يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَكُونُوا كَالَّذِينَ آذَوْا مُوسَى فَبَرَّأَهُ اللَّهُ مِمَّا قَالُوا وَكَانَ عِندَ اللَّهِ وَجِيهًا
O you who have faith! Do not be like those who offended Moses, whereat Allah cleared him of what they alleged, and he was distinguished in Allah’s sight.
Agha Ali Puya Commentary
Commentary on Quran 33:69
[Pooya/Ali Commentary 33:69] Refer to the plot of Qarun to malign Musa in the commentary of Qasas: 80; and refer to the commentary of verses 4, 5, 28 to 32 and 36 and 37 of this surah for annoyance caused to the Holy Prophet when he married his cousin Zaynab daughter of Jahsh.
Ali Muhammad Fazil Chinoy Commentary
Commentary on Quran 33:69-73
A fully fledged faithful or a true Shia is attributed with (1) daily attendance to congregational prayers, (2) regular payment of tithe, (3) regular in feeding paupers, (4) is kind to orphans, (5) maintains purity of clothes, (6) is ever ready for timely prayers, (7) fulfills trust, (8) refunds deposits, (9) is straightforward in dealings, (10). is up for truth, (11) is participating in crusade, (12) observes fasts, (13) is regular at midnight prayers, (14) is not worrying neighbours, (15) is pleasing in choosing companions, (16) walks meekly, (17) enquires after widows, (18) attends funerals, (19) never lies, and (20) is ever self-sacrificing. As such he never postpones penance, and is therefore mercified by God against a hypocrite, who enters Islam, to be benefitted thereby, and doubts future Divine Punishment as against an infidel, who denies Eternity, knowingly and faces Divine Prophetship for fear of losing material gains of the world which is transitory.
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:69-71
حضرت موسٰی علیہ السلام پر ناروا تہمتیں
تفسیر حضرت موسٰی علیہ السلام پر ناروا تہمتیں: گذشتہ آیات میں پیغبراسلام صلی الله علیہ و آلہ وسلم کے احترام اور آپ کو کسی قسم کی اذیت نہ دینے کے حکم کے فورًا بعد ان آیات میں روئے سخن مومنین کی طرف کرکے قران کہتا ہے"۔ اے وه لوگو جوایمان لائے ہو ان لوگوں کی طرح نہ ہوجاؤ جنہوں نے موسٰی کو اذیت پہنچائی ۔ لیکن خدا نے موسٰی کو ان تمام ناروانسبتوں سے مبرا اور پاک قراردیا اوروہ بارگاہ خداوندی میں آبرومند عظیم منزلت کے مالک تھے": (یا ایها الذین آمنوا لاتكونوا كالذين اٰذ وا موسٰی فبراه الله مما قالوا وكان عند الله وجيها). اذیت پانے والے انبیا میں سے حضرت موسٰی علیہ اسلام کا انتخاب اس بناء پر ہے کہ بنی اسرائیل کے لوگوں نے جتنی تکلیف حضرت موسٰی علیہ اسلام کو دی اتنی کسی اور نبی کو نہیں پہنچائی ۔ پھر کچھ تکلیفیں ایسی تھیں جو ان منافقین کی تکلیفوں سےملی جلتی تھیں جو وہ رسول اسلام کو دیتے تھے۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ موسٰی علیہ اسلام کو تکلیف دینے سے کیا مراد ہے؟ قرآن مجید نے اسے کیوں مجمل طور پر بیان کیا ہے ؟ اس سلسلے میں مفسرین کے درمیان اختلاف ہے۔ اس آیت کی تفسیر میں علماء نے کئی احتمال ذکر کیے ہیں۔ جن میں سے بھی ہیں: 1- ایک روایت کے مطابق حضرت موسٰیؑ اور حضرت ہارونؑ ایک پہاڑ کی چوٹی پر گئے اور حضرت ہارونؑ کی وہاں پروفات ہوگئی ۔ افواہیں پھیلانے والے بنی اسرائیلیوں نے ان کی موت کا الزام حضرت موسٰی پر رکھ دیا۔ مگر خدا نے حقیقت امر کو واضح کر دیا اور پروپیگنڈا کرنے والوں کی قلعی کھول دی ۔ 2- جیسا کہ سورہ قصص کی آخری آیات کے ذیل میں یہ تفصیل سے بیان کرچکے ہیں کہ مکار قارون نے زکوة سے بچنے اور فقراء و مساکین کے حقوق ادا نہ کرنے کے لیے ایک سازش تیارکی اور وہ یہ کہ ایک بدکار عورت کو تیار کیا گیا کہ وہ اپنے غیر مشروع روابط کے نام پر حضرت موسٰی علیہ اسلام پر تہمت لگائے ، لیکن خدا کی مہربانی سے نہ صرف یہ کہ سازش کاگر ثابت نہ ہوئی ، بلکہ اس شیطانی منصوبے کے برخلاف اس عورت نے حضرت موسٰی کی پاکدامنی کی گواہی دے کر قارون کی سازش کو طشت از بام کردیا۔ 3- حضرت موسٰی علیہ اسلام کے دشمنوں کے ایک ٹولے نے انھیں جادو ، جنون اور خدا پر جھوٹ کی تہمت باندھنے کا الزام دیا۔ لیکن خدا نے انھیں واضح معجزات کے ذریعے ان ناروا نسبتوں سے مبرا اور پاک قرار دے دیا۔ 4- بنی اسرائیل کے جاہلوں کی ایک جماعت نے حضرت موسٰی علیہ اسلام کو برص وغیرہ جیسے چند ایک جسمانی عیوب سے مہتم کیا ، کیونکہ آپ نہانے دھونے کے وقت اپنے کپڑے سے لوگوں کے سامنے نہیں اتارتے تھے، چنانچہ ایک دن انھوں نے نہانے کی غرض سے لوگوں سے دور جاکر کپڑے اتارے اور ایک پتھر پر رکھ دیئے اور وہ پھتر کپڑے کے چل دیا اور بنی اسرائیل نے ان کے بدن کو دیکھ لیا کہ اس میں کوئی عیب نہیں ہے۔ 5- بنی اسرائیل کی حیلہ سازی حضرت موسٰی علیہ اسلام کی تکلیف کا ایک اور عامل تھی ۔ کبھی تو وہ تقاضا کرتے کہ انھیں خدا کا دیدار کرایا جائے ، کبھی کہتے کہ من و سلوٰی جیسی غذا ہمارے لیے مناسب نہیں ہے ، کبھی کہتے کہ ہم اس بات کے لیے تیار تو نہیں ہیں کہ بیت المقدس میں داخل ہو کر عمالقہ کے ساتھ جنگ کریں ، تو اور تیرا پرو دگار جاؤ اس جگہ کو فتح کرو۔ پھر ہم بعد میں آجائیں گے۔ لیکن جو کچھ آیت کے معنی میں زیادہ قریب ہے وہ یہ ہے کہ آیت کی کلی اور جامع حکم بیان کرتی ہے ۔ کیونکہ بنی اسرائیل حضرت موسی علیہ اسلام کو اس کومختلف طریقوں سے اذیت پہنچاتے تھے ، جو مدینہ کے لوگوں کی پیغمبراسلام صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو دی گئی بعض اذتیوں کہ مشابہ تھیں ، افواہیں پھیلاتے ، طرح طرح کے جھوٹ گھڑتے اور آپ کی ایک بیوی کی طرف ناروا نسبت جیسی اذیتیں کہ جس کی تفصیل سورہ نور کی تفسیر (تفسیر نمونہ جلد 14 ذیل آیه 11 تا 20 ) میں گزر چکی ہے۔ یا جیسے وہ اعتراضات نے جو رسول اسلام صلی الله علیہ وسلم کے زینب سے اندراج کے بارے میں تھے۔ یا وہ تکلیفیں جو آپ کے گھر میں آکر پہنچاتے یا غیر مہذب طریقے سے آپ کو پکارنے کے سلسلے میں اذیتیں تھیں۔ باقی رہا سحروجنون وغیرہ کی نسبت یا بدنی عیوب کی بات اگرچہ یہ تہمتیں حضرت موسٰی کے بارے میں تھیں۔ لیکن " یا ایها الذين امنوا" کا خطاب پیغمبراسلام کے بارے میں مناسبت نہیں رکھتا ، کیونکہ مومنین نے نہ تو ٓحضرت موسٰیؑ کو اور نہ ہی حضرت محمد مصطفٰےؐ کو سحر و جادو سے کبھی متہم کیا اور اس طرح جسمانی عیوب کا اتہمام بالغرض حضرت موسٰی کے بارے میں تھا۔ اور خدا نے انھیں مبرا کیا ، لیکن پیغمبراسلام کے بارے میں تاریخ کوئی مثال پیش نہیں کرتی۔ بہرحال اس آیت سے یہ استفادہ ضرور کیا جاسکتا ہے کہ جس وقت کوئی شخص بارگاہ خداوندی میں آبرومند اور صاحب قدرومنزلت ہو تو خداوند عالم موذی لوگوں کی ناروا تہمتوں سے اس کا دفاع اور حمایت خود کرتا ہے۔ بشرطیکہ انسان کا اپنا دامن صاف ہو اور اللہ تعالی کے حضوراپنی آبرومندی کا بھی پاس کرے ، تو وہ بھی یقینًا انسان کی پاک دامنی کو مناسب موقع پر ظاہر کردیتا ہے ۔ اگرچہ بدخواہ قسم کے لوگ تہمت لگانے میں ایڑی چوٹی کا زور ہی کیوں نہ لگا دیں۔ ہم نے اس بات کی تصدیق پاک دامن یوسف علیہ اسلام کی داستان میں دیکھی ہے کہ کس طرح خدا نے انہیں عزیز مصر کی زوجہ کی خطرناک تہمت سے بری کردیا ۔ اسی طرح جناب عیسٰیؑ کی والدہ حضرت مریمؑ کے بارے میں ہے کہ جن کے نوزاد شیرخوار نے ان کی پاکی داماں اور عفت کی گواہی دی اور ان بدطینت اسرائیلیوں کی زبان بند کر دی جوانھیں متہم کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ اس نکتے کا ذکر بھی ضروری معلوم ہوتا ہے کہ یہ خطاب زمانہ پیغمبر کے مومنین سے مخصوص نہیں ہے بلکہ ہوسکتا ہے کہ کچھ لوگ ان کے بعد بھی عرصه وجود میں قدم رکھیں اور ایسا کا کریں کہ آپؐ کی روح مقدس کو رنجیدہ اور آزردہ کر دے ، آپؐ کے دین کو حقیر سمجھیں ، آپ کی تمام زحمات کو برباد کردیں ، آپؐ کی میراث کو بھلادیں ۔ تو یہ آیت ان کے لیے بھی ہوگی۔ اسی لیے بعض روایات جو اہل بیتؑ سے وارد ہوئی ہیں ان میں ہے کہ "جن لوگوں نے حضرت علیؑ اور ان کی اولاد کو تکلیف پہچائی سے وہ بھی اس آیت کے مشمول ہیں"۔ ؎1 اس آیت کی تعبیر کے سلسلہ میں آخری بات یہ ہے کہ جب ہم خدا کے عظیم پیغمبروں کے حالات کی طرف توجہ کرتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ وہ بھی جاہل اور منافق قسم کے لوگوں کی زبان کے زخم سے محفوظ نہیں تھے تو کسی کو ہہ تواقع نہیں رکھنا چاہیئے ،م کہ پاک اور مومن لوگ اس قسم کے افراد سے محفوظ رہیں گے ، جیسا کہ حضرت امام جعفرصادق علیہ اسلام فرماتے ہیں: " ان رضا الناس لا يملك والسنتهم لاتضبط "۔ "نہ تو تمام لوگوں کی خوشنودی حاصل کی جاسکتی ہے اور نہ ہی تمام لوگوں کا منہ بند کیاجاسکتا ہے"۔ اور آخر میں فرماتے ہیں "کیا نھوں نے موسٰی علیہ السلام پر کئی طرح کی تہمتیں نہیں لگائیں اور انھیں تکلیف نہیں پہنچائی؟ یہاں تک کہ خدا نے انہیں تمام اتہامات سے بری قرار دے دیا۔ ؎2
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:69-71
سوره احزاب / آیه 69 - 71
(69) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُـوْا لَا تَكُـوْنُـوْا كَالَّـذِيْنَ اٰذَوْا مُوْسٰى فَبَـرَّاَهُ اللّـٰهُ مِمَّا قَالُوْا ۚ وَكَانَ عِنْدَ اللّـٰهِ وَجِـيْهًا (70) يَآ اَيُّـهَا الَّـذِيْنَ اٰمَنُوا اتَّقُوا اللّـٰهَ وَقُوْلُوْا قَوْلًا سَدِيْدًا (71) يُصْلِحْ لَكُمْ اَعْمَالَكُمْ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُـوْبَكُمْ ۗ وَمَنْ يُّطِـعِ اللّـٰهَ وَرَسُوْلَـهٝ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِيْمًا ترجمہ (69) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ، ان لوگوں کی طرح نہ ہو جانا ، جنہوں نے موسٰی کو تکلیف پہنچائی اور خدا نے موسٰی کو اس چیز سے مبرا کیا جو وہ ان کے حق میں کہتے تھے اور وہ خدا کے نزدیک آبرومند اور (باعظمت) تھے۔ (70) اے وہ لوگو! جو ایمان لائے ہو ، خدا سے ڈرو اور حق بات کرو - (71) تاکہ خدا تمھارے اعمال کی اصلاح کرے اور تمھارے گناہوں کو بخش دے اور جو شخص خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ عظیم کامیابی سے سرفراز ہو گا۔
تفسیر نمونہ - آیت اللہ مکارم شیرازی Commentary
Commentary on Quran 33:69-71
اعمال کی درستی کے لیے حق بات کیا کرو
اعمال کی درستی کے لیے حق بات کیا کرو : جب افواہ پھیلانے والوں اور زبان سے ایذا پہنچانے والوں کے بارے میں گفتگو ہوچکی تو اس کے بعد والی آیت ایک حکم صادر کرتی ہے جو درحقیقت اس عظیم معاشرتی مسئلے کا علاج ہے ، چنانچہ خدا فرماتا ہے "اے وہ لوگو! جو ایمان لے آئے ہو ، خدا کا تقوٰی اختیار کرو اورحق بات کیا کرو (یا ایھا الذین آمنوا اتقوا الله وقولوا قولأسديدا)۔ "سدید" "سد" کے مادہ سے ہے ، جس کا معنی ہے " محکم اور استوار" جس میں کسی قسم کا خلل پیدا نہ ہوسکے ۔ اور وہ قول جوحق اور واقعے کے مطابق ہو ، جومحکم ستد (بند) کی طرح باطل کی موجوں کو روک دیتا ہے۔ بعض مفسرین نے اسے "صواب" (درست) کے معنی میں لیا ہے اور بعض نے جھوٹ اور لغو سے پاک ہونے ، نیز بعض نے ظاہر اور باطن کے ہم آہنگ ہونے اور "ٗصلاح و رشاد" وغیرہ کے معنی میں اس کی تفسیر کی ہے۔ یہ سب معانی مذکورہ بالا جامع معنی کی طرف لوٹ جاتے ہیں۔ بعد والی آیت "قول سدید" اور" حق بات" کا نتیجہ یوں بیان کرتی ہے ۔ خداوندا عالم تقوٰی اورحق بات ۔-------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 نورالثقلین جلد 4 ص 308۔ ؎2 تفسیرنورالثقلین جلد 4 ص 309۔ ۔---------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کی بناء پر تمھارے اعمال کی اصلاح کرتا اور تمھارے گناہوں کو معاف کردیتا ہے": (يصلح لكم أعمالكم ويغرلكم ذنوبكم)۔ حقیقت یہ ہے کہ تقویٰ ، اصلاح زبان کی بنیاد اور حق بات کا سرچشمہ ہے اور حق بات اصلاح اعمال کے موثر عوامل میں سے ہے ، اور اصلاح اعمال گناہوں کی بخشش کا سبب ہے کیونکہ: "ان الحسنات يذهبن السیئات"۔ "نیک اعمال گناہوں کو ختم کر دیتے ہیں"۔ (ہو / 114 ) علماء اخلاق نے کہا ہے کہ زبان بدن کا سب سے زیادہ بابرکت عضو اور اطاعت، ہدایت اور اصلاح کا سب سے موثر وسیلہ ہے اور اس کے باوجو بدن کے سب سے زیادہ خطرناک اور سب سے زیادہ گناہگار کاعضو بھی شمار ہوتا ہے ۔ یہاں تک کہ تیس گناہان کبیرہ اس چھوٹے سے عضو سے جنم لیتے ہیں ۔ ؎1 ایک اور حدیث میں پیغمبراسلام صلی الله علیہ وآلہ وسلم فرماتے ہیں: "لايستقيم ایمان عبد حتی يستقيم قلبه ولا يستقتیم قلبه حتٰی يستقیم لسانه"۔ "کسی بندے کا ایمان اس وقت تک صحیح نہیں ہوسکتا جب تک اس کا دل راست نہ ہو اوردل اس وقت تک سیدھا نہیں ہوسکتا، جب تک اس کی زبان سیدھی نہ ہو"۔ ؎ 2 ایک اور قابل توجہ حدیث ہے جو امام زین العابدین علیہ اسلام سے مروی ہے، آپؑ فرماتے ہیں: "ہر شخص کی زبان روزانہ صبح کے وقت تمام دوسرے اعضاء کی احوال پرسی اور خیریت دریافت کرتی ہے اور ۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- ؎1 امام غزالی نے "احیاوالعلوم" میں بیس ایسی لغزیشیں جو زبان سے سرزد ہوتی ہیں یا گناہان کبیرہ جن کا تعلق زبان سے ہوتاہے ذکر کیے ہیں۔ ا- جھوٹ . 2- غیبت. 3-چغل خوری 4- زبان سے منافقت کا اظہار 5. بے جا مدح و ثنا (خوشامد)6- بدزبانی اور گالی دینا 7- غنا اور غلط اشعار - 8. مزاح میں حد سے تجاوز . 9- مسخرہ پن اوراستهزاء۔ 10- دوسروں کے راز فاش کرنا۔ 11- وعدہ خلافی کرنا - 12. بے جا لعنت کرنا - 13 - لڑئی جھگڑا 14 - باطل امور میں گفتگو. 15 - زیادہ باتیں کرنا ۔ 17- ایسے امور کے بارے میں گفتگو کرنا جو انسان سے متعلق نہیں ہیں . 18- شراب، جوا اور گناہ کی دوسری محفلوں میں تعریف کرنا. 19. ایسے مسائل کے بارے میں سوال اور جستجو جو انسان کے ادراک سے لر راه ہیں - 20- بات کرنے میں تصنع و تکلیف سے کام لینا۔ اس کے علاوہ دس اور چیزوں کا ہم اضافہ کرتے ہیں۔ 1- تہمت لگانا۔ 2 جھوٹی گواہی دینا ۔ 3- فحاشی اور بے بنياد افواہیں پھیلانا - 4 - خود ستائی ۔ 5- بے جا اصرار ۔ 6 ۔ گفتگومیں سختی کرنا۔ 7- زبانی ایذارسائی ۔ 8- ایسے شخص کی مذمت کرنا جو مذمت کا مستحق نہ ہو۔ 9 - زبان کے ساتھ کفران نعمت کرنا۔ 10 - باطل کا پرچار ؎2 بحارالانوار جلد 17 ص 78 ۔--------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------- کہتی ہے، كيف اصبحتم؟ "تم نے کیسے صبح کی؟" وہ سب زبان کے اظہار محبت کے جواب میں کہتے ہیں : "بخیران تركتنا"! "خیریت ہے، اگر تو نے رہنے دی"۔ پھروه مزید کہتے ہیں : تجھے ہم خدا کی قسم دے کر کہتے ہیں کہ ہمارا خیال رکھتا۔ "وانما نثاب بک و نعاقب بک " "ہمیں تیرے ذریعے ثواب ملے گا اور تیری ہی وجہ سے عذاب"۔ ؎1 اس سلسلے میں بہت سی روایات ہیں جو سب کی سب زبان کے انتہائی زیادہ اثرات پر دلالت کرتی ہیں اور بتاتی ہیں کہ انسانی نفوس کی تہذیب اور اصلاح اخلاق میں زبان کا بڑا کردار ہے۔ اسی بناء پر ایک حدیث میں ہے : " ما جلس رسول الله علٰى هذا المنبر قط الاتلاهذه الأیة یا ایها الذین امنوا اتقوالله وقولوا قولا سديدا"۔ "جب بھی رسول اصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس منبر پر تشریف فرما ہوتے ، تو اس آیت کی تلاوت فرماتے اے وہ لوگو! اجرا ایمان لائے ہو، خدا کا تقویٰ اختیار کرو اور سچی بات کہو۔ ؎2 آیت کے آخر میں قرآن کہتا ہے۔ "جوشخص خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا، وہ بہت بڑی کامیابی سے ہمکنار ہوگا"۔ ( ومن يطع الله ورسوله فقد فاز فوزا عظيما)۔ کونسی کامیابی اس سے بالاتر ہوگی کہ انسان کے اعمال پاک ہوں ، اس کے گناہ بخشے جائیں اور بارگاہ رب العزت میں سرخرو اور سرفراز ہوکرپیش ہو۔ ہو۔