لَهُمُ ٱلۡبُشۡرَىٰ فِي ٱلۡحَيَوٰةِ ٱلدُّنۡيَا وَفِي ٱلۡأٓخِرَةِۚ لَا تَبۡدِيلَ لِكَلِمَٰتِ ٱللَّهِۚ ذَٰلِكَ هُوَ ٱلۡفَوۡزُ ٱلۡعَظِيمُ
For them is good news in the life of this world and in the Hereafter. (There is no altering the words of Allah.) That is the great success.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 10:61-70
The Prophet is describing attributes of Friends of God, of moderate grades remarked: It is 1. He, who recognized God by His Attributes, 2. He, who entertained Divine awe and glory for Him, 3. He, who controlled his tongue from wasteful speech, 4. He, who controlled his stomach from excess of food, 5. He, who forces self to punctual prayers and fast for higher grades. Those of higher grades are distinguished as under: 1. Their silence is a part of Divine remembrance. 2. Their look is with a sight of taking lessons. 3. Their talk is philosophy exposed. 4. Their walk means rendering public service. 5. If death was not for them a fixed period, their soul out of Divine awe would have abdicated their body. Worldly tidings for them are blessed dreams, going to pilgrimage, visiting Divine Lights in paradise, honoured by having a talk with them etc. eternal tidings being given to them at death bed, angel of death pointing to them, their final destination. Divine Lights having come to them to welcome. 3/67: Object of night being to afford rest and day to earn livelihood is a display of highest Divine Wisdom to human welfare. Worldly cares are lightened by nightly rest, besides giving room to amass Eternal gains, offered immediately after death, whereas, a worldly state, imposes death duties depriving him and his inheritors of labour of his fruits. There is no security council mightier than Divine offered by Islam, wherein peace of mind and guarantee of refund of premium with profits, so richly promised. 3/68: To impute creational attributes to God as having a son when He declares Himself to you as Self-sufficient and Indispensable to His creations, is gross miscarriage of justice and unpardonable crime.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:62-65
روحانی سکون ایمان کے زیر سائی ہے
گزشتہ آیات میں مشرکین اور بے ایمان افراد کے حالات کا کچھ حصہ پیش کیا گیا تھا ۔ ان آیات میں ان کے مد مقابل مخلص، مجاہد اور پرہیز گار مومنین کی کیفیت بیان ہوئی ہے تاکہ موازنہ ہو سکے ۔ جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ وہ نور کو ظلمت سے اور سعادت کو بد بختی سے میّز کر تا ہے ۔ پہلی آیت میں ارشاد ہوتا ہے : آگاہ رہو کہ اولیاء ِ خدا پر نہ کوئی خوف ہے اور نہ انھیں کوئی حزن و غم ہے (اٴَلاَإِنَّ اٴَوْلِیَاءَ اللهِ لاَخَوْفٌ عَلَیْھِمْ وَلاَھُمْ یَحْزَنُونَ) ۔ اس بات کو پوری طرح سمجھنے کے لئے اولیاء کا معنی خوب معلوم ہونا چاہئیے ” اولیاء “ ”ولی “ کی جمع ہے یہ اصل میں ”ولی یلی “ کے مادہ سے لیا گیا ہے جو دو چیزوں کے نزدیک واسطہ نہ ہونے اور ان کے ایک دوسرے کے نزدیک پے در پے ہونے کے معنی میں ہیں لہٰذا ہر اس چیز کو جو دوسری سے مکان ، زمان ، نسب یا مقام کے لحاظ سے قرابت رکھتی ہے ” کہا جا تا ہے ۔ اس لفظ کا ” سر پرست “ اور ”دوست“ وغیرہ کے لئے استعمال بھی اسی بناء پر ہے اس لئے اولیاء وہ ہیں جن کے اور خدا کے درمیان کوئی فاصلہ نہ ہو ۔ اولیاء ِ خد ا معرفت اور ایمان کے نور سے اور اپنے پاک عمل کی بناء پر خد اکو دل کی آنکھ سے اس طرح دیکھتے ہیں کہ ان کے دل میں کسی قسم کا کوئی شک اور ترد پیدا نہیں ہوتا اور خدا کہ جو بے انتہا ہے جس کی قدرت بے پایاں ہے او رجو کما ل ِ مطلق ہے ، سے اسی آشنائی کے سبب جو کچھ خدا کے علاوہ ہے ، ان کی نگاہ میںحقیر ، بے وقعت ، ناپائیدار اوربے مقدار ہے ۔ جو شخص سمندر سے آشنا ہے قطرہ اس کی نگاہ میں کوئی قیمت نہیں رکھتی اور جوآفتاب کو دیکھتا ہے وہ ایک سمع بے فورح سے بے اعتناء ہے ۔ اس سے واضح ہو جاتا ہے کہ انھیں کیوں خوف و اندوہ نہیں ہے کیونکہ خوف عام طور پر میسر نعمتوں کے فقدان کے احتمال پر ہوتا ہے یا ان خطرات سے ہو سکتا ہے جبکہ خدا کے اولیاء اور سچے دوست مادی دنیا کی ہر قسم کی وابستگی اور عقد سے آزاد ہیں اور ” زہد “ اپنے حقیقی مفہوم میں ان کے وجود پر حکومت کرتا ہے وہ نہ مادی وسائل کے چھن جانے پر واویلا کرتے ہیں اور نہ آئندہ کے لئے ایسے مسائل کا احتمال ان کے اذہان کو اپنی طرف مشغول رکھتا ہے : ان کے وجود میں اس کی کوئی گنجائش نہیں ہے ۔ کسی چھوٹے سے برتن کا پانی انسان کی ایک پھونک ہی سے متلاطم ہو جاتا ہے لیکن ایک وسیع سمندر کے لئے طوفان بھی کم اثر ہوتے ہیں ۔ اسی لئے سمندر کو سکون کہاجاتا ہے ۔ لکی لا تاٴسوا علی مافاتکم ولا تفرحوا بما اٰتاکم ۔ تاکہ نہ افسوس کرو تم اس چیز کا جو تم سے چھن جائے اور نہ خوش ہو تم اس چیز سے جو تم کو دی جائے ۔ (حدید۔۲۳) نہ وہ دن کہ جب دنیا ان کے پاس تھی انھوں نے اس سے دل لگا یا اور نہ آج جبکہ اس سے جدا ہورہے ہیں انھیں اس کا غم ہے ۔ ان کی روح بزرگ تر ہے اور ان کی روح سے بالا تر ہے کہ ایسے حوادث ان کے گزشتہ اور آئندہ پر اثر انداز ہوں گے ۔ اس طرح سے حقیقی امن و سکون ان کے وجود رپر حکم فرما ہے ۔ قرآن کے مطابق : اولٰئک لھم الامن انہیں لوگوں کے لئے امن اور سلامتی ہے ۔( انعام ۔ ۸۲) ۔ یا دوسرے لفظوں میں : الا بذکراللہ تطمئن القلوب۔ خدا کی یاد ان کے دلوں کے سکون کاباعث ہے ۔ ( رعد ۔ ۲۸) خلاصہ یہ کہ عموماً غم اور خوف انسانوں میں دنیا پرستی کی روح کی وجہ سے پیدا ہوتا ہے ۔ جو لوگ اسی روح سے تہی داماں ہیں اگر انھیں کوئی غم اور خوف نہ ہو تو یہ بہت فطری اور طبعی بات ہے یہ اس مسئلہ کا استدلالی بیان ہے ۔ کبھی اس مسئلے کو عرفانی صورت میں یوں بیان کیا جاتا ہے : اولیاء اللہ اس طرح صفات جلال و جمال میں مستغرق ہیں اور کی ذات پاک کے مشاہدہ میں محو ہوتے ہیں اور اس کے غیر کو بھول جاتے ہیں کہ کسی چیز کے لئے کھو جانے کے غم میں اور کسی خطرناک دشمن کے خوف کی ان کے دل میں کوئی گنجائش نہیں رہتی ۔ جس کے دل میں خدا کے سوا کسی کے لئے کوئی گنجائش نہ ہو اور جو اس کے غیر کی فکر نہ کرے اور اس کی روح اس کے علاوہ کسی کو قبول نہ کرے تو کیسے ممکن ہے کہ وہ کسی غم و اندوہ یا خوف و وحشت سے دو چار ہو۔ جو کچھ ہم نے کہ اہے اس سے یہ حقیقت آشکار ہوجاتی ہے کہ اس سے مراد مادی نج و غم اور دنیاوی خوف و ہراس ہے ۔ ورنہ اللہ کے دوستوں کا وجود اس کے خوف سے مالا مال ہوتا ہے ۔ فرائض اور ذمہ دار یوں کے انجام نہ دینے کا خوف اور ان مواقع کا دکھ کہ جو ان سے جائع ہو گئے ۔ یہ حزن و ملال روحانی پہلو اور وجود انسان کے تکامل اور ترقی کا باعث ہے جبکہ اس کے بر عکس مادی خوف اور غم انحطاط اور تنزل کا سبب ہیں ۔ امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام اپنے مشہور خطبہ ہمام میں اولیا ء اللہ کے حالات کی نہایت خوبصورت تصویر کشی کرتے ہوئے فرماتے ہیں : قلوبھم مخزونة و شرورھم مامونة ۔ ان کے دل مخزونو غمزہ ہیں اور لوگ ان کے شر سے امان میں ہیں ۔ آپ(ع) مزید فرماتے ہیں : ولو لا الاجل الذی کتب اللہ علیھم لم تستقرارواحھم فی اجسادھم طرفة عین شوقاً الیٰ الثواب وخوفاً من العقاب۔ اگر وہ اجل جو خدا نے ان کے لءء مقرر کی ہے نہ ہوتی تو ثوابِ الہٰ ی کے شوق میں اور عذاب الہٰی کے خوف سے ان کے جسموں میں ان کی روح چشم زدن کی دیر بھی ٹھہرتی ۔ ( نہج البلاغہ ، خطبہ ۱۹۳(صبحی صالح )،) ۔ قرآن مجید بھی مو منین کے بارے میںکہتا ہے : الذین یخشون ربھم بالغیب وھم من الساعة مشفقون۔ وہ لوگ جو پر وردگار سے اس کے غضب کو نہ دیکھنے کے باجود ڈرتے ہیں ۔( انبیاء ۔ ۴۹) اس بناء پر ان کا خوف و ہراس دوسری قسم کا ہے ۔ ۲ ۲ اس وقت جب کہ ہم یہ آیات لکھ رہے ہیں اللہ کے ایک سچے ولی کی شہادت کی خبر پہنچی ہے یعنی فلسفی ، عالم ، مجاہد ِ عظیم آقائے مرتضی مطہری کی خبر شہادت ۔ اس شہادت نے ہمارے لئے یہ حقیقت ایک مرتبہ ثابت کردی ہے کہ عظیم اسلامی انقلاب کی حفاظت کے لئے جسے ہم نے دورِ حاضر میں اس ملک میں شروع کررکھا ہے اور جس میں قوم کے تمام طبقے شریک ہیں ، ابھی ہمیں بہت سا خون اور بہت سی قربانیاں دینی ہوں گی ۔ لیکن اب کے دشمنوں نے ہم سے ایک ایسے جواں مرد کو چھینا ہے جس کی ساری عمر علم و دانش کی خدمت میں صرف ہوئی تھی اور ا سکے گراں بہا آثار علمی اس دعویٰ پر شاہد ناطق ہیں ۔ وہ مخلص مجاہد اور آزاد مومن تھے ۔ وہ بھی انہی افراد میںسے تھے کہ جن کے بارے میں قرآن کہتا ہے کہ :۔ ” نہ انھیں خوف ہے او رنہ غم و حزن“ کیونکہ اس شہید نے اپنے پیغام اور ذمہ داری کو عمدہ طریقے سے انجام دیا اور اپنے پیغام اور ذمہ داری کی راہ میں شہید ہو گیا ۔ ( ۱۲ اردی بہشت ۱۳۵۸ ہجری شمسی ) یہ کہ اولیاء خدا سے مراد کون سے افراد ہیں ، اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے لیکن دوسری آیت اس مطلب کو واضح کرتی ہے اور بحث کردیتی ہے ار شاد ہوتا ہے : وہ ایسے لوگ ہیں جو ایمان لائے اور ہمیشہ تقویٰ اور پر ہیز گاری کو اختیا ر کئے رکھا ( الَّذِینَ آمَنُوا وَکَانُوا یَتَّقُونَ) ۔ یہ امر جاذب توجہ ہے کہ ایمان کا ذکر ما ضی مطلق کی صورت میں ہے اور تقویٰ کا ذکر ماضی استمراری کی شکل میں ہے ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ ان کا ایمان حد کامل کو پہنچ گیا ہے لیکن تقویٰ جوکہ روزمرہ کے عمل میں منعکس ہوتا ہے ، ہر گھڑی نئے کام کا مطالبہ کرتا ہے اور تدریجی پہلو رکھتا ہے یہ ان کے لئے ایک دائمی ذمہ دای کی صورت میں ہے ۔ جی ہاں یہ وہ لوگ ہیں جو دین اور شخصیت کے ان دو بنیادی ار کان کے حامل ہیں اور اس کی وجہ سے اپنے اندر ایک ایسا سکو ن محسوس کرتے ہیں کہ جسے زندگی کا کوئی طوفان مضطرب نہیں کرسکتا بلکہ : الموٴمن الحبل الراسخ لاتحرکہ العواصف ۔ مومن مضبوط پہاڑ کی طرح ہے جسے تیز آندھیاں ہلا نہیں سکتیں ۔ یعنی وہ پہاڑ کی طرح حوادث کی تند ہوا کے سامنے استقامت اور پا مردی کا مظاہرہ کرتا ہے ۔ تیسری آیت میں اولیاء ِ حق کے وجود میں خوف و غم اور وحشت و اضطراب کے نہ ہونے کی تاکید یوں کی گئی ہے : ان کے لئے دنیاوی زندگی میں اور آخرت میں بشارت، خوشحالی اور سرور نصیب ہو گا ( توجہ رہے کہ البشریٰ میں الف لام جنس کے حوالے سے مطلق ذکر ہوا ہے اور اس میں طرح طرح کی بشارتوں کا مفہوم موجود ہے ) ۔ دوبارہ تاکید کے لئے فرمایا گیا ہے : پر وردگار کی باتوں اور خڈائی وعدوں میں تغیر نہیں ہوتا اور خدا اپنے دوستوں کے بار ے میں اپنا وعدہ پورا کرے گا (لا تبدیل کلمات اللہ )، اور یہ جسے نصیب ہوا اس کے لئے عظیم کامیابی اور سعادت ہے (ذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ) ۔ آخری آیت میں روئے سخن پیغمبر اکرم کی طرف ہے جو اولیاء اللہ اور دوستان خدا کے سردار ہیں ۔ ان کی دلجوئی کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : غافل اور جاہل مخالفین اور مشرکین کی غیر موزوں باتیں تجھے غمگین نہ کریں ( وَلاَیَحْزُنْکَ قَوْلھُم جمیعاً) ۔کیونکہ تمام عزت و قدرت خدا کے لئے ہے اورخدا کے ارادہٴ حق کے سامنے دشمن کچھ نہیں کرسکتے ( إِنَّ الْعِزَّةَ لِلَّہِ ) ۔ خدا ان کی سب سازشوں سے باخبر ہے ۔ ان کی باتوں کو سنتا ہے اور ان کے اندر ونی اسرار و رموز سے آگاہ ہے ( ھُوَ السَّمِیعُ الْعَلِیمُ) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 10:62-65
دو اہم نکات
۱۔ ”بشارت سے کیا مراد ہے ؟ مندرجہ بالا آیات میں خدانے اپنے دوستوں کے لئے دنیا و آخرت میں جس بشارت کا تذکرہ ہے اس سے کیا مراد ہے ، اس سلسلے میں تمام مفسرین کے درمیان اختلاف ہے ۔ بعض نے اس آیت کو اس بشارت کے ساتھ مخصوص سمجھا ہے جو فرشتے مومنین کو موت اور اس جہان سے انتقال کے وقت دیتے ہیں او رکہتے ہیں : و ابشروا بالجنة التی کنتم توعدون۔ خوشخبری ہو تمہیں اس جنت کی جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ ( حٰم ٓ سجدہ ۔ ۳۰) بعض دوسرے اسے ان کے مومن اور صالح ہونے تک کے لئے دشمنوں پر غلبہ اور روئے زمین پر حکومت کرنے کے وعدہ کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں ۔ لیکن جیسا کہ ہم نے کہا ہے یہ لفظ مطلق ہے او ر” البشریٰ “ پر الف لام جنس کے حوالے سے ہے اس طرف توجہ کی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اس میں ایک وسیع مفہوم پنہاں ہے ، جس میں ہر قسم کی بشارت ، کامیابی اور موفقیت شامل ہے اور جن امور کا اوپر ذکر ہوا ہے وہ سب اس میں شامل ہیں اور درحقیقت ان میں سے ہر ایک خدا کی اس وسیع بشارت کے ایک گوشے کی طرف اشارہ ہے اور شاید یہ جو بعض روایات میں عمدہ خوابوں اور رویائے صالحہ سے اس کی تفسیر کی گئی ہے ، اس طرف اشارہ ہے کہ ہر قسم کی بشارت یہاں تک کہ چھوٹی بشارتیں بھی ” البشریٰ “ کے مفہوم میں موجود ہیں او ریہ نہیں کہ اس کا مفہوم ان میں منحصر ہے ۔ در حقیقت جیسا کہ پہلے بھی ذکر کیا گیا ہے کہ ایمان اور تقویٰ کا یہ تکوینی اور طبیعی اثر ہے کہ جو انسان کی روح اور جسم کو ہر قسم کے خوف و دہشت سے دورکردیتا ہے کہ جو شک اور تردد سے اور اسی طرح گناہ اور مختلف آلودگیوں سے پیدا ہوتا ہے کیسے ممکن ہے کہ کوئی شخص اپنے اندر ایمان اور معنویت نہ رکھتا ہو پھر بھی سکون محسوس کرے ۔ ایک شخص ایک بے لنگر کشتی کی طرح ہے جو طوفان میں پھنس گئی ہو کہ جسے کوہ پیکر موجیں ہر لمحہ الٹ دینا چاہتی ہوں اور گرداب اسے نگلنے کے لئے منہ کھولے ہوئے ہوں ۔ کسی طرح سے ممکن ہے کہ وہ شخص جس نے لوگوں پر ظلم و ستم کیاہو ، انسانوں کا خون بہا یا ہو اور دوسروں کے اموال و حقوق غصب کئے ہوں ، چین سے بیٹھا ہو۔مومنین کے بر عکس اسے سکون کی نیند نہیں آسکتی ۔ وہ زیادہ تر ڈراوٴ نے خواب دیکھتا رہے گا کہ جن میں وہ اپنے آپ کو دشمنوں میں گھرا ہوا پائے گا او ریہ خود ان کی بے آرامی اور روح میں موجود تلاطم پ رایک دلیل ہے ۔ یہ یک فطری بات ہے کہ ایک مجرم اور ظالم ، خصوصاً جب اس کا تعاقب ہو رہا ہو عالم خواب میں اپنے آپ کو ہو لناکیوں کے سامنے دیکھتا ہے کہ جو اس کا پیچھا کرنے اور اسے پکڑ نے کے در پے ہیں یا یہ کہ مقتول و مظلوم کی روح اس کے نا آگاہ ضمیر کے اندر سے فریاد کرتی ہے اور اسے سخت مضطرب کرتی ہے ۔ اسی لئے جب وہ بیدار ہوتا ہے تو یزید کی طرح کہتا ہے : مالی وللحسین ؟ میرا حسین سے کیا تعلق ہے ؟ یا حجاج کہتا ہے : مالی و لسعید بن جبیر مجھے سعید بن جبیر سے کیا واسطہ ؟ ۲۔ آئمہ ہدای کی چند روایات : زیر بحث آیات کے ذیل میں آئمہ اہل بیت علیم السلام سے بڑی عمدہ روایات منقول ہیں ان میں سے بعض کی طرف ہم یہاں اشارہ کرتے ہیں ۔ امیر المومنین علی علیہ السلام نے آیت الاان اولیاء اللہ کی تلاوت فرمائی اور پھر اپنے اصحاب سے سوال کیا : جانتے ہو کہ اولیاء خدا کون لوگ ہیں ؟ انھوں نے سوال کیا : یا امیر المومنین ! آ پ ہی فرمائیے کہ وہ کون ہیں ؟ امام (ع) نے فرما یا : ھم نحن و اتباعنا فمن تبعنا من بعدنا طوبی لنا ، طوبی لھم افضل من طوبیٰ لنا ، قالوا : یا امیر المومین ماشاٴن طوبی لھم افضل من طوبی لنا ؛ السنا نحن وھم علی امر؛ قال : لا ، انھم حملوا مالم تحملوا علیہ ، وطاقوا مالم تطیقوا۔ خدا کے دوست ہم اور ہمارے پیر وکار ہیں جو ہمارے بعد آئیں گے ۔ کیا کہنا ہمارا اور اس سے بڑھ کر کیا کہنا ان کا ۔ بعض نے پوچھا: ان کے لئے آپ نے بڑھ کر کیوں کہا: کیا ہم اور و ہ ایک ہی مکتب کے پیرو نہیں ہیں کیا ہمارا معاملہ ایک جیسا نہیں ہے ۔ آپ نے فرمایا: نہیں کیونکہ ان کی اس قسم کی ذمہ داریاں ہیں جیسی تمہاری نہیں ہے اور وہ ایسی مشکلات سے دوچار ہوں گے کہ تم دوچار نہیں ہو۔۱ کتاب کمال الدین میں ابو بصیر کے واسطے سے امام صادق (ع) سے منقول ہے ۔ آپ (ع) نے فرمایا :۔ طو بیٰ لشیعة قائمنا المنتظرین لظھور ہ فی غیبتہ ، و المطعین لہ فی ظھورہ، اولٰئک اولیاء اللہ الذین لاخوف علیھم ولا ھم یحزنون ۔ خوشا حال امام قائم (ع) کے پیروکاروں کا کہ جو ان کی غیبت میں ( اپنی خود سازی کے ساتھ ) ان کے ظہور کا انتظار کریں گے اور ان کے ظہور کے وقت ان کے فرماں بردار ہوں گے ، وہ اولیاء ِ خدا ہیں کہ جنہیں نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ مخزون و مغموم ہوتے ہیں ۔ 2 حضرت صادق علیہ السلام کا ایک موالی نقل کرتا ہے کہ امام (ع) نے فرمایا : اس مکتب کے پیروکار زندگی کے آخری لمحات میں ایسی چیزیں دیکھتے ہیں کہ جن سے ان کی آنکھیں روشن ہو جاتی ہیں ۔ راوی کہتا ہے : میں نے اصرار کیا کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟ اس سوال کا میں نے دس سے زیادہ مرتبہ تکرار کیا ۔ لیکن امام ہر مرتبہ صرف اتنا کہتے ۔ وہ دیکھیں گے مجلس کے اختتام پر آپ (ع) نے میری طرف رخ کیا اور مجھے پکارکر فرمایا: گویا تو اصرار کرتا ہے کہ یہ جانے کہ وہ کیا دیکھتے ہیں ؟ میں نے عرض کیا: یقین پھر میں رونے لگا ۔ امام کو میری حالت پر رحم آیا اور کہا: ان دونوں کودیکھیں گے ۔ میں نے اصرار کیا : کن دونوں کو ؟ فرمایا :۔ پیغمبر اکرم اور حضرت علی (ع) کو کوئی صاحبِ ایمان دنیا سے آنکھ بند نہیں کرے گا مگر یہ کہ ان دو بزرگوں کو دیکھے گا کہ وہ اسے بشارت دے رہے ہیں ۔ اس کے بعد فرمایا : اسے خدا نے قرآن میں بیان کیا ہے ۔ سوال : کہاں اور کس سورہ میں ؟ فرمایا : سورہ یونس میں جہاںفرمایا گیا ہے : الذین اٰمنوا وکانوں یتقون لھم البشریٰ فی الحیاة الدنیا و فی الاٰخرة ۔ اسی مضمون کی اور روایات بھی موجود ہیں ۔ واضح ہے کہ یہ روایات اشارہ ہیں کہ حاصب ایمان تقویٰ افراد کے لئے کچھ یوں بشارتوں کی طرف ، نہ کہ ان سب بشارتوں کی طرف نیز واضح ہے کہ یہ مشاہدہ مادی جسم کانہیں ہے بلکہ برزخی نگاہ سے جسم کے مشاہدے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ عالم برزخ جوکہ اس جہاں او رعالم آخرت میں حد فاصل ہے ، میں انسانی روح برزخی جسم میں باقی رہ جائے گی ۔ ۶۶۔ اٴَلاَإِنَّ لِلَّہِ مَنْ فِی السَّمَاوَاتِ وَمَنْ فِی الْاٴَرْضِ وَمَا یَتَّبِعُ الَّذِینَ یَدْعُونَ مِنْ دُونِ اللهِ شُرَکَاءَ إِنْ یَتَّبِعُونَ إِلاَّ الظَّنَّ وَإِنْ ھمْ إِلاَّ یَخْرُصُونَ ۔ ۶۷۔ھُوَ الَّذِی جَعَلَ لَکُمْ اللَّیْلَ لِتَسْکُنُوا فِیہِ وَالنّھَارَ مُبْصِرًا إِنَّ فِی ذَلِکَ لَآیَاتٍ لِقَوْمٍ یَسْمَعُونَ۔ ترجمہ ۶۶۔ آگاہ ہو کہ وہ تمام جو آسمانوں میں ہیں اور زمین ہیں ، خدا کے ہیں اور جو غیر خد اکو اس کا شریک بناتے ہیں وہ دلیل و منطق کی پیروی نہیں کرتے وہ صرف ظن او رگمان کی پیروی کرتے ہیں اور وہ صرف جھوٹ بولتے ہیں ۔ ۶۷۔ وہ وہ ہے کہ جس نے تمہارے لئے رات کو پیدا کیا تاکہ اس میں سکون حاصل کرو او راس نے دن کو روشنی بخش قرار دیا۔ اس میں ان لوگوں کے لئے نشانیاں ہیں جو سننے والے رکھتے ہیں ۔ ۱۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹۔ 2۔ تفسیر نور الثقلین جلد ۲ ص ۳۰۹۔
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 10:64
[Pooya/Ali Commentary 10:64] (see commentary for verse 63)