وَلَمَّا رَجَعَ مُوسَى إِلَى قَوْمِهِ غَضْبَانَ أَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِي مِن بَعْدِي أَعَجِلْتُمْ أَمْرَ رَبِّكُمْ وَأَلْقَى الْأَلْوَاحَ وَأَخَذَ بِرَأْسِ أَخِيهِ يَجُرُّهُ إِلَيْهِ قَالَ ابْنَ أُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِي وَكَادُوا يَقْتُلُونَنِي فَلَا تُشْمِتْ بِيَ الْأَعْدَاءَ وَلَا تَجْعَلْنِي مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِينَ
When Moses returned to his people, angry and indignant, he said, ‘Evil has been your conduct in my absence! Would you hasten on the edict of your Lord?’ He threw down the tablets and seized his brother by the head, pulling him towards himself. He said, ‘Son of my mother, indeed this people thought me to be weak, and they were about to kill me. So do not let the enemies gloat over me, and do not take me with the wrongdoing lot.’
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 7:150
[Pooya/Ali Commentary 7:150] (see commentary for verse 148)
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:150-151
گوسالہ پرستوں کے خلاف شدید ردّعمل
گوسالہ پرستوں کے خلاف شدید ردّعمل ان دو آیتوں میں اس کشاکش اور نزاع کا ماجرا بیان کیا گیا ہے جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) اور گوسالہ پرستوں کے درمیان اس وقت واقع ہوئی جب وہ میعادگاہ سے واپس ہوئے جس کی طرف گذشتہ آیت میں صرف اشارہ کیا گیا تھا، ان آیتوں میں تفصیل کے ساتھ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے اس ردّعمل کو بیان کیا گیا ہے جو اس گروہ کے بیدار کرنے کے لئے ان سے ظاہر ہوا ۔ پہلے ارشاد ہوتا ہے: جس وقت موسیٰ غضبناک ورنجیدہ اپنی قوم کی طرف پلٹے اور گوسالہ پرستی کا نفرت انگیز منظر دیکھا تو ان سے کہا کہ تم لوگ میرے بعد بُرے جانشین نکلے تم نے میرا آئین ضائع کردیا (وَلَمَّا رَجَعَ مُوسیٰ إِلیٰ قَوْمِہِ غَضْبَانَ اٴَسِفًا قَالَ بِئْسَمَا خَلَفْتُمُونِی مِنْ بَعْدِی) ۔ (۱) اس آیت سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) میعادگاہِ پروردگار سے پلٹے وقت قبل اس کے کہ بنی اسرائیل سے ملتے، غضبناک اور اندوہگین تھے، اس کی وجہ یہ تھی کہ خدا نے میعادگاہ میں انھیں اس کی خبر دے دی تھی جیسا کہ قرآن کہتا ہے: <قَالَ فَإِنَّا قَدْ فَتَنَّا قَوْمَکَ مِنْ بَعْدِکَ وَاٴَضَلَّھُمْ السَّامِرِیُّ(سورہٴ طٰہٰ، آیت۸۵) مَیں نے تمھارے پیچھے تمھاری قوم کی آزمائش کی لیکن وہ اس آزمائش میں پوری نہ اتری اور سامری نے انھیں گمراہ کردیا ۔ اس کے بعد موسیٰ(علیه السلام) نے انھیں کہا: آیا تم نے اپنے پروردگار کے فرمان کے بارے میں جلدی کی (اٴَعَجِلْتُمْ اٴَمْرَ رَبِّکُمْ) ۔ اگرچہ مفسرین نے اس جملے میں بہت بحث کی ہے اور گوناگوں احتمالات ذکر کئے ہیں لیکن ان آیات کا ظاہر یہ ہے کہ تم نے خدا کے اس فرمان، کہ اس نے میعاد کا وقت تیس شب سے چالیس شب کردیا، جلدی کی اور جلد فیصلہ کردیا، میرے نہ آنے کو میرے مرنے یا وعدہ خلافی کی دلیل سمجھ لیا، حالانکہ لازم تھا کہ تھورا صبر سے کام لیتے اور چند روز انتظار کرلیتے تاکہ حقیقت واضح ہوجاتی ۔ اس وقت جبکہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) بنی اسرائیل کی زندگی کے ان طوفانی وبحرانی لمحات سے گزررہے تھے، سر سے پیر تک غصّہ اورا فسوس کی شدّت سے بھڑک رہے تھے، ایک عظیم اندوہ نے ان کے وجود پر سایہ ڈال دیا تھا اور انھیں بنی اسرائیل کے مستقبل کے بارے میں میں بڑی تشویق لاحق تھی، کیونکہ تخریب اور تباہ کاری آسانی سے ہوجاتی ہے، کبھی صرف ایک انسان کے ذریعے بہت بڑی خرابی اور تباہی واقع ہوجاتی ہے لیکن اصلاح اور تعمیر میں لگتی ہے ۔ خاص طور پر جب کسی نادان، متعصب اور ہٹ دھر قوم کے درمیان کوئی غلط ساز بجادیا جائے تو اس کے بعد اس کے بُرے اثرات کا زائل کرنا بہت مشکل ہوتا ہے ۔ قرآن نے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کا وہ شدید ردِّ عمل بیان کیا ہے جو اس طوفانی وبحرانی منظر کو دیکھنے کے بعد ان سے ظاہر ہُوا: ”موسیٰ نے بے اختیارانہ طور پر اپنے ہاتھ سے توریت کی الواح کو زمین پر ڈال دیا اور اپنے بھائی ہارون کے پاس گئے اور ان کے سر اور داڑھی کے بالوں کو پکڑکر اپنی طرف کھینچا “(وَاٴَلْقَی الْاٴَلْوَاحَ وَاٴَخَذَ بِرَاٴْسِ اٴَخِیہِ یَجُرُّہُ إِلَیْہِ) ۔ جیسا کہ قرآن کی دیگر آیات بالخصوص سورہٴ طٰہٰ سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے اس کے علاوہ ہارون کو بڑی شدت سے سرزنش کی اور بآواز بلندچیخ کر پکارے: کیا تم نے بنی اسرائیل کے عقائد کی حفاظت میں کوتاہی کی اور میرے فرمان کی مخالفت کی؟!(2) در حقیقت حضرت موسیٰ(علیه السلام) کا یہ ردِّ عمل ایک طرف تو ان کی اس واردات قلبی، بے قراردی اور شدید ناراضی کی حکایت کرتا ہے جو بنی اسرائیل کی بت پرستی کی وجہ سے پیدا ہوئی، دوسری طرف یہ اس بات کا ایک موٴثر سبب بناکہ بنی اسرائیل کی عقل میں ایک حرکت پیدا ہو اور وہ اپنے اس عمل کی قباحت کی طرف متوجہ ہوجائیں ۔ بنابریں اگرچہ بالفرض ”الواح توریت کا پھینک دینا قابلِ اعتراض معلوم ہوتا ہو، اور بھائی کی شدید سرزنش نادرست ہو لیکن اگر حقیقت کی طرف توجہ کی جائے کہ اگر حضرت موسیٰ(علیه السلام) اس شدید اور پُرہیجان درِّ عمل کا اظہار نہ کرتے تو ہرگز بنی اسرائیل اپنی غلطی کی سنگینی اور اہمیت کا اندازہ نہ کرسکتے ممکن تھا کہ اس بت پرستی کے آثارِ بَد ان کے ذہنوں میں باقی رہ جاتے لہٰذا حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے جو کچھ وہ نہ صرف غلط نہ تھا بلکہ ایک امر لازم تھا ۔ اس بناپر واضح ہوا کہ تمام توجیہوں کی ضرورت نہیں ہے جو اس مقام پر بعض مفسرین حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے ردِّ عمل کو مقامِ عصمتِ انبیاء سے سازگار کرنے کے لئے کرتے ہیں ۔ لہٰذا یہ کہا جاسکتا ہے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اس واقعہ سے اس قدر ناراض ہوئے کہ تاریخ بنی اسرائیل میں کبھی اس قدر ناراض نہ ہوئے تھے کیونکہ ان کے سامنے بدترین منظر تھا، یعنی بنی اسرائیل خدا پرستی کو چھوڑکر گوسالہ پرستی اختیار کرچکے تھے جس کی وجہ سے حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی وہ تمام زحمتیں جو انھوں نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لئے کی تھیں سب برباد ہورہی تھیں، لہٰذا ایسے موقع پر الواح کا ہاتھوں سے گرجانا اور بھائی سے سخت مواخدہ کرنا ایک طبعی امر تھا ۔ اس شدید ردِّ عمل اور غیظ وغضب کے اظہار نے بنی اسرائیل پر بہت زیادہ تربیتی اثر مرتب کیا اور منظر کو بالکل پلٹ دیا، جبکہ اگر حضرت موسیٰ(علیه السلام) نرم زبان استعمال کرنے تو شاید اس کا تھورا سا اثر بھی مرتب نہ ہوتا ۔ اس کے بعد قرآن کہتا ہے: ہارون(علیه السلام) نے موسیٰ کی محبت کو برانگیختہ کرنے کے لئے اور اپنی بے گناہی بیان کرنے کے لئے کہا: اے میرے ماں جائے! اس نادان امت کے باعث ہم اس قدر قلیل ہوگئے کہ نزدیک تھا کہ مجھے قتل کردیں لہٰذا مَیں بالکل بے گناہ ہوں لہٰذا کوئی ایسا کام نہ کریں کہ دشمن ہنسی اڑائیں اور مجھے اس ستمگر امت کی صف میں قرار نہ دیں (قَالَ ابْنَ اٴُمَّ إِنَّ الْقَوْمَ اسْتَضْعَفُونِی وَکَادُوا یَقْتُلُونَنِی فَلَاتُشْمِتْ بِی الْاٴَعْدَاءَ وَلَاتَجْعَلْنِی مَعَ الْقَوْمِ الظَّالِمِینَ) ۔ اس آیت میں جو ”ابنِ آدم“ کی تعبیر آئی ہے یا سورہٴ طٰہٰ کی آیت ۹۴ میں ”یابن آدم“ کی آئی ہے (جس کے معنی اے میری ماں کے بیٹے کے ہیں)حالانکہ موسیٰ(علیه السلام) اور ہارون(علیه السلام) دونوں ایک والدین کی اولاد تھے یہ اس لئے تھا کہ حضرت ہارون(علیه السلام) چاہتے تھے کہ کا جذبہٴ محبّت بیدار کریں ۔ بہرحال کو یہ تدبیر کار آمد ہوئی اور بنی اسرائیل کو اپنی غلطی کا احساس ہوا اور انھوں نے توبہ کی خواہش کا اظہار کیا ۔ اب حضرت موسیٰ(علیه السلام) کی آتشِ غضب کم ہوئی اور وہ درگاہِ خداوندی کی طرف متوجہ ہوئے اور عرض کی: پروردگارا! مجھے اور میرے بھائی کو بخش دے اور ہمیں اپنی رحمت بے پایاں میں داخل کرئے، تُو تمام مہربانوں سے زیادہ مہربان ہے (قَالَ رَبِّ اغْفِرْ لِی وَلِاٴَخِی وَاٴَدْخِلْنَا فِی رَحْمَتِکَ وَاٴَنْتَ اٴَرْحَمُ الرَّاحِمِینَ) ۔ اپنے لئے اور اپنے بھائی کے لئے بخشش طلب کرنا اس بناپر نہیں تھا کہ ان سے کوئی گناہ سرزد ہوا تھا لکہ ی پردرگار کی بارگاہ میں ایک طرح کا خضوع وخشوع تھا اور اس کی طرف بازگشت تھی، اور بت پرستوں کے اعمالِ زشت سے اظہار تنفر تھا ۔ اسی طرح اس میں سب کے لئے ایک طرح کا نمونہٴ عمل ہے تاکہ وہ یہ سوچیں کہ جبکہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) اور ان کے بھائی جن سے کوئی لغزش سرزد نہیں ہوئی تھی وہ خدا کی بارگاہ میں اس قدر لرزہ براندام ہیں، اپنے گناہوں کی معافی اس سے طلب کرنا چاہیے،جیسا کہ گذشتہ دو آیتوں سے معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل نے بھی ایسا ہی کیا تھا ۔ قرآن مجید اور موجودہ توریت کا موازنہ جیسا کہ آیاتِ مذکورہ بالا اور سورہٴ طٰہٰ کی آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ ”گوسالہ“ کو نہ تو بنی اسرائیل نے بنایا تھا نہ حضرت ہارون(علیه السلام) نے، سورہٴ طٰہٰ کی آیات کے مطابق بنی اسرائیل میں سے ایک شخص سامری نے یہ حرک کی تھی، جس پر حضرت ہارون(علیه السلام) جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے بھائی اور ان کے معاون تھے خاموش نہ بیٹھے بلکہ انھوں نے اپنی پوری کوشش صرف کی، انھوں نے اتنی کوشش کی کہ نزدیک تھا کہ لوگ انھیں قتل کردیتے ۔ لیکن عجیب بات یہ ہے کہ موجودہ توریت گوسالہ سازی اور بُت پرستی کی طرف دعوت کو حضرت ہارون(علیه السلام) کی طرف نسبت دی گئی ہے، چنانچہ توریت کے سفر خروج کی فصل ۳۲ میں یہ عبارت ملتی ہے: جس وقت قومط موسیٰ نے دیکھا کہ موسیٰ کے پہاڑ سے نیچے اترنے میں دیر ہوئی تووہ ہارون کے پاس اکھٹا ہوئے اور ان سے کہا کہ اٹھو اور ہمارے لئے ایسا خدا بناؤ جو ہمارے آگے آگے چلے اور کیونکہ یہ شخص موسیٰ جو ہم کو مصرسے نکال کر یہاں لایا ہے نہیں معلوم اس پر کیا گذری، ہارون نے ان سے کہا: طلائی بُندے (گوشوارے) جو تمھاری عورتوں اور بچوں کے کانوں میں ہیں انھیں ان کے کانوں سے اتار کر میرے پاس لاؤ، پس پوری قوم ان گوشواروں کو کانوں سے جدا کرکے ہارون کے پاس لائی، ہارون نے ان گوشواروں کو ان لوگوں کے ہاتھوں سے لیا اور کہا کہ اے بنی اسرائیل! یہ تمھارا خدا ہے جو تمھیں سرزمینِ مصر سے باہر لایا ہے“۔ اسی کے ذیل میں ان مراسم کو بیان کیا گیا ہے جو حضرت ہارون(علیه السلام) نے اس بت کے سامنے قربانی کرنے کے بارے میں بیان کئے تھے ۔ اس کے بعد حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے واپس آنے اور غیظ وغضب کرنے کے سلسلہ میں اس طرح لکھا ہے: اور موسیٰ نے ہارون سے کہا کہ اس قوم نے تمھارا کیا بگاڑا تھا جو تم نے ان کو اتنے بڑے گناہ میں مبتلا کردیا؟ اور ہارون نے کہا: میرے آقا کا غصّہ نہ بھڑکے کیونکہ آپ جانتے ہیں یہ قوم(ہمیشہ) بدی کی طرف مائل ہے...۔ جو کچھ بالا سطور میں بیان ہوا یہ بنی اسرائیل کی گوسالہ پرستی کی داستان کا ایک حصّہ ہے جو توریت میں مذکور ہے اس کی عبارت بعینہٖ نقل کی گئی ہے حالانکہ خود توریت نے حضرت ہارون(علیه السلام) کے مقامِ بلند کو متعدد فصول میں بیان کیا ہے، ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے بعض معجزات حضرت ہارون(علیه السلام) کے ذریعے ظاہر ہوئے تھے (فصل۸ از سفر خروج توریت) اور ہارون(علیه السلام) کا حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے ایک رسول کی حیثیت سے تعارف کروایا گیا ہے (فصل۸ از سفر خروج) ۔ بہرکیف حضرت ہارون جو حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے جانشین برحق تھے اور ان کی شریعت کے سب سے بڑے عالم وعارف توریت ان کے لئے مقام بلند کی قائل ہے، اب ذرا ان خرافات کو بھی دیکھ لیجئے کہ انھیں ایک بت ساز ہی نہیں بلکہ ایک موٴسس بت پرستی کی حیثیت سے روشناس کرایا ہے بلکہ ”عذرگناہ بدتر از گناہ“ کے مقولہ کے مطابق ان کی جانب سے ایک غلط عذر پیش کیا کیونکہ جب حضرت موسیٰ(علیه السلام) نے ان پر اعتراض کیا تو انھوں نے یہ عذر پیش کیا کہ چونکہ یہ قوم بدی کی طرف مائل تھی اس لئے میں نے بھی اسے اس راہ پر لگادیا، جبکہ قرآن ان دونوں بلند پایہ پیغمبروں کو ہر قسم کے شرک اور بت پرستی سے پاک وصاف سمجھتا ہے ۔ صرف یہی ایک مقام نہیں جہاں قرآنی تاریخ انبیاء ومرسلین کی پاکی وتقدس کا مظہر ہے جبکہ موجودہ توریت کی تاریخ انبیاء مرسلین کی ساحت قدس کے متعلق انواع واقسام کی خرافات سے بھری ہوئی ہے، ہمارے عقیدہ کے حقانیت واصالتِ قرآن اور موجودہ توریت وانجیل کی تعریف کو پہچاننے کا ایک طریق یہ بھیہے کہ ان دونوں میں انبیاء کی جو تاریخ بیان کی گئی ہے اس کا موازنہ کرلیا جائے اس سے اپنے آپ پتہ چل جائے گا حق کیا ہے اور باطل کیا ہے؟ ۱۵۲ إِنَّ الَّذِینَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّھِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِینَ. ۱۵۳ وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِھَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ. ۱۵۴ وَلَمَّا سَکَتَ عَنْ مُوسَی الْغَضَبُ اٴَخَذَ الْاٴَلْوَاحَ وَفِی نُسْخَتِھَا ھُدًی وَرَحْمَةٌ لِلَّذِینَ ھُمْ لِرَبِّھِمْ یَرْھَبُونَ. ترجمہ ۱۵۲۔ وہ لوگ جنھوں نے گوسالہ کو اپنا معبود بنایا عنقریب اپنے رب کے غضب میں مبتلا ہوں گے اور حیاتِ دنیا میں گرفتارِ ذلت ہوں گے اور ہم ان لوگوں کو جو (خدا پر) بہتان باندھتے ہیں، سزا دیتے ہیں ۔ ۱۵۳۔ اور وہ لوگ جو گناہ کریں اور اس کے بعد توبہ کرلیں اور ایمان لائیں (انھیں بخشش کی امید ہے کیونکہ) تیرا رب اس (توبہ) کے بعد ضرور بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔ ۱۵۴۔ اور موسیٰ کا غصّہ ٹھنڈا ہوا تو انھوں نے (توریت کی) الواح کو اٹھایا اور اس کے اندر ان لوگوں کے لئے جو اب رب ڈرتے ہیں ہدایت اور حمت لکھی ہوئی تھی ۔ ۱۔ ”اسف“ کے معنی جیسا کہ راغب نے مفردات میں بیان کیا ہے اس ”اندوہ“ کے ہیں جس میں ”غیظ وغضب“ کی آمیزش ہو، نیز یہ کلمہ ان دونوں معنی میں الگ الگ بھی استعمال ہوتا ہے، اس کی اصل یہ ہے کہ انسان کسی چیز سے بہت ناراض ہوجائے، یہ بات طبیعی ہے اگر یہ ناراضی ان افراد سے ہے جو ماتحت ہیں تو غصّہ کی شکل میں ظاہر ہوگی اور اگر ان افراد سے ہو جو اس سے اوپر ہیں، جن پر اس کا کوئی زور نہیں تو رنج واندوہ کی صورت میں ظاہر ہوگی، چنانچہ ابنِ عباس سے روایت ہے کہ غیظ وغضب اور رنج واندوہ ان سب کی اصل ایک ہے اگرچہ الفاظ مختلف ہیں ۔ 2 سورہٴ طٰہٰ، آیت۹۲۔۹۳.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 7:150-151
تفسیر
جیسا کہ ہم سابقاً لکھ آئے ہیں حضرت موسیٰ(علیه السلام) کے اس شدید ردِّ عمل نے اپنا اثر دکھایا اور جن لوگوں نے گوسالہ پرستی اختیار کی تھی اور ان کی تعداد اکثریت میں تھی وہ اپنے کام سے پشیمان ہوئے ان کی پشیمانی کا ذکر سابقہ آیت ۱۴۹ میں آچکا ہے، لیکن چونکہ یہاں پر یہ توہّم ہوتا ہے کہ ان کی بخشش کے لئے شاید مذکورہ پشیمانی کافی تھی، قرآن نے یہ اضافہ کیا ہے: ”وہ لوگ جنھوں نے گوسالہ کو اپنا معبود بنایا جلد ہی انھیں پروردگار کا غضب اور اس جہان میں ذلت وخواری نصیب ہوگی“ (إِنَّ الَّذِینَ اتَّخَذُوا الْعِجْلَ سَیَنَالُھُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّھِمْ وَذِلَّةٌ فِی الْحَیَاةِ الدُّنْیَا) ۔ نیز اس تصور کو دُور کرنے کے لئے کہ یہ قانون صرف ان لوگوں کے ساتھ مخصوص ہے فرماتا ہے: ”وہ لوگ جو (خدا پر بہتان باندھتے ہیں انھیں ہم ایسی ہی سزا دیں گے (وَکَذٰلِکَ نَجْزِی الْمُفْتَرِینَ) ۔ لفظ ”اتخذوا“ کی تعبیر سے اس بات کی طرف اشارہ مقصود ہے کہ ”بُت“ کی کوئی حقیقت نہیں ہے، صرف بُت پرستوں کی قرار داد اور انتخاب ہے جو بتوں کو مزعومہ شخصیّت ومقام دیتی ہے، اسی بناپر اس لفظ کے بعد ہی لفظ ”جمل“ آیا ہے یعنی گوسالہ برائے پرستش انتخاب کے بعد وہی گوسالہ ہی رہا ۔ باقی رہتا ہے یہ سوال کہ اس ”غضب“ اور ”ذلت“ سے کیا مراد ہے؟ قرآن نے آیہ فوق میں اس امر کی کوئی توضیح نہیں کی ہے، صرف سربستہ کہہ کر بات آگے بڑھادی ہے لیکن ممکن ہے اس سے ان بدبختیوں اور پرشانیوں کی جانب اشارہ مقصود ہو جو اس ماجرے کے بعد اور بیت المقدس میں ان کو قتل کردیں جس کی تفصیل اسی کتاب کی جلد اوّل میں گذر چکی ہے ۔ اس جگہ ممکن ہے یہ سوال کیا جائے کہ ہم نے تو یہ سنا ہے کہ ندامت اور پشیمانی کے ساتھ حقیقی توبہ کا تحقق ہوجاتا ہے، جب انھوں نے اپنی ندامت وپشیمانی کا اظہار کردیا تو الله کی عفو وبخشش ان کے شاملِ حال کیوں نہ ہوئی ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ہمیں اس بات کی کوئی دلیل نہیں ملتی کہ صرف پشیمانی ہر گناہ کے معاف ہونے کے لئے کافی ہے ، یہ صحیح ہے کہ ندامت ارکانِ توبہ میں سے ایک اہم رکن ہے لیکن یہ ارکان میں سے ایک رکن ہے رکنِ کامل نہیں ہے ۔ گناہِ بت پرستی اور گوسالہ سجدہ، وہ بھی اس وسعت وہمہ گیری کے ساتھ، پھر اس ذرا سی مدت (چالیس روز) میں ان کا بے دین ہوجانا، وہ بھی اس قوم وملت کا جس نے اتنے معجزات دیکھے ہوں یہ ایک ایسا چھوٹا سا گناہ نہ تھا جو ایک ”استغفر الله“ سے دُھل جائے ۔ بلکہ چاہیے یہ ہے کہ یہ قوم غضب پروردگار کو اپنی آنکھوں سے دیکھے، ذلت کا مزہ اس دنیاوی زندگی میں چکھے اور اس تازیانے کو اپنے بدن پر محسوس کرے جو ان لوگوں کے لئے مخصوص ہے جو الله بہتان باندھتے ہیں تاکہ اتنے عظیم گناہ کا تصر بھی نہ آنے پائے ۔ اس کے بعد کی آیت میں اس موضوع کی تکمیل کردی گئی ہے اور اسے ایک کلّی قانون کے طور پر یُوں بیان کیا گیا ہے: لیکن وہ لوگ جو اعمالِ بَد بجالائیں اور اس کے بعد توبہ کرلیں (اور توبہ کی تمام شرائط پوری کردیں) اور خدا پر ایمان کی تجدید کریں اور ہر قسم کے شرک اور نافرمانی سے باز رہیں، تمھارا پروردگار پروردگار ان سب کے بعد انھیں بخش دے گا وہ بخشنے والا اور مہربان ہے (وَالَّذِینَ عَمِلُوا السَّیِّئَاتِ ثُمَّ تَابُوا مِنْ بَعْدِھَا وَآمَنُوا إِنَّ رَبَّکَ مِنْ بَعْدِھَا لَغَفُورٌ رَحِیمٌ) ۔