وَمَا عَلَّمۡنَٰهُ ٱلشِّعۡرَ وَمَا يَنۢبَغِي لَهُۥٓۚ إِنۡ هُوَ إِلَّا ذِكۡرٞ وَقُرۡءَانٞ مُّبِينٞ
We did not teach him poetry, nor does it behoove him. This is just a reminder and a manifest Quran,
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 36:69
[Pooya/Ali Commentary 36:69] Aqa Mahdi Puya says: Here poetry means conjecture based on imaginary ideas to excite human emotion.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:69-70
دلوں کی موت اور زندگی
دلوں کی موت اور زندگی : انسان چند قسموں کی موت و حیات کاحامل ہے۔ پہلی تو "نباتی" موت و حیات ہے جو نشوونما ، غذا کھانے اور تولید نسل کی مظہر ہے۔ اس لحاظ سے انسان تمام نباتات کے مانند ہے۔ دوسری موت و حیات "حیوانی" ہے کہ جس کی واضح نشانی حس و حرکت ہے اور ان دونوں خصوصيات میں انسان تمام حیوانات کے ساتھ شریک ہے۔ البتہ تیسری قسم حیات کی وہ ہے جو انسانوں کے ساتھ مخصوص ہے ، جو انہیں نباتات اور دوسرے ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "لينذر" "ذکر" سے متعلق ہے کہ جو اس سے پہلے کی آیت میں ہے اوربعض نے اسے "علمنا" یا "نزلنا" سے متعلق سمجھا ہے کہ جو مقدار ہے لیکن پہلا احتمال زیادہ مناسب نظر آتا ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- حیوانات سے جدا کرتی ہے اور وہ ہے حیات انسانی و روحانی ۔ یہ وہی چیز ہے جسے اسلامی روایات میں حیات القلوب قرار دیا گیا ہے۔ یہاں پر "قلب" سے مراد وہی روح ، عقل اور احساسات انسانی ہیں۔ امیرالمومنین علی علیہ اسلام کے ارشادات میں نہج البلاغہ کے خطبات اور کلمات قصار میں اس مسئلے کا ذکر کیا گیا ہے۔ ایک خطبے میں آپؑ قرآن کے بارے میں فرماتے ہیں: تفقهوا فيه فانه ر بیع القلوب "قرآن کے بارے میں غور و فکر کرو ، کیونکہ اس میں دلوں کو حیات بخشنے والی بہار ہے"۔ ؎1 دوسری جگہ حکمت و دانش کے متعلق فرماتے ہیں : ھي حيات للقلب الميت "حکمت و دانائی مردہ دلوں کے لیے سبب حیات ہے۔ ؎2 کبھی دل کی بیماری کا بدن کی بیماری سے تقابل کرتے ہوئے فرماتے ہیں: واشد من مرض البدن مرض القلب "بدن کی بیماری سے دل کی بیماری بدترہے "۔ ؎3 کبھی فرماتے ہیں : ومن قل ورعه مات قلبه "جس میں پیرہیزگاری کی روح کم ہوجائے اس کا دل مرجاتا ہے"۔م 4 دوسری طرف قرآن مجید نے انسان کے لیے ظاہری بینائی و شنوائی اور شعورو ادراک کے علاوہ ایک خاص قسم کی بینائی وشنوائی اور شعور و ادراک کا ذکر کیا ہے جیسا کہ کفار کے بارے میں ہے : صم بکم عمی فھم لا يعقلون "وہ بہرے ،گونگے اور اندھتے ہیں اور اسی بنا پر عقل وشعور نہیں رکھتے"۔ ( بقره - 171) دوسری جگہ منافقین کو دل کے بیماروں کا نام دیا گیا ہے ارشاد ہوتا ہے: في قلوبهم مرض فزاد هم الله مرضًا" "خدا ان کی بیماری میں اضافہ کر دیتا ہے". (بقره ---- 10) ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ خطبہ 110 - ؎1 نہج البلاغہ خطبہ 133 - ؎1 نہج البلاغہ ، کلمات قصار کلمہ 388- ؎1 نہج البلاغہ ، کلمات قصار کلمہ 349- ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- نیز جن لوگوں کے دلوں میں خدا کا خوف نہیں ہے انہیں قرآن سنگدل قرار دیتا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: ثم قست قلوبكم من بعد ذالک فھی کا الحجارة او اشد قسوة "ان کا دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہے"۔ (بقره --- 74) اور کافروں کو "ناپاک دل والےافراد" کے ساتھ تعارف کراتے ہوئے قرآن کہتا ہے: اولئك الذين لم يرد الله ان يطهر قلو بلھم "وہ ایسے لوگ ہیں کہ خدا ان کے دلوں کو پاک نہیں کرنا چاہتا"۔ (مائده ــــ 41) ایک اور جگہ کہتاہے: "تیری دعوت کو صرف وہ زندہ لوگ ہی قبول کریں گے کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں ، نہ کہ مردہ لوگ"۔ انما يستجيب الذين يسمعون والموتٰی پبعثهم الله ثم اليه يرجعون ایک اور جگہ ہے: " صرف وہ لوگ ہی کہ جو سننے والے کان رکھتے ہیں تیری دعوت قبول کریں گے ۔ باقی رہے مردے تو انہیں خدا قیامت میں اٹھائے گا پھر وہ اس کی طرف پلٹ کرجائیں گے"۔ (انعام ـــــــــ 32) ان تعبیرات کے مجموعے اور ان سے مشابہ بہت سی دوسری تعبیروں سے اچھی طرح واضح ہوجاتا ہے کہ قرآن موت و حیات کا محور اسی عقل والے انسانی محور کو شمار کرتا ہے کیونکہ انسان کی تمام قدروقیمت اسی حصے میں چھپی ہوئی ہے۔ حقیقت میں حیات و ادراک ، دیکھنا اور سننا وغیرہ انسانی وجود کے اسی حصے میں مجتمع ہوتا ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان تعبیرات کو مجاز سمجھا ہے لیکن وہ اس مقام پر روح قرآنی سے ہم آہنگ نہیں ہیں کیونکہ قران کی نگاہ میں حقیقت یہی ہے اور حیوانی موت وحیات ایک مجاز سے زیادہ نہیں ہے۔ روحانی موت و حیات کے عوامل و اسباب بہت زیادہ ہیں لیکن قدر مسلم یہ ہے کہ نفاق تکبر ، غرور تعصب ، جہالت اور گناہان کبیره دل کو مردہ کر دیتے ہیں جیسا کہ امام زین العابدین علی بن الحسین علیہ السلام کی پندرہ و مناجاتوں میں سے تائبین کی مناجات میں بیان ہے : وامات قلبی عظیم جنایی "میرے بڑے بڑے جرائم نے میرے دل کو مردہ کردیا ہے"۔ ؎1 زیر بحث آیات بھی اسی حقیقت پہ ایک تاکید ہیں۔ ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 امام علی بن الحسینؑ کی پندرہ مناجاتوں میں سے پہلی مناجات (مناجات تائبین) - ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کیا وہ لوگ زندہ ہیں کہ جو زندگی میں صرف اس بات پر قانع ہوگئے ہیں کہ وہ بےخبری کی حالت میں ہمیشہ عیش و نوش میں زندگی بسر کریں ،نہ کسی مظلوم کی فریاد سنیں ، نہ منادیان حق کی ندا پر لبیک کہیں ، نہ ظالم کے ظلم سے ناراحت اور پریشان ہوں اور نہ مظلومین کی محرومیت پر ان میں جنبش و حرکت پیدا ہو ، صرف اپنے بارے میں سوچیں اور اپنے غیر بلکہ خود اپنے آپ سے بھی بیگانہ ہوں۔ کیا زندگی یہی ہے کہ جس کا ماحصل صرف کچھ غذا کھالینا ، کچھ کپڑے بوسیدہ کرلینا اور سونے اور جاگنے کی تکرار کرتے رہنا ؟ اگر زندگی یہی ہے تو پھرحیوان اور عالم انسانی میں کیا فرق ہے؟ پس یہ بات قبول کرنی ہی پڑے گی کہ اس ظاہری زندگی کے ماوراء اور پس پردہ ایک حقیقت ہے کہ جس کا قرآن ذکرکرتا ہے اور اس کے بارے میں بات کرتا ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ ایسے مرنے والے کہ جن کی موت میں بھی حیات انسانی کے انسانی کے آثار پائے جاتے ہیں قرآن کی نگاہ میں مرکر بھی زندہ ہیں لیکن وہ زندہ کہ جن میں حیات انسانی کے آثار میں سے کوئی نظر نہیں آتا ، قرآن کی منطق میں مردہ ہیں ۔ ایک جانکاه رقت بار موت . ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:69-70
سورہ یٰس / آیه 69 - 70
(69) وَمَا عَلَّمْنَاهُ الشِّعْرَ وَمَا يَنْبَغِىْ لَـهٝ ۚ اِنْ هُوَ اِلَّا ذِكْرٌ وَّّقُرْاٰنٌ مُّبِيْنٌ (70) لِّيُنْذِرَ مَنْ كَانَ حَيًّا وَّيَحِقَّ الْقَوْلُ عَلَى الْكَافِـرِيْنَ ترجمہ (69) ہم نے ہرگز اسے شعور نہیں سکھایا اور وہ اس کے لائق بھی نہیں ہے۔ یہ (کتاب آسمانی تو) صرف ذکر اور قرآن مبین ہے۔ (70) مقصد یہ ہے کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے کہ جو زندہ ہیں اور کفار پراتمام حجت ہوجائے اور عذاب کا حکم ان کے لیے مسلم ہوجائے ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:69-70
رسول شاعرنہیں بلکہ وہ زندوں کو ڈرانے والا ھے
تفسیر رسول شاعرنہیں بلکہ وہ زندوں کو ڈرانے والا ھے ہم نے بیان کیا تھا کہ اس سورہ میں اصول دین میں سے توحید ، معاد اورنبوت کے بارے میں زنده اورجامع مباحث بیان کیےگئے ہیں اور گفتگو کے مختلف حصے یکے بعد دیگرے ایک خاص انداز سے آتے چلےجاتے ہیں ۔ گزشتہ آیات میں توحید و معاد کے سلسلے میں مختلف بحثیں آتی ہیں۔ زیر نظر دونوں آیات میں نبوت کےبارے میں بحث کی گئی ہے۔ پیغمبراسلامؐ پر جو اتہامات لگائے جاتے تھے ان میں سے جو اتہام سب سے زیادہ تھا اسے عنوان بناکر انہیں دندان شکن اورسبق آموز جواب دیا گیا ہے اور وہ ہے شعر گوئی کا الزام - فرمایا گیا ہے: "ہم نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی اور نہ ہی اس کے لیے مناسب اور لائق ہے کہ وہ شاعر ہو"۔ (اوما علمناه الشعر وما ينبغي له)۔ وہ پیغمبراکرمؐ پر ایسے الزامات کیوں لگاتے تھے حالانکہ آپؐ نے کبھی بھی شعر میں کہا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ وہ سب لوگ دلوں میں قرآن کی تاثیر اور کشش محسوس کرتے تھے اور اس کے لفظ ومعنی کی زیبائی اور فصاحت و بلاغت انکار کے قابل نہیں تھی ۔ یہاں تک کہ خود مشرکین بھی قرآن کی آواز اور بیان سے اتنے متاثرہوتے تھے کہ بعض اوقات رات کے وقت میں چھپ چھپ کر پیغمبراکرامؐ کی منزل کے قریب آتے تھے تاکہ رات کی تاریکی میں آپؐ کی تلاوت کا زمزمہ سن سکیں ۔ کتنے ہی لوگ ایسے تھے جو قرآن کی چند آیات سنتے ہی اس کے شیفتہ اور فریفتہ ہو گئے اور ایک ہی مجلس میں اسلام قبول کرلیا اور قرآن کی آغوش میں پناہ لے لی۔ یہی سبب تھا کہ اس عظیم تاثیر کی توجیہ اور اس آسمانی وحی سے لوگوں کو غافل رکھنے کے لیے ، انہوں نے ہرجگہ پیغمبراکرمؐ کی شعر گوئی کا پرو پیگیڈہ کیا اور یہ باطنی طور پر قرآن کی انتہائی تاثیر کا ایک اعتراف تھا۔ لیکن شاعر ہونا پیغمبر کی شان کے لائق کیوں نہیں؟ اس کی وجہ یہ ہے کہ "وحی" کا راستہ شعر کے راستے سے بالکل مختلف ہے ، کیونکہ : 1- عام طور پر شعر کا سرچشم تخیلات و تصورات ہوتے ہیں ، شاعر زیادہ تر خیال کے دوش پر سفرکرتا ہے جبکہ "وحی" کا سرچشمہ مبداء ہستی ہے اور یہ حقیقتوں کے گرد گردش کرتی ہے ۔ 2- شعر انسانی تغیر پزیر حالت سے وقوع میں آتا ہے اور ہمیشہ تغیر کی حالت میں ہوتاہے جبکہ وحی آسمانی ثابت شده حقائق کو بیان کرتی ہے 3- شعر کا لطف اکثر موقعوں پر مبالغہ آرائی میں ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ یہ کہا گیا ہے کہ : احسن الشعر اکذبه "سب سے بہتر شعروہ ہے کہ جس میں سب سے زیادہ جھوٹ ہو"۔ جبکہ وحی میں صداقت اور سچائی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ 4- شاعر بہت سے موقعوں پر لفظ کی زیبائیوں کی خاطر مجبور ہوجاتا ہے کر خود کو الفاظ کے سپرد کردے اور اس کے پیچھے پیچھے چلے اور کتنے ہی حقائق ایسے ہوتے ہیں کہ جو ایسی باتوں میں پامال ہوجاتے ہیں۔ 5- ایک مفسر کے خوبصورت خیال میں "شعر" ان آرازوؤں کا مجموعہ ہے کہ جو زمین آسمان کی طرف پرواز کرتی ہیں لیکن وحی ایسے حقائق کا مجموعہ ہے جو آسمان سے زمین کی طرف نازل ہوتے ہیں اور یہ دونوں راستے ایک دوسرے سے بالکل جدا ہیں۔ اس مقام پر ضروری معلوم ہوتا ہے کہ ہم ان شعراء کا حساب جدا سمجھیں کہ جو مقدس مقاصد کے لیے قدم اٹھاتے ہیں اور اپنے شعر کو غیر مطلوب عوارض سے دور رکھتے ہیں ،چاہیے کہ ایسے شعرا کے مقام اور فن کی قدر وقیمت کو فراموش نہ کریں۔ لیکن بہرحال عام طور پر شعر کا مزاج اور طبیعت یہی ہے جو بیان ہوا ہے۔ اسی بنا پر قرآن مجید سوره شعراء کے آخر میں کہتا ہے : والشعراء يتبعھم الغاوون "شعراء تو وہ ہیں جن کی پیروی گمراہ لوگ کرتے ہیں"۔ (شعراء ----- 224) اس کے بعد مختصر اور پر معنی عبارت میں اس کی دلیل پیش کرتے ہوئے قرآن کہتا ہے: الم ترانھم في كل واد یهیمون وانهم يقولون ما لا يفعلون "کیا تو نے نہیں دیکھا کہ وہ ہر وادی میں سرگرداں پھرتے ہیں (ہمیشہ خیالات و تصورات کی دنیا اور اپنی شاعرانہ تشبیہات میں ڈوبے رہتے ہیں) اور ہیجانات کی موجوں اور خیالی تحرکات کے سامنے جھکے ہوتے ہیں۔ علاوہ ازیں دیکھتے نہیں ہوکہ جو باتیں وہ کہتے ہیں ان پر عمل نہیں کرتے"۔ (شعراء - 225 - 226) البتہ انہی آیات کے آخر میں ان شعراء کو جو صاحب ایمان اور نیک و صالح ہیں اور جن کافن ان کے اہداف و مقاصد کے کام آتا ہے مستثنٰی قرار دیا گیا ہے اور ان کی قدر افزائی کی گئی ہے اور ان کا معاملہ دوسروں سے جدا رکھا گیا ہے لیکن بہرحال پیغمبر شاعر نہیں ہوسکتا اور جس وقت قرآن یہ کہتا ہے کہ "خدا نے اسے شعر کی تعلیم نہیں دی "تو اس کا مفہوم یہ ہے کہ اس کا پیغام شعر کی حیثیت نہیں رکھتا ، کیونکہ اس کی تمام تعلیمات کا منبع خدا ہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ تواریخ و روایات میں بابرہانقل ہوا ہے کہ جس وقت پیغمبراکرمؐ چاہتے تھے کہ کسی شعر کو بطور مثال پیش کریں اور اسے اپنے قول کا شاہد قرار دیں تو اسے توڑ کر پیش کرتے تھے تاکہ دشمن کے ہاتھ کوئی بہانہ نہ آجائے ، چنانچہ ایک دن پیغمبرؐ چاہتے تھے کہ عربوں کا مشہور شعر پڑھیں : ستبدي لك الايام ماكنت جاهلا وياتيك بالأخبار من الم تزود "عنقريب زمانے تیرے لیے خبریں ایسے حقائق آشکار کر دے گا جن سے تو آگاہ نہیں تھا اور ایسے افراد تیرے لیے خبریں لے کر آئیں گے جن کے لیے تونے زاد و توشہ مہیا نہیں کیا تھا"۔ تو پیغمبراکرمؐ نے فرمایا : یاتبك من لم تزود بالأخبار، اور جملے کو آگے پیچھے کر دیا۔ ؎1 قرآن پیغمبر اکرمؐ کے بارے میں شعر کی نفی کرتے ہوئے مزید کہتا ہے کہ :"یہ آیات سوائے بیداری کے وسیلہ اور آشکار قرآن سے اور کچھ نہیں ہیں"۔ (ان ھوالا ذکر قرآن مبین) - ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، زیر بحث آیت کے ذیل میں۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ "اس سے مقصد یہ ہے کہ تو ان لوگوں کو ڈرائے جو زندہ ہیں اور کافروں پر اتمام حجت ہوجائے اور حکم عذاب ان کے لیے مسلم ہوجائے"۔ (لینذر من كان حيًا ويحق القول على الکافرین)۔ ؎1 ہاں! یہ آیات " ذکر" ہیں اور نصحیت و بیداری کا وسیلہ ہیں ۔ یہ قرآن مبین کی آیات ہیں کہ جوکسی قسم کی ہے پردہ پوشی کے بغیر بڑی صراحت کے ساتھ حق کو بیان کرتی ہیں اور اسی بنا پر بیداری اور حیات کا موجب ہیں۔ ایک مرتبہ پھر ہم یہاں دیکھتے ہیں کہ قرآن "ایمان" کو "حیات" اورمومنین کو "زندہ" اور بے ایمان افراد کو "مردہ" کے نام سے یاد کرتا ہے، ایک طرف تو "حئی" (زندہ) ہے اور اس کے مقابل "کافرین" ہے ۔ یہ وہی معنوی حیات و موت ہے جو ظاہری موت و حیات سے کئی درجے بڑھ کر ہے اور اس کے آثار زیادہ وسیع ہیں ۔ اگر حیات سانس لینے ، کھانا کھانے اور چلنے پھرنے کا نام ہو تو یہ ایسی چیز ہے کہ جس میں تمام جانور شریک ہیں ۔ یہ انسانی حیات نہیں ہے ۔ حیات انسانی تو، روح انسانی میں ، عقل و خرد اور اعلٰی ملکات کے پھول کھلنے تقوٰی ، ایثار، فدا کاری ، نفس پر قابو رکھنے اور فضیلت و اخلاق کا نام ہے اور قرآن انسانوں کے وجود میں اس حیات کی پرورش کرتا ہے۔ بہرحال انسان قرآن کی دعوت کے مقابلے میں دوگروہوں میں تقسیم ہوجاتے ہیں ، ایک گروہ زندہ و بیدار افراد کا ہے کہ جو اس کی ہردعوت پرلبیک کہتا ہے اور اس کی تـنبیوں پر توجہ دیتا ہے ، دوسرا گروہ مرده دل کفارکا ہے کہ جو اس کے جواب مثبت ردعمل کا اظہار نہیں کرتا لیکن یہ انزار ان پر تمام حجت اورحکم عذاب کے مسلم ہونے کا باعث ہے۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ