أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِأَصْحَابِ الْفِيلِ
Have you not regarded how your Lord dealt with the army of the elephants?
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 105:1
[Pooya/Ali Commentary 105:1] This surah refers to an incident in the history of Makka, as an example of how Allah deals with those who oppose His will. About fifty days before the birth of the Holy Prophet, Abraha, the Abyssinia's viceroy of Yemen, Christian by religion, proceeded against Makka, as the head of a large army, with the object of destroying the Ka-bah, because he wanted that there should be no place or structure more glorious than the church he was building at Sana. He had with him elephants. Therefore he and his army is known as ashab al fil, those who brought elephants. At the outskirts of Makka he captured a large number of camels belonging to the chief of Makka, Abd al Muttalib, the grandfather of the Holy Prophet. After receiving the information that Abraha was coming to destroy the holy Ka-bah, Abd al Muttalib went to see him and said: "I have come to collect my camels. The Ka-bah belongs to God. He will surely protect it from your evil design." Abraha gave the captured camels to Abd al Muttalib He returned to the city and asked the people to retire to the neighbouring hills, leaving the Lord of Ka-bah to protect it. When Abraha entered Makka, suddenly a large flock of birds, like swallows, came flying from the sea-coast and pelted the invading army with pebbles of baked clay. They all died. They were like a dead and useless field from which all the produce is eaten up and only straw with stubble is left. Abraha escaped and went directly to the king in Abyssinia. All the way a bird with a stone in her beak followed him. When the king asked Abraha as to what kind of birds they were, Abraha looked to the sky and the bird at once dropped stone in her beak and killed him on the spot. The lesson to be drawn is twofold. The pagans of Makka were forewarned that as the Holy Prophet was superior to the Ka-bah, Allah, who protects whatever is His own, shall protect him from all their evil schemes. It is also a warning to men in all ages that "if a man intoxicated with power comes out to defeat Allah's holy plan, he cannot prevail against Allah, but his plan will fail and destroy him as well." Aqa Mahdi Puya says: The event narrated in this surah is a miracle. It proves the sanctity of the Ka-bah and the strong faith of Abd al Muttalib, the grandfather of the Holy Prophet, in Allah. When this chapter of the Quran was recited by the Holy Prophet before the Quraysh unbelievers no one raised any voice to belie him. Refer to the commentary of chapters ad Duha and al Inshirah for the inter-relation of those two chapters and of al Fil and al Quraysh, the next chapter. The faith of Abd al Muttalib in the oneness of Allah is proved by his following supplication: O Lord, there is no hope (of receiving help from any quarter) to stop them (Abraha's army) save from You, O Lord, therefore do not let them have Your protection because he who is the enemy of Your house is Your enemy, Verily they (the enemies whoever they are) cannot defeat Your power.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
God, Who is Omnipotent to safeguard His Sanctuary is also Omnipotent to safeguard His Islam when His beloved Prophet died when Ali was busy in his burial ceremony, and his companions having no faith, buried to seize Ali’s succession on plea of a rising.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
اصحاب فیل کی داستان
مفسرین اور مور خین نے اس داستان کو مختلف صورتوں میں نقل کیا ہے ،اور اس کے وقوع کے سال میں بھی اختلاف ہے لیکن اصل داستان ایسی مشہور ہے کہ یہ اخبار متواترمیں شمار ہوتی ہے ،اور ہم اسے مشہور روایات کے مطابق ”سیرةابن ھشام “و ”بلوغ الارب “و”بحا رالانوار “و”مجمع البیان “سے خلاصہ کر کے نقل کرتے ہیں ۔ یمن کے باد شاہ ”ذونواس “نے نجرا ن کے عیسائیوں کوجو اس سر زمین کے نزدیک بستے تھے ،اس لیے بہت تنگ کر رکھا تھا کہ وہ اپنا دین مسیحیت چھوڑ دیں۔قرآن اس واقعہ کو سورئہ ”بروج “میں اصحاب الاخدودکے عنوان سے بیان کیا ہے ۔او ر ہم نے اسے اسی سورہ کی تفسیر میں تفصیل کے ساتھ بیان کیا ہے ۔اس عظیم جُرم کے بعد ”دوس “نامی ایک شخص ان میں سے اپنی جان بچاکر نکل گیا اور وہ قیصرروم کے پاس ،جو دین مسیحیت پر تھا ،جا پہنچا ،اور اس کے سامنے یہ سارا ماجرا بیان کیا ۔ چو نکہ ”روم “اور ”یمن “کے درمیان فا صلہ زیادہ تھا لہٰذا اس نے حبشہ کے بادشاہ ”نجاشی کو خط لکھاکہ وہ ”ذو نواس “سے نصارائے نجران کا انتقام لے ،اور اس خط کو اسی شخص کے ہاتھ ”نجاشی “کے پاس روانہ کیا ۔ ”نجاشی “نے ایک بہت بڑا لشکر جو ستر ہزار افراد سے زیادہ پر مشتمل تھا”اریاط “نامی شخص کی کمان میں یمن کی طرف روانہ کیا ۔”ابرھہ“بھی اس لشکر کے ا فسروں میں سے ایک تھا ۔ ”ذونواس“کو شکست ہوئی،اور ”اریاط “یمن کا حکمران ہو گیا ۔کچھ مدت کے بعد ”ابرھہ “نے اریاط کے خلاف بغاوت کردی اور ا س کا خاتمہ کرنے کے بعد اس کی جگہ پر بیٹھ گیا ۔ اس واقعہ کی نجاشی کو خبر پہنچی تو اس نے ”ابرھہ “کی سر کوبی کرنے کا مصمم ارادہ کر لیا ابرھہ نے اپنی نجات کے لیے اپنے سر کے بال منڈواکر یمن کی کچھ مٹی کے ساتھ مکمل تسلیم کے طور پر نجاشی کے پاس بھیج دیے ، اور وفا داری کا اعلان کیا۔ نجاشی نے جب یہ دیکھا توابرھہ کو معاف کردیا ، اوراسے اس کے منصب پر بر قرار رکھا۔ اس موقع پر ” ابرھہ“ نے اپنے حسن خدمت کو ثابت کرنے کے لیے ایک اہم اور بہت ہی خوبصورت گرجا گھر تعمیر کرایا ، جس کی اس زمانہ میں کرہٴٴ زمین پر کوئی مثل و نظیر نہ تھی۔ اور اس کے بعد جزیرہ عرب کے لوگو ں کو خانہ کعبہ کی بجائے اس گرجے کی طرف دعوت دینے کا مصمم ارادہ کرلیا ، اور یہ پختہ ارادہ کرلیا کہ اس جگہ کو عرب کے حج کامرکز بنا کے مکہ کی اہم مرکزیت کو وہاں منتقل کردے۔ اس مقصد کے لیے اس نے ہر طرف عرب کے قبائل اور سرزمین ِ حجاز میں بہت سے مبلغ بھیجے۔ عربوں نے ، جو مکہ اور کعبہ کے ساتھ شدیدلگاوٴ رکھتے تھے اور اسے ابراہیم خلیل کے آثار میں سے جانتے تھے ، اس سے خطرہ محسوس کیا۔ بعض روایات کے مطابق ایک گروہ نے وہاں جاکر مخفی طور پر اس گرجے کو آپ لگادی ، اور روایت کے مطابق بعض نے اسے مخفی طور پر گندہ اور ملوث کردیا ۔ اور اس طرح سے انہوں نے اس عظیم دعوت کے مقابلہ میں شدید ردِّ عمل کا مظاہرہ کیا ، اور ” ابرھہ“ کے عبادت خانے کو بے اعتبار اور حقیر بنادیا ۔ ظاہرہے اس پر ” ابرھہ“ کو بہت غصہ آیا اور اس نے خانہ کعبہ کو کلی طور ویران کرنے کا پختہ ارادہ کرلیا ۔ اس کا خیال تھااس طرح وہ انتقام بھی لے لے گااور عربوں کو نئے معبد کی طرف متوجہ بھی کردے گا۔ چنانچہ وہ ایک بہت بڑے لشکر کے ساتھ، جن میں سے کچھ لوگ ہاتھیوں پر سوار تھے، مکہ کی طرف روانہ ہوا۔ جب وہ مکہ کے قریب پہنچا تو اس نے کچھ لوگوں کو مکہ والوں کو اونٹ اور دوسرے اموال لوٹنے کے لیے بھیجا۔ ان میں سے دو سو اونٹ “ عبدالمطلب “ کے بھی لُوٹ لیے گئے۔ ” ابرھہ“ نے کسی آدمی کو مکہ کے اندر بھیجا اور اس سے کہا کہ رئیسِ مکہ کو تلاش کرکے اس سے کہنا کہ ” ابرھہ“ یمن کا بادشاہ کہتا ہے کہ : میں جنگ کرنے کے لیے نہیںآیا، میں تو صرف اس لیے آیا ہوں کہ اس خانہ کعبہ کو ویران کردوں اگر تم جنگ نہ کرو تو مجھے تمہارا خون بہانے کی ضرورت نہیں ہے ۔ ” ابرھہ “ کا قاصد مکہ میں داخل ہوا اور رئیس و شریف مکہ کے بارے میں دریافت کیا۔ سب نے ” عبد المطلب“ کی طرف راہنمائی کی ۔ اس نے ” عبد المطلب“ کے سامنے ماجرا بیان کیا۔ ” عبد المطلب“ نے بھی یہی جواب دیا کہ ہم میں تم سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں ہے ،رہا خانہ کعبہ تو خدا خود اس کی حفاظت کرے گا ۔ ” ابرھہ“ کے قاصد نے عبد المطلب سے کہا کہ تمہیں میرے ساتھ اس کے پاس چلنا پڑے گا ۔ جب عبد المطلب ا س کے دربار میں داخل ہوئے تووہ آپ کے بلند قد حسین چہرے اور حد سے زیادہ رعب اور دبدبہ کو دیکھ کر سخت متاثر ہوا، یہاں تک کہ ”ابرھہ“ ان کے احترام میں اپنی جگہ سے اٹھ کھڑا ہوا اور زمین پر بیٹھ گیا اور ” عبد المطلب“ کو اپنے پہلو میں بٹھالیا، کیونکہ وہ نہیں چاہتا تھا کہ انہیں اپنے ساتھ تخت پر بٹھائے۔ اس کے بعد اس نے اپنے مترجم سے کہا کہ ان سے پوچھ کہ ان کی کیاحاجت ہے ؟ آپ نے مترجم سے کہا : میری حاجت یہ ہے کہ میرے دوسو اونٹ تیرے لشکری لُوٹ کر لے گئے ہیں ، تو انہیں حکم دیں کہ وہ میرا مال واپس کردیں ۔ ” ابرھہ“ کو ان کے اس مطالبہ پر سخت تعجب ہوا اور اس نے اپنے متجم سے کہا : ان سے کہو: جب میں نے تمہیں دیکھا ، تو میرے دل میں تمہاری بہت زیادہ عظمت پید اہوئی تھی، لیکن تم نے یہ کہی تو میری نظر میں تمہاری توقیر گھٹ گئی۔ تم اپنے دو سو اونٹوں کے بارے میں تو بات کرتے ہولیکن ” کعبہ“ کے بارے میں جو تمہارا اور تمہارے آباوٴ اجداد کا دین ہے ، اور میں اسے ویران کرنے کے لیے آیاہوں ، بالکل کوئی بات نہیں کرتے ۔ ” عبد المطلب “ نے کہا : ” انا رب الابل ، و ان للبیت ربا سیمنعہ“ ! ” میں اونٹوں کا مالک ہوں ، اور اس گھر کا بھی ایک مالک ہے ، وہ اس کی حفاظت خود کرے گا“۔ (اس بات نے ابرھہ کو ہلا کر رکھ دیا اور وہ سوچ میں پڑ گیا)۔ ” عبد المطلب“ مکہ کی طرف آئے ، اور لوگوں کو اطلاع دی کہ وہ پہاڑیوں میں پناہ گزیں ہو جائیں اور آپ خود ایک گروہ کے ساتھ خانہ کعبہ کے پاس آئے تاکہ دعا کریں اور مدد طلب کریں ۔ آپ نے خانہ کعبہ کے دروازے کی زنجیر میں ہاتھ ڈال کر اپنے یہ مشہور اشعار پڑھے: لاھم ان المرء یمنع رحلہ فامنع رحالک لایغلبن صلیبھم و محالھم ابداً محالک جروا جمیع بلادھم و الفیل کی یسبوا عیالک لاھم ان المرء یمنع رحلہ فامنع عیالک والنصر علی اٰل الصلیب و عابد یہ الیوم اٰلک ۔ ۱ ” خدا یا ہر شخص اپنے گھر کی حفاظت کرتا ہے تواپنے گھر کی حفاظت فرما“۔ ”ایسا کبھی نہ ہو کہ کسی کی تمام توانائیاں اور ہاتھی ساتھ لے کر آئے ہیں تاکہ تیرے حرم کے ساکنوں قیدی بنالیں “۔ ” خدا یا ہر شخص اپنے گھر والوں کا دفاع کرتا ہے تو بھی اپنے حرمِ امن کے رہنے والوں کا دفاع کر“ ”اور آج اس حرم کے رہنے والوں کی آلِ صلیب اور اس کی عبادت کرنے والوں کے برخلاف مدد فرما“۔ اس کے بعد عبد المطلب اطراف مکہ کے ایک درّہ کی طرف آئے، قریش کی ایک جماعت کے ساتھ وہاں پناہ لی اور اپنے ایک بیٹے کو حکم دیا کہ وہ کوہ ابوقبیس کے اوپر جا کر دیکھے کہ کیا ہورہا ہے۔ آپ کا بیٹا بڑی تیزی کے ساتھ آپ کے پاس آیا اور کہا : بابا جان ! سمندر( دریائے احمر) کی طرف سے ایک سیاہ بادل آتا ہوا نظر آرہا ہے۔ عبد المطلب خوش ہو گئے اور پکار کر کہا : ” یامعشر قریش ! ادخلوا منازلکم فقد اٰتاکم اللہ بالنصر من عندہ“ ” اے جمیعت قریش اپنے گھروں کی طرف پلٹ جاوٴکیونکہ خدا کی نصرت تمہاری مدد کے لیے آرہی ہے ۔ یہ تو اس طرف کی بات تھی“۔ دوسری طرف سے ابرھہ اپنے مشہور ہاتھی پر سوار جس کانام” محمود“ تھا اپنے کثیر لشکر کے ساتھ کعبہ کو تباہ کرنے کے لیے اطراف کے پہاڑوں سے مکہ کی طرف اترا ، لیکن وہ اپنے ہاتھی پر جتنا دباوٴ ڈالتا تھا وہ آگے نہ بڑھتا تھا ، لیکن جب وہ اس کا رخ یمن کی طرف کرتا تھا تو وہ فوراًچل پڑھتا تھا ۔ ابرھہ اس واقعہ سے سخت متعجب ہوا اور حیرت میں ڈوب گیا ۔ اسی اثناء میں سمندر کی طرف سے غول کے غول اور جھنڈ کے جھنڈ پرندوں کے، آن پہنچے، جن میں سے ہر ایک کے پاس تین تین کنکریاں تھیں ، ایک ایک چونچ میں اور دو دو پنجو ں میں ، جو تقریباً چنے کے دانے کے برابر تھیں، انہوں نے یہ کنکر یاںابر ھہ کے لشکر پر برسانی شروع کردیں۔ یہ کنکر یاں جس کسی کو لگتیں وہ ہلاک ہو جاتا۔ اور بعض نے یہ کہا ہے کہ یہ کنکر یاں ان کے بدن پر جہاں بھی لگتیں سوراخ کردیتی تھیں ، اور دوسری طرف نکل جاتی تھیں ۔ اس وقت ابرھہ کے لشکر پر ایک عجیب و غریب وحشت طاری ہوگئی ۔ جو زندہ بچے وہ بھاگ کھڑے ہوئے ، اور واپسی کے لیے یمن کی راہ پوچھتے تھے ، لیکن مسلسل خزاں کے پتوں کی طرح سڑک کے بیچوں بیچ گر جاتے تھے ۔ ایک پتھر خود” ابرھہ“ کے آکر لگا اور وہ زخمی ہوگیا ۔ اس کو صعنا( یمن کے پائے تخت) کی طرف واپس لے گئے اوروہاں جاکر ہلاک ہو گیا ۔ بعض نے کہا ہے کہ چیچک کی بیماری پہلی مرتبہ عرب میں اسی سال پھیلی تھی۔ ہاتھیوں کی تعداد جو ابرھہ اپنے ساتھ لے گیا تھا، بعض نے وہی ” محمود“ ہاتھی، بعض نے آٹھ، بعض نے دس اور بعض نے بارہ لکھی ہے مشہور قول کے مطابق پیغمبر اکرم نے ولادت اسی سال ہوئی اور عالم آپ کے نور کے وجود سے منور ہوگیا ۔ لہٰذا بہت سے لوگوں کا عقیدہ یہ ہے کہ ان دونوں واقعات کے درمیان ایک رابطہ موجود تھا۔ بہرحال اس عظیم حادثہ کی اس قدر اہمیت تھی کہ اس سال کا نام عال الفیل ( ہاتھی کا سال ) رکھاگیا اور یہ عربوں کا تاریخ کا مبداء قرار پایا ۔ 2 ۱.۔مورخین ومفسرین نے اوپر والے اشعار کو مختلف طور پر نقل کیا ہے جو کچھ نقل کیا گیا ہے وہ مختلف نقلوں کا مرکب خلاصہ ہے ۔ 2۔” سیرة ابن ہشام “ جلد ۱ ص ۳۸ تا ۶۲ ” بلوغ الارب“۔ جلد ۱ ص ۲۵۰ تا ۲۶۳ ” بحار الانوار“ جلد ۱۵ ص ۱۳۰ سے آگے ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص ۵۴۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
تفسیرابرھہ سے کہہ دو کہ وہ آنے میں جلدی نہ کرے
اس سورہ کی پہلی آیت میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتا ہے :”کیا تونے نہیں دیکھا کہ تیرے پروردگار نے اصحاب فیل کے ساتھ کیا سلوک کیا “؟ ( الم ترکیف فعل ربک باصحاب الفیل)۔ وہ اپنی پوری قدرت و طاقت اور لشکر کے ساتھ آئے تاکہ خانہ خدا کو ویران و تباہ کردیں اور خدا نے ایک ایسے لشکر کے ساتھ، جو بظاہر بہت ہی چھوٹا اور بے حیثیت تھا، انہیں درہم بر ہم کردیا ۔ ہاتھیوں کو چھوٹے سے پرندوں کے ساتھ ، اور اس زمانہ کے ترقی یافتہ اسلحہ کو ” سجیل“ پتھریلی کنکریوں کے ساتھ بیکار کردیا تاکہ اس مغرور سر کش انسان کی کمزوری و ناتوانائی کو قدرتِ الٰہی کے مقابلہ میں ظاہر و آشکار کرے۔ الم تر ( کیا تونے نہیں دیکھا؟) کی تعبیر ، حالانکہ یہ حادثہ ایسے زمانہ میں رونما ہو اتھا کہ پیغمبر نے ابھی دنیا میں آنکھ نہیںکھولی تھی، یایہ آپ کی پیدائش سے قریب تر تھا، اسی وجہ سے مذکورہ حادثہ پیغمبر اکرم کے زمانہ کے بہت ہی نزدیک تھا، اس کے علاوہ یہ اتنا مشہور اور متواتر تھا کہ گویا پیغمبر اپنے چشم مبارک سے اس کا مشاہدہ کیا ہوا تھا ، اور پیغمبر کے معاصرین میں سے ایک گروہ نے یقینی طور پر اسے اپنی آنکھ سے دیکھا تھا۔ ” اصحاب الفیل “ کی تعبیر انہیں چند ہاتھیوں کی وجہ سے ہے جنہیں وہ اپنے ساتھ یمن سے لائے تھے تاکہ مخالفین کو مرعوب کریں ، او ر اونٹ اور گھوڑے انہیں دیکھ کر بدک جائیں اور میدان ِ جنگ میں نہ ٹھہر سکیں ۔ ۱ اس کے بعد مزیدیہ کہتاہے :کیا خدا نے ان کے منصوبہ کو خاک میں نہیں ملادیا“ ( الم یجعل کیدھم فی تضلیل)۔ ان کا ارادہ یہ تھاکہ خانہ کعبہ کو تباہ کرڈالیں تاکہ یمن کے گرجے کو مرکزیت حاصل ہو اور قبائل عرب اس کی طرف متوجہ ہو جائیں ۔ لیکن وہ نہ صرف یہ کہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے تو بلکہ اس ماجرے نے جس کی شہرت تمام جزیرہ نمائے عرب میں پھیل گئی تھی۔ مکہ اور خانہ کعبہ کی عظمت کو اور چارچاندلگا دئے اور اس کے مشتاق دلوں کو پہلے سے بھی زیادہ اس کی طرف متوجہ کردیا اور شہر کو اور بھی زیادہ پر امن بنا دیا ۔ ” تضلیل“ سے مراد ، جو وہی گمراہ کرنا ہے ، کہ وہ ہر گز اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہوئے۔ اس کے بعد اس ماجرے کی تفصیل بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ”خدانے گروہ درگروہ ہر طرف ہاتھیوں کے لشکر کی طرف آئے تھے۔ یہ لفظ جمع کے معنی دیتا ہے ، جس کا مفرد بعض نے ” ابابلہ“ یعنی پرندوں یاگھوڑوں یا اونٹوں کا گروہ سمجھا ہے اور بعض یہ کہتے ہیں کہ یہ ایک ایسی جمع ہے جس کی جنس کا مفرد نہیں ہے ۔ بہر حال ” طیر“ یہاں جمع کا معنی دیتا ہے، اور یہ دونوں الفاظ ” طیر “ و ابابیل“ مجموعی طور پر گروہ در گروہ پرندوں کے معنی میں ہے ( ایسا نہیں ہے کہ ابابیل ان پرندوں کا نام ہو)۔ اس بارے میںکہ یہ پرندہ کو ن سا پرندہ تھا جیسا کہ ہم نے داستانوں کی تفصیل میں بیان کیا ہے مشہور یہ ہے کہ وہ پرندے کوّے یا چیل کی طرح کے پرندے تھے جو بحر احمر کی راہ سے اٹھے تھے اور ہاتھیوںکے لشکر کی طرف آئے تھے۔ بعد والی آیت میں مزید فرماتا ہے : ” ان پرندوں نے اس لشکر کو سجیل ( پتھریلی مٹی) کے چھوٹے چھوٹے کنکروں سے نشانہ بنایا تھا“۔ (ترمیھم بحجارة من سجیل)۔ ۲ اور جیسا کہ اس ماجرے کی تفصیل میں ہم نے تواریخ ، تفاسیر اور روایات سے نقل کیا ہے ،ان چھوٹے چھوٹے پرندوں میں سے ہر ایک نے چنے کے دانے کے برابر ی ا س سے بھی چھوٹی چھوٹی کنکریاں اٹھائی تھیں ، ایک ایک کنکری چونچ میں اور دو دو اپنے پنجوں میں ۔ اور یہ چھوٹی چھوٹی کنکریاں جس پر بھی پڑتی تھیں ، اسی کو ٹکڑے ٹکڑے کردیتی تھیں ۔ جیسا کہ بعد والی آیت میں آیا ہے : ” انہیں کھائے ہوئے بھوسے کی مانند بنا دیا “ ( فجعلھم کعصف ماکول)۔ ” عصف “ ( بر وزن حذف) ان پتوں کو کہتے ہیں جو زراعت کی شاخ پر ہوتے ہیں اور پھر خشک ہوکرٹکڑے ٹکڑے ہو جاتے ہیں ۔ دوسرے لفظوں میں یہ” گھاس “کے معنی میں ہے ۔ اور بعض نے اس کی گندم کے اس چھلکے کے معنی میں تفسیر کی ہے ، جب کہ وہ خوشہ میں ہوتا ہے ۔ ” ماٴکول “ کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ گھا س جانوروں کے دانتوں کے نیچے آکر دوبارہ پس جاتا ہے اور مکمل طور پر ریزہ ریزہ ہوجاتا ہے ، پھر جانور کے معدے نے بھی اسے تیسری مرتبہ ریزہ ریزہ کیا ہے اور یہ چیز اس بات کی نشان دہی کرتی ہے کہ یہ سنگریزے جس کسی کو بھی جاکر لگتے تھے، اس کو مکمل طورپر ریزہ ریزہ کردیتے تھے ۔ یہ تعبیر ان کے شدت کے ساتھ پارہ پارہ ہو نے کی دلیل قرار پانے کے علاوہ اس کے سر کش و مغرور اور ظاہراً طاقت ور گروہ اور جمیعت کے بے قدر و قیمت ہونے اوراس کے ضعف و ناتوانی کی طرف اشارہ ہے ۔ ۱۔ ” فیل “ اگر چہ یہاں مفرد ہے ، لیکن جنس و جمع کا معنی رکھتا ہے ۲۔ ” سجیل “ فارسی کا لفظ ہے جو” سنگ“ ( پتھر) اور ” گل“ ( مٹی) سے لیا گیا ہے ، اسی بناء پر وہ ایک ایسی چیز ہوتی ہے جو نہ پتھر کی طرح سخت ہو اور نہ مٹی کی طرح نرم ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
۱۔ ایک بے نظیر معجزہ ( اس گھر کا ایک مالک ہے )
قابل توجہ بات یہ ہے کہ قرآن مجید نے اس مفصل و طولانی داستان کو چند مختصر اور چبھنے والے انتہائی فصیح و بلیغ جملوں میں بیان کردیا ہے ۔ اور حقیقتاً ایسے نکات بیان کیے ہیں جو قرآنی اہداف ، یعنی مغرور سر کشوں کو بیدار کرنے اور خدا کی عظیم قدرت کے مقابلہ میں انسان کی کمزوری دکھانے میں مدد دیتے ہیں ۔ یہ ماجرا اس بات کی نشان دہی کرتا ہے کہ معجزات و خوارق عادات، بعض لوگوں کے خیال کے بر خلاف، لازمی نہیں ہے کہ پیغمبر یا امام ہی کے ہاتھ پر ظاہر ہوں ۔ بلکہ جن حالات میں خدا چاہے اور ضروری سمجھے انجام پاجاتے ہیں ، مقصد یہ ہوتا ہے کہ لوگ خدا کی عظمت اور اس کے دین کی حقانیت سے آشنا ہو جائیں ۔ یہ عجیب و غریب اعجاز آمیز عذاب دوسری سر کش اقوام کے عذاب کے ساتھ ایک واضح فرق رکھتا ہے کیونکہ طوفان ِ نوح کا عذاب، اور قوم ِلوط کا زلزلہ اور سنگ باری، قومِ عاد کی تیز آندھی اور قومِ ثمودکا صاعقہ طبعی حوادث کا ایک سلسلہ تھے، کہ جن کا صرف ان خاص حالات میں وقوع معجزہ تھا۔ ان چھوٹے چھوٹے پرندوں کا اٹھنا ، اسی خاص لشکر کی طرف آنا، اپنے ساتھ کنکریوں کا لانا، خاص طور سے انہیں کو نشانہ بنانا اور ان چھوٹی چھوٹی کنکریوں سے ایک عظیم لشکر کے افراد کے اجسام کا ریزہ ریزہ ہو جانا، یہ سب کے سب خارقِ عادق امور ہیں ، لیکن ہم جانتے ہیں کہ یہ سب کچھ خدا کی قدرت کے سا منے بہت ہی معمولی چیز ہے ۔ وہی خدا جس نے انہیں سنگ ریزوں کے اندر ایٹم کی قدرت پیدا کی ہے ، کہ اگر وہ آزاد ہو جائے تو ایک عظیم تباہی پھیلادے۔ اس کے لیے یہ بات آسان ہے کہ ان کے اندر ایسی خاصیت پید اکردے کہ ابرھہ کے لشکر کے جسموں کو ” عصف ماٴکول “ ( کھائے ہوئے بھوسے کی مانند ) بنادے۔ ہمیں بعض مصری مفسرین کی طرف اس حادثہ کی توجیہ کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ ان کنکریوں میں وبا یا چیچک کے جراثیم تھے ۔ ۱ اور اگر بعض روایات میں یہ ہے کہ صد مہ زدہ لوگوں کے بدنوں سے چیچک میں مبتلا افراد کی طرح خون اور پیپ آتی تھی، تو یہ اس بات کی دلیل نہیں ہے کہ وہ حتمی طور پر چیچک میں مبتلا تھے ۔ اسی طرح سے ہمیں اس بات کی بھی ضرورت نہیں ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ سنگ ریزے پسے ہوئے ایٹم تھے جن کے درمیان کی فضا ختم ہو گئی تھی ۔ اور وہ حد سے زیادہ سخت تھے ، اس طرح سے کہ وہ جہاں بھی گرتے تھے سوراخ کردیتے تھے۔ یہ سب کی سب ایسی توجیہات ہیں جو اس حادثہ کو طبیعی بنانے کے لیے ذکر ہو ئی ہیں اور ہم اس کی ضرورت نہیں سمجھتے ۔ ہم تو اتنا ہی جانتے ہیں کہ ان سنگ ریزوں میں ایسی عجیب و غریب خاصیت تھی جو جسموں کو ریزہ ریزہ کردیتی تھی ۔ا س سے زیادہ اور کوئی اطلاع ہمارے پاس نہیں ہے۔ بہر حال خدا کی قدرت کے مقابلہ میںکوئی کام بھی مشکل نہیں ہوتا۔ 2 ۱۔ ”تفسیرعبدہ“ جزء عم ص ۱۵۸ ملاحظہ ہو ۔ 2۔ اگر بعض تواریخ میں یہ آیا ہے کہ عرب کے شہروں میں چیچک کا مرض پہلی مرتبہ اسی سال دیکھنے میں آیا ہے تو یہ بات اسی معنی پر دلیل نہیں بنتی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
۲۔ معمولی وسیلہ سے سخت ترین سزا
قابل توجہ بات یہ ہے کہ خدا نے اس ماجرے میں مستکبرین اور سر کشوں کے مقابلہ میں اپنی قدرت اعلیٰ ترین صورت میں دکھادی ہے ۔ شاید دنیا میں ابرھہ کے لشکر کے عذاب سے بڑھ کر زیادہ سخت اور کوئی عذاب نہ ہو اور ان مغرور لوگوں کو اسی طرح سے تباہ و بر باد کردیا جائے کہ ریزہ ریزہ اور کھائے ہوئے بھوسے ( عصف ماٴکول) کی طرح ہو جائیں۔ اتنی بڑی قدرت و شوکت رکھنے والی جمیعت کی نابودی کے لیے نرم قسم کے سنگ ریزوں اور کمزور اور چھوٹے چھوٹے پرندوں سے کام لیاجائے۔ وہی بات کہ یہ دنیا جہان کے تمام مستکبرین اور سر کشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے ، تاکہ وہ جان لیں کہ وہ خدا کی قدرت کے مقابلہ میں کس قدر ناتواں ہیں ۔ مطلب یہ ہے کہ بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ خدا اس قسم کے عظیم کام بہت ہی چھوٹے سے موجودات کے سپرد کر دیتا ہے ۔ مثلاً ایسے جراثیم کو ، جو ہر گز آنکھ سے دیکھے نہیں جاسکتے، مامور کردیتا ہے کہ وہ ایک مختصر سی مدت میں سر عت کے ساتھ اپنی پیدا ئش بڑھا کر طاقت ور قوموں کو ایک خطر ناک سرایت کرنے والی بیماری، مثلاً: ” وبا ء“ و ” طاعون“ میں مبتلا کردے۔ اور ایک مختصر سی مدت میں خزاں کے پتوں کی طرح زمین پر ڈھیر کردے۔ یمن کا عظیم بند( سد ماٰرب ) جیسا کہ ہم نے سورہ ٴ سبا کی تفسیر میں بیان کیا ہے ۔ زیادہ آبادی اور ایک عظیم طاقت ور تمدن کی پیدائش کا ذریعہ بنی ۔ اور اس کے بعد اس قوم کی سر کشی برھ گئی ، لیکن اس قوم کی نابودی کا فرمان جیسا کہ بعض روایات میں آیاہے ، ایک یا چند صحرائی چوہوں کے سپرد ہوا تاکہ وہ اس عظیم بند کے اندر گھس جائیں اور اس میں ایک سوراخ کردیں ۔ اس سوراخ میں پانی ہونے کی وجہ سے یہ سوراخ بڑے سے بڑا ہوتا چلا گیا اور آخر کار وہ عظیم بند توٹ گیا اور پانی جو اس بندکے تھپیڑے ماررہا تھا، اس نے ان سب آبادیوں ، گھروں اور محلوں کو ویران اور تباہ کردیا ۔ اور بڑی جمیعت یا تو نابود ہو گئی یا دوسرے علاقوں میں پراکندہ اور منتشر ہو گئی۔ یہ ہے خدا وندِ بزرگ و بر تر کی قدرت نمائی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
۳۔ داستان ِ فیل کے اہداف
آگے آنے والی سورت ( سورہٴ لایلاف) سے اچھی طرح معلوم ہوجاتا ہے کہ سورہٴ فیل کا ایک ہدف قریش پر خدا کی عظیم نعمتوں کی یاد آوری ہے تاکہ انہیں یہ بتا دے کہ اگر پروردگار کا لطف نہ ہوتا تو نہ اس مقدس مرکز یعنی مکہ و کعبہ کے آثار ہوتے اور نہ ہی قریش ہوتے ۔ مطلب یہ ہے کہ وہ اسی طرح کبر و غرور کی سواری سے نیچے اتر آئیں اور پیغمبر اکرم کی دعوت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔ دوسری طرف یہ ماجرا ، جو پیغمبراکرم کے میلاد کے قریب قریب ساتھ واقع ہوا تھا ، حقیقت میں اس عظیم ظہور کا پیش خیمہ تھا اور اس قیام کی عظمت کا پیام لانے والا تھا۔ اور یہ وہی چیز ہے جسے مفسرین نے ” ارھاص“ سے تعبیر کیا ہے ۔ ۱ اس واقعہ کا تیسرا مقصد یہ ہے کہ یہ ساری دنیا جہان کے سر کشوں کے لیے ایک تنبیہ ہے ، چاہے وہ قریش ہوں یا ان کے علاوہ کوئی اور ہوں ، کہ وہ جان لیں کہ وہ ہر گز پروردگار کی قدرت کے مقابلہ میں نہیں ٹھہرسکتے۔ لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ خیال ِ خا، کو اپنے سے سے نکال دیں ، اس کا حکم مانیں اور حق و عدالت کے سامنے سر تسلیم خم کردیں ۔ چوتھا مقصد اس عظیم گھر کی اہمیت کو ظاہر کرنا ہے کہ جب ” کعبہ“ کے دشمنوں نے اس کو نابود کرنے کا منصوبہ بنا یا ، اور وہ اس ابراہیمی سر زمین کی مرکزیت کو دوسری جگہ منتقل کرنا چاہتے تھے ، تو خدا نے ان کی اس طرح سے گوشمالی کی کہ ساری دنیا کے لیے باعث عبرت بن گئی اور اس مقدس مرکز کی اہمیت کو مزید بڑھا دیا۔ اور پانچواں مقصد یہ ہے کہ ، وہ خدا جس نے اس سر زمین ِ مقدس کی امنیت کی بارے میں ابراہیم خلیل کی دعا کو قبول کیا تھا ، اور اس کی ضمانت دی تھی ، اس نے اس ماجرے میں اس بات کی نشان دہی کردی ہے کہ اس کی مشیت یہی ہے کہ یہ توحید و عبادت کا مرکز ہمیشہ ہمیشہ کے لیے مرکز امن رہے ۔ ۱۔” ارھاص“ ان معجزات کے معنی جو پیغمبرکے قیام سے قبل واقع ہوں اور اس کی دعوت کے لیے زمین ہموار کرنے والے ہوں ۔ یہ لفظ اصل میں بنیاد گزاری اور پہلا سنگِ بنیاد رکھنے کے معنی میں ہے جسے دیوار کے نیچے رکھتے ہیں ، اور آمادہ ہونے اور ( کھڑے ہونے )کے معنی میں بھی آیا ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 105:1-5
۴۔ ایک مسلّم تاریخی روئیداد
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” اصحاب فیل “ کا ماجرا عربوں کے درمیان ایسا مسلم تھا کہ یہ ان کے لیے تاریخ کا آغاز قرار پایا اور جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے کہ ، قرآن مجید نے ایک نہایت ہی عمدہ تعبیر ” الم تر“ ( کیا تونے نہیں دیکھا ) کے ساتھ اس کا ذکر کیا ہے ، وہ بھی پیغمبر اکرم کو خطاب کرتے ہوئے جو نہ تو اس زمانہ میں موجود تھے اور نہ ہی اسے دیکھا تھا، جو اس ماجرے کے مسلم ہونے کی ایک اور نشانی ہے ۔ ان سب باتوں سے قطع نظر جب پیغمبر اکرام نے مشر کین مکہ کے سامنے ان آیات کی تلاوت کی تو کسی نے اس کا انکار نہ کیا ۔ اگر یہ مطلب مشکوک ہوتا تو کم از کم کوئی تو اعتراض کرتا اور ان کا اعتراض ان کے باقی اعتراضوں کی طرح ہی تاریخ میں ثبت ہو جاتاخصوصاً جب کہ قرآن نے جملہ ” الم تر“ کے ساتھ اس مطلب کو ادا کیا تھا۔ خدا وندا ! ہمیں توفیق مرحمت فرما کہ ہم اس توحید کے عظیم مرکز کی پاسداری کریں ۔ پر وردگارا ! ان لوگوں کے ہاتھ ، جو اس مقدس مرکز کی ظاہری حفاظت پرقناعت کرنا چاہتے ہیں ، لیکن اس کی حقیقت کے پیام کو نظر انداز کرتے ہیں ، اس مرکز سے کاٹ دے ۔ بار الٰہا ! تمام اشتیاق رکھنے والوں کو مکمل آگاہی و عرفان کے ساتھ اس کی زیارت نصیب فرما۔ آمین یا رب العالیمن