاتا ہے وہ نہ صرف خدا ، اخلاق حسنہ اور ملکاتِ فاضلہ سے دور کردیا جاتا ہے ، بلکہ اس کے تمام اجتماعی پروگرام مفہوم و مطلب سے خالی ہو جاتے ہیں ، اور وہ مٹھی بھرے معنی ظواہر کا خالص رہ جاتے ہیں ، اور ایسے انسان اور اس قسم کے معاشرے کی سر نوشت کتنی دردناک ہے ؟ ! ۔ ” ریا “ کی مذمت میں بہت زیادہ روایات آئی ہیں ، یہاں تک کہ اس کو شرک کی ایک نوع کہا گیا ہے ، اور ہم یہاں تین ہلادینے والی روایات پر قناعت کرتے ہیں ۔ ۱۔ ایک حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے : ”سیاٴ تی علی الناس زمان تخبث فیہ سرائر ھم ۔ ونحن فیہ علانیتھم، طمعاً فی الدنیا لایدون بہ ما عند ربھم، یکون دینھم ریاء لایخالطھم خوف، یعمعھم اللہ بعقاب فید عونہ دعا ء الغریق فلا یستحب لھم! : ” لوگوں پر ایک ایسا زمانہ آنے والا ہے جب ان کے باطن قبیح ، گندے اور آلودہ ہوجائیں ، اور ان کے ظاہر زیبا اور خوبصورت ہوں گے۔ دنیا میں طمع کی خاطر وہ اس سے اپنے پروردگار کی جزاوٴں کے طلب گار نہیں ہوں گے ۔ ان کا دین ریا ہو جائے گا، خوف خدا ان کے دل میں باقی نہ رہے گا، خد اان سب کو ایک سخت عذاب میں گرفتار کرے گا ، اور وہ جتنا بھی ایک ڈوبنے والے کی طرح خدا کو پکاریں گے ، ہر گز ان کی دعا قبول نہ ہوگی“۔ ۲ ۲۔ ایک دوسری حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ نے اپنے ایک صحابی” زرارہ“ سے فرمایا : ” من عمل للناس کان ثوابہ علی الناس یا زرارہ ! کل ریاء شرک!“۔ ” جو شخص لوگوں کے لیے عمل کرے گا اس کا اجر و ثواب لوگوں پر ہی ہو گا۔ اے زرارہ ! ہر ریا شرک ہے ۔ 3 ۳۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ آلہ وسلم سے آیاہے :” ان المرائی یدعی یوم القیامة باربعة اسماء: یا کافر ! یا فاجر ! غادر ! یا خاسر ! حبط عملک ، و بطل اجرک، فلا خلاص لک الیوم ، فالتمس اجرک ممن کنت تعمل لہ !: ” ریا کار شخص کو قیامت کے دن چار ناموں سے پکارا جائے گا: اے کافر! اے فاجر ! اے حیلہ گر ! اے خاسر و زیاں کار ! تیرا عمل نابود ہو گیا ہے ، تیرا اجر و ثواب باطل ہوچکا ہے۔ آج تیرے لیے نجات کی کوئی راہ نہیں ہے ، لہٰذا تو اپنا اجر و ثواب اس سے طلب کر جس کے لیے تو عمل کرتا تھا۔ 4 خد اوندا ! خلوص نیت سخت مشکل کام ہے ، تو خود اس راہ میں ہماری مدد فرما۔ پروردگارا ! ہمیں ایسا ایمان مرحمت فر ما کہ ہم تیرے ثواب و عقاب کے علاوہ اور کچھ نہ سوچیں، او رمخلوق کی رضا و خشنودی اور غصہ و غضب تیری راہ میں ہمارے لیے یکساں ہو۔ بار لہٰا ! اس راہ میں جو خطا اور غلطی اب تک ہم نے کی ہے وہ ہمیں بخش دے ۔ آمین یا رب العالمین ۔ ۱۔وسائل الشیعہ“ جلد اول ص ۳۵ ( ابواب مقدمہٴ العبادات باب ۵ حدیث ۱۰)۔ ۲۔ ” اصول کافی “ جلد ۲ باب الریاء حدیث ۱۴۔ 3۔ ” وسائل الشیعہ “ جلد اول ص ۴۹ ( حدیث ۱۱ کے ذیل میں )۔ 4۔ ” وسائل الشیعہ “ جلد اول ص ۵۱ ( حدیث ۱۶ کے ذیل میں )۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 107:1-7
۱۔ سورہٴ ماعون کے مباحث کی جمع بندی
اس مختصر سورہ میں صفات رذیلہ کا ایک ایسا مجموعہ آیا ہے کہ وہ جس شخص میں بھی ہو اس کی بے ایمانی ، پستی اور حقارت کی ایک نشانی ہے ۔ اور قابل توجہ بات یہ ہے کہ ان سب کو تکذیب ِ دین یعنی جزاء یا روزِ جزا کی فرع قرار دیا ہے ۔ یتیموں کو حقیر جاننا ، بھوکوں کو کھانا کھلانا، نماز سے غفت برتنا ، ریاکاری کرنا اور لوگوں سے موافقت نہ کرنا ، یہاں تک کہ زندگی کے معمولی وسائل دینے میں یہ ہے کہ ان ( صفات رذیلہ ) کا مجموعہ۔ اور اس طرح سے ان بخیل ، خودخواہ اور ریا کار افراد کو ظاہر کرتا ہے ، جن کا نہ تو ” مخلو قِ خدا “ ہی کے ساتھ کوئی تعلق ہے اور نہ ہی ”خالق “کے ساتھ کوئی رابط ۔ ایسے افراد جن کے وجود میں نور ایمان اور احساس ِ مسئولیت نہیں ہوتا، نہ تو وہ خدائی اجرو ثواب میں غور و فکر کرتے ہیں اور نہ ہی اس کے عذاب سے ڈرتے ہیں ۔