فَإِذَا لَقِيتُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقَابِ حَتَّى إِذَا أَثْخَنتُمُوهُمْ فَشُدُّوا الْوَثَاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَإِمَّا فِدَاءً حَتَّى تَضَعَ الْحَرْبُ أَوْزَارَهَا ذَلِكَ وَلَوْ يَشَاءُ اللَّهُ لَانتَصَرَ مِنْهُمْ وَلَكِن لِّيَبْلُوَ بَعْضَكُم بِبَعْضٍ وَالَّذِينَ قُتِلُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَلَن يُضِلَّ أَعْمَالَهُمْ
When you meet the faithless in battle, strike their necks. When you have thoroughly decimated them, bind the captives firmly. Thereafter either oblige them [by setting them free] or take ransom, until the war lays down its burdens. That [is Allah’s ordinance]. Had Allah wished He could have taken vengeance on them, but that He may test some of you by means of others. As for those who were slain in the way of Allah, He will not let their works go fruitless.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 47:4
[Pooya/Ali Commentary 47:4] This verse commands every believer to kill or be killed when he fights disbelievers. If slain the rewards from Allah are many. According to Baqarah: 154 and Ali Imran: 169 to 171 the martyrs are not dead, they are alive, getting sustenance from Allah, rejoicing in the grace and mercy of Allah; and Hajj: 58 and 59 say that they occupy the highest position near Allah. If the believer prevails over the enemies of Allah, he destroys the power base of evil, disorder and corruption. Those who deserted the Holy Prophet in the battles of Uhad and Hunayn (see commentary of Bara-at: 25 to 27 and other references mentioned therein) and ran away to save their lives must be identified and condemned in view of this verse. The ordinance to kill the disbelievers is applicable when they launch an attack on the believers, not when they have surrendered. Islam prescribes effective defence in the event of an unprovoked aggression. Refer to the commentary of Baqarah 190 to 193. Aqa Mahdi Puya says: When once the enemy is brought under control, the release of prisoners with or without ransom is recommended. The slaughter of captives was never allowed by Islam. How a believer deals with the captives is a test. Some take ransom, some let them go for the sake of Allah; and some take care of them, shelter them and feed them with no strings attached.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
۱۔ شہداء کا بلند مقام
اقوام کی تاریخ ایسے دن بھی آ جاتے ہیں جن میں سے بے حد ایثار قربانی اور فدا کاری وجا نفشانی کے بغیر خطرات نہیں ٹل سکتے اور عظیم اور مقدس مقاصد نہیں بچ سکتے ، ایسے مواقع پر موٴ من اور فدا کار لوگوں کوآگے آناچا ہیئے اوراپنے خون کی قربانی دے کر آ ئین حق کی حفاظت کرنی چا ہیئے ، اسلامی منطق کی رُوسے ایسے افراد کو” شہید“ کہاجاتا ہے ۔ ” شہید “ ”’ شہود “کے مادہ سے ہے اور اس کا ان پراطلاق اس لیے ہوتا ہے کہ : ۱۔ کیونکہ وہ دشمنانِ حق کے مقابلے میں میدان میں حاضر ہوتے ہیں یا ۲۔بوقتِ شہادت ،رحمت کے فرشتوں کامشا ہدہ کرتے ہیں یا ۳۔ خداکی جو عظیم نعمتیں ان کے لیے فرا ہم کی جاچکی ہے ان کا مشا ہد کرتے ہیں یا ۴۔بارگاہ ربّ العزت میںپہنچ کر حاضر ی دیتے ہیں جیساکہ آیت مجید میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ” وَ لا تَحْسَبَنَّ الَّذینَ قُتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ اٴَمْواتاً بَلْ اٴَحْیاء ٌ عِنْدَ رَبِّہِمْ یُرْزَقُون“ (آل عمران / ۱۶۹) ۔ اسلام میں بہت کم لوگ شہداء کے مرتبے کے برابر ہیں،وہی شہداء جوسوچ سمجھ کراورخلوص قلب کے ساتھ معرکہ حق وباطل میں قدم رکھتے ہیں اور اپنے پاکیزہ خون کے آخری قطرات تک نچھاورکردیتے ہیں ۔ شہداء کے مقام اورمرتبہ کے بارے میں اسلامی مآ خذ میں بہت سی حیرت انگیزروایات ملتی ہیں جن سے شہدا کے کارناموں کی عظمت کا پتہ چلتا ہے ،چنانچہ رسُول اللہ( صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ) کی ایک حدیث ہے : ” ان فوق کلّ بر براً حتی یقتل الرّجل شھیدً فی سبیل اللہ “ ۔ ” ہرنیکی سے بڑھ کرایک نیکی ہوتی ہے جب تک انسان را ہ خدامیں شہید نہ کردیا جائے جب اسے شہادت مل جاتی ہے توپھر اس سے بڑھ کرکوئی اورنیکی نہیں ہے ( 1) ۔ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کافرمان ہے : ” المجاھدون فی اللہ قواد اھل الجنّة “۔ ” مجا ہدین را ہ خدا بہشت والوں کے قائدہوں گے “ ( 2) ۔ ایک اورحدیث میں حضرت امام محمد باقر علیہ السلام فرماتے ہیں ۔ ” مامن قطرة احب الی اللہ من قطرة دم فی سبیل اللہ،او قطرة من دموع عین فی سواد اللیل من خشیة اللہ،وما من قدم احبّ الی اللہ من خطو ة الیٰ ذی رحم ، اوخطوة یتم بحازحفاً فی سبیل اللہ “۔ ” کوئی قطرہ خدا کو خون کے اس قطر ے سے زیادہ محبُوب نہیں ہے جورا ہ خدامیں یہ جاتا ہے یا آنسو کے اس قطرے سے جورات کی تاریکی میں خو فِ خداسے جاری ہوتا ہے ، اورکوئی قدم خدا کواس قدم سے زیاد ہ محبُوب نہیں ہے جوصلہ ٴ رحمی کے لیے اُٹھایا جائے یا اس قد م سے جورا ہ خدامیں جنگ کے لیے آگے بڑھتا ہے ، جس سے جنگ اپنے انجام کوپہنچتی ہے (3) ۔ اگر تاریخ ِ اسلام کی ورق گردانی کی جائے تومعلوم ہوگاکہ شہداء را ہ خدا نے ہی اسلام کے بہت سے حِصّے کواعزاز بخشا ہے اور اس طرح سے انہوں نے اسلام کی بہت بڑی خدمت کی ہے ۔ نہ صرف ماضی میں بلکہ آج بھی شہادت ایک تقدیر ساز کلمہ ہے ، جس سے دشمنوں پر لرزہ طاری ہوجاتا ہے اورانہیں اسلام کے قلعوں میں رخنہ ڈالنے سے مایوس کردیتا ہے اور شہادت کا کلمہ مسلمانوں کے لیے کس قدر مبارک اور دشمنانِ اسلام کے لیے کسِ قدر خطر نک ہے ؟ لیکن اس میں بھی شک نہیں ہے کہ شہادت کوئی مقصد نہیں بلکہ اصل مقصد دشمن پر کامیابی اور آ ئین حق کی حفاظت اور پاسداریہ ہوتا ہے ،لیکن یہ محافظین اپنے آپ کواس حد تک تیار رکھیں کہ اگراس را ہ میں انہیں خون کی قربانی بھی دینا پڑے تواس سے دریغ نہ کریں اور یہی ہے امت شہید پروردگار کامعنی نہ یہ کہ شہادت کوایک مقصد سمجھ لیاجائے ۔ اسی لیے تورسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک مفصّل حدیث کے آخر میںہم پڑھتے ہیں جو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے حضرت علی علیہ السلام نے روایت کی ہے ،پیغمبر اکر م(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)قسم اٹھا کرفر ماتے ہیں : ” والّذی نفسی بیدہ لوکان الا نبیاء فی طر یقھم لتر جلوالھم لمایرون من بھائھم ویشفع الرّجل منھم سبعین الفاً من اھل بیتہ وجبرتہ “۔ ” اس ذات کی قسم جس کے قبضہ ٴقدرت میں میری جان ہے ، جب شہدا عرصہ ٴمحشر میں وارد ہوں گے ، اگرانبیاء بھی ان کے راستے میں سوار ہوںگے توان کے نور اور شان وشوکتکی وجہ سے سوار یوں سے اُتر پڑیں گے اوران میں سے ہر ایک شخص اپنے خاندان اورہمسایوں میں سے ستر ہزار لوگوں کی شفاعت کرے گا( 4) ۔ یہ بات بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلامی ثقافت میں شہادت کے دو مختلف معانی ہیں ایک خاص اور دوسراعام شہادت کاخاص معنی تویہ ہے کہ انسان را ہ ِ خدا میں میدانِ جنگ میں ماراجائے اوراس کے اسلامی فقہ میں کُچھ مخصوص احکام ہیں، مثلاً اسے غسل وکفن کی ضر ورت نہیں ہوتی بلکہ اسی خون آ لودہ لباس میں ہی اسے دفن کیاجائے گا جب کہ شہادت کاوسیع او ر عام معنی یہ ہے کہ انسان خدائی فریضے کی انجام وہی میں ماراجائے یامرجائے اورجوشخص بھی اس قسم کے فریضے کی ادائیگی کرتا ہوا کسِی حالت میں بھی دُنیا سے اُٹھ جائے وہ ” شہید“ ہے ۔ اسی لیے اسلامی روایات میں وارد ہوا ہے کہ چند قسم کے لوگ اس دُنیا سے ” شہید “ ہوکرجاتے ہیں ۔ ۱۔ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے منقول ہے کہ : ” اذا جاء الموت طالب العلم و ھو علی ھٰذا الحال مات شھیدً ا “۔ ” جوشخص حصولِ علم کے راستے میں مرجائے وہ شہید ہوکر مرتا ہے “ ( 5) ۔ ۲۔ امیر المو منین علیہ السلام فرماتے ہیں : ” من مات منکم علی فر اشہ و ھوعلی معرفة حق ربہ وحق رسولہ واھل بیتہ مات شھیداً “۔ ” جس شخص کوموت آجائے لیکن وہ حق معرفت پروردگار اور حق معرفت رسُول و اہل بیت رکھتا ہوتووہ شہید ہوکرمر تا ہے ( 6) ۔ ۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام فرماتے ہیں : ” من قتل دون ما لہ فھو شھید“۔ اسی طرح کئی اورلوگ ہیں جورا ہ حق میں ماردیئے جاتے ہیں یا اپنی طبعی موت مرتے ہیں اور یہیںسے اس اسلامی ثقافت اور اس کی ہمہ گیریت کاپتہ چلتا ہے ۔ ۴۔ اس بحث کوحضرت امام علی بن موسیٰ رضاعلیہ السلام کی ایک حدیث کے ساتھ پایہ تکمیل کوپہنچاتے ہیں ، امام علیہ السلام نے اپنے آباؤ اجداد کے ذ ریعے رسُول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے یُوںروایت کی ہے ۔ ” اوّل من یدخل الجنّة الشھید“ ۔ ” سب سے پہلے شہید ہی بہشت میں جائے گا “(7) ۔ 1۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵۔ 2 ۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ ۱۵۔ 3۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ۱۴۔ 4۔بحارالا نوار جلد۱۰۰، صفحہ۱۴۔ 5۔سفینتہ البحار جلد۱، مادہ ” شہید“۔ 6۔نہج البلاغہ ، خطبہ نمبر ۱۹۰ (آخری خُطبہ ) ۔ 7۔بحارالانوار جلد۱۷،صفحہ ۲۷۲۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
2۔ اسلام میں جنگ کے مقاصد
اسلام میں جنگ کوکبھی بھی اقدار کی حیثیت حاصل نہیں رہی ، بلکہ انسانوں کی تبا ہی و بربا دی اورذ رائع دوسائل کی نابُودی کی وجہ سے اسے ” خلاف اقدار “ شمارکیاگیا ہے ، اسی لیے قرآن کی بعض آیات میں اسے عذاب ِ الہٰی کے زمر ے میں ذکر کیاگیا ہے ،چنانچہ سُورہ ٴ انعام کی ۶۵ ویں آیت میں ارشاد ہوتا ہے ۔ ’ ’ قُلْ ہُوَ الْقادِرُ عَلی اٴَنْ یَبْعَثَ عَلَیْکُمْ عَذاباً مِنْ فَوْقِکُمْ اٴَوْ مِنْ تَحْتِ اٴَرْجُلِکُمْ اٴَوْ یَلْبِسَکُمْ شِیَعاً وَ یُذیقَ بَعْضَکُمْ بَاٴْسَ بَعْضٍ“ ۔ ” کہ دے کہ خدا اس بات پر قادر ہے کہ تم پر (بجلیوں کے مانند )تمہارے اوپرسے یا( زلزلوں کے مانند )تمہارے پاؤں کے نیچے سے عذاب بھیج دے یاتمہیںٹولیوں کی صورت میں متفرق کردے ، یاتمہیں ایک دوسرے کے خلاف جنگ اورخون ریزی کامزہ چھکائے ۔ اس آیت میں جنگ کو”صاعقہ “ اور ” زلزلہ “جیسی راضی وسماوی آ فات کے زمر ے میں شمار کیاگیا ہے ، اسی لیے اسلام میں تاحدّ امکان جنگ سے پرہیز کیاجاتا ہے ۔ لیکن جب کسی قوم کے وجود کوخطرہ لاحق ہو، یا اس کے مقدس اوراعلیٰ مقاصد کوتبا ہی کا اندیشہ ہوتواس وقت جنگ کو” اقدار “کی حیثیت حاصل ہوجاتی ہے اور جنگ ” جہاد فی سبیل اللہ “ کامقام حاصل کرلیتی ہے ۔ اسی وجہ سے اسلام سے جہاد کی کئی قسمیں بتائی گئی ہیں : ۱۔ آزادی خوا ہی پرمبنی ابتدائی جہاد ۔ ۲۔ دفاعی جہاد ۔ ۳۔ فتنہ وفساد ، اور شرک وبُت پرستی کی آگ بُجھانے کا جہاد ۔ بنابریں اسلامی جہاد ( جیساکہ اسلام کے زبردست مخالفین پرو پیگنڈ اکرتے ہیں )عیقدہ مسلط کرنے کانام نہیںہے بلکہ اصولی طورپر مسلط کردہ عقیدے کی اسلام میں کوئی قدروقیمت نہیں ہے ، بلکہ جہادایسے وقت ہوتا ہے جب دشمن جنگ کواسلامی اُمّت پرمسلط کردیں یا ا ن سے خدا داد آزادی چھینناچا ہیں ،یا اس کے حقوق پامال کرناچا ہیں یاظالم ، مظلوم کاگلا دباناچا ہیں تواس وقت تمام مسلمانوں پرفرض بن جاتا ہے کہ وہ مظلوم کی امداد کریں خوا ہ انہیں ظالم قوم سے لڑنا پڑے ۔ گزشتہ آیات میں یک مختصر اور لطیف جملے میں یہی بات ہوئی ہے ، جہاں فرمایاگیا ہے کہ کفار تو باطل کی پیروی کرتے ہیں اورمومنین حق کی اتباع کرتے ہیں ،تواس لحاظ سے وہ جنگ ” حق اور باطل کے درمیان جنگ “ سمجھی جائے گی ، نہ کہ کشور کشائی، وسعت طلبی ،دوسروں کے سر مائے کولٹ مار اور قدرت نمائی اور طاقت منوانے کے لیے ۔ اسی وجہ سے ہم گزشتہ آیات کی تفسیر میں ایک روایت میںپڑھ چکے ہیں کہ انسانی معاشرے میں جنگ اِس وقت تک جاری رہے گی جب تک وجولوں کے وجُود کاخاتمہ نہیں ہوجاتا اور زمین ان کے نجس وجود سے پاک نہیں ہوجاتی ۔ یہ نُکتہ بھی قابلِ توجہ ہے کہ اسلام میں دوسرے آسمانی ادیان کے پیرو کا روں کے ساتھ پُر امن بقائے با ہمی پربہت زور دیاگیا ہے اوراس کی زبردست تاکید کی گئی ہے ، قرآنی آیات ، اسلامی روایات اورفقہ ٴ اسلامی میں اس بارے میں ” اہل ذمہ کے احکام “کے عنوان سے تفصیلی بحث کی گئی ہے ، اگراسلام عقائد مسلط کرنے اور اپنی طاقت بزورِ شمشیرمنوانے کاحامی ہوتاتوپھر اسے پُر امن بقائے با ہمی اوراہل ِ ذمہ کے متعلق قوانین ِبنانے کی کیاضرورت تھی ؟
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
3۔ جنگی قیدیوں کے احکام
ہم پہلے بتاچکے ہیں کہ میدانِ جنگ میں دشمن کی مکمل شکست سے پہلے مسلمانوں کوکسی بھی صُورت میں جنگی قیدی بنانے کا اقدام نہیں کرناچا ہیئے ، کیونکہ اس سے ہرحالت میں سنگین خطرات کا احتمال ہے لیکن زیرتفسیر آیات کے لب ولہجہ سے ظا ہر ہوتا ہے کہ دشمن پر کامیابی کے بعد انہیں قتل کرنے کے بجائے قیدی بنا لیاجائے اسی لیے قرآن فرماتا ہے : جب تم دشمن کاسامنا کرو تواس پرکا ری ضربیں لگاؤ ۔ پھرفر مایا گیا ہے:یہ کا ری ضر بیں ان پر برابر جاری رکھو ، یہاں تک کہ دشمن کاستیاناس کردو اور انہیں گھنٹے ٹیکنے پرمجبُور کر دو ، ایسے میں قید یوں کی گرفتار ی کے لیے اقدام کرو اورانہیں خوب باندھ لو (فَإِذا لَقیتُمُ الَّذینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقابِ حَتَّی إِذا اٴَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثاق) ۔ لہذا دشمن پر قابو پانے کے بعد انہیں قتل کرنے کے بجائے اسیر بنالیاجائے اور یہ ایسا کام ہے جس سے گریز ناممکن ہے ،کیونکہ اگردشمن کوچھوڑ دیاجائے توممکن ہے کہ وہ دو بارہ سنبھل کرپھرحملہ کردے ۔ لیکن قید ی بنانے کے بعد حالات یکسر تبدیل ہوجاتے ہیں اوراسیر تمام جرائم کے باوجُود مسلمانوں کے ہاتھ میں خداکی ایک امانت کی صُورت میں آ جاتا ہے جس کے بہت سے حقوق کی حفاظت مسلمانوں پرفرض ہوجاتی ہے ۔ قرآن مجید نے ایسے لوگوں کی زبردست تعریف کی ہے ، جنہوں نے ایثار سے کام لیا اور اپنا کھانا اسیر کودے دیا ، ارشاد ہوتا ہے : ” وَ یُطْعِمُونَ الطَّعامَ عَلی حُبِّہِ مِسْکیناً وَ یَتیماً وَ اٴَسیراً“ ” خداکے نیک بندے کھا نے کی خوا ہش رکھنے کے باوجُود اپناکھا نامسکین ، یتیم اوراسیر کو دے دیتے ہیں ‘ ‘ (دھر ، ۸) ۔ مشہور روایت کے مطابق یہ آیت حضرت علی ، جناب فاطمہ زہرا اور حضرت امام حسن اورحضرت امام حسین علیہم السلام کے بارے میں نازل ہو ئی ہے جنہوں نے اپنے افطار کاکھانا مسکین ، یتیم اوراسیر کودے دیا۔ حتّٰی کہ بعض استثنا ئی حالات میں مثلاً ان کے خطرناک ہونے یاخاص قسم کے جرائم کے ارتکاب کی وجہ سے جن قیدیوں کوسزا ئے موت کاحکم جاتا ہے ، ان کے بارے میں بھی حکم یہی ہے کہ سزا پرعمل درآمد سے پہلے تک ان کے ساتھ اچھا سلوک کیاجائے ، جیساکہ حضرت علی علیہ السلام کافرمان ہے ۔ ” اطعام ا لاسیر والا حسان الیہ حق واجب وان قتلتہ من الغد “۔ ” اسیر کوکھانا کھلانا اوراس سے حسنِ سلوک کرنا ایک واجب حق ہے ،ہرچند کہ یہ طے پاچکا ہو کہ کل اسے سزا ئے موت دی جائے گی ( 1) ۔ اس بارے میں اور بھی بہت سی احادیث موجُود ہیں( 2) ۔ ایک حدیث میں حضرت امام علی بن الحسین زین العابدین علیہ السلام فرماتے ہیں : ” اذا اخذت اسیراً فعجز عن المشی ولیس معک محمل فارسلہ ، ولا تفتلہ ، فانّک لاتد ری ماحکم الامام فیہ “۔ ” جب تم کسی کواسیر بنالو اوراپنے ساتھ لے آ ؤ ، لیکن وہ چلنے سے عاجز ہو اور تمہار ے پاس اس کے لیے سواری بھی نہ ہوتو اسے چھوڑ دو اور قتل نہ کرو ،کیونکہ تم یہ نہین جانتے کہ جب اسے امام کے پاس لے جاؤ تووہ اس کے بارے میں کیا فیصلہ کرے ( 3) ۔ حتّٰی کہ تاریخ میں رہبر انِ اسلام کے حالات میں ملتا ہے کہ جو کھا ناوہ خود کھاتے تھے ، اسیروں کو بھی وہی کھلاتے تھے ۔ لیکن اسیروں کے بار ے میں حکم جیسا کہ ہم آیات کی تفسیر میں بتاچکے ہیں، جنگ کے خاتمے کے بعد ان تینوں چیزوں میں سے ایک ہے : یاتو انہیں غیر مشروط طور پر چھوڑ دیاجائے یافدیہ ( تاوان ) لے کر انہیں آزاد کردیاجائے یاپھر انہیں غلام بنالیا جائے ، البتہ مذکورہ تینوں صورتوں میںسے کسی ایک کا انتخاب امام مسلمین اور پیشوا ئے اسلام کی مرضی پر موقوف ہے اور وہ بھی اُسراء کے حالات ،داخلی اورخارجی لحاظ سے اسلام اور مسلمانوں کے مفادات کوپیش ِ نظر رکھتے ہوئے جوبات بھی اسے زیادہ مناسب نظر آ ئے گی اختیار کرے گا اوراس پر عمل در آمد کاحکم د ے گا ۔ بنابریں نہ توتاوان لیناضر وری ہے اورنہ ہی غلام بنانا بلکہ یہ سب کچھ امام المسلمین کی صوا بدید پرمنحصر ہے کہ اگر مصلحت اس بات میں ہے کہ تاوان لے کر چھوڑ دیاجائے تووہ ایسا ہی کرے گا اوراگر مصلحت غلام بنانے میں ہے توغلام بنائے گا اوراگرمصلحت اس بات میں ہوکہ غیرمشروط پر چھوڑ دے توایسا ہی کرے گا ۔ فدیہ اور تا وان کے بارے میں ہم تفسیر نمونہ جلد ۷ ،سُورہ انفال کی ۷۰ ویں آیت کی تفسیر میں تفصیل سے گفتگو کرچکے ہیں ۔ 1۔ وسا ئل الشیعہ، جلد ۱۱،صفحہ ۶۹۔ 2۔ فروع کافی جلد۵، صفحہ باب الرفق بالا سیر واطعامہ ۔ 3 ۔ فروع کافی جلد۵، صفحہ باب الرفق بالا سیر واطعامہ ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
4۔ اسلام اور غلامی
اگرچہ قرآن مجید مین جنگی قیدیوں کے ” استر قاق “ (غلام بنانے ) کامسئلہ ایک حتی حکم کے عنوان سے بیان نہیں ہوا لیکن اس میں بھی شک نہیں کہ قرآن پاک میں غلاموں کے احکام بھی بیان ہوئے ہیں جن سے ثابت ہوتا ہے کہ صدرِ اسلام اور پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے دور میں بھی غلام تھے ، جیسے غلام کے ساتھ از دواج ، محرم ہونے یا ” مکا تبت “ (غلا موں کی آزادی کے لیے عہدو پیمان ) کے احکام وغیرہ ، جو قرآن مجید کی متعدد آیات میں بیان ہُوئے ہیں ، مثلاً سُورہ ٴ نساء ، سُورہ موٴ منون ،سُورہ ٴ نحل ، سُورہ ٴ نور ، سُورہٴ رو م اور سُورہ احزاب کی آیات ۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ اسلام پر یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اسلام نے اپنی تمام اعلیٰ تعلیمات اورانسانی اقدار کوبلند کرنے کے با وجُود غلامی کے مسئلے پربطور کلی خطِ تنسیخ کیوں نہیں کھینچا اورایک دوٹوک اور عمومی حُکم کے ذ ریعے تمام غلاموں کی آزادی کا اعلان کیوں نہیں کیا؟ یہ ٹھیک ہے کہ اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی شفارش کی ہے ،لیکن سب سے ا ہم بات ان کی غیر مشرُوط آزادی ہے،آخر ایک انسان دوسرے انسان کا مملُوک اور بندہ کیوں ہو اور آ زادی جوخدا کی بہترین نعمت اور قدرت کابہترین عطیہ ہے اس سے وہ کیوں بہرہ مند نہ ہو ۔ ایک مختصر جملے میں اس کاجواب یہ دیاجاسکتا ہے کہ اسلام نے غلاموں کی آزادی کے لیے ایک جچا تلا اورایک شیڈول پرمبنی پرو گرام دیا ہے کہ جس کے مطابق وہ آہستہ آہستہ آزادی کی نعمت سے مالا مال ہوجاتے ہیں اوراسی طرح کی آزادی سے معاشر ے پر بھی کوئی خوشگوار اثر نہیں پڑتا ۔ لیکن اس اسلامی منصوبے کی تشریح اور تفصیل سے پہلے ہم مقدمے کے طورپر یہاں پرقار ئین کی توجہ چند نکات کی طرف مبذول کراتے ہیں ۔ ۱۔ اسلامی غلامی کامُوجد ہرگز نہیں ہے : یہ بات مسلّم ہے کہ غلامی کی ایجاد اسلام نے نہیں کی ، بلکہ وہ اس وقت ظہور پذیر ہوا جب ساری دُنیا میں غلامی کادور دورہ تھا اورغلامی انسانی معاشرے میں رچ بس چکی تھی ، حتّٰی کہ اسلام کے بعد تک بھی غلامی کارواج جاری رہا اورآج سے تقریباً ایک صدی قبل اس وقت تک تھا جب غلاموں کی آزادی کی تحریک شروع نہیں ہو ئی تھی ، کیونکہ انسانی زندگی کے نظام کی تبدیل سے غلام بنانے کی پرانی روش اب قابلِ قبول نہیں رہی تھی ۔ غلامی کے خلاف جدّ و جہد سب سے پہلے پورپ سے شروع ہوئی ، پھراس کادائرہ ، امریکی اور ایشیائی ملکوں تک بھی پھیل گیا۔ انگلستان میں ۱۸۴۰ء تک ، فرانس میں ۱۸۴۸ ء تک ، ہالینڈ میں ۱۸۶۳ء تک اورامیریکہ ۶۵ ۱۸ ء تک غلامی کاسلسلہ جاری رہا، آخر کار بر سیلنیر میں ایک کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ایک مشتر کہ اعلامیے کے ذ ریعے ساری دنیا میں غلامی کے سلسلے کوختم کرنے کاتہیہ کرلیاگیا او ر یہ ۱۸۹۰ ء کی بات ہے ( یعنی تقریباً سوسال سے بھی کم عرصہ گزارا ہے ) ۔ ۲۔ اس دور میں غلامی کے انداز بدلے گئے ہیں : یہ ٹھیک ہے کہ اہل یورپ غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ثابت ہُوئے ،لیکن جب اسے مسئلے پرذراغور وفکر سے کام لیاجائے تومعلوم ہوگا کہ غلامی کانہ صرف خاتمہ ہی نہیں ہوا ، بلکہ یہ پہلے سے زیادہ خطر ناک اور وحشت ناک صورت میںظا ہر ہوئی ہے ، یعنی قوموں کے استعمار اور مُلکوپر سامرا جیّت کی صُورت میں ، وہ اس طرح سے کہ انفرادی غلام جتنا جتنا کمزور ہوتی گئی اجتماعی غلامی اور سامرا جیّت اسی قدر افز وں تر اور قوی تر ہوتی گئی ، بر طانوی شہنشا ہیّت اگرانفرادی غلامی کے خاتمے کے لیے پیش قدم ہے تواستعمار اور سامراجیّت کے لیے بھی پیش گام دکھائی دیتی ہے۔ مغربی سامراجیوں نے اپنے سامراجی تسلط کے دو ران جن جرائم کا ارتکاب کیا ہے وہ صرف غلامی کے دورائے کے جرائم سے کم نہیں بلکہ وسعت اور شدّت کے لحاظ سے اس سے چار قدم آ گے دکھائی دیتے ہیں ۔ حتّٰی کہ سامراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں میں قوموں کی غلامی کاسلسلہ پھر بھی جاری رہا ،غلامی سے یہ آزادی ایک نام نہاد سیاسی آزادی تھی ، جب کہ آج بھی سا مراج کے چنگل سے آزاد ہونے والے ملکوں اور دوسرے کئی ملکوں میں بھی اقتصادی اورثقافتی غلامی اوراستعمار کی حکمرانی ہے ۔ یہ صورت حال کمیونسٹ ملکوں میں توخصوصیّت کے ساتھ جاری ہے ، آزادی کادم بھر تے اور غلامی کے خاتمہ کے لیے دوسروں س زیادہ شورمچاتے ہیں حالانکہ وہ خودایک شرمناک قسم کی بر دہ داری میں گرفتار ہیں ۔ جولوگ ان ملکوں میں رہتے ہیں وہ غلاموں کے مانند بالکل بے اختیار ہیں اوران ملکوں کے باشندوں کے تمام اختیار کمیو نسٹ پارٹی کے لیڈ روں کے ہاتھ میں ہیں ، اگرکوئی شخص اختلاف رائے کا اظہار کرتا ہے تواسے یاتوجبر ی کام کے مراکز میں بھیج دیاجاتا ہے یاپھرزندا ن کی کال کوٹھڑ یوں میں بند کردیاجاتا ہے اوراگراس کاشمار دانشو روں میں ہوتواِسے نفساتی مریض قرار دے کرپاگل خانے میں بھیج دیاجاتا ہے ۔ مختصر یہ غلامی نام کے تابع نہیںہے ، جو چیز ناپسند یدہ اور بری ہے وہ ہے اصل غلامی اوراس کاحقیقی مفہوم اورہرایک کومعلُوم ہے کہ یہ مفہوم سامراجی تسلط میں موجُود اور کمیونسٹ ممالک میں بدترین صُورت میں موجُود اور معمُول ہے ۔ خلاصتہ الکلام یہ کہ آج کی دُنیا میںغلامی کے خاتمے کی ایک ظا ہری صُورت تھی جس نے حقیقت میں ایک نئی صُورت اختیار کرلی ہے ۔ ۳۔ ماضی میں غلاموں کادردناک انجام : تاریخی لحاظ سے غلاموں کی ایک نہایت دردناک تاریخ ہے اوروہ ساری زندگی اند وہناک انجام سے دوچار ہوتے رہے ہیں ، مثال کے طورپر ( srarta ) کے غلاموں کے تاریخ کولے لیجئے جوکہ بزعم خودایک متمدن قوم تھی ، کتاب ” روح القوانین “ کے مصنف کے بقول ( sparta) کے غلام اس قدر مصیبت زدہ تھے کہ ان میں سے کوئی بھ غلام کسِی فر د واحد کاغلام نہیں ہوتاتھابلکہ تمام معاشر ے کاغلام ہوتا تھا اورہر شخص کسی بھی قانونی خوف کے بغیر اپنے یاکسِی دوسرے کے غلام کوجتنا چا ہتا دُکھ اور ایذا ئیں پہنچا تا، درحقیقت اس معاشر کے غلاموں کی زندگی حیوانات سے بھی بدترتھی ۔ جب کسِی پسماندہ ملک سے غلاموں کاشکار کیا جاتاتھا ،شکار کے وقت سے لے کر منڈ یوں تک لانے کے عرصے میں بہت سے غلام مرجایا کرتے تھے ، جوبچ جاتے تھے وہ لالچی بردہ فروشوں کی کمائی کاذ ریعہ بنتے تھے ، انہیں کھانے کوصراس حد تک دیاجاتا کہ جس سے وہ جسم اوررُوح کارشتہ بحال رکھ سکتے اور اکام بجا لاتے تھے جب وہ بوڑھے ہوجاتے یاکسِی جان لیوا بیماری کاشکار ہو جاتے توانہیں ان کے حال پر چھوڑ دیاجاتا ہے اور وہ تڑپ تڑپ کرمرجاتے لہذا تاریخی طورپر غلامی کانام اپنے ساتھ ہولناک جرائم کی ایک تفصیلی داستان رکھتا ہے ۔ یہ چند موٹے موٹے نکات اجمالی طورپر بیان کرنے کے بعد ہم اسلام کے غلاموں کو بالتد ریج آزاد کرنے کے منصوبے پر قدر تفصیل سے روشنی ڈالتے ہیں ۔ ۴۔غلاموں کی آزادی کے لیے اسلام کامنصوبہ : جس چیز پرعام طور سے زیادہ توجہ نہیں دی جاتی وہ یہ ہے کہ اگر کوی غلط نظام کسی معاشر میں رواج پاجائے تواسے ختم کرنے کے لیے ایک مدّت درکار ہوتی ہے اوراس سلسلے میں کوئی بھی اقدام جوسوچے سمجھے منصوبے کے بغیر کیاجائے اس کا نتیجہ اُلٹا نکلتا ہے ،بالکل ویسے ہی جیسے کوئی شخص کسی خطرناک بیماری میں مبتلا ہوجائے اور اس کی یہ بیماری اپنی انہتا تک پہنچ چکی ہو ، یاجیسے کوئی شخص کسِی بُری عادت کاشکار ہوجائے اوراس کی یہ عادت سالہاسال ہے اِس میں راسخ ہوچکی ہوتوایسے حالات میں ایک تد ریجی شیڈ ول کی ضرورت ہوتی ہے ، جس کے تحت اس کا علاج کیاجاتا ہے تب کہیں جاکر کامیابی حاصل ہوتی ہے ۔ زیادہ واضح الفاظ میں یو ں کہیں کہ اگراسلام ایک عمومی حکم کے ذ ریعہ اس زمانے کے تمام غلاموں کی آزاد ی کاحکم دے زیادہ آبادی غلاموں کی تھی ، جن کانہ توکوئی مستقل ذ ریعہٴ معاش تھا، نہ سیرچھپا نے کے لیے اپناگھر اور نہ ہی پیٹ پالنے اور زندہ رہنے کے لیے کوئی اور ذ ریعہ ۔ اگرایک مقررہ دن اور مقر رہ وقت پروہ سب آزاد ہوجاتے تو معاشرے کا ایک بہت بڑا حِصّہ بے کار اور بے روز گار ہوجاتا جِس سے ایک توان کی اپنی زندگی خطرے میں پڑ جاتی اور دوسرے ممکن تھا کہ معاشر ے کے نظم ونسق میں خلل پڑ جاتا اور جب ہرطرف سے انہیں مایوسیوں اور محرو میوں کاسامنا کرناپڑتا تووہ ہرایک پرحملہ آور ہوتے جس سے خانہ جنگی اور خوں ریزی کازبردست اندیشہ تھا۔ اسی لیے ضروری معلوم ہوا ہے کہ غلاموں کوتدریجی طورپر آ زاد کیا جائے تاکہ وہ ماحول اور معاشر ے میں رچ بس جائیںجس سے نہ توانہیںخود کو کسِی قسم کاخطرہ ہو اور نہ ہی معاشرے کے لیے امن وامان کامسئلہ کھڑا ہو، لہذا اسلام نے بھی ٹھیک اسی سوچے سمجھے منصُوبے کواپنا یا ہے ۔ اس قسم کے منصوبے کو کئی طرح سے عملی جامہ پہنانے کاحکم دیاگیا ہے ، جس کے ا ہم پہلوؤں کوہم وفعات کی صورت میں فہرست واربیان کرتے ہیں البتہ اس کی تفصیل کے لیے ایک مستقل کتاب کی ضر ورت ہے ۔ دفعہ (۱) ” غلامی کی بیخ کنی “تاریخی لحاظ سے غلامی کے کئی مختلف اسباب مِلتے ہیں ،صرف جنگ ہی میں گرفتار ہونے والے قیدیوں کوغلام نہیں بنایاجاتاتھا ،بلکہ جومقروض اپنا قرض ادانہیں کرسکتے تھے انہیں بھی غلام بنالیا جاتاتھا ، اس سے بھی بڑھ کریہ کہ زور ،غلبہ اور طاقت بھی غلام بنانے کے اسباب تھے ، طاقت درمُلک مختلف اسلحہ سے مسلح کرکے اپنے افراد افریقہ اوراس جیسے دوسرے پسماندہ مُلکوں میں بھیجتے تھے اور وہ وہاں پر جاکر ٹولیوں اور گروہوں کی صُورت میں انسانوں کاشکار کرتے تھے اورانہیںقیدی بناکر کشتیوں کے ذ ریعے ایشیائی اورپوربی ممالک کی منڈ یوں میں جا کر بیچ ڈالتے تھے ۔ اسلام نے ان تمام مسائل کی روک تھام کی ہے اور صرف ایک مو قعہ پرغلام بنانے کی اجازت دی ہے اوروہ ہے ، جنگی قیدیوں کے بارے میں اور وہ بھی ضروری طورپر نہیں بلکہ جیساکہ ہم مندرجہ بالا آیات کی تفسیر میں بتاچکے ہیں ، اس بات کی اجازت بھی دے دی تھی کہ یا توانہیں غیرمشر وط طورپر رہاکردیں یافدیہ لے کر چھوڑ دیں ۔ اس زمانے میں قید خانے نہیں ہوتے تھے کہ جنگی قیدیوں کوان کا انجام واضح ہونے تک قید خانوں میں رکھ جاتالہٰذا اس کے سواکوئی چارہ نہیں تھاکہ انہیں مختلف کنبوں میں تقسیم کرکے ، غلاموں کی صورت میں ان کی نگہداشت کی جاتی ۔ ظا ہر ہے کہ جب مذ کورہ صُورت تبدیل ہوجائے توپھرکوئی وجہ نہیں کہ اسیروں کے بارے میں امام المسلمین غلامی کاحکم صادر کرے وہ ” من “ اور” فداء “ کے ذ ریعے سے انہیں آزاد کرسکتا ہے ،کیونکہ اسلام نے مسلمانوں کواس بارے میں اجازت دے رکھی ہے کہ وہ مصلحت کوپیش نظر رکھتے ہُوئے مذکورہ صورتوں میں سے کوئی ایک اپنا لیں ، اس طرح اسلام میں غلامی کا راستہ تقریباً بند ہوجاتا ہے ۔ دفعہ (۲)آزادی کی را ہیں :اسلام نے غلاموں کوآزاد کرنے کا ایسا وسیع منصوبہ تشکیل دیا ہے کہ اگر مُسلمان اس پرعمل کرتے تو سب کے سب غلام تدریجاً اور نہایت ہی قلیل مدّت میں آ زاد ہو جاتے اوراسلامی معاشرے میںگھل مِل کراس کا جزوبن جاتے ، اس منصوبے کے چیدہ چیدہ اُصول یہ ہیں : ا۔اِسلام میں زکوٰة کے آٹھ مصرف ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اس سے غلام کوخرید کرآزاد کر وایا جائے ( ملاحظہ ہو سورہ توبہ / ۶۰) ۔ اس طرح سے اسلامی بیت المال میں ایک مستقل اور دائمی حِصّہ مقرر کیاگیا ہے تاکہ غلاموں کی مکمل آزادی کاسلسلہ جاری رہے ۔ ب۔اس مقدس کوپایہ ٴ تکمیل تک پہنچانے کے لیے اسلام میں کچھ قوانین وضع کیے گئے ہیں جن کی رُوسے غلام اپنے آقاسے ایک طرح کاسمجھوتہ کرتا ہے اورعہد وپیمان باند ھتا ہے جس کی رُو سے وہ اپنی محنت ومشقت سے حاصل کی ہوئی رقم سے آزاد ہوجاتا ہے ،( اس بارے میں اسلامی فقہ میں ” مکاتبة “ کے عنوان سے ایک مستقل فصل موجود ہے ) ( 1) ۔ ج۔ اسلام میں غلاموں کی آذادی کوبہترین عبادات میں سے اور عملِ خیر قرار دیاگیا ہے اوراس بارے میں پیشوایان اسلام پیش پیش نظرآتے ہیں جیسا کہ حضرت علی علیہ السلام کے حالات میں موٴ رخین نے لکھا ہے کہ : ” اعتق الفاً من کدیدة “۔ ” آپ نے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے ایک ہزار غلام آزاد کیے “ (۲) ۔ د۔ اسلام کے عظیم رہبر اورآئمہ اطہار علیہم السلام بہانے سے غلاموں کوآزاد کردیاکرتے تھے تاکہ اس طرح وہ غلا موں کی آزادی کے لیے دوسرے لوگوں کے لیے نمونہ قر ار پائیں ،چنانچہ حضرت امام محمد باقر علیہ السلام کے ایک غلام نے ایک معمولی سا اچھا کام انجام دیاتوامام علیہ السلام نے اسے فر مایا: ” اذھب فانت حرفانی اکرہ ان استخدم رجلاً من اھل الجنّة “ ۔ ” جاؤ ! تم آزاد ہو ،کیونکہ مجھے یہ با ت اچھی نہیں لگتی کہ اہل ِ بہشت میں سے کسی سے خدمت لوں “ (۳) ۔ حضرت امام زین العابدین علیہ السلام کے حالات میں مِلتا ہے کہ : ” آپ کاغلام آپ علیہ السلام کے سر پرپانی ڈال رہاتھا کہ پانی کابرتن اس کے ہاتھ سے گِرا جس سے آپ مجرُوح ہوگئے ، امام نے اپناسر اوپر اُٹھا یاتواس نے یہ قرآنی آیت پڑھی ، ” و الکاظمین الغیط “حضرت نے فر مایا” میں نے اپنا غُصّہ پی لیا “ اس نے کہا ” والعافین عن النّاس “امام نے فرمایامیں نے تجھے معاد کردیا ،خدا بھی تجھے معاف کرے “، اس نے فوراً کہا” واللہ یحب المحسنین “ توامام علیہ السلام نے فر مایا ” جاؤ ! را ہ ِ خدا میں تُم آزاد ہو“(۴) ۔ ھ ۔بعض اسلامی روایات میں ہے کہ ساتھ سال کے بعد غلام خود بُخود آزاد ہوجاتا ہے ، جیساکہ حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام فر ماتے ہیں : ” من کان موٴ مناً فقد عتق بعد سبع سنین ، اعتقہ صاحبہ ام لم یعتقہ ولایحل خد مة کان موٴ مناً بعد سبعة سنین “۔ ” مومن غلام سات سال کے بعد خود بخود آزاد ہوجاتا ہے ،خوا ہ اس کامالک اسے آ زاد کرے یانہ کرے اورسات سال کے بعد مومن غلام سے خدمت لیناجائز اورحلال نہیں ہے (۵) ۔ اسی باب میں رسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث بھی درج کی گئی ہے ، آپ فرماتے ہیں : ” مازال جبرئیل یوصینی بالمملوک حتّٰی ظننت انہ سیضرب لہ اجلا یعتق فیہ “۔ ” مجھے غلاموں کے بارے میں جبرائیل بار بار سفارش کرتے رہے ہیں ، جس سے میں یہ سمجھنے لگا کہ بہت جلد ان کی آزادی کی تاریخ مقرر کردیں گے کہ جس میں وہ آزاد کردیئے جائیں گے (۶) ۔ و۔ جوشخص کسی مشترک غلام کواپنے حِصّے کی نسبت آزاد کردے ، اس پر فرض بن جاتا ہے کہ بقیہ حِصّے کی خریداری کرکے اسے آزاد کرے (۷) ۔ جوشخص اپنے تمام غلام کے کچُھ حِصّے کوآزاد کردے تویہ آزادی اس کے تمام حصّو ں میں سرایت کرجاتی ہے اوروہ خود بخود مکمل طورپر آزاد ہوجاتا ہے (۸) ۔ ز ۔ جوشخص اپنے والد یا والدہ یانانا یانانی یادادا یادادی یا اولاد یاچچا یاپھوپھی ، ماموں یاخالہ یابھائی یابہن یابھتیجے یابھانجے یابھتیجی یابھانجی کامالک بن جائے تووہ فوراً آزاد ہوجاتے ہیں ۔ ح ۔جب آقا کی اپنی کنیز سے کوئی اولاد ہوجائے تو اس کنیز کافروخت کرناجائز نہیں ہے اوراپنی اولاد کے حِصّے سے وہ فوراً آزاد کردی جائے ۔ یہ صورت حال بہت سی کنیزوں کی آزادی کاسبب بن جاتی تھی کیونکہ وہ اپنے آقاؤں کی بیوی کی حیثیت سے ہوتی تھیں اوران سے صاحب اولاد ہوجاتی تھی ۔ ط ۔ اسلام میں بہت سی خلاف ورزیوں کاکفّارہ غلاموں کی آذادی مقرر کیاگیا ہے (مثال کے طورپر قتل خطاء ، روزے کوجان بُوجھ کرنہ رکھنا اورقسم وغیرہ کے کفار ے ) ۔ ی۔ کئی ایسی سخت سزائیں ہیں کہ اگرآقا اپنے غلام کو وہ سزائیں دے توغلام خود بخود آزاد ہوجاتا ہے (۹ ) ۔ دفعہ(۳)غلاموں کی شخصیت کا احیاء :اسلام نے اس درمیانی مدّت کے لیے غلاموں کے حقوق کے احیاء کے لیے وسیع اقدامات کیے ہیں جووہ اسلامی منصُوبے کے تحت آزادی کے لیے طے کررہے ہوتے ہیں ایسے اقدامات کے تحت جہاں ان کے حقوق کا احیاء مقصُود ہوتا ہے وہاں ان کی انسانی شخصیّت کے احیاء کوبھی پیشِ رکھاگیا ہے تاکہ انسانی شخصیّت کے لحاظ سے آزاد اورغلام کافرق مٹ جائے ، اسی لیے اسلام نے انسانی شخصیّت کامعیار ” تقوٰے “قراردیا ہے ، اسی لیے غلاموں کوبھی اجازت دی گئی کہ ہر قسم کے ا ہم معاشرتی مناصب حتی کہ قاضی جیسے نہایت ا ہم عہدے پر بھی فائز ہوسکتے ہیں ( 10) ۔ عصررسالت مآب (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم )میں لشکر کی سپہ سالاری سے لے کر دوسرے ا ہم ترین اورحساس ترین عہدوں پر غلام یا آزاد کردہ غلام فائز رہے ہیں ۔ رسُول اعظم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بہت سے دوست اورصحابی یاتو غلام تھے یا آزاد غلام تھے اوران میں سے بہت سے لوگ ایسے بھی تھے جوبزرگانِ اسلام کے معاون ومددگار کی حیثیت سے کام کرتے تھے اوراس بارے میں سلمان فارسی ” رضی اللہ عنہ ‘ ‘ عمّار یاسر ” رضی اللہ عنہ “اور قنبر ” رضی اللہ عنہ “جیسے صحابیوں کا نام لیا جاسکتا ہے ۔ ” غزدہ بنی مصطلق “ کے بعد رُسول پاک (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اس قبیلے کی ایک آزاد شدہ کنیز سے از دواج فرمایا اوریہ بات اس قبیلے کے تمام گرفتارشدہ قیدیوں کی آزادی کابہانہ بن گئی ۔ دفعہ (۴) ۔غلاموں سے انسانی سلُوک :اسلام میں غلاموں کے ساتھ نرمی برتنے اوران کے ساتھ مدا رات اورحسنِ سلُوک کی بہت زیادہ تاکید کی گئی ہے ،حتّٰی کہ انہیں اپنے آ قاؤں کے ساتھ زندگی میں حِصّے دار بھی بنایا گیا ہے ، جیساکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرماتے ہیں : ” جس شخص کا بھائی اس کے زیر ِدست ہے ، اسے چا ہیئے کہ جوکچھ وہ خود کھاتا ہے ویسا ہی اسے کھلائے ، جوخود پہنتا ہے اسے بھی ویسا پہنائے اوراس کی طاقت سے زیادہ اس سے کام نہ لے ( 1۱) ۔ حضرت علی علیہ السلام اپنے غلام قنبرسے فرما یا کرتے تھے : ” مجھے خداسے شرم آتی ہے کہ میں تجھ سے اچھالباس پہنوں ،کیونکہ رسول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)فرمایا کرتے تھے جوکچُھ تم خود پہنتے ہوویسا ہی انہیں پہناؤ اورجوتم خود کھاتے ہو ، ویسا ہی انہیں کھلاؤ (1۲) ۔ امام جعفر صادق علیہ السلام فرمایا کرتے تھے : ” میر ے والد جب کسی غلام کوکسی کام کے بجالانے کاحکم دیتے تو اگروہ کام مشکل ہوتاتوپہلے خُودبسم اللہ کہہ کراسے انجام دیتے اور اس کی امداد کیا کرتے تھے ( 1۳) ۔ اس تدریجی اور عبوری عرصے کے دوران غلاموں کے بار ے میں اسلام کے حسن سلُوک کاحکم ا س حد تک ہے کہ اسلام سے اجنبی افراد بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکے اوراس کی تعریف کی ہے۔ مثال کے طورپر جر جی زیدان ( عیسائی موٴ رّخ اپنی کتاب تاریخی تمدن میںلکھتے ہیں : ” اسلام ،غلاموں کے ساتھ حد سے زیادہ مہربان ہے ،پیغمبر اسلام نے غلاموں کے بارے میں بڑی تاکید کی ہے ، یہاں تک کہ پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسل) کاکہنا ہے : جن کاموں کی بجا آواری غلاموں کے بس کی بات نہیں وہ ان کے ذمے نہ لگائے جائیں ، جوکچھ تم کھاتے ہو ویسا ہی غلاموں کوکھلاؤ“۔ ایک اورموقع پرفرماتے ہیں :” اپنے غلاموں کوکنیز یاغلام نہ کہو ، بلکہ انہیں میرابیٹا اور میری بیٹی کہہ کر بلایا کرو “۔ قرآن نے بھی غلاموں کے بار ے میں بڑی عمدہ سفارش پیش کی ہیں ، چنانچہ کہتا ہے : ” خدا کی عبادت کرو ، اس کاشریک مت ٹھہراؤ ماں باپ ، قریبی رشتہ دا روں، یتیموں ،بے نواؤں ،نزدیک اور دور کے ہمسایوں، دوستوں بے خانمان لوگوں اور غلاموں کے ساتھ حسن سلُوک کیا کرو ،خداخود پسند لوگوں سے بیزار ہے “ ( 1۴) ۔ دفعہ (۵)آدم فروشی کوبدترین فعل بتایاگیا ہے : اصولی طورپر اسلام میں غلاموں کی خرید فروخت کوبدترین اور سب سے زیادہ قابل نفرت کارو بار قراردیاگیا ہے ،حتّٰی کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ایک حدیث میں آیا ہے کہ : ” شرالنّاس من باع النّاس “۔ ” بدترین لوگ وہ ہیںجوغلاموں کو بیچتے ہیں “ ( 1۵) ۔ غلاموں کے بارے میں اسلام نطقہٴ نظر کوسمجھنے کے لیے یہی بات کافی ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ اسلامی منصوبوں کارُخ کسِ طرف کوہے ۔ اس سے بڑھ کردلچسپ اور جاذب توجہ یہ امر ہے کہ اسلام میں جو گنا ہ ناقابلِ معافی شمارکیے گئے ہیں ان میں سے ایک گنا ہ یہ بھی ہے کہ انسان کی آزادی اور حریت کوسلب کرلیا جائے اور اسے ایک سودے کی صورت میں تبدیل کر دیاجائے ، جیساکہ آنحضرت (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ارشاد گرامی ہے : ” ان اللہ تعالیٰ غافر کل ذنب الامن جحد مھراً او ا غتصب اجبراً اجرہ ، اوباع رجلا حرا “۔ ” خدا تین گنا ہوں کے علاوہ دوسرے سب گنا ہ معاف کردے گا۔ ۱۔ جوشخص اپنی زوجہ کے مہر کا نکار کردے ۔ ۲ ۔مزدور کی مزدوری غصب کرلے ۔ ۳۔کسی انسان کوبیچ ڈالے ۔ (1۶) ۔ اس حدیث کی رُوسے عورتوں کے حقوق کاغصب کرنا، مز دوری کا غصب کرنا اورانسانی آزادی کاچھین لینا، تین ناقابلِ معافی گنا ہ ہیں ۔ جیساکہ ہم بتاچکے ہیں کہ اسلام نے صرف ایک موقع پر غلام بنانے کی اجازت دی ہے اور وہ بھی جنگی قیدیوں کواوروہ بھی ہرگزلازمی نہیں ہے ، جبکہ ظہور اسلام کے زمانے میں اوراس کے کئی صدیاں بعد تک طاقت کے ذ ریعے اور سیا ہ ام لوگوں کے ملکوں پرحملہ کرکے آزاد انسانوں کوگرفتار کرکے انہیں غلام بنانے کاطریقہ ٴکارعام تھا اور بعض اوقات تووحشت ناک تعداد میں اس قسم کے غلامو ں کاسُوداکیا جاتایہاں تک کہ ۱۸ ویں صدی عیسوی کے آخر میں حکومت برطانیہ سالانہ دو لاکھ انسانوں کوغلاموں کی صُورت میں فروخت کیاکرتی تھی اورہرسال ایک لاکھ انسانوں کوافریقہ سے پکڑ کرغلاموں کی صورت میں انہیں امریکہ لے جایا جاتا تھا ( 1۷) ۔ مختصر یہ کہ جولوگ غلاموں کے بارے میں اسلامی حکمت عملی پر اعتراض کرتے ہیں انہوں نے دُو رہی سے اس بار ے میں کچُھ سُن رکھّا ہے اوراس پرو گرام کے اصولوں اوراسلام کے ہدف سے قطعاً نا آشناء ہیں ، کیونکہ اسلام کا اصولی پرو گرام غلاموں کی تلفی کے بغیر تدریجی آزادی ہے ، یاوہ لوگ پھران مفاد پرستوں کی باتوں میں آکر ایسی باتیں کرتے ہیں جنہوں نے اپنے خیال میں اسے اسلام کازبردست کمزور نقطہ سمجھ لیا ہے اوراسی چیزکولے کراسلام کے خلاف پرو پیگینڈے میں مصروف ہیں ۔ 1۔” کماتبة “ کے بارے میں اوراس کے دلچسپ احکام کے متعلق ہم نے تفسیر نمونہ چودھویں جلد میں تفصیل سے بحث کی ہے۔ ۲۔بحارالانوار جلد۴۱، صفحہ ۴۳۔ ۳۔وسائل الشیعہ، جلد۱۶،صفحہ ۳۲۔ ۴۔تفسیر نورالثقلین ، جلد۱،صفحہ ۳۹۰۔ ۵۔وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۳۶۔ ۶۔ وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۳۷۔ ۷۔شرائع الاسلام کتاب العلق ، وسائل الشیعہ ، جلد۱۶،صفحہ ۲۱۔ ۸۔شرائع الاسلام کتاب العلق ۔ ۹۔وسائل الشیعہ، جلد۱۶،صفحہ ۲۶۔ 10۔شرائع الاسلام ” کتاب القضاء “۔ 1۱۔بحارالانوار جلد ۷۴،صفحہ ۱۴۱ (حدیث ۱۱) ۔ 1۲۔ بحارالانوار جلد۷۴،صفحہ ۱۴۴ (حدیث ۱۹) ۔ 1۳۔بحارالانوار جلد۷۴،صفحہ ۱۴۲ (حدیث ۱۳) ۔ 1۴۔تاریخ ِ تمدنِ اسلام، جلد۴،صفحہ ۵۴۔ 1۵۔مستدرک الوسائل جلد۲ ،کتاب التجارة باب ۱۹ ،حدیث۱۔ 1۶۔ بحارالانوار ، جلد ۱۰۳ ،صفحہ ۱۶۸( حدیث ۱۱) ۔ 1۷۔تفسیرالمیزان ، جلد۶،صفحہ ۳۶۸۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
سوره محمد/ آیه 4- 6
۴۔ فَإِذا لَقیتُمُ الَّذینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقابِ حَتَّی إِذا اٴَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثاقَ فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِداء ً حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ اٴَوْزارَہا ذلِکَ وَ لَوْ یَشاء ُ اللَّہُ لاَنْتَصَرَ مِنْہُمْ وَ لکِنْ لِیَبْلُوَا بَعْضَکُمْ بِبَعْضٍ وَ الَّذینَ قُتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ فَلَنْ یُضِلَّ اٴَعْمالَہُمْ ۔ ۶۔ سَیَہْدیہِمْ وَ یُصْلِحُ بالَہُمْ ۔ ۵۔ وَ یُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہا لَہُمْ ۔ ترجمہ ۴۔ جب تم میدان ِ جنگ میں کافروں کے آ منے سامنے آ جاؤ توان کی گرد نیں مار دو ، اوراس کام کو برابر جاری رکھو، یہاں تک کہ کافی حد تک دشمن کاستیانا س کردو، ایسے میں قید یوں کوخوب باندھ لو، پھراس کے بعد یا ان پراحسان کرو (اورانہیں چھوڑ دو ) یار ہائی کے بدلے میں ان سے فدیہ لواور یہ صُورت ِ حال اسی طرح جاری رہے ، یہاں تک کہ جنگ اپناسنگین بوجھ زمین پررکھ دے ، طر یقہ کاریہی ہے جب خداچا ہتا تھا تو خود اُنہیں سزا دیتاتھا ، لیکن وہ چا ہتا ہے کہ تمہار ی آ زمائش ایک دوسر ے سے کرے ، اورجولوگ خدا کی را ہ میں مارے گئے ہیں ، خدا ان کے اعمال ہرگز کارت نہیں کرے گا ۔ ۵۔ عنقریب ان کی ہدایت کرے گا اوران کاکام سنوار دے گا ۔ ۶۔اورانہیں (اپنی جاودانی ) بہشت میں داخل کرے گا ، جس کے اوصاف اس نے اُن سے بیان کررکھے ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 47:4-6
میدان ِ جنگ میں ارادے کی پختگی ضروی ہے
جیساکہ ہم پہلے بتاچکے ہیں گذ شتہ آیات مسلمانوں کوایک ا ہم جنگی حکم کے لیے آمادہ کرنے کے لیے مقدمہ تھیں ، جس کے بارے میں زیرتفسیر آیات میں تفصیل سے گفتگو کی جارہی ہے ، ارشاد ہوتا ہے : جب میدان ِ جنگ میں کافروں کے آمنے سامنے آجاؤ توپوری طاقت کے ساتھ ان پرحملہ کرو اوران کی گردنیں ماردو (فَإِذا لَقیتُمُ الَّذینَ کَفَرُوا فَضَرْبَ الرِّقابِ )(۱) ۔ ظا ہر سی بات ہے کہ ” گردن ماردینا “ قتل کے لیے کنایہ ہے ،لہذا اس کی ضرور ت نہیں ہے کہ مجا ہدین اس بات کی کوشش کریں کہ وہ ان کی صرف گردنیں اڑائیں بلکہ مقصد یہ ہے کہ دشمن کاصفایا کردیں ، لیکن چونکہ گردن اٹا انا قتل کاروشن ترین مقصداق ہے لہذا اس کا ذکر کیا گیا ہے ۔ اور ہرحالت میں یہ حکم میدان ِ جنگ کے ساتھ مخصوص ہے ،کیونکہ ” لقیتم “ جو ” لقاء“ کے مادہ سے ہے ایسے مواقع پر ” جنگ “ کے معنی میں آ تا ہے ، متعدد قرینے بھی خود آیت میں اسی معنی پرگواہ ہیں، جیسے ” قید یوں کی اسارت “ ،” حرب“ (جنگ ) کالفظ اور ” را ہ خدامیں مارا جانا“ وغیرہ ۔ قصّہ مختصر یہ کہ ” لقاء “ کبھی تو ہر قسم کی ملاقات کے لیے استعمال ہوتا ہے اور کبھی میدان جنگ میں دشمن سے مڈ بھیڑ کے لیے اورقرآن مجید میں بھی دونوں معانی کے لیے استعمال ہوا ہے ، اور زیر نظر آیات میں دوسرے معنی کے لیےاستعمال ہوا ہے ۔ یہیں سے یہ بات بھی بخوبی واضح ہوجاتی ہے کہ جولوگ اسلام کے خلاف پر وپیگنڈا کی غرض سے آیت کادوسرے انداز میں معنی کرتے ہیں کہ اسلام کہتا ہے ” جب تم کسی کافر کے آمنے سامنے آجاؤ تو اس کی گردن اڑادو “ بد نیتی اور خود غرض کے سوا اور کچھ نہیں ہے جبکہ یہی آیت صراحت کے ساتھ میدان جنگ میں مڈ بھیڑ ہونے کی بات کررہی ہے۔ ظا ہر ہے کہ جب انسان میدان جنگ میں کسی خونخوار کاسامنا کرتا ہے تو اگر پُورے عزم اور دوٹوک اندازمیں دشمن پرسخت اور تابڑ توڑ حملے نہ کرے اوراس پر کاری ضربیں نہ لگائے توخودفنا ہوجائے اوریہ ایک صحیح اور بالکل منطقی حکم ہے ۔ پھرفر مایاگیا ہے : یہ کاری ضربیں ان پربرابر جاری رکھو ، یہاں تک کہ دشمن کاستیاناس کردو اوران کوگھٹنے ٹیکنے پرمجبور کردو ، ایسے میں قیدیوں کی گرفتاری کاکا م کرو اورانہیں خوب باندھ لو (حَتَّی إِذا اٴَثْخَنْتُمُوہُمْ فَشُدُّوا الْوَثاق) ۔ ” اٴَثْخَنْتُمُوہُم“ ” ثخن “( بروزن ”شکن“ ) ٹھوس اورسخت ہونے کوکہتے ہیں ، اسی لیے اس کا اطلاق دشمن پر مکمل فتح وکامرانی، واضح غلبہ اور مکمل تسلط حاصل کرلینے پرہوتا ہے ۔ اگرچہ اکثرمفسرین نے اس کو” دشمن کوکثرت اور شدت کے سات کرنے کے معنی میں لیا ہے ، لیا ہے جیساکہ ہم ابھی بتاچکے ہیں یہ اس کالغوی معنی نہیں ہے ،لیکن چونکہ بعض اوقات جب تک دشمن کوزبردست اورسیع پیمانے پر قتل نہ کردیاجائے اس وقت تک خطرہ ٹلتا نہیںہے ۔ لہذا ان حالات میں قتل کرنا اس کا ایک مصدا ق توہوسکتا ہے اس کا اصل مفہوم نہیں ہے ( ۲) ۔ بہرحال مندرجہ بالا آیت ایک نہایت حساب جنگی حکمت عملی بیان کررہی ہے کہ جب تک دشمن کازور پوری طرح ٹوٹ نہ جائے اس وقت تک جنگی قید ی بنانے کا اقدام نہ کیاجائے ، کیونکہ اس اقدام سے بعض اوقات مسلمانوں کے میدان جنگ میں پاؤں اکھڑجانے کا احتمال ہوتا ہے اور جنگی قیدیوں کی گرفتاری اورانہیں محاذ سے پیچھے منتقل کرنے کی وجہ سے اصل کی ادائیگی سے رہ جانے کا اندیشہ ہوتا ہے ۔ ”فَشُدُّوا الْوَثاق “ کی تعبیر (اس بات کے پیش نظر کہ ” وثاق “ رسی یا ہراس چیزکوکہتے ہیں جس سے کسی چیز کو باندھاجائے ) جنگی قیدیوں کواچھی طرح باندھنے کی طرف اشارہ ہے مبادا کوئی قیدی موقع مِلنے پراپنے آپ کوچھڑا لے اورکوئی زبردست نقصان پہنچادے ۔ بعد کے جُملے میں جنگی قیدیوں کے بارے میں حکم بیان کیاجارہا ہے کہ جنگ کے خاتمے کے بعدان کے ساتھ کیاسلوک کیاجائے ؟ ارشاد فر مایا گیا ہے : یاتوان پراحسان کرو اورکسی معاد ضے کے بغیر انہیں چھوڑ دویا پھران سے فدیہ اورمعاضہ لے کر رہا کردو (فَإِمَّا مَنًّا بَعْدُ وَ إِمَّا فِداء) ۔ اس طرح سے جنگی قیویوں کوجنگ کے خاتمہ کے بعد قتل نہ کرو ، بلکہ اسلامی رہنما مصلحت کے پیشِ نظر یاتوا ان سے معاوضہ لے کرانہیں چھوڑ دے یامعاوضہ لیے بغیر انہیں رہا کردے اور یہ معاوضہ درحقیقت ایک قسم کاجنگی تاوان ہے جو دشمن کوادا کرناپڑتا ہے ۔ البتہ اس سِلسلے میں اسلام کا ایک تیسراحکم بھی ہے وہ یہ کہ ان قیدیوں کوغلام بنالیاجائے ،لیکن یہ ایک لازمی حکم نہیں ہے ، بلکہ مسلمانوں کے سر برا ہ کی مرضی پرمنحصر ہے کہ وہ خاص حالات اور زمان ومکان کی مصلحت کے پیشِ نظر اس حکم پرعمل درآمدضروری سمجھتا ہو ، شاید اسی لیے قرآنی متن میں اس کاصراحت کے ساتھ حکم نہیں آیا ،صرف اسلامی روایا ت میں ذِکر کیاگیا ہے ۔ ہمارے مشہور فقیہ ” فاضل مقدار “کنزالعرفان “ میں فرماتے ہیں : ” اگرجنگ کے خاتمے پرکوئی قیدی پکڑا جائے تومسلمانوں کے امام کوان تین امور میں سے کسِی ایک کو اختیار کرنے کی اجازت ہے : ۱۔غیرمشر وط طورپر اسے چھوڑ دے ۔ ۲۔ فدیہ اور معاوضہ لے کراسے رہاکرد ے۔ ۳۔ اِسے غلام بنا لیاجائے اورکسی بھی صورت میں اسے قتل کرناجائز نہیں ۔ اورایک اور مقام پر فرماتے ہیں : غلام بنانے کامسئلہ روایات سے توثابت ہے ، لیکن قرآن کی کِس آیت سے ثابت نہیں ہے ( ۳) ۔ یہ مسئلہ دوسری فقہی کتابوں میں بھی درج ہے ( ۴) ۔ ” غلامی “ کی بحث کے سلسلے میں انہی آیات کے ضمن میں ہم اس بات کی طرف بھی اشارہ کریں گے ۔ اسی آیت کوآگے بڑھاتے ہُوئے فر مایاگیا ہے : یہ صُورت حال ا س وقت تک جاری رہے اور دشمنوں پر اس وقت تک کاری ضربیں لگاتے رہو اور کچھ لوگوں کوجنگی قیدی بنالو ، یہاں تک کہ جنگ اپناسنگین بُوجھ زمین پررکھ دے (حَتَّی تَضَعَ الْحَرْبُ اٴَوْزارَہا)( ۵) ۔ جنگ سے صرف اس وقت ہاتھ اُٹھ ؤ جب دشمن کی تمام توانا ئیاںختم ہوجائیں اور جنگ کی آگ بُجھ جائے ۔ ” اوزر “” وزر “کی جمع ہے جس کا معنی ” سنگین بوجھ “ہے ، اور بعض اوقات اس کا اطلاق ” گنا ہوں “ پر بھی ہوتا ہے ، کیونکہ وہ بھی توگنا ہگاروں کے کندھے کے بوجھ کی حیثیت رکھتے ہیں ۔ قابلِ توجہ بات یہ ہے کہ اس آیت میں اس سنگین بوجھ کی نسبت جنگ کی طرف دی گئی ہے۔ فر مایاگیا ہے :جنگ اپناسنگین بوجھ ان کے کندھوںپر رہتا ہے ۔ لیکن اسلام اور کفُر کے درمیان جنگ کب ختم ہوگی ؟یہ ایک ایساسوال ہے ، جس کے بارے میں مفسرین نے مختلف جوابات دیئے ہیں ، ابن عباس اور بعض دوسرے حضرات نے کہا ہے کہ یہ جنگ اس وقت تک جاری رہے گی جب تک روئے زمین پرایک بھی بُت پرست باقی اور شرک موجود ہے ۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اسلام اورکفر کے درمیان جنگ میں اس وقت تک جاری ہے جب تک مُسلمان ” دجال “ پرغلبہ حاصل نہ کرلیں ، انہوں نے اس نظر یئے کا استدلال پیغمبر اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اس فرمان سے کیا ہے : ” والجھادماض مد بعثنی اللہ الیٰ یقا تل اٰخرامتی الدجال “۔ جب سے خدا نے مجھے مبعُوث فرمایا ہے اس وقت سے لے کرتب تک جہادجاری رہے گی جب تک میری اُمّت کا آخر ی شخص وجال سے لڑ تارہے گا “( ۶)۔ وجال کے بارے میں ایک لمبی چوڑی بحث ہے،لیکن اس حد تک ضرور معلوم ہے کہ وجال ایک یاکئی مکار انسان ہیں جوآخری زمانے میںلوگوں کواصول توحید اورحق وعدالت کی را ہوں سے ہٹانے میں سرگرم عمل ہوں گے اورحضرت امام مہدی علیہ السلام اپنی عظیم طاقت کے ذریعے انہیں صفحہ ہستی سے مٹال دیں گے ۔ اس طرح جب تک وجال روئے زمین پرموجُود ہیں ، حق اور باطل کی معر کہ آرائی جاری ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اسلام کی کُفر کے ساتھ دوطرح کی معر کہ آرائی جاری ہے ، ایک محدُود اورقلیل المعیاد جیسے پیغمبراسلام (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے غزوات جوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)نے اپنے دشمنوںسے کئے اورہرجنگ کے بعد تلواریں نیا موں میںچلی جاتیں اور دوسری مسلسل اور طویل المعیار جوشرک ،کفر، ظلم ، برائی اور فتنہ وفساد کے خلاف ہے اوریہ سلسلہ حضرت اورامام مہدی علیہ السلام کے ذ ریعے عالمی سطح پر عدل وانصا ف کی حکومت کے قائم ہونے تک جاری رہے گا۔ پھرفر مایا گیا ہے :تمہاری صورتِ حال یہی ہونی چا ہیئے(ذا لِکَ)(۷) ۔ اوراگر خداچا ہتا توان سے کئی اور طریقے سے انتقام لے لیتا،(وَ لَوْ یَشاء ُ اللَّہُ لاَنْتَصَرَ مِنْہُم ) ۔ آسمانی بجلیوں، زلزلوں، آند ھیوں اور دوسری آفات کے ذریعے سے ، تا ہم اس صورت میں آ ز مائش وامتحان کی بات ختم ہوجاتی ، ” لیکن خداچا ہتا ہے کہ تمہاری ایک دوسر ے کے ذریعہ آزمائش کرے “ (وَ لکِنْ لِیَبْلُوَا بَعْضَکُمْ بِبَعْض) ۔ جنگ کاحقیقی فلسفہ اورحق وباطل کی معرکہ آرائی کا اصل نکتہ بھی یہی ہے ، جنگوں میں حقیقی مومنین کی صفیں غیر حقیقی مومنین سے جدا ہوجاتی ہیں اور کر دار کے غازی گفتار کے غازیوںسے جدا ہوجاتے ہیں،صلاحیتیںپروان چڑھتی ہیں، استقامتاور پامردی کا احیا ہوتا ہے او ر دنیامیںزندگی بسرنے کا اصل مقصد حاصل ہوتا ہے ، یعنی قوّتِ ایمان کوپرورش ہوتی ہے اورانسانی اقدار کاصحیح معنوں میں احیاء ہوتا ہے ۔ اگر موٴ منین ایک گوشے میں بیٹھ کراپنے معمولی کی زندگی بسرکرنے میں لگ جاتے اور جب بھی مشر کین اور ظالموں کاکوئی لشکر مسلمانوںپرحملہ کرتا اور خدا غیب کی را ہوں اور معجزے کے ذ ریعے انہیں تبا ہ و برباد کردیتا تومعاشر ے کی کوئی قدرو قیمت نہ ہوتی ، معاشر ے میں ٹھہراؤ سُستی ،کمزوری اور کاہلی وجود میں آ جاتے اوراسلام وایمان صرف نام کی حد تک ہوتے ۔ خلاصتہ الکلام یہ کہ اللہ کواپنے مقد س دین کے استقلال کے لیے ہماری جنگ و جدال کی ضر ورت نہیں ہے ، بلکہ ہم خُود ، دشمن کے مقابلے میں تربیّت پاتے ہیں اور ہمیں اس مقدس جنگ کی ضرورت ہے ۔ یہی قرآن مجید کی دوسری آیات میں دیگر صورتوں میں بیان ہوا ہے ، مثلاً ”اٴَمْ حَسِبْتُمْ اٴَنْ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ وَ لَمَّا یَعْلَمِ اللَّہُ الَّذینَ جا ہدُوا مِنْکُمْ وَ یَعْلَمَ الصَّابِرین “ ’ ’ کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ تم صرف ایمان کے خالی دعوو ں سے بہشت میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی تک خدانے تم میں سے مجا ہدین اور صابرین کو معیّن نہیں کیا ہے ( اٰل عمران /۱۴۲) ۔ اس سے پہلی آیت میں ہے ” وَ لِیُمَحِّصَ اللَّہُ الَّذینَ آمَنُوا وَ یَمْحَقَ الْکافِرین“ مقصد یہ ہے کہ خدا (ان جنگوں کے سایے میں)مومنین کوخالص کرے اور کفّار کونیست ونابُود کرے ۔ زیرتفسیر آیت کے آخر ی جُملہ میں ان شہیدوں کاتذکرہ ہے جوایسی جنگوں میں اپنی شیر ین زندگی کوقربان کرتے ہیں اوراسلامی معاشرے پران کا بہت بڑاحق ہے ، ارشاد ہوتا ہے : اورجولوگ خداکی را ہ میں مارے گئے ہیں خدا ان کے اعمال کوہرگز اکارت نہیں کرے گا (وَ الَّذینَ قُتِلُوا فی سَبیلِ اللَّہِ فَلَنْ یُضِلَّ اٴَعْمالَہُم) ۔ ان کی فداکار یوں کے آثار باقی رہ جاتے ہیں ” لا الہٰ الا اللہ“کی جوبھی صدا سُنائی دیتی ہے انہی کی تکلیفوں کاثمرہ ہے جو مسلمان بھی اللہ کی بارگاہ میں سربسجود ہوتا ہے توان کی فدا کار یوں کی برکت سے ہے، غلامی کی زنجیر یں ان کے مصائب جھیلنے سے ٹوٹتی ہیں اور مسلمانوں کی عزّت و آبرو بھی انہی کی مرہونِ مِنّت ہے ۔ شہدا پر خدا کی یہ ایک عنایت ہے ۔ تین اور عنایتوں کاتذکرہ بعد کی آیا ت میں ہوتا ہے ۔ سب سے پہلے فر مایاگیا ہے : اللہ انہیں ہدایت کرے گا (سَیَہْدیہِمْ ) ۔ بلندمرتبہ مقامات ،عظیم کامیابی اور رضوان الہٰی کی طرف ہدایت ۔ دوسری عنایت یہ کہ ” ان کے حالات سنوار د ے گا “ (وَ یُصْلِحُ بالَہُم) ۔ اللہ انہیں تسکین ، اطمینان ِ خاطر اور روحانی سردرفرماتا ہے ، فرشتوں کے ہم آہنگ صفائے باطن اور روحانی مدارج سے نواز تا ہے جوان کے ہمدم ہوتے ہیں ۔ اوراپنی رحمت کے جوار میں انہیں اپنی ضیا فت میں بلاتا ہے ۔ آخر ی عنایت یہ ہے کہ ” انہیں اپنی جاودانی بہشت میں داخل کرے گا جس کے اوصاف انہیں پہلے بتارکھے ہیں (وَ یُدْخِلُہُمُ الْجَنَّةَ عَرَّفَہا لَہُمْ ) ۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ انہیں بہشت بریں اورمقامِ رضوان کے صرف کلی اوصاف ہی سے آگاہ نہیں کرتا ، بلکہ بہشت کے محلات کی علامتوں اور نشانیوںسے بھی مکمل طورپر آگاہ کردیتا ہے ، اس حد تک کہ جب بھی وہ بہشت میں داخل ہوں گے سیدھے اپنے اپنے محلات میں چلے جائیں گے ( ۸) ۔ بعض مفسرین نے ” غرّ فھا“کی ” عِرف “(بروزن ” فِکر “ )عطر اورخوشبُو، کے معنی سے تفسیر کی ہے ، یعنی خدا انہیں ایسی بہشت میں پہنچائے گا جو مہمانوں کے لیے سراسر معطر ہوگی ۔ لیکن پہلی تفسیرزیادہ مناسب معلوم ہوتی ہے۔ بعض مفسرین کہتے ہیں کہ اگران آیات کو ” “ ( آل عمران / ۱۶۹ ) کے ساتھ ملا دیں تویہ نتیجہ نکلے گاکہ ” اصلاح بال “سے مراد وہی جاودانی زندگی ہے ، جس کے سائے میں شہدائے را ہ ِ خدا پر دے اور حجابا ت ہٹ جانے کے بعد اپنے رب کے حضور شرف یابی کے لیے تیارہوںگے ( ۹) ۔ ۱۔ ”ضرب “ مصدر ہے اورایک فعل مقدر کامفعول مطلق ہے ، جس کی تقدیریوں ہے ” اضربواضرب الرّقاب“ جیساکہ سُورہ انفال آیت ۱۲ میں اس کی تصریح کی گئی ہے کہ ” فاضربو افوق الا عناق “۔ ۲۔” لسان العرب “ میں ” ابن اعرابی “ سے نقل کیاگیا ہے کہ ” اثخن اذا غلب وقھر“ قہرو غلبہ کے معنی میں ہے ۔ ۳۔کنز العرفان جلد۱صفحہ ۳۶۵۔ ۴۔” شرائع الاسلام “ کتاب الجہاد ،و” شرح لمعہ “ احکام ِغنیمت۔ ۵۔” حتٰی“” فضرب الرقاب “کے لیے غایب ہے ، اس بارے میں اور بھی بہت سے احتمالات بیان کیے گئے ہیں جوقابل اعتنا نہیں ہیں ۔ ۶۔مجمع البیان جلد۹،صفحہ ۹۸۔ ۷۔” ذا لِکَ“ ایک محذوف مبتداء کی خبر سے جو تقدیری طورپر یُو ہے ”الا مرذ الک “ ۔ ۸۔مجمع البیان جلد۹،ص ۹۸۔ ۹۔المیزان جلد۱۸،ص ۲۴۴۔