إِنَّ اللَّهَ اشْتَرَى مِنَ الْمُؤْمِنِينَ أَنفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُم بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِيلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْفَى بِعَهْدِهِ مِنَ اللَّهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُم بِهِ وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ
Indeed Allah has bought from the faithful their souls and their possessions for paradise to be theirs: they fight in the way of Allah, kill, and are killed. A promise binding upon Him in the Torah and the Evangel and the Quran. And who is truer to his promise than Allah? So rejoice in the bargain you have made with Him, and that is the great success.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 9:111
[Pooya/Ali Commentary 9:111] The spirit of self-surrender in a true believer always keeps him ready to surrender his self and possessions to Allah without ever having in mind the idea of victory or martyrdom. He fights in Allah's cause and carries out His universal will. In return Allah gives him everlasting bliss, eternal salvation and fulfilment of his highest spiritual hopes. For the perfect example of a bargain between man and Allah refer to the commentary of al Baqarah: 207, revealed when Ali slept on the bed of the Holy Prophet on the night of hijrat. The highest example of the entire surrender of selves, children and possessions to Allah is found nowhere save in Karbala. To know how Imam Husayn and his family and friends and relatives surrendered themselves and their children and possessions to Allah read our publication "The King of Martyrs". Aqa Mahdi Puya says: In the previous verses the trend and tendency of the hypocrites has been described. In this verse the qualities of the true believers are made known. Now there is no room to treat all the companions of the Holy Prophet as sailing in the same boat, in the ark of Nuh. There were two entirely different groups among the companions (sahabah), opposed to each other, in faith and character. As has been pointed out by the Holy Prophet only those who attached themselves with his Ahl ul Bayt, likened to the ark of Nuh, and followed them were in safe waters, and those who rejected them were drowned and lost. "It is in praise of the Ahl ul Bayt", Imam Ali bin Husayn al Zayn al Abidin has said, "for their success in many a trial and vicissitude, and for their patient and cheerful endurance of many a hardship that these verses were revealed." Sa-ihuna literally means those who journey in search of something. Fasting is a spiritual journey in search of Allah's pleasure. It also applies to those who seek knowledge about Allah or any godly movement. For amr bil ma-ruf and nahya anil munkar see commentary of Ali Imran : 101 to 115 (Aqa Puya's note).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 9:111-118
1. This is a direct bargain of the faithful with God to obtain paradise, by lending sacrificing property, and life for the sake of God – whether they kill the infidels or die as martyrs at their hands. This promise has been held out to them in Testaments Old and New and Qur’an alike. Note there was no crusade in the time of the Christians and at present, in Islam, too. When the Imam is hidden: crusade here refers to the great crusade against Inner Foe, for object of crusade is to compel God’s enemy to subject to Divine commands, through His Prophet and crusade against inner for, is also forcing foe (i.e. self) the inner instincts to vigours of religious worship, prayers, fast, and payment of tithe, and performance of pilgrimage, as per dictates of “Reason” the inner Prophet of God, by penance and virtues be they men or women, subjecting to religious limits. 2. Praying forgiveness for Associators, even though they be relations is forbidden, and Abraham’s apparent exceptional case is elucidated. 3. This is very important command wherein God distinctly refuses to admit guidance of every sect, unless it avoids what is refrained by Him through His Prophet. In fact, He distinctly says, obedience unto him is obedience to God. How can those who claim precedent in faith on authority of couplet (100) when they have admitted their “offence against Fatima,” daughter of the Prophet, rendering themselves apostate, denying the rights of Ali, his real, legal successor, established by the Prophet under Divine Commands, be given hearing? Rather, Divine curse shall be on them forever and hell to boot punishment in permanence. 4. For simply staying away from the crusade, three of them were secluded, their wives having left them and they had not an inch of ground to refuge them, when Divine Mercy took pity to accept their penance. What about deeds of grievous nature? Everyone should take a lesson.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 9:111-112
ایک بے مثال تجارت
گذشتہ آیات میں چونکہ جہاد سے پیچھے رہ جانے والوں کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے لہٰذا ان دو آیات میں ایک عمدہ مثال کے ساتھ صاحب ایمان مجاہدین کے بلند مقام کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اس مثال میں خدا نے اپنا خرید ار کی حیثیت سے تعارف کروایا ہے ارشاد ہوتا ہے : خدا نے مومنین سے ان کی جانیں اور ان کے اموال خرید لئے ہیں اور اس مال و متاع کے بدلے انھیں جنت دے گا (إِنَّ اللهَ اشْتَرَی مِنْ الْمُؤْمِنِینَ اٴَنفُسَُمْ وَاٴَمْوَالَھُمْ بِاٴَنَّ لھُمْ الْجَنَّةَ)۔ ہر خرید و فروخت کے معاملے میں پانچ بنیادی اراکین ہوتے ہیں جو یہ ہیں :۔ ۱۔ خرید ار ۲۔ بیچنے والا ۳۔ مال و متاع ۴۔ قیمت اور ۵۔ معاملہ کی سند ۔ اس آیت میں خدا تعالیٰ نے ان تمام چیزوں کی طرف اشارہ کیا ہے ۔اپنے آپ کو خرید ار ، مومنین کو بیچنے والا، مومنین کی جانوں اور مالوں کو مال متاع اور جنت کو اس معالے کی قیتم قرار دیا ہے البتہ اس مال و متاع کو ادا کرنے کی طرز کے لئے ایک لطیف تعبیر استعمال کی گئی ہے یعنی ” وہ راہ خدا میں جنگ کرتے ہیں اور دشمنان ِ حق کو قتل کرتے ہیں یا اس راہ میں قتل ہو جاتے ہیں او رجام ِ شہادت نوش کرتے ہیں “ ( یُقَاتِلُونَ فِی سَبِیلِ اللهِ فَیَقْتُلُونَ وَیُقْتَلُونَ )۔ در حقیقت خدا کا ہاتھ میدان جہاد میں صرف ہونے والے متاع ِ جان ومال کو لینے کےلئے کھلا ہے ۔ اس کے بعد پانچویں رکن کی طرف اشارہ ہے جو کہ معامے کی محکم سند ہے فرمایا گیا ہے : یہ خدا کے ذمہ سچا وعدہ ہے جو تین آسمانی کتابوں تورات، انجیل اور قرآن میں آیا ہے (وَعْدًا عَلَیْہِ حَقًّا فِی التَّوْرَاةِ وَالْإِنجِیلِ وَالْقُرْآنِ )۔ البتہ ”فی سبیل اللہ “ کی تعبیر کی طرف توجہ کرتے ہوئےاچھی طرح واضح ہوجاتاہے کہ خدا ان جانوں ِ مساعی اور مجاہدات کا خریدار ہے جو اس راہ میں صرف ہوتی ہیں یعنی خدا ہر اس کو شش کو خریدار ہے جو حق و عدالت کے لئے ہو او رجو انسانوں کو کفر ظلم اور فساد کے چنگل سے نجات دلانے کے لئے ہو۔ اس کے بعد قرآن اس عظیم معاملے کے لئے تاکید کرتے ہوئے مزید کہتا ہے : خدا سے زیادہ اپنے وعدے کو پورا کرنے والا کون ہے (وَمَنْ اٴَوْفَی بِعھْدِہِ مِنْ اللهِ)۔یعنی اگر چہ ا س معالے کی قیمت فوراً ادا نہیں کی جائے گی تاہم بیع نسیہ۱ کے خطرات میں نہیں کیونکہ خد ااپنی قدرت اور بے نیازی کے سبب ہر شخص کی نسبت اپنے عہدوپیمان کو زیادہ پو را کرنے والا ہے ۔ نہ وہ بھولتا ہے اور نہ ادا کرنے سے عاجز ہے اور نہ ہی پورا کرنے کے بارے میں اور وعدہ کے مطابق قیمت ادا کرنے سے متعلق کوئی شک و شبہ باقی نہیں رہتا۔ سب سے زیادہ جالب ِ نظر امر یہ ہے کہ ا س معاملے کے مراسم کی انجام دہی کے بعد کہ تجارت کرنے والوں کا معمول ہے کہ دوسرے کو مبارکبادی دی جاتی ہے ، خدا تعالیٰ معاملے کو سود مند قرار دےتے ہوئے کہتا ہے : تمہیں خوشخبری ہو ا س معاملہ پر ، جو تم نے انجام دیا ہے ( فَاسْتَبْشِرُوا بِبَیْعِکُمْ الَّذِی بَایَعْتُمْ بِہِ )۔۲ ایسی نظیر دوسری عبارتوں میں بھی آئی ہے ۔ مثلاً سورہ صف کی آیات ۱۰، ۱۱، ۱۲، میں فرمایا گیا ہے ۔ یا ایھا الذین اٰمنوا ھل ادلکم علی تجارة تنجیکم من عذاب الیہ توٴمنون باللہ و رسول و تجاھدون فی سبیل اللہ باموالکم و انفسکم ذاٰلکم خیرلکم انکنتم تعلمون یغفرلکم ذنوبکم ویدخلکم جنٰات تجری من تحتھا الانھار و مسٰکن طیبة فی جنات عد ذٰلک الفوز العظیم ۔ یعنی اے ایمان والو! کیا تمہیں ایسی تجارت کی رہبری کروں جو تمہیں دردناک عذاب سے نجات دے ۔ اللہ اور ا س کے رسول پر ایمان لاوٴ اور اپنے مالوں ا ور جانوں کے ساتھ اللہ کی راہ میں جہاد کرو۔ یہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ اگر تم جانو۔ وہ تمہارے گناہوں کو بخش دے گا اور تمہیں ایسی بہشتوں میں داخل کرے گا جن کے درختوں کے نیچے نہریں جاری ہوں گی اور جنات عدن میں رہنے کی پاکیز ہ جگہیں ہوں گی ۔ یہ بہت بڑی کامیابی ہے ۔ یہاں انسان پروردگار کے اس لطیف پر حیرت میں ڈوب جاتا ہے وہ خدا جو تمام عالم ہستی کا مالک ہے او رتمام جہاں آفرینش پر حاکم ِ مطلق ہے اور ہرشخص کے پاس جو کچھ ہے اسی کیطرف سے ہے جب وہ اپنی ہی عطا کردہ نعمتیں اپنے بندوں سے خرید نے پر آتا ہی ہے تو انھیں ہزارہا گناقیمت پر خریدتا ہے ۔ زیادہ عجیب تو یہ بات ہے کہ جہاد جو انسان کی اپنی سر بلندی اور ہر قوم و ملت کی کامیابی و افتخار کا ذریعہ ہے او راس کے ثمرات آخر کار خود انسان ہی کو حاصل ہوتے ہیں اسے اس متاع کی ادائیگی کا ذریعہ شمار کیا گیا ہے ۔ نیز اگر چہ ضروری ہے مال و متا ع اور قیمت کے درمیان کچھ توازن ہو نا چاہئیے لیکن اس پہلو کو نظر انداز کرتے ہوئے او رایک نائیدار متاع جو بہر حال فنا ہونے والی سے ( چاہے بیماری کے بستر پرختم ہو جائے یا میدان جنگ میں) اس کے بدلے سعادت ابدی عطا کرتا ہے ۔ اس سے زیادہ اہم یہ ہے کہ اگر چہ خدا تمام سچوں سے زیادہ سچا ہے اور اسے کسی سند اور ضمانت کی احتیاج نہیں ا س کے باوجود وہ اپنے بندوں کے لئے اہم ترین اسناد اور ضمانتیں پیش کرتا ہے ۔ پھر اس عظیم معاملہ کے آخر میں انھیں مبارک دیتاہے اور بشات دیتا ہے کیا اس سے بالاتر کسی لطف و کرم اور محبت و رحمت کا تصور ہو سکتا ہے اور کیا کوئی معاملہ اس سے بڑھ کر سود مندہو سکتا ہے ۔ اسی لئے ایک حدیث میں جابر بن عبد اللہ انصاری سے مروی ہے کہ جب زیر نظر آیت نازل ہوئی تو پیغمبر اکرم مسجد میں تھے آپ نے اس آیت کو بلند آواز میں تلاوت کیا، اور لوگوں نے تکبیر کہی۔ انصار میں سے ایک شخص سامنے آیا ۔ اس نے بڑے تعجب سے پیغمبر سے پوچھا: کیا واقعاً یہ آیت تھی جو نازل ہو ئی ہے ۔ پیغمبر نے فرمایا:ہاں وہ انصاری کہنے لگا : بیع ربیح لانقیل ولا نستقیل یعنی ہم اس معاملہ کو نہیں لوٹائیں گے اور اگرہم سے چاہا گیا کہ اس سودے کو واپس کردیں تو تو ہم قبول نہیں کریں گے ۔ 3 جیسا کہ قرآن کی روش ہے کہ ایک آیت میں ایک بات کو اجمال کے ساتھ پیش کرتا ہے اور بعد والی آیت میں اس کی تشریح و توضیح کرتا ہے ۔ دوسری محلِ بحث آیت میں مومنین جو خدا کے پاس اپنی جان و مال بیچنے والے ہیں ، کا واضح صفات کے ساتھ کا تعارف کرواتا ہے : ۱۔ وہ توبہ کرنے والے ہیں اپنے قلب و روح کی آلودگی کو توبہ کے پانی سے دھوتے ہیں ( التَّائِبُونَ )۔ ۲۔ وہ عبادت کرنے والے ہیں خدا سے راز و نیاز کے ذریعے اور اس کی پاک ذات کی پرستش سے خود سازی کرتے ہیں او راپنی اصلاح کرتے ہیں ۔ (الْعَابِدُونَ)۔ ۳۔ وہ پر وردگا رکی مادی او رمعنوی نعمتون پر اس کی حمد و ثنا کرتے ہیں ( الْحَامِدُونَ)۔ ۴۔ وہ ایک مرکز عبادت سے دوسرے مرکز کی طرف آتے جاتے ہیں ( السَّائِحُونَ )۔اسی طرح ان کا عبادت کے ذریعے خود سازی کا لائحہ عمل محدود ماحول میں منحصر نہیں رہتا اور کسی خاص علاقے سے تعلق نہیں رکھتا بلکہ ان کے لئے ہر جگہ پر وردگار کی عبادت خو دسازی او رتربیت کا مر کز موجود ہے اور جہاں کہیں بھی اس سلسلے میں کوئی درس مل سکتا ہووہ اس کے طالب ہیں ۔ ”سائح“ اصل میں ” سیح“ اور ”سیاحت“ کے مادہ سے جاری رہنے اور استمرار کے معنی میں لیا گیا ہے ۔ یہ کہ زیر نظر آیت میں ”مسائح “ سے مراد کس قسم کی سیاحت اور استمرار مراد لی ہے ۔ رسول اللہ کی ایک حدیث میں ہے :۔ سیاحة امتی فی المساجد میری مات کی سیر و سیاحت مساجد میں ہے ۔( تفسیر المیزان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں ) بعض نے ”صائح “ کو ”صائم “ یعنی روزہ دار ) کے معنی میں لیا ہے کیو نکہ روزہ پورے دن میں ایک مسلسل کام ہے ۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم نے فرمایا ہے :۔ ان السائحین ھم الصائمون سائحون روزہ دارہی ہیں ۔( تفسیر نور الثقلین اور دیگر تفاسیر ) بعضدوسرے مفسرین نے سیاحت کو روئے زمین میں سیر و گردش، عظمت ِ خدا کے آثار کا مشاہدہ ، انسانی معاشروں کی پہچان اور مختلف اقوام کی عادات ورسول او رعلوم دانش سے آشنائی جو کہ انسانی افکار کو زندہ اور پختہ کرتی ہے ، سمجھا ہے ۔ بعض دوسرے مفسرین سیا حت کو میدان جہاد ار دشمن سے مقابلے کے لئے سیر و حرکت کے معنی میں سمجھتے ہیں اس سلسلے میں وہ اس مشہور حدیث ِ رسول کو شاہد قرار دیتے ہیں ، کہ : ان سیاحة امتی الجھاد فی سبیل اللہ میری امت کی سیرو سیاحت اللہ کی راہ میں جہا د کرنا ہے ۔ ( تفسیر المیزان اور تفسیر المنار ، محل ِ بحث آیت کے ذیل میں )۔ کچھ نے اسے جہان ہستی ، عوامل سعادت اور اسبا ب شکست سے مربوط عقل و فکر کی سیر کے معنی میں سمجھا ہے ۔ لیکن قبل اور بعد کے جو اوصاف شمار کئے گئے ہیں ان کی طرف توجہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام معانی میں پہلا معنی زیادہ مناسب معلوم نظر آتا ہے ۔ اگر چہ تمام معانی بھی اس لفظ سے مراد لئے جاسکتے ہیں کیونکہ یہ تمام مفاہیم سیر و سیاحت کے مفہوم میں جمع ہیں ۔ ۵۔ وہ عظمت الٰہی کے سامنے رکوع کرتے ہیں (الرَّاکِعُونَ)۔ ۶۔ وہ اس کے آستانہ پر جبّہ آسائی کرتے ہیں ( السَّاجِدُونَ )۔ ۷۔ وہ لوگوں کو نیکیوں کی دعوت دیتے ہیں (الْآمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ )۔ ۸۔ وہ صر ف نیکی کی دعوت دینے کا فریضہ ادا نہیں کرتے بلکہ ہر قسم کی برائی اور منکر سے بھی جنگ کرتے ہیں ( وَالنَّاہُونَ عَنْ الْمُنکَرِ)۔ ۹۔ امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کی ادائیگی کے بعد اپنی آخری اور زیادہ اہم اجتماعی ذمہ داری یعنی حدود خداندی کی حفاظت ، اس کے قوانین کا اجراء اور حق و عدالت کے قیام کے لئے اٹھ کھڑے ہوتے ہیں ( وَالْحَافِظُونَ لِحُدُودِ اللهِ )۔ یہ نو صفات بیان کرنے کے بعد خدا تعالیٰ دوبارہ ایسے سچے او رمکتب ایمان و عمل کے تربیت یافتہ مومنین کو تشویق دلاتا ہے اور پیغمبر اکرم سے کہتا ہے : ان مومنین کو بشارت دو: (وَبَشِّرْ الْمُؤْمِنِینَ)۔ یہاں یہ نہیں بتا یا گیا کہ کس چیز کی بشارت ہے یا دوسرے لفظوں میں بشارت بطور مطلق آئی ہے لہٰذا وہ ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جس میں ہر طرح کی خیر وسعادت شامل ہے یعنی انھیں ہر خیر ، ہر سعادت ، ہر افتخار اور ہر اعزاز کی بشارت دو۔ اس نکتے کی طرف توجہ بھی ضروری ہے کہ ان نو قسم کی صفات میں سے بعض( چھ پہلی صفات ) خو د سازی اور افراد کی تربیت کے ساتھ مربوط ہیں اور ان کا دوسرا حصہ ( ساتویں اور آٹھویں صفت ) اجتماعی فرائض سے متعلق ہے اور معاشرے کو پا ک رکھنے کی طرف اشارہ ہے اور آخری صفت سب لوگوں کی ذمہ داری بیان کررہی ہے اور وہ ہے صالح حکومت کا قیام او رمثبت سیاسی امور میں بھر پور شر کت ۔ ۱۱۳۔ مَا کَانَ لِلنَّبِیِّ وَالَّذِینَ آمَنُوا اٴَنْ یَسْتَغْفِرُوا لِلْمُشْرِکِینَ وَلَوْ کَانُوا اٴُوْلِی قُرْبَی مِنْ بَعْدِ مَا تَبَیَّنَ لَھُمْ اٴَنَّھُمْ اٴَصْحَابُ الْجَحِیمِ ۔ ۱۱۴۔ وَمَا کَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَھِیمَ لِاٴَبِیہِ إِلاَّ عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَہَا إِیَّاہُ فَلَمَّا تَبَیَّنَ لَہُ اٴَنَّہُ عَدُوٌّ لِلَّہِ تَبَرَّاٴَ مِنْہُ إِنَّ إِبْرَاھِیمَ لَاٴَوَّاہٌ حَلِیمٌ۔ ترجمہ ۱۱۳۔ پیغمبر او رمومنین کے لئے مناسب نہیں تھا کہ مشرکین کے لئے ( خدا سے ) بخشش طلب کریں اگر چہ وہ ان کے قریبی کیوں نہ ہوں جبکہ ان پر روشن ہو گیا کہ یہ لوگ اصحاب ِ دوزخ ہیں ۔، ۱۱۴۔اور ابراہیم (ع) کی استغفار اپنے ( بمنزلہ) باپ ( چچا آزر) کے لئے صرف اس وعدہ کی وجہ سے تھی کہ جو اس سے کیا گیا تھا ( تاکہ اسے ایمان کی طرف ترغیب دیں )لیکن جب اس پر واضح ہو گیا کہ وہ دشمن ِ خدا ہے تو اس سے بیزاری کی ۔ کیونک ابرہیم (ع) مہر بان او ربرد بار ہے ۔ شان نزول تفسیر مجمع البیان میں مندرجہ بالا آیات کی شان نزول کے ابرے میں یہ روایت نقل ہو ئی ہے کہ بعض مسلمان پیغمبر اکرم سے کہتے تھے کہ کیا آپ ہمارے آباء و اجداد جو زمانہ جاہلیت میں مر گئے تھے ، کے لئے طلب بخشش نہیں کرتے اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہوئیں اور انھیں خبردار کیا گیا کہ کوئی شخص حق نہیں رکھتا کہ مشرکین کے لئے استغفار کرے۔ ان آیات کی شان نزول کے بارے میں کچھ اور مطالب بھی بیان کئے گئے ہیں جو آیت کی تفسیر کے آخر میں آئیں گے۔ ۱۔ بیع نسیہ یہ ہے کہ جو چیز بیچی جائے وہ تو خریدنے والے کو دے دی جائے لیکن اس کی قیمت بعد میں ادا کرنا ہو ۔ ( مترجم ) ۲”فاستبشروا” مادہ “ بشارت“ در اصل ”بشرہ “ یعنی چہرہ کے معنی سے لیا گیا ہے اور خوشی کی طرف اشارہ ہے جس کے آثار چہرے پر ظاہر ہوتے ہیں ۔ اور یہ تم سب کے لئے عظیم کامیابی ہے ( وَذَلِکَ ھُوَ الْفَوْزُ الْعَظِیمُ )۔ 3۔ تفسیر المیزان بحوالہ در المنثور۔