إِنَّ الَّذِينَ تَوَفَّاهُمُ الْمَلَائِكَةُ ظَالِمِي أَنفُسِهِمْ قَالُوا فِيمَ كُنتُمْ قَالُوا كُنَّا مُسْتَضْعَفِينَ فِي الْأَرْضِ قَالُوا أَلَمْ تَكُنْ أَرْضُ اللَّهِ وَاسِعَةً فَتُهَاجِرُوا فِيهَا فَأُولَئِكَ مَأْوَاهُمْ جَهَنَّمُ وَسَاءَتْ مَصِيرًا
Indeed, those whom the angels take away while they are wronging themselves, they ask, ‘What state were you in?’ They reply, ‘We were oppressed in the land.’ They say, ‘Was not Allah’s earth vast enough so that you might migrate in it?’ The refuge of such shall be hell, and it is an evil destination.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:97
[Pooya/Ali Commentary 4:97] Mustad-afin are those who neither let their disbelief lose its grip over them nor try to find a way leading to the right path. Their abode is hell-an evil destination. If the proper observation of the obligations of the faith is not possible in the land of one's birth and dwelling, one can migrate to some other place on Allah's wide and spacious earth.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:97-99
شانِ نزول
جنگ بدر کی ابتدا سے قبل سر داران قریش نے یہ خطر ناک اعلان کیا تھا کہ مکہ کے تمام رہنے والے جو میدان جنگ میں شرکت کرنا چاہتے ہیں ، مسلمانوں سے جنگ کرنے لئے نکل کھڑے ہو ں اور جو اس کام کی مخالفت کرے گا اس کا گھر ویران کردیاجائے گا اور اس کامال ضبط کرلیا جائے گا اس دھمکی کے بعد کچھ افراد جو بظاہر ایمان لاچکے تھے لیکن اس کے ساتھ ساتھ انھیں گھر اور مال و متاع انتہائی عزیز تھا وہ ہجرت کے لئے تیار نہ ہوئے او ربت پرستوں کے ساتھ میدان جنگ کی طرف چل پڑے میدان جنگ میں انھوں نے مشرکین کا ساتھ دیا وہ مسلمانوں کی کم تعداد کو دیکھ کر شک و شبے میں مبتلا ہو گئے اورآخر کار میدانِ جنگ میں قتل ہو گئے درج بالا آیت اسی ضمن میں نازل ہو ئی جس میں ان کا عبرت ناک انجام بیان کیا گیا ہے ۔ تفسیر جہادسے متعلق مباحث کے بعد ان آیات میں ایسے لوگوںکے عبرت ناک انجام کی طرف اشارہ کیا گیا جو اسلام کا دم بھر تے تھے لیکن انھوں نے اسلام کے اہم لائحہ حمل یعنی ” ہجرت“ کو حملاً نظر انداز کئے رکھا جس کے نتیجے میں وہ خطر ناک وادیوں میں پہنچ گئے او رمشرکین کی صفوں میں شامل ہوکر انھوں نے جانیں گنوادیں قرآن کہتا ہے : وہ لوگ کہ ( قبض روح کرنے والے ) فرشتوں نے جن کی روح اس حالت میں قبض کی کہ جب انھوں نے اپنے آپ پر ظلم کررکھا تھا انھوں نے ان سے پوچھا کہ اگر تم لوگ مسلمان تھے تو پھر کفار کی صفوں میں شامل ہو کر تم نے مسلمانوں سے کیوں جنگ کی (إِنَّ الَّذینَ تَوَفَّاہُمُ الْمَلائِکَةُ ظالِمی اٴَنْفُسِہِمْ قالُوا فیمَ کُنْتُمْ) ۔ وہ جواب میں معذرت خواہی سے کہتے ہیں : ہم اپنے ماحول میں جبر اور دباوٴ میں تھے اس لئے ہم فرمان الہٰی پر عمل کی طاقت نہیں رکھتے تھے ( قالُوا کُنَّا مُسْتَضْعَفینَ فِی الْاٴَرْضِ) ۔ لیکن ان کی یہ معذرت قابل ِ قبول نہ ہوگی اور فوراً وہ خدا کے فرشتوں سے یہ جواب نسیں گے کہ کیا پروردگار کی زمین وسیع و عریض نہ تھی کہ تم ہجرت کرتے اور اپنے آپ کو اس آلودہ اور گھٹے ہوئے ماحول سے نکال کر لے جاتے( قالُوا اٴَ لَمْ تَکُنْ اٴَرْضُ اللَّہِ واسِعَةً فَتُہاجِرُوا فیہا ) آخر میں اس کے انجام کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے : اس قسم کے لوگ جنھوں نے بیکار عذر داری اور ذاتی مصلحت اندیشوں کے سبب ہجرت نیہں کی اورانھوں نے اس گھٹے ہوئے ماحول میں زندگی گذارنے کو ترجیح دی ہے ان کا ٹھکا نہ جہنم ہے اور وہ بہت برا انجام ہے (فَاٴُولئِکَ مَاٴْواہُمْ جَہَنَّمُ وَ سائَتْ مَصیراً ) ۔ بعد والی آیت میں مستضعفین ، حقیقی کمزور اور عاجز افراد ( نہ کہ جھوٹے مستضعفین ) کے استثناء کے ساتھ فرماتا ہے : وہ مرد عورتیں اور بچے جو اس گھٹن زدہ ماحول سے نکلنے کا وئی راستہ نہیں پاتے وہ اس حکم سے مستثنیٰ ہیں کیونکہ یہ لوگ حقیقتاً معذور ہیں اور یہ ممکن نہیں کہ خدا ناقابل حمل ذمہ داری لاگو کردے(إِلاَّ الْمُسْتَضْعَفینَ مِنَ الرِّجالِ وَ النِّساء ِ وَ الْوِلْدانِ لا یَسْتَطیعُونَ حیلَةً وَ لا یَہْتَدُونَ سَبیلاً ) ۔ آخری آیت میں فرماتا ہے : ہوسکتا ہے عفو خداوندی ان کے شامل حال ہو اور خدا ہمیشہ سے معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے (فَاٴُولئِکَ عَسَی اللَّہُ اٴَنْ یَعْفُوَ عَنْہُمْ وَ کانَ اللَّہُ عَفُوًّا غَفُوراً ) ۔ یہ بھی سوال پیدا ہوسکتا ہے کہ اگر یہ افراد حقیقتاً معذور ہیں تو پھر کیوں نہیں فرماتا کہ خدا حتماً او ریقینا انھیں بخش دے گا وہ تو کہتا ہے ” عسیٰ “ ( شاید ) اس سوال کا جواب وہی ہے جو اس سورہ کی آیت۸۴ کے ذیل میں بیان ہو چکا ہے کہ اس طرح کی تعبیروں سے مراد کیا ہے ۔ اس آیت میں مذکورحکم چند شرائط کے ساتھ آیا ہے جن پر غور کرنے ضرورت ہے ۔ خدا اس قسم کے افراد سے عفو کرتا ہے جنھوں نے موقع ملنے پر ہجرت کے عمل سے تھوڑی سی کوتا ہی بھی نہ کی ہو ۔ اصطلاح کے مطابق اس کام کے ضمن میں کوئی کسر نہ چھوڑی ہو اور اب بھ موقع ملتے ہی ہجرت کرنے پر آمادہ اور تیار ہوں۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:97-99
چند اہم نکات
۱۔ روح کی استقامت اس آیت میں موت کی بجائے” توفیّٰ“ کا لفظ حقیقت میں اس نکتہ کی طرف اشارہ ہے کہ موت کا معنی نابود او رفنا ہونا نہیں ہے بلکہ ایک قسم کی” فرشتوں کی ایک جماعت اور روح انسانی کو پالینا“ ہے یعنی وہ اس کی روح کو جوکہ اس کے وجود کا سب سے بنیادی حصہ ہے نکال کر ایک دوسرے جہان میں لے جاتے ہیں ایسی تعبیر جو قرآن میں بار ہا آئی ہے در اصل قرآن مجید کا اس امر کی طرف ایک واضح ترین اشارہ ہے کہ موت کے بعد باقی رہتی ہے اس کی تفصیل مختلف آیات میں مناسب موقع پر آتی رہے گی یہ جواب ان لوگوں کے لئے ہے جو کہتے ہیں کہ قرآن نے روح کا کہیں ذکر نہیں کیا۔ ۲۔ روح قبض کرنے والے ، ایک یا ایک ست زائد فرشتے قرآن میں کئی ایک مقامات ( ۱۲ مقامات) ہیں جن میں ”توفیّٰ“ ۱ اور موت کا تذکرہ ہے اس کا مطالعہ کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ روح قبض کرنے کے لئے ایک ہی فرشتہ متعین نہیں کیا گیا بلکہ بہت سے فرشتوں کے ذہ یہ کام ہے جو لوگوں کی ارواح کو اس جہاں سے دوسرے جہان میں لیجانے پر مامور ہیں ۔ درج بالا آیت میں فرشتوں کا ذکر جمع کے صیغے( الملائکہ ) کے ساتھ آیا ہے ۔ یہ بھی اس امر کا گواہ ہے سورہ انعام کی آیت ۶۱ میں ہے : حتی اذا جاء احدکم الموت توفتہ رسلنا ” جب تم میں سے کسی ایک کی موت کا وقت آتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے ( فرشتے) اس کی روح قبض کرتے ہیں “۔ اب اگر ہم دیکھیں کہ بعض آیات میں یہ امر ملک الموت( موت کا فرشتہ) سے منسوب کیا گیا ہے ۲ تو وہ اس مفہوم میں ہے کہ وہ ان تمام فرشتوں کو سر دار ہے جو ارواح قبض روح کرنے پر مامور ہیں اور اسی فرشتے کو احادیث میں ” عزرائیل“ کے نام سے یا کیا گیا ہے اس بناپر جب لوگ سوال کرتے ہیں کہ ایک فرشتہ کس طرح ایک ہی وقت میں تمام مقامات پر حاضر ہو کر انسانوں کی روح قبض کرتا ہے تو اس کا جواب اس بیان سے واضح ہوجاتا ہے ۔ اس کے علاوہ اگر فرض کریں کہ اور فرشتے نہیں ہیں اور صرف ایک فرشتہ ہے پھر بھی کوئی مشکل پید انہیں ہوتی کیونکہ اس کا اکیلا ہونا اس بات کی دلیل ہے کہ اس کا دائرہ کا ر بہت وسیع ہے کیونکہ ایک ایسا وجود جو مادے سے نہ بنا ہو اس کا میں مادی اشیاء کی نسبت وسیع احاطہ کرنے کی صلاحیت موجود ہے جیسا کہ ایک حدیث میں ملک الموت کے بارے میں امام صادق (علیه السلام) سے منقول ہے کہ جب پیغمبر اکرم نے ملک الموت سے اس جہان پر احاطہ رکھنے کے بارے میں سوال کیا تو اس نے کہا: مالدنیا کلھا عندی فیما سخرھا اللہ لی ومکنتی علیھا الاکلدرھم فی کف الرجل یقبلہ کیف یشائ یہ جہاں اور جو کچھ اس میں ہے اس تسلط اور احاطہ کے لحاظ سے جو خدا نے مجھے بخشا ہے میرے نزدیک اس درہم ( روپیہ) کی مانند ہے جو کسی شخص کے ہاتھ میں ہو کر کہ جس طرح چاہے الٹ پھیر کردے ۔ 3 بعض آیات میں روح قبض کرنے کا تعلق خداسے وابستہ کیا گیا ہے ۔ مثلاً ” اللہ یتوفی الانفس حین موتھا“ ” خدا موت کے وقت جانوں کو قبض کرتا ہے “ ( سورہٴ زمر ۴۲) یہ گذشتہ آیات سے متضاد نہیں کیونکہ جن معاملات میں کام واسطوں کے ذریعے ہوتے ہیں وہاں بعض اوقات کاک کی نسبت وسیلوں کی طرف دی جاتی ہے او رکبھی اس طرف کہ جا اسباب اور وسیلے پیدا کرتا ہے دونوں نسبتیں صحیح ہیں بہتر نظریہ یہ ہے کہ دنیا کے بہت سے حوادث کی نسبت قرآن مجید میں فرشتوں کی طرف دی گئی ہے جو خدا کی جانب سے عالم ہستی میں مامور ہیں ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ فرشتہ ایک وسیع معنی رکھتا ہے اور اس مفہوم میں عاقل مجرد موجودات سے لے کر طبعی توانائیاں تک شامل ہیں ۔ ۳۔ مستضعف کون ہے ؟ آیات قرآن اور روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ جو افراد فکری ، جسمانی یا اقتصادی طور پر اتنے ضعیف او رکمزور ہوں کہ حق و باطل میں تمیز نہ کر سکیں یا جو با وجود صحیح عقیدہ کھنے کے جسمانی یا مالی طور پر کمزوری کے باعث یا معاشرے کی نارواپابندیوں کے سبب اپنے فرائض ادا نہ کرسکتے ہوں اور نہ ہی ہجرت کے قابل ہوں انھیں مستضعف کہتے ہیں ۔ حضرت علی (علیه السلام) سے منقول ہے کہ آپ(علیه السلام) نے فرمایا: ولا یقع اسم الاستضعاف علی من بلغة الحجة فسمعتھا اذنہ ووعا ھا قلبہ۔ ” وہ شخص مستضعف نہیں ہے جس پر حجت تمام ہو چکی ہو اس نے حق کو سنا ہو اور اس کے ذہن نے اس کا ادراک کیا ہو“۔4 امام موسی ٰ بن جعفر (علیه السلام) سے پوچھا گیا: مستضعف کون ہے ؟ امام نے اس سوال کے جواب میں تحریر فرمایا: الضعیف من لم ترفع لہ حجة ولم یعرف الاختلاف فاذا عرف الاختلاف فلیس بضعیف۔ مستضعف وہ شخص ہے جس تک حجت اور دلیل نہ پہنچی ہو او روہ ( مذاہب اور عقائد کے بارے میں ) موجود اختلاف کو نہ سمجھ سکا ہو (جوکہ محرک تحریک ہے)اور اس چیز کو سمجھ چکا ہو وہ مستضعف نہیں ہے “۔( نور الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۹) واضح ہے کہ اوپر والی دونوں احادیث میں مستضعف فکری اور عقیدہ کے لحاظ سے ہے لیکن زیر بحث آیت میں او راسی سورہ کی آیہ ۷۵ میں جو بیان ہو چکی ہے مستضعف سے مراد عملی مستضعف ہے یعنی وہ شخص جس نے حق کی تشخیص کرلی ہو لیکن ماحول کا جبر اور گھٹن اسے عمل کی اجازت نہ دیتا ہو ۔ ۱۰۰۔وَ مَنْ یُہاجِرْ فی سَبیلِ اللَّہِ یَجِدْ فِی الْاٴَرْضِ مُراغَماً کَثیراً وَ سَعَةً وَ مَنْ یَخْرُجْ مِنْ بَیْتِہِ مُہاجِراً إِلَی اللَّہِ وَ رَسُولِہِ ثُمَّ یُدْرِکْہُ الْمَوْتُ فَقَدْ وَقَعَ اٴَجْرُہُ عَلَی اللَّہِ وَ کانَ اللَّہُ غَفُوراً رَحیماً ۔ ترجمہ ۱۰۰۔ اور جو شخص راہ خدا میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں بہت سے اور وسیع امن کے خطے پالے گا او رجو شخص اپنے شہر سے خدا اور اس کے رسول کی طرف ہجرت کرے پھر اسے موت آجائے تو اس کا اجر و ثواب خد اپر ہے اور خدا بخشنے والا او رمہر بان ہے ۔ تفسیر ۱”توفیّ“ کے معنی کے سلسلہ میں تفسیر نمونہ جلد دوم صفحہ ۳۴۱ کی طرف مراجعہ فرمائیں اردو ترجمہ ۲۔سورہٴ سجدہ آیت ۱۱ 3۔تفسیر برہان جلد ۲ صفحہ ۲۹۱ آیت ۱ سورہ اسرا کے ذیل میں ۔ 4۔نو ر الثقلین جلد اول صفحہ ۵۳۶۔