وَيَوْمَ يَحْشُرُهُمْ جَمِيعًا يَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدِ اسْتَكْثَرْتُم مِّنَ الْإِنسِ وَقَالَ أَوْلِيَاؤُهُم مِّنَ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا أَجَلَنَا الَّذِي أَجَّلْتَ لَنَا قَالَ النَّارُ مَثْوَاكُمْ خَالِدِينَ فِيهَا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ إِنَّ رَبَّكَ حَكِيمٌ عَلِيمٌ
On the day He will gather them all together, [He will say], ‘O company of jinn! You claimed many of the humans.’ Their friends from among the humans will say, ‘Our Lord, we used each other, and we completed our term which You had appointed for us.’ He will say, ‘The Fire is your abode, to remain in it [forever], except what Allah may wish.’ Indeed your Lord is all-wise, all-knowing.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 6:128
[Pooya/Ali Commentary 6:128] According to the root meaning of jinn (to be covered or hidden) they are invisible beings. Jinn are stated to have been created from fire. In many verses jinn and men (created from clay) are spoken of together. The angels are the spirit of goodness and jinn are the spirit of evil. For further information, see commentary of al Baqarah : 30 under "Jinn". As an illustration the word jinn is also used for the mischief-makers among the disbelievers (for whom the word shayatin, the devils, has also been used). Ibn Abbas says that in this verse jinn means "the leaders of the infidels", because they used to plan their wicked intrigues in secret meetings, and in times of turmoil and defeat used to hide themselves behind their worldly positions. Aqa Mahdi Puya says: This verse asserts the existence of invisible beings who establish communication with the human beings and influence the weak-minded among them so as to lead them astray from the right path. Evil consorts with evil because of their mutual bargains, bound as they are to each other in the planning and execution of evil.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 6:128-129
اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا
ان آیات میں قرآن نئے سرے گمراہ اور گمراہ کرنے والے مجرمین کی سرنوشت کی طرف لوٹتا ہے، اور گذشتہ آیات کے مباحث کی اس سے تکمیل کرتا ہے۔ انھیں اس دن کی یاد دلاتاہے کہ جس دن وہ ان شیاطین کے آمنے سامنے کھڑے ہوں گے کہ جن سے انھوں نے الہام لیا ہے، اور ان پیروکاروں اور ان پیشواؤں سے سوال ہوگا ، ایسا سوال کہ جس کا وہ کوئی جواب نہ دے سکے گے اور حسرت واندوہ کے سواکوئی نتیجہ حاصل نہ کرے گے، یہ تنبیہیں اس مقصد کے لئے ہیں کہ صرف اس چند روزہ زندگی پر نگاہ نہ رکھیں اور انجام کار کی بھی فکر کریں۔ قرآن پہلے کہتا ہے: اس دن کہ جس میں ان سب کو جمع ومحشور کرے گا تو ابتدا میں کہے گا کہ اے گمراہ کرنے والے جن وشیاطین تم نے بہت سے افراد انسانی کو گمراہ کیا ہے( وَیَوْمَ یَحْشُرُہُمْ جَمِیعًا یَامَعْشَرَ الْجِنِّ قَدْ اسْتَکْثَرْتُمْ مِنْ الْإِنسِ )۔(۱) لفظ ”جن“ سے مراد یہاں وہی شیاطین ہیں ، کیوں کہ جن اصل لغت میں، جیسا کہ ہم پہلے بھی بیان کرچکے ہیں، ہر مخفی مخلوق کے معنی میں، سورہٴ کہف کی آیہ ۵۰ میں ہم شیاطین کے سردار ابلیس کے بارے میں پڑھے گے۔ ”کان من الجن“ یعنی وہ جنوں میں سے تھا۔ آیات گذشتہ کہ جن میں شیاطین کے رمزی وسوسوں کے بارے میں گفتگو تھی اور فرمایاگیا تھا ”ان الشیاطین لیوحون الی اولیائھم “ اسی طرح بعد والی آیت کچھ اور لوگوں کے بارے میں بعض ستمگروں کی رہبری کی بات کررہی ہے ہوسکتا ہے کہ وہ اسی امر کی طرف اشارہ ہ۔ لیکن گمراہ کرنے والے شیاطین کے پاس اس گفتگو کا کوئی جواب نہیں ہے اور وہ خاموش ہوجاتے ہیں لیکن ”انسانوں میں سے ان کی پیروی کرنے والے اس طرح کہے گے کہ پروردگارا ، انھوں نے ہم سے فائدہ اٹھایا او ر ہم نے ان سے فائدہ اٹھایا یہاں تک کہ ہماری اجل آگئی“(وَقَالَ اٴَوْلِیَاؤُہُمْ مِنْ الْإِنسِ رَبَّنَا اسْتَمْتَعَ بَعْضُنَا بِبَعْضٍ وَبَلَغْنَا اٴَجَلَنَا الَّذِی اٴَجَّلْتَ لَنَا )۔ وہ اسی بات پر خوش تھے کہ انھوں نے فرمانبردار پیروکار مل گئے ہیں اور ان پر حکومت کررہے ہیں ، اور ہم بھی دنیا کے زرق وبرق اور اس کی بے لگام وقتی لذات کہ جو شیاطین کے وسوسوں کی وجہ سے دلفریب اور دلچسپ دکھائی دیتی تھی ، خوش تھے۔ اس بارے میں کہ اس آیت میں اجل سے کیا مراد ہے؟ کیا اس سے مراد زندگی کا اختتا م ہے یا قیامت کادن ہے ؟ مفسرین کے درمیان اختلاف ہے لیکن ظاہر زندگی کا اختتام مراد ہے، کیوں کہ لفظ ”اجل“ اس معنی میں قرآن کی بہت سے آیات میں استعمال ہوا ہے ۔ لیکن خدا ان سب فاسد ومفسد پیشواؤں اور پیروکاروں کو مخاطب کرکے کہتا ہے: تم سب کے رہنے کی جگہ آگ ہے اور تم ہمیشہ ہمیشہ اسی میں رہوں گے، مگر جو کچھ خدا چاہے (قَالَ النَّارُ مَثْوَاکُمْ خَالِدِینَ فِیہَا إِلاَّ مَا شَاءَ الله )۔ جملہ”الا ماشاء اللہ“ (مگر جو خدا چاہے) کے ساتھ استثنا یا تو اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ ایسے مواقع پر عذاب وسزا کا ابدی ہونا پروردگار عالم سے اس کی قدرت کو سلب نہیں کرتا، بلکہ جب وہ چاہے اسے بدل سکتا ہے، اگر چہ ایک گروہ کے لئے قائم رہنے دیتا ہے۔ یا یہ ان افراد کی طرف اشارہ ہے کہ جو ابدی عذاب کے مستحق نہیں ہیں، یا یہ وہ عفو الٰہی کے شامل حال ہونے کی قابلیت رکھتے ہیں کہ جنھیں سزا کے جاودانی ہونے اور ہمیشگی کے حکم سے مستثنی ہونا چاہئے۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : تیرا پروردگار حکیم ودانا ہے(إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ )۔ اس کی سزا بھی حساب وکتاب کے ماتحت ہے اور اس کی بخشش بھی حساب وکتاب کی رو سے ہے اوروہ اس کے مواقع کو اچھی طرح جانتا ہے۔ اگلی آیت میں اس قسم کے افراد کے بارے میں ایک دائمی قانون الٰہی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: جس طرح ستمگر اور طاغی لوگ اس دنیا میں ایک دوسرے کے حامی اور معاون تھے، وہ آپس میں رہبر ورہنما بھی تھے، اور غلط راستوں پر چلنے میں ایک دوسرے کے قریبی ہمکار بھی تھے، ”دوسرے جہان میں بھی ہم انھیں ایک دوسرے کے ساتھ چھوڑ دیں گے، اور یہ ان اعمال کی وجہ سے ہے کہ جنھیں وہ اس جہان میں انجام دیتے تھے” (وَکَذٰلِکَ نُوَلِّی بَعْضَ الظَّالِمِینَ بَعْضًا بِمَا کَانُوا یَکْسِبُون)۔ کیوں کہ جیس کہ ہم نے معاد سے مربوط مباحث میں بیان کیا ہے قیامت کا منظر بہت بڑے پیمانے پر عکس العمل اور ردعمل کا منظر ہے اور وہاں پر جو کچھ ہوگا وہ ہمارے اعمال کا پرتواور انعکاس ہے۔(2) تفسیر علی بن ابراہیم قمی میں بھی امام علیہ السلام سے نقل ہوا ہے کہ آپ نے فرمایا: ”نولی کل من تولی اولیائھم فیکونون معھم یوم القیٰمة“ ”قیامت کے دن ہر شخص اپنے اولیاء کے ساتھ ہوگا“۔ قابل توجہ بات یہ ہے آیت میں تمام گروہوں کا ”ظالم“ کے عنوان تعارف کرایا گیا ہے اور اس میں شک نہیں ہے کہ ”ظلم“ اپنے وسیع معنی کے لحاظ سے ان سب پر محیط ہے، اس سے بڑھ کر اور کیا ظلم ہوگا کہ انسان اپنے جیسے شیطان صفت لوگوں کی رہبری کو قبول کرکے اپنے آپ کو خدا کی ولایت سے خارج کرلے، اور دوسرے جہاں میں بھی ان ہی کی ولایت کے ماتحت قرار پائے۔ نیز یہ تعبیر اور”بما کانوا یکسبون“ سے اس بات کی نشان دہی ہوتی ہے کہ یہ سیاہ روزی اور بدبختی خود ان کے اعمال کی وجہ ہے اور یہ ایک سنت الٰہی اور قانون فطرت ہے کہ تاریک راستوں کے راہی بدبختی کے کنویں اور درے میں گرنے کے سوا اور کوئی انجام وعاقبت نہیں پائیں گے۔ ۱۳۰ یَامَعْشَرَ الْجِنِّ وَالْإِنسِ اٴَلَمْ یَاٴْتِکُمْ رُسُلٌ مِنْکُمْ یَقُصُّونَ عَلَیْکُمْ آیَاتِی وَیُنذِرُونَکُمْ لِقَاءَ یَوْمِکُمْ ہَذَا قَالُوا شَہِدْنَا عَلیٰ اٴَنفُسِنَا وَغَرَّتْہُمْ الْحَیَاةُ الدُّنْیَا وَشَہِدُوا عَلیٰ اٴَنفُسِہِمْ اٴَنَّہُمْ کَانُوا کَافِرِینَ ۔۔ ۱۳۱ ذٰلِکَ اٴَنْ لَمْ یَکُنْ رَبُّکَ مُہْلِکَ الْقُرَی بِظُلْمٍ وَاٴَہْلُہَا غَافِلُونَ ۔ ۱۳۲ وَلِکُلٍّ دَرَجَاتٌ مِمَّا عَمِلُوا وَمَا رَبُّکَ بِغَافِلٍ عَمَّا یَعْمَلُونَ ۔ ترجمہ ۱۳۰۔ (اس دن ان سے کہے گا) اے گروہ جن وانس ! کیا تم ہی میں سے (ہمارے بھیجے ہوئے) رسول تمھارے پاس نہیں آئے تھے، جو ہمارے آیات تمھارے سامنے بیان کیا کرتے تھے، اور اس قسم کے دن کی ملاقات سے تمھیں ڈراتے تھے، وہ کہیں گے کہ ہم خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں (ہاں ہم نے برا کیا) اور انھیں دنیا کی (زرق وبرق) زندگی نے فریب دیا، اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیتے ہیں کہ وہ کافر تھے۔ ۱۳۱۔ یہ اس بنا پر ہے کہ تیرا پروردگار کبھی بھی شہر اور آبادیوں (کے لوگوں) کو ان کے ظلم وستم کی وجہ سے غفلت اور بے خبری کی حالت میں ہلاک نہیں کرتا(بلکہ پہلے کچھ رسولوں کو ان کے پاس بھیجتا ہے)۔ ۱۳۲۔ اور (ان دونوں گروہوں میں سے ) ہر ایک کے لئے درجات (اور مراتب) ہیں ہر اس عمل کے بدلے میں جو انھوں نے انجام دیا ہے اور تیرا پروردگار ان اعما ل سے جو انھوں نے انجام دئیے ہیں غافل نہیں ہے۔ تفسیر ۱۔ ”یوم“ ظرف ہے اور ”یقول“ سے متعلق ہے جو کہ محذوف ہے اور اصل میں جملہ یوں تھا” یوم یحشرھم جمیعا یقول“۔ 2۔ مزید وضاحت کے لئے ”معادو جہان پس از مرگ “ نامی قیمتی کتاب کی طرف رجوع کریں۔