هُوَ الَّذِي جَعَلَكُمْ خَلَائِفَ فِي الْأَرْضِ فَمَن كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهُ وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ عِندَ رَبِّهِمْ إِلَّا مَقْتًا وَلَا يَزِيدُ الْكَافِرِينَ كُفْرُهُمْ إِلَّا خَسَارًا
It is He who made you successors on the earth. So whoever is faithless, his unfaith is to his own detriment. The unfaith of the faithless does not increase them with their Lord [in anything] except disfavour, and their unfaith increases the faithless in nothing except loss.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 35:39
[Pooya/Ali Commentary 35:39]
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:39-41
اس کی قدرت کے سامنے چھوٹا بڑاسب برابر ھے
اس کی قدرت کے سامنے چھوٹا بڑاسب برابر ھے یہ بات قابل توجہ ہے کہ زیر بحث آیات میں آسمانوں کے اپنی جگہ پر قائم رہنے کو خدا کی قدرت کے ساتھ منسلک کیا گیا ہے۔ قرآن کی دوسری آیات یہی تعبیرامواج ہواکے اوپر پرندوں کی موجودگی کے بارے میں آئی ہے : الم يروا الى الطيرمسخرات في جو السماء ما يمسكهن الا الله ان في ذالك لآيات لقوم يؤمنون ۔ کیا انہوں نے پرندوں کو نہیں دیکھا کہ جو آسمان کی بلندیوں میں مسخر ہیں ، خدا کے سوا کوئی بھی انہیں نہیں روکتا ۔ اس چیز میں ایمان لانے والوں کے لیے خدا کی عظمت و قدرت کی نشانیاں ہیں"۔ (النحل - 79)۔ تعبیرات کی یہ ہم آہنگی اس بات کی نشاندہی کرتی ہے کہ پروردگار کی بے انتہا قدرت کے لیے تمام آسمانوں کے کروں اور زمین کی نگہداری امواج ہوا کے اوپر ایک پرندہ کی نگہداری کے مانند ہے۔ ایک مقام پر تو وہ وسیع آسمان کی خلقت کو اپنے وجود کی نشانی بتاتا ہے اور دوسری جگہ مچھر جیسے چھوٹے سے حشرہ کی خلقت کو اپنی قدرت کی نشانی قرار دیتا ہے۔ کبھی "سورج" کی قسم کھاتا ہے کہ جو عالم ہستی میں قوت و طاقت کا عظیم منبع ہے اور کبھی بہت ہی عام "انجیر" جیسے پھل کی قسم کھاتا ہے۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اس کی قدرت کے سامنے چھوٹے بڑے میں کوئی فرق نہیں امیرالمومنین علی علیہ السلام فرماتے ہیں: وما الجليل واللطیف والثقيل والخفيف ، والقوى والضعيفت في خلقه الأسواء۔ چھوٹا اور بڑا ، بھاری اور ہلکا ، قوی اورضعیف سب اس کی توانائی کے سامنے یکساں ہیں ۔ ؎1 ان تمام مسائل کی دلیل ایک ہی چیز ہے اور وہ یہ ہے کہ خدا کا وجود ایک ایسا وجود ہے کہ جو ہر جہت سے لامتناہی ہے اور "لامتناہی" کے مفهوم پر غور و خوض اس حقیقت کو اچھی طرح ثابت کردیتا ہے کہ "سخت" اور "آسان" "چھوٹا اور "بڑا" "پیچیدہ" اور "سادہ" جیسے مفاہیم صرف محدود موجودات کو پیش آتے ہیں ۔ جس وقت لامحدود قدرت کے بارے میں بات ہوتی ہے تو پھر یہ مفاہیم بالکل بدل جاتے ہیں اور سب کے سب بالا تفريق ایک ہی صف میں قرار پاتے ہیں ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نہج البلاغہ ، خطبہ 185 ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:39-41
سوره فاطر / آیه 39 - 41
(39) هُوَ الَّـذِىْ جَعَلَكُمْ خَلَآئِفَ فِى الْاَرْضِ ۚ فَمَنْ كَفَرَ فَعَلَيْهِ كُفْرُهٝ ۖ وَلَا يَزِيْدُ الْكَافِـرِيْنَ كُفْرُهُـمْ عِنْدَ رَبِّـهِـمْ اِلَّا مَقْتًا ۖ وَلَا يَزِيْدُ الْكَافِـرِيْنَ كُفْرُهُـمْ اِلَّا خَسَارًا (40) قُلْ اَرَاَيْتُـمْ شُرَكَآءَكُمُ الَّـذِيْنَ تَدْعُوْنَ مِنْ دُوْنِ اللّـٰهِ ؕ اَرُوْنِىْ مَاذَا خَلَقُوْا مِنَ الْاَرْضِ اَمْ لَـهُـمْ شِرْكٌ فِى السَّمَاوَاتِۚ اَمْ اٰتَيْنَاهُـمْ كِتَابًا فَـهُـمْ عَلٰى بَيِّنَتٍ مِّنْهُ ۚ بَلْ اِنْ يَّعِدُ الظَّالِمُوْنَ بَعْضُهُـمْ بَعْضًا اِلَّا غُرُوْرًا (41) اِنَّ اللّـٰهَ يُمْسِكُ السَّمَاوَاتِ وَالْاَرْضَ اَنْ تَزُوْلَا ۚ وَلَئِنْ زَالَتَآ اِنْ اَمْسَكَـهُمَا مِنْ اَحَدٍ مِّنْ بَعْدِهٖ ۚ اِنَّهٝ كَانَ حَلِيْمًا غَفُوْرًا ترجمہ (39) وہ وہی ہے کہ جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا۔ اب جوشخص کافرہوگا تو اس کا نقصان خود اسی کو ہوگا اور کافروں کا کفر پروردگار کے ہاں ان کےلیےغضب کے سوا اور کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا اور ان کا کفرخسارے کے سوا اور کچھ نہیں بڑھاتا۔ (40) کہو : کیا تم اپنے ان معبودوں کے بارے میں غور نہیں کرتے ہو جنہیں تم نے خدا کا شریک قرار دیا ہے۔ مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین کی کس چیز کو پیدا کیا ہے یا یہ آسمانوں کی خلقت اور مالکیت) میں کیا شرکت رکھتے ہیں؟ کیا ہم نے انہیں کوئی ایسی (آسمانی) کتاب دی ہے کہ جس میں سے اپنے (شرک کے) لیے کوئی دلیل رکھتے ہیں ؟ نہیں ان میں سے کوئی چیز بھی نہیں ہے بلکہ تمام لوگ صرف ایک دوسرے سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں۔ (41) خدا ہی آسمان و زمین کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنے نظام سے منحرف نہ ہوجائیں اور اگر وہ منحرف ہوجائیں تو اُس کے علاوہ کوئی اور انہیں روک نہیں سکتا۔ وہ حلیم وغفور ہے۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 35:39-41
آسمان و زمین اس کی قدرت سے قائم هیں
تفسیر آسمان و زمین اس کی قدرت سے قائم هیں ان مباحث کے بعد کہ جو گزشتہ آیات میں کفارو مشرکین کے انجام کے بارے میں تھیں زیربحث آیات میں ایک اور طریقے سے ان سے باز پرس کی گئی ہے اور ان کے طرز عمل کے بطلان کو کچھ اور واضح دلائل کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔ ارشاد ہوتا ہے: "وہ وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں جانشین بنایا" (هوالذي جعلكم خلائف في الارض )- یہاں پر "خلائف" چاہے زمین میں خدا کے خلفاء اور خدائی نمائندوں کے معنی میں ہو اور خواہ و گزشتہ اقوام کے جانشینوں کے معنی میں (اگرچہ یہاں پر دوسرا معنی ہی زیادہ صحیح نظر آتا ہے) انسانوں پر خدا کے انتہائی لطف و کرم کی دلیل ہے کہ اس نے زندگی کے تمام وسائل انہیں عطا فرمائے ہیں۔ اسی نے عقل وشعور اور فکر ہوش دیئے ہیں اور اسی نے مختلف جسمانی قویٰ انسان کو عطا کیے ہیں ۔ اسی نے روئے زمین کو طرح طرح کی نعمتوں سے بھر دیا ہے۔ اسی نے ان وسائل سے استفاده کرنے کا طریقہ بھی انسان کو سکھایا ہے ۔ اس کے باوجود وہ اپنے ولی نعمت کو بھلا کر بے حقیقت اور بناوٹی خداؤں کے دامن سے کیسے وابستہ ہوجاتا ہے؟ درحقیقت یہ جملہ توحید و ربوبیت کا بیان ہے کہ جو توحید عبادت پرایک دلیل ہے۔ ضمنی طور پر یہ جملہ تمام انسانوں کے لیے ایک تنبیہ بھی ہے کہ وہ جان لیں کہ ان کی یہ زندگی ابدی و جاودانی نہیں ہے جس طرح سے یہ دوسری اقوام کے جانشین بنے ہیں ، کچھ دنوں کے بعد چلے جائیں گے اور دوسری قومیں ان کی جانشین ہوجائیں گی ۔لہذا ٹھیک طرح سے سوچ لیں کہ وہ اس چند روزہ زندگی میں کیاکررہے ہیں اور اپنے مستقبل کو کس طرح لکھ رہے ہیں اور ان سے متعلق دُنیا میں کس طرح کی تاریخ باقی رہ جائے گی؟ اسی بنا پر ساتھ ہی یہ فرمایا گیا ہے:"جو شخص کافر ہو جائے گا اس کا کفرخود اسی کے نقصان میں ہے ہوگا"(فمن کفر فعليه کفرہ) - "نیز کافروں کا کفر پروردگار کے نزدیک غضب کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا "(ولایزیداالكافرين كفرهم عند ربهم المقتًا)۔ "اور ان کا کفرخسارے کے سوا ان کے لیے کچھ بھی زیادہ نہیں کرتا" (ولایزیدا لكافرين کفروالاخسارًا)۔ درحقیقت آخری دو جملے "من كفر فعليه كفره" کی تفسیر ہیں کیونکہ یہ جملہ کہتا ہے کہ انسان کا کفرصرف اس کے اپنے نقصان پر تمام ہوتا ہے اس کے بعد اس مسئلے کے لیے دو دلیلیں قائم کرتا ہے : پہلی دلیل یہ ہے کہ یہ کفران اور بے ایمانی ان کے پروردگار کے ہاں کہ جو تمام نعمتوں کا بخشے والا ہے اس کے غضب کے سوا کوئی نتیجہ نہیں رکھتی۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ خشم الٰہی کے علاوہ یہ کفر گھاٹے کے سوا کسی چیز کا اضافہ نہیں کرتا ، وہ اپنی ہستی کا سرمایہ اپنے ہاتھ سے د ے بیٹھتے ہیں اور انحطاط اور ظلمت کو اپنے لیے خرید لیتے ہیں ، اس سے زیادہ اور کیا نقصان ہو گا؟ ان دونوں میں سے ہر ایک دلیل اس غلط روش کو باطل کرنے کے لیے کافی ہے۔ "لايزيد" (زیادہ نہیں کرتا) کی تکرار وہ بھی فعل مضارع کی شکل میں کہ جو استمرارکی دلیل ہے، اس حقیقت کی طرف اشارہ ہے کہ انسان طبعی طور پر افزائش کی جستجو میں ہوتا ہے ۔ اگر وہ توحید کا راستہ اختیار کرلے تو سعادت و کمال میں افزائش ہوگی اور اگر کفر کی راہ میں قدم رکھے گا تو اسے پروردگار کے غضب اور خسارے میں اضافہ نصیب ہوگا۔ اس نکتے کی یاد دہانی بھی ضروری ہے کہ پروردگار کا غضب اور غصہ اس معنی میں نہیں ہے کہ جو انسانوں میں ہوتا ہے کیونکہ انسان میں توغصہ ایک قسم کا ہیجان اور اندرونی برا فروختگی ہے کہ جو تند و تیز و اور شدید حرکات کا سرچشمہ ہوتی ہے اور انسانی قوتوں کو دفاع کے لیے یا انتقام لینے کے لیے مجتمع کرتی ہے لیکن پروردگار میں ان مفاہیم میں سے کوئی بھی بات نہیں ۔ اور یہ تو متغیر اور ممکن موجودات کے آثار ہیں ۔ بلکہ غضب الٰہی سے مراد ایسے لوگوں سے کہ جو بُرے اعمال کے مرتکب ہوتے ہیں رحمت کے دامن کو کھینچ لینا اور اپنے لطف کو روک لینا ہے۔ بعد والی آیت ایک اور دو ٹوک جواب مشرکین کو دیتی ہے اور انہیں یہ بات سمجھاتی ہے کہ اگرانسان کسی کی پیروی کرتا ہے یا اس سے دل لگاتا ہے تو اسے چاہیئے کہ اس کے لیے کوئی عقلی دلیل رکھتا ہو یا منقولات میں سے کوئی قطعی دلیل اس کے پاس ہو ۔ قرآن کہتا ہے کہ تمہارے پاس تو ان دونوں میں سے کوئی بھی دلیل موجود نہیں ہے۔ اس صورت میں تو تم صرف دھوکے اور فریب میں مبتلا ہو۔ فرمایا گیا ہے:"ان سے کہہ دے ، کیا تم جعلی معبودوں کے بارے میں غور نہیں کرتے کہ جنہیں تم نے خدا کا شریک سمجھ لیا ہے ، مجھے دکھاؤ تو سہی کہ انہوں نے زمین میں سے کس چیز کو پیدا کیا ہے" (قل ارء یتم شرکائكم الذين تدعون من دون الله أروني ماذا خلقوا من الارض )۔ ؎1 یا کیا وہ آسمانوں کی خلقت میں شریک ہیں" (ام لھم شرك في السماوات)۔ اس حال میں ان کی پرستش کی کیا دلیل ہے ؟معبود ہونا خالق ہونے کی فرع ہے اور جبکہ تم جانتے ہو کہ آسمان و زمین کا خالق تو صرف خدا ہے تو اس کے سوا کوئی اور معبودبھی نہیں ہوگا کیونکہ ہمیشہ خالقیت میں توحید ، عبودیت میں توحید کی دلیل ہے۔ اب جبکہ ثابت ہوگیا کہ کوئی عقلی دلیل تمہارے مدعا کے لیے نہیں ہے تو کیا کوئی دلیل منقول تمھارے پاس موجود ہے؟ "کیا ہم نے کوئی (آسمانی) کتاب انہیں دی ہے اور اپنے اس کام کے لیے اس میں ان کے پاس کوئی واضح دلیل ہے؟ (ام اتيناھم کتابًا فهم علٰى بينة منه)- نہیں کتاب الٰہی میں سے ان کے پاس کوئی واضح دلیل اور برہان نہیں ہے پس ان کا سریایہ مکر و فریب کے سوا اور کچھ نہیں ہے۔ "بلکہ یہ ستمگر ایک دوسرے سے جھوٹے وعدے کرتے ہیں"۔ (بل ان يعد الظالمون بعضهم بعضًا الاغرورًا)۔ دوسرے لفظوں میں اگر ہر گروہ کے بت پرست اور تمام مشرک یہ دعوٰی رکھتے ہیں کہ روئے زمین میں ان کے بت ان کی مرادوں کو پورا کرنے کی قدرت رکھتے ہیں، تو انہیں چاہیئے کہ کوئی ایسی چیز نمونے کے طور پر پیش کریں کہ جو زمین میں ان کے معبودوں نے خلق کی ہو۔ اگر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ یہ بت فرشتوں اور آسمان کی مقدس مخلوقات کے مظہر ہیں ۔ جیسا کہ ان کی ایک جماعت کا عقیدہ تھا ۔تو انہیں چاہیئے کہ آسمانوں میں ان کی خلقت کی شرکت کی نشاندہی کری اور اگر ان کا عقیدہ یہ ہے کہ خلقت میں تو شریک نہیں ہیں ۔البتہ انہیں صرف مقام شفاعت حاصل ہے ۔ جیسا کہ بعض کا دعوٰی تھا ــ تو انہیں چاہیے کہ وہ کتب آسمانی سے کوئی سند اس مدعا کوثابت کرنے کے لیے پیش کریں۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "ارایتم" کاجملہ ، کیا تم دیکھتے نہیں ؟ کیا تم غور نہیں کرتے؟ کے معنی میں ہے لیکن بعض مفسرین نے اسے "اخبروني " (مجھے خبردو) کے معنی میں لیا ہے۔ ہم نے پانچویں جلد میں سورہ انعام کی آیہ 40 کے ذیل میں تفصیلی بحث کی ہے۔ ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- اب جبکہ ان مدارک میں سے کوئی بھی مدرک ان کے پاس نہیں ہے تو ستمگر ایسے فریب کارہیں کہ جو موٹی باتیں ان سے کہتے رہے ۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ "زمین و آسمان" سے مراد یہاں زمینی اور آسمانی مخلوق کا مجموعہ ہے اور زمین کے بارے میں خلقت اور آسمان کے بارے میں شرکت کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ آسمانوں میں شرکت بھی خلقت کے حوالے سے ہونا چاہیئے۔ اور "کتابًا" کی تبعیر "نکرہ" کی شکل میں اور وہ بھی پروردگار کی طرف استناد کے ساتھ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ کسی بھی آسمانی کتاب میں کوئی چھوٹی سے چھوٹی دلیل بھی ان کے دعوٰی پر نہیں ہے۔ "بينة" کی تعبیر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ واضح و روشن دلیل آسمانی کتب سے بھی حاصل کی جاسکتی ہے۔ "ظالمون" کی تعبیر دوبارہ اسی معنی پر ایک تاکید ہے کہ "شرک" واضح اورآشکار "ظلم" ہے۔ "غرور" کے وعدوں کی تعبیر اس بات کو ظاہر کرتی ہے کہ بت پرست یہ خرافات اوہام کھوکھلے وعدوں کی شکل میں ایک دوسرے سے کرتے تھے اور مروج اور بے بنیا د تقلید وں کی صورت میں ایک دوسرے کی طرف القا کرتے تھے ۔ بعد والی آیت میں آسمانوں اور زمین پر خدا کی حاکمیت کے بارے میں گفتگو ہے۔ حقیقت میں بناوٹی معبودوں کی عالم ہستی میں دخالت کی نفی کے بعد خالقیت و ربوبیت میں توحید کو بیان کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے: "خدا ہی آسمان اور زمین کو روکے ہوئے ہے تاکہ وہ اپنی راہ سے منحرف اور زائل نہ ہوجائیں ": ان الله يمسک السماوات و الارض ان تزولا )۔ ؎1 نہ صرف ابتدائی خلقت ہی خدا کی طرف سے ہے بلکہ ان کی نگہداری ، تدبیر اور حفاظت بھی اسی کے دست قدرت میں ہے بلکہ ان میں ہر لحظہ جدید کی تخلیقات ہوتی رہتی ہیں اور ہرزمانے میں ایک نئی خلقت ہوتی ہے اور اس مبداء، فیاض سے لمحہ بہ لمحہ کا فیض ہستی انہیں پہنچتا رہتا ہے کیونکہ اگر ایک لمحے کے لیے بھی ان کا رابطہ اس عظیم مبداء سے منقطع ہو جائے تودہ فنا کی راہ اختیار کرلیں : اگرنازی یکدم فرو ریزند قالبہا " اگر وہ ایک لمحے کے لیے بھی ناز کرے تو تمام سانچے گرپڑیں"۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 "أن تزولا" کا جملہ تقدیر میں اس طرح تھا: الئلاتزولا- یا - كراهة ان تزولا ۔ ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- یہ درست ہے کہ آیت عالم ہستی کے اعلٰی نظام کی حفاظت کا ذکر کرتی ہے لیکن جیسا کہ فلسفیانہ مباحث میں ثابت ہوچکا ہے ، ممکنات اپنی بقاء میں بھی اسی طرح سے مبداء کے محتاج ہیں جس طرح سے کہ اپنے حدوث میں ، لہذا اس طرح نظام کی حفاظت کی تخلیقات کو جاری رکھنے اور فیض خداوندی کو جاری رکھنے کے سوا اور کوئی چیز نہیں ہے۔ یہ بات قابل توجہ ہے کہ آسمانی کرے بغیر اس کے کسی جگہ بندھے ہوئے ہوں ، ہزاروں لاکھوں سال سے اپنے معین مدار پر حرکت کررہے ہیں ۔ بغیر اس کے کہ ذرہ برابر بھی انحراف کریں ۔ اس کا نمونہ نظام و شمسی میں دیکھتے ہیں ۔ ہماری زمین کئی ملین بلکہ کئی ارب سال سے سورج کے گرد اپنے راستے پر دقیق نظم کے تحت چکر لگارہی ہے کہ جس کا سرچشمہ قوت جاذبہ اور قوت واقعہ کا اعتدال ہے اور فرمان پروردگار پرسرتسلیم خم کیے ہوئے ہے۔ پھرتاکید کے طور پر مزید فرمایا گیا ہے: "اگر وہ یہ چاہیں کہ اپنے مدار سے باہر نکل جائیں تو کوئی بھی خدا کے سوا انہیں روک نہیں سکتا" (ولئن زالتا ان امسكهما من أحد من بعده ) - نہ تمهارے گھڑے ہوئے بت ، نہ فرشتے اور نہ ہی ان کے علاوہ کوئی اور کوئی بھی شخص اس کام پر قادرنہیں ۔ آیت کے آخر میں اسی بناء پر کہ گمراہ مشرکین کے سامنے توبہ کا دروازہ بند نہ کیا جائے اور ہر مرحلے میں انہیں بازگشت کا موقع میسر رہے، فرمایا گیا ہے :"خدا ہمیشہ حلیم وغفور ہے"۔ (اته كان حلیمًا غفورًا)۔ اپنے حلم کی وجہ سے ان کی سزا میں جلدی نہیں کرتا اور اپنی غفوریت کی وجہ سے ان کی توبہ اس کی شرائط کے ساتھ قبول کرتا ہے۔ اس بناء پر آیت میں مشرکین کی کیفیت اور توبه و بازگشت کے وقت خدا کی رحمت ان کے شامل حال ہونے کو بیان کیا گیا ہے۔ بعض مفسرین نے ان دو اوصاف کو آسمان و زمین کی حفاظت کے ساتھ مربوط سمجھا ہے کیونکہ ان کا زوال عذاب و مصیبت ہے اور خدا اپنے حلم وغفران کی وجہ سے اس عذاب و مصیبت کو لوگوں اس کے دامن گیر نہیں ہونے دیتا اگرچہ ان میں سے بہت سوں کے گفتار و اعمال کا تقاضایہی ہے کہ یہ عذاب نازل ہو۔ جیسا کہ سوره مریم کی آیات 88 تا 90 بیان ہوا ہے: وقالوا اتخذ الرحمٰن ولدا لقد جئتم سیئًاادًا تكاد السماوات يتفطرن منه و تنشق الأرض وتخر الجبال هدًا۔ "انہوں نے کہا کہ خدائے رحمٰن نے اپنے لیے بیٹاانتخاب کیا ہے۔ تم نے یہ کسی بری اور تکلیف دہ بات کہی ہے؟ قریب ہے کہ آسمان اس بات کو سن کر منتشر ہوجائے اور زمین پھٹ پڑے اور پہاڑ شدت سے نیچے گر پڑیں"۔ یہ نکتہ بھی قابل توجہ ہے کہ "ولئن زالتا" ... کا جملہ اس معنی میں نہیں ہے کہ اگر وہ زائل ہوجائیں تو خدا کے سوا کوئی بھی انہیں نہیں روکے گا بلکہ اس معنی میں ہے کہ اگر وہ مائل بہ زوال ہوں تو خدا ہی ان کو محفوظ رکھ سکتا ہے۔ ورنہ زوال کے بعد محفوظ رکھنے کا کوئی مفہوم نہیں ہے۔ پوری انسانی تاریخ میں بارہایہ امر پیش آیا ہے کہ بعض ستارہ شناسوں نے یہ پیش گوئی کی ہے کہ ممکن ہے کہ فلاں دُمدارستارہ یا اس کے علاوہ کوئی ستارہ اپنے راستے اس کره زمین کے قریب سے گزرے تو اس کے ٹکرا جانے کا احتمال ہے۔ ایسی پیش گوئیوں نے کئی دفعہ تمام دنیا والوں کو پریشان کرکے رکھ دیا۔ ان حالات میں سب کو یہ احساس ہوتا تھا کہ ایسے میں کسی شخص سے کچھ نہیں ہوسکتا کیونکہ اگر فلاں کره آسمانی زمین کی طرف آجائے اور قوت جاذبہ کے زیر اثر دونوں ایک دوسرے سے ٹکراجائیں تو نوع بشر کے کئی ہزارسالہ تمدن کا نام و نشان مٹ جائے یہاں تک کہ دوسرے زندہ موجودات بھی صفحہ زمین پر باقی نہ رہیں ، پروردگار کی قدرت کے سوا کوئی اس حادثے کو روکنے پر قادر نہیں ۔ اس قسم کے حالات میں سب کے سب نیازمطلق کا احساس بے نیاز مطلق خدا کی طرف ہی کریں گے ، لیکن جب احتمالی خطرات برطرف ہوجائیں گے تو بھول اور نسیان انسانوں پر سایہ فگن ہوجائے گا۔ نہ صرف آسمانی گروں اور سیاروں کا ٹکرانا ہولناک ہے بلکہ کسی ایک سیارے کا مختصر سا انحراف مثلًا زمین کا اپنے مدار سے ہٹ جانا کئی ہولناک حادثوں کا سبب ہوسکتا ہے۔ ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ