وَآيَةٌ لَّهُمُ اللَّيْلُ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّهَارَ فَإِذَا هُم مُّظْلِمُونَ
A sign for them is the night, which We strip of daylight, and, behold, they find themselves in the dark!
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 36:37
[Pooya/Ali Commentary 36:37]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:37-40
3- انسانی زندگی میں نور و ظلمت کا نظام
3- انسانی زندگی میں نور و ظلمت کا نظام : آیات زیر بحث میں دو ایسے موضوعات کی طرف اشارہ ہے کہ جو انسانی زندگی میں بہت اہمیت رکھتے ہیں اور انہیں آیات الٰہی قرار دیا گیا ہے اور وہ ہیں رات کی تاریکی اور دوسرا سورج اور ان کی روشنی۔ اس سے پہلے میں ہم بیان کرچکے ہیں کہ نور ، عالم مادہ کے مو جودات میں سے لطیف ترین اور پر برکت ترین موجود ہے۔ نہ صرف روشنی اور ہماری زندگی بلکہ ہر حرکت سورج کے نور کے ساتھ وابستگی رکھتی ہے۔ بارش کے قطروں کا نزول ، نباتات کی نشوونما ، غنچوں کا چٹخنا پھلوں کا پکنا ، ندی نالوں کا زمزمہ ، انسانوں کے استرخوان پر انواع و اقسام کی غذائیں ۔ یہاں کہ بڑے بڑے کارخانوں کے پہیوں کا چلنا، بجلی اور طرح طرح کی صنعتی پیدا وار سب کا تعلق توانائی ( ENERGY) کے اس عظیم منبع ــــــ یعنی سورج کی روشنی سے ہے۔ خلاصہ یہ ہے کہ کرہ زمین کی تمام توانائیاں (سوائے اس توانائی کے جو ایٹم کے ذرے کو توڑنے سے پیدا ہوتی ہے) سورج کے نور سے مدد لیتی ہیں اور اگروہ نہ ہوتا تو ہرجگہ خاموشی ہوتی اور ہرچیز سے روح ، بے نور ، ہے حرکت اور مردہ ہوتی۔ رات کی تاریکی اگرچہ مورت اور فنا کی بو دیتی ہے لیکن نور آفتاب کی تبدیلی کے لحاظ سے اور جسم و روح کے آرام و سکون نیز سورج کی روشنی کی ایک ہی طرح کی تپش کے خطرات سے بچانے میں اس کا کردار انسانوں کے لیے حیات بخش شمار ہوتا ہے کیونکہ اگر رات اور دن باری باری نہ آ تے تو کره زمین میں حرارت اتنی بڑھ جاتی کہ تمام چیزوں کو آگ لگ جاتی ۔ جیسا کہ چاند میں طولانی راتیں اور دن ہیں (ہرایک کره زمین کے پندرہ رات دن کے برابر ہے) اگر یوں ہوتا تو دنوں میں تباہ کن گرمی ہوتی اور راتوں کو ہولناک سردی ہوتی - اس بنا پر ان دونوں (نور و ظلمت) میں سے ہرایک آیات الٰہیہ میں سے ایک عظیم آیت ہے ۔ اس سے قطع نظر ایک بہت ہی دقیق نظام کہ جو ان دونوں پر حاکم ہے ، انسانوں کی زندگی کی منظم تاریخ کو وجود میں لانے والا ہے۔ ایسی تاریخ کہ اگروہ نہ ہوتی تو اجتماعی روابط ختم ہو کررہ جاتے اور انسان کے لیے زندگی بہت مشکل ہوجاتی ۔ اس لحاظ سے بھی یہ دونوں آیات الٰہی میں سے ہیں۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ قرآن ان آیات میں کہتا ہے کہ : "رات دن پر سبقت حاصل نہیں کرتی"َ۔ یہ تعبیراس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ دن کو رات سے پہلے خلق کیا گیا ہے اور رات اس کے بعد میں ۔ یہ بات تو ٹھیک ہے کہ اگر کوئی شخص کره زمین کے باہر سے نگاہ کرے تو وہ ان دونوں کو دو سیاه و سفید موجودات کے مانند دیکھے گا کہ مسلسل کره زمین کے گرد گردش کررہے ہیں ، اور اس دائرے کی حرکت میں پہلے اور بعد کا تصور نہیں ہوسکتا ۔ لیکن ہمیں اس حقیقت پر توجہ دینا چاہیے کہ ہماری زمین کا یہ کرہ پہلے سورج کا ہی ایک جز تھا اور اسی وقت ہرجگہ دن ہی دن تھا اور رات کا کوئی وجود ہی نہیں تھا ،لیکن جونہی زمین اس سے جدا ہوئی تو اس کا مخروطی شکل کا سایہ نور آفتاب کی مخالف سمت میں پڑا تو رات پیدا ہوگئی ، وہ رات کہ جو دن کے پیچھے حرکت کر رہی ہے۔ اس پہلو پر نظر کرنے سے یہاں اس تعبیر کی دقت و گہرائی اور مطافت واضح ہوجاتی ہے۔ جیسا کہ ہم نے بیان کیا ہے، نہ صرف سورج اور چاند اس فضائے بیکراں میں تیر رہے ہیں بلکہ رات اور دن بھی اس فضا میں کرۂزمین کے گرد تیر رہے ہیں اور ان میں سے ہرایک اپنے لیے ایک مدار اور گردش کی رہگزز رکھتا ہے۔ ایسی بہت سی روایات میں بھی کہ جو اہل بیت علیہم السلام سے منقول ہیں ، اس معنی کی تصریح ہوئی ہے کہ خدا نے دن کو رات سے پہلے پیدا کیا ہے۔ ایک راوایت میں امام صادق سے منقول ہے کہ آپؑ نے فرمایا : خلق النهار قبل الليل "دن کو رات سے پہلے خلق کیا گیا ہے"۔ ؎1 ایک دوسری روایت میں امام علی بن موسٰی رضا سے منقول ہے : النهار خلق قبل الليل "دن رات سے پہلے خلق ہوا"۔ پھر امام نے "الا الشمس ينبغي لھا ان تدرك القمر ولا الليل سا بق النهار" کی آیت سے اس سلسلے میں استدلال فرمایا"۔ ؎2 اسی مطلب کی ایک حدیث امام باقرسے بھی بصورت ذیل منقول ہے: ان الله عزوجل خلق الشمس قبل القمر و خلق النور قبل الظلمة "خدائے بزرگ نے سورج کو چاند سے پہلے اور نور کو ظلمت سے پہلے خلق کیا"۔ ؎3 ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 مجمع البیان ، زیر جس آیت کے ذیل میں ۔ ؎2 نورالثقلین ، جلد 4 ص 387 ، بحوالہ احتجاج طبرسی ۔ ؎3 نورالثقلين ، جلد 4 ص ، 387 بحوالہ روضتہ الكاني - ۔-----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:37-40
1- سورج کی "دورانی" اور جریانی حرکت
1- سورج کی "دورانی" اور جریانی حرکت: عربی زبان میں "دوران" دائرہ کی صورت میں حرکت کو کہتے ہیں جبکہ "جریان" طولی حرکت کی طرف اشارہ ہے ۔ قابل توجہ بات یہ ہے کہ زیربحث آیات میں قرآن سورج کے لیے جریانی حرکت کا بھی قائل ہے اور دورانی حرکت کا بھی ــــ ایک جگہ کہتا ہے: .. والشمس تجری ...... اور دوسری جگہ سورج کے فلک میں تیرنے (دائرے کی صورت میں حرکت) کی بات کرتا ہے: "كل في فلك يسبحون"۔ جس زمانے میں یہ آیات نازل ہوئی ہیں ، ہیت بطلیموس کا مفروضہ اپنی پوری طاقت کے ساتھ محافل علمی میں تسلیم شدہ تھا اس مفروضے کے مطابق اجرام فلکی کی اپنی کوئی حرکت نہیں بلکہ وہ افلاک کے اندر میخوں کی طرح گڑے ہوئے ہیں بلکہ افلاک پیاز کے چھلکوں کے مانند ایک دوسرے کے اوپر تہ بہ تہ بلوبریں اجسام کی صورت میں ہیں اور اجرام فلکی کی حرکت ان کے افلاک کی حرکت کے تابع ہے ، اس بنا پر اس زمانے میں نہ سورج کا تیرنا کوئی مفہوم رکھتا تھا اور نہ ہی اس کی طولی و جریانی حرکت . لیکن حالیہ صدیوں کے انکشافات نے بطلیموس کے مفروضے کو ختم کردیا اور اجرام آسمانی کے بلوریاں افلاک سے آزاد قرار دے دیا۔ اس کے بعد اس نظریے نے قوت پکڑی کہ سورج نظام شمسی کے مرکز میں ثابت اور غیر متحرک ہے اور سارا نظام شمسی پروانہ دار اس کے گرد گھومتا ہے۔ اس مقام پر پہنچ کر بھی زیر بحث آیات کی تعبیروں کا مفہوم واضح نہیں تھا کیونکہ یہ تو سورج کی طرف طولی اور جریانی حرکت کی نسبت د ے رہی تھیں ۔ یہاں تک کہ سائنس نے اپنی پیش رفت مزید جاری رکھی اور آخر کار سورج کی چند ایک حرکات ثابت ہو گئیں : (1) اس کی خود اپنے گرد وضعی حرکت . (2) نظام شمسی کے ساتھ آسمان کے ایک مشخص نقطے کی طرف اس کی طولی حرکت . (3) اس کی دورانی حرکت اس کہکشاں کے مجموعے کے ساتھ کہ جس کا یہ سورج حصہ ہے ۔ اس طرح سے قرآن کا ایک اور علمی معجزہ ثبوت کو پہنچ گیا۔ اس مسئلے کو زیادہ واضح کرنے کے لیے ہم اس بحث کا ایک حصہ یہاں پیش کرتے ہیں کہ جو ایک دائرة المعارف میں سورج کی حرکت کے بارے میں بیان ہوا ہے: سورج "ظاہری" حرکات (یومیہ حرکت اور سالانہ حرکت) اور "واقعی" حرکات کا حامل ہے، سورج کره آسمانی کی یومیہ اور ظاہری حرکت میں شریک ہے ۔ ہمارے آدھے کرہ میں مشرق سے طلوع کرتا ہے ، جنوب کی طرف نصف النہار کے مقام سے گزرتا ہے اور مغرب میں غروب کرتا ہے ، نصف النہار سے اس کا عبورحقیقی ظہر کو مشخص کرتا ہے۔ سورج کی ایک سالانہ "ظاہری" حرکت زمین کے گرد بھی ہے کہ جو اس کو ہر "روز" مغرب سے مشرق کی طرف تقریبا ایک درجہ لے جاتی ہے۔ اس حرکت میں سورج سال میں ایک مرتبہ برجوں کے سامنے سے گزرتا ہے۔ ایسی حرکت کا مدار "دائرة البروج" میں واقع ہے ۔ یہ حرکت علم نجوم کی تاریخ میں بہت زیادہ و اہمیت رکھتی ہے "اعتدالین" و "انقلاب" اور "میل کلی" اسی کے ساتھ مربوط ہے اور شمسی سال اسی سے وجود پاتا ہے۔ ان ظاہری حرکات کے علاوہ کہکشاں کی حرکت دورانی سورج کو قریبًا گیارہ لاکھ تیس ہزار کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار کے ساتھ فضا میں گردش دیتی ہے لیکن کہکشاں کے اندر بھی سورج ثابت و ساکن نہیں ہے بلکہ تقریبًا بہتر ہزار چار سو کلو میٹر کی رفتارسے صورت فلکی (جاثي على ركبتيه)۔ ؎1 کی جانب حرکت کرتا ہے۔ اور یہ جو ہم فضا میں سورج کی اسی تیز حرکت سے بے خبر ہیں ، تو یہ اجرام فلکی کے دوری ہونے کی وجہ سے ہے ، کہ جو اس خاص حرکت وضعی کی تشخیص کا ماخذ بھی ہے۔ سورج کی حرکت وضعی اس کے استوار میں تقریبًا پچیس دن میں ہوتی ہے ۔ ؎2 ، ؎3-
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:37-40
2- "تدرک" اور "سابق" کی تعبیر
2- "تدرک" اور "سابق" کی تعبیر: قرانی تعبیرات اس قدر بھی جچی تلی ہوتی ہیں کہ جن کی باریکیاں و شمار نہیں ہوسکتیں زیر بحث آیات میں جس وقت سورج اور چاند کی ماہانہ اور سالانہ گردش کے سلسلے میں ظاہری حرکت کے متعلق گفتگو ہو رہی ہے، تو قرآن یہ کہتا ہے کہ "سورج کے لیے سزاوار نہیں ہے کہ وہ چاند تک پہنچ جائے" (کیونکہ چاند اپنے سفر کو ایک ماہ میں طے کرتا ہے اور سورج ایک سال میں تیز رفتاری کا ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 "جائي على ركبته" ستاروں کا ایک مجموعہ ہے کہ جو ایک فلکی صورت تشکیل دیتا ہے، یہ اس شخص سے مشابہ ہے کہ جوگھٹنوں کے بل بیٹھا ہو اور کھڑا ہونے کے لیے تیار ہو اور یہ تعبیر اس معنی سے لی گئی ہے۔ ؎2 یعنی سورج ہمارے پچیس شب و روز میں ایک مرتبہ اپنے گرد گردش کرتا ہے۔ یہ امر ماہرین نے سورج کے سطحی ٹکڑوں کے مطالعے سے اخذ کیا ہے کیونکہ انہوں نے دیکھا ہے کہ یہ ٹکڑے ایک دوسرے سے الگ ہوجاتے ہیں اور پچیسں دونوں کے بعد پھر مکمل طور پہ اپنی جگہ پر واپس آجاتے ہیں ۔ ؎3 وائرۃ المعارف "دهخدا" مادہ خورشید ، جلد 22 - ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ فرق اس قدر ہے کہ یہ ہرگز اس کتاب میں پہنچ سکتا (لا الشمس ينبغي لها ان تدرك القمر)۔ لیکن دن رات کے با ر ے ہیں وہ آپس میں چنداں فاصلہ نہیں رکھتے اور بالکل ایک دوسرے کے پیچھے موجود ہیں ۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:37-40
سورہ یٰس / آیه 37 - 40
(37) وَاٰيَةٌ لَّـهُـمُ اللَّيْلُ ۚ نَسْلَخُ مِنْهُ النَّـهَارَ فَاِذَا هُـمْ مُّظْلِمُوْنَ (38) وَالشَّمْسُ تَجْرِىْ لِمُسْتَقَرٍّ لَّـهَا ۚ ذٰلِكَ تَقْدِيْـرُ الْعَزِيْزِ الْعَلِـيْـمِ (39) وَالْقَمَرَ قَدَّرْنَاهُ مَنَازِلَ حَتّـٰى عَادَ كَالْعُرْجُوْنِ الْقَدِيْمِ (40) لَا الشَّمْسُ يَنْـبَغِىْ لَـهَآ اَنْ تُدْرِكَ الْقَمَرَ وَلَا اللَّيْلُ سَابِقُ النَّـهَارِ ۚ وَكُلٌّ فِىْ فَلَكٍ يَّسْبَحُوْنَ ترجمہ (37) رات بھی ان کے لیے (عظمت خدا کی) ایک نشانی ہے ہم اس سے دن کو لے جاتے ہیں تو اچانک تاریکی انہیں ڈھانپ لیتی ہے۔ (38) اور سورج (بھی ان کے لیے ایک نشانی ہے) کہ وہ ہمیشہ اپنے ٹھکانے کی طرف حرکت میں ہے ، یہ خدائے قادر و دانا کی تقدیر ہے۔ (39) اور چاند کے لیے ہم نے منزلیں قرار دی ہیں (اور جب وہ ان منازل کو طے کرلیتا ہے تو) آخر کار کجھور کی پرانی شاخ (زرد کمان) کے مانند ہو جاتا ہے۔ (40) نہ تو سورج چاند تک پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 36:37-40
سورج اور چاند بھی آیت الٰهی هیں
تفسیر سورج اور چاند بھی آیت الٰهی هیں زیر بحث آیات عالم ہستی پر عظمت خدا کی نشانیوں کے ایک اورحصے کو بیان کرتی ہیں گزشته آیات میں قیامت ، مردہ زمینوں کے زندہ ہو نےاور نباتات اور درختوں کی پروش کے بارے میں بات ہوئی تھی ۔ اب توحید کا ایک اور پہلو بیان کیا جارہا ہے۔ پہلے فرمایا گیا ہے :"رات بھی ان کے لیے عظمت خدا کی ایک آیت اور نشانی ہے "۔ (واية الھم اليل) - "جب آفتاب کی روشنی ہرجگہ پھیلی ہوتی ہے اور اس نے تاریکی کے لشکر کو پیچھے دھکیلا ہوتا ہے اس وقت ہم دن کی روشنی کو اٹھا لیتے ہیں اور ان سب کو اچانک تاریکی ڈھانپ لیتی ہے"۔( نسلخ منه النهار فاذا هم مظلموان)۔ "سلخ" کی تعبیرماده " "سلخ" (بروزن "بلخ") سے ہے ۔ اصل میں یہ لفظ جانوروں کا چمڑا اتارنے کے معنی میں ہے ، یہ ایک لطیف تعبیر ہے، گویا دن کی روشنی سفید لباس کے مانند ہے کہ جو رات کے بدن پر پہنایا گیا ہے ۔غروب آفتاب کے وقت یہ لباس اس سے اتار ليا جاتا ہے تاکہ اس باطن اور اندرکا حصہ شکار ہوجائے۔ اس تعبیر کے بارے میں غور و خوض کرنے سے یہ نکتہ عیاں ہوجاتا ہے کہ کره زمین کی انسان اصل فطرت تاریکی اور ظلمت ہے۔ نوراور روشنی اس ایک عارضی صفت ہے کہ جو ایک دوسرے منبع سے اسے دی جاتی ہے اس لباس کی طرح کہ جو کسی کے بدن پر پہناتے ہیں کہ جس وقت وہ اس لباس کو اتاردے تو بدن کا فطری اور اصلی رنگ ظاہرہوجاتا ہے ۔ یہاں قرآن مجید نے رات کی تاریکی کی طرف اشارہ کیا ہے ۔ گویا گزشتہ آیات میں آیت الہی کے طور ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎ "راغب مفردات میں کہتا ہے کہ "سلخ" کا معنی جانور کی کھال اتارنا ہے اور بدن سے زره اتارنے اور مہینے کے اختتام کے لیے بھی بولاجاتا ہے لیکن بعض مفسرین کہتے ہیں کہ یہ اسی صورت میں ہے کہ جب سلخ "عن" کے ساتھ متعدی ہو اور اگر "من" کے ساتھ متعدی ہو تو پھر باہر نکالنے کے معنی میں ہے لیکن اس فرق کی کوئی واضح دلیل ہمیں کتب لغت میں نہیں ملی اگرچہ لسان العرب میں یہ ہے کہ : انسلغ النهار من الیل خرج منه خروجا دن رات سے سلخ ہوا یعنی اس سے نکلا ۔ لیکن ظاہر یہ ہے کہ یہ پہلے ہی معنی سے لیا گیا ہے. ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- پر مردہ زمینوں کو زندہ کرنے کے ذکر کے بعد ـــــ دن کی روشنی کے رات کی تاریکی میں تبدیل ہو جانے کو زندگی کے بعد موت کے نمونے کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ بہرحال جس وقت انسان رات کی تاریکی میں ڈوب جاتا ہے تو وہ نوراور اس کی برکات ، ہیجانات اور اس کے منبع وجود کو یاد کرتا ہے اور ایک موازنے کے ذریعے ... "نور و ظلمت" کے خالق سے آشنا ہوتا ہے۔ تیسری نشانی کہ جس کی طرف رات کی نشانی کے بعد اشارہ ہوا ہے، نور ، روشنی اور سورج کی نشانی ہے ۔ قرآن کہتا ہے : "خورشید بھی ان کے لیے ایک نشانی ہے کہ جو ہمیشہ اپنے ٹھکانے کی طرف حرکت میں ہے"۔ (والشمس تجري لمستقر لها)۔ ؎1 یہ آیت سورج کی مسلسل اور دائمی حرکت کو وضاحت کے ساتھ بیان کرتی ہے لیکن اس بارے میں کہ اس حرکت سے کیا مراد ہے ، مفسرین نے بہت بحث کی ہے۔ بعض اسے زمین کے گرد سورج کی ظاہری حرکت کی طرف اشارہ سمجھتے ہیں کہ یہ حرکت اس عالم کے اختتام تک جاری و ساری ہے۔ کہ جو درحقیقت سورج کا ٹھکانا اور اس کی زندگی کا اختتام ہے۔ بعض نے گرمیوں اور سردیوں میں زمین کے شمال و جنوب کی طرف ، سورج کے جھکنے کی طرف اشارہ سمجھا ہے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ سورج موسم بہار کے آغاز سے خط اعتدال سے شمال کی طرف جھنکے لگتا ہے اور 23 درجہ شمال کے مدارتک جاتا ہے اور گرمیوں کے آغاز سے ہیچھے کی طرف لوٹتا ہے یہاں تک کہ آ غارخزاں تک خط اعتدال جاتا ہے اور اسی خط ہے وہ اپنا سفر سردیوں کے آغاز تک جنوب کی طرف جاری رکھتا ہے اور سردیوں کے آغاز سے خط اعتدال کی طرف حرکت کرتا ہے اور آغاز بہار میں وہاں تک پہنچ جاتا ہے ۔ البتہ یہ تمام حرکتیں حقیقت میں زمین کی حرکت اور اس کے محور کے اس کے مدار کی نسبت جھکاؤ سے پیدا ہوتی ہیں۔ اگرچہ ظاہر میں سورج کی حرکت محسوس ہوتی ہے۔ بعض دوسروں نے اسے "کره آفتاب" کی حرکت وصنعی کی طرف اشارہ جانا ہے کیونکہ ماہرین اور سائنسدانوں کی تحقیق نے قطعی طور پر ثابت کر دیا ہے کہ سورج خود اپنے محور کے گرد گردش کرتا ہے۔ ؎2 زیر بحث آیت کی آخری اور جدید ترین تفسیر وہی ہے جو ماہرین نے کشف کی ہے اور وہ سورج کا ، ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------ ؎1 اس جملے کی ترکیب میں دو احتمال ہیں پہلا یہ کہ "الیل" پر عطف ہے۔ اس صورت میں معنی اس طرح ہوگا "واية لهم الشمس" (اور سورج ان کے لیے آیت ہے) اور دوسرا یہ کہ الشمس مبتداء ہے اور تجری اس کی ضمیر ہے۔ ہم نے پہلے احتمال کو اختیار کیا ہے ۔ ؎2 اس تفسیر کے مطابق "لمستقرلها" میں "لام" " في " کے معنی میں ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہماری کہکشاؤں کے وسط میں تمام نظام شمسی کے ساتھ ایک معین سمت اور دور دراز کے ستارے کی طرف کہ جسے "وگا" کہتے ہیں ، حرکت کرتا ہے۔ یہ سب معانی ایک دوسرے کے ساتھ کوئی تضاد نہیں رکھتے اور ممکن ہے کہ "تجری" ان تمام حرکات اور بعض دوسری حرکات کی طرف بھی اشارہ ہو کہ جن تک ہمارا علم نہیں پہنچا اور شاید آئندہ زمانے میں وہ معلوم ہوجائیں ۔ بہرحال سورج کے اتنے بڑے عظیم کرے کو حرکت دینا کہ جو ہماری زمین سے بارہ لاکھ گنا بڑا ہے اور وہ بھی اس فضائے بکراں میں پورے حساب کتاب کے ساتھ حرکت دینا کسی کے بس میں نہیں ہے سوائے اس خدا کے کہ جس کی قدرت تمام قدرتوں سے مافوق ہے اور جس کا علم غیر متناہی ہے۔ اسی بنا پر آیت کے آخر میں فرمایا گیا ہے: یہ خدائے قادر و دانا کی تقدیر ہے"۔ (ذلك تقديرا لعزيز العليم)۔ اس آیہ کے سلسلے میں آخری بات یہ ہے کہ اس کی تعبیرات میں شمسی سال کے پر معنی نظام کی طرف اشارہ ہے کہ جو مختلف برجوں میں سورج کے حرکت کرنے سے حاصل ہوتا ہے۔ ایسا نظام کہ جو انسان زندگی کو نظم و ضبط اور پروگرام دیتا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کو ظلم کرتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــ اس لیے بعد والی آیت میں اس بجث کی تکمیل کے لیے ، چاند کی حرکت اور اس کی منازل کے بارے میں گفتگو کی گئی ہے کہ جس سے مہینے کے دنوں کا نظام بنتا ہے۔ فرمایا گیا ہے: "ہم نے چاند کے لیے منزلیں قرار دی ہیں اور ایک وقت وہ ان منزلوں کو طے کرلیتا ہے تو آخرکار کھجور کی پرانی شاخ کی مانند کمان کی صورت اور زردرنگ اختیار کرلیتا ہے"۔ (القمر قدرناه منازل حتى عاد کا لحرجون القدیم)۔ "منازل" سے مراد وہی اٹھائیس منزلیں ہیں کہ جنہیں چاند "محاق" اورمطلق تاریکی سے پہلے طے کرتا ہے کیونکہ جس وقت مہینے کے تیسں دن پورے ہوں تو وہ اٹھائیس راتوں تک آسمان پر دیکھا جاسکتا ہے لیکن اٹھائیسویں رات بہت ہی باریک ، زرد رنگ ، کم نوراور ہلال کی صورت میں ظاہر ہوتا ہے اور باقی دو راتوں میں نظر بھی نہیں آتا۔ کہ جسے "محاق" کا نام دیتے ہیں لیکن وہ مہینے جو انتیس دن کے ہوتے ہیں ان میں ستائیسویں رات تک چاند آسمان پرنظرآتا ہے اور باقی دو راتیں "محاق" کی ہیں ۔ یہ منزلیں مکمل طور پر حساب شدہ ہیں اسی طرح سے کہ منجمین سینکڑوں سال پہلے اپنے دقیق حساب کتاب کے مطابق پیش گوئی کرسکتے ہیں۔ یہ عجیب وغریب نظام انسانوں کی زندگی کو نظم و ضبط بخشتا ہے اور یہ ایک طبیعی آسمانی تقویم ہے کہ جسے ہر پڑھا لکھا اور ان پڑھ نجومی پڑھ سکتا ہے۔ اس طرح سے کہ اگر انسان مختلف راتوں میں چاند کی کیفیت میں تھوڑا سا غور کرے تو اسے دیکھنے سے ہی صحیح صحیح یا قریب قریب جان سکتا ہے کہ یہ رات مہینے کی کون سی رات ہے (ہم نے خود اس بات کو آزمایا ہے)۔ کیونکہ ابتداۓ ماہ میں چاند کی نوکیں اپور کی طرف ہوتی ہیں اور پھر رفتہ رفتہ چاند کے حجم میں اضافہ ہوتا جاتا ہے ۔ یہاں تک کہ ساتویں تک پورے چاند کا آدھا دائرہ ظاہرہوجاتا ہے ۔ پھر اس میں اضافہ ہوتا رہتا ہے یہاں تک کہ چودھویں رات کو بدرکامل کی شکل میں ظاہرہوتا ہے ۔ اس کے بعد چاند نیچے کی سمت سے گٹھنا اور کم ہونا شروع ہوجاتاہے ۔ اکیسویں تک (گھٹتے گھٹتے) پھرآدھے دائرے کی شکل میں ہوجاتا ہے اور اسی طرح اس میں کمی ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ اٹھائیسویں شب و کو ضعیف اور کم رنگ ہلال کی صورت اختیارکرلیتا ہے اور اس رات اس کی نوکیں نیچے کی طرف ہوتی ہیں۔ ہاں! انسانوں کی زندگی کی بنیاد تنظیم سے ہی درست رہتی ہے اور نظم و ضبط ، زمانہ اور وقت کی دقیق تعین کے بغیر ممکن نہیں ہے، خدا نے آسمان میں ہی ماہانہ اور سالانه دقیق تقویم اسی مقصد کے لیے قرار دی ہے۔ یہیں سے "کالعرجون القدیم" ۔؎1 کی لطیف تعبیر کا مفہوم واضح ہوجاتا ہے ، کیونکہ "عرجون" جیسا کہ مفسرین اور ارباب لغت نے بیان کیا ہے، کھجور کے خوشے کے اس حصے کرکہتے ہیں کہ جو درخت سے ملا ہوا ہوتا ہے ۔ اس کی وضاحت اس طرح ہے کہ خرمے خوشے کے شکل میں درخت پرظاہر ہوتے ہیں . اس خوشے کا نچلا حصہ زرد رنگ کمان کی شکل میں ہوتا ہے کہ جو درخت کے ساتھ متصل ہوتا ہے اور اس کی نوک جادو کی طرح ہوتی ہے اور خرمے کے دانے انگور کے دانوں کی طرح اس کے دھاگوں کے ساتھ متصل ہوتے ہیں ۔ جس وقت کھجور کے خوشے کو کاٹتے ہیں تو وہ قوسی شکل کا نچلا حصہ درخت پرباقی رہ جاتا ہے اور جس وقت وہ خشک اور پژمردہ ہو جاتا ہے تو مکمل طور پر "محاق" سے پہلے والے ہلال کی طرح ہوتا ہے کیونکہ جس طرح آخری ماہ میں ہلال آسمان کے مشرق کی طرف صبح کے وقت یوں ظاہر ہوتا ہے کہ وہ خمیده ، پژمردہ اور زرد رنگ ہوتا ہے اور اس کی نوکیں نیچے کی طرف ہوتی ہیں "عرجون القديم" بھی اسی طرح ہوتا ہے ۔ حقیقت میں یہ مشابہت مختلف جہات میں ظاہر ہوتی ہے ، کھجور کے خوشے کی لکڑی کے ہلالی نما ہونے کے لحاظ سے زرد رنگ ہونے کے لحاظ سے پژمردگی کے لحاظ سے اس کی قوس کی نوک کے نچلی طرف مائل ہونے کے لحاظ سے اور کھجورکے درخت کی سبزرنگ شاخوں کے درمیان ہونے کے لحاظ سے کہ جوسیاه رنگ آسمان پر آخری رات کے ہلال کے قرار پانے ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "عرجون" بعض ارباب لغت کے مطابق "انعراج" کے مادہ سے "اعوجاج" اور "انعطاف" (ٹیڑھ پن اورجھکاؤ) کے معنی میں لیا گیا ہے۔ اس بنا پر اس کی نون زائد ہے اور "فعلون" کے وزن پر ہے لیکن بعض دیگرکے نزدیک یہ لفظ "عرجن" کے مادہ سے لیا گیا ہے اور اس نون اصلی ہے اور یہ شاخ کے نچلے حصے کے معنی میں ہے کہ جو ٹیڑھا ہوجاتا ہے اور کھجور کے درخت پر باقی راہ جاتا ہے اور "قدیم" ہر اس کنہ اور پرانی چیز کے معنی میں ہے کہ جسے ایک زمانہ گزر گیا ہو۔ ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کے ساتھ غیر مشابہ نہیں ہے نیز اسے "قدیم" کہنا اس کی کہنگی کی طرف اشارہ ہے کیونکہ جس قدر یہ شاخیں ، زیادہ کہنہ ہوجاتی ہیں اسی قدر زیادہ باریک اور زیادہ زردرنگ ہوجاتی ہیں، آخر ماہ کے ہلال سے زیادہ مشابہ ہو جاتی ہیں سبحان اللہ ایک چھوٹی سی تعبیرمیں کتنی لطافتیں اورکیسی کیسی زیبائیاں پنہاں ہیں۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ آخری زیر بحث آیت میں سال ، ماہ اور شب و روز کے اس نظام کے ثبات و دوام کے بارے میں گفتگو ہے۔ پروردگار نے ان کے لیے اس طرح سے پروگرام منظم کیا ہے کہ ان کی کیفیت میں معمولی سا اختلاف بھی پیدا نہیں ہوتا اور تاریخ بشر اسی ثبات کی بنا پر مکمل طور منظم رہتی ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "نہ تو سورج کے بس میں ہے کہ چاند تک پہنچ جائے اور نہ ہی رات دن پرسبقت لے جاسکتی ہے اور ان میں سے ہر ایک اپنے اپنے مدار میں تیر رہے ہیں" (لا الشمس ينبغي لها أن تدرك القمر ولا الليل سابق النهار وكل في فلك يسبحون) - ہم جانتے ہیں کہ سورج اپنا دورہ بارہ برجوں میں ایک سال میں مکمل کرتا ہے جبکہ چاند اپنی منزلوں کو ایک مہینے میں طےکرتا ہے۔ اس بنا پر چاند کا اپنے مدار میں گردش کرتا ، سورج کی اپنے مدار میں گردش سے بارہ گنا زیادہ تیز ہے۔ لہذا فرمایا گیا ہے کہ سورج اپنی گردن میں ہرگزچاند تک نہیں پہنچتا اور وہ اپنی ایک سالہ حرکت کو ایک ماہ میں انجام نہیں دیتا اور سالانہ نظام درہم برہم نہیں ہوتا ۔ اسی طرح رات دن پر سبقت حاصل کرکے اس کا ایک حصہ اپنے اندر داخل نہیں کرلیتی کہ موجودہ نظام ٹوٹ جائے بلکہ یہ سب کے سب اپنا سفر ہزاروں سال سے بغیرکسی تبدیلی کے جاری وساری رکھے ہوئے ہیں ۔ ہم نے جو کچھ بیان کیا ہے اس سے واضح ہوجاتا ہے کہ اس بحث میں سورج کی حرکات سے مراد اس کی وہ حرکت ہے کہ جو ہماری جس کے مطابق ہے. قابل توجہ بات یہ ہے کہ یہ تعبیر اس امر کے پایہ ثبوت کو پہنچ جانے کے بعد بھی ـــ کہ سورج اپنی جگہ پرساکن ہے اور زمین ایک سال کی مدت میں اس کے گرد چکرلگاتی ہے ۔ کارآمد ہے۔ مثلاً آج بھی ہم یہ کہتے ہیں کہ سورج برج حمل میں داخل ہوگیا ہے یا سورج دائرہ نصف النہار پر پہنچ گیا ہے یا اس کا میل کلی تک پہنچنا ہے (میل کلی سے مراد گرمیوں کی ابتداء میں نصف کرہ شمالی میں سورج کا اپنے آخری نقطہ ارتفاع تک پہنچ جانا یا اس کے برعکس سردیوں کی ابتداء میں آخری نچلی حد تک پہنچنا ہے)۔ یہ سب کی سب تعبیریں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ زمین کے سورج کے گرد گردش کرنے اورسورج کےساکن ہونے کے انکشاف کے بعد بھی سورج کی حرارت سے متعلق گزشتہ تعبیرات کی استعمال ہوتی ہیں کیونکہ حسی طور پر ایسا کیا نظر آیا ہے کہ سورج حرکت میں ہے ۔ سورج اور چاند کا اپنے اپنے افلاک میں تیرنے (كل في فلك يسبحون) کا مفہوم بھی نہیں سے پیدا ہے۔ یہ احتمال بھی ہے کہ سورج کے اپنے فلک میں تیرنے سے مراد نظام شمسی اور اس کہکشاں کے ساتھ اس کا حرکت کرنا ہے کہ جس میں ہم موجود ہیں کیونکہ موجودہ زمانے میں یہ امرثابت ہوچکا ہے کہ ہمارا نظام شمسی اس عظیم کہکشاں کا آیا جز ہے کہ جو خود اپنے گرد گردش کر رہی ہے۔ ؎1 کیونکہ "فلك" جیسا کہ ارباب لغت نے بیان کیا ہے اصل میں لڑکیوں کے پستان ابھرنے اور گول شکل اختیار کرنے کے معنی میں ہے۔ بعد ازاں یہ لفظ زمین کے ان قطعات کے لیے کہ جو گول ہیں یا دوسری گول چیزوں کے لیے استعمال ہونے لگا ۔ اسی بنا پر سیاروں کی گردش کے راستوں پربھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔ "كل في فلك يسبحون" کا جملہ بہت سے مفسرین کے نظریے کے مطابق سورج ، چاند اور ستاروں میں سے ہر ایک کی طرف اشارہ ہے کہ جو اپنا اپنا راستہ اور مدار رکھتے ہیں ، اگرچہ آیات میں ستاروں کا نام نہیں آیا لیکن "لیل" (رات) کے ذکر کی طرف توجہ کرتے ہوئے اور ستاروں کا چاند اور سورج کے مانند ہونے کو دیکھتے ہوئے مذکورہ جملے سے معنی کو سمجھنا بعید نظر نہیں آتا ۔ خاص طورپر جبکہ "یسبحون" صیغہ جمع کی شکل میں بیان ہوا ہے۔ یہ تفسیر بھی موجود ہے کہ ممکن ہے یہ جملہ سورج ، چاند اور رات اور دن کی طرف اشارہ ہو کیونکہ رات اور دن میں سے ہر ایک اپنے لیے ایک مدار رکھتے ہیں اور کره زمین کے گرد گردش کرتے ہیں ، تاریکی کره زمین کے نصف حصہ کو ہمیشہ چھپائے رکھتی ہے اور روشنی دوسرے نصف حصہ پررہتی ہے اور یہ دونوں چوبیسں گھنٹوں میں ایک پورا دور زمین کے گرد لگاتے ہیں۔ "يسبحون" "سباحت" کے مادہ سے ہے۔ مفردات میں راغب کے مطابق اصل میں یہ لفظ پانی اور ہوا میں سریع اور تیز حرکت کے معنی میں ہے۔ ؎2 یہاں یہ لفظ آسمانی کروں کی سریع حرکت کی طرف اشارہ کررہا ۔------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 یہ حرکت اس حرکت کے علاوہ ہے کہ جو پورے نظام شمسی کی کہکشاں کے اندر ہے کہ جو ستاره "وگا" کی طرف حرکت میں ہے اور اس کی طرف ہم سے اشارہ بھی کیا ہے۔ ؎2 یہ جو خدا کے ذکر اور اس کی عبادت کو" تسبیح" کہتے ہیں تو وہ بھی اسی وجہ سے ہے اور وہ بھی پیدوردگار کی اطاعت و عبادت کی راہ میں ایک تیز حرکت ہے، (مفردات را غب مادہ" سبح") ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ہے اور انہیں اسی عاقل موجودات سے تشبیہ دے رہا ہے کہ جو تیزی کے ساتھ اپنی گردش جاری رکھے ہوۓ ہوں۔ موجودہ زمانے میں بھی یہ حقیقت ثابت ہوچکی ہے کہ اجرام سمادھی بہت ہی حیران کن تیزی کے ساتھ اپنے مدار میں حرکت کرتے ہیں۔ ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ