وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ أَن يَقْتُلَ مُؤْمِنًا إِلَّا خَطَأً وَمَن قَتَلَ مُؤْمِنًا خَطَأً فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ إِلَّا أَن يَصَّدَّقُوا فَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ عَدُوٍّ لَّكُمْ وَهُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ وَإِن كَانَ مِن قَوْمٍ بَيْنَكُمْ وَبَيْنَهُم مِّيثَاقٌ فَدِيَةٌ مُّسَلَّمَةٌ إِلَى أَهْلِهِ وَتَحْرِيرُ رَقَبَةٍ مُّؤْمِنَةٍ فَمَن لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ تَوْبَةً مِّنَ اللَّهِ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا
A believer may not kill another believer, unless it is by mistake. Anyone who kills a believer by mistake should set free a believing slave, and pay blood-money to his family, unless they remit it in charity. If he belongs to a people that are hostile to you but is a believer, then a believing slave is to be set free. And if he belongs to a people with whom you have a treaty, the blood-money is to be paid to his family and a believing slave is to be set free. He who cannot afford [to pay the blood-money], must fast two successive months as a penance from Allah, and Allah is all-knowing, all-wise.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 4:92
[Pooya/Ali Commentary 4:92] Aqa Mahdi Puya says: If ma kana is translated as "unlawful" then the following exception (by mischance) is cut off, not included in its antecedent, therefore, this clause has been translated as in verse 60 of al-Naml, because the exception remains real; and the expression becomes more emphatic. If a believer takes another believer's life by mistake or mischance, the ransom or redemption (money) to be paid, in different cases, have been mentioned in this verse. Ayash bin Rabiyah, the step-brother of Abu Jahl and Harith, had become a Muslim before hijrat, but kept it a secret. One day, unnoticed, he left Makka to join the Muslims in Madina. His mother raised a hue and cry to bring back her son. Harith, at once, went after Ayash and caught him just on the outskirts of Madina. He convinced him that no one would harm him if he returned to Makka with him. When they came back, Ayash was flogged and was thrown on burning sand, his hands and legs tightly tied with a rope. To escape torture he renounced his faith in Islam but avowed to kill Harith. As soon as he got a chance, he slipped out and reached Madina as a Muslim. It so happened that Harith also became a Muslim and lived in Madina. Ayash was not aware of this fact, therefore, when he saw Harith in Madina, he killed him to take his revenge. When people told him that he had killed a believer, he immediately went to the Holy Prophet and told him that he was ashamed of his act and pleaded for acceptance of his repentance. Then this verse was revealed (Minhajus Sadiqin, Umdatul Bayan).
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 4:92-96
(a) If a faithful intentinally kills a faithful, but not knowing it is unlawful, will not be permanently hell. (b) If they think it lawful and kills will be a permanent resident of Hell. (d) If they repent they would not be in Hell permanently, since on referring to Imam al-Sadiq, a faithful killing a faithful, have they penance? He said, “If they have killed on faither, there is o penace for them. If they have done in anger, or to seek worldly benefit – their punishment is they shall be killed, else be taken to the inheritorsy of the slain if they pardon they should pay blood money, and redeem a faithful slave and observe two monts of fasting and feed 60 paupers, but it is a major sin.” The Prophet said it is a greater sin than destruction of the whold world before God and if humanity of Heavens and Earth are involved in killing him – God shall hurl all in hell.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:92
قتل اشتباہ کے احکام
دشمنوں کو منافقین کہہ کر قتل نہ کر دیں یا لاپرواہی سے کسی بے گناہ کا خون نہ بہا دیں ۔ اس آیت میں اور بعد والی آیت میں قتل اشتباہ اور قتل عمد کے احکام بیان ہوئے تاکہ قتل جو اسلام کے نذدیک نہایت سنگین معاملہ ہے اس کے بارے میں تمام لازمی پہلو وٴں کو ملحوظ نظر رکھا جائے ۔ اس آیت کی ابتدا میں کہ جس میں قتل اشتباہ کا ذکر ہے فرماتا ہے : کسی مومن کو یہ حق نہیں پہنچتا کہ کسی صاحب ایمان شخص کو قتل کرے مگر یہ کہ اشتباہ میں ایسا ہو جائے (وَ ما کانَ لِمُؤْمِنٍ اٴَنْ یَقْتُلَ مُؤْمِناً إِلاَّ خَطَاٴ) ۔ حقیقت میں یہ تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اصولی طور پر کوئی مومن یہ نہیں چاہتا کہ اپنے ہاتھ کسی بے گناہ کے خون سے رنگین کرے، کیونکہ حریم ایمان میں تمام افراد ایک جسم کے اعضاء کی طرح ہیں کیا یہ ہو سکتا ہے کہ بدن انسانی کا ایک عضو دوسرے عضو کو سوائے اشتباہ کے کاٹ دے یا اسے کوئی آزار دی جائے ۔ اس سبب سے جو اس قسم کے کام میں مشغول ہیں ان کا ایمان صحیح نہیں ہے اور حقیقت میں وہ ایمان سے بے بہرہ ہیں ۔الاّ خطاٴ ( مگر غلطی سے) کے الفاظ اس معنی میں نہیں کہ انھیں اجازت ہے کہ شک کی بناپر قتل جیسا عمل کریں کیونکہ شک و شبہ میں انسان دور تک نہیں دیکھ نہیں دیکھ سکتا او رکوئی شخص شک کی حالت میں اپنے اشتباہ کی طرف متوجہ نہیں ہوتا۔ مقصد یہ ہے کہ مومنین شک و شبہ کی حالت کے علاوہ ایسا گناہ کبیرہ نہیں کرسکتے ۔ اس کے بعد قتل اشتباہ کا جر مانہ اور کفارہ تین مراحل میں بیان کیا گیا ہے :۔ پہلی صورت یہ ہے کہ ” بے گناہ شخص جو شک اور شبہ میں قتل ہو گیا ہو، اگر وہ مسلمان خاندان سے تعلق رکھتا ہو تو اس صورت میں قاتل کے لئے دو حکم ہیں ۔ ایک غلام آزاد کرے اور دوسرا یہ کہ مقتول کا خون بہا مقتول کے وارثوں کو ادا کرے ۔ ( وَ مَنْ قَتَلَ مُؤْمِناً خَطَاٴً فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ وَ دِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَہْلِہِ) ۔ مگر یہ کہ مقتول کے وارث دیت کو اپنی رضا اور رغبت سے چھوڑ دیں ( إِلاَّ اٴَنْ یَصَّدَّقُوا ) ۔ دوسری صورت یہ پء کپ مقتول ایسے خاندان سے وابستہ ہو جو مسلمانوں سے دشمنی رکھتا ہو، تو اس صورت میں قتل اشتباہ کا کفارہ صرف غلام آزاد کرنا ہے اور ایسے گروہ کو دیت دینا ضروری نہیں کہ جو مالی طور پر مسلمانوں کے خلاف مضبوط ہو جائے ۔ اس کے علاوہ اسلام ایسے شخص کو اپنے خاندان سے ربط رکھنے سے منع کرتا ہے جس کے خاندان میں سب کے سب اسلام کے دشمن ہوں اس بنا پر یہ نقصان کی تلافی کا مقام نہیں ہے (فَإِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ عَدُوٍّ لَکُمْ وَ ہُوَ مُؤْمِنٌ فَتَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ ) تیسری صورت یہ ہے کہ مقتول کا خاندان ایسے کفار میں سے ہو جنھوں نے مسلمانوں سے معاہدہ کر رکھا ہو ۔ اس صورت میں معاہدہ کے احترام میں ایک غلام آزاد کرنے کے علاوہ مسلمان اس کا خون بہا اس کے پس ماندگان کو دیں (وَ إِنْ کانَ مِنْ قَوْمٍ بَیْنَکُمْ وَ بَیْنَہُمْ میثاقٌ فَدِیَةٌ مُسَلَّمَةٌ إِلی اٴَہْلِہِ وَ تَحْریرُ رَقَبَةٍ مُؤْمِنَةٍ) ۔ اس بارے میں مفسرین میں اختلاف ہے کہ کیا مقتول اس صورت میں پہلی دونوں صورتوں کی طرح مرد مومن ہوگا یا یہ حکم کافر اور ذمی کے لئے بھی ہے لیکن بظاہر آیات اور روایات جو اس آیت کی تفسیر میں آئی ہیں ان کے مطابق اس سے مراد بھی ” مقتول مومن “ ہی ہے او رکیا اس قسم کے مسلمان مقتول کی دیت کا فر وارث کو دی جاسکتی ہے جبکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہو سکتا۔ آیت سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مذکورہ دیت اس کے ورثہ کو دی جائے گی چاہے وہ کافر ہی کیوں نہ ہوں یہ مسلمان کے ساتھ ان کے معاہدے کی بنیاد پر ہے ۔ لیکن چونکہ کافر مسلمان کا وارث نہیں ہوسکتا لہٰذا بعض مفسرین کا یہنظر یہ ہے کہ اوپر والے جملے سے مراد یہ ہے کہ اس کی دیت و خون بہا صرف اس کے مسلمانوں کو دیا جائے نہ کہ کفار وارثوں کو بعض روایات میں بھی اس امر کی طرف اشارہ کیا گیا ہے لیکن (من قوم بینکم و بینھم میثاق)( ایسے گروہ سے جو تمہارے ساتھ معاہدہ کرتے ( غور کیجئے گا ) ۔ آیت کے آخر میں ان لوگوں کے بارے میں میں جو غلام آزاد کرنے کے بارے میں دسترس نہیں رکھتے ( یعنی مالی طور پر استطاعت نہیں رکھتے یا آزاد کرنے کے لئے غلام ملتا ہی نہ ہو موجودہ زمانے کی طرح ۔ فرماتا ہے ایسے افراد کو چاہئیے کہ وہ مسلسل دو ماہ روزے رکھے ( فَمَنْ لَمْ یَجِدْ فَصِیامُ شَہْرَیْنِ مُتَتابِعَیْن) آخر میں کہتا ہے: یہ غلام آزاد کرنے کی بجائے دو ماہ روزے رکھنے کا حکم ایک قسم کی تخفیف اور خدا کے حضور تو بہ ہے یا یہ کہ جو کچھ قتل اشتباہ کے کفارہ کے طور پر کہا گیا ہے اس سب کو خدا سے توبہ قرار دیا گیا ہے او رخدا ہمیشہ ہر چیز سے باخبر ہے اور اس کے تمام احکام حکمت کے مطابق ہیں ( تَوْبَةً مِنَ اللَّہِ وَ کانَ اللَّہُ عَلیماً حَکیما) ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 4:92
چند اہم نکات
خسارے کی تلافی کے لئے احکام ۱۔ یہاں قتل اشتباہ کی تلافی کے لئے تین موضوع بیان کئے گئے ہیں جن میں سے ہر ایک ایک طرح سے خسارے اورنقصان کی تلافی ہے جو اس عمل کی وجہ سے ہوتی ہے ۔ پہلا غلام آزادکرنا ہے اصل میں ایک اجتماعی خسارے( ایک اہل ایمان کا قتل کی تلافی ہے دوسرا دیت کا ادا کرنا ہے جو اصل میں ایک طرح سے اقتصادی خسارے کی تلافی ہے جو کہ ایک شخص کے قتل ہونے سے ایک خاندان کو ہوتا ہے ورنہ پہلے بھی کہہ چکے ہیں کہ دیت ( خون بہا ) کبھی بھی ایک انسان کے خون کی حقیقی قیمت نہیں ہوسکتی کیونکہ ایک بے گناہ انسان کو خون ہر طرح سے زیادہ قیمتی ہے بلکہ خاندان کے اقتصادی خسارے کی ایک طرح سے تلافی ہے ۔ اور تیسرا داماہ مسلسل روزے رکھنے کا مسئلہ ہے جو کہ اخلاقی اور روحانی خسارے کی تلافی ہے ، جو غلطی سے قتل کرنے والے کو کرنا ہوتی ہے ۔ البتہ خیال رکھنا چاہئیے کہ مسلسل دو ماہ روزے رکھنا ان لوگوں کی ذمہ داری ہے جو کہ ایک با ایمان غلام کو آزاد نہیں کرسکتے تو روزے رکھنا ہوں گے لیکن غور کرناچاہئیے کہ غلام آزاد کرنا ایک طرح کی عبارت شمار ہوتا ہے لہٰذا اس عبادت کا اثر آزاد کرنے والے کی روح پر ضرورہو گا ۔ ۲۔ مسلمانوں میں دیت سے صرف نظر جس مقام پر مقتول کے پس ماندگان مسلمان ہو ں وہاں ”الا ان یصدقوا“ مگر یہ کہ وہ دیت سے صرف نظر کرلیں ) کا ذکر آیاہے لیکن جس مقام پر وہ مسلمان نہ ہوں وہاں یہ بات نہیں ۔ اس کی وجہ بھی واضح ہے کیونکہ پہلے موقع پر اس کا م کی کوئی بنیاد ہے لیکن دوسری جگہ اس قسم کی بنیاد نہیں ہے اس کے علاوہ جہاں تک ہو سکے مسلمانو کو ایسے موقع پر غیر مسلموں کے احسان کا زیر بار نہیں ہونا چاہئیے ۔ ۳۔ غیر مسلموں کے لئے دیت کا پہلے تذکرہ قابل توجہ امر یہ ہے کہ پہلی صورت میں جبکہ پس ماندگان مسلمان ہوں پہلے ” ایک غلام آزاد کرے ‘ ‘ اورپھر ” دیت “ کا ذکر ہے ۔ جبکہ تیسری صورت میں جبکہ وہ مسلمان نہیں ہیں پہلے دیت کا تذکرہ ہے شاید تعبیر کا یہ اختلاف اس طرف اشارہ کرتا ہوکہ مسلمانوں کے معاملے میں دیت کی تاخیر کا زیادہ تر منفی ردّ عمل نہیں ہوتا جبکہ غیر مسلموں کے معاملے میں ہر چیز سے پہلے دیت ادا ہونا چاہئیے تاکہ نزاع اور جھگڑے کی آگ ٹھنڈی ہو سکے اور دشمن اسے معاہدے کی خلاف ورزی پرمحمول نہ کریں ۔ ۴۔ اسلامی پیمانوں کی طبعی بنیاد یہ آیت دیت کی مقدار نہیں بتائی گئی اور اس کی تفصیل سنت کے مطابق مقرر ہوتی ہے ۔ جس کی رو سے پوری دیت ہزار مثقال سونا یا ایک سو اونٹ ، یا دوسو گائیں ، اور اگر وارث راضی ہوں تو ان جانوروں کی قیمت ہے ( البتہ سونے یا بعض جانوروں کی دیت کے طور پر تعین اسلامی اصول کے مطابق ہے اور اسلام نے اپنے پیمانے اور میزان طبعی امور میں سے مقرر کئے ہیںنہ کہ بناوٹی مصنوئی اور وقتی طریقوں سے جو کہ زمانہ گذرنے کے ساتھ ساتھ تبدیل ہو جاتے ہیں ۔ ۵۔ غلطی کی سزا؟ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ یہ اعتراض کریںکہ ” غلطی“ کی سزا نہیں ہوتی ،تو اسلام اس کو اتنی اہمیت کیوں دیتا ہے ، حالانکہ اس غلطی کا مرتکب کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوا ۔ اس کا جواب واضح ہے کیونکہ خون کا مسئلہ کوئی معمولی نہیں ہوتا۔ لہٰذا اسلام اس سخت حکم کے ذریعے چاہتا ہے کہ لوگ نہایت محتاط رہیں تاکہ کسی قسم کا قتل یہاں تک کہ اشتباہ اور غلطی سے بھی ان سے سرزدنہ ہو ۔ کیونکہ بہت سی غلطیاں بھی قابل گرفت ہیں علاوہ از یں اس لئے بھی کہ لوگوں کو معلوم ہو جائے کہ قتل اشتباہ کے دعویٰ سے اپنے آپ کو بری الذمہ نہیں سمجھا جاسکتا آیت کا آخری جملہ ( توبة من اللہ)ممکن ہے اسی مر کی طرف اشارہ ہو کہ عام طور پر اشتباہات کا مرکز پوری کو شش اور غورکرنا ہوتا ہے لہٰذا اہم معاملات میں ( مثلاً قتل نفس) کے سلسلے میں اس طرح تلافی ہونا چاہئیے کہ خدا سے تو بہ ان کے مرتکب ہونے والوں کے شامل حال ہو جائے ۔ ۹۳۔وَ مَنْ یَقْتُلْ مُؤْمِناً مُتَعَمِّداً فَجَزاؤُہُ جَہَنَّمُ خالِداً فیہا وَ غَضِبَ اللَّہُ عَلَیْہِ وَ لَعَنَہُ وَ اٴَعَدَّ لَہُ عَذاباً عَظیماً ۔ ترجمہ ۹۳۔جو شخص کسی صاحب ایمان کو جان بوجھ کر قتل کردے تو اس کی سزا جہنم ہے کہ جس میں وہ ہمیشہ کے لئے رہے گا اور خدا اس پر غضب نازل کرتا ہے اور اسے اپنی رحمت سے محروم کردیتا ہے اور اس کے لئے اس نے عذاب عظیم مہیا کررکھا ہے ۔ شانِ نزول مقیس بن صبا بہ کنانی ایک مسلمان تھا اس نے اپنے مقتول بھائی کی لاش محلہ” بنی نجار“ میں دیکھی ۔ اس نے پیغمبر اکرم کی خدمت میں آکر یہ واقعہ بیان کیا رسول اکرم نے اسے قیس بن ہلا ل مہزی کے ساتھ نبی نجار کے سرداروں کے پاس بھیجا اور حکم دیاکہ اگر وہ ہشام کے قاتل کو پہچانتے ہیں تو اسے اس کے بھائی مقیس کے حوالے کر دیں اور اگر نہیں پہچانتے تو اس کا خون بہا اور دیت ادا کریں وہ چونکہ ہشام کے قاتل کو نہیں پہچانتے تھے لہٰذا انھوں نے مقتول کی دیت ادا کردی اور اس نے بھی قبول کرلی اور قبیس بن ہلال کی معیت میں مدینہ کی طرف روانہ ہوا۔ اثنائے راہ میں زمانہٴ جاہلیت کے باقی رہنے والے افکار ے قبیس کے جذبات کو ابھارا اور وہ اپنے آپ سے کہنے لگا کہ دیت قبول کرنا شکست اور ذلت کا باعث ہے لہٰذا اپنے ہم سفر کو جو قبیلہ بنی نجار میں سے اپنے بھائی کے خون کے بدلے قتل کردیا او رمکہ کی طرف بھاگ گیا او راسلام سے بھی کنارہ کش ہو گیا ۔ پیغمبراکرم نے بھی اس خیانت کے بدلے اس کا خون مباح قرار دیا اور اوپر والی آیت اسی مناسبت سے نازل ہوئی جس میں قتل عمد( جان بوجھ کر قتل ) کی سزا بیان ہوئی ہے ۔