يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ لَا يَحْزُنكَ الَّذِينَ يُسَارِعُونَ فِي الْكُفْرِ مِنَ الَّذِينَ قَالُوا آمَنَّا بِأَفْوَاهِهِمْ وَلَمْ تُؤْمِن قُلُوبُهُمْ وَمِنَ الَّذِينَ هَادُوا سَمَّاعُونَ لِلْكَذِبِ سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِينَ لَمْ يَأْتُوكَ يُحَرِّفُونَ الْكَلِمَ مِن بَعْدِ مَوَاضِعِهِ يَقُولُونَ إِنْ أُوتِيتُمْ هَذَا فَخُذُوهُ وَإِن لَّمْ تُؤْتَوْهُ فَاحْذَرُوا وَمَن يُرِدِ اللَّهُ فِتْنَتَهُ فَلَن تَمْلِكَ لَهُ مِنَ اللَّهِ شَيْئًا أُولَئِكَ الَّذِينَ لَمْ يُرِدِ اللَّهُ أَن يُطَهِّرَ قُلُوبَهُمْ لَهُمْ فِي الدُّنْيَا خِزْيٌ وَلَهُمْ فِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِيمٌ
O Apostle! Do not grieve for those who are active in [promoting] unfaith, such as those who say, ‘We believe’ with their mouths, but whose hearts have no faith, and the Jews who eavesdrop with the aim of [telling] lies [against you] and eavesdrop for other people who do not come to you. They pervert words from their meanings, [and] say, ‘If you are given this, take it, but if you are not given this, beware!’ Yet whomever Allah wishes to mislead, you cannot avail him anything against Allah. They are the ones whose hearts Allah did not desire to purify. For them is disgrace in this world, and there is a great punishment for them in the Hereafter.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 5:41
[Pooya/Ali Commentary 5:41] "Those who say: We believe, but do not believe in their hearts and hasten to outpace others in infidelity" are the hypocrites. He who professed the faith with his mouth in the presence of the Holy Prophet was not a believer. Such hypocrites, after the Holy Prophet, persecuted his Ahl ul Bayt, usurped their rights, and killed them. They have been grouped with the Jews who used to give ear to lies, spy on behalf of others and distort the words of God out of context (see commentary of al Baqarah: 75 to 79 and 104). They only agreed with that which was mentioned in their corrupted books. According to an agreement between the two Jewish tribes of Madina (Bani Nadhir and Bani Qurayza) if a man of Bani Nadhir killed a man of Bani Qurayza, he would only pay half of the blood-money and would be paraded in the streets sitting on a camel with his face towards its tail On the other hand the murderer from the Bani Qurayza would pay full blood-money and would also face death if he killed any one of the Bani Nadhir tribe. This unjust arrangement was imposed on Bani Qurayza with the help of Abdullah bin Obayy. After the arrival of the Holy Prophet in Madina, a case of murder was referred to him for arbitration by both the tribes because the murderer, who belonged to Bani Qurayza, refused to comply with the terms of the unjust agreement which, his tribe declared, was against the law of Musa. The tribe of Bani Nadhir tried to influence the Holy Prophet through Abdullah bin Obay for obtaining his judgement in their favour, with the reservation that if he did not oblige them his judgement would not be accepted. It is reported that on that occasion this verse was revealed. Please refer to the commentary of Ali Imran: 23 for the judgement the Holy Prophet gave in a case of adultery according to the law of Musa. The choice whether to act as an arbitrator in the suits and disputes of the Jews, devourers of gains through unlawful means, entirely lay with the Holy Prophet. The Madinite Jews, true to their traditions of mischief, sometimes submitted their disputes to the Holy Prophet for decision to test and try his knowledge of their law. They did not approach him as bonafide seekers of justice, with any honest motives at all, because they declined to abide by the decision of the Holy Prophet, made in the light of the law of Musa, whenever it went against them.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:41-42
شان نزول
اس آیت کی شان ِ نزول کے بارے میں متعدد روایات ہیں ان میں سے زیادہ واضح روایت وہ ہے جو امام محمد باقر علیہ السلام سے نقل ہو ئی ہے۔ اس کا خلاصہ یہ ہے : خیبر کے یہودیوں کے ایک بڑے آدمی نے جو شادی شدہ تھا ایک شوہر دار عورت سے خلاف عفت کام کیا وہ عورت بھی خیبر کے ایک بڑے خاندان سے تعلق رکھتی تھی ۔ تورات میں اس سلسلہ میں سنگساری کا حکم تھا، یہودی اس کے اجراء میں پریشان تھے اور ایسے حل کی تلاش میں تھے جس میں دونوں کی معافی ہو جائے اور اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو احکام ِ الہٰی ک اپابند بھی کہیں ۔ انھوں نے اپنے ہم مذہب اہل مدینہ کو پیغام بھیجا کہ وہ اس حادثہ کے بارے میں پیغمبر اسلام سے حکم در یافت کریں ( تاکہ اگر اسلام میں اس سے کوئی آسان حکم ہو تو اسے انتخاب کر لیا جائے ورنہ اس سے بھی صرف ِ نظر کرلیا جائے اور شاید اس طرح سے وہ یہ بھی چاہتے تھے کہ پیغمبر اسلام کی توجہ اپنی طرف مبذول کرائیں اور اپنے آپ کو مسلمانوں کا دوست ظاہر کریں ) ۔ اسی مقصد کے لئے مدینہ کے برے یہودی پیغمبر اسلام کی خدمت میںحاضر ہوئے تو آنحضرت نے فرمایئا : میں جو حکم کروں گا اسے قبول کروگے؟ وہ کہنے لگے : ہم اسی لئے آپ کے پاس آئے ہیں ۔ اس موقع پر زنا ئے محصنہ کا ارتکاب کرنے الوں کے لئے سنگسار کئے جانے کا حکم نازل ہوا لیکن انھوں نے اسے قبول نہ کیا ( اور عذر یہ پیش کیا کہ ہمارے مذہب میں تو ایسا حکم نہیں آیا) ۔ پیغمبر اسلام نے مزید فرمایا : یہ وہی حکم ہے جو تمہاری تورات میں بھی آیا ہے کیا تم اس بات سے اتفاق کرتے ہو کہ میں تم میں سے ایک شخص کو فیصلے کے لئے بلاوٴں او رجو کچھ وہ تورات سے بیان کرے اسے قبول کرلوں ۔ وہ کہنے لگے : جی ہاں ۔ پیغمبر اسلام نے فرمایا :ابن صریا جو کہ فدک میں رہتا ہے ، کیسا عالم ہے ؟ وہ بولے ؛ وہ تو تورات کا سب سے بڑا عالم ہے ۔ کسی کو اسے لینے کے لئے بھیجا گیا جب وہ آنحضرت کی خدمت میں پہنچا تو آپ نے اس سے فرمایا: تمجھے اس خدائے یکتا کی قسم دیتاہوں جس نے تورات کو موسیٰ (علیه السلام) پر نازل کیا ، تمہارے لئے دریا شگاف کیا، تمہارے دشمن فرعون کو غرق کیا اور تمہیں بیابا ن میں اپنی نعمتوں سے نوازکہو کیا ایسے موقع پر تورات میں تمہارے لئے سنگسار کرنے کا حکم نازل ہواہے یا نہیں ؟ وہ کہنے لگا: آپ نے مجھے ایسی قسم دی ہے کہ میں مجبور ہو گیا ہوں کہ کہوں جی ہاں ! ایسا ہی حکم تورات میں موجود ہے ۔پیغمبر اسلام نے فرمایا: پھر اس کے حکم کے اجراء کی مخالفت کیوں کرتے ہو؟ وہ بولا : حقیقت یہ ہے کہ ہم گذشتہ زمانے میں یہ حد عام افراد پر تو جاری کر دیتے تھے لیکن دولتمندوں او ربڑے لوگوں پر نہیں کرتے تھے یہی وجہ تھی کہ ہمارے معاشرے کے خوش حال طبقوں میں یہ گناہ رائج ہو گیا ۔ یہاں تک کہ ہمارے ایک سر دار کا چچا زاد بھائی اس قبیح عمل کا مر تکب ہوا اور حسب معمول اسے سزا دی گئی ۔ اسی اثنا میں ایک عام آدمی اس کا مرتکب ہوا ۔ جب اسے سنگسار کرنے لگے تو اس کے رشتہ داروں نے اعتراض کیا او رکہنے لگے یہ حکم جاری ہو نا تو پھر دونوں پر ہو، اس صورت ِ حال کے پیش نظر ہم بیٹھ گئے اور سنگسار کے قانون کی جگہ ایک آسان قانون بنا لیا اور وہ یہ تھا کہ ہر ایک کو چالیس کوڑے لگائے جائیں اور ان کا منہ کالا کر کے اور سواری پر بٹھا کر انھیں گلی کوچوں میں پھرایا جائے۔ اس وقت پیغمبر اکرم نے حکم دیا کہ اس مرد اور عورت کو مسجد کے سامنے سنگسار کیا جائے۔ ۱ پھر آپ نے فرمایا: خدا یا! میں پہلا شخص ہوں جس نے تیرے حکم کو زندہ کیا، جبکہ یہودی اسے ختم کرچکے تھے ۔ اس پر مندرجہ بالا آیات نازل ہو ئیں اور اس وقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے ۔ ۱۔ بیہقی نے اپنی سنن جلد ۸ صفحہ ۲۴۶ میں جو روایت نقل کی ہے ۔ اس کے مطابق علماء ِ یہود جب پیغمبر اس
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 5:41-42
دوست اور دشمن کے درمیان فیصلہ
زیر نظر آیات اور بعد کی چند آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلام کے قاضی حق رکھتے ہیں کہ مخصوص شرائط کے ساتھ غیر مسلموں کے مقدمات کابھی فیصلہ کریں ، تفصیل آیات کے ذیل میں بیان کی جائے گی ۔ زیر نظر آیات میں سے پہلی آیت یا ایھا الرسول ( اے بھیجے ہوئے)سے شروع ہوتی ہے ۔ قرآن میں یہ تعبیر صرف دو جگہ پر نظر آتی ہے ایک اس مقام پر اور ایک اسی سورہ کی آیہ ۶۷ میں جہاں ولایت و خلافت کے مسئلے پر گفتگو کی گئی ہے ، معاملہ چونکہ اہم ہے اور دشمن کا خوف بھی ہے لہٰذا چاہتا ہے کہ پیغمبرمیں احساس مسئولیت کو اور متحرک کرے اور ان کے ارادے کو تقویت پہنچائے یہ کہتے ہوئے کہ تو صاحب ِ رسالت ہے اور رسالت بھی ہماری اس لئے حکم بیان کرنے میں استقامت اور مامردی سے کام لو۔ اس کے بعد پیغمبر کی دلجوئی اور تسلی کےلئے بعد والے حکم کی تمہید کے طور پر فرمایا گیا ہے ۔ جو لوگ زبان سے ایمان کے دعویدار ہیں اور ان کا دل ہرگز ایمان نہیں لایا اور کفر میں ایک دوسرے پر سبقت لے جاتے ہیں وہ تمہارے غم و اندوہ کا سبب نہ بنیں ( کیونکہ یہ کوئی نئی بات نہیں ہے ) (لاَیَحْزُنْکَ الَّذِینَ یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْرِ مِنْ الَّذِینَ قَالُوا آمَنَّا بِاٴَفْوَاہِہِمْ وَلَمْ تُؤْمِنْ قُلُوبُہُمْ ) بعض کا نظریہ ہے کہ”یُسَارِعُونَ فِی الْکُفْر“ ِ ” یُسَارِعُونَ اِلیٰ الْکُفْرِ“میں فرق ہے کیونکہ پہلا جملہ ایسے لوگوں کے بارے میں کہا جاتا ہے جو کافر ہیں اور کفر کے اندر غوطہ زن ہیں اور کفر کے آخری مرحلہ تک پہنچنے میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے میں کوشان ہیں لیکن دوسرا جلہ ایسے لوگوں کے بارے میں ہے جو باہر سے کفر کی چار دیواری کی طرف حر کت میں ہیں اور ایک دوسرے پر سبقت کررہے ہیں۔ 1 منافقین اور داخلی دشمنوں کی کارستانیوں پر ان کی حوصلہ شکنی کے بعد خارجی دشمنوں اور یہودیوں کی کیفیت بیان کی گئی ہے۔ ارشاد ہ وتا ہے : اسی طرح یہودیوں میں سے بھی جو لوگ اس راہ پر چل رہے ہیں وہ بھی تمہارے لئے حزن و ملال کا باعث نہ ہوں (وَمِنْ الَّذِینَ ھَادُوا ) ۔ اس کے بعد ان منافقانہ افعال کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے : وہ تمہاری باتوں کو بڑے غور سے سنتے ہیں لیکن ان کی یہ توجہ اطاعت کے لئے نہیں بلکہ اس لئے ہے کہ انھیں تمہاری تکذیب کے لئے اور تم پر افترا باندھنے کے لئے کوئی عذر ہاتھ آجائے (سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ ) ۔ اس جملے کی ایک اور تفسیر بھی ہے اور وہ یہ کہ : وہ اپنے گذشتہ لوگوں کے جھوٹ اور افتراء کی طرف زیادہ کان دھرتے ہیں ، لیکن بات قبول کرنے کو تیار نہیں ہیں ۔ 2 ان کی ایک اور صفت یہ ہے کہ یہ نہ صرف جھوٹ باندھنے کے لئے تمہاری مجلس میں آتے ہیں بلکہ جو لوگ تمہارے پاس نہیں آتے ان کے جاسوس کا کردار بھی ادا کرتے ہیں (سَمَّاعُونَ لِقَوْمٍ آخَرِینَ لَمْ یَاٴْتُوکَ ) ۔ دوسری تفسیر کے مطابق وہ اپنے گروہ کے حکم پر کان دھرتے ہیں ان کا طریقہ یہ ہے کہ اگر تم میں سے کوئی حکم اپنی منشاء کے مطابق سن لیں تو اسے قبول کرلیتے ہیں اور اگر کوئی حکم ان کے میلانِ طبع کے خلاف ہے تو اس کی مخالفت کرتے ہیں لہٰذا وہ اپنے بڑون کافرمان سنتے ہیں اور ان کی اطاعت کرتے ہیں نہ کہ تمہاری ۔ ان حالات میں ان کی مخالفت تمہارے لئے باعث ِ غم اندوہ نہیں ہونا چاہئیے ، کیونکہ وہ ابتداء سے ہی تمہارے پاس قبولِ حق کی غرض سے نہیں آئے ۔ ان کی صفات میں سے یہ بھی ہے کہ وہ کلام ِ الہٰی میں تحریف کرتے ہیں ( چاہے تحریف ِ لفظی ہو یا تحریف معنوی) جس حکم کو وہ اپنے مفاد اور ہواو ہوس کے خلاف سمجھتے ہیں اس کی کوئی توجیہ کرلیتے ہیں یا سے بالکل مسترد کردیتے ہیں ۔ (یُحَرِّفُونَ الْکَلِمَ مِنْ بَعْدِ مَوَاضِعِہِ) ۔3 زیادہ تعجب کی بات یہ ہے کہ وہ تمہارے پاس آنے سے پہلے ہی پختہ ارادہ کرلیتے ہیں ۔ ان کے بڑوں نے انھیں حکم دیا ہے کہ اگر محمد کوئی حکم ہماری خواہش کے مطابق دے تو اسے قبول کرلو اور اگر ہماری خواہش کے خلاف ہو تو اس سے دور رہو(یَقُولُونَ إِنْ اٴُوتِیتُمْ ھَذَا فَخُذُوہُ وَإِنْ لَمْ تُؤْتَوْہُ فَاحْذَرُوا ) ۔ وہ اس طرح سے گمراہی میں ڈوبے ہوئے ہیں اور اپنے ان افکار و نظر یات میں اتنے پختہ ہیں کہ بغیر کسی سوچ بچار اور تحقیق و مطالعہ کے جو کچھ بھی ان کے تحریف شدہ مطالب کے خلاف ہو اسے رد کردیتے ہیں اس طرح ان کی ہدایت کی کوئی امید نہیں اور خدا چاہتا ہے کہ اس ذریعے سے سزا دے کر انھیں رسوا کرے اور جس کی سزا اور رسوائی کا خدا ارادہ کرلے تو تم ہر گز اس کا دفاع نہیں کر سکتے۔(وَمَنْ یُرِدْ اللهُ فِتْنَتَہُ فَلَنْ تَمْلِکَ لَہُ مِنْ اللهِ شَیْئًا ) ۔ وہ اس قدر آلودہ ہیں کہ ان کی آلودگی دھلنے کے قابل نہیں ہے وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا(اٴُوْلَئِکَ الَّذِینَ لَمْ یُرِدْ اللهُ اٴَنْ یُطَہِّرَ قُلُوبَہُمْ) ۔ کیونکہ خدا کا کام ہمیشہ حکمت آمیز ہوتا ہے اور وہ لوگ جو اپنے ارادے سے زندگی کا ایک حصہ کجروی میں گزار چکے ہیں اور نفاق ، جھوٹ، مخالفتِ حق اور قوانین ِ الہٰی میں تحریف کا جرم کرچکے ہیں ان کے لئے پلٹنا عادتاً ممکن نہیں ہے ۔ اور آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے : وہ اس دنیا میں میں بھی رسوا ہوں گے اور آخرت میں بھی انھیں عذاب عظیم ہوگا ۔ ( لَہُمْ فِی الدُّنْیَا خِزْیٌ وَلَہُمْ فِی الْآخِرَةِ عَذَابٌ عَظِیمٌ) ۔ دوسری آیت میں قرآن دوبارہ تاکید کرتا ہے کہ ان کے سننے والے کان تو تمہاری بات سن کر اس کی تکذیب کرنے کے لئے ہیں ( یا پھر وہ اپنے بڑوں کے جھوٹ سننے کے لئے گوش ِ شنوا رکھتے ہیں )( سَمَّاعُونَ لِلْکَذِبِ) ۔یہ جملہ تاکید کے طور پر ہے اور اس بری صفت کے اثبات کے لئے تکرار ہے ۔ اس کے علاوہ وہ ناحق ، حرام اور رشوت زیادہ کھاتے ہیں ( اٴَکَّالُونَ لِلسُّحْت)4۔ اس کے بعد پیغمبر اکرم کو اختیار دیا گیا ہے کہ اگر ایسے لوگ فیصلہ حاصلہ کرنے کے لئے ان کی طرف رجوع کریں تو وہ احکام ِ اسلام کے مطابق ان کے درمیان فیصلہ کرسکتے ہیں اور یہ بھی کہ ان سے منہ پھیر بھی سکتے ہیں ( فَإِنْ جَائُوکَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ اٴَوْ اٴَعْرِضْ عَنْہُمْ) ۔ البتہ یہاں یہ مراد نہیں کہ پیغمبر اکرم کسی ذاتی میلان کی بنیاد پر کوئی راستہ اپنالیں بلکہ مراد یہ ہے کہ حالات و اوضاع کو پیش نظر رکھتے ہوئے اگر مصلحت ہو تو حکم جاری کریں ورنہ صرفِ نظر کرلیں ۔ روح ِ پیغمبر کی تقویت کے لئے مزید فرمایا گیا ہے : اگر مصلحت اس میں ہو کہ ان سے منہ پھیر لو تو وہ تمہیں کسی قسم کا کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتے (وَإِنْ تُعْرِضْ عَنْہُمْ فَلَنْ یَضُرُّوکَ شَیْئًا) ۔ اور اگر ان کے درمیا ن فیصلہ کرنا چاہو تو یقینا تمہیں اصولِ عدالت کو ملحوظ رکھنا چاہئیے کیونکہ خدا، حق، انصاف اور عدالت کے مطابق فیصلہ کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ( وَإِنْ حَکَمْتَ فَاحْکُمْ بَیْنَہُمْ بِالْقِسْطِ إِنَّ اللهَ یُحِبُّ الْمُقْسِطِینَ) ۔ یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا حکومت ِ اسلامی کو آج بھی یہ اختیار ہے کہ وہ غیر مسلموں کے بارے میں احکام ِ اسلام کے مطابق فیصلہ کردے یا فیصلہ کرنے سے اعراض کرے ۔ اس سلسلے میں مفسرین میں اختلاف ہے ۔ بعض کا نظر یہ ہے کہ اسلامی ماحول میں جو شخص بھی زندگی بسر کرتا ہے وہ مسلمان ہو یا غیر مسلم ، حقوق اور جزا و سزا کے اسلامی قوانین سب کے بارے میں یکساں ہیں ۔ اس بناپر مندرجہ بالاآیت کا حکم یا تو منسوخ ہو چکا ہے یا غیر ذمی کفار سے مخصوص ہے ( یعنی وہ کفار جو ایک اقلیت کے طور پر اسلامی ملک میں زندگی بسر نہیں کرتے لیکن مسلمانوں کے ساتھ معاہدوں میں شریک ہیں اور ان سے میل جول رکھتے ہیں ) بعض دیگر حضرات کا نظریہ ہے کہ اسلامی حکومت اس وقت بھی غیر مسلموں کے بارے میں یہ اختیار رکھتی ہے کہ وہ حالات و اوضاع کو ملحوظ رکھتے ہوئے مصلحت سمجھے تو ان کے بارے میں احکامِ اسلام کے مطابق فیصلہ کرے اور یا انھیں ان کے اپنے قوانین کی طرف رجوع کرنے کی اجازتدے دے ( تفصیلی مطالعہ اور تحقیق کے لئے فقہی کتب میں قضاوت کی بحث سے رجوع کریں ) لام کی خدمت میں آئے تھے تو اس عورت اور مرد کو بھی ساتھ لائے تھے ۔ ۴۳۔ وَکَیْفَ یُحَکِّمُونَکَ وَعِنْدَہُمْ التَّوْرَاةُ فِیہَا حُکْمُ اللهِ ثُمَّ یَتَوَلَّوْنَ مِنْ بَعْدِ ذَلِکَ وَمَا اٴُوْلَئِکَ بِالْمُؤْمِنِینَ ۔ ترجمہ ۴۳۔وہ کس طرح تجھے فیصلہ کرنے کے لئے بلاتے ہیں جبکہ ان کے پاس تورات ہے اور اس میں خدا کا حکم موجود ہے ( اور پھر ) فیصلہ کے بعد انھوں نے چاہا کہ تجھ سے منہ پھیر لیں اور وہ مومن نہیں ہیں ۔ 1۔ المنار ج۶ صفحہ۲۸۸۔ 2۔ پہلی صورت میں ” للکذب“ کی لام ” لام تعلیل “ ہے اور دوسری صورت میں ” لام تعدیہ “ ہے ۔ 3۔ تحریف کی کیفیت اور اقسام کے بارے میں اسی سورہ کی آیت ۱۳ کے ذیل میں بحث ہو چکی ہے ۔ 4۔ ”سحت“ ( بر وزن جفت“ در اصل درخت کے چھلکے اتارنے اور شدید بھوک کے معنی میں ہے بعد ازاں ناجائز مال اور خصوصاً رشوت کے لئے بولاجانے لگا کیونکہ ایسا مال معاشرے سے تازگی، پاکیز گی اور برکت چھین لیتا ہے جیسے درخت سے چھلکے اتاردئیے جائیں تو اس پر پذمردگی چھا جاتی ہے اور وہ خشک ہو جاتا ہے اس بنا ہر ” سحت“ کا ایک وسیع معنی ہے اگر بعض روایات میں اس کا کوئی خاص مصداق بیان کیا گیا ہے تو وہ اختصاص کی دلیل نہیں ہے ۔