إِنَّ الَّذِينَ يُحَادُّونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ كُبِتُوا كَمَا كُبِتَ الَّذِينَ مِن قَبْلِهِمْ وَقَدْ أَنزَلْنَا آيَاتٍ بَيِّنَاتٍ وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ مُّهِينٌ
Indeed those who oppose Allah and His Apostle will be subdued just as those who passed before them were subdued. We have certainly sent down manifest signs, and there is a humiliating punishment for the faithless.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 58:5
[Pooya/Ali Commentary 58:5] The enemies of Allah were humiliated and abased in the battle of Khandaq. Refer to the commentary of Baqarah: 214, 251; Ahzab: 1 to 3 and 9 to 27. They will also be punished with a humiliating punishment on the day of judgement. Also refer to the commentary of Nisa: 65 for "those who opposed the Holy Prophet" when he asked for pen and paper.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:5-7
وُہ جوخُدا سے دُشمنی کرتے ہیں
کیونکہ گزشتہ آیات کاآخری جملہ سب کے لیے خطرہ کااشارہ کہ حُدودِ الہٰی کی رعایت کی جائے اوران سے تجاوز نہ کیا جائے ،زیربحث آ یت میں ان لوگوں کے بارے میں گفتگو کرتاہے جونہ صرف یہ کہ ان حدود سے تجاوز کرتے ہیں بلکہ خدااوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے لڑنے کے لیے آمادہ ہیں ۔ اس طرح خدا، اس دنیامیں اور دوسرے جہان میں،ان لوگوں کے انجام کوظاہرکرتاہے،پہلے فرماتاہے: جولوگ خدااوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے دُشمنی کرتے ہیںوہ ذلیل وخوار ہوں گے جیساکہ ان سے پہلے لوگ ذلیل وخوار ہوئے (ِنَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ کُبِتُوا کَما کُبِتَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ ) یحادون محادہ کے مادّہ سے ہے اور مسلّح ہوکرلڑنے کے معنی میں ہے اورحدید یعنی لوہے سے مستفاد ہے اورغیرمسلّح ہوکرلڑنے کے لیے بھی بولاجاتاہے ۔بعض مفسّرین نے کہاہے کہ محادّہ کے معنی اصل میں ممانعت کے ہیں ۔ اس کامادّہ حد ہے جودو چیزوں کے درمیان مانع کی حیثیت رکھتی ہے ۔ اسی لیے دربان کوحدّاد کہتے ہیں ۔دونوں معنی نتیجے کے لحاظ سے ایک ہی ہیں ۔ اگرچہ دونوں جوذلیل دومختلف اصل سے لیے گئے ہیں ۔ کبتوا کامادّہ کتب (بروز ثبت ہے ۔ اس کے معنی مانع کے ہیں ۔ ایسا مانع جوذلیل بھی کرتاہو ۔ یہ اس طرف اشارہ ہے کہ خداان لوگوں کی سزا ذلّت وخواری قرار دیتاہے جواس سے اوراس کے پیغمبرسے لڑ نے کے لیے آمادہ ہیں ۔ ان کواپنے لطف بے پایاں سے محروم کردیتاہے(١) ۔ ١۔ بعض مفسرین نے کبتوا کونفرین کے معنی میں لیاہے ۔چونکہ خدائے قادرمطلق کی طرف سے کسی کے لیے نفرین اس بات کی دلیل ہے کہ جس گروہ کے خلاف نفرین ہے وہ ذلیل وخوار ہے لیکن آ یت کی تعبیر کاظاہر یہ ہے کہ یہ جملہ خبریہ ہے نہ کہ اِنشائیہ ۔ یہ تعبیر اس تعبیر کی نظیر ہے جوسُورہ بقر کی آ یت ١١٤ میں آ ئی ہے ۔جس میں ان افراد کے بارے میں ،جولوگوں کو مساجدمیں نہیں جانے دیتے ،عبادت سے روکتے ہیں اور دین ِحق سے لرنے کے لیے آمادہ ہوجاتے ہیں (لَہُمْ فِی الدُّنْیا خِزْی وَ لَہُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذاب عَظیم) ان لوگوں کے بارے میں دُنیا میں ذلّت ورسوائی ہے اور آخرت میں بہت بڑاعذاب ہے سور ئہ مائدہ کی آ یت ٣٣ میں بھی اسی طرح ان لوگوں کے بارے میں جوخدا اوراس کے رسول سے لڑنے کے لیے آمادہ ہو جائیں اور زمین میں فساد کریں، فرماتاہے:(ذلِکَ لَہُمْ خِزْی فِی الدُّنْیا وَ لَہُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذاب عَظیم) یہ ان کے لیے دنیا میں رسوائی کاباعث ہے اورآخرت میں ان کے لیے عذابِ عظیم ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے ہم نے واضح آ یات نازل کیں(وَ قَدْ أَنْزَلْنا آیاتٍ بَیِّنات)اِس سلسلہ میں کافی اتمام ِ حجّت ہواہے اورمخالفت کے لیے کوئی عُذر یابہانہ باقی نہیں رہا، اس کے باوجود اگرمخالفت کریں تو پھر ان کو سزا ملنی چاہیئے اور نہ صرف اس دنیا میں انہیں سزادی جائے گی بلکہ کفّار کے لیے قیامت میں ذلیل وخوار کرنے والاعذاب ہے (ٍ وَ لِلْکافِرینَ عَذاب مُہین )تواس طرح گزشتہ جملہ میں اُن کے دُنیاوی عذاب کی طرف اشارہ ہو اوراس جملہ میں ان کے اُخروی عذاب کی طرف اشارہ ہے اوران معانی پرشاید ( کَما کُبِتَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ ) (جیساکہ ان سے پہلے کے لوگ رُسواہُوئے) کاجملہ ہے بعد والی آ یت بھی انہی معانی کی گواہی دیتی ہے ۔بہرحال یہ خدائی تہدیدان لوگوں کے بارے میں ہے جوپیغمبر اورقرآن کے خلاف اُٹھ کھڑے ہوئے تھے اور جنگِ بدر وخندق وخیبر وغیرہ میں ذلّت وخواری اور شکست سے دوچار ہوئے تھے ،آخرکار فتح مکہ نے ان کے اقتدار کی بساط اُلٹ دی اوراسلام ہرجگہ کامیاب ہوا، بعد والی آ یت میں ان کے اُخروی عذاب کے وقوع کے زمانے کے بارے میں اس طرح فرماتاہے: یہ ایسے دن ہوگا جب خدا ان کو قبروں سے اُٹھا ئے گا اور جواعمال اُنہوں نے انجام دیے ہیں انہیں ان سے باخبر کرے گا (یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ جَمیعاً فَیُنَبِّئُہُمْ بِما عَمِلُوا) (٢) ۔ ٢۔یوم ظرف ہے اورللکافرین سے متعلق ہے یا مھین سے لیکر پہلااحتمال زیادہ مناسب ہے اور بہت سے مفسرین نے اسی سے آتفاق کیاہے اور یہ جوبعض مفسرین نے احتمال تجویز کیاہے کہ اذکر محذوف ہے یہ بہت زیادہ محذوف نظر آ تاہے ۔ جی ہاںخدا نے ان کے تمام اعمال کوشمارکیا ہے اگرچہ وہ خود اسے فراموش کرچکے ہیں( أَحْصاہُ اللَّہُ وَ نَسُوہ) ۔ اسی وجہ سے جب ان کی نظر اپنے نامہ ٔ اعمال پرپڑے گی توان کی فریاد بلند ہوگی (ما لِہذَا الْکِتابِ لا یُغادِرُ صَغیرَةً وَ لا کَبیرَةً ِلاَّ أَحْصاہا ) اس کتاب کو کیا ہوگیاہے کہ کوئی چھوٹابڑا کام ایسا نہیں جواس میں منضبط نہ ہو (کہف ۔٤٦)اور یہ خود ایک درد ناک عذاب ہے کہ خدا ان کے بھولے ہوئے گناہ کو یاد دلائے گا اور وہ میدان ِ حشر میں تمام مخلوق کے سامنے رسواہوں گے،آیت کے آخرمیں فر ماتاہے : خدا ہرچیزکاشاہد اورہرجگہ ناظر ہے (ُ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہید )یہ درحقیقت بمنزلہ دلیل ہے ،اس چیز کے لیے جوگزشتہ جملے میں بیان ہواہے ۔جی ہاں !خداکاحضور ہرجگہ اور ہرزمانہ میں ،خود ہمارے اند ر اور باہر ،اس بات کی تصدیق کرتاہے کہ نہ صِرف اعمال بلکہ وہ ہماری نیّتوں اورعقائد کابھی احصاکرتاہے اوروہ عظیم دن جو یوم البروز ہے ان سب باتوں کوکھول دے گا تاکہ خُود انسان بھی اوردوسرے بھی جان لیں کہ اگر سخت عذاب نازل ہوا ہے تواس کی وجہ کیاہے ۔ اس کے بعد خدا کے ہر جگہ حاضر وناظر ہونے اورہر چیز سے آگاہ ہونے کی تاکید کے لیے مسئلہ نجویٰ کوموضوع بناکر فرماتاہے: کیاتُو نہیں جانتا کہ جوکچھ آسمانوںمیں ہے اورجوکچھ زمین میں ہے خدااسے جانتاہے (أَ لَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْأَرْض)اگرچہ رُوئے سُخن یہاں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف ہے لیکن مراد تمام لوگ ہیں (٣) ۔ ٣۔ الم تر رؤ یت کے مادّہ سے اصل میں حسنی مشاہدہ کے معنی میں ہے لیکن بہت سے مواقع پرشہود قلبی اورعلم وآگاہی کے معنی میں آ یاہے ۔ درحقیقت یہ مسئلہ نجویٰ کے بیان کادبیاچہ ہے ۔ اس کے بعد مزید فرماتاہے: کبھی تین افراد آپس میں سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ خداان کاچوتھا ہوتاہے اورکبھی پانچ افراد آپس باتیں نہیں کرتے مگر یہ کہ خداان کاچھٹا ہوتاہے (ِ ما یَکُونُ مِنْ نَجْوی ثَلاثَةٍ ِلاَّ ہُوَ رابِعُہُمْ وَ لا خَمْسَةٍ ِلاَّ ہُوَ سادِسُہُمْ) (٤) ۔ ٤۔ نجویٰ اگرچہ مصدر ہے لیکن یہاں اس فاعل کے معنوں میں ہے یازید عدل ( زید خود عدالت ہے ) کے قبیل میں سے ہے ۔ اورنہ اس سے کم نہ اس سے زیادہ تعداد مگر یہ کہ خداان کے ہمراہ ہوتاہے وہ جہاں کہیں بھی ہوں( وَ لا أَدْنی مِنْ ذلِکَ وَ لا أَکْثَرَ ِلاَّ ہُوَ مَعَہُمْ أَیْنَ ما کانُوا)پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ خداہر چیزسے باخبر ہے ۔( ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِما عَمِلُوا یَوْمَ الْقِیامَةِ ِنَّ اللَّہَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم ) ۔ اِس آ یت میں چند نکات قابلِ توجہ ہیں ١۔ نجویٰ اورنجات اصل میں بلند جگہ کے معنوں میں ہیں جواپنے ارتفاع کی وجہ سے اپنے اطراف سے جُدا ہوئی اورچونکہ انسان جب چاہے کہ دوسرااس کی باتوں سے آگاہ نہ ہو تو وہ ایسی جگہ جاتاہے جودُوسروں سے الگ ہو اس لیے سرگوشی کونجویٰ کہتے ہیں یاپھر اس لحاظ سے کہ چونکہ نجویٰ کرنے والا چاہتاہیکہ اس کے اسرار دوسروں تک پہنچ جائیں لہٰذا وہ انہیں نجات بخشتاہے ۔ ٢۔بعض مفسرین کانظر یہ ہے کہ نجویٰ حتمی طورپر تین یاتین سے زیادہ افراد کے مابین ہوناچاہے اوراگرصرف دوافراد کے درمیان ہو تواسے (سرار) (بروزن کنار) کہتے ہیں لیکن یہ خود آیت کے ظہور کے خلاف ہے کیونکہ (ولا ادنی من ذالک) کاجملہ تین سے کم افراد یعنی دو کی طرف اشارہ کرتاہے ۔ البتہ جس وقت دوشخص آپس میں نجویٰ کریں توضروری ہے کہ تیسراآدمی ان کے قریب موجودہو ورنہ نجویٰ لازم نہیں آتالیکن یہ بات جوکچھ ہم نے کہاہے اس سے ربط نہیں رکھتی ۔ ٣۔ قابل ِ توجہ یہ ہے کہ مذکورہ بالاآ یت میںپہلے تین افراد کے نجویٰ کی اور پھر پانچ کے نجویٰ کی بات ہوئی ہے لیکن چار افراد کے نجوی کی جوان دونوں کے درمیان ہے ،بات نہیں ہوئی ۔ اگر چہ یہ محض مثال کی بات ہے مگر بعض نے اس کی مختلف وجودبیان کی ہیں جن میں سے زیادہ مناسب ہے کہ کلام میںفصاحت وبلاغت کی رعایت رکھی گئی ہے اورتکرار سے پہلو بچایاگیاہے ،اس لیے کہ اگر فرماتا کہ تین افراد نجوی کرتے ہیں اوریہ فصاحت سے بعید ہوتا ،بعض مفسّرین نے کہاہے کہ یہ آ یات منافقین کے ایک گروہ کے بارے میں نازل ہوئی ہیں جوٹھیک انہی اعداد کے مطابق تھے ،یعنی تین اورپانچ کی تعداد میں تھے ۔ ٤۔ اس سے مراد کہ خدا چوتھا یاچھٹا ہے یہ ہے کہ وہ ہر جگہ حاضر وناظر ہے اور ہرچیز سے آگاہ ہے ورنہ اس کی پاک ذات نہ مکان رکھتی ہے اور نہ اعداد کے حوالے سے اس کی تعریف وتوصیف کی جاسکتی ہے ۔ اس کی یگا نگت بھی وحدت عدوی نہیں ہے بلکہ اس معنی میں ہے کہ وہ مثل ونظیر اور شبیہ نہیں رکھتا۔ ٥۔ آ یت کے ذیل میں بات کونجوی سے بھی اُوپر لے جاکر کہتاہے: خداہر جگہ لوگوں کے ساتھ ہے اورقیامت کے دن ان کو ان کے اعمال سے باخبر کرے گا آ یت کوخداکے احاطہِ عملی پرجا کرختم کرتاہے جیساکہ آ یت کی جو ابتداہے وہ تمام چیزوں کے بارے میں خدا کا احاطہ ِ علمی ہے ۔ ٦۔بعض مفسّرین نے اس آ یت کے لیے ابنِ عباس سے ایک شان ِ نزول نقل کی ہے کہ یہ آ یت تین افراد ربیعہ ،حبیب اورصفوان کے بارے میں نازل ہوئی ہے ۔وہ آپس میں باتیں کررہے تھے ۔ ان میں سے ایک نے دوسرے سے کہا کہ خدااس چیز کو جو ہم کہتے ہیں جانتاہے ۔دُوسرے نے کہااس کی کچھ مقدار کوجانتاہے اورکچھ کونہیںجانتا ۔تیسرے نے کہا:اگر کچھ مقدار کوجانتاہے توپھر ساری بات کوجانتاہے (تومندرجہ بالاآ یت نازل ہوئی ) اور بتایا کہ خداہرنجوی میں موجود ہے اور آسمان وزمین کی ہرچیز سے آگاہ ہے تاکہ یہ دل کے اندھے اپنی غلط فہمی سے بچ جائیں(٥) ۔ ٥۔تفسیر فخررازی ،جلد ٢٩ صفحہ ٢٦٥۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:5-7
ایک نکتہ
جیساکہ ہم نے کہاہے کہ خدا نہ جسم ہے اورنہ عوارض ِ جسمانی رکھتاہے ،اس وجہ سے اس کے لیے زمان ومکان کاکوئی تصوّر نہیں ہے لیکن اس کے باوجود اگرہم تصوّر کریں کہ اس کے لیے کوئی جگہ ہو جہاں حاضر وناظر ہوتو ہم نے اسے محدُود کردیاہے،دوسرے لفظوں میں وہ ہر چیزپراحاطہ علمی رکھتاہے باوجود یکہ اس کے لیے کوئی مکان متصوّر نہیں ہوسکتا ۔علاوہ ازیں اس کے فرشتے ہرجگہ موجود ہیں جوتمام اقوال واعمال کوسُنتے اور دیکھتے ہیں اور ثبت کرتے ہیں اسی لیے اس آ یت کی تفسیر میں ہم حضرت علی علیہ السلام سے ایک حدیث سُنتے ہیں: (انما اراد بذالک استیلاء امنا ئہ بالقدرة التی رکبھافیھم علی جمیع خلقہ وان فعلھم فعلہ) مراد یہ ہے کہ خداکے اُمنا اس قدرت کی بناپر جوانہیں بخشی گئی ہے اس کی ساری مخلوق پرتسلّط رکھتے ہیںاور چونکہ ان کافعل اُس کا فعل ہے لہٰذا اِس حضور کی اُس کی طرف نسبت دی گئی ہے (٦) ۔ ٦۔ تفسیر فخررازی ،جلد ٢٩ ،صفحہ ٢٦٥۔ البتہ یہ اس معامُلہ کاایک رُخ ہے لیکن دوسری جہت سے خودذاتِ خداکاحضور پیش کیاجارہاہے ۔ہم ایک اورحدیث میں دیکھتے ہیں کہ دُنیائے عیسائیت کے ایک بہت بڑے عالم نے امیر المومنین علی علیہ السلام سے پوچھا خداکہاں ہے فرمایا: ھو ھاھنا وھاھنا وفوق وتحت ومحیط بنا ومعنا وھو قولہ مایکون من نجوی ثلا تة الّا ھورابعھم...۔ وہ اِس جگہ ہے اوراُس جگہ ہے وہ اُوپر ہے نیچے ہے اور ہم پراحاطہ کیے ہوئے ہے اورہرجگہ ہمارے ساتھ ہے اور یہی معنی ہیں جن کے متعلق خداکہتاہے تین افراد آپس میں سرگوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ خدا ان کاچوتھا ہوتاہے (٧) ۔ ٧۔ نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٥٩،حدیث ٢٣۔ مشہور حدیث املیلجہ میں امام جعفرصادق علیہ السلام سے منقول ہے کہ خدا کوسمیع کا نام جودیاگیاہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تین افراد آپس میں نجویٰ نہیں کرتے مگر یہ کہ وہ ان کاچوتھا ہوتاہے اس کے بعد آپ علیہ السلام نے فرمایا: یسمع دبیب النمل علی الصفا وخفقان الطیر فی الھواء لایخفی علیہ خافیة ولاشی ء مما ادرکہ الاسماع والا بصار ومالا تدرکہ الا سماع والا بصار ماجل من ذالک ومادق وماصغروماکبر۔ سخت پتھر پرچیونٹی کے چلنے کی صداوہ سُنتا ہے اور فضا میں پرندوں کے پرمارنے کی آواز وہ سُنتا ہے کوئی چیزاس سے پوشیدہ نہیں ہے اوروہ شے جس کا کان اور آنکھیں ادراک کرتی ہیں ،اور وہ جس کاادراک نہیں کرتیں، چھوٹی اور بڑی سب کی سب اس لے لیے ظاہر وآشکار ہیں(٨) ۔ ٨۔ نورالثقلین ،جلد ٥ صفحہ ٣٥٨،حدیث ٢١۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 58:5-7
سوره مجادله/ آیه 5- 7
٥۔ِانَّ الَّذینَ یُحَادُّونَ اللَّہَ وَ رَسُولَہُ کُبِتُوا کَما کُبِتَ الَّذینَ مِنْ قَبْلِہِمْ وَ قَدْ أَنْزَلْنا آیاتٍ بَیِّناتٍ وَ لِلْکافِرینَ عَذاب مُہین۔ ٦۔یَوْمَ یَبْعَثُہُمُ اللَّہُ جَمیعاً فَیُنَبِّئُہُمْ بِما عَمِلُوا أَحْصاہُ اللَّہُ وَ نَسُوہُ وَ اللَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہید۔ ٧۔ أَ لَمْ تَرَ أَنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْأَرْضِ ما یَکُونُ مِنْ نَجْوی ثَلاثَةٍ ِلاَّ ہُوَ رابِعُہُمْ وَ لا خَمْسَةٍ ِلاَّ ہُوَ سادِسُہُمْ وَ لا أَدْنی مِنْ ذلِکَ وَ لا أَکْثَرَ ِلاَّ ہُوَ مَعَہُمْ أَیْنَ ما کانُوا ثُمَّ یُنَبِّئُہُمْ بِما عَمِلُوا یَوْمَ الْقِیامَةِ ِنَّ اللَّہَ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم۔ ترجمہ ٥۔وہ لوگ جوخدااوراس کے رسول کے ساتھ دُشمنی کرتے ہیں وہ ذلیل وخوار ہوں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل وخوار ہوئے ،ہم نے واضح آ یات نازل کی ہیں اورکافروں کے لیے خوار کرنے والا عذاب ہے ۔ ٦۔ جس دن خداان سب کواُٹھائے گا اوران اعمال سے جوانہوں نے انجام دیے ہیں انہیں باخبر کرے گا ، وہ اعمال جن کاخدانے احصا کیا ہے اوروہ انہیں بُھول گئے ہیں اورخداہر چیز کاشاہد وناظر ہے ۔ ٧۔کیاتُو نہیں جانتا کہ جوکچھ آسمانوںمیں ہے اورجوکچھ زمینوں میں ہے خدااسے جانتاہے ،کسی جگہ تین اشخاص آپس میں سر گوشی نہیں کرتے مگر یہ کہ خداان کاچوتھا ہوتاہے اور کہیں پانچ افراد سرگوشی کرتے مگر یہ کہ خداان کاچھٹا ہوتاہے ۔ اوراس سے کم تعداد میں میں اور نہ اس سے زیادہ تعداد میں مگر یہ کہ وہ ان کے ہمراہ ہے ،وہ جہاں کہیں بھی ہوں ،پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاہ کرے گا کیونکہ خداہر چیز کوجانتاہے ۔