وَهُوَ الَّذِي يُرْسِلُ الرِّيَاحَ بُشْرًا بَيْنَ يَدَيْ رَحْمَتِهِ حَتَّى إِذَا أَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا سُقْنَاهُ لِبَلَدٍ مَّيِّتٍ فَأَنزَلْنَا بِهِ الْمَاءَ فَأَخْرَجْنَا بِهِ مِن كُلِّ الثَّمَرَاتِ كَذَلِكَ نُخْرِجُ الْمَوْتَى لَعَلَّكُمْ تَذَكَّرُونَ
It is He who sends forth the winds as harbingers of His mercy. When they bear [rain-] laden clouds, We drive them toward a dead land and send down water on it, and with it We bring forth all kinds of crops. Thus shall We raise the dead; maybe you will take admonition.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:57
[Pooya/Ali Commentary 7:57] From sending the heralding winds to raising all kinds of produce Allah's grace (as the rahman) has been described. The same process is applicable to the resurrection of our bodies and souls after we die in this world. His mercy, the guidance revealed through the Holy Prophet, has been compared to rain. The fertile land is good and the barren land is evil. The rain, His beneficence, is there for all, but the good obtain profit and the evil suffer loss. The guidance is true but the response varies according to the nature developed by every individual. VERSES 59 to 177 THE PREACHINGS OF SOME OF THE PROPHETS FROM NUH TO MUSA POINT OUT THE UNITY OF THE PURPOSE OF THEIR MISSION, THE METHOD OF PREACHING, AND THE REACTION OF THE PEOPLE. THE THEORY OF INCARNATION WAS COMMON AMONG THE POLYTHEISTIC PEOPLE, SO THEY THOUGHT THAT ALL MORTALS LAYING CLAIM TO PROPHETHOOD WERE IMPOSTERS. IT IS A LESSON AND A WARNING FOR THE FOLLOWERS OF THE HOLY PROPHET.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:57-58
مربی اور قابلیت دونوں چیزوں کی ضرورت ہے
گذشتہ آیات میں مسئل ”مبداٴ “ یعنی توحید کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اور اس ضمن میں اسرارِ جہاں کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے، اب اس آیت میں بعض نعماتِ الٰہی بیان کرکے مسئلہ ”معاد“ کی طرف اشارہ کرنا مقصود ہے، تاکہ یہ دونوں بحثیں متقابل طور پر ایک دوسرے کی تکمیل کرتی ہوئی نظر آئیں، یہ قرآن کریم کا ایک طرقہ ہے کہ بہت سے مقامات پر وہ ”مبداٴ“ اور ”معاد“ کوایک دوسرے کے ساتھ بیان کرتا ہے قابلِ توجہ یہ امر ہے کہ خدا نے پہچاننے کے سلسلے میں بھی اور مسئلہ معاد کو جاننے کے لئے بھی دونوں مقامات پر خلقت کائنات کے اسرار کے ذریعہ استدلال کیا گیا ہے ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: وہ خدا وہ ہے جو ہَواؤں کو اپنے بارانِ رحمت کے آگے آگے اس طرح بھیجتا ہے جیسے کوئی خوشخبری سنانے والا آگے آگے دوڑکر کسی مبارک مسافر کے آنے کی خبر دے (وَھُوَ الَّذِی یُرْسِلُ الرِّیَاحَ بُشْرًا بَیْنَ یَدَیْ رَحْمَتِہِ) ۔ وہ ہَوائیں جو بحرِ اقیانوس سے اٹھتی ہیں اور بھاری بادلوں کوجو پانی کے ذخیرے سے لدے ہوئے ہوتے ہیں اپنے دوش پر اٹھائے ہوتی ہیں (حَتَّی إِذَا اٴَقَلَّتْ سَحَابًا ثِقَالًا) ۔ اور اس موقع پر ہم انھیں مردہ اور خشک زمینوںکی طرف ہنکاتے ہیںاور انھیں سیراب کرنے کی ذمہ داری انھیں دیتے ہیں (سُقْنَاہُ لِبَلَدٍ مَیِّتٍ) ۔ اور ان کے ذریعے حیات بخش پانی کی چھاگلیں ہر جگہ لٹاتے ہیں (فَاٴَنزَلْنَا بِہِ الْمَاءَ) ۔ اور اس پانی کے ذریعے طرح طرح کے خوش رنگن خوشبو اور خوش مزہ میووں کو اس گلِ تاریک سے آگاتے ہیں (فَاٴَخْرَجْنَا بِہِ مِنْ کُلِّ الثَّمَرَاتِ) ۔ جی ہاں، آفتاب بحرِ اوقیانوس پر چمکتا ہے اور اپنی تمازت سے ان کے بخارات اوپر بھیجتا ہے، یہ بخارات اکھٹا ہوتے ہیں جس کی وجہ سے بادل کےدل بادل بن جاتے ہیں، پھر ہَواؤں کی موجیں ان بادلوں کے پہاڑوں کو اپنے دوش پر اٹھاکر اُدھر چل پڑتی ہیں جہا ان کے برسنے کا حکم ہوتا ہے، ان میں کچھ ہلکی پھلکی ہَوائیں جن میں ٹھنڈی رطوبت کی آمیزش بھی ہوتی ہے، وہ اس خزانہٴ رحمت کی آمد آمد کا مژدہ سنانے کے لئے نسیمِ جانفزا بن کر آگے آگے چلتی ہیں، ان کے دامن سے اس بارانِ حیات بخش کو خوشبو آتی ہے، اس کے بعد بادلوں کے عظیم الشان تودے، بارش کے موٹے موٹے قطروں کواپنے سے جدا کرکے زمین کی طرف روانہ کرتے ہیں، وہ قطرے نہ تواتنے موٹے ہوتے ہیں کہ کھیتوں کوویران کردیں اور زمین کوبالکل دھوڈالیںاور نہ اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ فضا ہی میں بھٹک کر رہ جائیں، بلکہ بڑی مناسب مقدار ورفتار کے ساتھ زمین پر اس طرح ارتے ہیں کہ ان کے اندر نفوذ کرجاتے ہیں اور ہوئےہوئے دانہ کے ماحول کواس کی نشو ونما کے لئے آمادہ کردیتے ہیں، اب وہ زمین جو اپنی خشکی اور حدّت کی وجہ سے گورستان بنی ہوئی تھی، اس پانی کی وجہ سے ایک لہکتی ہوئی کھیتی یا مہکتے ہوئے باغ کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔ اس کے بعد مزید ارشاد ہوتا ہے: ہم اسی طرح مُردوں کو زمین سے باہر نکالیں گے (کَذٰلِکَ نُخْرِجُ الْمَوْتیٰ) ۔ ہم نے اس مثال کو اس لئے بیان کیا کہ روزِ معاد کا نمونہ تمھیں دکھلادیں جو تمام سال باربار تمھاری آنکھوں کے سامنے گزرتے رہتے ہیں تاکہ تم (آخرت کو) یاد کرو (لَعَلَّکُمْ تَذَکَّرُونَ) ۔(۱) ممکن ہے کسی کو یہ خیال ہو کہ چونکہ بارش غالباً ایک جیسی اور ایک حالت میں سب جگہ برستی ہے اس لئے تمام زمینیں یکساں طور پر زندہ ہوسکتی ہیں، اس کا جواب آنے والی آیت میں دیا گیا ہے اور بتلایا گیا ہے کہ زمینوں کی صلاحیت کا مختلف ہونا اس بات کا سبب بنتا ہے کہ وہ زمینیں اپنی اپنی استعداد کے مطابق فیضانِ الٰہی سے استفادہ کریں، چنانچہ ارشاد ہوتا ہے: شیریں اور پاکیزہ زمین پُربرکت اور فائدہ بخش نباتات کو اپنے پروردگار کے حکم سے باہر نکالتی ہے (وَالْبَلَدُ الطَّیِّبُ یَخْرُجُ نَبَاتُہُ بِإِذْنِ رَبِّہِ) ۔ لیکن جو زمینیں شورہ زدہ، خبیث وخراب ہیں ان میں سوائے ناچیز اور کم قیمت گھاس پھونس کے کچھ نہ اُگے گا (وَالَّذِی خَبُثَ لَایَخْرُجُ إِلاَّ نَکِدًا) ۔(۲) اسی طرح بروزِ محشر جی اٹھنے کا حکم اگرچہ سب کو یکساں ملے گا، لیکن تمام انسان یکساں اور ایک مرتبہ واردِ محشر نہ ہوں گے، لوگ بھی صحیح وسالم اور شور زمین کی طرح متفاوت اور مختلف ہیں، یہ تفاوت ان کے عقائد، نیتوں اور اعمال کے لحاظ سے ہے ۔ آیت کے آخر میں ارشادہوتا ہے: ان آیتوں کو ہم ان لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جوشکر بجالانے والے ہیں اور ان سے فائدہ حاصل کرتے ہیں اور راہِ ہدایت پر قدم بڑھاتے ہیں (کَذٰلِکَ نُصَرِّفُ الْآیَاتِ لِقَوْمٍ یَشْکُرُونَ) ۔ مذکورہ آیت سے درحقیقت ایک اہم مسئلے کی طرف اشارہ کیا گیا ہے جس کا ظہور اس دنیا ، نیز دنیائے آخرت میں دونوں جگہ ہے اور وہ یہ ہے کہ صرف ”کسی فاعل کی فاعلیت“ کسی چیز کے باثمر ہونے کے لئے کافی نہیں ہے بلکہ استعداد اور ”قابلیّت قابل“ بھی ضروری ہے، بارش کے قطروں سے حیات بخش تر اور لطیف تر کوئی شے متصور نہیں ہوسکتی، لیکن یہی آبِ باراں جس کی لطافتِ طبع میں کوئی شبہ نہیں کیا جاسکتا، ایک جگہ تو سبزہ اُگاتا ہے تودوسری جگہ اس کی وجہ سے صرف خس وخاشاک نمودار ہوتے ہیں ۔ ۵۹ لَقَدْ اٴَرْسَلْنَا نُوحًا إِلیٰ قَوْمِہِ فَقَالَ یَاقَوْمِ اعْبُدُوا اللهَ مَا لَکُمْ مِنْ إِلَہٍ غَیْرُہُ إِنِّی اٴَخَافُ عَلَیْکُمْ عَذَابَ یَوْمٍ عَظِیمٍ- ۶۰ قَالَ الْمَلَاٴُ مِنْ قَوْمِہِ إِنَّا لَنَرَاکَ فِی ضَلَالٍ مُبِینٍ- ۶۱ قَالَ یَاقَوْمِ لَیْسَ بِی ضَلَالَةٌ وَلَکِنِّی رَسُولٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِینَ- ۶۲ اٴُبَلِّغُکُمْ رِسَالَاتِ رَبِّی وَاٴَنصَحُ لَکُمْ وَاٴَعْلَمُ مِنْ اللهِ مَا لَاتَعْلَمُونَ- ۶۳ اٴَوَعَجِبْتُمْ اٴَنْ جَائَکُمْ ذِکْرٌ مِنْ رَبِّکُمْ عَلیٰ رَجُلٍ مِنْکُمْ لِیُنذِرَکُمْ وَلِتَتَّقُوا وَلَعَلَّکُمْ تُرْحَمُونَ- ۶۴ فَکَذَّبُوہُ فَاٴَنجَیْنَاہُ وَالَّذِینَ مَعَہُ فِی الْفُلْکِ وَاٴَغْرَقْنَا الَّذِینَ کَذَّبُوا بِآیَاتِنَا إِنَّھُمْ کَانُوا قَوْمًا عَمِینَ- ترجمہ ۵۹۔ ہم نے نوح کو ان کی قوم کی طرف بھیجان انھوں نے اس (قوم) سے کہا کہ اے میری قوم! صرف خدائے یگانہ کی پرستش کرو، کہ اس کے سوا تمھارا کوئی معبود نہیں ہے (اور اگر اس کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ اختیار کروگے تو) میں تمھارے اوپر بڑے دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔ ۶۰۔ (لیکن) ان کی قوم کے کچھ لوگوں نے کہا کہ ہم تجھے کھلی ہوئی گمراہی میں دیکھتے ہیں ۔ ۶۱۔ (نوح(علیه السلام) نے) کہا اے میری قوم مجھ میں کوئی گمراہی نہیں ہے، لیکن میں سارے جہانوں کے رب کا، فرستادہ ہوں ۔ ۶۲۔ میں اپنے پروردگار کا پیغام تم تک پہنچاتا ہوں اور تمھیں نصیحت کرتا ہوں اور الله کی جانب سے میں کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے ۔ ۶۳۔ کیا تم کویہ تعجب ہے کہ تمھارے رب کی جانب سے یاددہانی کے لئے تمھارے پاس آنے والا فرمان ایک ایسے شخص پر نازل ہوا ہے جو تم میں سے ہے تاکہ وہ تمھیں ڈارئے اور تم ڈرو اس لئے تم پر رحم کیا جائے ۔ ۶۴۔ پس ان لوگوں نے اس (نوح(علیه السلام)) کی تکذیب کی، پس ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ کشتی میں تھے نجات دی اور ان لوگوں کو غرق کردیا جنھوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا، بیشک وہ لوگ ایک اندھی (اور کور باطن) قوم تھے ۔ ۱۔ اس سلسلہ میں مزیدتوضیح کے لئے کتاب ”معاد وجہاںپس از مرگ“ کا مطالعہ فرمائیں جس میں مختلف آیات کے ذیل میں زندہ مثالیں دے کر مسئلہ معاد پر روشنی ڈالی گئی ہے ۔ ۲۔ ”نکد“ کے معنی بخیل آدمی کے ہیں جو کسی کو کوئی چیز آسانی سے نہ دے اور اگر کبھی بھولے سے کوئی چیز دے بھی دے تو نہایت کم مقدار اور کم قیمت ہو، آیہٴ مذکورہ میں شور زدہ زمین کو ایسے آدمی سے تشبیہ دی گئی ہے ۔