مَثَلُ ٱلَّذِينَ حُمِّلُواْ ٱلتَّوۡرَىٰةَ ثُمَّ لَمۡ يَحۡمِلُوهَا كَمَثَلِ ٱلۡحِمَارِ يَحۡمِلُ أَسۡفَارَۢاۚ بِئۡسَ مَثَلُ ٱلۡقَوۡمِ ٱلَّذِينَ كَذَّبُواْ بِـَٔايَٰتِ ٱللَّهِۚ وَٱللَّهُ لَا يَهۡدِي ٱلۡقَوۡمَ ٱلظَّـٰلِمِينَ
The example of those who were charged with the Torah, then failed to carry it, is that of an ass carrying books. Evil is the example of the people who deny Allah’s signs, and Allah does not guide the wrongdoing lot.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 62:5
[Pooya/Ali Commentary 62:5] The children of Israil were chosen as special agency for Allah's message in the beginning, but, when their descendants corrupted the message and became guilty of all the abominations to correct which prophets like Isa were sent and failed, they merely became like beasts of burden that carry learning and wisdom on their backs but do not understand or profit by it. Aqa Mahdi Puya says: It is also a warning to those Muslims who learn the Quran by heart and recite its verses but do not follow its guidance.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:5-8
ایسا چوپایہ جس پر کتابیں لدی ہوں
بعض روایات میں آ یاہے کہ یہودی یہ کہاکرتے تھے : اگرمحمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)مبعوث بر سالت ہُوا ہے تواس کی رسالت ہمارے لیے نہیں ہے .اِس لیے پہلی زیر بحث آ یت ان کے گوش گزار کررہی ہے کہ اگرتم نے اپنی آسمانی کتاب کوغور سے پڑھا ہوتا اوراس پر عمل کیا ہو تاتویہ بات نہ کرتے ، کیونکہ اِس میں پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کے ظُہور کی بشارت آ ئی ہے ۔ فر ماتاہے : وہ لوگ جن پر توارت نازل ہوئی اوروہ اس کے مکلّف قرار دیئے گئے ، لیکن انہوں نے اس کاحق ادا نہیں کیااوراس کی آ یات پرعمل نہیں کیا وہ اس گدھے کی مانند ہیں جواپنی پشت پر کتابیں اٹھائے ہوئے ہو (مَثَلُ الَّذینَ حُمِّلُوا التَّوْراةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوہا کَمَثَلِ الْحِمارِ یَحْمِلُ أَسْفاراً ) ۔ وہ کتاب سے سوائے اس کے بوجھ کے اور کسِی چیز کا احساس نہیں کرتا اوراس کے لیے کوئی فرق نہیں ہے ، کہ وہ پُشت پر پتھر اور لکڑ ی اٹھائے ہُوئے ہے ، یاایسی کتابیں جن میںآ فرینش کے دقیق ترین اسرار اورزندگی کے مفید ترین ضابطے درج ہیں ۔ یہ خود پسندقوم جس نے صرف توارت کے نام یااس کی تلاوت پر قناعت کی ہُوئی ہے اوراس کے مضامین پر غور وخود کرکے اس پر عمل نہیں کرتے ،وہ اسی جانور کے مانند ہیں جوحماقت اورنا دانی میں ضرب المثل اورمشہُور خاص وعام ہے ۔ یہ بہتر ین مثال ہے جو عالم،بے عمل کے لیے بیان کی جاسکتی ہے ، جو علم کی مسئو لیت کابوجھ تواپنے کاندھے پراُٹھا ئے ہُوئے ہے ،لیکن اس کی برکات سے بہرہ اندوز نہیں ہوتا...اسی طرح سے وہ لوگ جوقرآن کے الفاظ سے توسرو کار رکھتے ہیں لیکن اس کے مطالب اورعملی تقاضوںسے بے خبر ہیں ( اور مسلمانوںکی صفوںمیں ایسے لوگ بہت ہی زیادہ ہیں)وہ اسی آ یت کے مصداق ہیں ۔ یہ احتمال،بھی ہے کہ یہودیوں نے اِس سورہ کی پہلی آیات اوراس کے مانند دوسری آ یات کوجو بعثت پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی نعمت کی گفتگو کرتی ہیں،سُننے کے بعد کہاہوکہ ہم بھی اہل کتاب ہیں ، اورحضرت موسیٰ کلیم اللہ کی بعثت کے ساتھ مفتخرہیں ، قرآن ان کے جواب میں کہتاہے : اس کاکیافائدہ ہے تم نے تو رات کے احکام کوپائوںتلے روند ڈالاہے اوران پر اپنے مسائل ِزندگی میں ہرگز عمل نہیں کیا ۔ لیکن بہرحال یہ تمام مسلمانوں کے لیے ایک تنبیہ ہے کہ وہ اس بات کو نظر میں رکھیں کہ یہودیوں جیسی سرنوشت پیدانہ ہو ، یہ خداکاعظیم فضل ہے ،جوان کے شاملِ حال ہواہے اور یہ قرآن جوان پر نازل ہُوا ہے اِس لیے نہیں ہے کہ گھروں میں اس پر گردپڑتی رہے ،یانظر بد اور آسیب کے لیے تعویذ کے طورپر حمائل کرلیں، یاسفر کرنے کے موقع پر حوادث سے محفوظ رہنے کے لیے اس اس کے نیچے سے گزریں یابرکت اورنیک شگون کے لیے نئے گھر میں آ ینہاور جھاڑوکے ساتھ اُسے بھی بھیجیںاوراس کواس حد تک نیچے لے آ ئیں ،یاان کی آخری ہمت یہ ہو کہ اس کی تجوید،خوبصورت قرأت وتلاوت ،ترتیل اور حفظِ کرنے کی سعی و کوشش کریں ،لیکن ان ک یانفرادی اوراجتماعی زندگی میں اس کامعمُول ساانعکاس بھی نہ ہو اور عقیدہ وعمل میں اس کاکوئی اثر نظر نہ آ ئے ۔ اس کے بعد اسی مثال کوجاری رکتھے ہُوئے کہتاہے : وہ قوم جِس نے آ یات ِالہٰی کی تکذیب کی یقیناوہ بُری مثال رکھتی ہے (بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذینَ کَذَّبُوا بِآیاتِ اللَّہِ ) ۔ وہ لوگ بوجھ اُٹھانے والے گدھے کے مشابہ کیوں نہ ہوں ؟حالانکہ انہوں نے نہ صرف عمل بلکہ زبان سے بھی آ یاتِ الہٰی کاانکار کیاہے جیساکہ سُورہ بقرہ کی آ یت ٨٧ میں اسی قوم یہود کے بارے میں آ یاہے : أَ فَکُلَّما جاء َکُمْ رَسُول بِما لا تَہْوی أَنْفُسُکُمُ اسْتَکْبَرْتُمْ فَفَریقاً کَذَّبْتُمْ وَ فَریقاً تَقْتُلُون کیاجب بھی کوئی پیغمبر تمہاری خواہش کے برخلاف آ یا توتم نے اس کے سامنے تکبّر نہیں کیاپس ایک گروہ کو تم نے جھٹلایا ،اورایک گروہ کوقتل کرڈالا۔ آ یت کے آخر میں ایک مختصر اورپُر معنی جُملہ میں فرماتاہے : خدا ستمگر قوم کو ہدایت نہیں کرتا (وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمینَ) ۔ یہ ٹھیک ہے کہ ہدایت کرنا خدا کا کام ہے لیکن اس کے لیے ایک مُقدّمہ اور تمہید کی ضر ورت ہے ، اوراس کامُقدّمہ جوحق طلبی اورحق جُوئی کی رُوح ہے اسے انسانوں کی طرف سے فراہم ہوناچاہیے اور ستمگراس مرحلہ سے بہت دُور ہیں ۔ ہم بیان کرچکے ہیںکہ یہودی اپنے آپ کو بر گزیدہ اورمنتخب اُمّت اوراصلاح کے مطابق تافتہ ای جُدا بافتہ( یعنی سب سے الگ مخلوق )سمجھتے تھے ، یہاں تک کہ کبھی تووہ یہ دعویٰ کرتے کہ وہ خُدا کے بیٹے ہیں اور کبھی اپنے آپ کوخُدا کے مخصُوص دوست بتلاتے ، جیساکہ سورۂ مائدہ کی آ یت ١٨میں آ یاہے : وَ قالَتِ الْیَہُودُ وَ النَّصاری نَحْنُ أَبْناء ُ اللَّہِ وَ أَحِبَّاؤُہیہود ونصارٰی نے کہا کہ ہم خُدا کے بیٹے اوراس کے خاص دوست ہیں (خواہ ان کی مُراد مجازی اولاد ہی ہو ) ۔ قرآن ان بے دلیل بلند پرواز یوں کے مُقابلے میں ، وہ بھی ایسے گروہ کی طرف سے جو کتاب الہٰی کے حامل ہونے کے باوجود اس پر عامل نہیں تھے ،کہتاہے ان سے کہہ دیجئے ،اے یہود یوں ! اگرتمہارا گمان یہ ہے کہ تمام لوگوں کوچھوڑ کرتم ہی خدا کے دوست ہو ، توپھر موت کی تمنّاکرو ، اگر تم سچ کہتے ہو(قُلْ یا أَیُّہَا الَّذینَ ہادُوا ِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّکُمْ أَوْلِیاء ُ لِلَّہِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ) (١) ۔ کیونکہ دوست توہمیشہ دوست کی مُلاقات کامشتاق ہوتاہے ، اورہم جانتے ہیں کہ قیامت میں پروردگار کی معنوی مُلاقات ہوگی ، جب عالمِ دُنیاکے حجاب ہت جائیں گے اور شہوات اورہو اس رانیوں کے غبارچھٹ جائیںگے ،توپردے اُٹھ جائیں گے اورانسان چشمِدل سے محبوب کاجمالِ و لآراء دیکھے گا اوراس کے قرب کی بساطِ پرقدم رکھے گا اور فی مقعد صدق عند علیک مقتدر (صاحب ِاقتدارشہنشاہ کے قرب میں صداقت کی جگہ میں )کا مصداق بن کر حریم ِ دوست میں راہ پائے گا ۔ اگرتم سچ کہتے ہو، اوراس کے دوست خاص ہو تو پھر دُنیاکی زندگی کے ساتھ ، اس قدر کیوں چمٹے ہُوئے ہو؟موت سے اتنا کیوں ڈر تے ہو؟یہ اس بات کی دلیل ہے کہ تم اپنے اس دعوٰے میں سچّے نہیں ہو ۔ قرآن نے اسی بات کوایک دوسری تعبیر کے ساتھ سورة بقرہ کی آ یت ٩٦ میں بھی بیان کیا ہے ،جہاں کہتاہے : وَ لَتَجِدَنَّہُمْ أَحْرَصَ النَّاسِ عَلی حَیاةٍ وَ مِنَ الَّذینَ أَشْرَکُوا یَوَدُّ أَحَدُہُمْ لَوْ یُعَمَّرُ أَلْفَ سَنَةٍ وَ ما ہُوَ بِمُزَحْزِحِہِ مِنَ الْعَذابِ أَنْ یُعَمَّرَ وَ اللَّہُ بَصیر بِما یَعْمَلُون تم انہیںاس دُنیا وی زندگی کے لیے سب سے زیادہ حریص پائو گے ،یہاں تک کہ مُشرکین سے بھی زیادہ حریص ،یہاں تک کہ ان میں سے ہر ایک یہ چاہتاہے کہ ہزار برس تک زندہ رہے ،حالانکہ یہ طولانی زندگی اُسے عذابِ الہٰی سے نہیں چھڑا سکے گی اور خدااُن کے اعمال کودیکھتاہے ۔ اس کے بعد ان کے موت سے ڈ رنے کی اصل وجہ کی طرف اشارہ کرتے ہُوئے مزید کہتاہے : وہ اپنے ان اعمال کی وجہ سے ، جوانہوں نے آگے بھیجے ہُوئے ہرگز موت کی تمنّا نہیں کریں گے (وَ لا یَتَمَنَّوْنَہُ أَبَداً بِما قَدَّمَتْ أَیْدیہِمْ وَ اللَّہُ عَلیم بِالظَّالِمین) ۔ حقیقت میں انسان کاموت سے خوف دوعوامل میں سے کسِیایک کی وجہ سے ہوتاہے ،یاتو وہ موت کے بعد کی زندگی پرایمان نہیں رکھتا اورموت کوفنا ونیستی کاایک ہیولااورعدم کاظلمت کدہ خیال کرتاہے،یہ ایک طبعی اورفطری امر ہے کہ انسان نیستی اور عدم سے گریز کرے ۔ اور یاوہ موت کے بعد والے عالم کاعقیدہ تورکھتاہے لیکن وہ اپنے نامۂ اعمال کوایسا تاریک وسیاہ دیکھتا ہے کہ جس کی وجہ سے اس عظیم داد گاہ اور عدالت میں حاضر ہونے سے ڈرتے ہے ۔ اور چونکہ یہودی معاد اورموت کے بعد کے جہان کاعقیدہ رکھتے تھے ،لہٰذاطبعی طورپر ان کے موت سے ڈ رنے کاعامل دُوسری چیز تھی ۔ ظالمین کی تعبیر ایک وسیع مفہوم رکھتی ہے جویہودیوں کے تمام ناروااعمال ، خُدا کے عظیم پیغمبروں کوقتل کرنے سے لے کران کی طرف ناروانسبتوں ، لوگوںکے حقوق غضب کرنے ،ان کے اموال ہتھیانے ،سرمائے غارت کرنے اورانواع واقسام کے اخلاقی مفاسد سے آلو دہ ہونے تک کوشامل ہے ۔ لیکن مسلمہ طوپر یہ وحشت واضطراب کسِی مشکل کوحل نہیں کرتا ، موت ایکایسااونٹ ہے جوتمام گھروں کے در وازے پر بیٹھا ہے ،لہٰذاقرآن کہتاہے : اے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)! ان سے کہہ دیجئے کہ یہ موت جس سے تم بھاگتے ہو آخر ِ کار تُم سے مُلا قات کرے گا (قُلْ ِنَّ الْمَوْتَ الَّذی تَفِرُّونَ مِنْہُ فَِنَّہُ مُلاقیکُمْ ) ۔ اس کے بعد تمہیں اس کے پاس لے جایاجائے گاجوپنہا ں وآشکار ہے باخبر ہے ،اورتم جوکچھ عمل کیاکرتے تھے وہ تمہیں اس کی خبر دے گا (ثُمَّ تُرَدُّونَ ِلی عالِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّہادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُون) ۔ موت کاقانون اِس عالم کے قوانین میں سب سے زیادہ عالم اورسب سے زیادہ وسیع ہے ،خُدا کے عظیم پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اورمقرب فرشتے سب مرجائیں گے اور خدا کی پاک ذات کے سوا اس جہان میں کوئی باقی نہیںرہے گا (کُلُّ مَنْ عَلَیْہا فان وَ یَبْقی وَجْہُ رَبِّکَ ذُو الْجَلالِ وَ الِْکْرامِ ٍ ) (٢) ۔ موت اورداد گارِ عدلِ الہٰی میں حاضرہو کرحساب دنیا بھی اس عالم کے مسلّمہ قوانین میں سے ہے اورخدا بندوں کے تمام اعمال سے دقیقیا ً آگاہ بھی ہے ۔ اس بناء پر اِس خو ن ودہشت کے ختم ہونے کی طرف ایک ہی راہ میں اوروہ اعمال کی پاکیزگی اورگناہ کی آ لو دگی سے دل کوپاک صاف کرناہے ،کیونکہ جس کاحساب پاک صاف ہواُسے محاسب سے ڈرنے کی ضرورت نہیں ہوتی ، یہی ایک صورت ہے جس میں علی علیہ السلام کی طرح کہا جاسکتاہے : ھیھات بعد اللتیا واللتی واللہ لابن ابی طالب انس بالموت من الطفل بثدی امہ۔ ہیہاد! ان تمام جنگوں اورحوادث کے بعد ، خداکی قسم ! ابوطالب کابیٹا موت سے اس سے بھی زیادہ انس اور لگائو رکھتاہے جتنا اُنس بچے کواپنی ماں کی چھاتی سے ہوتاہے ( ٣) ۔ اور جب آپ کی پیشانی مُبارک اشقی الاآخرین (ابن ملجم) کی ضرب سے شگافتہ ہُوئی توبآ واز بلند فرمایا : فزت ورب الکعبہ کعبہ کے پروردگار کی قسم ! میں کامیاب ہوا اورنجات پاگیا ۔ ١۔"" من دون الناس""بعض مفسرین کے قول کے مطابق اسم "" ان "" کاحال ہے اور بعض کے نزدیک اولیاء کی صفت ہے ۔ ٢۔ سورہ رحمن آ یت ٢٦، ٢٧۔ ٣۔ نہج البلاغہ ، خطبہ ٥۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:5-8
1 عالم بے عمل
اس میں شک نہیں کہ تحصیلِ علم میں بُہت زیادہ مشکلات پیش آ تی ہیں ،لیکن یہ مشکلات چاہے جتنی بھی ہوں ، علم سے حاصل ہونے والی برکات کے مقابلے میں کوئی حیثیت نہیں رکھتیں ،انسان کی بیچار گی اس دن ہوگی جب وہ تحصیل ِ علم کی زحمت کوتو برداشت کرے لیکن اُس کی برکتوں کااُسے کوئی فائدہ حاصل نہ ہو ، وہ ٹھیک اس چوپائے کی مانند ہوتاہے ،جوکتابوں کی ایک گانٹھ کاوزن تواپنی پشت پرمحسوس کرتاہے لیکن اس کے مطالب سے کوئی فائدہ نہیں اُٹھا تا ۔ بعض تعبیرات میں عالم بے عمل کو شجر بلاثمر (بغیر پھل کے درخت) یا سحاب بلا مطر (بغیر بارش کے بادل ) یااس شمع سے جوجلتی ہے اوراپنے اطراف کوروشن کرتی ہے لیکن خود ختم ہوجاتی ہے ،یااس چو پائے سے جسے خراس کے ساتھ جوت دیتے ہیں ،وہ مسلسل زحمت اٹھاتا اور راستہ طے کرتارہتاہے ،لیکن چونکہ وہ اپنے ہی چکّروں میں گھومتاہے لہٰذ وہ کوئی راستہ نہیں کرتا اور کہیں بھی نہیں پہنچتا ،اِسی قسم کی دوسری تشبیہیں دی جاتی ہیں جن میں سے ہر ایک عالم بے عمل کومنحوس سرنوشت کے کسِی ایک گوشے کوبیان کرتی ہے ۔ اِسلامی روایات میں بھی اس قسم کے عُلماء کی مذ مّت میں دل ہلا دینے والی تعبیریں آ ئی ہیں منجملہ ان کے حضرت رسُول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: من ازداد علماً ولم یزدد ھدی لم یزدد من اللہ الا بعداً جس شخص کاعلم زیادہ ہولیکن اس کی ہدایت میںاضافہ نہ ہوتویہ علم اُسے خُدا سے دُوری کے سوا کچھ نہیں ہویتا ( ۱) ۔ دوسری جگہ امیر المومنین علی علیہ السلام سے منقول ہے : العلم مقرون بالعمل ،فمن علم عمل ، والعلم یھتف بالعمل فان اجابہ والا ارتحل عنہ ( ۲) ۔ علم عمل کے ساتھ توام ہے جوشخص جس چیز کوجانتاہے اُسے اس پر عمل کرناچاہیئے .علم فریاد کرتاہے اور عمل کی دعوت دیتاہے ،اگروہ اُسے مثبت جواب نہ دے تو علم اس کے ہاں سے کوچ کرجاتاہے ۔ اصُولی طورپر بعض روایات سے معلوم ہوتاہے کہ عالمِ بے عمل عالم کہلانے کے لائق نہیں ہے ۔ حضرت رسُول خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فر ماتے ہیں : لا یکون المرء عالماً حتّٰی یکون بعلمہ عاملاً ( 3) ۔ اِس سے بڑھ کر یہ بات ہے کہ وہ عالم کی تمام ذمّہ داریوں کے بوجھ کواپنے دوش پراُٹھا ئے ہو ئے ہوتاہے کہ جبکہ علم خصُوصیّات سے بہرہ نہیں ہوتا، جیساکہ امیر المو منین علی علیہ السلام سے مروی ہے کہ آپ نے ایک خطبہ کے ضمن میں فر مایا: ایھا الناس! اذا علمتم فاعملو ا بما علمتم لعلکم تھتدون ، ان العالم العامل بغیرہ کالجاھل الحائر الذ ی لا یستفیق عن جھلہ بل قد رأیت ان الحجة علیہ اعظم والحسرة ادوم ( ۴) ۔ اے لوگوں ! جب تم کسِی چیزکو جان لو تواس پر عمل کروتاکہ ہدایت پائو ،کیونکہ وہ عالم جو اپنے علم کے برخلاف عمل کرتاہے اس سر گرداں جاہل کی طرح ہے جواپنی جہالت سے کبھی ہوش میں نہیں آ تا ، بلکہ میں تویہ دیکھ رہاہوں کہ اس قسم کے عالم پر حجّت بہُت بھاری اور اُس کے لیے حسرت دائمی ہے ۔ بلاشک وشبہ اس قسم کے عُلماء اوردانشورون کاوجود ایک مُعاشرے کے لیے بہت بڑی مصیبت ہے جن لوگوں کاعالم ودانشور اس قسم کاہوان کی سرنوشت خطرناک ہے ،بقولِ شاعر: وراعی الشاة یحمی الذئب عنھا فکیف اذا الرعاة لھا ذئاب چر واہا بکریوں کوبھیڑ یے سے بچاتاہے ۔ لیکن ان بکریوں کی حالت پر افسوس ہے کہ جن کے چر واہے ہی بھیڑ یے بن جائیں : ۱۔ مجمة البیضاء جلد١،صفحہ ، ١٢٦۔ ۲۔ "" نہج البلاغہ ، کلمات قصار ،جملہ ٣٦٦۔ 3۔ مجمتہ البیضاء جلد ١صفحہ ١٢٥، ١٢٦۔ ۴۔ اصول کافی جلد١،باب استعمال العلم حدیث ٦۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:5-8
٢۔ میں موت سے کیوں ڈروں ؟
عام طورپر اکثر لوگ موت سے ڈرتے ہیں ، صرف ایک چھوٹا ساگروہ ہے جوموت کاچہرہ دیکھ کرمسکرا دیتاہے ، اسے پُورے زور سے اپنی آغوش میں لے لیتاہے ،اور رنگ برنگی دڑی دے کرجاودانی زندگی حاصل کرلیتاہے ۔ لیکن آیئے دیکھتے ہیں کہ موت اوراس کی علامات ،یہاں تک کہ اس کانام بھی ایک گروہ کے لیے کیوں تکلیف دہ ہے ؟ اس کی سب سے بڑی وجہ تو یہ ہے کہ وہ موت کے بعد کی زندگی پرایمان نہیں رکھتے اور اگر ایمان رکھتے بھی ہیں تویہ ایمان ایک گہرے یقین کی صُورت میں نہیں اوروہ ان کے افکار وحالات پر اچھّی طرح سے مُؤ ثر نہیں ہواہے ۔ فناونیستی سے انسان کی وحشت طبیعی اور فطری ہے ،انسان رات کی تاریکی تک سے ڈ رتاہے ،کیونکہ ظلمت ،نور کی نیستی ہے ،انسان اوقات مُردہ سے بھی ڈ رتاہے کیونکہ وہ بھی فنا کے راستے پر گامزن ہے ۔ لیکن اگرانسان اپنے تمام وجُود کے ساتھ یہ باور کرلے : الد نیا سجن المؤ من وجنة الکا فر (۱) دُنیا مومن کازِندان اور کافر کے لیے بہشت ہے ۔ اگرانسان باور کرلے کہ یہ جسمِ خاکی اس کے طائرِ رُوح کے لیے ایک قفس ہے ،جب یہ قفس ٹوٹ جائے گاتووہ آزاد ہوجائے گا اورکوئی دوست کی فضا میں پرواز کرے گا ۔ اگروہ یہ باور کے لے کہ حجاب چہرۂ جان می شودغبارتنشاُس کے بدن کاغُبار جان کے چہرے کاحجاب ہے تو یقینا وہ اس وقت کے انتظار میں ہوگا کہ جب اس چہرے سے پردہ ہٹ جائے گا ۔ اگرانسان یہ باور کرلے کہ طائر ِ رُوح عالمِ خاک سے نہیں باغ ملکوت سے ہے اورصرف وہ تین دن کے لیے اس کے بدن کواُس کاقفس بنایاگیاہے ۔ ہاں !اگرموت کے بارے میںانسان کانظر یہ اس طرح کا ہوتووہ ہرگز موت سے نہیں ڈ رے گاجبکہ وہ ارتقاء کی راہ طے کرنے کے لیے زندگی چاہتاہے ۔ اسی لیے حدیثِ عاشورہ میں آ یاہے : امام حسین اوران کے انصار پر دشمن کے مُحاصرہ کاگھیر اجتنا تنگ ہوتا اور دشمن کادبائو بڑھتاجاتا تھا، اُتنے ہی اُن کے چہرے زیادہ چمکتے اورکھلتے جاتے تھے ، یہاں تک کہ آ پ کے اصحاب میں سے بوڑھے مُسکرارہے تھے ،جب ان سے پُوچھا گیاکہ وہ کیوں مُسکرا رہے ہیں تو ان کاجواب تھا: ہم چند لمحہ کے بعد ہر شربت شہادت نوش کرلیں گے اورپھر حورُ العین سے ہم آ غوش ہوں گے ( ۲) ۔ موت کے خوف کاایک اور سبب ،دُنیا کے ساتھ حد سے زیادہ دل لگانا ہے ،کیونکہ موت اس کے اوراس کی محبُوب دُنیا کے درمیان جُدائی ڈال دے گی ،جبکہ وہ تمام امکانات ووسائل جواُس عیش ونوش کی زندگی کے لیے فراہم کیے تھے ان سے دل کوہٹانا اس کے لیے طاقت فرساہے ۔ خوف کاتیسراعامل نامۂاعمال کانیکیوںسے خالی اور بُرائیوں اورسیّئات سے پُر ہوناہے ۔ ایک حدیث میں آیا ہے کہ کوئی شخص پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں حاضر ہوااور عرض کیا: میں موت کوکیوں پسند نہیں کرتا۔ آپ نے فرمایا:کیاتیرے پاس کچھ دولت ہے ؟ اس نے عرض کیا :جی ہاں! آپ نے فرمایا:کیاتونے اس میں سے کوئی چیز آگے بھی بھیجی ہے ؟ اس نے عرض کیا:نہیں ! آپ نے فرمایا:یہی وجہ ہے کہ تو موت کودوست نہیں رکتھا، کیونکہ تیرا نامۂ اعمال حسنات سے خالی ہے ( ۳) ۔ ایک دُوسر شخص ابوذر کے پاس آیااور یہی سوال کیا کہ ہم موت سے نفرت کیوں کرتے ہیں ؟ آپ نے فرمایا : لانکم عمرتم الدینا ،وخربتم الاٰخرة ،فتکرھون ان تنتقلوا من عمران الی خراب ،یہ اس بناء پر ہے کہ تم نے دُنیا کوتوآباد کررکھّا ہے اور آخرت کو ویران بنایا ہُوا ہے ،لہٰذا یہ بات طبعی اور فطری ہے کہ تم آباو جگہ کوچھوڑ کرویران و برباد جگہ کی طرف جاناپسند نہیں کرتے ۔ ۱۔سفینة البحار ،جلد ١،صفحہ ٢٠٣۔ ۲۔مقتل الحسین مقرم ،صفحہ ٢٦٣۔ ۳۔مجمتہ البیضاء ،جلد٨،صفحہ ٢٥٨۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 62:5-8
سوره جمعه/ آیه 5- 8
٥۔ مَثَلُ الَّذینَ حُمِّلُوا التَّوْراةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوہا کَمَثَلِ الْحِمارِ یَحْمِلُ أَسْفاراً بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذینَ کَذَّبُوا بِآیاتِ اللَّہِ وَ اللَّہُ لا یَہْدِی الْقَوْمَ الظَّالِمینَ ۔ ٦۔قُلْ یا أَیُّہَا الَّذینَ ہادُوا ِنْ زَعَمْتُمْ أَنَّکُمْ أَوْلِیاء ُ لِلَّہِ مِنْ دُونِ النَّاسِ فَتَمَنَّوُا الْمَوْتَ ِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ ۔ ٧۔ وَ لا یَتَمَنَّوْنَہُ أَبَداً بِما قَدَّمَتْ أَیْدیہِمْ وَ اللَّہُ عَلیم بِالظَّالِمینَ ۔ ٨۔ قُلْ ِنَّ الْمَوْتَ الَّذی تَفِرُّونَ مِنْہُ فَِنَّہُ مُلاقیکُمْ ثُمَّ تُرَدُّونَ ِلی عالِمِ الْغَیْبِ وَ الشَّہادَةِ فَیُنَبِّئُکُمْ بِما کُنْتُمْ تَعْمَلُونَ ۔ ترجمہ ٥۔جولوگ تورات کے مکلّف قرار دیئے گئے ،پھر انہوں نے اس کاحق ادانہ کیا ، وہ اس گدھے کے مانند ہیں جوکتابوں کابوجھ اُٹھا ہو ئے ہو ، جس قوم نے آ یاتِ الہٰی کوجھٹلا یاوہ بُری مثال رکھتے ہیں ، اورخدا ظالم لوگوں کو ہدایت نہیں کیا کرتا ۔ ٦۔کہہ دیجئے ،اے یہودیوں ! اگرتمہاراگمان یہ ہے کہ تمام لوگوں کوچھوڑ کرتم ہی خدا کے دوست ہو ،تو پھر موت کی تمنّا کرو ،اگرتم سچ کہتے ہو ، (تاکہ تم اپنے محبُوب کی مُلاقات کرو) ۔ ٧۔لیکن وہ ان اعمال کی وجہ سے جو وہ آگے بھیج چکے ہیں ہر گز موت کی تمنّانہیں کریں گے ،اورخُدا ظالموں کواچھی طرح جانتاہے ۔ ٨۔کہہ دیجئے کہ یہ موت جس سے تم بھاگتے ہو ، آخر کار تم سے ملاقات کرکے رہے گی ،اِس کے بعد تمہیں اِس پنہاں وآشکار باتوں کی خبر رکھنے والے کی طرف پلٹا دیاجائے گا ،اوروہ تمیں ان باتوں سے آگاہ کرے گا جوتم کیاکرتے تھے ۔