كَدَأْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ كَفَرُوا بِآيَاتِ اللَّهِ فَأَخَذَهُمُ اللَّهُ بِذُنُوبِهِمْ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ شَدِيدُ الْعِقَابِ
Like the precedent of Pharaoh’s clan and those who were before them, who defied Allah’s signs, so Allah seized them for their sins. Indeed Allah is all-strong, severe in retribution.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 8:52
[Pooya/Ali Commentary 8:52] (see commentary for verse 50)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:52-54
ایک سوال اور اس کا جواب
یہاں ایک سوال سامنے آتا ہے اور وہ یہ کہ اتنے مختصر سے فاصلے میں ”کداٴب اٰل فرعون ----“ کامختصر سے طرق کے ساتھ تکرار کیوں ہوا ہے؟ اس سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنا چاہیے کہ اگر چہ حساس اور زندہ میں تکرار اور تاکید ایک اصولِ بلاغت ہے جو فصحاء اور بلغاء کی گفتگو میں ہمیشہ دکھائی دیتا ہے لیکن مندرجہ بالا آیات میں ایک اہم فرق بھی موجود ہے جو عبارت کو صورتِ تکرار سے خارج کردیتا ہے اور وہ یہ کہ پہلی آیت آیات حق کے انکار کے بدلے میں خدائی سزاؤں کی طرف اشارہ کرتی ہے اور اس کے بعد ان کی اس حالت کو فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں سے تشبیہ دی گئی ہے۔ جب کہ دوسری آیت میں خداوند تعالیٰ کی نعمتوں اور عنایتوں کے متغیّر ہونے یعنی کامیابیوں، قدرتوں اور دیگر افتخارات و اعزازات کے خاتمے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کے بعد ان کی حالت کو فرعونیوں اور گذشتہ اقوام سے تشبیہ دی گئی ہے۔ در حقیقت ایک مقام پر گفتگو نعمتوں کے سلب ہونے اور اس سے پیدا ہونے والی سزا کے بارے میں ہے اور دوسرے مقام پر نعمتوں کے متغیّر اور دگرگون ہونے سے متعلق بحث ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:52-54
دو اہم نکات
ان آیات میں دو اہم نکات کی طرف اشارہ ہوا ہے جو ہر لحاظ سے توجہ طلب ہیں: ۱۔ قوموں کی زندگی اور موت کے عوامل: تاریخ میں طرح طرح کی قوموں اور ملتوں کا تذکرہ ملتا ہے۔ کوئی قوم ترقی کے مراحل تیزی سے طے کر گئی کوئی قوم پستی کے سب سے نچلے مرحلے تک پہنچ گئی۔ کوئی گروہ جو ایک دن پراگندہ، درماندہ اور شکست خوردہ تھا دوسرے دن طاقتور اور سربلند تھا اور کوئی گروہ اس کے برعکس کبھی فخر و مباہات کے اعلیٰ ترین مرحلے پر تھا لیکن ذلت و خواری کے گڑھے میں جاگرا۔ بہت سے ایسے اشخاص ہیں جو تاریخ کے مختلف مناظر کے سامنے سے بڑی آسانی سے گزر گئے ہیں اور اس میں انہوں نے ذرّہ بھر غور و فکر نہیں کیا۔ بہت سے لوگ قوموں کی موت و حیات کے اصلی عوامل اور علل کا مطالعہ کرنے کی بجائے کم اہمیت عوامل جن کا کوئی بنیادی کردار نہیں ہوتا یا موہوم، بے ہودہ اور خیالی عوامل ہی کے در پے ہوجاتے ہیں اور سب کچھ انہی کے ذمہ ڈال دیتے ہیں۔ بہت سے لوگ اپنی بدبختی کا تمام تر ذمہ دار غیروں کی بُری سیاست کو ٹھہراتے ہیں اور کچھ لوگ ان تمام حوادث کو افلاک کی موافق یا مخالف گردش کی نتیجہ سمجھتے ہیں۔ ایک گروہ قضاؤ قدر کے تحریف شدہ مفہوم سے وابستہ ہے اور قسمت و تقدیر اور اتفاقات کو ہی تمام تلخ و شیریں حوادث کی وجہ قرار دیتا ہے۔ یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ لوگ حقیقی علل کے ادراک سے گھبراتے اور پریشان ہوتے ہیں۔ مندرجہ بالا آیات میں قرآن درد اور دوا، کامیابی اور شکست کے عوامل کے اصلی نقطہ پر انگشت رکھتا ہے اور کہتا ہے کہ اصل عامل کی تلاش کے لئے آسمانوں اور زمینوں کو چھان مارنا ضروری نہیں اور نہ اس کے لئے موہوم اور خیالی عوامل کے پیچھے جانے کی ضرورت ہے بلکہ اتنا ہی کافی ہے اپنے ہی وجود، فکر، ہمت، اخلاق اور اجتماعی نظام کی جستجو کی جائے اور اس پر نظر کی جائے۔ جو کچھ ہے اسی جگہ ہے۔ جن اقوام و ملل نے اپنی فکر و نظر کو استعمال کیا، ایک دوسرے کی طرف اتحاد،اتفاق اور برادری کا ہاتھ بڑھایا اور ان کی سعی و کوشش پہیم تھی اور ان کا غزم و ارادہ قوی تھا، ضرورت کے وقت انھوں نے جانبازی اور فداکاری سے کام لیا اور قربانی پیش کی وہ قطعاً اور یقیناً کامیاب وکامران ہوئیں دوسری طرف جب سعی وکوشش کی جگہ رکود وجمود اور سستی وکاہلی نے لے لی، آگاہی کے بجائے وہ بے خبری میں جاپڑے ،عزم وارادہ کے بجائے وہ تردد وبے دلی کا شکار ہوگئے، ان میں بزدلی نے بہادری کی، نفاق نے اتحاد کی تن پروی نے فداکاری کی اور ریاکاری نے خلوص وایمان کی جگہ لے لی تو ان میں سقوط، شکست اور بدحالی کا دُور شروع ہوگیا، درحقیقت ”ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اٴَنْعَمَھَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِھِمْ“ میں انسانوں کی زندگی کا بلند ترین قانون بیان کیا گیا ہے، اس سے واضح ہوتا ہے کہ مکتبِ قرآن معاشروں کی زندگی کے لئے اصیل ترین اور روشن ترین مکتب ہے، یہاں تک کہ ان لوگوں کو جو ایٹم اور خلاء کی دنیا میں داخل ہوکر انسان کو بھول چکے ہیںاور اقتصادی مسائل اور سازو سامان کی تولید کو گردشِ تاریخ کا سبب سمجھتے ہیں جو کہ خود انسان کی پیداوار ہیں، انھیں بتادیا ہے کہ تم سخت اشتباہ میں ہو، تم نے معلول کو لے لیا ہے اور اصلی علت کو جو خود انسان اور انسانی تغیرات ہیں انھیں فراموش کردیا ہے، تم شاخوں سے چمٹے ہوئے ہو بلکہ ایک ہی شاخ سے اور جڑکو تم نے فراموش کردیا ہے۔ دُور نہ جائیں تاریخ اسلام یا زیادہ صحیح لفظوں میں مسلمانوں کی تاریخ ابتداء میں روشن کامیابیوں اور اس کے بعد تلخ اور دردناک شکستوں کی شاہد ہے۔ پہلی صدیوں میں اسلام بڑی تیزی سے دنیا میں پیشرفت کرتا رہا اور ہر جگہ علم وآزادی کا نور نچھاور کرتا رہا اور اقوامِ عالم کے سروں پر علو دانش کا سایہ کرتا رہا، اس دور میں اسلام قوت آفرین، قدرت بخش، ہلادینے والا اور آباد کرنے والا تھا، ان سے آنکھوں کو خیرہ کردینے والے تمدن کو وجود بخشا، جس کی مثال گذشتہ تاریخ میں نہیںملتی، لیکن چند صدیوں سے زیادہ عرص نہ گزرا تھا کہ اس کا جوش وخروش ٹھنڈا پڑگیا، تفرقہ وانتشار، پراگندگی، کنارہ کشی، گوشہ نشینی، ضعف وناتوانی اور اس کے نتیجے میں پسماندگی اور شکست نے ان تمام کامیابیوں اور ترقیوں کی جگہ لے لی ، اب حالت یہ ہے کہ دنیا کے مسلمان بنیادی ضرورتوں کے لئے دوسرے کے دستِ نگر ہیں اور مجبور ہیں کہ علم ودانش کے حصول کے لئے اپنی اولاد کو دیار غیر بھیجیں جبکہ ایک وقت وہ تھا کہ مسلمانوں کی یونیورسٹیاں بلند ترین سمجھی جاتی تھیں اور دنیا کی عظیم ترین یونیورسٹیوں کی حیثیت سے اپنے اور بیگانے تمام طالب علموںکے لئے مرکز تھیں، معاملہ یہاں تک آپہنچا ہے کہ اب نہ صرف یہ کہ مسلمان علم وصنعت اور ٹکنالوجی برآمد نہیں کرتے بلکہ ابتدائی غذائی مواد بھی باہر کے ممالک سے درآمد کرتے ہیں۔ آج کی سرزمین جو ایک دن مسلمانوں کی عظمت کا مرکز تھی، یہاں تک کہ دوسو سال تک صلیبی فوجیںجس کے لئے لڑتی رہیں اور انھوں نے کئی ملین مقتول اور زخمی دیئے لیکن اسلام کے غازیوں کے ہاتھ سے اسے نہ سکیں، آج کے مسلمان بڑے آرام سے چھ دن میں ہاتھ سے دے بیٹھے ہیں جبکہ اب اس کی ایک بالشت بھی دشمن سے واپس لینے کے لئے مہینوں اور سالوں تک لڑائی ہوگی اور اس جنگ کا خبر نہیں کیا انجام ہوگا۔ کیا خدا کا یہ وعدہ نہیں کہ: <وَکَانَ حَقًّا عَلَیْنَا نَصْرُ الْمُؤْمِنِینَ مومنین کی مدد کرنا ہمارے ذمہ ہے۔ (روم/۴۷) کیااس وعدے کی خلاف ورزی ہورہی ہے؟ اور کیا قرآن نہیں کہتا کہ: <وَلِلّٰہِ الْعِزَّةُ وَلِرَسُولِہِ وَلِلْمُؤْمِنِینَ عزت وسربلندی الله، اس کے رسول اور مومنین کے لئے ہے۔ (منافقون/۸) کیا یہ آیت منسوخ ہوگئی؟ اسی طرح قرآن کہتا ہے: <وَلَقَدْ کَتَبْنَا فِی الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّکْرِ اٴَنَّ الْاٴَرْضَ یَرِثُھَا عِبَادِی الصَّالِحُونَ گذشتہ کتب میں ہم نے لکھ دیا ہے کہ زمین ہمارے صالح بندوں کا ورثہ ہے۔ (انبیاء/۱۰۵) کیا یہ حکم تبدیل ہوگیا ہے؟ کیا (معاذ الله) خدا اپنے وعدوں کو پورا کرنے سے عاجز ہے یا و اپنے وعدوں کو بھول چکا ہے یا انھیں تبدیل کردیا ہے؟ اگر ایسا نہیں ہے ت پھر وہ عظمت، سربلندی اور افتخار کیوں ختم ہوگیا ہے؟ قرآن مجید مندرجہ بالا مختصر سی آیت میں ان تمام سوالوں ان تمام سوالات کا اور ایسے سینکڑوں سوالات کا ایک ہی جواب دیتا ہے اور وہ یہ ہے کہ اپنے دل کی گہرائیوں میں جھانک دیکھو اور اپنے معاشرے میں نگاہ دوڑاوٴ تو تم دیکھ لوگے کہ تغیرات اور تبدیلیاں خود تمھاری طرف سے شورع ہوتی ہیں ، خدا کا لطف ، کرم اور رحمت تو سب کے لئے وسیع ہے، خود تمہی اہلیت اور صلاحیت کھوبیٹھے ہو اور ایسے غم انگیز دنوں تک آپہنچے ہو۔ یہ آیت صرف گذشتہ زمانے کی بات نہیں کرتی کہ ہم کہیں کہ گذشتہ زمانہ تمام تلخیوںاور شیرنیوں کے ساتھ گزر گیا ہے اور اب پلٹ کر نہیں آئے گا اوراس کے متعلق بات کرنا فضول ہے، بلکہ آج اور آئندہ کے زمانے کی بات کرتی ہے کہ اگر خدا کی طرف پھر لوٹ آوٴ اور ایمان کے ستون محکم کرلو، اپنے افکار کو بیدار کرلو، اپنے وعدوں اور ذمہ داریوں کو یاد رکھو، ایک دوسرے کا ہاتھ تھام لو، اپنے پاوٴں پر کھڑے ہوجاوٴ اور اپنی آواز بلند کرو، جوش وجذبے سے کام لو، قربانی دو، جہد کرو اور تمام امور میں سعی وکوشش سے کام لو، پھر چشمے بہنے لگیں گے، تیرہ تاریک دن کٹ جائیں گے، افقِ درخشاں اور روشن سرنوشت تمھاری سامنے آشکار ہوجائے گی اور اعلیٰ ترین سطح پر عظمت رفتہ پھر سے لوٹ آئے گی۔ آئیے اپنے آپ کو بدلیں، علماء اور دانشور بات کریں اور لکھیں، مجاہد جہاد کریں، تاجر اور مزدور محنت کریں، جوان زیادہ سے زیادہ علم حاصل کریں اور پاک وپاکیزہ بن جائیں اور پوری محنت سے علم وآگاہی حاصل کریں تاکہ معاشرے کی رگوں میں تازہ خون دوڑنے لگے اور وہ قدرت وطاقت پیدا کریں کہ وہ سخت دشمن جو آج ایک بالشت زمین منت والتماس سے واپس نہیں کرتا تمام زمنین ہاتھ جوڑکر واپس کردے۔ لیکن یہ ایسے حقائق ہیں جن کا کہنا تو آسان ہے مگر انھیں جاننا اور باور کرنا مشکل ہے اور ان پر عمل کرنا تو بہت زیادہ مشکل ہے، پھر بھی نورِ امید کے سائے میں پیش رفت کرنا چاہیے۔ اس نکتے کا ذکر کرنا بھی ضروری ہے کہ مسئلہ رہبری ورہنمائی قوموں اور ملتوں کی زندگی میں بہت ہی موٴثر نقش رکھتا ہے اور اسے ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہیے کہ بیدار قومیں ہمیشہ لائق رہبروں اور رہنماوٴں کواپنی رہبری کے لئے قبول کرتی ہیں اور نالائق، باتونی اور ظالم لیڈر قوموں کے آہنی ارادے کے سامنے ہمیشہ سرنگوں ہوجاتے ہیں۔ اسے بھی ہرگز فراموش نہیں کرنا چاہے کہ ظاہری عوامل واسباب کے ماوراء غیبی مدد اور الطاف الٰہی کا ایک سلسلہ ہے جو باایمان، پُرچوش اور پُرخلوص بندوں کے انتظار میں ہے اور وہ سب کچھ کئے بغیر شرط اور قید کے نہیں ہے بلکہ اس کے لئے اور اہلیت ضروری ہے۔ دو روایات پیش کرکے ہم یہ بحث تمام کرتے ہیں۔ پہلی یہ کہ امام صادق علیہ السلام منقول ہے: ”ما اٴنعم اللّٰہ علیٰ عبد بنعمتہ فسلبھا ایّاہ حتّیٰ بذنب ذنباً یستحق بذٰلک السلب“ خدا کوئی نعمت جو کسی بندے کو دیتا ہے اس سے واپس نہیں لیتا مگر یہ کہ وہ ایسا گناہ کرے جس کی وجہ سے اس نعمت کے سلب ہونے کا مستحق ہوجائے۔(۱) دوسری حدیث بھی امام صادق علیہ السلام ہی سے منقول ہے: خدا نے ایک پیغمبر کو مامور کیا کہ وہ اپنی قوم سے یہ بات کہہ دے کہ جو جماعت اور گروہ میری اطاعت کے سائے میں خوشی اور آسائش ہیں ہو وہ لوگ اس حالت کو جو میری رضا کا باعث ہے جب بھی تغیر کریں گے میںبھی جس حالت کو وہ پسند کرتے ہیں اس کے بجائے انھیں اس حالت میں بدل دوںگا جسے وہ ناپسند کرتے ہیں، اور جو گروہ معصیت وگناہ کی وجہ سے تکلیف وناراحتی میں گرفتار ہو اس کے بعد اپنی اس حالت کی طرف لے جاوٴںگا جسے وہ دوست رکھتے ہیں اور ان کی حالت بدل دوںگا۔(۲) ۲۔ تقدیر، تاریخ یا کوئی اور جبر نہیں ہے: ایک اور بات جو مندرجہ بالا آیات سے وضاحت کے ساتھ معلوم ہوتی ہے یہ ہے کہ انسان کی پہلی معین شدہ کوئی خاص تقدیر نہیں اور انسان جبرِ تاریخ، جبرِ زمان اور جبرِ ماحول کے زیر اثر ہے بلکہ تاریخ ساز اور انسان کے لئے حیات ساز عامل تغیرات ہیں جو اس کی روش ، اخلاق اور فکر روح میں اس کے اپنے ارادے سے پیدا ہوجاتے ہیں، اس بناپر پر جو لوگ جبری قضاء وقدر کا اعتقاد رکھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ تمام واقعات پروردگار کے جبری ارادے اور مشیت سے ظہور پذیر ہوتے ہیں، ایسے لوگ مدرجہ بالا آیت سے مغلوب ہوجاتے ہیں، اسی طرح مادی جبر کے قائل کہ جو انسان کو ناقابلِ تغیر غرائز اور اصل وراثت کے ہاتھوں کھلونا سمجھتے ہیں ، یا جبر ماحول کے قائل کہ جو انسان کو اقتصادی اور تولیدی حالات کا پابند سمجھتے ہیں مکتبِ اسلام کی نظر میں ان کا عقیدہ بے قیمت اور غلط ہے، انسان آزاد ہے اور اپنی سرنوشت اپنے ہاتھ سے لکھتا ہے، آیات مذکورہ بالا کی طرف توجہ کرتے ہوئے انسان اپنی سرنوشت اور تاریخ کی زمام اپنے ہاتھ میں رکھتا اور اپنے لئے افتخار، اعزاز اور کامیابی پیدا کرتا ہے اور وہ خود ہی اپنے آپ کو شکست اور ذلت میں گرفتار کرتا ہے، اس کی باگ ڈور اس کے اپنے ہاتھ میں ہے، جب تک خود انسان کی کیفیت میںتغیر پیدا نہ ہوا اور وہ خودسازی سے کام نہ لے اس کی سرنوشت میں تغیّر پیدا نہیں ہوسکتا۔ ۵۵- إِنَّ شَرَّ الدَّوَابِّ عِنْدَ اللهِ الَّذِینَ کَفَرُوا فَھُمْ لَایُؤْمِنُونَ ۵۶- اَلَّذِینَ عَاھَدْتَ مِنْھُمْ ثُمَّ یَنقُضُونَ عَھْدَھُمْ فِی کُلِّ مَرَّةٍ وَھُمْ لَایَتَّقُونَ ۵۷- فَإِمَّا تَثْقَفَنَّھُمْ فِی الْحَرْبِ فَشَرِّدْ بِھِمْ مَنْ خَلْفَھُمْ لَعَلَّھُمْ یَذَّکَّرُونَ ۵۸- وَإِمَّا تَخَافَنَّ مِنْ قَوْمٍ خِیَانَةً فَانْبِذْ إِلَیْھِمْ عَلیٰ سَوَاءٍ إِنَّ اللهَ لَایُحِبُّ الْخَائِنِینَ ۵۹- وَلَایَحْسَبَنَّ الَّذِینَ کَفَرُوا سَبَقُوا إِنَّھُمْ لَایُعْجِزُونَ ترجمہ ۵۵۔ خدا کے نزدیک زمین پر چلنے والے بدترین جانور وہ لوگ ہیں جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی اور ایمان نہیں لاتے۔ ۵۶۔ وہ لوگ کہ جن سے تم نے پیمان لیا پھر وہ اپنے عہد کو توڑتے ہیں (اور پیمان شکنی اور خیانت سے) پرہیز نہیں کرتے۔ ۵۷۔ اگر میدانِ جنگ میں پالو تو ان پر اس طرح حملہ کرو کہ گروہ جوان کے پیچھے ہیں منتشر ہوجائیں اور بکھر جائیں شاید وہ متذکر ہوں (اور عبرت حاصل کریں)۔ ۵۸۔ اور جس وقت (نشانیاں ظاہر ہونے پر) تجھے کسی گروہ کی خیانت کا خوف ہو (کہ وہ اپنے عہد کو توڑ کر اچانک حملہ کردے گا) تو انھیں عادلانہ طور پر بتلادو (کہ ان کا پیمان لغو ہوگیا ہے) کیونکہ خدا خیانت کرنے کو دوست دوست نہیں رکھتا۔ ۵۹۔ اور وہ کہ جنھوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے یہ تصور نہ کریں کہ وہ ان اعمال کے ہوتے ہوئے کامیاب ہوجائیں گے) اور وہ ہماری قلم رو کی سزا سے نکل جائیں گے) وہ ہمیں کبھی عاجز نہیں کرسکتے۔ ۱۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہٴ اصولِ کافی- ۲۔ تفسیر نور الثقلین، ج۲، ص۱۶۳ بحوالہٴ اصولِ کافی-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 8:52-54
متغیّر نہ ہونے والی ایک سنت
ان آیات میں دنیا کی اقوام و ملل کے بارے میں خدا تعالیٰ کی ایک دائمی سنت کی طرف اشارہ ہوا ہے تاکہ کہیں یہ خیال نہ ہو کہ جو کچھ میدان بدر مشرکین کے بُرےانجام کے بارے میں بیان ہوا ہے ایک استثنائی اور اختصاصی حکم تھا بلکہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے اعمال گذشتہ زمانے میں جس سے سرزد ہوئے یا آئندہ جس سے سرزد ہوں گے ایسے ہی نتائج کے حامل ہوئے اور ایسے ہیں نتائج کے حامل ہوںں گے۔ پہلے قرآن کہتا ہے: مشرکین کے حالات کی کیفیت فرعون کے خاندان اور ان سے پہلے کے لوگوں جیسی ہے (کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ وہی کہ جنھوںنے آیاتِ خدا کا انکار کیا اور خدا نے انھیں ان کے گناہ کی وجہ سے پکڑا (کَفَرُوا بِآیَاتِ اللهِ فَاٴَخَذَھُمْ اللهُ بِذُنُوبِھِمْ)۔ کیونکہ خدا قوی اور صاحبِ قدرت ہے اور اس کا عذاب بھی شدید اور سخت ہے (إِنَّ اللهَ قَوِیٌّ شَدِیدُ الْعِقَابِ)۔ اس بناء پر صرف قریش اور مکہ کے مشرکین اور بت پرست ہی نہ تھے جوآیات الٰہی کا انکار ، حق کے مقابلے میں ہٹ دھرمی اور انسانیت کے سچّے رہبروں سے الجھنے کی وجہ سے اپنے گناہوں کے عذاب میں گرفتار ہوئے بلکہ یہ ایک دائمی قانون ہے جو فرعونیوں جیسی طاقتور قوموں اور بہت کمزور قوموں پر بھی محیط ہے۔ اس کے بعد اس مسئلے کی بنیاد کا ذکر کرکے اسے زیادہ واضح کیا گیا ہے، ارشادہوتا ہے: یہ سب کچھ اس بناء پر ہے کہ خدا کسی قوم وملت پر جو نعمت اور عنایت کرتا ہے اسے کبھی دگرگوں نہیں کرتا مگر یہ کہ وہ جمعیت اور قوم خوددگرگوں اور متغیر ہوجائے (ذٰلِکَ بِاٴَنَّ اللهَ لَمْ یَکُ مُغَیِّرًا نِعْمَةً اٴَنْعَمَھَا عَلیٰ قَوْمٍ حَتَّی یُغَیِّرُوا مَا بِاٴَنفُسِھِمْ)۔ بالفاظ دیگر خدا کا بے کنار فیض وکرم عمومی اور سب کے لئے ہوتا ہے لیکن وہ لوگوں کی قیادت اور اہلیت کا مناسبت سے ان تک پہنچتا ہے، ابتداء میں خدا اپنی مادی اور روحانی نعمتیں اقوامِ عالم کے شاملِ حال کردیتا ہے اب اگر وہ خدائی نعمتوں کو اپنے تکامل اور ارتقاء کا ذریعہ بنائیں اور راہِ حق میں ان سے مدد حاصل کریں اور ان سے صحیح استفادہ کی صورت میں ان کے لئے شکر ادا کریں تو وہ اپنی نعمتوں کوپائدار کرتا ہے بلکہ اس میں اضافہ کرتا ہے لیکن یہ عنایات اور نعمات اگر طغیان وسرکشی، ظلم وبیداد گری، ترجیح وتبعیض، ناشکری وغرور اور آلودگی وگناہ کا سبب بنیں تو اس صورت میں وہ یہ نعمتیں واپس لے لیتا ہے یا انھیں بلا ومصیبت میں بدل دیتا ہے۔ لہٰذا جو بھی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں در اصل ہماری وجہ سے ہوتی ہیں نعمات الٰہی تو زوال پذیر نہیں ہیں۔ اس ہدف کے بعد قرآن دوبارہ فرعونیوں اور ان سے پہلے کی طاقتور اقوام کے ایک گروہ کی حالت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہتا ہے: نعمتوں کے سلب ہونے اور سخت قسم کے عذابوں کے چنگل میں گرفتار ہونے سے متعلق بت پرستوں کی کیفیت فرعونیوں اور ان سے پہلے کی قوموں جیسی ہے (کَدَاٴْبِ آلِ فِرْعَوْنَ وَالَّذِینَ مِنْ قَبْلِھِمْ)۔ ”انھوں نے بھی پروردگار کی ایات کی تکذیب کی“ اور انھیں پاوٴں تلے روندا جبکہ یہ آیات ان کی ہدایت، تقویت اور سعادت کے لئے نازل ہوئی تھیں (کَذَّبُوا بِآیَاتِ رَبِّھِمْ)۔ ”ہم نے بھی ان کے گناہوں کی وجہ سے انھیں ہلاک کردیا کردیا“ (فَاٴَھْلَکْنَاھُمْ بِذُنُوبِھِمْ)۔ ”اور فرعونیوں کو ہم نے دریا کی موجوں میں غرق کردیا“ (وَاٴَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ)۔ ”اور یہ قومیں اور ان کے افراد ظالم وستمگر تھے، اپنے لئے بھی ظالم تھے اور دوسروں کے لئے بھی (وَکُلٌّ کَانُوا ظَالِمِینَ)۔