۞إِنَّ رَبَّكَ يَعۡلَمُ أَنَّكَ تَقُومُ أَدۡنَىٰ مِن ثُلُثَيِ ٱلَّيۡلِ وَنِصۡفَهُۥ وَثُلُثَهُۥ وَطَآئِفَةٞ مِّنَ ٱلَّذِينَ مَعَكَۚ وَٱللَّهُ يُقَدِّرُ ٱلَّيۡلَ وَٱلنَّهَارَۚ عَلِمَ أَن لَّن تُحۡصُوهُ فَتَابَ عَلَيۡكُمۡۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنَ ٱلۡقُرۡءَانِۚ عَلِمَ أَن سَيَكُونُ مِنكُم مَّرۡضَىٰ وَءَاخَرُونَ يَضۡرِبُونَ فِي ٱلۡأَرۡضِ يَبۡتَغُونَ مِن فَضۡلِ ٱللَّهِ وَءَاخَرُونَ يُقَٰتِلُونَ فِي سَبِيلِ ٱللَّهِۖ فَٱقۡرَءُواْ مَا تَيَسَّرَ مِنۡهُۚ وَأَقِيمُواْ ٱلصَّلَوٰةَ وَءَاتُواْ ٱلزَّكَوٰةَ وَأَقۡرِضُواْ ٱللَّهَ قَرۡضًا حَسَنٗاۚ وَمَا تُقَدِّمُواْ لِأَنفُسِكُم مِّنۡ خَيۡرٖ تَجِدُوهُ عِندَ ٱللَّهِ هُوَ خَيۡرٗا وَأَعۡظَمَ أَجۡرٗاۚ وَٱسۡتَغۡفِرُواْ ٱللَّهَۖ إِنَّ ٱللَّهَ غَفُورٞ رَّحِيمُۢ
Indeed your Lord knows that you stand vigil for nearly two thirds of the night—or [at times] a half or a third of it—along with a group of those who are with you. Allah measures the night and the day. He knows that you cannot calculate it [exactly], and so He was lenient toward you. So recite as much of the Quran as is feasible. He knows that some of you will be sick, while others will travel in the land seeking Allah’s bounty, and yet others will fight in the way of Allah. So recite as much of it as is feasible, and maintain the prayer and pay the zakat and lend Allah a good loan. Whatever good you send ahead for your souls you will find it with Allah [in a form] that is better and greater with respect to reward. And plead to Allah for forgiveness; indeed Allah is all-forgiving, all-merciful.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 73:20
[Pooya/Ali Commentary 73:20] " 'A party of those with you' refers to Ali ibn abi Talib" says Ibn Abbas. Ali was with the Holy Prophet from the beginning of his ministry (refer to the commentary of Ali Imran: 52 and 53). He was the first person to pray salat with the Holy Prophet. It is written in Riyad al Nadrah that at the time of leaving this world the hand of the Holy Prophet was in the hand of Ali; and Ibn Sad writes: "At the time of the Holy Prophet's death his hand was in the lap of Ali. It was Ali who performed the last rites. When he was washing his body Fazal bin Abbas held the Holy Prophet's corpse and Usamah was pouring water." There was several authentic traditions that Ali used to pray salat with the Holy Prophet in the nights. Ma tayassara minal Quran means whichever part of the Quran available to memory or easy to be recited. It may also mean reciting the Quran as much as one can after praying the prescribed salat. The Quran must be recited whole-heartedly and willingly, not as a mechanical ritual nor its recitation should be felt as a burden. According to Ta Ha: 2 the Quran has not been sent down on the Holy Prophet that he should be burdened or distressed. The command of Allah should be willingly complied with. "Fighting in Allah's cause" refers to Jihad. So this verse was revealed in Madina. The reference to prescribed salat and zakat points to the same conclusion. For "the goodly loan" refer to the commentary of Baqarah: 245; Ma-idah: 12; Hadid: 11 and 18 and Taghabun 17. Aqa Mahdi Puya says: This verse explains verses 2 and 3. "A party of those with you" refers to Ali and Abu Dhar according to authentic traditions. As this verse deals with the command which makes easy praying of tahajjud salat the recitation of the Quran refers to its portions to be recited in the said salat. The first and the last verses, if studied together, make it clear that though the night prayer (tahajjud) is highly desirable, yet is not obligatory. There is no compulsion to recite a complete surah in it, whereas in obligatory prayers recitation of a complete surah is compulsory. Allah knew that if night prayer (tahajjud) was made compulsory a large number of believers would not be able to comply with the command, therefore, from the very beginning it was left to the discretion of the believers.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 73:20
1. Life is a journey, not a home, a road, not a city of habitation, and the enjoyment of blessings we have are but little inns on the road side of life, where we may be refreshed for a moment in which we may, with new strength, press on to the end. 2. Life is the soul’s nursery; it is a training place for destiny for Eternithy, a sacred life of burden you bear. Look on it; bear it solemnly, fail not for sorrow, falter not for sin, but onward, upward until the goal, you win.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
جتنا تمھارے لیے ممکن ہے اتنا قرآن پڑھو
تفسیر جتنا تمھارے لیے ممکن ہے اتنا قرآن پڑھو یہ آیت جو اس سورہ کی طویل ترین آیت ہے بہت سے ایسے مسائل پر مشتمل ہے جو گزشتہ آیات کے مضامین کی تکمیل کرتے ہیں، اس بارے میں کہ یہ آیت اس سورہ کی ابتدائی آیات کے احکام کی ناسخ ہے، یا یہ ان کی توضیح و تفسیر ہے، اور اسی طرح یہ کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ ان سوالات کا جواب آیت کی تفسیر کے بعد واضع ہوجاتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے : "تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تواور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے،تقریبًا رات کی دوتہائی یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتا ہے۔ خدا اس آگاہ کیوں نہ ہوگا، جبکہ رات اور دن کا اندازہ وہی کرتا ہے"۔(اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ)۔ ؎ 1 یہ اسی حکم کی طرف اشارہ ہے، جو سورہ کے آغاز میں پیغمبر کو دیا گیا ہے صرف ایک چیز جس کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس عبادت شبانہ میں مومنین کا ایک گروہ بھی پیغمبر کے ہمراہ ہوتا تھا (ایک استجابی حکم کے عنوان سے یا احتمالًا ایک وجوبی حکم کی بناء پر، کیونکہ آغازِاسلام کے حالات کا تقاضا ہی یہ تھا کہ وہ تلاوتِ قران کے ذریعہ، جو انواع و اقسام کے اعتقادی، عملی اور اخلاقی درسوں پر مشتلم ہے، اور اسی طرح عباداتِ شبانہ کے ذریعہ اپنی تربیت اور اصلاح کریں، اور اسلام کی تبلیغ اور اس کے دفاع کے لیے خود کو آمادہ اور تیار کریں) لیکن جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، بہت سے مسلمان ایک تہائی ، آدھی رات اور دوتہائی رات کا حساب رکھنے میں مشکل اور دوسری میں گرفتار ہوجاتے ہیں (اور اس وجہ سے کبھی تو وہ ساری رات بیدار رہتے تھےاور عبادت میں مشغول رہتے تھے، یہاں تک کہ ان کے پاؤں عبادتِ شبانہ میں ورم کرجاتے ہیں۔ ) لہذا خدا نے ان پر اس حکم میں تخفیف کر دی اور فرمایا : "وہ جانتا ہے کہ تم مزکورہ مقدارکا پورے طور اندازہ نہیں لگا سکتے، اس بناء پر اس نے تمھیں بخش دیا،لہذا اب قرآن میں سے جتنی مقدار تمھارے لیے میسر اور آسان ہواتنی تلاوت کرو"۔(ۚ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "نصفۃ" اور "ثلثہ" کا عطف "ادنٰی" پر ہے نہ کہ "ثلثی اللیل" پر اس بناء پر اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ تقیباً رات کی دوتہائی یا ٹھیک آدھی رات کی مقدار یا ایک تہائی رات، ضمنی طور پر توجہ کرنی چاہیے کہ لفظ "ادنٰی" عام طور پر نزدیک مکان کے لیے بولا جاتا پے، لیکن یہاں قریبی زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "لن تحصوہ" "احصاء" کے مادہ سے شمار کرنے کے معنی میں ہے، یعنی تم پورے طور پر وقت کے ساتھ رات کا وقت دوتہائی، آدھی رات اور ایک تہائی کی مقدار کے لحاظ سے تعین نہیں کرسکتے اور زحمت میں پڑجاتے ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس کام پر سال کے سارے دنوں میں مداومت نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں بھی جب کہ کئی وسائل کے ذریعہ موقع پر نیند سے بیدار ہوسکتے ہیں۔ سارے سال میں ان مقداروں کی وقت کے ساتھ تعین ــــــــــــ خصوصًا رات اور دن میں مسلسل فرق پڑتے رہنے کے ساتھ ــــــــ کئی آسان کام نہیں۔ "تاب علیکم" کے جملہ کو اکثر مفسرین نے "اس تکلیف اور زمہ داری کی تخفیف" کے معنی میں بیان کیا ہے ، نہ کہ "گناہ سے توبہ" کے معنی میں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جب وجوب کا حکم اٹھ جاۓ تو ہھر کئی گناہ نہیں ہوتا ہے اور نتیجہ میں خدا کی بخشش کے مانند ہوگا۔ اس بارے میں کہ "فاقراءواما تیسر من القراٰن" جو کچھ قرآن میں سے تمھارے لیے میسر، پڑھو" کے جملہ سے کیا مراد ہے؟ بہت زیادہ اختلاف ۔ ایک جماعت نے اس کی نماز تہجد سے تفسیر کی ہے، کیونکہ اس میں حتمی طور پر قرآنی آیات پڑھی جاتی ہیں اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہی تلاوت قرآن ہے، چاہے وہ نماز کے اندر نہ ہو، اس کے بعد بعض نے اس کی مقدار پچاس آیات، بعض نے سو آیات اور بعض نے دوسو آیات کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔ لیکن ان میں سے کسی بھی تعداد کے لیے کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جتنی مقدار سے انسان زحمت و تکلیف میں پڑے اتنا قرآن پڑھے۔ یہ بات واضح ہے کہ "تلاوتِ قرآن" سے مراد یہاں وہ تلاوت ہے، جو درس و خود سازی اور ایمان و تقوٰی کی پرورش میں تعلیم عنوان سے ہو۔ اس کے بعد اس تخفیف کے لیے ایک دلیل کے بیان کو پیش کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے : "خدا جانتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ بیمار بھی ہوں گے اور دوسرا گروہ تحصیل معاش اور راہِ خدا میں جہاد کرےگا۔ یہ امور اس چیز سے مانع ہوں گے کہ رات کی عبادت کو اس حساب اور نصاب کو پہلے متعین ہوا ہے، ہمیشہ کے لیے انجام دیتےرہیں"۔(عَلِمَ اَنْ سَيَكُـوْنُ مِنْكُم مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِى الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ)۔ اور یہی چیز اس پروگرام میں تخفیف کا ایک سبب ہے لہذا دوبارہ تکرار کرتا ہے : "اب جبکہ ایسا ہے تو جس قدر تمھارے لیے ممکن ہے اور جتنی تم میں طاقت ہے بس اتنا رات کو قرآن تلاوت کرو"۔(فا اقرء واما تیسرمنہ)۔ یہ بات واضح ہے کہ بیماری اور ضروری سفروں اور اللہ کی راہ میں جہاد کا ذکر ، نمایاں عزروں کی تین مثالوں میں سے ہے۔ لیکن انھیں تک منحصر نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ چونکہ خدا جانتا ہے کہ تم دن میں زندگی کے مختلف مشکلات میں گرفتار ہوگئے اور یہ چیز اس سنگین پرگرام کو دائمی رکھنے میں مانع ہے۔ لہذا اس نے تمھارے لیے اس میں تخفیف کردی ہے۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ حکم ، اس چیز کو، جو سورہ کے آغاز میں آئی ہے، منسوخ کرتا ہے؟ یا اس کے لیے استثنائی صورت میں ہے؟ آیات کا ظاہر حکم سابق کے نسخ کو بتاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ضروری تھی کہ یہ پروگرام ایک مدت رہے، اور وہ جاری رہا، اور اس حکم کا مقصد ، جو ایک موقت اور فوق العادہ پہلو رکھتا تھا وہ حاصل ہوگیا اور اس مدت کے ختم ہونے کے بعد ، تخفیف کی صورت میں باقی رہ گیا، کیونکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ معذور افراد کے موجود ہونے کی وجہ سے، اس حکم کی سب کے لیے تخفیف ہوگئی، نہ کہ صرف معذرو لوگوں کے لیے، اس طرح سے یہ استنثناء نہیں ہوسکتی، بلکہ اسے نسخ ہونا چاہیے (غور کیجیے) یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ : کیا قرآن میں سے ممکن مقدار کی تلاوت، جس کا اس آیت میں دو مرتبہ امر ہوا ہے، واجب ہے ، یا مستحب ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ یقینی طور پر مستحب ہے اور بعض نے وجوب کا احتمال دیا ہے، کیونکہ قرآن کی تلاوت، توحید کے دلائل ، ارسال رسل اور اس آسمانی کتاب کے اعجاز سے آگاہی اور باقی واجبات دین کی تعلیم حاصل کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ اس بناء پر تلاوتِ قرآن مقدمہ واجب ہے لہذا یہ واجب ہوگیا۔ لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ اس صورت میں ضروری نہیں ہے کہ قرآن کو رات کوہی پڑھے، یا نماز تہجد کے درمیان پڑھے۔ بلکہ ہر مکلف (بالغ و عاقل) پر واجب ہے کہ بمقدار لازم، تعلیم و تربیت اور اصول و فروغ اسلام سے آگاہی کے لیے، اور اسی طرح قرآن کو محفوظ رکھنے اور اسے انے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے، تلاوت کرے، بغیر اس کے کہ کوئی خاص وقت اور زمانہ اس میں پیش نظر ہو۔ لیکن حق بات یہ کہ "فاقرء وا ......." کے جملہ میں ظاہر امروجوب ہے (جیسا کہ اصول فقہ میں بیان ہوا ہے)۔ مگر یہ کہ کہا جاۓ کہ یہ "امر" عدم وجوب پر فقہاء کے اجماع کی بناء پر ایک امر استجابی ہے اور اس کا نتیہج یہ ہوگا کہ آغاز اسلام میں تو حالات و شرائط کی بناء پر یہ تلاوت اور شبانہ عبادت واجب تھی اور بعد میں مقدار کے لحاظ سے بھی اور حکم کے لحاظ سے بھی اس میں تخفیف کردی گئی ہے اور اس نے ایک استجابی حکم کی صورت اختیار کرلی ہے اور وہ بھی اتنا جتنا کہ آسانی سے ہوسکے، لیکن بہرحال پیغمبر اسلام پر نماز تہجد کو وجوب آخر عمر تک ثابت رہا ۔ (تمام آیات قرآن اور روایات کے قرینہ سے)۔ "دوتہائی رات یا آدھی رات یا ایک تہائی رات سے مربوط حکم منسوخ ہوگیا ہے، اور اس کی جگہ فاقرء واما تیسر من القراٰن" قرار پایا ہے۔ ؎ 1 قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں تین قسم کے عذر بیان کیے گئے ہیں ۔ جن میں سے ایک تو جسمانی پہلو رکھتاہے (بیماری) اور دوسرا مالی پہلو رکھتا ہے (معاش کے لیے مسافرت) اور تیسرا دینی جنبہ رکھتا ہے(راہِ خدا میں جہاد) لہذا بعض نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاش کی تلاش اور اس کت لیے کوشش کرنا، جہاد فی سبیل اللہ کے ہم ردیف ہے۔ اور اس جملہ کو اس بات کی دلیل سمجھا ہے کہ خاص یہ آیت ندینہ میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ مکہ میں جہاد کا وجوب نہیں تھ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ وہ فرماتا ہے : سیکون : (عنقریب ہوگا)۔ ممکن ہے یہ جملہ آئندہ زمانہ میں تشریح جہاد کی خبر ہو یعنی چونکہ کچھ عزر تو تم زمانہ حال میں رکھتے ہو اور کچھ اور عزر آیندہ تمھارے لیے پیدا ہوگا۔اس لیے یہ حکم دائمی صرت میں مہیں آیا اور اس صورت میں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر نورالثقلین جلد 5 ص 451 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیت کے مکی ہونے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا۔ اس بعد اس آیت کے آخر میں چار اور احکام کی طرف اشارہ کیا ہے اور خود سازی کا جو پروگرام پیش کیا گیا ےھا، اس کی اس چیز کے ذریعہ تکمیل کرتا ہے فرماتا ہے : "نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو،اور مستحب انفاق کرنے سے خدا کو قرضِ حسنہ دو، اور (یہ جان لو) کہ جو کارہاۓ خیر تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو، تم اس کا خدا ہاں بہترین صورت میں عظیم ترین اجر پاؤگے"۔ (وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا )۔ "اوراستغفار کرو خدا سے بخشش طلب کرو کہ خدا غفورورحیم ہے "۔ (وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ )۔ یہ چاروں حکم (نماز، زکوٰت، مستحب انفاق اور استغفار) تلاوت کے حکم اور قران میں تدبر کے ضمیمہ کے ساتھ ــــــ جو ماقبل کے جملوں میں بیان ہوا تھا ـــــــ مجموعی طور پر خود سازی کا ایک مکمل پروگرام پیش کرتے ہیں، جو ہر عصر اورزمانہ میں خصوصًا آغازِ اسلام میں ناقابل انکار تاثیر رکھتا تھا اور رکھتا ہے۔ یہاں "نماز" سے مراد پنجگانہ نمازیں ہیں اور "زکوٰۃ" سے مراد زکوٰۃ واجب ہے اور "قرضِ حسنہ" دینے سے مراد وہی مستحب انفاق اور خرچ ہیں، اور یہ انتہائی بزرگوارانہ تعبیر ہے جس کا اس سلسلہ میں تصور کیا جاسکتا ہے، کیونکہ تمام ملکیتوں کا مالک اس شخص سے قرض مانگ رہا ہے، جس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہے، تاکہ اس طریقہ سے انفاق و ایثار اور اس عملِ خیر کے ذریعہ کسبِ فضیلت کا شوق بڑھے اور اس طریقہ سے اس کی تربیت ہو اور وہ تکامل وار تقاء حاصل کرے۔ ان احکام کے اخر میں استغفار کا ذکر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان اطاعتوں کی انجام دہی کی وجہ سے خود کو انسان کامل سمجھ بیٹھو ، اور اصطلاح کے مطابق خود کو طلب گار تصور کرنے لگو، بلکہ تمھیں ہمیشہ اپنے آپ کو مقصر شمار کرنا چاہیے اور بارگاہِ خدا میں عزرو معزرت کرتے رہنا چاہیے، ورنہ جو کچھ اس کی خداوندی کے لائق اور سزاوار ہے وہ کوئی شخص بھی بجا نہیں لاسکتا۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ ان حکام پر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ تصور نہ کرلیا جاۓ کہ اگر شبانہ قیام اور تلاوتِ قرآن میں تحفیف کر دی گئی تو باقی پروگراموں اوردینی احکام میں بھی اثر انداز ہوگی، بلکہ وہ اسی طرح اپنی حالت پر باقی ہیں ۔ ؎ 1 ضمنی طور پر زکوٰۃ واجب کے ذکر کو یہاں اس آیت کے مدنی ہونے کی ایک اور دلیل قرار دیتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا تھا نہ کہ مکہ میں۔ لیکن بعض نے کہا ہے، اصل حکمِ زکوٰۃ مکہ میں ہی نازل ہوا تھا لیکبن اس کا نصا﷽ اور اس کی مقدار بیان نہیں ہوۓ تھے، وہ چیز جو مدینہ میں تشریع ہوئی وہ زکوٰۃ کے نصاب اور مقدر کا مسئلہ تھا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر المیزان ، جلد 20 ص 156 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
جتنا تمھارے لیے ممکن ہے اتنا قرآن پڑھو
تفسیر جتنا تمھارے لیے ممکن ہے اتنا قرآن پڑھو یہ آیت جو اس سورہ کی طویل ترین آیت ہے بہت سے ایسے مسائل پر مشتمل ہے جو گزشتہ آیات کے مضامین کی تکمیل کرتے ہیں، اس بارے میں کہ یہ آیت اس سورہ کی ابتدائی آیات کے احکام کی ناسخ ہے، یا یہ ان کی توضیح و تفسیر ہے، اور اسی طرح یہ کہ یہ آیت مکہ میں نازل ہوئی ہے یا مدینہ میں مفسرین کے درمیان شدید اختلاف ہے۔ ان سوالات کا جواب آیت کی تفسیر کے بعد واضع ہوجاتا ہے۔ پہلے فرماتا ہے : "تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تواور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے،تقریبًا رات کی دوتہائی یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتا ہے۔ خدا اس آگاہ کیوں نہ ہوگا، جبکہ رات اور دن کا اندازہ وہی کرتا ہے"۔(اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ)۔ ؎ 1 یہ اسی حکم کی طرف اشارہ ہے، جو سورہ کے آغاز میں پیغمبر کو دیا گیا ہے صرف ایک چیز جس کا یہاں اضافہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس عبادت شبانہ میں مومنین کا ایک گروہ بھی پیغمبر کے ہمراہ ہوتا تھا (ایک استجابی حکم کے عنوان سے یا احتمالًا ایک وجوبی حکم کی بناء پر، کیونکہ آغازِاسلام کے حالات کا تقاضا ہی یہ تھا کہ وہ تلاوتِ قران کے ذریعہ، جو انواع و اقسام کے اعتقادی، عملی اور اخلاقی درسوں پر مشتلم ہے، اور اسی طرح عباداتِ شبانہ کے ذریعہ اپنی تربیت اور اصلاح کریں، اور اسلام کی تبلیغ اور اس کے دفاع کے لیے خود کو آمادہ اور تیار کریں) لیکن جیسا کہ بعض روایات سے معلوم ہوتا ہے، بہت سے مسلمان ایک تہائی ، آدھی رات اور دوتہائی رات کا حساب رکھنے میں مشکل اور دوسری میں گرفتار ہوجاتے ہیں (اور اس وجہ سے کبھی تو وہ ساری رات بیدار رہتے تھےاور عبادت میں مشغول رہتے تھے، یہاں تک کہ ان کے پاؤں عبادتِ شبانہ میں ورم کرجاتے ہیں۔ ) لہذا خدا نے ان پر اس حکم میں تخفیف کر دی اور فرمایا : "وہ جانتا ہے کہ تم مزکورہ مقدارکا پورے طور اندازہ نہیں لگا سکتے، اس بناء پر اس نے تمھیں بخش دیا،لہذا اب قرآن میں سے جتنی مقدار تمھارے لیے میسر اور آسان ہواتنی تلاوت کرو"۔(ۚ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ)۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ "نصفۃ" اور "ثلثہ" کا عطف "ادنٰی" پر ہے نہ کہ "ثلثی اللیل" پر اس بناء پر اس جملہ کا مفہوم یہ ہے کہ تقیباً رات کی دوتہائی یا ٹھیک آدھی رات کی مقدار یا ایک تہائی رات، ضمنی طور پر توجہ کرنی چاہیے کہ لفظ "ادنٰی" عام طور پر نزدیک مکان کے لیے بولا جاتا پے، لیکن یہاں قریبی زمانہ کی طرف اشارہ ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ "لن تحصوہ" "احصاء" کے مادہ سے شمار کرنے کے معنی میں ہے، یعنی تم پورے طور پر وقت کے ساتھ رات کا وقت دوتہائی، آدھی رات اور ایک تہائی کی مقدار کے لحاظ سے تعین نہیں کرسکتے اور زحمت میں پڑجاتے ہو۔ بعض نے یہ بھی کہا تھا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ تم اس کام پر سال کے سارے دنوں میں مداومت نہیں کرسکتے۔ یہاں تک کہ موجودہ زمانہ میں بھی جب کہ کئی وسائل کے ذریعہ موقع پر نیند سے بیدار ہوسکتے ہیں۔ سارے سال میں ان مقداروں کی وقت کے ساتھ تعین ــــــــــــ خصوصًا رات اور دن میں مسلسل فرق پڑتے رہنے کے ساتھ ــــــــ کئی آسان کام نہیں۔ "تاب علیکم" کے جملہ کو اکثر مفسرین نے "اس تکلیف اور زمہ داری کی تخفیف" کے معنی میں بیان کیا ہے ، نہ کہ "گناہ سے توبہ" کے معنی میں۔ یہ احتمال بھی ہے کہ جب وجوب کا حکم اٹھ جاۓ تو ہھر کئی گناہ نہیں ہوتا ہے اور نتیجہ میں خدا کی بخشش کے مانند ہوگا۔ اس بارے میں کہ "فاقراءواما تیسر من القراٰن" جو کچھ قرآن میں سے تمھارے لیے میسر، پڑھو" کے جملہ سے کیا مراد ہے؟ بہت زیادہ اختلاف ۔ ایک جماعت نے اس کی نماز تہجد سے تفسیر کی ہے، کیونکہ اس میں حتمی طور پر قرآنی آیات پڑھی جاتی ہیں اور بعض نے یہ کہا ہے کہ اس سے مراد وہی تلاوت قرآن ہے، چاہے وہ نماز کے اندر نہ ہو، اس کے بعد بعض نے اس کی مقدار پچاس آیات، بعض نے سو آیات اور بعض نے دوسو آیات کے ساتھ تفسیر کی ہے ۔ لیکن ان میں سے کسی بھی تعداد کے لیے کوئی خاص دلیل موجود نہیں ہے۔ بلکہ آیت کا مفہوم یہ ہے کہ جتنی مقدار سے انسان زحمت و تکلیف میں پڑے اتنا قرآن پڑھے۔ یہ بات واضح ہے کہ "تلاوتِ قرآن" سے مراد یہاں وہ تلاوت ہے، جو درس و خود سازی اور ایمان و تقوٰی کی پرورش میں تعلیم عنوان سے ہو۔ اس کے بعد اس تخفیف کے لیے ایک دلیل کے بیان کو پیش کرتے ہوۓ مزید کہتا ہے : "خدا جانتا ہے کہ تم میں سے ایک گروہ بیمار بھی ہوں گے اور دوسرا گروہ تحصیل معاش اور راہِ خدا میں جہاد کرےگا۔ یہ امور اس چیز سے مانع ہوں گے کہ رات کی عبادت کو اس حساب اور نصاب کو پہلے متعین ہوا ہے، ہمیشہ کے لیے انجام دیتےرہیں"۔(عَلِمَ اَنْ سَيَكُـوْنُ مِنْكُم مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِى الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ)۔ اور یہی چیز اس پروگرام میں تخفیف کا ایک سبب ہے لہذا دوبارہ تکرار کرتا ہے : "اب جبکہ ایسا ہے تو جس قدر تمھارے لیے ممکن ہے اور جتنی تم میں طاقت ہے بس اتنا رات کو قرآن تلاوت کرو"۔(فا اقرء واما تیسرمنہ)۔ یہ بات واضح ہے کہ بیماری اور ضروری سفروں اور اللہ کی راہ میں جہاد کا ذکر ، نمایاں عزروں کی تین مثالوں میں سے ہے۔ لیکن انھیں تک منحصر نہیں ہے۔ مراد یہ ہے کہ چونکہ خدا جانتا ہے کہ تم دن میں زندگی کے مختلف مشکلات میں گرفتار ہوگئے اور یہ چیز اس سنگین پرگرام کو دائمی رکھنے میں مانع ہے۔ لہذا اس نے تمھارے لیے اس میں تخفیف کردی ہے۔ اب یہ سوال سامنے آتا ہے کہ کیا یہ حکم ، اس چیز کو، جو سورہ کے آغاز میں آئی ہے، منسوخ کرتا ہے؟ یا اس کے لیے استثنائی صورت میں ہے؟ آیات کا ظاہر حکم سابق کے نسخ کو بتاتا ہے۔ حقیقت میں یہ ضروری تھی کہ یہ پروگرام ایک مدت رہے، اور وہ جاری رہا، اور اس حکم کا مقصد ، جو ایک موقت اور فوق العادہ پہلو رکھتا تھا وہ حاصل ہوگیا اور اس مدت کے ختم ہونے کے بعد ، تخفیف کی صورت میں باقی رہ گیا، کیونکہ آیت کا ظاہر یہ ہے کہ معذور افراد کے موجود ہونے کی وجہ سے، اس حکم کی سب کے لیے تخفیف ہوگئی، نہ کہ صرف معذرو لوگوں کے لیے، اس طرح سے یہ استنثناء نہیں ہوسکتی، بلکہ اسے نسخ ہونا چاہیے (غور کیجیے) یہاں ایک اور سوال سامنے آتا ہے کہ : کیا قرآن میں سے ممکن مقدار کی تلاوت، جس کا اس آیت میں دو مرتبہ امر ہوا ہے، واجب ہے ، یا مستحب ہے؟ بعض نے تو یہ کہا ہے کہ یہ یقینی طور پر مستحب ہے اور بعض نے وجوب کا احتمال دیا ہے، کیونکہ قرآن کی تلاوت، توحید کے دلائل ، ارسال رسل اور اس آسمانی کتاب کے اعجاز سے آگاہی اور باقی واجبات دین کی تعلیم حاصل کرنے کا سبب ہوتا ہے۔ اس بناء پر تلاوتِ قرآن مقدمہ واجب ہے لہذا یہ واجب ہوگیا۔ لیکن اس بات پر توجہ رکھنی چاہیے کہ اس صورت میں ضروری نہیں ہے کہ قرآن کو رات کوہی پڑھے، یا نماز تہجد کے درمیان پڑھے۔ بلکہ ہر مکلف (بالغ و عاقل) پر واجب ہے کہ بمقدار لازم، تعلیم و تربیت اور اصول و فروغ اسلام سے آگاہی کے لیے، اور اسی طرح قرآن کو محفوظ رکھنے اور اسے انے والی نسلوں تک پہنچانے کے لیے، تلاوت کرے، بغیر اس کے کہ کوئی خاص وقت اور زمانہ اس میں پیش نظر ہو۔ لیکن حق بات یہ کہ "فاقرء وا ......." کے جملہ میں ظاہر امروجوب ہے (جیسا کہ اصول فقہ میں بیان ہوا ہے)۔ مگر یہ کہ کہا جاۓ کہ یہ "امر" عدم وجوب پر فقہاء کے اجماع کی بناء پر ایک امر استجابی ہے اور اس کا نتیہج یہ ہوگا کہ آغاز اسلام میں تو حالات و شرائط کی بناء پر یہ تلاوت اور شبانہ عبادت واجب تھی اور بعد میں مقدار کے لحاظ سے بھی اور حکم کے لحاظ سے بھی اس میں تخفیف کردی گئی ہے اور اس نے ایک استجابی حکم کی صورت اختیار کرلی ہے اور وہ بھی اتنا جتنا کہ آسانی سے ہوسکے، لیکن بہرحال پیغمبر اسلام پر نماز تہجد کو وجوب آخر عمر تک ثابت رہا ۔ (تمام آیات قرآن اور روایات کے قرینہ سے)۔ "دوتہائی رات یا آدھی رات یا ایک تہائی رات سے مربوط حکم منسوخ ہوگیا ہے، اور اس کی جگہ فاقرء واما تیسر من القراٰن" قرار پایا ہے۔ ؎ 1 قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیر بحث آیت میں تین قسم کے عذر بیان کیے گئے ہیں ۔ جن میں سے ایک تو جسمانی پہلو رکھتاہے (بیماری) اور دوسرا مالی پہلو رکھتا ہے (معاش کے لیے مسافرت) اور تیسرا دینی جنبہ رکھتا ہے(راہِ خدا میں جہاد) لہذا بعض نے یہ کہا ہے کہ اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ معاش کی تلاش اور اس کت لیے کوشش کرنا، جہاد فی سبیل اللہ کے ہم ردیف ہے۔ اور اس جملہ کو اس بات کی دلیل سمجھا ہے کہ خاص یہ آیت ندینہ میں نازل ہوئی ہے۔ کیونکہ مکہ میں جہاد کا وجوب نہیں تھ، لیکن اس بات کی طرف توجہ کرتے ہوۓ کہ وہ فرماتا ہے : سیکون : (عنقریب ہوگا)۔ ممکن ہے یہ جملہ آئندہ زمانہ میں تشریح جہاد کی خبر ہو یعنی چونکہ کچھ عزر تو تم زمانہ حال میں رکھتے ہو اور کچھ اور عزر آیندہ تمھارے لیے پیدا ہوگا۔اس لیے یہ حکم دائمی صرت میں مہیں آیا اور اس صورت میں ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر نورالثقلین جلد 5 ص 451 ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آیت کے مکی ہونے کے ساتھ تضاد نہیں رکھتا۔ اس بعد اس آیت کے آخر میں چار اور احکام کی طرف اشارہ کیا ہے اور خود سازی کا جو پروگرام پیش کیا گیا ےھا، اس کی اس چیز کے ذریعہ تکمیل کرتا ہے فرماتا ہے : "نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو،اور مستحب انفاق کرنے سے خدا کو قرضِ حسنہ دو، اور (یہ جان لو) کہ جو کارہاۓ خیر تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو، تم اس کا خدا ہاں بہترین صورت میں عظیم ترین اجر پاؤگے"۔ (وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا )۔ "اوراستغفار کرو خدا سے بخشش طلب کرو کہ خدا غفورورحیم ہے "۔ (وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ )۔ یہ چاروں حکم (نماز، زکوٰت، مستحب انفاق اور استغفار) تلاوت کے حکم اور قران میں تدبر کے ضمیمہ کے ساتھ ــــــ جو ماقبل کے جملوں میں بیان ہوا تھا ـــــــ مجموعی طور پر خود سازی کا ایک مکمل پروگرام پیش کرتے ہیں، جو ہر عصر اورزمانہ میں خصوصًا آغازِ اسلام میں ناقابل انکار تاثیر رکھتا تھا اور رکھتا ہے۔ یہاں "نماز" سے مراد پنجگانہ نمازیں ہیں اور "زکوٰۃ" سے مراد زکوٰۃ واجب ہے اور "قرضِ حسنہ" دینے سے مراد وہی مستحب انفاق اور خرچ ہیں، اور یہ انتہائی بزرگوارانہ تعبیر ہے جس کا اس سلسلہ میں تصور کیا جاسکتا ہے، کیونکہ تمام ملکیتوں کا مالک اس شخص سے قرض مانگ رہا ہے، جس کی اپنی کوئی چیز نہیں ہے، تاکہ اس طریقہ سے انفاق و ایثار اور اس عملِ خیر کے ذریعہ کسبِ فضیلت کا شوق بڑھے اور اس طریقہ سے اس کی تربیت ہو اور وہ تکامل وار تقاء حاصل کرے۔ ان احکام کے اخر میں استغفار کا ذکر ممکن ہے کہ اس بات کی طرف اشارہ ہو کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ تم ان اطاعتوں کی انجام دہی کی وجہ سے خود کو انسان کامل سمجھ بیٹھو ، اور اصطلاح کے مطابق خود کو طلب گار تصور کرنے لگو، بلکہ تمھیں ہمیشہ اپنے آپ کو مقصر شمار کرنا چاہیے اور بارگاہِ خدا میں عزرو معزرت کرتے رہنا چاہیے، ورنہ جو کچھ اس کی خداوندی کے لائق اور سزاوار ہے وہ کوئی شخص بھی بجا نہیں لاسکتا۔ بعض مفسرین کا نظریہ یہ ہے کہ ان حکام پر اس لیے کیا گیا ہے تاکہ یہ تصور نہ کرلیا جاۓ کہ اگر شبانہ قیام اور تلاوتِ قرآن میں تحفیف کر دی گئی تو باقی پروگراموں اوردینی احکام میں بھی اثر انداز ہوگی، بلکہ وہ اسی طرح اپنی حالت پر باقی ہیں ۔ ؎ 1 ضمنی طور پر زکوٰۃ واجب کے ذکر کو یہاں اس آیت کے مدنی ہونے کی ایک اور دلیل قرار دیتے ہیں ، کیونکہ زکوٰۃ کا حکم مدینہ میں نازل ہوا تھا نہ کہ مکہ میں۔ لیکن بعض نے کہا ہے، اصل حکمِ زکوٰۃ مکہ میں ہی نازل ہوا تھا لیکبن اس کا نصا﷽ اور اس کی مقدار بیان نہیں ہوۓ تھے، وہ چیز جو مدینہ میں تشریع ہوئی وہ زکوٰۃ کے نصاب اور مقدر کا مسئلہ تھا۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 تفسیر المیزان ، جلد 20 ص 156 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
آیت 20
20- اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ ۚ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۚ عَلِمَ اَنْ سَيَكُـوْنُ مِنْكُم مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِى الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ ترجمہ 20- تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تواور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے، رات کی دوتہائی کے قریب یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتے ہیں اور خدا رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تم اس کی مقدارکا (وقت کے ساتھ) اندازہ نہیں کرسکتے، اس لیے اس نے تمھیں بخش دیا، اب تم قرآن کی صرف اتنی ہی مقدار جو تمھارے لیے میسر ہو، تلاوت کرو، وہ جانتا ہے کہ عبقریب تم میں سے ایک گروہ بیماری بھی ہوجاۓگا اور ایک فضل خدا حاصل کرنے (اور روزی کمانے کے لیے) سفر پر جاۓ گا اور ایک گروہ راہِ خدامیں جہاد کرے گا۔ پس جتنی مقدار تمھارے لیے ممکن ہو، اس کی تلاوت کرو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو، اور خدا کو قرضِ حسنہ دو(اس کی راہ میں خرچ کرو) اور (یہ جان لو) کہ جو کارخیر تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو، تم اس کا خدا ہاں بہترین صورت میں عظیم ترین اجر پاؤگے اور خدا سے طلبِ مغفرت کرو کہ خدا غفورورحیم ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
1: عقیدت کے ساتھ عملی آمادگی کی ضرورت
چند نکات عقیدت کے ساتھ علمی آمادگی کی ضرورت اہم اجتماعی کاموں کو انجام دینے کے لیے ـــــــ خاص طور پر زندگی کے تمام حالات میں ایک وسیع و عریض انقلاب پیدا کرنے کے لیے ـــــــــ ہر چیز سے پہلے ایک انسانی پختہ اور مصمم طاقت کی ضرورت ہے، جو اس کام کے لیے ، راسخ اعتقاد، ممکل آگاہی، ضروری علمی و فکری تعلیمات اور اخلاقی تربیت کے ساتھ بنی ہو۔ اور یہ ایسا دقیق کام تھا جسے پیغمبراسلامؐ نے، مکہ میں بعثت کے ابتدائی سالوں میں، بلکہ اپنی عمر کے سارے عرصہ میں انجام دیا اور اسی بناء پر اور اسی محکم بنیاد کی وجہ سے، اسلام کے پودے نے سرعت کے ساتھ نشوونما پائی، کونپلیں پھوٹیں اور شاخ و برگ نکالے۔ جو کچھ اس سورہ میں آیا ہے ، وہ اس حساب شدہ اور جچے تلے پروگرام کا ایک زندہ اور بہت منہ بولتا نمونہ ہے، دوتہائی رات یا کم ازکم ایک تہائی رات کے عبادت نے ـــــــــــ جو تلاوت اور قرآن مجید کی آیات میں غورو خوض کے ساتھ توام تھی ـــــــــــ مسلمانوں کی روح میں عجیب و غریب تاثیر پیدا کردی اور انھیں "قول ثقیل" اور "سجل طویل" کو قبول کرنے کے لیے آمادہ کردیا۔ یہ رات کی حرکات اور "شبانہ ناشئات" جو قرآنی تعبیر کے مطابق "اشد و طئًا " اور "اقوم قیلًا" تھیں، آخر کار انھوں نے اپنا کام دکھایا اور محروم عوام اور مستضعف طبقات کا ایک چھوٹا سا گروہ اس طرح کا بن گیا کہ انھوں نے جہان کے ایک عظیم حصہ پر حکومت کرنے کی لیاقت پیدا کرلی۔ اور آج بھی اگر ہم مسلمان چاہیں کہ اپنی دیرینہ عظمت و قدرت کو دوبارہ حاصل کرلیں تو وہ راستہ یہی راستہ ہے اور وہ پروگرام یہی پروگرام ہے ہمیں ہرگز توقع نہیں رکھنی چاہیے کہ ہم ایسے افراد کے ساتھ، جو فکر و نظر اور ایمان کے لحاظ سے ضعیف و ناتواں ہیں ، ایسے افراد جنھوں نے ضروری علمی اور اخلاقی تربیت حاصل نہیں کی۔ "یہودیوں" کے تسلط اور غلبہ کو اسلامی ممالک کے اندر سے باہر نکال پھینکیں گے اور جھوٹی جنا پتکار سپر طاقتوں کے ہاتھ کو اسلامی ممالک تک نہیں پہنچنے دیں گے۔ یہ ایک لمبی داستان ہے، لیکن "آنجا کہ کس است یک حرف بس است" ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
معاش کی تلاش، جہاد کے ہمردیف
3- معاش کی تلاش جہاد کے ہمردیف اوپر والی آیات میں ــــــــــ جیسا کہ ہم نے دیکھ لیا ہے ــــــــــ زندگی بسر کرنے کے لیے تلاش معاش کو "جہاد فی سبیل اللہ" کے ساتھ قرار دیا ہے اور اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ اس موضوع کے لیے بہت زیادہ اہمیت کا قائل ہے اور ایسا کیوں نہ ہو۔ حالانکہ ایک فقیر ، بھوکی اور دوسروں کی محتاج قوم ہرگز استقلال ، عظمت اور سر بلندی حاصل نہیں کر پاۓ گی اور اصولی طور پر "جہاداقتصادی" "دشمن کے ساتھ جہاد" کا ایک حصہ ہے۔ اس سلسلہ میں مشہور صحابی عبداللہ بن مسعود کا ایک جملہ نقل ہوا ہے، وہ فرماتے ہیں : ایما رجل جلب شیئًا الی مدینۃ من مدائن المسلمین ، صابرًا محتسبا،فباعہ بسعریومہ،کان عنداللہ بمنزلۃالشھداء،ثم قرا "واٰخرون یضربون فی الارض"....... "جو شخص کچھ مال مسلمانوں کے شہر میں لے جاۓ اور اس راہ میں اپنی زحمتوں کو خدا کے لیے محسوب کرے اور پھر اس کو اس دن کی عادلانہ قیمت میں فروخت کردے تو ایسا شخص خدا کی بارگاہ میں شہیدوں کی منزلت رکھتا پے۔اس کے بعد انھوں نے سورہ مزمل کی آخری آیت کے اس جملہ کو شاہد کے عنوان سے تلاوت کیا'(واٰخرون یضربون فی الارض)۔ ــــــــــــــــــــــ خداوندا! ہمیں تمام ابعاد و جہات میں جہاد کرنے کی توفیق عطا فرما۔ بارالٰہا! ہم سب کو رات کے قیام ، اور قرآن کریم کی تلاوت اور اس آسمانی کتاب کے نور کے سایہ میں اپنی اصلاح کی توفیق مرحمت فرما۔ پروردگارا! ہمارے اسلامی معاشرے کو اس مضامین سے پر، سورہ سے ہدایت حاصل کرنے کے ساتھ شائستہ مقام اور دیرینہ عظمت تک پہنچا! آمین یارب العالمین اختتام سورہ مزمل اول ماہ صفر 1407ھ 85/7/14 اختتام ترجمہ بروز منگل بوقت تقریبًا ساڑھے چار بجے سہ پہر 5 صفر 1408ھ مطابق 29 ستمبر 1987ء۔ 18 ای ماڈل ٹاؤن ۔ لاہور ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 "مجمع البیان" و "تفسیر ابوالفتوح رازی" و "تفسیر قرطبی" زیر بحث آیت کے ذیل میں ، ضمنی طور پر ایک دوسری حدیث سے جو اس حدیث کے مشابہ ہے اور تفسیر قرطبی میں رسول اکرمؐ سے نقل ہوئی ہے، معلوم ہوتا ہے کہ عبداللہ بن مسعود نے یہ بات اپنی طرف سے نہیں کہی تھی، بلکہ یہ پیغمبر سے لی تھی۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
آیت 20
20- اِنَّ رَبَّكَ يَعْلَمُ اَنَّكَ تَقُوْمُ اَدْنٰى مِنْ ثُلُثَىِ اللَّيْلِ وَنِصْفَهٝ وَثُلُثَهٝ وَطَـآئِفَةٌ مِّنَ الَّـذِيْنَ مَعَكَ ۚ وَاللّـٰهُ يُقَدِّرُ اللَّيْلَ وَالنَّـهَارَ ۚ عَلِمَ اَنْ لَّنْ تُحْصُوْهُ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنَ الْقُرْاٰنِ ۚ عَلِمَ اَنْ سَيَكُـوْنُ مِنْكُم مَّرْضٰى ۙ وَاٰخَرُوْنَ يَضْرِبُوْنَ فِى الْاَرْضِ يَبْتَغُوْنَ مِنْ فَضْلِ اللّـٰهِ ۙ وَاٰخَرُوْنَ يُقَاتِلُوْنَ فِىْ سَبِيْلِ اللّـٰهِ ۖ فَاقْرَءُوْا مَا تَيَسَّرَ مِنْهُ ۚ وَاَقِيْمُوا الصَّلَاةَ وَاٰتُوا الزَّكَاةَ وَاَقْرِضُوا اللّـٰهَ قَرْضًا حَسَنًا ۚ وَمَا تُقَدِّمُوْا لِاَنْفُسِكُمْ مِّنْ خَيْـرٍ تَجِدُوْهُ عِنْدَ اللّـٰهِ هُوَ خَيْـرًا وَّاَعْظَمَ اَجْرًا ۚ وَاسْتَغْفِرُوا اللّـٰهَ ۖ اِنَّ اللّـٰهَ غَفُوْرٌ رَّحِـيْـمٌ ترجمہ 20- تیرا پروردگار جانتا ہے کہ تواور ان لوگوں میں سے ایک گروہ جو تیرے ساتھ ہے، رات کی دوتہائی کے قریب یا آدھی رات یا اس کی ایک تہائی قیام کرتے ہیں اور خدا رات اور دن کا اندازہ رکھتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ تم اس کی مقدارکا (وقت کے ساتھ) اندازہ نہیں کرسکتے، اس لیے اس نے تمھیں بخش دیا، اب تم قرآن کی صرف اتنی ہی مقدار جو تمھارے لیے میسر ہو، تلاوت کرو، وہ جانتا ہے کہ عبقریب تم میں سے ایک گروہ بیماری بھی ہوجاۓگا اور ایک فضل خدا حاصل کرنے (اور روزی کمانے کے لیے) سفر پر جاۓ گا اور ایک گروہ راہِ خدامیں جہاد کرے گا۔ پس جتنی مقدار تمھارے لیے ممکن ہو، اس کی تلاوت کرو اور نماز قائم کرو اور زکات ادا کرو، اور خدا کو قرضِ حسنہ دو(اس کی راہ میں خرچ کرو) اور (یہ جان لو) کہ جو کارخیر تم اپنے لیے آگے بھیجتے ہو، تم اس کا خدا ہاں بہترین صورت میں عظیم ترین اجر پاؤگے اور خدا سے طلبِ مغفرت کرو کہ خدا غفورورحیم ہے
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 73:20
2: غور و فکر کے ساتھ تلاوت قرآن
2- غوروفکر کے ساتھ تلاوتِ قرآن روایاتِ اسلامی سے اچھی طرح معلوم ہوتا ہے کہ تلاوتِ قرآن کی فضیلت زیادہ پڑھنے سے نہیں ہے بلکہ اچھی طرح سے پڑھنے اور اس میں سوچ بچار اور غوروفکر کرنے سے ہے۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ اوپر والی آیات کے ذیل میں، جو یہ حکم دیتی ہے کہ قرآن میں جتنا تمھارے لیے میسر ہے، اتنا پڑھو "فاقرء وا ما تیسر منہ" ایک روایت میں امام علی بن موسٰی رضا سے آئی ہے کہ آپ نے اپنے جدامجد سے اس طرح نقل فرمایا ہے : ماتیسر منہ لکم فیہ خشوع القلب وصفاءالسر "بس اتنا پڑھو جس میں خشوعِ قلب، صفاۓ باطن اور روحانی و معنوی نشاط حاصل ہو"۔ ؎ 1 ایس کیوں نہ ہو جبکہ تلاوت کا ہدف اور مقصد اصلی تعلیم و تربیت ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ ؎ 1 مجمع البیان جلد 10 ص 286 ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ اور اس سلسلہ میں رویات بہت ہیں۔