الْقَارِعَةُ
The Catastrophe!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 101:1
[Pooya/Ali Commentary 101:1] The dawn of the day of resurrection and judgement has been described in al Ghashiyah and al Zilzal. A tremendous stunning noise will be heard before the day of judgement. The whole of the present order of existence will be overthrown. All our present landmarks will be lost. It will inaugurate a new existence of true and permanent values, in which every human deed will have its just recompense as if weighed in balance, as stated in verses 6 to 9 below. No one can have the idea of the confusion, distress and helplessness with which men will find themselves overwhelmed on the day of judgement, because nothing even near to the terrible convulsion has ever been experienced by man on the earth. Moths are frail light things. To see them scattered about in a violent storm gives some idea of the nature of calamity men will encounter on the day of judgement when the mountains will scatter about like flakes of carded wool. See Ma-arij :9.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 101:1-11
Enough. Deeds relate to faith, character, and acrs judged, i.e. weighted in a scalepan, i.e. by Divine Light of his time.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 101:1-11
چھبنے والا حادثہ
ان آیات میں ، جو قیامت کا تعارف کراتی ہیں ، پہلے ارشاد ہوتا ہے : ” وہ چبھنے والا حادثہ“ ( القارعة)۔ اور وہ کیسا چبھنے والا حادثہ ہے “۔ ( ما القارعة)۔ ” اور تو کیا جانے کہ وہ چبھنے والا حادثہ کیاہے ؟ ( وما ادراک ما القاعة)۔ ” قارعة“ ” قرع“ ( بروزن فرع) کے مادہ سے ، کسی چیز کو کسی دوسری چیز پر اس طرح رگڑ نے کے معنی میں سے کہ اس سے سخت آواز پیدا ہو، تازیانہ اور ہتھوڑے کو بھی اسی مناسبت سے ” مقرعہ“ کہتے ہیں ، بلکہ ہر اہم سخت حادثہ کو ” قارعة“ کہا جاتا ہے ۔ ( یہاں تاء تانیث کا تاء ممکن ہے تاکید کی طرف اشارہ ہو۔ ان تعبیروں سے جو دوسری اور تیسری آیات میں آئی ہیں ، جن میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک سے یہ فرمایا ہے کہ تو کیا جانے یہ سخت اور سر کوبی کرنے والا حادثہ کیا ہے : واضح ہو جاتا ہے کہ یہ چبھنے والا حادثہ اس قدر عظیم ہے کہ اس کے ابعاد اور مختلف جہات ہر شخص کے ذہن میں نہیں آسکتے ۔ بہر حال بہت سے مفسرین نے کہا ہے کہ ” قارعة“ قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، لیکن انہوں نے ٹھیک طور سے یہ واضح نہیں کیا کہ کیا یہ تعبیر قیامت کے مقدمات کی طرف اشارہ ہے جس میں عالم ِ دنیا درہم بر ہم ہو جائے گا، آفتاب و ماہتاب تاریک ہو جائیں گے، سمندروں میں آگ لگ جائے گی ، اگر اس طرح ہو تو پھر اس حادثہ کے لیے ” قارعة“ کے نام کے انتخاب کی وجہ واضح ہے ۔ دوم اس سے دوسرا مرحلہ مراد ہو، یعنی مردوں کے زندہ ہونے اور عالم ہستی میں ایک نئی طرح ڈالنے کا مرحلہ ، اور ٹکرانے اور چھبنے کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ اس دن وحشت وخوف اور ڈردلوں سے ٹکرائیں گے ان کی سر کوبی کریں گے۔ وہ آیات جو اس کے بعد آئیں ہیں ، ان میں سے بعض تو جہان کے خراب و برباد ہونے کے حادثہ سے مناسبت رکھتی ہیں اور بعض مردوں کے زندہ ہونے کے ساتھ ، لیکن مجموعی طور سے یہ پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے ، اگر چہ ان آیات میں دونوں حادثے یکے بعد دیگرے ذکر ہوئے ہیں ( قرآن کی اور بہت سی دوسری آیات کے مانند جو قیامت کی خبر دیتی ہیں )۔ اس کے بعد اس عجیب و غریب دن کے تعار ف میں کہتا ہے :” وہی دن جس میں لو گ پراگندہ، حیران و پریشان ، پروانوں کی طرح ہر طرف جائیں گے “۔ ( یوم یکون الناس کالفراش المبثوث)۔ ” فراش“ ” فراشة“کی جمع ہے ، بہت سے اسے” پروانہ“ کے معنی میں سمجھتے ہیں ، بعض نے اس کی ” ٹڈی دل“ کے معنی میں تفسیر کی ہے ، او رظاہراً یہ معنی سورہٴ قمر کی آیہ ۷ سے لیا ہے جو لوگوں کو اس دن پراگندہ ٹڈی دل سے تشبیہ دیتی ہے ،( کانھم جراد منتشر) ورنہ اس کے لغوی معنی ” پروانہ“ ہی ہیں ۔ بہر حال ” پروانہ“ کے ساتھ تشبیہ اس لیے ہے کہ پروانے اپنے آ پ کو دیوانہ وار آگ پر پھینک دیتے ہیں ۔ بد کار لوگ بھی اپنے آپ کو جہنم کی آگ میں ڈالیں گے ۔ یہ احتمال بھی ہے کہ پروانہ کے ساتھ تشبیہ ایک خاص قسم کی حیرت و سر گردانی کی طرف اشارہ ہے ، جو اس دن تمام انسانوں پر غالب ہوگی۔ اور اگر” فراش“ ٹڈی دل کے معنی میں ہوتو پھر مذکورہ تشبیہ اس لیے ہے کہ کہتے ہیں بہت سے پرندے اڑتے وقت ایک معین راستہ میں اکھٹے پرواز کرتے ہیں ، سوائے ٹڈی دل کے ، جو گروہ کی صورت میں اڑتے ہوئے بھی کوئی مشخص راستہ نہیں رکھتے، بلکہ ان میں سے ہر ایک کسی دوسری ہی طرف اڑرہا ہوتا ہے ۔ پھر یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ یہ حیرت و پراگندگی و سر گردانی اور وحشت و اضطراب جہاں کے خاتمہ کے ہولناک حوادث کی وجہ سے ہو گا ، یا قیامت اور حشر و نشر کے آغاز کی وجہ سے ۔ اس سوال کا جواب ہمارے اسی بیان سے جو ہم نے اوپر بیان کیا ہے واضح ہوجاتا ہے ۔ اس کے بعد اس دن کی ایک خصوصیت کو بیان کرتے ہوئے مزید کہتا ہے:” اور پہاڑ دھنکی ہوئی رنگین اون کے مانند ہو جائیں گے“۔ ( تکون الجبال کالعھن المنفوش)۔ ” عھن“ (بر وزن ذہن ) رنگی ہوئی اون کے معنی میں ہے ۔ اور ” منفوش“ ” نفش “ ( بر وزن نقش) کے مادہ سے اون کو پھیلانے کے معنی میں ہے جو عام طور پردھنکنے کے مخصوص آلات کے ذریعے اون کو دھنکنے سے انجام پاتی ہے ۔ ہم پہلے بیان کرچکے ہیں کہ قرآن کی مختلف آیات کے مطابق قربِ قیامت میں پہاڑ پہلے تو چلنے لگیں گے ، پھر ایک دوسرے کے ساتھ ٹکراکر ریزہ ریزہ ہو جائیں گے اور انجام کار غبار کی صورت میں فضا میں اڑنے لگیں گے ۔ زیر بحث آیت میں ان کو رنگین اور دھنکی ہوئی اون سے تشبیہ دی گئی ہے ، ایسی اون جو تیز آندھی کے ساتھ چلے اور ا س کا مصرف رنگ ہی رنگ نمایاں ہو، اور یہ پہاڑوں کے ریزہ ریزہ ہو کر بکھر نے کا آخری مرحلہ ہو گا۔ ممکن ہے یہ تعبیر پہاڑوں کے مختلف رنگوں کی طرف اشارہ ہو کیونکہ روئے زمین کے پہاڑوں میں سے ہر ایک خاص رنگ رکھتا ہے ۔ بہر حال یہ جملہ اس بات کی گواہی دیتا ہے کہ اوپر والی آیات قیامت کے پہلے مرحلوں ، یعنی اس جہان کی ویرانی اور اختتام مرحلہ کی ہی بات کرتی ہیں ۔ اس کے بعد حشر ونشر، مردوں کے زندہ ہونے اور ان کی دو گرہوں میں تقسیم کو بیان کرتے ہوئے فرماتا ہے : ” پس جس شخص کا ترازوئے عمل وزنی ہوگا “ ( فاما من ثقلت موازینہ)۔ ” وہ ایک عمدہ او رپسندیدہ زندگی میں ہو گا“۔ ( فھو فی عشیة راضیة)۔ ” لیکن جس شخص کا ترازوئے اعمال ہلکا ہو گ ( و امامَم خفت موازینہ)۔ ” تو اس کی پناہ گاہ جہنم ہے “۔ ( فامہ ہاویة)۔ اور تو کیا جانے ھاویہ ( دوزخ ) کیا ہے ؟ ( وما ادراک ماھیہ) ۔ ۱ ”ایک جلانے والی آگ ہے “ ( نار ھامیة)۔ ”موازین“میزان کی جمع ہے جو تولنے کے ایک آلہ کے معنی میں ہے ۔ یہ لفظ پہلے تو مادی وزنوں میں استعمال ہوتا رہاہے ، اس کے بعد معنوی موازین اور مقاسیس کے لیے بھی استعمال ہو نے لگا۔ بعض کا نظر یہ ہے کہ اس دن انسان کے اعمال جسمانی اور قابل ِ وزن موجودات کی صورت اختیار کرلیں گے اور واقعی طور پر انہیں اعمال کے تولنے والے ترازووٴں کے ساتھ تولیں گے۔ یہ احتمال بھی دیا گیا ہے کہ خود نامہ اعمال کا وزن کیا جائے گا۔ اگر اس میں کچھ اعمال صالح لکھے ہوئے ہیں تو وہ سنگین او ربھاری ہوگا ورنہ ہلکا بے وزن ہوگا۔ لیکن ظاہراً ان توجیہات کی ضرورت نہیں ہے ۔ میزان یقینی طور پر ترازوں کے معنی میں نہیں ہے ، جس میں مخصوص قسم کے پلڑے ہوتے ہیں ، بلکہ اس کا ہر قسم کے تولنے کے وسیلہ اور ذریعہ پر اطلاق ہوتا ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں آیا ہے ۔ ” ان امیر المومنین و الاٴئمہ من ذریتہ(ع) ھم الموازین “۔ ” امیر المومنین اور وہ ائمہ جو آ پ کی ذریت میں ہیں ، وہی تولنے کے ترازوہیں “۔ 2 اس طرح اولیاءء خدا یا قوانینِ عدل الٰہی ہی وہ ترازو ہیں جن کے سامنے انسانوں اور ان کے اعمال کو پیش کیاجاتا ہے اور جس قدر وہ اس کے ساتھ مشابہت اور مطابقت رکھتے ہیں وہی ان کا وزن ہے ۔ یہ بات واضح ہے کہ میزان کے ” ہلکا“ اور ” بھاری“ ہونے سے مراد خود تولنے کے ترازووٴں کی سنگینی و سبکی نہیں ہے ، بلکہ ان چیزوں کا وزن ہے جن کو ان سے تولتے ہیں ۔ ضمنی طورپر” موازین“کی تعبیر جمع کی صورت میں اس بناء پر آئی ہے کہ اولیائے حق اور قوانینِ الٰہی میں سے ہرایک علیٰحدہ علیٰحدہ تولنے کی ایک میزان ہے ۔ اس سے قطع نظر انسان کی صفات اور اعمال کا تنوع اس بات کا تقاضا کرتا ہے کہ ہر ایک کو ایک ترازو سے تولا جائے ، او ر تولنے کے نمونے اور ترازو مختلف ہوں ۔ ”راغب“ ”مفردات “ میںکہتاہے : ” قرآن مجید میں میزان کبھی تو مفرد کی صورت میں آیا ہے اور کبھی جمع کی صورت میں ، پہلی صورت میں اس کے لیے آیاہے جو حساب کرتا ہے یعنی خدائے یکتا، اور دوسری صورت میں ان کے لیے ہے جن کا حساب ہوگا۔ بعض مفسرین نے یہ بھی کہا ہے کہ موازین ” موزون“ کی جمع ہے ، یعنی وہ عمل جس کا وزن کرتے ہیں ۔ اس بناء پر موازین کا ہلکا یابھاری ہونا خود اعمال کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں ہے ، نہ کہ تراز ووٴں کے ہلکا اور بھاری ہونے کے معنی میں ۔ 3 ” عیشة راضیة“ ( خوش وخرم زندگی) کی تعبیر بہت ہی عمدہ اور بلیغ تعبیر ہے ، جو قیامت ،میں اہل بہشت کی پر نعمت اور سراسر سکون و آرام کی زندگی کے لئے بیان ہوئی ہے یہ زندگی اتنی پسندیدہ اور رضایت بخش ہے گویا کہ وہ خود ہی راضی ہیں ، یعنی بجائے اس کے کہ ” مرضیة“ کہا جائے، زیادہ تاکید کے لیے” اسم مفعول“ کی بجائے ” اسم فاعل“ استعمال ہوا ہے ۔ 4 اور یہ عظیم امتیاز آخرت کی زندگی کے ساتھ ہی مخصوص ہے، کیونکہ دنیا کی زندگی چاہے جتنی بھی مرفہ، پر نعمت، امن و امان اور رضایت و خوشنودی کے ساتھ ہو، پھر بھی ناخوشی اور ناپسندید گی کے عوامل سے خالی نہیں ہوتی ۔ یہ صرف آخرت ہی کی زندگی ہے جو سراسر رضایت و خوشنودی، آرام اور امنیت و دل جمعی کا سبب ہے ۔ ”فامہ ھاویہ“کے جملہ میں ”ام “ کی تعبیر اس بناء پر ہے کہ ”ام “ ماں کے معنی میں ہے ، اور ہم جانتے ہیں کہ ماں اولاد کے لیے ایک ایسی پناہ گاہ ہے جس کی طرف مشکلات میں پناہ لیتے ہیں اور اس کے پاس رہتے ہیں ، اور یہاں اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ یہ ہلکے وزن والے، گنہگار، دوزخ کے علاوہ اور کوئی جگہ پناہ لینے کے لیے نہ پائیںگے ، اس شخص کے حال پر وائے ہے جس کی پناہ گاہ دوزخ ہوگی۔ بعض نے یہ بھی کہاہے کہ یہاں ”ام “ کامعنی”مغز“ ( دماغ) ہے کیونکہ عرب سر کے مغز کو ” ام الراٴس“ کہتے ہیں ، تو اس بناء پر آیت کا معنی یہ ہوگا کہ انہیں سر کے بل جہنم میں پھینکیں گے، لیکن یہ احتمال بعید نظرآتاہے کیونکہ اس صورت میں بعد والی آیت ” وما ادراک ماھیہ“( تو کیا جانے کہ وہ کیا چیزہے ) کا مفہوم درست نہیں رہے گا۔ ” ھاویة“ ” ھوی“ کے مادہ سے گر نے اور سقوط کرنے کے معنی میں ہے ، اور وہ ”دوزخ“کے ناموں میں سے ایک نام ہے ، کیونکہ گنہگار اس میں گریں گے اور یہ جہنم کی آگ کے عمق اور گہرائی کی طرف بھی اشارہ ہے ۔ اور اگر ہم ”ام “ کو یہاں ” مغز“ کے معنی میں لیں ، تو ” ھاویة“ کا معنی گر نے والی ہوگا، لیکن پہلی تفسیر زیادہ صحیح اور مناسب نظر آتی ہے ۔ ” حامیة“ ”حمی“ ( بروزن نفی)کے مادہ سے شدتِ حرارت کے معنی میں ہے ، اور ” حامیة“ یہاں جہنم کی آگ کی حد سے زیادہ حرارت او رجلانے کی طرف اشارہ ہے ۔ بہر حال یہ جملہ جو یہ کہتا ہے تو کیاجانے کہ ” ھاویة“ کیاہے ” ھاویة“ جلانے والی آگ ہے“۔ اس معنی پر ایک تاکید ہے کہ قیامت کا عذاب اور جہنم کی آگ تمام انسانوں کے تصور سے بالاتر ہے ۔ 1- ماہیہ“ اصل میں ” ماھی“ تھا ” ھاء سکت“ کا اس سے الحاق ہوا۔ 2۔ ” ایک حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ جب لوگوں نے آپ سے میزان کے معنی کے بارے میں سوال کیا تو آپ نے جواب میں فرمایا: المیزان العدل “ ” تولنے کی ترازو وہی عدل ہے “۔ 3۔اس معنی کو ” زمخشری“ نے ” کشاف“ میں اور ” فخر رازی“ نے تفسیر کبیر “ میں اور ” ابو الفتوح رازی“ نے اپنی تفسیر میں ” موازین“ کے معنی میں دو احتمالوں میں سے ایک احتمال کے عنوان سے ذکر کیا ہے ۔ البتہ دونوں کا نتیجہ ایک ہے ، لیکن دو مختلف راستوںسے۔ اس سلسلہ میں ہم نے سورہ اعراف کی آیہ ۸۔ ۹ کے ذیل میں ( جلد ۴ ص ۴۲) پر ، اور اسی طرح سورہ کہف کی آیہ ۱۰۵ کے ذیل میں ( جلد۷ ص۷۲۷) پر اور سورہٴ مومنون کی آیہ ۱۰۲ کے ذیل میں ( جلد۸ ) پر زیادہ تفصیل سے بیان کیا ہے 4 بعض نے ”راضیة“ کو ” ذات رضا“ کے معنی میں بھی سمجھا ہے ، یا تقدیر میں کچھ فرض کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ اس سے مراد اس زندگی والوں کی رضایت ہے ، لیکن تین تفاسیر میں سے وہی تفسیر اوپر بیان ہوئی ہے جو سب سے زیادہ مناسب ہے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 101:1-11
میزان اعمال کی سنگینی کے اسباب
اس میں شک نہیں کہ تمام نیک اور صالح اعمال کی قدر و قیمت یکساں نہیں ہے اور یہ آپس میں بہت زیادہ فرق رکھتے ہیں، اور اسی وجہ سے مختلف اسلامی روایات میں کچھ اعمال ِ خیر پر بہت زیادہ زور دیا گیا ہے اور ان کو ہی قیامت میں میزان عمل کے بھاری ہونے کے اسباب شمار کیا گیا ہے ۔ منجملہ ایک حدیث میں پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیا ہے کہ آپ نے لاالہ الا اللہ کی تفسیر میں فرمایا: ”یعنی بواحدانیتہ لایقبل الاعمال الابھا، وھی کلمة التقویٰ یثقل اللہ بھا الموازین یوم القیامة: ” لاالہ الا اللہ “خد اکی وحدانیت کی طرف اشارہ ہے اور کوئی عمل اس کے بغیر قبول نہیں ہوگا یہ کلمہٴ تقویٰ ہے جو عمل تولنے والے ترازوںکو قیامت میں سنگین اور وزنی بنائے گا“۔ ۱ ایک اور حدیث میں امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام سے خدا کی وحدانیت اور پیغمبر اکرم کی نبوت کی شہادت کے بارے میں آیا ہے : ” خف میزان تر فعان منہ و ثقل میزان توضعان فیہ“ ” تولنے کا وہ ترازو جس سے شہادتین کو اٹھالیا جائے وہ ہلکا ہوجائے گا ، اور وہ ترازو جس میں شہادتین کو رکھ دیا جائے و ہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا“۔ ۲ اور ایک اور دوسری حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام اور امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے : ” مافی المیزان شیء اثقل من الصلواة علیٰ محمد و آل محمد“ ” میزان عمل میں کوئی چیز محمد و آلِ محمد پر درود بھیجنے سے زیادہ سنگین نہیں ہے “۔ اور روایت کے ذیل میں آیا ہے کہ قیامت میں کچھ لوگ میزان عمل کے نیچے کھڑے ہوں گے جن کے اعمال کا پلڑا ہلکا ہوگا، پھر محمد و آلِ محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم پردرود کو اس میں رکھ دیں گے تو وہ سنگین اور وزنی ہو جائے گا۔ 3 قابل توجہ بات یہ ہے کہ ایک حدیث میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیا ہے : ” من کان ظاہرہ ارجع من باطنہ خف میزانہ“ جس شخص کا ظاہر اس کے باطن سے بہتر ہوگا قیامت میںاس کا میزان عمل ہلکا رہے گا“۔ 4 ہم اس بحث کو سلمان فارسی ۻکی ایک گفتگو پر ختم کرتے ہیں جو حقیقت میںوحی اور سنت کا خلاصہ ہے ۔ اس حدیث میں آیاہے ”کسی شخص نے تحقیر کے طور پر سلمان فاسی ۻ سے کہا : تو کون ہے اور تیری کچھ بھی قدر و قیمت نہیں ہے سلمان ۻ نے جواب میں کہا ہے : ” امام اولی و اولک فنطفة قذرة و اما اٰخری و اٰخرک فجیفة منتینة فاذا کان یوم القیامة،و نصبت الموازین فمن ثقلت موازینہ فھو الکریم و من خفت موازینہ فھو اللئیم“: ” لیکن !میرے اور تیرے وجود کاآغاز تو ایک گندے نطفہ سے ہوا ہے اور میرے اور تیرے وجود کا اختتام ایک بد بو دار مردارہے ، اور جب قیامت کا دن ہوگا اور اعمال کے تولنے کے لیے ترازو نصب کیے جائیں گے تو جس شخص کے عمل کا ترازوسنگین اور بھاری ہوگا وہ شریف و بزرگوارہے ، اور جس کے عمل کا ترازو سبک اور ہلکا ہوگا وہ پست و ذلیل اور کمینہ ہوگا۔5 خدا وندا ! ہمارے ترازو کو محمد صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی محبت کے ذریعے سنگین اور وزنی کردے۔ پروردگارا !” عیشة راضیة“ کا حصول تیرے لطف و کرم کے بغیر آسان نہیں ہے ۔ پس تو خود ہی اس راہ میں ہماری مدد فرما! بار الہٰا تیری دوزخ کی آگ بہت ہی سخت جلانے والی ہے اور ہم میں اس کو بر داشت کرنے کی طاقت نہیں ہے ۔ اسے اپنے رحم و کرم کے پانی سے ہمارے لیے خاموش کردے۔ آمین یا رب العالمین ۔ ۱۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۱۲، ۸۔ ۲۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۱۲، ۸۔ 3۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۵۹ حدیث ۷۔ 4۔ ” نور الثقلین “ ج۵ ص ۶۶۰ حدیث۱۳۔ 5۔ ” نور الثقلین “ جلد ۵ ص ۶۶ حدیث ۱۴۔